روزہ رکھنے کا بائبلی طریقہ اور مقصد
تعارف
جمعرات کی دوپہر ہے۔ گھر کی مالکن نے صبح سے کچھ نہیں کھایا۔ باورچی خانے میں دال پک رہی ہے، بچے سکول سے آنے والے ہیں، اور وہ دل ہی دل میں گن رہی ہے کہ اب صرف چار گھنٹے باقی ہیں۔ اُس کی دعا ایک ہی ہے: بیٹے کا ویزا لگ جائے۔ شام کو جب وہ پہلا لقمہ توڑے گی، ایک سوال اُس کے دل میں کھٹکے گا، وہی سوال جو ہم میں سے اکثر کے دل میں کھٹکتا ہے: کیا خدا نے میری بھوک گنی؟ کیا اِس فاقے سے کچھ بدلے گا؟ کیا میں نے کوئی نیکی کمائی، یا صرف سر درد؟
یہ صفحہ اُس سوال کو نظرانداز نہیں کرے گا۔ آپ یہاں سیکھیں گے کہ بائبل میں روزہ کہاں سے شروع ہوتا ہے، مسیح میں کیسے مکمل ہوتا ہے، کن غلط فہمیوں نے اُسے بوجھ بنا دیا ہے، اور کیسے یہ پرانی عادت آج بھی ایک تھکے ہوئے دل کو دوبارہ زندہ کر سکتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ رہنما روزے کو ایک روحانی کارنامہ نہیں سمجھتا، بلکہ خالی ہاتھوں کا اعتراف۔ روزہ خدا پر دباؤ ڈالنے کا آلہ نہیں کہ ہم اپنی بھوک دکھا کر اُس سے کوئی ہاں منوا لیں؛ روزہ وہ سکول ہے جہاں ہم اپنی بھوک کو دعا میں بدلنا سیکھتے ہیں۔ اور اِس اعتراف کی سچائی کا امتحان آسمان میں نہیں، پڑوسی کے دسترخوان پر ہوتا ہے۔ یسعیاہ 58 ہمیں بتاتا ہے کہ جو روزہ کسی زنجیر کو نہیں توڑتا اور کسی بھوکے کو روٹی نہیں دیتا، وہ خدا کے کان تک نہیں پہنچا۔ اِس لیے یہاں دو سوال ساتھ ساتھ چلیں گے: تیرا پیٹ کتنا خالی ہے، اور تیرا ہاتھ کتنا کھلا ہے۔
بائبل روزے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل میں روزہ اپنی سادہ ترین صورت میں یہ ہے: ایک مقررہ وقت کے لیے، خدا کی خاطر، خوراک سے رضاکارانہ پرہیز۔ یہ فاقہ کشی نہیں جو غربت مجبوراً کرواتی ہے، اور نہ صحت کا کوئی نسخہ ہے۔ یہ ایک شعوری فیصلہ ہے کہ میں تھوڑی دیر کے لیے وہ چیز چھوڑ دوں گا جس کے بغیر میں جی نہیں سکتا، تاکہ اُس ہستی کو تھام لوں جس کے بغیر میں واقعی جی نہیں سکتا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ شریعت میں روزے کا حکم بار بار نہیں آتا۔ سالانہ یومِ کفارہ پر اسرائیل کو کہا گیا کہ "اپنی جان کو دُکھ دو"، اور یہودی روایت نے اِسے ہمیشہ روزے کے طور پر سمجھا۔ باقی تمام روزے بائبل میں فرمان سے نہیں، بلکہ ضرورت سے پیدا ہوتے ہیں۔ کوئی گناہ کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، کوئی دشمن کی فوج دیکھ کر کانپ اُٹھتا ہے، کوئی اپنی قوم کے کھنڈرات کی خبر سن کر بیٹھ جاتا ہے۔ روزہ بائبل میں زیادہ تر ایک ردِعمل ہے، ایک آہ جو جسم میں ڈھل جاتی ہے۔
نحمیاہ کی مثال لیجیے۔ اُسے یروشلم کی دیوار کے ٹوٹنے کی خبر ملی، اور لکھا ہے: "اور جب مَیں نے یہ باتیں سُنیں تو مَیں بیٹھ کر رونے لگا اور کئی دِن تک ماتم کرتا رہا اور آسمان کے خُدا کے آگے روزہ رکھ کر دُعا کی" (نحمیاہ 1:4)۔ یہاں روزہ کوئی الگ رسم نہیں، دعا کا جسمانی لباس ہے۔ نحمیاہ کا پیٹ اُس کے دل کے ساتھ رو رہا ہے۔ اُس کی بھوک اُس کی درخواست کو الفاظ دے رہی ہے: میرے شہر کی حالت مجھے کھانے سے زیادہ عزیز ہے۔
یوایل نبی اِس سے ایک قدم آگے جاتا ہے۔ ایک تباہ حال قوم سے خداوند فرماتا ہے: "تَو بھی خُداوند فرماتا ہے کہ اب بھی تُم روزہ رکھ کر اور روتے اور ماتم کرتے ہُوئے پُورے دِل سے میری طرف رجوع کرو" (یوایل 2:12)۔ غور کیجیے، اصل حکم "روزہ رکھو" نہیں بلکہ "میری طرف رجوع کرو" ہے۔ روزہ اُس رجوع کا راستہ ہے، منزل نہیں۔ اِسی لیے اگلی آیت میں خدا فوراً وضاحت فرماتے ہیں کہ کپڑے چاک نہ کرو بلکہ دل چاک کرو۔ روزہ بغیر توبہ کے ایک خالی مظاہرہ ہے۔
اور یہیں وہ آیت آتی ہے جو اِس پورے موضوع کی ریڑھ کی ہڈی ہے: "کیا اِس روزہ سے مجھے خوشی نہیں کہ ظلم کی زنجِیریں توڑی جائیں اور جُوئے کے بندھن کھولے جائیں اور مظلُوموں کو آزاد کِیا جائے اور تُم ہر ایک جُوا توڑ ڈالو؟" (یسعیاہ 58:6)۔ لوگ شکایت کر رہے تھے کہ ہم روزے رکھتے ہیں مگر خدا دیکھتا نہیں۔ خدا کا جواب یہ تھا کہ تمہارے روزے کے دن بھی تمہارے مزدور پستے رہتے ہیں۔ خدا نے روزے کی تعریف بدل دی: روزہ وہ ہے جو کسی کی گردن سے جوا اُتار دے۔
اور خداوند یسوع مسیح؟ اُنہوں نے روزے کو منسوخ نہیں کیا، اُس کی نیت صاف کی۔ "بلکہ جب تُو روزہ رکھے تو اپنے سر پر تیل ڈال اور مُنہ دھو" (متی 6:17)۔ یعنی روزہ رکھو مگر ایسے کہ کسی کو پتا نہ چلے۔ تازہ دم دکھو، خوش دکھو، عام دکھو۔ روزہ خدا کے ساتھ ایک راز ہے۔ مسیح نے یہ نہیں کہا "اگر تم روزہ رکھو"، بلکہ "جب تم روزہ رکھو"، جیسے وہ فرض کر رہے ہیں کہ اُن کے شاگرد یہ کریں گے۔ روزہ مسیحی زندگی میں لازمی رسم نہیں، مگر معمول کی توقع ضرور ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
روزے کا دھاگا بائبل کے پورے تانے بانے میں چلتا ہے، اور ہر جگہ اُس کا رنگ ذرا مختلف ہوتا ہے۔ موسیٰ کوہِ سینا پر چالیس دن اور چالیس رات نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے، اور وہاں سے شریعت لے کر اُترتا ہے۔ داؤد اپنے بیمار بچے کے لیے زمین پر پڑا رہتا ہے اور کھانے سے انکار کر دیتا ہے۔ یہوسفط کے سامنے تین قومیں فوج لے کر آ جاتی ہیں تو وہ سارے یہوداہ میں روزے کی منادی کرا دیتا ہے۔ عزرا اہاوا کے دریا پر روزہ رکھواتا ہے تاکہ سفر کے لیے سیدھی راہ ملے۔ استر تین دن کا روزہ رکھواتی ہے اور پھر یہ کہہ کر بادشاہ کے حضور جاتی ہے کہ "اگر مَیں ہلاک ہُوئی تو ہلاک ہُوئی"۔ دانی ایل ٹاٹ اور خاکِستر کے ساتھ اپنی قوم کے گناہ کا اعتراف کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نینوہ کے کافر بھی، یوناہ کی مختصر منادی سن کر، بادشاہ سے بھکاری تک روزہ رکھ لیتے ہیں۔
اِن سب میں ایک مشترک بات ہے: روزہ وہاں ظاہر ہوتا ہے جہاں انسان کے پاس کوئی چارہ نہ بچے۔ جہاں طاقت ختم، منصوبہ ختم، دلیل ختم، وہاں لوگ کھانا چھوڑ کر خدا کا دامن پکڑ لیتے ہیں۔ پرانے عہد نامے کا روزہ خالی ہاتھوں کی زبان ہے۔
نئے عہد نامے میں یہ دھاگا مسیح کے قدموں تک آتا ہے۔ ہیکل میں حنّہ نبیہ برسوں سے روزوں اور دعاؤں کے ساتھ نجات دہندہ کا انتظار کر رہی ہے۔ پھر خداوند یسوع خود بیابان میں جاتے ہیں: "اور چالِیس دِن اور چالِیس رات فاقہ کر کے آخِر کو اُسے بھوک لگی" (متی 4:2)۔ یہ صرف ایک ذاتی ریاضت نہیں۔ آدم باغ میں پیٹ بھرا ہونے کے باوجود پھل کے آگے ہار گیا؛ اسرائیل بیابان میں گوشت کی ہانڈیوں کو یاد کر کے بڑبڑاتا رہا؛ اور اب دوسرا آدم بیابان میں بھوکا کھڑا ہے اور روٹی کی آزمائش کے سامنے جھکتا نہیں۔ جہاں ہم سب گرے، وہاں وہ قائم رہے۔ اِس لیے مسیحی روزہ کبھی خالی جگہ سے شروع نہیں ہوتا؛ وہ اُس کی کامیابی پر ٹیک لگا کر شروع ہوتا ہے۔
پھر ایک عجیب موڑ آتا ہے۔ یوحنا کے شاگرد شکایت کرتے ہیں کہ ہم اور فریسی روزہ رکھتے ہیں، آپ کے شاگرد کیوں نہیں؟ مسیح کا جواب شادی کی زبان میں ہے: براتی دولہے کی موجودگی میں ماتم نہیں کرتے، مگر وہ دن آئیں گے جب دولہا اُن سے جدا کیا جائے گا، اُس وقت وہ روزہ رکھیں گے۔ یعنی روزے کا مطلب بدل گیا: اب یہ صرف ماتم نہیں، ایک انتظار ہے۔ ایک خالی کرسی کی طرف دیکھنا۔
اور کلیسیا نے بالکل یہی کیا۔ انطاکیہ میں جب اہم فیصلے کا وقت آیا: "جب وہ خُداوند کی عبادت کر رہے اور روزہ رکھے ہُوئے تھے تو رُوحُ القدُس نے کہا کہ میرے لِئے برنباس اور ساؤُل کو اُس کام کے لِئے مخصُوص کر دو جِس کے لِئے مَیں نے اُن کو بُلایا ہے" (اعمال 13:2)۔ دنیا کی پہلی بڑی مشنری تحریک ایک روزے کی میز پر پیدا ہوئی، جہاں کھانا نہیں رکھا تھا۔ اِسی طرح پولس اور برنباس نئی کلیسیاؤں میں بزرگ مقرر کرتے وقت روزے اور دعا کے ساتھ اُنہیں خداوند کے سپرد کرتے ہیں۔
اور آخر میں مکاشفہ ہمیں لے جاتا ہے برّہ کی شادی کی ضیافت تک، جہاں کوئی بھوکا نہ ہو گا اور کوئی آنسو نہ بہے گا۔ روزہ دو دعوتوں کے درمیان کا وقفہ ہے۔ پیچھے مسیح کی وہ میز ہے جہاں اُس نے اپنا بدن توڑ کر دیا، آگے وہ میز ہے جہاں ہم اُس کے ساتھ بیٹھیں گے۔ درمیان میں ہماری بھوک ایک دعا بن جاتی ہے: خداوند، آ جا۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ روزہ خدا پر دباؤ ڈالنے کا ذریعہ ہے۔ ہم سوچتے ہیں کہ اگر میں کافی تکلیف اُٹھا لوں تو خدا کو میری بات ماننی پڑے گی۔ یسعیاہ کے زمانے کے لوگ بھی یہی سمجھتے تھے۔ وہ شکایت کرتے تھے: "ہم نے کِس لِئے روزے رکھّے جبکہ تُو دیکھتا نہیں؟" اور خدا نے اُن کے روزے کے دن کی حقیقت اُن کے سامنے رکھ دی، کہ اُس دن بھی وہ اپنی خوشی کے کام کرتے اور مزدوروں سے سخت محنت کراتے تھے۔ روزہ سودا نہیں۔ خدا کی ہاں مسیح کے صلیبی کام میں پہلے ہی مل چکی ہے؛ روزہ اُس ہاں کو خریدنے نہیں، اُسے قبول کرنے کا ایک انداز ہے۔ جو روزہ اِس اُمید پر رکھا جائے کہ اب خدا مقروض ہو گیا، وہ فضل کی نہیں، تجارت کی زبان بولتا ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ جسم کو دُکھ دینا بذاتِ خود روحانیت ہے۔ کلسیوں میں پولس اُن لوگوں پر تنقید کرتا ہے جو "ہاتھ نہ لگا، چکھ نہ، چھو نہ" جیسے قاعدوں کو تقویٰ سمجھتے تھے، اور صاف کہتا ہے کہ اِن باتوں سے جسم کی خواہشوں پر کوئی حقیقی قابو نہیں پاتا۔ 1 تیمتھیس میں وہ لکھتا ہے کہ خدا کی ہر مخلوق اچھی ہے اور شکرگزاری کے ساتھ لینے کے قابل۔ خوراک دشمن نہیں، خدا کا تحفہ ہے۔ ہم روزہ اِس لیے نہیں رکھتے کہ روٹی بری ہے، بلکہ اِس لیے کہ روٹی دینے والا روٹی سے بڑا ہے۔ خالی پیٹ خود بخود مقدّس نہیں ہوتا۔
تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ روزہ پرانے عہد نامے کی چیز تھی، فضل کے دور میں اُس کی ضرورت نہیں۔ مگر خداوند یسوع نے متی 6:17 میں فرمایا "جب تُو روزہ رکھے"، نہ کہ "اگر"۔ اُنہوں نے پیشین گوئی کی کہ دولہے کے جدا ہونے کے بعد اُن کے شاگرد روزہ رکھیں گے۔ اور اعمال کی کتاب دکھاتی ہے کہ روحُ القدس سے بھری ہوئی کلیسیا نے یہ عادت چھوڑی نہیں، بلکہ فیصلوں، مخصوصیت اور مشن کے موقعوں پر اِسے اپنایا۔ فضل نے روزے کو ختم نہیں کیا، اُس کا زہر نکال دیا: اب یہ ڈر سے نہیں، محبت سے کیا جاتا ہے۔
چوتھی غلط فہمی سب سے خطرناک ہے: کہ روزہ ہمیں دوسرے مسیحیوں سے اونچے درجے پر لے جاتا ہے۔ ہیکل میں کھڑے فریسی کی دعا یاد کیجیے: "مَیں ہفتہ میں دو بار روزہ رکھتا ہُوں"۔ وہ آدمی راست باز ٹھہرایا نہیں گیا؛ وہ چنگی لینے والا ٹھہرایا گیا جس کے پاس سینہ پیٹنے کے سوا کچھ نہ تھا۔ نجات فضل سے ہے، ایمان کے وسیلے سے، کسی عمل کا نتیجہ نہیں، جیسا افسیوں 2:8 اور 9 میں لکھا ہے۔ روزہ آپ کو زیادہ محبوب نہیں بناتا، مگر آپ کو اُس محبت کا زیادہ ہوش دلا سکتا ہے۔ اور اِس کے ساتھ ایک پانچویں غلطی بھی جڑی ہے: کہ روزہ ایک نجی معاملہ ہے جس کا سماجی زندگی سے تعلق نہیں۔ یسعیاہ 58:6 اِس دیوار کو گرا دیتا ہے۔ خدا کے نزدیک روزے کا امتحان یہ ہے کہ کوئی زنجیر ٹوٹی یا نہیں، کوئی جوا اُترا یا نہیں، کوئی بھوکا سیر ہوا یا نہیں۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
شروع چھوٹے سے کریں۔ ایک وقت کا کھانا چھوڑ دیں اور وہ آدھا گھنٹہ جو کھانے میں لگتا، خدا کے کلام اور دعا کو دے دیں۔ روزہ اُس وقت روحانی بنتا ہے جب خالی وقت خالی نہ رہے۔ اگر آپ دوپہر کا کھانا چھوڑ کر موبائل سکرول کرتے رہیں تو آپ نے صرف بھوکا رہنا سیکھا، دعا کرنا نہیں۔
دوسری بات، پہلے مقصد طے کریں۔ نحمیاہ کا روزہ ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے لیے تھا، انطاکیہ کی کلیسیا کا ایک فیصلے کے لیے۔ آپ کا کس لیے ہے؟ کسی بیمار عزیز کے لیے، کسی گناہ کی عادت سے آزادی کے لیے، شادی میں سرد پڑ چکی محبت کے لیے، کسی بڑے فیصلے کے لیے، یا صرف اِس لیے کہ آپ کے دل کی بھوک خدا کے لیے مر چکی ہے اور آپ اُسے دوبارہ جگانا چاہتے ہیں۔ نیت لکھ لیجیے، ورنہ روزہ ایک بے سمت تجربہ بن جائے گا۔
تیسری بات، جسم کا خیال رکھیں۔ اگر آپ ذیابیطس کے مریض ہیں، حاملہ ہیں، دودھ پلاتی ہیں، دوا کے پابند ہیں، کمزور ہیں یا کھانے سے متعلق کسی نفسیاتی بیماری سے گزر چکے ہیں تو خوراک کا روزہ آپ کے لیے فرمانبرداری نہیں، بے احتیاطی ہو گا۔ خدا کو آپ کی بیماری کی قربانی نہیں چاہیے۔ ایسے موقعوں پر میٹھی چیزیں، ایک وقت کا کھانا، تفریح، خریداری، سوشل میڈیا یا ٹی وی چھوڑنا ایک دیانت دار متبادل ہے، اور شادی شدہ لوگوں کو اپنے ہم سفر سے مشورہ ضرور کر لینا چاہیے تاکہ روزہ گھر میں تناؤ نہ پیدا کرے۔
چوتھی بات، خفیہ رکھیں۔ متی 6:17 کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے چہرے پر شہادت نہ لکھی ہو۔ دفتر میں یہ اعلان کرنے کی ضرورت نہیں کہ آج آپ کھانا نہیں کھا رہے۔ اگر گھر میں ضرورت ہو تو سادہ لفظوں میں بتا دیں، مگر ہمدردی بٹورنے کی کوشش نہ کریں۔
اور پانچویں بات، جو اِس رہنما کے زاویے کا دل ہے: جو پیسے بچے، وہ آگے دے دیں۔ جس دوپہر آپ نے کھانا چھوڑا، اُس دوپہر کسی مزدور کو کھانا کھلا دیں۔ جس شام آپ نے دسترخوان خالی رکھا، اُس شام کسی تنہا شخص کو فون کر لیں یا کسی سے معافی مانگ لیں جس پر آپ نے بوجھ ڈالا ہوا ہے۔ یسعیاہ 58:7 خدا کے پسندیدہ روزے کی فہرست یہی دیتا ہے: بھوکے کو روٹی، بے گھر کو گھر، ناگا کو کپڑا، اور اپنے رشتہ داروں سے منہ نہ چھپانا۔ کلیسیا کی سطح پر بھی یہی اصول کام کرتا ہے: کسی بڑے فیصلے، نئے پاسبان کی مخصوصیت، یا کسی خاندان کے بحران پر مل کر روزہ رکھنا اور مل کر دینا اعمال 13:2 کے نقشِ قدم پر چلنا ہے۔
آئینہ
آپ جانتے ہیں کہ آپ کیا چھوڑنے سے ڈرتے ہیں۔ صرف کھانا نہیں۔ وہ فون جو رات کو ہاتھ سے چھوٹتا نہیں، وہ سیریز جو تنہائی کا شور بن گئی ہے، وہ خریداری جو خالی پن کو تھوڑی دیر بھر دیتی ہے، وہ فریج کی روشنی جس میں آپ بارہ بجے کھڑے ہو کر خود سے چھپتے ہیں۔ روزہ اِسی لیے تکلیف دیتا ہے، کیونکہ یہ آپ کے ہاتھ سے وہ چیز لے لیتا ہے جس سے آپ اپنا درد سنبھالتے ہیں، اور پھر آپ کو خدا کے سامنے کھڑا کر دیتا ہے، بغیر کسی سہارے کے۔
پہلے چند گھنٹوں میں آپ روحانی محسوس نہیں کریں گے۔ آپ چڑچڑے ہوں گے۔ آپ بچوں پر بلاوجہ آواز اُٹھائیں گے۔ اور یہی روزے کا سب سے ایماندار تحفہ ہے: آپ کو پتا چل جائے گا کہ آپ کے اندر کیا چھپا ہوا تھا جسے روٹی، چائے اور مصروفیت ڈھانپے ہوئے تھیں۔ روزہ کوئی نئی گندگی پیدا نہیں کرتا، صرف پرانی گندگی اوپر لے آتا ہے تاکہ فضل اُسے دھو سکے۔
اور ایک اور سوال، جس سے بچنا آسان ہے۔ آپ کی تنخواہ کہاں جاتی ہے؟ آپ کے گھر میں جو کھانا ہر ہفتے کچرے میں جاتا ہے، اُس کا حساب کون رکھے گا؟ وہ ملازمہ جو آپ کے گھر برتن دھوتی ہے، کیا وہ آپ کے روزے کے دن بھی اُسی سختی سے کام کرتی ہے؟ یسعیاہ 58 کا خدا آپ کی بھوک سے متاثر نہیں ہوتا اگر آپ کی بھوک کسی اور کے جوئے کو ہلکا نہ کرے۔ یہ الفاظ چبھتے ہیں، مگر یہ آزاد بھی کرتے ہیں، کیونکہ اِن سے پتا چلتا ہے کہ خدا آپ سے ریاضت نہیں، رشتہ چاہتا ہے، اور اُس رشتے کا ثبوت آپ کے پڑوسی کے چہرے پر لکھا جاتا ہے۔
اگر آپ نے زندگی میں کبھی روزہ نہیں رکھا تو آپ کم مسیحی نہیں ہیں۔ مگر شاید آپ ایک ایسا تجربہ گنوا رہے ہیں جس میں دل بہت جلدی نرم پڑ جاتا ہے۔ ایک وقت کا کھانا۔ ایک آدھ گھنٹے کی خاموشی۔ اِسی سے شروع کیجیے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو روزہ سمجھانا مشکل نہیں، بس ہمیں یہ خیال رکھنا ہے کہ ہم اُن کے دل میں خوف نہ ڈالیں۔ سب سے سادہ طریقہ محبت کی زبان ہے: "جب کوئی چیز ہمیں بہت پیاری ہو، تو ہم اُس کے لیے کچھ چھوڑنے کو تیار ہوتے ہیں۔ جیسے تم اپنی سب سے پسندیدہ ٹافی امی کے ساتھ بانٹ لیتے ہو کیونکہ تم اُن سے پیار کرتے ہو۔ روزہ اِسی طرح ہے۔ کچھ دیر کے لیے ہم کھانا چھوڑ دیتے ہیں اور کہتے ہیں، خدا، آج میں کھانے سے زیادہ تجھ سے باتیں کرنا چاہتا ہوں۔"
بچوں کو یہ بھی بتانا ضروری ہے کہ خدا اِس لیے خوش نہیں ہوتا کہ ہم بھوکے رہ گئے۔ وہ اِس لیے خوش ہوتا ہے کہ ہمارا دل اُس کی طرف مڑا۔ اور یہ ضرور بتائیے کہ خداوند یسوع نے خود بیابان میں چالیس دن کھانا نہیں کھایا اور شیطان کی باتوں کے سامنے مضبوط رہے، کیونکہ وہ خدا کے کلام سے بھرے ہوئے تھے۔ چھوٹے بچوں کے لیے مکمل روزہ مناسب نہیں؛ اُن کے لیے بہتر ہے کہ وہ ایک ٹافی، ایک کھلونا یا سکرین کا وقت چھوڑ کر وہ چیز کسی اور کو دیں اور ساتھ مل کر دعا کریں۔ یہی یسعیاہ 58 کا سبق ہے، بچوں کے قد کے مطابق۔
فیتھ ڈاٹ نیٹ ورک پر اِسی موضوع پر عمر کے مطابق الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے کہانی کے انداز میں، سکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور آسان سرگرمیوں کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن سوالوں کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے سوشل میڈیا کا روزہ اور جسم کے بارے میں دباؤ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
بائبل میں روزہ کیا ہے؟
بائبل میں روزہ ایک مقررہ وقت کے لیے، خدا کی خاطر، خوراک سے رضاکارانہ پرہیز ہے، تاکہ دل دعا، توبہ، سوگ یا خدا کی راہ جاننے کی طرف مکمل طور پر متوجہ ہو جائے۔ یہ عام طور پر دعا کے ساتھ جڑا ہوا ہے، جیسے نحمیاہ 1:4 میں جہاں نحمیاہ روتا، ماتم کرتا اور آسمان کے خدا کے آگے روزہ رکھ کر دعا کرتا ہے۔ روزہ کوئی جادوئی عمل نہیں بلکہ ایک جسمانی اعتراف ہے کہ خدا کے بغیر ہم واقعی زندہ نہیں رہ سکتے۔
کیا مسیحیوں کے لیے روزہ رکھنا لازمی ہے؟
نئے عہد نامے میں کہیں یہ حکم نہیں کہ ہر مسیحی کو فلاں دن روزہ رکھنا ہے، اِس لیے روزہ نجات کی شرط یا کلیسیائی فرض نہیں۔ لیکن خداوند یسوع نے متی 6:17 میں "جب تُو روزہ رکھے" فرمایا، گویا یہ اُن کے شاگردوں کی معمول کی عادت ہو گی، اور اعمال 13:2 دکھاتا ہے کہ ابتدائی کلیسیا نے اہم موقعوں پر روزہ رکھا۔ یعنی روزہ فرض نہیں مگر ایک قیمتی تحفہ ہے، جسے نظرانداز کرنا نقصان دہ ہے اور جبر بنانا اُس سے بھی زیادہ نقصان دہ۔
بائبل کے مطابق روزہ کتنے دن کا ہونا چاہیے؟
بائبل کوئی ایک مقررہ دورانیہ نہیں دیتی۔ کچھ روزے صرف شام تک تھے، داؤد نے سات دن کا روزہ رکھا، استر نے تین دن اور تین رات کا اعلان کروایا، اور موسیٰ اور خداوند یسوع کے چالیس دن کے روزے غیر معمولی، خاص بلاہٹ کے واقعات تھے جنہیں نمونہ بنانا مناسب نہیں۔ ابتدا کے لیے ایک وقت کا کھانا یا ایک دن سورج ڈوبنے تک کافی ہے۔ اہم بات دورانیہ نہیں بلکہ دل کا رجوع ہے، جیسا یوایل 2:12 میں فرمایا گیا ہے۔
کیا روزے میں پانی پیا جا سکتا ہے؟
بائبل میں عام روزہ خوراک سے پرہیز ہے، پانی سے نہیں؛ اِس لیے پانی پینا معمول کی بات ہے۔ استر 4:16 اور چند دیگر مقامات میں مکمل روزے کا ذکر ملتا ہے جہاں نہ کھانا تھا نہ پینا، مگر یہ مختصر اور انتہائی بحران کے موقعے تھے۔ صحت کے لحاظ سے پانی کے بغیر روزہ خطرناک ہو سکتا ہے، خاص طور پر گرم موسم میں یا بیماری میں۔ خدا آپ کی بے احتیاطی سے خوش نہیں ہوتا؛ پانی پیجیے اور اپنی توجہ دعا پر رکھیے۔
خداوند یسوع نے چالیس دن کا روزہ کیوں رکھا؟
متی 4:2 میں لکھا ہے کہ چالیس دن اور چالیس رات فاقہ کرنے کے بعد آخر کو اُنہیں بھوک لگی۔ یہ روزہ اُن کی خدمت کے آغاز پر تھا اور روحُ القدس اُنہیں اِسی مقصد کے لیے بیابان میں لے گیا۔ اُن کے چالیس دن اسرائیل کے بیابان کے چالیس سال کی یاد دلاتے ہیں: جہاں قوم بھوک کے سبب بڑبڑائی، وہاں مسیح آزمائش کے سامنے وفادار رہے۔ اِس لیے مسیحی روزہ کبھی ثابت کرنے کے لیے نہیں ہوتا؛ ہم اُس کی وفاداری میں شریک ہوتے ہیں، اپنی نہیں۔
متی 6:17 میں سر پر تیل ڈالنے اور منہ دھونے کا کیا مطلب ہے؟
اُس زمانے میں ماتم کرنے والے تیل نہیں لگاتے اور خستہ حال دکھائی دیتے تھے۔ خداوند یسوع فرماتے ہیں: "بلکہ جب تُو روزہ رکھے تو اپنے سر پر تیل ڈال اور مُنہ دھو" (متی 6:17)، یعنی روزے کے دن خود کو معمول کے مطابق تیار کرو تاکہ کسی کو معلوم نہ ہو۔ مقصد یہ ہے کہ روزہ لوگوں کے لیے نہیں بلکہ باپ کے لیے ہو، جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے۔ روزے کا اعلان کرنے سے اُس کا اجر خرچ ہو جاتا ہے، کیونکہ ہم پھر انسانوں کی تعریف کے مقروض بن جاتے ہیں۔
یسعیاہ 58 کے مطابق خدا کو کون سا روزہ پسند ہے؟
یسعیاہ 58:6 میں خدا خود روزے کی تعریف بدل دیتے ہیں: ظلم کی زنجیریں توڑنا، جوئے کے بندھن کھولنا، مظلوموں کو آزاد کرنا اور ہر جوا توڑ ڈالنا۔ اگلی آیت بھوکے کو روٹی، بے گھر کو گھر اور ناگا کو کپڑا دینے کی بات کرتی ہے۔ اسرائیل شکایت کر رہا تھا کہ ہمارے روزے قبول نہیں ہوتے، اور خدا نے اُن کے روزے کے دن کی ناانصافی اُن کے سامنے رکھ دی۔ سبق واضح ہے: جو روزہ پڑوسی تک نہیں پہنچتا، وہ خدا کے کان تک نہیں پہنچتا۔
کیا روزے سے دعا زیادہ اثر کرتی ہے؟
روزہ دعا کو جادوئی طاقت نہیں دیتا، کیونکہ دعا کی قبولیت مسیح کی راست بازی پر مبنی ہے، ہماری قربانی پر نہیں۔ مگر روزہ عملی طور پر دعا کو گہرا ضرور کرتا ہے، کیونکہ یہ توجہ، سنجیدگی اور ثابت قدمی پیدا کرتا ہے، اور ہمارے دل کو یہ یاد دلاتا ہے کہ ہم کس چیز کے لیے مانگ رہے ہیں۔ اعمال 13:2 میں روزے اور عبادت کے دوران روحُ القدس نے کلیسیا سے کلام فرمایا، جو دکھاتا ہے کہ ایسے وقت میں دل زیادہ سننے والا ہو جاتا ہے۔
کیا بیمار، بزرگ یا حاملہ خواتین روزہ رکھ سکتی ہیں؟
خدا رحیم ہے اور اُسے آپ کی صحت کی قربانی نہیں چاہیے۔ ذیابیطس، دل کی بیماری، حمل، دودھ پلانا، کمزوری، مستقل ادویات یا کھانے سے متعلق نفسیاتی بیماری کی صورت میں خوراک کا روزہ نقصان دہ ہو سکتا ہے اور اِسے فرمانبرداری سمجھنا غلط ہو گا۔ ایسے احوال میں مٹھائیوں، ایک وقت کے کھانے، تفریح، خریداری یا سوشل میڈیا سے پرہیز کرتے ہوئے وہی وقت دعا اور خیرات کو دینا خدا کے نزدیک ہرگز کم قیمت نہیں۔ ڈاکٹر سے مشورہ کرنا بے ایمانی نہیں، دانائی ہے۔
مسیحی روزہ اور دوسرے مذاہب کے روزے میں کیا فرق ہے؟
ظاہری شکل ملتی جلتی ہو سکتی ہے، مگر بنیاد بالکل مختلف ہے۔ مسیحی روزہ ثواب کمانے یا خدا کو راضی کرنے کے لیے نہیں ہوتا، کیونکہ ایمان دار پہلے ہی مسیح کے فضل سے قبول ہو چکا ہے۔ ہمارا روزہ فرض نہیں، جواب ہے: ایک شکرگزار دل کی وہ خواہش جو خدا کے قریب رہنا چاہتی ہے۔ نیز مسیحی روزے کا زور خفیہ رہنے پر ہے، جیسا متی 6:17 اور 18 سکھاتے ہیں، اور اُس کا پھل انصاف اور رحم میں دکھائی دیتا ہے، نہ کہ روحانی درجے میں۔
کیا کھانے کے بجائے موبائل یا ٹی وی کا روزہ رکھنا بائبل میں جائز ہے؟
بائبل کا روزہ خاص طور پر خوراک سے متعلق ہے، اِس لیے ہمیں لفظوں کو ڈھیلا نہیں کرنا چاہیے۔ مگر جو اصول اِس کے پیچھے ہے، یعنی کسی جائز نعمت کو وقتی طور پر چھوڑ کر خدا کی طرف مکمل توجہ دینا، وہ دوسری چیزوں پر بھی لاگو ہوتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 7:5 میں پولس شادی شدہ جوڑوں کو باہمی رضامندی سے وقتی پرہیز کا مشورہ دیتا ہے تاکہ وہ دعا کے لیے فرصت پائیں۔ اِس لیے اسکرین کا روزہ ایک درست روحانی مشق ہے، خاص طور پر جب خوراک کا روزہ صحت کی وجہ سے ممکن نہ ہو۔
لینٹ یا چالیسہ کیا ہے، کیا یہ بائبل میں ہے؟
لینٹ ایسٹر سے پہلے کے چالیس دن ہیں جنہیں کلیسیا صدیوں سے توبہ، سادگی اور مسیح کے دُکھ پر غور کے لیے مخصوص کرتی آئی ہے۔ بائبل میں اِس کا کوئی حکم موجود نہیں؛ یہ ایک کلیسیائی روایت ہے، نہ کہ الٰہی فرمان۔ اِس لیے اِسے فرض بنا کر کسی پر ڈالنا غلط ہو گا، مگر جو لوگ آزادی اور خوشی سے اِن دنوں میں کچھ چھوڑ کر خداوند کی طرف متوجہ ہوتے ہیں، اُن کے لیے یہ بڑی برکت ثابت ہو سکتی ہے۔ اصول یہی ہے: روایت خدمت کرے، حکومت نہ کرے۔
کیا روزہ رکھنے سے گناہ کی معافی ملتی ہے؟
نہیں۔ گناہ کی معافی صرف خداوند یسوع مسیح کے بہائے ہوئے خون کے وسیلے سے، توبہ اور ایمان کے ذریعے ملتی ہے۔ روزہ توبہ کا اظہار ہو سکتا ہے، جیسے نینوہ کے لوگوں نے کیا، مگر وہ کفارہ ادا نہیں کرتا۔ یوایل 2:12 اور 13 اِسے صاف کر دیتے ہیں: روزہ رکھو، مگر اصل بات یہ ہے کہ پورے دل سے خداوند کی طرف رجوع کرو اور کپڑوں کے بجائے دل چاک کرو۔ اگر روزہ ہمیں معافی خریدنے کی کوشش میں لے جائے تو وہ ہمیں فضل سے دور لے جا رہا ہے۔
اعمال 13:2 ہمیں کلیسیائی روزے کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
اعمال 13:2 میں انطاکیہ کے آگے آگے چلنے والے لوگ خداوند کی عبادت کر رہے اور روزہ رکھے ہوئے تھے، اور اُسی وقت روحُ القدس نے برنباس اور ساؤل کو مخصوص کرنے کا حکم دیا۔ اِس سے تین باتیں سیکھنے کو ملتی ہیں: روزہ صرف انفرادی نہیں بلکہ اجتماعی بھی ہو سکتا ہے، یہ عبادت اور خدمت کے سیاق میں رکھا جاتا ہے، اور اہم فیصلوں سے پہلے یہ کلیسیا کو سننے والا بنا دیتا ہے۔ اِس لیے آج بھی جماعتیں مشن، قیادت کے انتخاب اور بحران کے وقت مل کر روزہ رکھ سکتی ہیں۔
اختتام میں
روزہ کوئی تمغہ نہیں جو ہم خدا کے سامنے لٹکائیں۔ یہ خالی ہاتھوں کی زبان ہے، اور بائبل کا سب سے بڑا مذاق یہی ہے کہ خدا خالی ہاتھوں سے کبھی منہ نہیں موڑتا۔ نحمیاہ کے آنسو، یوایل کی پکار، استر کے تین دن، بیابان میں مسیح کی بھوک اور انطاکیہ کی وہ میز جس پر کھانا نہیں تھا، سب ایک ہی سبق کی طرف اشارہ کرتے ہیں: خدا اُن کے قریب آتا ہے جو اپنی محتاجی چھپاتے نہیں۔
اور یہ بھی یاد رکھیے کہ آپ کے روزے کا امتحان مسجدِ دل میں نہیں، آپ کے دسترخوان اور آپ کے ملازم کے چہرے پر ہو گا۔ یسعیاہ 58 کا خدا ہمیشہ یہ پوچھتا ہے کہ کیا کوئی زنجیر ٹوٹی۔ اِس لیے اگلی بار جب آپ کھانا چھوڑیں، کسی کو کھانا کھلا بھی دیجیے۔ بھوک کو دعا میں بدلنا سیکھیں۔
آگے بڑھنے کے لیے یسعیاہ 58 کو پورا پڑھیے، پھر یوایل کا دوسرا باب، اور آخر میں متی کے چھٹے باب کی وہ ہدایات جہاں خداوند یسوع دعا، خیرات اور روزے کو ایک ہی سانس میں جوڑتے ہیں۔ ایک وقت کا کھانا چھوڑ کر ابتدا کیجیے، اور دیکھیے کہ خالی پیٹ کے ساتھ کھلی ہوئی بائبل کیسی لگتی ہے۔ جو دعوت آنے والی ہے، اُس کے آگے یہ چھوٹی سی بھوک بہت ہلکی ہے۔
