طِطُس 1
متن
خط کے شروع میں پولس اپنا تعارف کراتا ہے: اللہ کا خادم، عیسیٰ مسیح کا رسول، جسے اِس لئے چنا گیا کہ چنے ہوئے لوگوں کو ایمان اور سچائی تک پہنچائے، اُس ابدی زندگی کی اُمید پر جس کا وعدہ زمانوں سے پیشتر کیا گیا تھا۔ پھر وہ طِطُس کو کریتے میں دی گئی ذمہ داری یاد دلاتا ہے: باقی ماندہ کمیاں درست کرنا اور ہر شہر میں بزرگ مقرر کرنا، اور اُن بزرگوں کی صفات گنواتا ہے۔ آخر میں وہ اُن جھوٹے معلّموں کی طرف مُڑتا ہے جو لالچ میں پورے گھرانے خراب کر رہے ہیں، اور ایک تلخ فقرہ لکھتا ہے: یہ خدا کو جاننے کا دعویٰ کرتے ہیں، مگر اُن کی حرکتیں اِس کا انکار کرتی ہیں۔
مرکزی بات
اِس باب میں دو جملے آمنے سامنے کھڑے ہیں، اور اُن کے درمیان پورا خط سانس لیتا ہے۔ پہلا: ”اور وہ جھوٹ نہیں بولتا۔“ دوسرا: ”کریتے کے باشندے ہمیشہ جھوٹ بولنے والے۔“ ایک طرف وہ خدا ہے جس کی ذات میں کوئی دراڑ نہیں، جس کا کلام اور جس کا کام ایک ہی چیز ہے۔ دوسری طرف وہ انسانی معاشرہ ہے جہاں الفاظ اور اعمال کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ نجات کا مطلب یہی ہے کہ جھوٹ نہ بولنے والا خدا جھوٹ میں ڈوبے ہوئے لوگوں کے بیچ اپنا کلام ظاہر کرتا ہے، اور اُنہیں اپنی سچائی میں شامل کر لیتا ہے۔ یہ صرف معافی نہیں، یہ کردار کی نئی تعمیر ہے۔ اِسی لئے پولس بزرگوں کی فہرست میں مہارت نہیں بلکہ سچائی کی خصلتیں گنواتا ہے۔
سلسلۂ کلام
”دنیا کے زمانوں سے پیشتر“ کیا ہو رہا تھا؟ پولس اِس پردے کو پوری طرح نہیں ہٹاتا۔ وہ صرف اتنا کہتا ہے کہ وہاں ایک وعدہ تھا، اور پھر ”اپنے مقررہ وقت پر اللہ نے اپنے کلام کا اعلان کر کے اُسے ظاہر کر دیا۔“ یہی پورے کتابِ مقدّس کی ساخت ہے: ایک لمبی خاموشی جس میں وعدہ پک رہا ہے، پھر وقت کا پورا ہونا، پھر مسیح۔ ابراہام سے لے کر انبیا تک خدا نے کبھی جلدی نہیں کی، مگر کبھی مکرا بھی نہیں۔ غور کریں کہ آیت ۳ اور ۴ میں پولس ”نجات دہندہ“ کا لقب پہلے اللہ کے لئے اور پھر مسیح عیسیٰ کے لئے استعمال کرتا ہے، بغیر کسی وضاحت کے۔ وہی وعدہ کرنے والا خود وعدہ پورا کرنے آیا۔
آئینہ
یہ باب اُس خلیج کو بےنقاب کرتا ہے جو ہماری زبان اور ہماری زندگی کے درمیان کھل جاتی ہے۔ آپ اتوار کو ایمان کا اقرار کرتے ہیں اور پیر کو دفتر میں وہ رپورٹ ذرا سی سنوار دیتے ہیں۔ آپ گروپ میں دعا کراتے ہیں اور گھر میں بچوں پر وہ غصہ اُتارتے ہیں جو دراصل کسی اور کا ہے۔ پولس اِسے ہلکا نہیں کرتا: ”یہ اللہ کو جاننے کا دعویٰ تو کرتے ہیں، لیکن اُن کی حرکتیں اِس بات کا انکار کرتی ہیں۔“ ساتھ ہی وہ یہ بھی کہتا ہے کہ بزرگ کو ”اپنے آپ پر قابو“ ہو، یعنی مسئلہ صلاحیت کا نہیں، نفس کا ہے۔ آج ایک کام کریں: وہ ایک بات یاد کریں جو آپ نے پچھلے ہفتے کہی اور نبھائی نہیں، اور آج ہی اُس شخص کو پیغام بھیج کر سیدھا کہیں کہ آپ سے یہ رہ گیا تھا۔
مرکزی کردار
پولس یہاں خود کو ”اللہ کا خادم“ کہہ کر شروع کرتا ہے، مگر اصل مرکزی کردار وہ خدا ہے جو بولتا ہے۔ یہ خدا صبر والا ہے: زمانوں سے پیشتر وعدہ کیا اور ”مقررہ وقت“ تک انتظار کیا۔ یہ خدا مہربان ہے: اُس نے اپنا اعلان کریتے جیسے بدنام جزیرے تک پہنچایا، جس کے بارے میں اُن کے اپنے شاعر نے لکھا تھا کہ وہ ”وحشی جانور اور سُست پیٹو“ ہیں۔ اور یہ خدا سخت بھی ہے: اُس کے کلام میں ایسی تلخی ہے جو ہمیں بےچین کر دیتی ہے۔ مگر سختی بےرحمی نہیں، کیونکہ اُس کا مقصد صاف لکھا ہے: ”تاکہ اُن کا ایمان صحت مند رہے۔“ جیسے ہڈی بٹھانے والا ہاتھ، جو تکلیف دیتا ہے کیونکہ شفا چاہتا ہے۔
بین المتون
آیت ۱۵ کے الفاظ، ”جو لوگ پاک صاف ہیں اُن کے لئے سب کچھ پاک ہے،“ یسوع کی اُس بات کی گونج ہیں جو مرقس ۷ میں ملتی ہے کہ آدمی کو باہر سے داخل ہونے والی چیز ناپاک نہیں کرتی، بلکہ جو دل سے نکلتا ہے۔ پولس یہی اصول کریتے کے اُن معلّموں پر لگاتا ہے جو کھانے پینے اور رسوم کی فہرستیں بنا رہے تھے۔ اور دوسری طرف، جب وہ لکھتا ہے کہ خدا ”جھوٹ نہیں بولتا،“ تو یہ گنتی ۲۳ کی اُس بات سے جا ملتا ہے کہ خدا انسان کی طرح نہیں کہ جھوٹ بولے یا پچھتائے۔ دونوں حوالے ایک ہی نکتے پر لے آتے ہیں: پاکیزگی رسم میں نہیں، بھروسے کے قابل ذات کے ساتھ جُڑنے میں ہے۔
سوال
سب سے کھٹکنے والی بات آیت ۱۲ ہے۔ کیا پولس واقعی ایک پوری قوم کے بارے میں یہ کہہ رہا ہے کہ وہ ”ہمیشہ جھوٹ بولنے والے“ ہیں، اور پھر کہتا ہے ”اُس کی یہ گواہی درست ہے“؟ ہم اِسے نرم کرنا چاہتے ہیں، مگر متن ہمیں اجازت نہیں دیتا۔ شاید یہاں پولس اُن کے اپنے شاعر کا آئینہ اُنہی کے سامنے رکھ رہا ہے، جیسے کوئی کہے: تم خود اپنے بارے میں یہی مانتے ہو۔ مگر یہ سوال باقی رہتا ہے کہ ایسا جملہ انجیل کے خادم کے قلم سے کیوں نکلا۔ شاید اِس لئے کہ فضل تبھی فضل لگتا ہے جب تشخیص جھوٹی نہ ہو۔ مگر مَیں اِس تلخی کو پوری طرح حل نہیں کر سکتا، اور شاید نہیں کرنا چاہئے۔
غور کے لئے
آپ کی زندگی میں وہ کون سی جگہ ہے جہاں آپ کے الفاظ اور آپ کے اعمال ابھی تک ایک دوسرے سے ملے نہیں؟
اگر خدا ”جھوٹ نہیں بولتا،“ تو اُس کا کون سا وعدہ آپ اِس وقت عملاً جھوٹ سمجھ کر جی رہے ہیں؟
Titus 1 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
طِطُس 1 کا کیا مطلب ہے؟
طِطُس 1 کس بارے میں ہے؟
طِطُس 1 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
طِطُس 1 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
طِطُس 1 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Titus 1 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو حقیقت کو چھپاتا نہیں۔ کریتے کے لوگوں کے بارے میں یہ سچ کہا گیا کہ وہ ”ہمیشہ جھوٹے، وحشی جانور اور سُست پیٹو ہوتے ہیں“، پھر بھی تُو نے اُنہی کے درمیان اپنی کلیسیا کھڑی کی۔ شکر کہ تُو مجھے بھی میری کمزوریوں سمیت جانتا اور قبول کرتا ہے۔
خدایا، تیرا شکر ہے کہ تُو نے کلیسیا کو ایسے بزرگ عطا کیے جو بےالزام ہیں اور اپنے گھر میں بھی وہی زندگی جیتے ہیں جو منبر سے سکھاتے ہیں۔ شکریہ کہ تُو ایک بیوی سے وفاداری اور ایمان دار بچوں کی برکت دیتا ہے، اور ہمارے گھروں کو اپنے فضل سے سنبھالتا ہے۔
خداوند، تیرا شکر ہے کہ تُو ہمیں یوں ہی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ سختی سے سمجھاتا ہے تاکہ ہم ایمان میں صحت مند رہیں۔ شکر کہ تُو نے ایسے لوگ ہماری زندگی میں رکھے جو سچائی بولنے سے نہیں ڈرتے، اور تیری تنبیہ بھی تیری محبت کا ثبوت ہے۔
پولس کریتے میں ایک ادھورا کام چھوڑ کر چلا گیا: ”مَیں تجھے کریتے میں اِس لئے چھوڑ آیا تھا کہ تُو وہ کام مکمل کرے جو ابھی باقی تھا۔“ وہ سب کچھ خود سنوار کر نہیں گیا۔ سوچیں، خدا نے آپ کو بھی کسی ادھوری جگہ میں رکھا ہے، اُس گھر میں، اُس کلیسیا میں۔ کیا آپ اُسے شکایت سمجھتے ہیں یا بھروسے کا بوجھ؟
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
