زبور 60
متن
یہ زبور ایک عجیب تضاد سے شروع ہوتا ہے۔ عنوان فتح کی خبر دیتا ہے: داؤد اَرامیوں سے لڑا اور یوآب نے نمک کی وادی میں بارہ ہزار ادومیوں کو مار ڈالا۔ لیکن گیت کے پہلے الفاظ فتح کے نہیں، شکست کے ہیں: ”اے اللہ، تُو نے ہمیں رد کیا، ہماری قلعہ بندی میں رخنہ ڈال دیا ہے۔“ زمین لرزتی ہے، قوم نشے میں ڈگمگاتی ہے، اور پھر خدا اپنے مقدِس سے بولتا ہے اور اپنی ملکیت کی فہرست گنواتا ہے۔ آخر میں ایک سوال، ایک اعتراف کہ انسانی مدد بےکار ہے، اور ایک نہایت پُریقین جملہ: ”اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے۔“
اصل بات
یہ زبور اُس حقیقت کو چھپاتا نہیں جو ہم چھپانا چاہتے ہیں: قوم کی تباہی کا ذمہ دار دشمن نہیں، خدا خود ہے۔ ”تُو نے زمین کو ایسے جھٹکے دیئے“، ”تُو نے اپنی قوم کو تلخ تجربوں سے دوچار ہونے دیا“۔ داؤد کسی اتفاق یا بدقسمتی کا رونا نہیں روتا؛ وہ اُسی ہاتھ کو پہچانتا ہے جس نے مارا، اور پھر اُسی ہاتھ سے شفا مانگتا ہے۔ یہی عہد کا منطق ہے: خدا لاتعلق نہیں، اِس لیے اُس کی خاموشی بھی ایک پیغام ہے۔ اور اِسی لیے واحد امید بھی وہی ہے۔ زبور کا مرکز آیت 6 ہے، جہاں انسان بولنا بند کرتا ہے اور خدا اپنے مقدِس سے بولتا ہے۔ نجات کی بنیاد ہماری فوج کی حالت نہیں بلکہ خدا کا اعلانِ ملکیت ہے۔
سنہری دھاگا
آیت 4 میں ایک لفظ ہے جو پورے زبور کو کھول دیتا ہے: عبرانی میں نِس، یعنی جھنڈا یا نشان جو پہاڑی پر گاڑا جاتا ہے تاکہ بکھرے ہوئے لوگ اُس کے گرد جمع ہو جائیں۔ ”جو تیرا خوف مانتے ہیں اُن کے لئے تُو نے جھنڈا گاڑ دیا جس کے ارد گرد وہ جمع ہو کر تیروں سے پناہ لے سکتے ہیں۔“ یسعیاہ 11 میں یہی تصویر یسّی کی جڑ پر لاگو ہوتی ہے: ایک شخص جو قوموں کے لیے جھنڈا بن کر کھڑا کیا جائے گا۔ اور خداوند یسوع نے خود کہا کہ جب وہ زمین سے اونچے پر اٹھایا جائے گا تو سب کو اپنی طرف کھینچے گا۔ صلیب وہ نشان ہے جو ٹوٹی ہوئی زمین کے بیچ گاڑا گیا، جہاں تیر اُس پر لگے تاکہ ہم پناہ پائیں۔ آیت 5 کی دعا, ”جو تجھے پیارے ہیں وہ نجات پائیں“, اُسی محبوب بیٹے میں پوری ہوتی ہے۔
آئینہ
ہم میں سے اکثر اُس زمین کو جانتے ہیں جس میں دراڑیں پڑ چکی ہیں: وہ نوکری جو اچانک ختم ہوئی، وہ رپورٹ جو ڈاکٹر نے چپ چاپ آگے بڑھا دی، وہ کلیسیا جو دو گروہوں میں بٹ گئی، وہ بیٹا جو اب فون نہیں اٹھاتا۔ اور ہماری پہلی جبلت یہ ہوتی ہے کہ فوراً سنبھالو، وضاحت دو، کسی کو قصوروار ٹھہراؤ۔ داؤد یہ نہیں کرتا۔ وہ دراڑ کو دراڑ کہتا ہے اور اُسی کے سامنے رکھتا ہے جس نے اُسے آنے دیا۔ آیت 11 ایمان کی سب سے بالغ سطر ہے: ”اِس وقت انسانی مدد بےکار ہے۔“ یہ مایوسی نہیں، صفائی ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر ایک جملے میں لکھیں کہ آپ کی زمین کہاں پھٹی ہے، اور وہ کاغذ ہاتھ میں لے کر بلند آواز سے آیت 2 کی دعا کریں: ”اب اُس کے شگافوں کو شفا دے۔“
ایک باریک نکتہ
آیت 8 کو لوگ جلدی سے گزار دیتے ہیں، حالانکہ یہ زبور کی سب سے کھردری سطر ہے: ”موآب میرا غسل کا برتن ہے، اور ادوم پر مَیں اپنا جوتا پھینک دوں گا۔“ یہ کسی جنگی نعرے سے زیادہ ملکیت کا قانونی اعلان ہے۔ قدیم دنیا میں جوتا پھینکنا یا اتارنا زمین پر دعویٰ جتانے کی علامت تھی۔ موآب، جو اسرائیل کا مغرور ہمسایہ تھا، یہاں اُس معمولی برتن سے زیادہ کچھ نہیں جس میں مالک پاؤں دھوتا ہے۔ اور فلستی ملک کو حکم ہے کہ فاتح کو دیکھ کر نعرے لگائے۔ ہمیں یہ لہجہ تکلیف دیتا ہے، اور دینا بھی چاہیے۔ مگر نکتہ یہ ہے: جو قومیں اسرائیل کو کچل رہی تھیں، خدا کے مقدِس میں وہ محض سامان ہیں۔ جو ہمیں ناقابلِ تسخیر لگتا ہے، وہ اُس کے کمرے کا برتن ہے۔
مشکل سوال
مگر آیت 10 کو کیسے ہضم کریں؟ ”اے اللہ، تُو ہماری فوجوں کا ساتھ نہیں دیتا جب وہ لڑنے کے لئے نکلتی ہیں۔“ یہ جملہ عنوان کی فتح کے ساتھ میل نہیں کھاتا، اور یہی اِس کی ایمانداری ہے۔ خدا کی قوم جیت بھی سکتی ہے اور پھر بھی رد کیے جانے کا زخم اٹھا سکتی ہے۔ زبور اِس کی کوئی وضاحت نہیں دیتا: نہ گناہ کی فہرست، نہ تربیت کا سبق، نہ آخر میں کوئی تسلی بخش نتیجہ۔ صرف ایک اصرار کہ جس نے رد کیا وہی بحال بھی کر سکتا ہے۔ کبھی کبھی ایمان کا کام یہ نہیں کہ خدا کی خاموشی کی توجیہ ڈھونڈے، بلکہ یہ کہ اُسی خاموش خدا کے دامن سے ہاتھ نہ چھوڑے۔
کلام کی گونج
پولس رسول رومیوں 8 میں اُسی ”دہنے ہاتھ“ کی بات کرتا ہے: مسیح خدا کی دہنی طرف ہے اور ہماری شفاعت کرتا ہے، اِس لیے کوئی بھی چیز ہمیں اُس محبت سے جدا نہیں کر سکتی۔ زبور 60 کی دعا, ”اپنے دہنے ہاتھ سے مدد کر کے میری سن“, وہاں جسم اختیار کر لیتی ہے۔ اور آیت 12 کا اعتراف, ”اللہ کے ساتھ ہم زبردست کام کریں گے، کیونکہ وہی ہمارے دشمنوں کو کچل دے گا“, پیدائش 3 کے اُس پہلے وعدے کی گونج ہے جہاں عورت کی نسل سانپ کا سر کچلے گی۔ داؤد یہ صرف ادوم کے بارے میں کہہ رہا تھا؛ ہم جانتے ہیں کہ یہ کہاں پورا ہوا۔
غور و فکر
آپ کی زندگی میں کون سی ”دراڑ“ ہے جس کے بارے میں آپ نے خدا سے کبھی صاف لفظوں میں بات نہیں کی، صرف اُسے سنبھالنے کی کوشش کی ہے؟
آپ عملی طور پر کس ”انسانی مدد“ پر ٹیک لگائے ہوئے ہیں، اور اُسے خدا کے گاڑے ہوئے جھنڈے کے نیچے رکھنا آپ کے لیے کیسا دکھے گا؟
Psalms 60 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
زبور 60 کا کیا مطلب ہے؟
زبور 60 کس بارے میں ہے؟
زبور 60 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
زبور 60 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
زبور 60 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Psalms 60 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
