بائبل کی تشریح

متی 22:30

بائبل

متن

صدوقیوں نے سات بھائیوں اور ایک بیوہ کا قصہ سنا کر ایک ایسا سوال کھڑا کیا جس کا مقصد جواب پانا نہیں بلکہ قیامت کے عقیدے کو مذاق بنانا تھا: آخرکار وہ عورت کس کی بیوی ہو گی؟ خداوند یسوع نے اُن کے منطقی جال کو کھولنے کے بجائے اُس کی بنیاد ہی ہٹا دی اور فرمایا کہ اُن کی غلطی دو طرفہ ہے، نہ وہ کلامِ مُقدّس کو جانتے ہیں نہ اللہ کی قدرت کو۔ اِسی کے بعد وہ ایک جملہ آتا ہے جو ہمارے تمام اندازوں کو خاموش کر دیتا ہے: ”قیامت کے دن لوگ نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی بلکہ وہ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوں گے۔“ یہ جواب سوال کو حل نہیں کرتا، اُسے ایک بڑی روشنی میں رکھ دیتا ہے۔

مرکزی بات

یہاں خداوند یسوع صرف نکاح کے مستقبل کے بارے میں معلومات نہیں دے رہے؛ وہ یہ بتا رہے ہیں کہ قیامت کوئی ترمیم شدہ موجودہ زندگی نہیں۔ ہم اکثر ابدیت کا تصور یوں کرتے ہیں جیسے یہ دنیا ہی ہو، بس بغیر درد اور بغیر موت کے؛ وہی رشتے، وہی گھر، وہی بندوبست، مگر زیادہ خوبصورت۔ مسیح اِس تصور کو نرمی سے مگر فیصلہ کن طور پر توڑ دیتے ہیں۔ نکاح، وراثت، نسل، یہ سب ایسے بندھن ہیں جو موت کے سائے میں جینے والی مخلوق کے لیے بنائے گئے تھے؛ جہاں موت نہیں، وہاں اُن کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ اور غور کیجیے کہ مسیح اِس کی وجہ اللہ کی ”قدرت“ بتاتے ہیں۔ قیامت خدا کی ایک نئی تخلیقی کارروائی ہے، مرمت نہیں۔ یہی بات ہمیں عاجز کرتی ہے: ہم آنے والی دنیا کا نقشہ نہیں بنا سکتے، کیونکہ وہ ہمارے تجربے سے نہیں، خدا کی قدرت سے پیدا ہوتی ہے۔

نجات کی کہانی کا سلسلہ

دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی باب کے شروع میں خداوند یسوع نے فرمایا تھا: ”آسمان کی بادشاہی ایک بادشاہ سے مطابقت رکھتی ہے جس نے اپنے بیٹے کی شادی کی ضیافت کی تیاریاں کروائیں۔“ یعنی چند منٹ پہلے وہ ابدیت کو ایک شادی کی تصویر میں دکھا رہے تھے، اور اب فرما رہے ہیں کہ قیامت میں شادی نہیں ہو گی۔ یہ تضاد نہیں، یہ سلسلہ ہے۔ ابتدا میں نکاح کو انسان کے تنہا نہ رہنے کے لیے بنایا گیا، اور نبیوں نے بار بار خدا اور اُس کی قوم کے رشتے کو دُلھا اور دُلھن کی زبان میں بیان کیا۔ ہمارے نکاح نشان تھے، اور نشان منزل پر پہنچ کر اپنا کام ختم کر دیتے ہیں۔ آخرکار ایک ہی شادی باقی رہے گی: برّے کی ضیافت۔ جو چیز ختم ہوتی ہے وہ سایہ ہے، اور جو باقی رہتی ہے وہ حقیقت ہے جس کا سایہ ہم نے عمر بھر تھاما تھا۔

آئینہ

یہ آیت اُس جگہ ہاتھ رکھتی ہے جہاں ہم سب سے زیادہ حساس ہیں۔ شاید آپ کے گھر میں ایک کرسی خالی ہے اور آپ نے خود کو یہ کہہ کر تسلی دی ہے کہ آسمان پر پھر سے وہی ساتھ ملے گا۔ شاید آپ کی شادی تھکا دینے والی ہے اور آپ کے دل میں خاموش سوال ہے کہ کیا یہ بوجھ ہمیشہ کے لیے ہے۔ شاید آپ تنہا ہیں، اور ہر شادی کی تقریب آپ کے اندر کسی کمی کا زخم کھول دیتی ہے۔ مسیح کا جواب ہمارے جذبات کو جھٹلاتا نہیں، مگر اُنہیں اُن کی جگہ پر رکھ دیتا ہے: کوئی انسانی رشتہ آپ کی ابدی بھوک کا جواب نہیں تھا، نہ ہو سکتا تھا۔ آج ہی ایک کاغذ پر اُس شخص کا نام لکھیے جس سے آپ کا دل سب سے زیادہ بندھا ہوا ہے، اور نام کے نیچے بلند آواز میں یہ کہیے: ”تُو خدا کا تحفہ ہے، خدا نہیں“، پھر اُس تحفے کے لیے شکر ادا کیجیے۔

ایک مشکل سوال

مگر ایمانداری سے پوچھیں: کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ محبت ختم ہو جائے گی؟ کیا ہم ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی نہیں؟ متن یہ نہیں کہتا۔ مسیح نے یہ نہیں فرمایا کہ رشتے مٹ جائیں گے، بلکہ یہ کہ ”نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی“۔ یعنی وہ ادارہ، وہ معاہدہ، وہ بندوبست باقی نہیں رہے گا۔ اور ”فرشتوں کی مانند“ کا مطلب بھی یہ نہیں کہ ہم فرشتے بن جائیں گے؛ مشابہت صرف اِسی نکتے میں ہے کہ وہاں موت نہیں، اِس لیے نسل اور وراثت کا سلسلہ بھی نہیں۔ باقی سب کچھ متن کی خاموشی میں ہے۔ یہ خاموشی تکلیف دیتی ہے، خاص طور پر اُس شخص کو جس نے اپنی سب سے گہری خوشی ایک ہی انسان میں پائی ہو۔ مسیح یہاں تسلی کے الفاظ نہیں دیتے، صرف ایک اشارہ: وہاں جو ہو گا وہ اِس سے کم نہیں، زیادہ ہو گا۔ ہمیں اِسی اعتماد پر جینا ہے، تفصیل پر نہیں۔

پس منظر

یہ گفتگو یروشلیم کی ہیکل کے صحن میں ہو رہی ہے، مسیح کی صلیب سے چند دن پہلے۔ ایک کے بعد ایک گروہ آ رہا ہے: پہلے فریسی اور ہیرودیس کے پیروکار ٹیکس کا سوال لے کر، پھر صدوقی۔ صدوقی مذہبی اشرافیہ تھے، ہیکل کے منتظم، رومی حکومت کے ساتھ عملی مفاہمت رکھنے والے، اور وہ قیامت کے عقیدے کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ اُن کا سوال موسیٰ کی شریعت کے اُس اصول پر بنا تھا جس کے تحت بےاولاد بھائی کی بیوہ سے دوسرا بھائی شادی کر کے اُس کا نام زندہ رکھتا تھا۔ اُن کے لیے ”بقا“ کا واحد مطلب یہی تھا: اولاد اور نام۔ اِسی لیے اُن کا طنز بھی یہی ہے۔ مسیح کا جواب اُن کے پورے عالمی نقشے کو ہلا دیتا ہے، اور متن بتاتا ہے کہ ہجوم اُس کی تعلیم کے باعث حیران رہ گیا۔

کلام کی گونج

اگلی ہی آیتوں میں مسیح خود وہ بنیاد دکھاتے ہیں جس پر یہ سب کھڑا ہے: ”مَیں ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں“، اور پھر نتیجہ: ”اللہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔“ یعنی قیامت کی ضمانت کوئی فلسفہ نہیں، بلکہ عہد ہے؛ جس سے خدا نے اپنا نام جوڑ لیا، اُسے وہ موت کے حوالے نہیں کرتے۔ دوسری طرف مکاشفہ کی کتاب میں یوحنا آخری منظر میں وہی تصویر دیکھتا ہے جو مسیح نے اِس باب کے آغاز میں دی تھی: برّے کی شادی اور اُس کی ضیافت۔ دونوں مل کر یہ کہتے ہیں کہ قیامت میں ہم کچھ کھوتے نہیں؛ ہم وہاں پہنچتے ہیں جہاں سے ہمارے تمام رشتے اپنی روشنی اُدھار لیتے تھے۔

غور و فکر کے سوالات

ابدیت کے بارے میں میرا تصور کس حد تک میری موجودہ زندگی کی خواہشوں کا تسلسل ہے، اور کہاں مَیں نے خدا کی قدرت کو اپنے تجربے سے بڑا ماننے سے انکار کیا ہے؟

اگر کوئی انسانی رشتہ ابدی نہیں، تو آج مَیں اپنے قریبی رشتوں سے کس طرح مختلف انداز میں پیار کروں گا: زیادہ جکڑ کر یا زیادہ شکرگزاری سے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Matthew 22:30 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

متی 22:30 کا کیا مطلب ہے؟
صدوقیوں نے سات بھائیوں اور ایک بیوہ کا قصہ سنا کر ایک ایسا سوال کھڑا کیا جس کا مقصد جواب پانا نہیں بلکہ قیامت کے عقیدے کو مذاق بنانا تھا: آخرکار وہ عورت کس کی بیوی ہو گی؟ خداوند یسوع نے اُن کے منطقی جال کو کھولنے کے بجائے اُس کی بنیاد ہی ہٹا دی اور فرمایا کہ اُن کی غلطی دو طرفہ ہے، نہ وہ کلامِ مُقدّس کو جانتے ہیں نہ اللہ کی قدرت کو۔ اِسی کے بعد وہ ایک جملہ آتا ہے جو ہمارے تمام اندازوں کو خاموش کر دیتا ہے: ”قیامت کے دن لوگ نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی بلکہ وہ آسمان پر فرشتوں کی مانند ہوں گے۔“ یہ جواب سوال کو حل نہیں کرتا، اُسے ایک بڑی روشنی میں رکھ دیتا ہے۔
متی 22:30 کس بارے میں ہے؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ اِسی باب کے شروع میں خداوند یسوع نے فرمایا تھا: ”آسمان کی بادشاہی ایک بادشاہ سے مطابقت رکھتی ہے جس نے اپنے بیٹے کی شادی کی ضیافت کی تیاریاں کروائیں۔“ یعنی چند منٹ پہلے وہ ابدیت کو ایک شادی کی تصویر میں دکھا رہے تھے، اور اب فرما رہے ہیں کہ قیامت میں شادی نہیں ہو گی۔ یہ تضاد نہیں، یہ سلسلہ ہے۔ ابتدا میں نکاح کو انسان کے تنہا نہ رہنے کے لیے بنایا گیا، اور نبیوں نے بار بار خدا اور اُس کی قوم کے رشتے کو دُلھا اور دُلھن کی زبان میں بیان کیا۔ ہمارے نکاح نشان تھے، اور نشان منزل پر پہنچ کر اپنا کام ختم کر دیتے ہیں۔ آخرکار ایک ہی شادی باقی رہے گی: برّے کی ضیافت۔ جو چیز ختم ہوتی ہے وہ سایہ ہے، اور جو باقی رہتی ہے وہ حقیقت ہے جس کا سایہ ہم نے عمر بھر تھاما تھا۔
متی 22:30 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مگر ایمانداری سے پوچھیں: کیا اِس کا مطلب یہ ہے کہ محبت ختم ہو جائے گی؟ کیا ہم ایک دوسرے کو پہچانیں گے بھی نہیں؟ متن یہ نہیں کہتا۔ مسیح نے یہ نہیں فرمایا کہ رشتے مٹ جائیں گے، بلکہ یہ کہ ”نہ شادی کریں گے نہ اُن کی شادی کرائی جائے گی“۔ یعنی وہ ادارہ، وہ معاہدہ، وہ بندوبست باقی نہیں رہے گا۔ اور ”فرشتوں کی مانند“ کا مطلب بھی یہ نہیں کہ ہم فرشتے بن جائیں گے؛ مشابہت صرف اِسی نکتے میں ہے کہ وہاں موت نہیں، اِس لیے نسل اور وراثت کا سلسلہ بھی نہیں۔ باقی سب کچھ متن کی خاموشی میں ہے۔ یہ خاموشی تکلیف دیتی ہے، خاص طور پر اُس شخص کو جس نے اپنی سب سے گہری خوشی ایک ہی انسان میں پائی ہو۔ مسیح یہاں تسلی کے الفاظ نہیں دیتے، صرف ایک اشارہ: وہاں جو ہو گا وہ اِس سے کم نہیں، زیادہ ہو گا۔ ہمیں اِسی اعتماد پر جینا ہے، تفصیل پر نہیں۔
متی 22:30 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اگلی ہی آیتوں میں مسیح خود وہ بنیاد دکھاتے ہیں جس پر یہ سب کھڑا ہے: ”مَیں ابراہیم کا خدا، اسحاق کا خدا اور یعقوب کا خدا ہوں“، اور پھر نتیجہ: ”اللہ مُردوں کا نہیں بلکہ زندوں کا خدا ہے۔“ یعنی قیامت کی ضمانت کوئی فلسفہ نہیں، بلکہ عہد ہے؛ جس سے خدا نے اپنا نام جوڑ لیا، اُسے وہ موت کے حوالے نہیں کرتے۔ دوسری طرف مکاشفہ کی کتاب میں یوحنا آخری منظر میں وہی تصویر دیکھتا ہے جو مسیح نے اِس باب کے آغاز میں دی تھی: برّے کی شادی اور اُس کی ضیافت۔ دونوں مل کر یہ کہتے ہیں کہ قیامت میں ہم کچھ کھوتے نہیں؛ ہم وہاں پہنچتے ہیں جہاں سے ہمارے تمام رشتے اپنی روشنی اُدھار لیتے تھے۔
متی 22:30 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر کوئی انسانی رشتہ ابدی نہیں، تو آج مَیں اپنے قریبی رشتوں سے کس طرح مختلف انداز میں پیار کروں گا: زیادہ جکڑ کر یا زیادہ شکرگزاری سے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Matthew 22 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 9

اے باپ، تیری ضیافت کی میز سب کے لیے کھلی ہے۔ مجھے بھی گلیوں اور چوراہوں تک بھیج، جہاں لوگ خود کو بھولا ہوا سمجھتے ہیں۔ میرا دل تنگ نہ رہے، بلکہ ہر اُس شخص کو تیری محبت کی دعوت دے سکوں جسے دنیا نظرانداز کر دیتی ہے۔

بصیرت ادارتی کو آیت 17

اب ہمیں بتائیں کہ آپ کیا سمجھتے ہیں، کیا شہنشاہ کو ٹیکس دینا جائز ہے یا نہیں؟" سوال تو بہت سنجیدہ لگتا ہے، مگر پوچھنے والوں کو جواب کی تلاش نہیں تھی۔ وہ پہلے ہی فیصلہ کر چکے تھے، بس یسوع کو پھنسانے کا بہانہ چاہتے تھے۔ ذرا اپنے دل سے پوچھ: جب تُو دعا میں سوال رکھتا ہے، کیا واقعی اُس کا جواب سننا چاہتا ہے، یا صرف اپنی بات کی تصدیق؟

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟