نوحہ 4:21
متن
مرثیہ کے چوتھے باب کے آخر میں شاعر اچانک یروشلم سے منہ پھیر کر ایک دوسری قوم کو مخاطب کرتا ہے: "اے ادوم بیٹی، بےشک شادیانہ بجا! بےشک ملکِ عُوض میں رہ کر خوشی منا!" یہ دعوت نہیں، طنز ہے۔ کیونکہ اگلی ہی سانس میں وہ کہتا ہے کہ "اللہ کے غضب کا پیالہ تجھے بھی پلایا جائے گا"، اور ادوم اُسے پی کر مدہوش ہو جائے گی، اپنے کپڑے اُتار کر برہنہ پھرے گی۔ جو آج تماشا دیکھ رہی ہے، کل خود تماشا بنے گی۔
اصل بات
یہاں ایک ایسی بات کہی گئی ہے جو تسلی بھی ہے اور تنبیہ بھی: خدا کا انصاف صرف اپنے لوگوں پر نہیں گرتا۔ صیون نے پیالہ پیا ہے، پورے چار باب اُسی نشے کی ہذیان بھری زبان میں لکھے گئے ہیں۔ لیکن پیالہ میز پر ہی رکھا ہے، اور اب اُس کی باری ہے جو کھڑی ہو کر ہنس رہی تھی۔ خدا اپنے گھر سے عدالت شروع کرتا ہے، مگر وہیں ختم نہیں کرتا۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ دوسرے کی تباہی پر خوشی منانا بذاتِ خود ایک جرم ہے، کوئی معمولی اخلاقی پھسلن نہیں۔ ادوم نے ہتھیار نہیں اُٹھایا تھا، اُس نے صرف تالیاں بجائی تھیں۔ اور یہی کافی تھا۔
تسلسل
"غضب کا پیالہ" پرانے عہدنامہ کی سب سے سخت تصویروں میں سے ایک ہے: خدا کا قہر ایک ایسی شراب ہے جو پینے والے کو لڑکھڑاتا، بےلباس اور بےعزت کر دیتی ہے۔ یسعیاہ نبی اِسی پیالے کو یروشلم کے ہاتھ سے لے کر اُس کے ستانے والوں کو تھما دیتا ہے۔ اور پھر گتسمنی کے باغ میں ایک آدمی گھٹنوں کے بل گرتا ہے اور اُسی پیالے کے بارے میں باپ سے التجا کرتا ہے کہ اگر ممکن ہو تو یہ ٹل جائے۔ یسوع مسیح نے کوئی نئی استعارہ ایجاد نہیں کیا؛ اُنہوں نے مرثیہ کی زبان بولی۔ فرق یہ ہے کہ یہاں پیالہ قصوروار کو پلایا جاتا ہے، وہاں بےقصور نے اُسے تہہ تک پی لیا۔ صلیب پر وہ برہنہ کیا گیا، ہنسنے والوں کے سامنے، عین اُس شرمندگی میں جو یہ آیت ادوم کے لیے مقرر کرتی ہے۔ انصاف منسوخ نہیں ہوا، منتقل ہوا۔
آئینہ
ذرا ایمانداری سے پوچھیں: آپ کے اندر کا ادوم کہاں بیٹھا ہے؟ وہ ساتھی جس کی ترقی رُک گئی اور آپ کے دل میں ایک خاموش اطمینان اُتر آیا۔ وہ رشتہ دار جس کا کاروبار بیٹھ گیا اور آپ نے افسوس کے لہجے میں خبر آگے پہنچائی۔ وہ کلیسیا یا وہ رہنما جس کا اسکینڈل کھلا اور آپ نے تبصرے پڑھتے ہوئے ایک عجیب سی لذت محسوس کی۔ ادوم دُور کسی صحرا میں نہیں رہتی؛ وہ ہمارے موبائل کی اسکرین پر رہتی ہے۔ یہ آیت آپ سے یہ نہیں کہتی کہ دوسرے کا گناہ جھوٹ تھا۔ وہ صرف آپ سے پوچھتی ہے کہ آپ اُس کے ملبے پر کیوں کھڑے ہیں، اور کیا آپ کو یقین ہے کہ پیالہ آپ کے پاس سے نہیں گزرے گا۔
سیاق و سباق
586 قبل مسیح۔ بابل کی فوجیں یروشلم کی دیواریں توڑ چکی ہیں، ہیکل جل چکی ہے، بادشاہ صِدقیاہ پکڑا جا چکا ہے، اور شہر میں قحط اِتنا شدید تھا کہ ماؤں نے اپنے بچے کھائے۔ ادوم یہوداہ کے جنوب مشرق میں آباد تھی، عیسو کی اولاد، یعنی سگے بھائی کی نسل۔ اور یہی زخم کا سب سے کڑوا حصہ ہے: جب بھائی گر رہا تھا، بھائی نے راستے بند کیے، بھاگنے والوں کو دشمن کے حوالے کیا، اور لُوٹ میں حصہ لیا۔ "ملکِ عُوض" ادوم کے پھیلاؤ کا اشارہ ہے، ایک ایسا علاقہ جو اُس وقت محفوظ اور خوشحال تھا۔ فاتح نہیں، مگر فائدہ اُٹھانے والا۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایک صدی کے اندر ادوم بھی صفحۂ ہستی سے مٹ گئی۔
تفصیل
غور کیجیے کہ شاعر ادوم کو "ادوم بیٹی" کہتا ہے، بالکل اُسی طرح جیسے وہ اگلی آیت میں "صیون بیٹی" کہتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ ایک ہی لقب، ایک ہی لہجہ، دو قومیں۔ اِس ایک لفظ سے شاعر ادوم کو اپنے برابر لا کھڑا کرتا ہے: تم بھی ایک بیٹی ہو، تم بھی نازک ہو، تمہارا بھی برہنہ ہونا ممکن ہے۔ اور یہ برہنگی محض جسمانی نہیں؛ قدیم مشرق میں شکست خوردہ قیدیوں کو ننگا کر کے چلایا جاتا تھا تاکہ اُن کی عزت کا آخری پردہ بھی اُتر جائے۔ آیت 22 اِسی کو کھول دیتی ہے: "وہ تیرے گناہوں پر سے پردہ اُٹھا لے گا۔" ہنسنے والے کا اصل خطرہ یہ ہے کہ ایک دن سب کچھ دیکھا جائے گا۔
سامعین
یہ الفاظ اُن لوگوں کے لیے لکھے گئے جو راکھ میں بیٹھے تھے اور جن کے پاس عبادت کے لیے کوئی ہیکل نہ بچی تھی۔ اُنہوں نے یہ مرثیہ گا کر پڑھا، شاید سالانہ ماتم کے دن۔ اُن کے کانوں میں یہ آیت انتقام کی پیاس نہیں بجھاتی تھی؛ وہ اُن سے کہتی تھی کہ خدا نے منہ نہیں پھیرا، کہ اُن کی رسوائی خدا کی نظر سے اوجھل نہیں۔ اور ساتھ ہی، آیت 22 اُنہیں یہ سنا رہی تھی کہ "تیری سزا کا وقت پورا ہو گیا ہے"۔ پیالے کی تہہ نظر آ رہی تھی۔ یہی وہ اُمید ہے جو بعد میں ایک اور شخص کے ہاتھوں میں پیالہ بن کر آئی، اور اُس نے اُسے آخری قطرے تک خالی کر دیا۔
غور و فکر
کس شخص یا گروہ کی ناکامی پر آپ نے حال ہی میں چپکے سے سکون محسوس کیا، اور اگر وہ آپ کے سامنے ہوتا تو آپ کیا کہتے؟
اگر مسیح نے غضب کا وہ پیالہ آپ کے بدلے پیا ہے، تو یہ حقیقت آپ کے اُن لوگوں کے ساتھ رویّے کو کیسے بدلے گی جنہوں نے آپ کے بُرے وقت میں آپ کو چھوڑ دیا تھا؟
Lamentations 4:21 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
نوحہ 4:21 کا کیا مطلب ہے؟
نوحہ 4:21 کس بارے میں ہے؟
نوحہ 4:21 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
نوحہ 4:21 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
نوحہ 4:21 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Lamentations 4 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، یہ آیت پڑھ کر دل کانپ جاتا ہے۔ بھوک اور جنگ انسان کو کہاں تک لے جاتی ہے، اور ماں کی ممتا تک ٹوٹ جاتی ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ قحط اور تباہی میں جی رہے ہیں۔ اُن کی چیخ سُن، اُنہیں روٹی اور پناہ دے، اور ہمیں بے حس نہ ہونے دے۔
ہائے، سونا کتنا بےرونق ہو گیا ہے، خالص سونا کتنا ماند پڑ گیا ہے! مقدِس کے جواہر تمام گلیوں میں بکھرے پڑے ہیں۔“ یرمیاہ پتھروں پر نہیں، لوگوں پر رو رہا ہے۔ جو کبھی خدا کے گھر کی زینت تھے، اب گلی کے کوڑے کی طرح پڑے ہیں۔ کیا تجھے اپنی وہ چمک یاد ہے جو کہیں کھو گئی؟ خدا بکھرے ہوئے جواہر کو پہچان لیتا ہے، چاہے مٹی نے اُنہیں ڈھانپ رکھا ہو۔
یروشلم کے لوگ اپنے برجوں پر کھڑے مصر کی فوج کا انتظار کرتے رہے۔ ”ہماری آنکھیں مدد کے انتظار میں رہیں، لیکن بےکار۔“ آنکھیں تھک گئیں، مگر افق خالی رہا۔ تُو بھی شاید کسی کے فون، کسی کی منظوری، کسی سہارے کا انتظار کر رہا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ مدد آئے گی یا نہیں، سوال یہ ہے کہ تُو کس طرف دیکھ رہا ہے۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو نے ہمیں سدوم کی طرح ایک ہی لمحے میں نہیں مٹا دیا، بلکہ ہمیں توبہ کا وقت اور اپنے صبر کی مہلت دی۔ شکر کہ تیری سزا میں بھی رحم چھپا ہے اور تُو ہمیں واپس اپنے پاس بلاتا رہتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں