بائبل کی کتاب

گلتیوں کے خط کا تعارف: شریعت نہیں، فضل سے آزادی

تعارف

ایک نوجوان کلیسیا کے صحن میں مہمان مبشّر بیٹھے ہیں۔ وہ مسیح کا انکار نہیں کر رہے؛ وہ یسوع کا نام محبت سے لیتے ہیں۔ وہ صرف ایک "چھوٹی سی" بات کہہ رہے ہیں: ایمان تو ٹھیک ہے، مگر مکمل نہیں۔ خدا کے خاندان میں پورے طور پر شامل ہونے کے لیے ختنہ کروا لو، موسیٰ کی شریعت کے چند فرائض سنبھال لو، تب تم واقعی قبول ہو گے۔ یہ بات اتنی معقول، اتنی مذہبی، اتنی مؤدب لگتی ہے کہ کسی کو شک نہیں ہوتا۔ اور پھر سینکڑوں میل دور سے ایک خط آتا ہے جس کے الفاظ کاغذ پر کانپتے ہیں، جس میں شکرگزاری کا کوئی دیباچہ نہیں، اور جو پہلے ہی صفحے پر لعنت کی بات کرتا ہے۔

یہ گلتیوں کا خط ہے۔ اس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ یہ خط کس نے، کب، اور کس درد میں لکھا؛ اس کی عمارت کیسے بنی ہے؛ اس کی اہم آیتیں کیا کہتی ہیں؛ اور سب سے اہم، یہ کہ وہی پرانی غلامی آج آپ کے دروازے پر کس لباس میں دستک دے رہی ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

ہم اس خط کو کسی ٹھنڈے مطالعہ کے کمرے سے نہیں، بلکہ ایک تڑپتے چرواہے کے دل سے پڑھیں گے۔ پولس رسول یہاں بحث جیتنے نہیں بیٹھے؛ وہ اپنے روحانی بچوں کو ڈوبتے دیکھ رہے ہیں اور درد میں چلّا اٹھے ہیں۔ اور اسی درد سے ہمارا مرکزی سوال نکلتا ہے: غلامی کبھی زنجیروں کے ساتھ نہیں آتی، وہ ہمیشہ پارسائی کے لباس میں، عبادت کی زبان میں، اور "مزید مخلص بننے" کی پیشکش کے ساتھ آتی ہے۔ اس لیے آزادی خود بخود قائم نہیں رہتی؛ اسے بار بار پکڑ کر کھڑا رہنا پڑتا ہے۔ یہی بات اس رہنما کو ایک معلوماتی خاکے سے زیادہ، ایک تنبیہ اور ایک راحت بناتی ہے۔

گلتیوں کا خط کس نے، کب اور کن حالات میں لکھا؟

اس خط کا مصنف پولس رسول ہیں، اور یہ ان کے اُن خطوں میں سے ہے جن کی نسبت پر کلیسیا میں کبھی سنجیدہ اختلاف نہیں ہوا۔ خط اپنے مصنف کا نام پہلی آیت میں دیتا ہے اور پھر بار بار پہلے شخص میں بات کرتا ہے، اپنی زندگی کی گواہی دیتا ہے، اپنے سفر گناتا ہے، اپنے جسم کی کمزوری کا ذکر کرتا ہے، اور آخر میں خود اپنے ہاتھ سے لکھے ہوئے بڑے حرفوں کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ یہ کسی کاتب کی نقل نہیں، یہ ایک انسان کی آواز ہے جسے آپ سن سکتے ہیں۔

پولس اپنی رسولیت کو انسانی اجازت سے نہیں جوڑتے۔ وہ لکھتے ہیں: "اے بھائیو! میں تمہیں جتاتا ہوں کہ جو خوشخبری میں نے سنائی وہ انسان کی طرف سے نہیں۔ کیونکہ وہ مجھے انسان کی طرف سے نہیں پہنچی نہ مجھے سکھائی گئی بلکہ یسوع مسیح کی طرف سے مجھے اُس کا مکاشفہ ہوا" (گلتیوں 1:11-12)۔ اس بات پر اصرار کی وجہ صاف ہے: گلتیہ میں آنے والے معلّموں نے یہ تاثر دیا تھا کہ پولس کسی دوسرے درجے کا خدمت گزار ہے، یروشلیم کے بڑے رسولوں کا ماتحت، جس نے غیریہودیوں کو خوش کرنے کے لیے پیغام میں نرمی کر دی ہے۔ اگر پیغام بر کو چھوٹا کر دیا جائے تو پیغام بھی چھوٹا ہو جاتا ہے۔ اس لیے پہلے دو باب پولس کی سوانح نہیں، بلکہ خوشخبری کی وکالت ہیں۔

"گلتیہ" کے نام سے کون مراد ہے، اس پر مسیحی عالموں میں دو دیرینہ رائیں ہیں۔ ایک رائے کے مطابق یہ رومی صوبہ گلتیہ کے جنوبی شہر تھے، یعنی انطاکیہِ پسدیہ، اِکُنیُم، لُسترا اور دِربے، جہاں پولس اور برنباس نے اپنے پہلے مشنری سفر میں کلیسیائیں قائم کی تھیں۔ اس صورت میں خط بہت ابتدائی ہے، غالباً ۴۸ یا ۴۹ء کے لگ بھگ، ممکنہ طور پر یروشلیم کی اُس مجلس سے بھی پہلے جس کا ذکر اعمال ۱۵ میں ہے۔ دوسری رائے کے مطابق مراد شمالی علاقے کے وہ لوگ ہیں جو نسلاً گلتی یعنی کیلٹی تھے؛ اس صورت میں خط کی تاریخ ۵۳ سے ۵۵ء کے درمیان بنتی ہے، جب پولس افسس یا مکدُنیہ میں تھے۔

ہمارے لیے خوشی کی بات یہ ہے کہ خط کا پیغام ان دونوں صورتوں میں ایک ہی رہتا ہے۔ البتہ ابتدائی تاریخ کو ترجیح دینے والے ایک دلچسپ نکتے کی طرف توجہ دلاتے ہیں: اگر یہ خط واقعی اتنا قدیم ہے تو گلتیوں کا خط نئے عہدنامے کی سب سے پہلی لکھی گئی کتاب ہو سکتی ہے۔ یعنی مسیحی کلیسیا کا پہلا تحریری لفظ کوئی تنظیمی دستور نہیں تھا، بلکہ فضل کا دفاع تھا۔

حالات کا نقشہ یوں بنتا ہے۔ پولس نے ان شہروں میں مصلوب اور جی اٹھے مسیح کی منادی کی تھی۔ غیریہودی ایمان لائے، روح القدس نے ان میں کام کیا، کلیسیائیں بنیں۔ پولس آگے بڑھ گئے۔ پھر یہودی پس منظر سے کچھ معلّم آئے جنہیں عام طور پر "یہودیت پسند" کہا جاتا ہے۔ ان کا دعویٰ یہ نہیں تھا کہ یسوع نجات دہندہ نہیں؛ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ یسوع کافی نہیں۔ ان کے مطابق ابرہام کے وعدوں کا وارث بننے کے لیے ابرہام کی نشان یعنی ختنہ ضروری تھی، اور شریعت کے دن اور تہوار سنبھالنا لازمی۔

پولس کا ردعمل سمجھنے کے لیے یہ یاد رکھیں کہ ان کے باقی خط عموماً شکرگزاری سے شروع ہوتے ہیں۔ یہاں وہ شکرگزاری غائب ہے۔ اس کی جگہ یہ ہے: "مجھے تعجب ہے کہ تم اِس قدر جلد اُس کی طرف سے جس نے تمہیں مسیح کے فضل سے بلایا پھر کر کسی اَور طرح کی خوشخبری کی طرف مائل ہونے لگے" (گلتیوں 1:6)۔ اور آگے چل کر وہ اپنی کیفیت ماں کے درد سے بیان کرتے ہیں: "اے میرے بچو! جب تک مسیح تم میں صورت پذیر نہ ہو جائے میں تمہارے لیے پھر دردِ زہ میں ہوں" (گلتیوں 4:19)۔ یہ خط غصے میں لکھا گیا ہے، مگر یہ محبت کا غصہ ہے۔

بائبل گلتیوں کے خط کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

خط کا مرکزی اعلان یہ ہے کہ خوشخبری ایک ہی ہے، اور اس میں اضافہ کرنا اسے مٹا دینا ہے۔ پولس لکھتے ہیں: "لیکن اگر ہم یا آسمان کا کوئی فرشتہ بھی اُس خوشخبری کے سوا جو ہم نے تمہیں سنائی کوئی اَور خوشخبری تمہیں سنائے تو ملعون ہو" (گلتیوں 1:8)۔ ذرا غور کریں کہ پولس اپنے آپ کو بھی اس تنبیہ سے باہر نہیں رکھتے۔ معیار رسول کی شخصیت نہیں، معیار پیغام ہے۔ آج بھی کسی تعلیم کو جانچنے کا پہلا سوال یہ نہیں ہوتا کہ بولنے والا کتنا مشہور یا پُراثر ہے، بلکہ یہ کہ وہ مسیح کی صلیب میں کچھ جمع کر رہا ہے یا نہیں۔

دوسرا بنیادی اعلان راستبازی کے بارے میں ہے۔ خط کا دھڑکتا دل یہ آیت ہے: "مگر چونکہ ہم کو معلوم ہوا کہ آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ یسوع مسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہرتا ہے تو ہم خود بھی مسیح یسوع پر ایمان لائے تاکہ ہم شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ مسیح پر ایمان لانے سے راستباز ٹھہریں۔ اِس لیے کہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر راستباز نہ ٹھہرے گا" (گلتیوں 2:16)۔ "راستباز ٹھہرنا" عدالت کی زبان ہے۔ مطلب یہ ہے کہ خدا کی عدالت میں آپ کے خلاف مقدمہ ختم ہو گیا، فیصلہ آپ کے حق میں سنا دیا گیا، اور یہ فیصلہ آپ کی کارکردگی کی بنیاد پر نہیں بلکہ مسیح کے کام پر ایمان کی بنیاد پر ہوا۔ آخری فقرہ خاص طور پر نوٹ کریں: کوئی بشر نہیں۔ نہ یہودی، نہ غیریہودی، نہ متقی، نہ گنہگار۔ شریعت کا راستہ کسی کے لیے کھلا نہیں، اس لیے فضل کا دروازہ سب کے لیے کھلا ہے۔

پولس اس بات کو مجرد اصول نہیں رہنے دیتے۔ وہ اسے اپنی ذات میں اتار لیتے ہیں: "مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں اور اب مَیں زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے اور مَیں جو اب جسم میں زندگی گزارتا ہوں تو خدا کے بیٹے پر ایمان لا کر گزارتا ہوں جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لیے موت کے حوالہ کر دیا" (گلتیوں 2:20)۔ یہاں خوشخبری صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں رہتی، وہ ایک رشتہ بن جاتی ہے۔ مسیح نے میری جگہ لی، اور اب مسیح میرے اندر رہتا ہے۔

تیسرا اعلان آزادی کا ہے، اور یہی خط کا نعرہ ہے: "مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لیے آزاد کیا ہے۔ پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو" (گلتیوں 5:1)۔ یہ حکم دو حصوں میں ہے: قائم رہو، اور واپس نہ جاؤ۔ گویا پولس جانتے ہیں کہ آزاد کیے گئے لوگ اپنی پرانی زنجیروں کو یاد کرتے ہیں، کیونکہ زنجیروں میں ایک عجیب تحفظ ہوتا ہے۔ غلام کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے کیا توقع ہے؛ بیٹے کو محبت پر بھروسہ کرنا پڑتا ہے۔

اور یہ آزادی کسی ایک گروہ کی ملکیت نہیں۔ خط اعلان کرتا ہے: "نہ کوئی یہودی رہا نہ یونانی، نہ کوئی غلام نہ آزاد، نہ کوئی مرد نہ عورت کیونکہ تم سب مسیح یسوع میں ایک ہو" (گلتیوں 3:28)۔ یہ آیت ان تینوں دیواروں کو گراتی ہے جن پر قدیم دنیا کھڑی تھی، یعنی نسل، معاشی حیثیت اور جنس۔ پولس یہ نہیں کہ رہے کہ فرق موجود ہی نہیں؛ وہ یہ کہ رہے ہیں کہ یہ فرق خدا کے خاندان میں شامل ہونے کی شرط یا درجہ بندی نہیں بن سکتے۔ مسیح میں بپتسمہ پانے والا مزدور اور مالک ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں۔

آخر میں خط ہمیں بتاتا ہے کہ فضل سُست نہیں کرتا بلکہ پھل لاتا ہے: "مگر روح کا پھل محبت، خوشی، اطمینان، تحمل، مہربانی، نیکی، ایمانداری، حلم اور پرہیزگاری ہے۔ ایسے کاموں کی کوئی شریعت مخالف نہیں" (گلتیوں 5:22-23)۔ شریعت پرست پوچھتے تھے: اگر قانون نہ ہو تو لوگ بگڑ نہ جائیں گے؟ پولس کا جواب یہ ہے کہ جو روح سے چلتے ہیں، ان میں وہ خوبیاں خود اُگتی ہیں جن کے لیے قانون بنایا جاتا ہے۔

فضل کی مخالف شریعت نہیں، شریعت پر بھروسہ ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

گلتیوں کا خط پرانے عہدنامے کے خلاف لکھی گئی کتاب نہیں؛ وہ پرانے عہدنامے کو نئے سرے سے پڑھنے کی دعوت ہے۔ پولس اپنی دلیل کی بنیاد ابرہام پر رکھتے ہیں، یعنی اُس شخص پر جس کا نام ان کے مخالفین بھی بڑے فخر سے لیتے تھے۔ پیدائش ۱۵:۶ میں لکھا ہے: "اور وہ خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِس کو اُس کے لیے راستبازی شمار کیا۔" پولس اسی حوالے کو اٹھا کر کہتے ہیں: "چنانچہ ابرہام خدا پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا" (گلتیوں 3:6)۔ نکتہ بہت باریک اور بہت کاٹ دار ہے: ابرہام راستباز ٹھہرا اُس وقت جب نہ ختنہ تھا، نہ سینا کی شریعت، نہ ہیکل، نہ قربانی کا نظام۔ وہ صرف وعدے پر بھروسہ کرنے سے راستباز ٹھہرا۔ یعنی ایمان سے راستبازی کوئی نئی ایجاد نہیں، وہ خدا کا پرانا طریقہ ہے۔

پھر پولس انبیا کی طرف جاتے ہیں۔ حبقوق نبی کے الفاظ "راستباز اپنے ایمان سے جیتا رہے گا" کو وہ یوں دہراتے ہیں: "اور یہ بات صاف ہے کہ شریعت کے وسیلہ سے کوئی شخص خدا کے نزدیک راستباز نہیں ٹھہرتا کیونکہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا" (گلتیوں 3:11)۔ اور شریعت کی اپنی گواہی بھی وہ سامنے رکھتے ہیں، کیونکہ استثنا کی کتاب اُس پر لعنت کا اعلان کرتی ہے جو شریعت کی باتوں پر قائم نہ رہے۔ یہی لعنت اس خط کا سب سے خوبصورت موڑ لاتی ہے: "مسیح جو ہمارے لیے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا کیونکہ لکھا ہے کہ جو کوئی لکڑی پر لٹکایا گیا وہ ملعون ہے" (گلتیوں 3:13)۔ لکڑی پر لٹکنے والے کی لعنت کا ذکر استثنا ۲۱:۲۳ میں ہے۔ یعنی صلیب پر مسیح نے وہ سزا اٹھائی جو شریعت ہم پر سناتی تھی۔

تو پھر شریعت کا کام کیا تھا؟ پولس جواب دیتے ہیں: "پس شریعت مسیح تک پہنچانے کے لیے ہمارا اُستاد تھا تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہریں" (گلتیوں 3:24)۔ قدیم گھرانوں میں ایک خدمت گزار بچے کو اسکول تک لے جاتا، راستے میں اس کی حفاظت اور تربیت کرتا، مگر وہ بچے کا باپ نہیں ہوتا تھا۔ شریعت ویسی ہی تھی: حفاظت کرنے والی، گناہ کو ظاہر کرنے والی، وقت پورا ہونے تک سنبھالنے والی، مگر بیٹا بنانے والی نہیں۔

اور یہ سب کہاں جا کر پورا ہوتا ہے؟ "لیکن جب وقت پورا ہو گیا تو خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا تاکہ شریعت کے ماتحتوں کو مول لے کر چھڑا لے اور ہم کو لے پالک ہونے کا درجہ ملے" (گلتیوں 4:4-5)۔ پوری بائبل کی کہانی یہاں سمٹ آئی ہے: وعدہ ابرہام سے، لعنت سینا سے، رہائی صلیب سے، اور گود لے لیا جانا مسیح سے۔ اور یرمیاہ اور حزقی ایل نے جس نئے دل اور نئی روح کا وعدہ کیا تھا، وہ اگلی آیت میں حقیقت بن جاتی ہے: "اور چونکہ تم بیٹے ہو اِس لیے خدا نے اپنے بیٹے کے روح کو ہمارے دلوں میں بھیجا جو ابّا یعنی اے باپ کہہ کر پکارتا ہے" (گلتیوں 4:6)۔ غلام کے منہ میں باپ کا نام ڈال دینا، یہ وہی خدا ہے جس نے مصر میں اسرائیل کی آہیں سنی تھیں۔

ساخت اور بنیادی موضوعات

گلتیوں کا خط چھ بابوں میں تین صاف حصوں پر کھڑا ہے، اور یہ ترتیب بذاتِ خود ایک پیغام ہے۔

پہلا حصہ ذاتی اور دفاعی ہے، باب ایک کے آغاز سے باب دو کے اختتام تک۔ سلام کے فوراً بعد پولس تعجب کا اظہار کرتے ہیں، پھر دوسری خوشخبری پر لعنت کا اعلان، اور پھر اپنی کہانی۔ وہ بتاتے ہیں کہ کیسے وہ کلیسیا کو ستاتے تھے، کیسے خدا نے انہیں بلایا، کیسے وہ فوراً یروشلیم کے رسولوں سے منظوری لینے نہیں دوڑے بلکہ عرب گئے، کیسے برسوں بعد یروشلیم گئے اور وہاں پیغام کی یکسانیت پر اتفاق ہوا، اور کیسے انطاکیہ میں ایک شرم ناک واقعہ پیش آیا: "لیکن جب کیفا انطاکیہ میں آیا تو میں نے روبرو ہو کر اُس کی مخالفت کی کیونکہ وہ ملامت کے لائق تھا" (گلتیوں 2:11)۔ پطرس نے غیریہودی بھائیوں کے ساتھ کھانا چھوڑ دیا تھا، اور پولس کے نزدیک یہ کھانے کی میز کا مسئلہ نہیں بلکہ خوشخبری کا مسئلہ تھا۔ یہ حصہ گلتیوں 2:15-21 کے گہرے الہٰیاتی بیان پر ختم ہوتا ہے، جہاں صلیب کے ساتھ ہمارا اتحاد کھلتا ہے اور ایک سخت نتیجہ سامنے آتا ہے: "میں خدا کے فضل کو باطل نہیں کرتا کیونکہ اگر راستبازی شریعت کے وسیلہ سے ملتی ہے تو مسیح کا مرنا عبث ہوا" (گلتیوں 2:21)۔

دوسرا حصہ دلیل کا ہے، باب تین سے باب چار تک۔ پولس یکے بعد دیگرے دلائل دیتے ہیں۔ پہلے وہ گلتیوں کے اپنے تجربے کی طرف اشارہ کرتے ہیں، کہ روح القدس انہیں شریعت کی پابندی سے نہیں بلکہ ایمان کے سننے سے ملا تھا، اور طنز کے ساتھ پوچھتے ہیں: "کیا تم ایسے نادان ہو کہ روح کے طور پر شروع کر کے اب جسم کے طور پر کام پورا کرو گے؟" (گلتیوں 3:3)۔ پھر ابرہام کی مثال، پھر شریعت کی لعنت اور صلیب پر اس کا حل، پھر وعدے کی قدامت اور شریعت کا عارضی کردار، پھر غلامی سے فرزندیت کی طرف سفر، اور آخر میں ہاجرہ اور سارہ کی تمثیل، جس میں دو عہد، دو مائیں اور دو طرح کی اولاد سامنے آتی ہیں۔ یہاں پولس ایک جذباتی اپیل بھی کرتے ہیں، اپنی بیماری اور گلتیوں کی پرانی محبت کا حوالہ دے کر۔ یہ ایک وکیل کی ٹھنڈی تقریر نہیں، یہ باپ کی منت ہے۔

تیسرا حصہ عملی ہے، باب پانچ سے خط کے اختتام تک۔ یہیں آزادی کا اعلان آتا ہے، اور اس کے ساتھ آزادی کی حفاظت۔ پولس خبردار کرتے ہیں: "اے بھائیو! تم آزادی کے لیے بلائے گئے ہو۔ مگر ایسا نہ ہو کہ یہ آزادی جسم کے لیے موقع بن جائے بلکہ محبت کی راہ سے ایک دوسرے کی خدمت کرو" (گلتیوں 5:13)۔ پھر روح اور جسم کی کشتی، جسم کے کاموں کی فہرست کے مقابل روح کا پھل، اور ایمان داروں کی باہمی زندگی: "تم ایک دوسرے کے بوجھ اٹھاؤ اور اِس طرح مسیح کی شریعت کو پورا کرو" (گلتیوں 6:2)۔ ساتھ ہی بونے اور کاٹنے کی سنجیدہ یاد دہانی: "فریب نہ کھاؤ۔ خدا ٹھٹھوں میں نہیں اڑایا جاتا کیونکہ جو کچھ آدمی بوتا ہے وہی کاٹے گا" (گلتیوں 6:7)۔

خط کا اختتام پولس اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں، بڑے حرفوں میں، جیسے دستخط کے ساتھ مہر لگا دی جائے۔ اور وہاں وہ اپنا واحد فخر بتاتے ہیں، صلیب۔ یوں خط کی تینوں منزلیں ایک ہی سمت میں جاتی ہیں: پیغام کی سچائی، پیغام کی دلیل، پیغام کی زندگی۔ اور بنیادی موضوعات یہی ہیں: ایمان سے راستبازی، مسیح کے ساتھ اتحاد، فرزندیت اور روح، آزادی، اور نئی خلقت۔

اس کتاب کی اہم آیات

گلتیوں 2:20 اس خط کی روح ہے: "مَیں مسیح کے ساتھ مصلوب ہوا ہوں اور اب مَیں زندہ نہ رہا بلکہ مسیح مجھ میں زندہ ہے اور مَیں جو اب جسم میں زندگی گزارتا ہوں تو خدا کے بیٹے پر ایمان لا کر گزارتا ہوں جس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لیے موت کے حوالہ کر دیا۔" غور کریں کہ پولس ماضی کا صیغہ استعمال کرتے ہیں: میں مصلوب ہوا ہوں۔ یعنی وہ پرانا آدمی جو اپنی نیکی سے خدا کو خریدنا چاہتا تھا، وہ مر چکا ہے۔ یہ خودی کو کچلنے کی تعلیم نہیں، یہ ایک نئی شناخت ہے۔ اور آیت کا آخری حصہ سب سے زیادہ تسلی دیتا ہے: پولس یہ نہیں کہتے کہ "جس نے دنیا سے محبت رکھی"، بلکہ "جس نے مجھ سے محبت رکھی"۔ صلیب پر مسیح کی محبت ہجوم کے لیے نہیں، ایک ایک نام کے لیے تھی۔

گلتیوں 5:1 اس خط کا منشور ہے: "مسیح نے ہمیں آزاد رہنے کے لیے آزاد کیا ہے۔ پس قائم رہو اور دوبارہ غلامی کے جوئے میں نہ جتو۔" جوا بیل کے گلے پر رکھا جاتا تھا تاکہ وہ مالک کی مرضی سے چلے۔ پولس کہتے ہیں کہ مسیح نے وہ جوا توڑ دیا، تو اب اپنی گردن خود واپس اس میں نہ ڈالو۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ آزادی کا مقصد آزادی ہی ہے، یعنی خدا کے بیٹوں اور بیٹیوں کا خوف سے خالی رشتہ۔ اور یہ کہ آزادی ایک ایسی نعمت ہے جس کی حفاظت کرنی پڑتی ہے، کیونکہ مذہبی غلامی ہمیشہ مؤدب لہجے میں واپس آتی ہے۔

گلتیوں 6:14 اس خط کی مہر ہے: "لیکن میرا یہ حال کبھی نہ ہو کہ اپنے خداوند یسوع مسیح کی صلیب کے سوا کسی اَور چیز پر فخر کروں جس کے سبب سے دنیا میرے لیے مصلوب ہوئی اور میں دنیا کے لیے۔" گلتیہ کے معلّم اپنے پیروکاروں کی گنتی پر فخر کرتے تھے، اپنی روایت اور اپنی پارسائی پر۔ پولس کے پاس فخر کی صرف ایک چیز ہے، اور وہ چیز ایسی ہے جس پر فخر کرنا اُس زمانے میں پاگل پن سمجھا جاتا تھا: ایک مجرم کی سزا کا آلہ۔ صلیب پر فخر کا مطلب یہ ہے کہ میری ساری قیمت کسی اور کی قربانی میں ہے، اس لیے میرے پاس اپنی برتری کا کوئی سامان نہیں بچا۔

صلیب میرا واحد فخر ہے، اور وہی میری نجات ہے۔

گلتیوں کا خط بائبل کی کتابوں میں کہاں کھڑا ہے؟

نئے عہدنامے میں یہ خط پولس کے بڑے خطوں کے درمیان، دوسرے کرنتھیوں اور افسیوں کے بیچ رکھا گیا ہے۔ لیکن اس کی اصل جگہ ترتیب سے زیادہ کردار میں ہے۔ رومیوں کا خط وہی موضوع پوری تفصیل، ٹھہراؤ اور ترتیب کے ساتھ پیش کرتا ہے؛ گلتیوں کا خط وہی سچائی آگ کی لپٹ میں پیش کرتا ہے۔ اسی لیے بعض لوگ گلتیوں کو رومیوں کا مختصر اور جذباتی روپ کہتے ہیں۔ ایک میں معلم پڑھا رہا ہے، دوسرے میں چرواہا بچا رہا ہے۔

اعمال کی کتاب کے ساتھ اس خط کا رشتہ بھی اہم ہے۔ اعمال ۱۳ اور ۱۴ ہمیں گلتیہ کے شہروں میں پولس اور برنباس کی خدمت دکھاتے ہیں، اور اعمال ۱۵ ہمیں یروشلیم کی اُس مجلس تک لے جاتے ہیں جہاں یہی سوال رسولوں اور بزرگوں کے سامنے آیا کہ غیریہودی ایمان داروں پر شریعت کا بوجھ رکھا جائے یا نہ۔ گلتیوں کا خط ہمیں وہی بحث اندر سے، ایک شریک کے دل سے دکھاتا ہے۔

کلیسیا کی تاریخ میں اس خط کا اثر بے حد گہرا رہا ہے۔ سولہویں صدی میں جب نجات کے سوال پر یورپ لرز اٹھا، تو مارٹن لوتھر نے اسی خط کو اپنی سب سے عزیز کتاب کہا اور اس پر تفسیر لکھی۔ اصلاحی تحریک کا نعرہ، یعنی نجات صرف فضل سے، صرف ایمان سے، صرف مسیح کے وسیلے سے، بڑی حد تک انہی چھ بابوں سے نکلا۔ مگر یہ خط کسی ایک فرقے کی ملکیت نہیں۔ ہر دور میں، ہر ثقافت میں، انسان کا دل وہی کام کرتا ہے: وہ قبولیت کمانا چاہتا ہے۔ اس لیے گلتیوں کا خط ہر نسل کے لیے دوبارہ لکھا ہوا محسوس ہوتا ہے، اور ہماری اردو بولنے والی کلیسیا میں بھی، جہاں مذہبی ساکھ اور رسوم کا دباؤ ہر طرف موجود ہے، یہ خط کسی اجنبی زمانے کی بات نہیں کرتا۔

آئینہ

اب ذرا رکیے۔ یہ سوال آپ کے لیے ہے۔ آپ کے دل میں قبولیت کا حساب کس کھاتے میں لکھا جاتا ہے؟

اگر اتوار کو آپ نے عبادت میں دل لگا کر شرکت کی، دسواں حصہ بروقت دیا، دعا کا وقت پورا کیا، تو ہفتے کے باقی دن آپ خدا کے سامنے ہلکے پھلکے محسوس کرتے ہیں۔ اور اگر کوئی ہفتہ ایسا گزرے جس میں بائبل دھول میں پڑی رہی، غصہ بچوں پر نکل گیا، دفتر میں آپ نے چھوٹا سا جھوٹ بول دیا، تو آپ کو لگتا ہے کہ اب دعا کرنے کا حق باقی نہیں رہا۔ یہ گلتیہ ہے۔ آپ نے خوشخبری سے شروع کیا اور کارکردگی پر ختم کیا۔

یہ غلامی مختلف شکلوں میں آتی ہے۔ کسی کے لیے یہ خاندان کا دباؤ ہے: برادری میں عزت رہے، لوگ کیا کہیں گے، کلیسیا میں ساکھ قائم رہے۔ کسی کے لیے یہ آمدنی ہے: جب تک کمائی بڑھ رہی ہے، خدا راضی ہے۔ کسی کے لیے یہ اپنا جسم ہے: شکل، وزن، صحت، عمر، اور آئینے کے سامنے روز کا مقدمہ۔ کسی کے لیے یہ وقت ہے: ہر گھڑی کو "کارآمد" ثابت کرنا، ورنہ احساسِ جرم۔ اور کسی کے لیے یہ تنہائی ہے: یہ خاموش یقین کہ اگر میں کافی اچھا ہوتا تو کوئی میرے ساتھ ہوتا۔

گلتیوں کا خط آپ کے ہاتھ سے وہ حساب کی کتاب لینا چاہتا ہے۔ وہ نہیں کہتا کہ آپ کی نیکی بے کار ہے؛ وہ کہتا ہے کہ آپ کی نیکی آپ کی بنیاد نہیں بن سکتی، کیونکہ وہ کبھی اتنی مضبوط نہیں ہو گی کہ آپ کا بوجھ اٹھا سکے۔ آپ کی بنیاد پہلے ہی رکھی جا چکی ہے، اور وہ ایک شخص ہے جس نے آپ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو آپ کے لیے دے دیا۔

تو آج ایک سچ بولیے، اپنے آپ سے۔ وہ کون سی ایک شرط ہے جو آپ نے چپکے سے فضل کے ساتھ جوڑ رکھی ہے؟ اسے نام دیجیے۔ اور پھر اسے صلیب کے سامنے رکھ دیجیے۔ وہاں پہلے ہی ایک جوا ٹوٹ پڑا ہے؛ آپ کو اسے دوبارہ گردن پر رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو گلتیوں کا خط سمجھانے کا سب سے آسان راستہ ایک تحفے کی کہانی ہے۔ فرض کریں آپ کسی بچے کو سالگرہ پر ایک خوبصورت تحفہ دیں، اور وہ جیب سے دس روپے نکال کر کہے، "یہ لیجیے، اب میں نے اسے خرید لیا۔" آپ اداس ہو جائیں گے، اس لیے نہیں کہ اس کے دس روپے برے تھے، بلکہ اس لیے کہ اس نے محبت کے تحفے کو سودا بنا دیا۔ پولس اسی بات پر دکھی تھے۔ خدا نے خداوند یسوع مسیح کو محبت سے دیا، اور کچھ لوگ کہنے لگے کہ پہلے قیمت ادا کرو۔

اس کے ساتھ آزادی کی تصویر بھی بچوں کے دل کو چھوتی ہے۔ ایک پنجرے کا دروازہ کھل جائے، مگر پرندہ باہر نکل کر پھر اندر چلا جائے، تو ہمیں عجیب لگے گا۔ خداوند یسوع مسیح نے ہمارا پنجرہ کھول دیا ہے، اور وہ چاہتے ہیں کہ ہم اُن کے پیارے بچوں کی طرح کھلی ہوا میں جئیں۔ اور آزادی کا مطلب "جو جی چاہے کرو" نہیں، بلکہ "اب محبت سے جیو" ہے، جس کی نشانی روح کا پھل ہے: محبت، خوشی، اطمینان اور مہربانی۔

بچوں کی عمر کے مطابق زبان اور مثالیں بدلنی چاہیے۔ اسی لیے ہمارے ہاں اس موضوع پر الگ الگ عمر کے لیے خاص وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے ننھے بچوں کے لیے بہت سادہ کہانی اور تصویری زبان میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال جواب اور آیتوں کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے وہ گہرے سوال جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے مذہبی دباؤ، شناخت اور دوسروں کی نظروں کا خوف۔ انہیں ضرور دیکھیے اور اپنے گھر کی عبادت میں شامل کیجیے۔

گلتیوں کا خط پڑھنے کا عملی رہنما

یہ خط صرف چھ باب کا ہے، اس لیے پہلی تجویز یہ ہے کہ اسے ایک ہی نشست میں، اونچی آواز میں پڑھیے، جیسے کوئی خط پڑھا جاتا ہے۔ تقریباً پچیس منٹ لگیں گے۔ اس پہلی قرات میں کچھ لکھنے یا سمجھنے کی کوشش نہ کریں؛ صرف لہجہ سنیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ لکھنے والا کس درجہ بے چین ہے، اور یہ بے چینی آپ کو اس خط کے باقی مطالعے کے لیے تیار کر دے گی۔

اس کے بعد چار ہفتوں کا سفر مفید رہتا ہے۔ پہلے ہفتے باب ایک اور دو پڑھیے اور صرف ایک سوال کے ساتھ پڑھیے: پولس اپنی کہانی کیوں سنا رہے ہیں؟ گلتیوں 1:8 اور گلتیوں 2:16 پر ٹھہریے اور لکھیے کہ ان دو آیتوں کے مطابق "دوسری خوشخبری" کی پہچان کیا ہے۔ دوسرے ہفتے باب تین پر کام کیجیے۔ اس باب میں پولس کی دلیل کے قدم گنیے، اور خاص طور پر دیکھیے کہ وہ ابرہام، شریعت اور وعدے کو کس ترتیب میں رکھتے ہیں۔ گلتیوں 3:28 کو اپنی اپنی کلیسیا کے ماحول میں رکھ کر سوچیے کہ ہمارے درمیان کون سی دیواریں اب بھی کھڑی ہیں۔

تیسرے ہفتے باب چار پڑھیے، اور غلامی سے فرزندیت کی طرف سفر پر غور کیجیے۔ یہاں دعا میں "ابّا" کہنا سیکھیے، کیونکہ یہ باب آپ کو بتاتا ہے کہ یہ لفظ آپ کے منہ میں روح القدس نے رکھا ہے۔ چوتھے ہفتے باب پانچ اور چھ پر آئیے۔ گلتیوں 5:1 کو زبانی یاد کیجیے، اور گلتیوں 5:22 کے پھل کی ایک ایک خوبی لے کر اپنے گزرے ہفتے کا جائزہ لیجیے، یہ پوچھ کر کہ کہاں روح نے مجھ میں کام کیا اور کہاں میں نے اپنے زور پر زندگی چلانے کی کوشش کی۔ آخر میں گلتیوں 6:14 کو اپنی دعا بنا لیجیے۔

تین باتیں اس مطالعے کو زیادہ پھل دار بناتی ہیں۔ پہلی، اسے اکیلے نہ کریں۔ دو تین دوستوں یا گھر والوں کے ساتھ پڑھیں، کیونکہ شریعت پرستی اکیلے دل میں سب سے زیادہ پلتی ہے۔ دوسری، ساتھ میں اعمال ۱۳ سے ۱۵ باب پڑھ لیں تاکہ پس منظر روشن ہو جائے، اور بعد میں رومیوں ۳ اور ۴ باب، تاکہ وہی سچائی ٹھہراؤ کے ساتھ سامنے آئے۔ تیسری، ہر نشست کا اختتام شکرگزاری سے کریں۔ اس خط کا مقصد آپ کو بحث میں ماہر بنانا نہیں، بلکہ آپ کو آزاد کر کے مسیح کی محبت میں قائم کرنا ہے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

گلتیوں کا خط کس نے لکھا؟

یہ خط پولس رسول نے لکھا، اور وہ پہلی ہی آیت میں اپنا نام لیتے ہیں۔ یہ ان کے اُن خطوں میں شامل ہے جن کے مصنف پر کلیسیا میں عملاً کوئی اختلاف نہیں رہا، کیونکہ خط کا لہجہ، سوانحی تفصیلات اور الہٰیاتی زور پولس کے دیگر خطوں سے پوری طرح ملتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پولس آخری حصہ اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور بڑے حرفوں کا ذکر کرتے ہیں، جو غالباً دستخط کے طور پر یا پیغام پر زور دینے کے لیے تھا۔

گلتیوں کا خط کب لکھا گیا؟

اس پر دو محترم رائیں ہیں۔ اگر "گلتیہ" سے رومی صوبے کے جنوبی شہر مراد ہیں، جہاں پولس اور برنباس نے پہلے مشنری سفر میں خدمت کی، تو خط تقریباً ۴۸ یا ۴۹ء کا ہے، اور یوں یہ نئے عہدنامے کی سب سے پہلی لکھی گئی کتاب ہو سکتی ہے۔ اگر شمالی گلتیہ کے نسلی گلتی لوگ مراد ہیں تو تاریخ ۵۳ سے ۵۵ء کے درمیان بنتی ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں خط کا پیغام اور اس کی ضرورت بالکل ایک ہی رہتی ہے۔

گلتیہ کہاں تھا اور وہاں کے لوگ کون تھے؟

گلتیہ موجودہ ترکی کے وسطی علاقے میں تھا۔ اصل میں یہ نام اُن کیلٹی قبائل سے آیا جو یورپ سے ہجرت کر کے وہاں آباد ہوئے تھے، اور بعد میں روم نے ایک بڑے صوبے کو یہی نام دیا، جس میں انطاکیہِ پسدیہ، اِکُنیُم، لُسترا اور دِربے جیسے شہر شامل تھے۔ ان کلیسیاؤں میں زیادہ تر غیریہودی ایمان دار تھے، جن کے لیے موسیٰ کی شریعت ان کی اپنی وراثت نہیں تھی، اسی لیے ختنہ کا مطالبہ ان کے لیے ایک بھاری اور نیا بوجھ تھا۔

گلتیوں کے خط کا بنیادی پیغام کیا ہے؟

ایک جملے میں: انسان خدا کے سامنے اپنی مذہبی کارکردگی سے نہیں بلکہ یسوع مسیح پر ایمان سے راستباز ٹھہرتا ہے، اور اس خوشخبری میں کسی شرط کا اضافہ اسے تباہ کر دیتا ہے۔ گلتیوں 2:16 اس پیغام کا مرکز ہے۔ اس کے ساتھ خط ہمیں بتاتا ہے کہ یہ راستبازی غلامی سے فرزندیت کی طرف لے جاتی ہے، کہ روح القدس ہمارے اندر پھل لاتا ہے، اور کہ اس آزادی میں قائم رہنا ہمارا فرض ہے۔

"شریعت کے اعمال" سے پولس کی کیا مراد ہے؟

مراد وہ تمام کام ہیں جن کے ذریعے انسان موسیٰ کی شریعت کی پابندی کر کے خدا کے سامنے اپنا مقام ثابت کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر ختنہ، خوراک کے احکام اور مقدس دنوں کی پابندی، جو اُس وقت یہودی شناخت کی نشانیاں تھیں۔ پولس کا اعتراض ان کاموں کی اصل پر نہیں بلکہ ان پر بھروسے پر ہے۔ جب کوئی عمل خدا کی قبولیت کمانے کا ذریعہ بنا لیا جائے تو وہ فضل کا حریف بن جاتا ہے، چاہے وہ عمل بذاتِ خود اچھا ہو۔

کیا گلتیوں کا خط کہتا ہے کہ شریعت بری چیز ہے؟

نہیں۔ پولس شریعت کو خدا کی دی ہوئی، مقدس اور مقصد والی چیز مانتے ہیں۔ گلتیوں 3:24 میں وہ اسے ایسا اُستاد کہتے ہیں جو ہمیں مسیح تک پہنچاتا ہے؛ شریعت گناہ کو ظاہر کرتی ہے، ہماری بے بسی دکھاتی ہے، اور نجات دہندہ کی ضرورت پیدا کرتی ہے۔ مسئلہ شریعت کا غلط استعمال ہے، یعنی اسے نجات کی سیڑھی بنانا۔ مسیح میں ایمان دار شریعت کو سزا کے طور پر نہیں بلکہ خدا کی مرضی کی روشنی کے طور پر پڑھتا ہے۔

اگر نجات فضل سے ہے تو پھر نیک اعمال کی کیا ضرورت ہے؟

پولس خود اس سوال کا جواب دیتے ہیں اور بڑی سنجیدگی سے۔ آزادی کو جسم کے لیے موقع بنانا منع ہے، اور گلتیوں 5:22 میں روح کا پھل بتاتا ہے کہ نیا جنم ضرور نئی زندگی پیدا کرتا ہے۔ فرق نیت اور ترتیب کا ہے: ہم نیک کام خدا کی قبولیت کمانے کے لیے نہیں کرتے، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ ہم پہلے ہی قبول کیے جا چکے ہیں اور روح القدس ہمارے اندر کام کر رہا ہے۔ جڑ ایمان ہے، پھل اطاعت۔

گلتیوں 3:28 کا کیا مطلب ہے، کیا اب کوئی فرق باقی نہیں رہا؟

اس آیت کا موضوع نجات اور خاندانی حیثیت ہے۔ پولس اعلان کرتے ہیں کہ مسیح میں شامل ہونے اور خدا کے وعدوں کا وارث بننے میں نسل، معاشی حالت یا جنس کسی کو کم یا زیادہ نہیں بناتی؛ سب ایک ہی صلیب کے نیچے، ایک ہی ایمان سے، ایک ہی خاندان میں آتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ انسانی فرق مٹ گئے یا بے معنی ہو گئے، بلکہ یہ کہ وہ برتری، تفریق اور درجہ بندی کی بنیاد نہیں بن سکتے۔

پولس نے پطرس کی عوامی مخالفت کیوں کی؟

انطاکیہ میں پطرس غیریہودی ایمان داروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، مگر یروشلیم سے آنے والے کچھ لوگوں کے ڈر سے انہوں نے الگ ہونا شروع کر دیا۔ پولس کے نزدیک یہ محض سماجی احتیاط نہیں تھی بلکہ عمل سے یہ کہنا تھا کہ غیریہودی بھائی دوسرے درجے کے ہیں، جو خوشخبری کا انکار ہے۔ اسی لیے انہوں نے روبرو مخالفت کی۔ یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہماری عملی زندگی، خاص طور پر میز اور رفاقت کے فیصلے، ہماری الہٰیات کا اعلان ہوتے ہیں۔

گلتیوں اور رومیوں کے خط میں کیا فرق ہے؟

دونوں خطوں کا مرکزی موضوع ایک ہے، یعنی ایمان سے راستبازی، مگر انداز بہت مختلف ہے۔ گلتیوں کا خط ایک ہنگامی حالت میں، شدید جذبے کے ساتھ، ایک مخصوص بحران کے جواب میں لکھا گیا ہے اور اس میں شکرگزاری کا دیباچہ بھی نہیں۔ رومیوں کا خط اسی سچائی کو ترتیب، وسعت اور ٹھہراؤ کے ساتھ ایک ایسی کلیسیا کے لیے پیش کرتا ہے جہاں بحران نہیں تھا۔ ایک آگ بجھانے آیا ہے، دوسرا عمارت کا نقشہ دکھانے۔

کیا آج بھی "دوسری خوشخبری" کا خطرہ موجود ہے؟

بالکل، اور عموماً وہ ختنہ کے نام سے نہیں آتی۔ آج وہ اس شکل میں آتی ہے کہ خدا کی محبت آپ کی خدمت، آپ کے چندے، آپ کی مذہبی ساکھ، آپ کے جذباتی تجربے یا کسی خاص رسم کی پابندی پر منحصر ہے۔ گلتیوں 1:8 کا معیار آج بھی چلتا ہے: جو پیغام مسیح کے کام میں کچھ جمع کرے، وہ خوشخبری نہیں۔ جانچنے کا آسان سوال یہ ہے کہ اس تعلیم کے بعد میرا بھروسہ مسیح پر بڑھا یا اپنے آپ پر۔

روح کا پھل اور روح کی نعمتیں ایک ہی چیز ہیں؟

نہیں، یہ دو الگ باتیں ہیں۔ گلتیوں 5:22 میں روح کا پھل مسیحی کردار سے متعلق ہے، یعنی وہ خوبیاں جو ہر ایمان دار میں بڑھنی چاہیے، اور قابل غور ہے کہ پولس یہاں واحد لفظ "پھل" استعمال کرتے ہیں، گویا ایک ہی گچھا ہے۔ روحانی نعمتیں، جن کا ذکر پہلا کرنتھیوں ۱۲ میں ہے، خدمت کے لیے دی جاتی ہیں اور مختلف لوگوں کو مختلف ملتی ہیں۔ نعمتیں کسی کی روحانی پختگی کا پیمانہ نہیں؛ پھل ہے۔

گلتیوں کا خط پہلی بار پڑھنے والے کے لیے کوئی مشورہ؟

اسے ایک ہی نشست میں، اونچی آواز میں، ایک خط کی طرح پڑھیے، اور پہلی بار نوٹس لینے کی کوشش نہ کریں۔ پھر دوبارہ پڑھتے ہوئے تین حصے الگ کریں: پولس کی گواہی باب ایک اور دو میں، دلیل باب تین اور چار میں، اور عملی زندگی باب پانچ اور چھ میں۔ ساتھ میں اعمال کے تیرہویں سے پندرھویں باب پڑھ لیں تاکہ پس منظر واضح ہو، اور گلتیوں 5:1 زبانی یاد کر لیں۔

اختتام میں

گلتیوں کا خط ہمیں ایک ایسے چرواہے کے پاس لے جاتا ہے جو اپنی کلیسیا کو ڈوبتے دیکھ کر چپ نہیں رہ سکا۔ اور اس کا درد ہمیں ایک سبق دیتا ہے جو نسل در نسل دہرانے کے قابل ہے: غلامی کبھی زنجیر دکھا کر نہیں آتی۔ وہ عبادت کے لباس میں، تقویٰ کی زبان میں، "مزید مخلص بننے" کی پیشکش کے ساتھ آتی ہے، اور اس لیے خطرناک ہوتی ہے۔ اسی لیے پولس کا حکم دو حصوں میں ہے: قائم رہو، اور واپس نہ جاؤ۔

اگر اس صفحے سے آپ ایک بات لے جائیں تو وہ یہ ہو: آپ کی قبولیت کا فیصلہ ہو چکا ہے، اور وہ فیصلہ آپ کے اچھے یا برے ہفتوں سے نہیں بدلتا، کیونکہ وہ مسیح کے مکمل کام پر کھڑا ہے۔ آپ خدا کے گود لیے ہوئے بیٹے اور بیٹیاں ہیں، اور آپ کے منہ میں "ابّا" کا لفظ خود روح القدس نے رکھا ہے۔

اب اگلا قدم اٹھائیے۔ خط کو خود کھولیے، چار ہفتوں کا رہنما استعمال کیجیے، اور رومیوں ۳ اور ۴ باب کے ساتھ اسے ملا کر پڑھیے۔ اور جب بھی آپ کا دل پھر حساب کتاب شروع کرے، گلتیوں 2:20 پر واپس آ جائیے، اور اس ایک جملے پر ٹھہر جائیے جس نے پولس کو بدل دیا: اُس نے مجھ سے محبت رکھی اور اپنے آپ کو میرے لیے دے دیا۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 5.946 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.418
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 173 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو نحمیاہ 1:1

مَیں سوسن کے قلعے میں تھا۔“ نحمیاہ آرام میں تھا، بادشاہ کے محل میں، یروشلم کے کھنڈروں سے بہت دُور۔…

بصیرت ادارتی کو میکاہ 4:2

میکاہ 3 کے آخر میں صیون کھیت کی طرح ہل چلائی جاتی ہے، اور فوراً بعد وہی اُجڑی پہاڑی قوموں…

دعا ادارتی کو حزقی ایل 47:21

اے خدا، تُو ہی ہے جو اپنے لوگوں کو جگہ اور حصہ دیتا ہے۔ جب مجھے لگتا ہے کہ میرا…

بصیرت ادارتی کو اعمال 20:17

پولس یروشلم پہنچنے کی جلدی میں تھا، اِفسس سے گزرنا اُس کا وقت کھا جاتا۔ پھر بھی وہ رُک گیا:…

شکرگزاری ادارتی کو اِفسِیوں 4:23

خداوند، شکر ہے کہ تُو میری سوچ کو وہیں نہیں چھوڑتا جہاں وہ تھی۔ تیرا کلام کہتا ہے کہ میری…

بصیرت ادارتی کو ملاکی 2:2

کاہن قربانیاں چڑھاتے رہے، دعائیں پڑھتے رہے، سب کچھ ترتیب سے تھا۔ پھر بھی رب فرماتا ہے، ”کیونکہ تم دل…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟