واعظ کی کتاب کا تعارف: زندگی کا مقصد کیا ہے؟
تعارف
ایک آدمی پچپن سال کی عمر میں اپنے دفتر کی کرسی پر بیٹھا ہے۔ باہر شہر کی بتیاں جل رہی ہیں۔ اُس نے سب کچھ حاصل کر لیا ہے: کاروبار، مکان، بچوں کی تعلیم، لوگوں کی عزت۔ اور پھر بھی، رات کے سناٹے میں، اُس کے دل میں ایک عجیب سا سوال اُٹھتا ہے: "یہ سب کس لیے تھا؟" وہ اِس سوال سے شرمندہ ہے، کیونکہ اُسے سکھایا گیا تھا کہ ایماندار لوگ ایسے سوال نہیں پوچھتے۔
مگر بائبل مقدّس میں ایک پوری کتاب ہے جو بالکل یہی سوال پوچھتی ہے، اور خدا نے اُسے اپنے کلام میں شامل ہونے دیا۔ اِس صفحے پر ہم واعظ کی کتاب کو کھولیں گے: کس نے لکھی، کب لکھی، کیسے ترتیب دی گئی، اور کیوں یہ مایوسی کی کتاب نہیں بلکہ اُن تھکے ہوئے دلوں کے لیے آزادی کا پیغام ہے جو زندگی کو مٹھی میں بند کرنے کی کوشش میں ہلکان ہو چکے ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
عام طور پر واعظ کی کتاب کو "بے معنی زندگی کی کتاب" کہہ کر پڑھا جاتا ہے۔ ہم اِس صفحے پر ایک اَور راستے سے چلیں گے۔ جس عبرانی لفظ کا ترجمہ "باطل" ہوا ہے، اُس کی اصل تصویر بھاپ، دھواں یا صبح کی دھند ہے: وہ چیز جو نظر آتی ہے مگر مٹھی میں نہیں آتی۔ واعظ یہ نہیں کہہ رہا کہ زندگی بے قیمت ہے؛ وہ کہہ رہا ہے کہ زندگی ناقابلِ گرفت ہے۔ اِس لیے یہ کتاب ہمیں زندگی پر قابو پانے کی کوشش سے ہاتھ اُٹھانا سکھاتی ہے، تاکہ ہم اُسے خدا کے ہاتھ سے تحفہ کی طرح لینا سیکھیں۔ یہی زاویہ پورے صفحے پر ساتھ چلے گا۔
بائبل واعظ کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
کتاب اپنا تعارف خود کراتی ہے: "واعظ بن داؤد کی باتیں جو یروشلیم کا بادشاہ تھا۔" لفظ "واعظ" عبرانی میں "قوہلت" ہے، یعنی وہ شخص جو جماعت کو اکٹھا کر کے اُس کے سامنے بات کرتا ہے۔ یہ نام ہی بتا دیتا ہے کہ ہم کسی تنہا فلسفی کی ڈائری نہیں پڑھ رہے، بلکہ ایک اُستاد کے سامنے بیٹھے ہیں جو خدا کی جماعت کو حقیقت دکھانا چاہتا ہے۔
روایتی طور پر کلیسیا نے اِسے سلیمان بادشاہ سے منسوب کیا ہے، اور اِس کی وجہ صاف ہے: داؤد کا بیٹا، یروشلیم کا بادشاہ، بے مثال حکمت، بے حساب دولت، عمارتیں، باغ، گلوکار، خزانے۔ باب ایک اور دو میں جو "تجربہ" بیان ہوا ہے، وہ کسی عام آدمی کے بس میں نہیں تھا۔ دوسری طرف بعض علما زبان کے اندازِ بیان اور بعض بعد کے الفاظ کی بنیاد پر یہ رائے رکھتے ہیں کہ کتاب کی موجودہ شکل جلاوطنی کے بعد کے زمانے میں، سلیمان کی آواز اور اُس کے تجربے کی روشنی میں مرتب ہوئی۔ ایمان کے لیے فیصلہ کن بات یہ ہے کہ خدا کے روح نے اِس آواز کو اپنے کلام میں محفوظ رکھا ہے، اور کتاب کے آخر میں ایک دوسری آواز اُس پر مہر لگاتی ہے۔
کتاب کا مرکزی اعلان پہلے ہی جملے میں آ جاتا ہے: "باطل ہی باطل واعظ کہتا ہے باطل ہی باطل۔ سب کچھ باطل ہے" (واعظ 1:2)۔ اگر "باطل" کو صرف "بے معنی" پڑھا جائے تو کتاب ایک اندھیری سرنگ بن جاتی ہے۔ مگر جب ہم اِسے "بھاپ" پڑھتے ہیں تو تصویر بدل جاتی ہے: صبح کی دھند خوبصورت ہوتی ہے، حقیقی ہوتی ہے، مگر آپ اُسے تھیلے میں بند نہیں کر سکتے۔ واعظ اِسی بات کا رونا رو رہا ہے کہ "سورج کے نیچے" ہر چیز ہمارے ہاتھ سے پھسل جاتی ہے۔
دوسرے باب میں وہ اپنا پورا حسابِ زندگی کھول کر ہمارے سامنے رکھ دیتا ہے: "تب میں نے اُن سب کاموں پر جو میرے ہاتھوں نے کیے تھے اور اُس ساری مشقت پر جو میں نے کی تھی نظر کی اور دیکھا کہ سب کچھ باطل اور ہوا کی چران ہے اور دنیا میں کچھ فائدہ نہیں" (واعظ 2:11)۔ غور کریں کہ یہ کسی ناکام آدمی کی شکایت نہیں؛ یہ اُس شخص کا اعتراف ہے جس کے سب منصوبے پورے ہوئے۔ کامیابی نے اُسے مطمئن نہیں کیا، بلکہ اُس کے اندر کا خلا زیادہ روشن کر دیا۔
اور یہیں سے کتاب اپنا دوسرا رُخ کھولتی ہے۔ واعظ زندگی سے بھاگنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ وہ بار بار کہتا ہے کہ روٹی کھاؤ، اپنی مے پیو، اپنی محنت میں خوش رہو، اپنی بیوی کے ساتھ زندگی بسر کرو، کیونکہ یہ سب خدا کی بخشش ہے۔ "جا اپنی روٹی خوشی سے کھا" (واعظ 9:7) اُسی قلم سے نکلا ہے جس نے "سب کچھ باطل ہے" لکھا تھا۔ یہ تضاد نہیں، یہ ترتیب ہے: جب میں مالک بننا چھوڑ دیتا ہوں، تب مہمان بن کر میز پر بیٹھنا سیکھتا ہوں۔
جو مٹھی زندگی کو جکڑتی ہے، وہ تحفہ نہیں لے سکتی۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
واعظ کی کتاب آسمان سے اکیلی نہیں گری۔ وہ پیدائش کی کتاب کے تین ابواب کی گونج ہے۔ خدا نے ایک اچھی دنیا بنائی، انسان کو کام اور باغ دیا، مگر گناہ کے بعد زمین پر کانٹے اُگ آئے اور محنت میں پسینہ شامل ہو گیا۔ واعظ اُسی گرے ہوئے عالم کا ایماندار مؤرخ ہے۔ دلچسپ بات ہے کہ حوّا کے دوسرے بیٹے کا نام "ہابل" اُسی جڑ سے نکلا ہے جس سے "باطل": ایک زندگی جو سانس کی طرح آئی اور چلی گئی۔
حکمت کی کتابوں میں واعظ کا مقام بہت خاص ہے۔ امثال ہمیں زندگی کی ترتیب سکھاتی ہے: بویا ہوا کاٹا جاتا ہے، محنت برکت لاتی ہے، حکمت سے گھر بنتا ہے۔ ایوب کی کتاب اُس ترتیب کے استثنا پر روتی ہے: راستباز آدمی کیوں دُکھ اُٹھاتا ہے؟ اور واعظ اُس کمرے میں داخل ہوتا ہے جہاں حکمت خود اپنی حد پر آ کر رُک جاتی ہے، کیونکہ حکیم اور احمق دونوں ایک ہی قبرستان میں دفن ہوتے ہیں۔ یہ تین کتابیں مل کر ہمیں مغرور بھی نہیں رہنے دیتیں اور مایوس بھی نہیں ہونے دیتیں۔
یہودی روایت میں واعظ کی کتاب عیدِ خیام کے موقع پر پڑھی جاتی رہی، یعنی خوشی اور فصل کی اُس عید پر جب لوگ جھونپڑیوں میں رہتے تھے۔ یہ اتفاق نہیں: عارضی جھونپڑی میں بیٹھ کر فصل کی برکت پر شکر کرنا واعظ کے پیغام کا عملی نمونہ ہے۔ پکی دیواروں کے دھوکے سے نکل کر خدا کے ہاتھ سے روٹی لینا۔
نئے عہد نامے میں یہ سلسلہ خداوند یسوع مسیح تک پہنچتا ہے۔ وہ اُس دولتمند کی تمثیل سناتے ہیں جو کوٹھیاں بھرتا ہے اور اُسی رات اُس کی جان طلب کر لی جاتی ہے؛ یہ واعظ کے دوسرے باب کا زندہ خاکہ ہے۔ وہ پوچھتے ہیں کہ اگر آدمی ساری دنیا حاصل کر کے اپنی جان کا نقصان اُٹھائے تو کیا فائدہ؟ یہ وہی "کیا فائدہ؟" ہے جو واعظ سورج کے نیچے دہراتا رہا۔ پولس رسول رومیوں 8:20 میں لکھتا ہے کہ ساری مخلوقات اپنی خوشی سے نہیں بلکہ خدا کے فیصلے سے بطالت کے اختیار میں کر دی گئی، مگر اُمید پر، اور وہ اُس دن کا انتظار کرتی ہے جب وہ فسادِ خرابی سے آزاد ہو گی۔
اور پھر جواب آتا ہے، قبر کے اندر سے۔ مسیح کے جی اُٹھنے کے بعد پولس لکھتا ہے: "تمہاری محنت خداوند میں بےفائدہ نہیں ہے" (1 کرنتھیوں 15:58)۔ سورج کے نیچے سب بھاپ ہے؛ مگر جی اُٹھے ہوئے خداوند میں محنت بھاپ نہیں رہتی۔ یہی واعظ کی پکار کا آخری جواب ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
کتاب ایک خوبصورت چوکھٹے میں بندھی ہوئی ہے۔ شروع میں (واعظ 1:1-11) اور آخر میں (واعظ 12:9-14) ایک تیسری آواز بولتی ہے، جو "واعظ" کے بارے میں بتاتی ہے: اُس نے کیا کیا، کیسے سکھایا، اور اُس کی تعلیم کا نچوڑ کیا ہے۔ درمیان میں خود واعظ اپنی زبان میں بات کرتا ہے۔ اِس بنا پر کتاب کو یوں پڑھنا چاہیے: ایک اُستاد اپنے شاگرد کو ایک گہری، بےرحم ایماندار تلاش کی روداد سناتا ہے، اور آخر میں اُس کے ہاتھ میں لنگر تھما دیتا ہے۔
پہلا حصہ (باب ایک اور دو) شاہی تجربہ ہے۔ واعظ حکمت، عیش، شراب، تعمیرات، موسیقی، دولت اور شہرت کو یکے بعد دیگرے جانچتا ہے، جیسے کوئی سائنسدان تجربہ گاہ میں نمونے آزماتا ہے۔ ہر نتیجے پر وہی مہر لگتی ہے: ہاتھ خالی۔
دوسرا حصہ (باب تین سے پانچ) وقت، ناانصافی اور عبادت کے بارے میں ہے۔ یہیں وہ مشہور نظم آتی ہے: "ہر چیز کا ایک موسم ہے اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے" (واعظ 3:1)۔ یہ آیت تقدیر کا اعلان نہیں بلکہ ایک نرم یاد دہانی ہے کہ وقتوں کا مالک کوئی اَور ہے۔ اِسی باب میں کتاب کا سب سے روشن جملہ آتا ہے: "اُس نے ہر ایک چیز کو اُس کے وقت میں خوب بنایا اور اُس نے ابدیت کا خیال بھی انسان کے دل میں ڈالا ہے" (واعظ 3:11)۔ ہمارے بےچین ہونے کی وجہ یہ نہیں کہ ہم خراب ہیں، بلکہ یہ کہ ہمارے اندر ایک کمرہ ابدیت کے ناپ کا بنا ہوا ہے، اور دنیا کا کوئی سامان اُس کمرے میں پورا نہیں آتا۔
تیسرا حصہ (باب چھ سے آٹھ) حکمت کی حدود پر ہے: نیک لوگوں کے ساتھ بُرا ہوتا ہے، حکیم بھی کل کا نہیں جانتا، اور توازن یہیں سکھایا جاتا ہے: "خوشحالی کے دن خوش ہو اور مصیبت کے دن سوچ" (واعظ 7:14)۔
چوتھا حصہ (باب نو سے گیارہ) موت کی حقیقت کے سائے میں جینے کا فن سکھاتا ہے: بیج بو، ہاتھ نہ روک، خوش رہ، بانٹ، کیونکہ تُو نہیں جانتا کہ کون سا کام برکت لائے گا۔
پھر کتاب اپنی آخری نظم پر پہنچتی ہے (واعظ 12:1-8)، جہاں بڑھاپا ایک ٹوٹتے ہوئے گھر کی تصویر میں دکھایا گیا ہے: کھڑکیوں کی روشنی مدھم، چکی کی آواز کم، ہاتھ کانپتے ہوئے۔ اور آخر میں چوکھٹا بند ہوتا ہے، خدا کے خوف اور اُس کے حکموں پر۔
بنیادی موضوعات یہی چار ہیں: زندگی کی ناقابلِ گرفت نوعیت، موت کی برابری، خدا کے وقتوں کی حاکمیت، اور روزمرہ کی سادہ خوشی جو بخشش کے طور پر قبول کی جاتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
پہلی آیت جس پر پوری کتاب ٹکی ہے: "باطل ہی باطل واعظ کہتا ہے باطل ہی باطل۔ سب کچھ باطل ہے" (واعظ 1:2)۔ عبرانی میں یہ جملہ اپنے لفظ کو پانچ بار دہراتا ہے، جیسے کوئی طبیب مریض کے سامنے تشخیص کو ہجے کر کے پڑھ رہا ہو۔ اور یاد رکھیں: یہ لفظ "کچرا" نہیں، "بھاپ" ہے۔ واعظ آپ کی زندگی کو بےقیمت نہیں کہہ رہا؛ وہ آپ کی مٹھی سے وہ چیز چھڑا رہا ہے جسے آپ عمر بھر پکڑنے کی کوشش کرتے رہے۔ جب ہم یہ تشخیص قبول کر لیتے ہیں، تو دوا کڑوی نہیں لگتی۔
دوسری آیت جو ہمیں سانس دیتی ہے: "اُس نے ہر ایک چیز کو اُس کے وقت میں خوب بنایا اور اُس نے ابدیت کا خیال بھی انسان کے دل میں ڈالا ہے" (واعظ 3:11)۔ یہاں دو سچائیاں ایک ساتھ رکھی گئی ہیں۔ پہلی، خدا کے کام بےترتیب نہیں؛ ہر چیز اپنے وقت میں خوب ہے، چاہے ہمیں اُس کا وقت نظر نہ آئے۔ دوسری، انسان کے سینے میں ابدیت کی پیاس رکھی گئی ہے، مگر ساتھ ہی خدا کی کارگری کی پوری تصویر ہماری سمجھ سے باہر رکھی گئی ہے۔ یعنی ہم ایسے مخلوق ہیں جو ابدیت کے لیے بنے ہیں مگر ابدیت کو ناپ نہیں سکتے۔ یہی ہماری بےچینی کی جڑ ہے، اور یہی ایمان کی دعوت۔
اور تیسری آیت، جہاں پوری کتاب لنگر ڈالتی ہے: "غرض سب کچھ سنایا گیا۔ حاصلِ کلام یہ ہے۔ خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان کیونکہ انسان کا فرضِ کلی یہی ہے" (واعظ 12:13)۔ بارہ باب کی ساری تلاش کے بعد نتیجہ کوئی پیچیدہ فلسفہ نہیں بلکہ دو سادہ فعل ہیں: ڈرنا اور ماننا۔ "ڈر" یہاں خوف زدہ ہونا نہیں، بلکہ اُس ادب اور محبت کے ساتھ جینا ہے جو مخلوق اپنے خالق کے سامنے محسوس کرتی ہے۔ جب زندگی ہاتھ سے پھسلتی ہے تو ہمیں پکڑنے کے لیے کوئی چیز نہیں، بلکہ کوئی ہستی دی گئی ہے۔
آئینہ
آپ کے موبائل میں ایک ایسی ایپ ہے جو بتاتی ہے کہ آپ نے اِس مہینے کتنا کمایا، کتنے قدم چلے، کتنے کام مکمل کیے۔ سچ بتائیں، کیا آپ اُن اعداد سے اپنی قیمت ناپتے ہیں؟ واعظ آپ کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہتا ہے کہ اُس نے یہ سب بہت بڑے پیمانے پر آزما لیا ہے، اور حساب کے آخر میں خانہ خالی نکلا۔
ہو سکتا ہے آپ دن رات اِس اُمید پر محنت کر رہے ہوں کہ ایک دن سب ٹھیک ہو جائے گا: تب سکون آئے گا، تب رشتے سنبھل جائیں گے، تب دل بھر جائے گا۔ واعظ آپ سے وہ محنت نہیں چھیننا چاہتا، مگر وہ اُس جھوٹے وعدے کو آپ کی مٹھی سے نکالنا چاہتا ہے۔ اور اگر آپ گھر پر بیمار ماں کی خدمت کر رہے ہیں، یا بےروزگاری کے مہینے گن رہے ہیں، یا اکیلے کمرے میں شام گزار رہے ہیں، تو یہ کتاب آپ کو جھوٹی تسلی نہیں دے گی۔ وہ آپ کے ساتھ بیٹھ کر کہے گی کہ ہاں، یہ دن واقعی بھاری ہیں۔
"خوشحالی کے دن خوش ہو اور مصیبت کے دن سوچ" (واعظ 7:14)۔ یہ ایک سخت مگر شفا بخش نسخہ ہے۔ اچھے دن کو جھجکتے ہوئے نہ جیو، جیسے خوشی کوئی گناہ ہے؛ اور بُرے دن کو صرف برداشت نہ کرو، اُس میں سوچو، کیونکہ دونوں ایک ہی ہاتھ سے آتے ہیں۔
اور ایک سوال، جو آپ کو آج رات تنگ کرے: اگر کل آپ کی ساری دولت، ساری صحت اور ساری عزت اُٹھا لی جائے، تو کیا آپ کے پاس کوئی ایسی چیز باقی رہے گی جو آپ کو خوش کر سکے؟ اگر جواب نہیں ہے، تو واعظ کی کتاب آپ کی دشمن نہیں، آپ کی دوست ہے۔ وہ آپ سے آپ کا سب کچھ چھین کر آپ کو خدا کے ہاتھ میں رکھ دینا چاہتی ہے، جہاں چیزیں پھسلتی نہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو واعظ کی کتاب سمجھانے کے لیے مشکل الفاظ کی ضرورت نہیں، بس ایک سادہ تصویر کی۔ سردی کی صبح شیشے پر جمی بھاپ پر بچے اپنی اُنگلی سے نام لکھتے ہیں، اور کچھ دیر بعد وہ نام غائب ہو جاتا ہے۔ ایک صابن کا بلبلا ہوا میں تیرتا ہے، بہت خوبصورت، مگر ہاتھ لگاؤ تو ختم۔ یہی واعظ کی کتاب کا لفظ "باطل" ہے۔ بچوں کو یہ بتانا ہے کہ ہمارے کھلونے، ہماری تعریفیں اور ہماری جیت سب خوبصورت ہیں، مگر ٹھہرتی نہیں؛ اور خدا ہمیشہ رہتا ہے۔
پھر اُنہیں وہ آیت سکھائیں جو خاص طور پر نوجوانوں کے لیے لکھی گئی ہے: "اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر" (واعظ 12:1)۔ یہ ڈرانے والی بات نہیں بلکہ ایک خوشخبری ہے: خدا کو جاننے کے لیے بوڑھا ہونے کا انتظار نہیں کرنا پڑتا۔ بچہ آج، اِسی عمر میں، اپنے خالق کا دوست بن سکتا ہے۔ ساتھ ہی اُنہیں سکھائیں کہ خوشی سے روٹی کھانا، ہنسنا، اور کھیلنا خدا کے تحفے ہیں، کوئی فضول کام نہیں۔
ہر عمر کو مختلف زبان چاہیے۔ چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے تصویروں اور کھیل کے ذریعے وضاحت بہتر کام کرتی ہے؛ اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے کہانی اور سوال جواب؛ اور نوعمروں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے وہ گہری گفتگو جس میں ناانصافی، موت، شناخت اور سوشل میڈیا کا دباؤ سب کھل کر زیرِ بحث آئے، کیونکہ واعظ کی کتاب نوجوانوں کے اُن ہی سوالوں سے ڈرتی نہیں۔ اِن تینوں عمروں کے لیے الگ الگ تیار کردہ وضاحتیں ہماری ویب سائٹ پر موجود ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
واعظ کی کتاب کا مصنف کون ہے؟
کتاب کا پہلا جملہ اِسے "واعظ بن داؤد" سے منسوب کرتا ہے جو یروشلیم کا بادشاہ تھا، اور اِسی بنا پر یہودی اور مسیحی روایت نے عموماً سلیمان بادشاہ کو مصنف مانا ہے، کیونکہ باب ایک اور دو میں بیان کردہ حکمت، دولت اور تعمیرات سلیمان ہی کے بس میں تھیں۔ بعض علما زبان کے اندازِ بیان کی بنیاد پر سمجھتے ہیں کہ کتاب کی موجودہ ترتیب بعد کے زمانے میں سلیمان کی آواز کے تحت مرتب ہوئی۔ ایمان کے لیے فیصلہ کن بات یہ ہے کہ یہ کتاب خدا کے الہامی کلام کا حصہ ہے۔
واعظ کی کتاب کب لکھی گئی؟
اگر سلیمان کو مصنف مانا جائے تو کتاب کا زمانہ تقریباً دسویں صدی قبلِ مسیح ہے، یعنی اسرائیل کی سب سے زیادہ خوشحالی کا دور، جو معنی رکھتا ہے کیونکہ یہ کتاب غربت سے نہیں بلکہ دولت کی خالی پن سے پیدا ہوئی ہے۔ دوسری رائے یہ ہے کہ کتاب جلاوطنی کے بعد، تقریباً پانچویں سے تیسری صدی قبلِ مسیح کے درمیان، اپنی موجودہ صورت میں سامنے آئی۔ دونوں صورتوں میں کتاب کا پیغام ایک ہی رہتا ہے اور اُس کا اختیار کم نہیں ہوتا۔
"باطل" کا اصل مطلب کیا ہے؟
عبرانی لفظ "ہَبِل" ہے، جس کا لفظی مفہوم بھاپ، دھواں یا سانس ہے۔ یہ کسی چیز کے بےقیمت ہونے کا اعلان نہیں بلکہ اُس کے عارضی اور ناقابلِ گرفت ہونے کی تصویر ہے۔ جیسے صبح کی دھند نظر آتی ہے مگر مٹھی میں نہیں آتی، ویسے ہی سورج کے نیچے کی کامیابیاں، خوشیاں اور منصوبے ہمارے ہاتھ سے پھسلتے رہتے ہیں۔ اِسی لیے واعظ کا نتیجہ خودکشی نہیں بلکہ شکرگزاری ہے: جو خدا آج دے، اُسے خوشی سے لے لو۔
کیا واعظ کی کتاب مایوسی سکھاتی ہے؟
نہیں۔ کتاب مایوسی کو بیان کرتی ہے مگر اُس پر ختم نہیں ہوتی۔ وہی مصنف جو "سب کچھ باطل ہے" کہتا ہے، سات مرتبہ یہ بھی کہتا ہے کہ روٹی کھاؤ، پیو، اپنی محنت میں خوش رہو، کیونکہ یہ خدا کی بخشش ہے۔ فرق یہ ہے کہ وہ خوشی کی بنیاد حالات یا حاصلات پر نہیں بلکہ خدا کے ہاتھ پر رکھتا ہے۔ ایسی خوشی حالات کے ساتھ گرتی نہیں، اِس لیے یہ کتاب دراصل مایوسی کا علاج ہے۔
واعظ 3:1 کا مطلب کیا ہے کہ ہر چیز کا ایک موسم ہے؟
"ہر چیز کا ایک موسم ہے اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے" (واعظ 3:1) اِس سچائی کا اعلان ہے کہ زندگی کے موسم ہمارے قبضے میں نہیں۔ پیدا ہونے اور مرنے، بونے اور کاٹنے، رونے اور ہنسنے کے اپنے اپنے وقت ہیں، اور اِن وقتوں کا مالک خدا ہے۔ یہ آیت بےعملی کی دعوت نہیں دیتی بلکہ اُس جھوٹی خودمختاری سے آزاد کرتی ہے جو سمجھتی ہے کہ ہم اپنی زندگی کا موسم خود بنا سکتے ہیں۔
واعظ 3:11 میں "ابدیت کا خیال" سے کیا مراد ہے؟
مراد یہ ہے کہ خدا نے انسان کے دل میں ایک ایسی پیاس رکھی ہے جو صرف وقتی چیزوں سے نہیں بجھتی۔ ہم ماضی اور مستقبل کے بارے میں سوچ سکتے ہیں، ہمیشہ کے بارے میں سوال کر سکتے ہیں، اور موت پر آنسو بہا سکتے ہیں، کیونکہ ہم ابدیت کے لیے بنائے گئے ہیں۔ مگر اِسی آیت میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ خدا کے کام کی پوری تصویر ہماری سمجھ سے باہر ہے۔ یہی امتزاج ہمیں ایمان اور عاجزی کی طرف لے جاتا ہے۔
واعظ 7:14 اچھے اور برے دنوں کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟
یہ آیت کہتی ہے کہ خوشحالی کے دن خوش ہونا چاہیے اور مصیبت کے دن سوچنا چاہیے، کیونکہ خدا نے ایک کو دوسرے کے مقابل بنایا ہے۔ یعنی اچھے دن خدا کی بخشش کو شکرگزاری سے قبول کرنے کا وقت ہیں، اور بُرے دن اُس سے سیکھنے اور اپنے دل کو جانچنے کا۔ ساتھ ہی آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم کل کا حال نہیں جان سکتے، اِس لیے کسی دن کو بھی ہم پورے یقین کے ساتھ اپنے قابو میں نہیں کہہ سکتے۔
واعظ 12:1 نوجوانوں سے کیا کہتی ہے؟
"اپنی جوانی کے دنوں میں اپنے خالق کو یاد کر" (واعظ 12:1) ایک محبت بھری فوری دعوت ہے۔ "یاد کرنا" یہاں محض سوچنا نہیں بلکہ خدا کو اپنی زندگی کے مرکز میں رکھ کر جینا ہے۔ کتاب کہتی ہے کہ بُرے دن اور کمزوری کے سال آنے والے ہیں، اِس لیے طاقت اور تازگی کے دنوں کو ضائع نہ کرو۔ ایمان کو بڑھاپے کے لیے بچا کر رکھنا حکمت نہیں، بلکہ سب سے بڑا نقصان ہے۔
واعظ 12:13 کو کتاب کا نچوڑ کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ یہیں مصنف تمام تلاش کو سمیٹ کر ایک جملے میں رکھ دیتا ہے: خدا سے ڈر اور اُس کے حکموں کو مان، کیونکہ انسان کا فرضِ کلی یہی ہے (واعظ 12:13)۔ بارہ باب کی بےچینی، سوالات اور تلخ نتائج کے بعد کتاب کسی پیچیدہ فلسفے پر نہیں بلکہ ایک سادہ رشتے پر ٹھہرتی ہے۔ جب ہم زندگی کو مٹھی میں بند نہیں کر سکتے، تو ہمیں پکڑنے کے لیے کوئی چیز نہیں بلکہ خالق خود دیا گیا ہے۔
کیا واعظ کی کتاب مسیح کی طرف اشارہ کرتی ہے؟
ہاں، مگر پیشین گوئی سے زیادہ پیاس پیدا کر کے۔ واعظ بار بار "کیا فائدہ؟" پوچھتا ہے اور موت کی دیوار کے سامنے رُک جاتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح اُسی دیوار کو توڑ کر قبر سے جی اُٹھے، اور اِسی لیے پولس رسول لکھ سکا کہ "تمہاری محنت خداوند میں بےفائدہ نہیں ہے" (1 کرنتھیوں 15:58)۔ واعظ کی کتاب سوال کو اُس کی پوری شدت کے ساتھ ہمارے سامنے رکھتی ہے، تاکہ جب انجیل آئے تو ہم اُسے صرف معلومات نہ سمجھیں بلکہ نجات۔
واعظ کی کتاب اور امثال کی کتاب میں کیا فرق ہے؟
امثال زندگی کی عام ترتیب سکھاتی ہے: حکمت پر چلو تو زندگی سنور جاتی ہے، محنت برکت لاتی ہے، سستی نقصان دیتی ہے۔ واعظ اُسی حکمت کو ہاتھ میں لے کر اُس کی حدیں دکھاتی ہے: نیک آدمی کے ساتھ بھی بُرا ہو سکتا ہے، حکیم بھی موت سے نہیں بچتا، اور محنت کا پھل کبھی نااہل ہاتھوں میں چلا جاتا ہے۔ دونوں کتابیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ ایک دوسرے کی تصحیح ہیں، اور ایمان کو غرور اور مایوسی دونوں سے بچاتی ہیں۔
واعظ کی کتاب کو پہلی بار کیسے پڑھنا چاہیے؟
بہتر ہے کہ اِسے ٹکڑوں میں نہ پڑھیں بلکہ ایک ہی نشست میں، کسی خط کی طرح، شروع سے آخر تک پڑھ جائیں، کیونکہ اِس کتاب کا اثر اُس کے سفر میں ہے، اُس کی الگ الگ آیات میں نہیں۔ پہلی بار پڑھتے ہوئے اُس آخری چوکھٹے کو ذہن میں رکھیں یعنی باب بارہ کے آخری جملے، تاکہ درمیان کی تلخی آپ کو ڈرا نہ دے۔ دوسری بار پڑھتے وقت ہر اُس جگہ نشان لگائیں جہاں خوشی، روٹی، محنت اور بخشش کا ذکر آتا ہے۔
مطالعے کی عملی رہنمائی
واعظ کی کتاب پڑھنے کا سب سے مفید طریقہ یہ ہے کہ اِسے تین ہفتوں میں تقسیم کر لیں۔ پہلے ہفتے میں باب ایک سے چار پڑھیں اور ایک ہی سوال ساتھ رکھیں: میں کہاں کہاں زندگی کو اپنی مٹھی میں بند کرنے کی کوشش کر رہا ہوں؟ کاغذ پر اپنے تین بڑے "منصوبے" لکھیں اور اُن کے سامنے واعظ 2:11 رکھ دیں۔
دوسرے ہفتے میں باب پانچ سے آٹھ پڑھیں۔ یہ حصہ عبادت، دولت، ناانصافی اور توازن کے بارے میں ہے۔ یہاں واعظ 7:14 کو یاد کر لیں اور ہر شام دو خانوں میں لکھیں: آج خدا نے کیا بخشا، اور آج کس بات نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا۔ یہ ایک چھوٹی مشق ہے جو دل کو بہت جلد بدلنے لگتی ہے۔
تیسرے ہفتے میں باب نو سے بارہ پڑھیں، اور آخری نظم کو بلند آواز میں پڑھیں، کیونکہ وہ سننے کے لیے لکھی گئی ہے۔ پھر واعظ 12:1 اور واعظ 12:13 کو زبانی یاد کریں؛ یہ دونوں آیتیں پوری کتاب کا لنگر ہیں۔
اگر آپ گھر کی کلیسیا یا گروہ میں یہ کتاب پڑھ رہے ہیں تو ہر نشست میں ایک سادہ سوال پوچھیں: اِس حصے میں خدا کی کون سی بخشش نظر آئی، اور کون سا دھوکہ ٹوٹا؟ اور مطالعے کے ساتھ ساتھ نئے عہد نامے سے رومیوں 8 اور 1 کرنتھیوں 15 ضرور پڑھیں، تاکہ واعظ کا سوال اپنے جواب کے ساتھ ملے۔
اُلجھن کو انجیل کے ساتھ پڑھیں، تنہا نہیں۔
اختتام میں
واعظ کی کتاب ہمیں اِس لیے دی گئی ہے کہ خدا اپنے لوگوں سے جھوٹ بولوا کر عبادت نہیں کراتا۔ وہ ہمیں اجازت دیتا ہے کہ ہم کہیں: زندگی ہاتھ سے پھسلتی ہے، محنت کا پھل عارضی ہے، اور موت سب کو برابر کر دیتی ہے۔ مگر وہ ہمیں اِس ایمانداری میں اکیلا نہیں چھوڑتا۔ جس لمحے ہم مٹھی کھولتے ہیں، وہی لمحہ ہمارے ہاتھ کو تحفہ لینے کے قابل بناتا ہے: آج کی روٹی، آج کا کام، آج کا رشتہ، اور سب سے بڑھ کر وہ خالق جس کے وقتوں میں ہر چیز اپنے موسم میں خوب بنائی گئی ہے۔
اِس کتاب کو پڑھنے کے بعد اگلا قدم صاف ہے۔ اپنی مٹھی کھولیے۔ ایک چیز کا نام لیجیے جسے آپ عمر بھر پکڑنے کی کوشش کرتے رہے ہیں، اور اُسے دعا میں خدا کے سامنے رکھ دیجیے۔ پھر انجیل کھول کر اُس خداوند کو دیکھیے جس نے قبر میں جا کر ہماری ساری بطالت اپنے اوپر لے لی اور تیسرے دن جی اُٹھا۔ سورج کے نیچے سب بھاپ ہے؛ مگر جی اُٹھے ہوئے مسیح میں کوئی محنت، کوئی آنسو اور کوئی وفاداری ضائع نہیں جاتی۔
