یسوع مسیح کی تمثیلیں اور اُن کا مطلب
تعارف
گلیلِ کی جھیل کا کنارہ ہے۔ ہجوم اِس قدر ہے کہ خداوند یسوع مسیح کو ایک کشتی میں بیٹھ کر بات کرنی پڑتی ہے۔ لوگ سانس روک کر منتظر ہیں کہ اب کوئی بڑا اعلان ہو گا، کوئی صاف اور دوٹوک فتویٰ، کوئی ایسی بات جو رومی حکومت کے خلاف بغاوت کا بگل بجا دے۔ اور خداوند کیا فرماتے ہیں؟ ایک کسان کی بات، جو صبح سویرے اپنا تھیلا اُٹھا کر کھیت کی طرف نکلا اور مٹھی بھر بیج ہوا میں بکھیر دیا۔
بس اِتنا ہی۔
یہی خداوند یسوع مسیح کا طریقہ تھا۔ وہ دلیل سے پہلے کہانی دیتے تھے، اور کہانی کے اندر ایک دروازہ رکھ دیتے تھے۔ کچھ لوگ اُس دروازے سے گزر کر بادشاہی میں داخل ہو گئے، اور کچھ باہر ہی کھڑے رہ کر کہتے رہے کہ یہ تو صرف کھیتی باڑی کی بات تھی۔ اِس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ تمثیل آخر کیا ہے، بائبل مقدّس میں یہ سلسلہ کہاں سے شروع ہوتا ہے، کون کون سی غلط فہمیاں ہمیں تمثیلوں کا اصل مزہ لینے سے روکتی ہیں، اور آج آپ کی روزمرہ زندگی میں یہ کہانیاں کس طرح چُبھتی اور آزاد کرتی ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے مضامین تمثیلوں کو "مشکل سچائیوں کو آسان بنانے والی مثالیں" کہہ کر پیش کرتے ہیں۔ ہم یہاں ایک اور زاویے سے چلیں گے: تمثیل معلومات نہیں، دعوت ہے۔ وہ ایک ہی وقت میں پردہ بھی ہے اور دروازہ بھی۔ خداوند یسوع مسیح نے کہانیاں سنانے سے آسانی پیدا نہیں کی، بلکہ چھلنی رکھ دی۔ جو دل سخت تھا اُس کے لیے کہانی محض دیہاتی قصہ رہ گئی؛ جو دل بھوکا تھا اُس کے لیے وہی کہانی بادشاہی کا دروازہ بن گئی۔ اِس لیے ہم ہر تمثیل سے یہ نہیں پوچھیں گے کہ "اِس کا سبق کیا ہے؟" بلکہ یہ کہ "یہ مجھ سے کون سا فیصلہ مانگ رہی ہے، اور اِس میں مَیں کہاں کھڑا ہوں؟"
بائبل یسوع کی تمثیلوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
اُردو لفظ "تمثیل" کے پیچھے یونانی لفظ ہے جس کا مطلب ہے "ساتھ رکھ کر دکھانا"۔ یعنی ایک جانی پہچانی چیز کو ایک اَنجانی سچائی کے پہلو میں رکھ دینا، تاکہ روشنی پڑے۔ خمیر، بیج، مچھلی کا جال، گم شدہ سکہ، قرض دار نوکر، شادی کی مشعلیں؛ یہ سب ہاتھ میں پکڑنے والی چیزیں ہیں، مگر خداوند اِن کے ذریعے آسمان کی بادشاہی کی بات کرتے ہیں۔
متی 13 باب میں یہ طریقہ ایک منظم تعلیم کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ متی 13:3 میں لکھا ہے: "اور اُس نے اُن سے بہت سی باتیں تمثیلوں میں کہیں کہ دیکھو ایک بونے والا بیج بونے نکلا۔" غور کریں کہ "بہت سی باتیں" اور "تمثیلوں میں" ایک ہی سانس میں آتے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں تھا، یہ خداوند کا مستقل انداز تھا۔ اُسی باب میں متی 13:34 اِسے اور واضح کر دیتا ہے: "اُس نے اِن سب باتوں میں لوگوں سے تمثیلوں ہی میں کلام کیا اور بغیر تمثیل اُن سے کچھ نہ کہتا تھا۔" یہاں ایک حیرت انگیز حقیقت سامنے آتی ہے: خداوند یسوع مسیح نے ہجوم کے سامنے اپنی تعلیم کا بڑا حصہ کہانی کی صورت میں رکھا۔ گویا بادشاہی کا خزانہ کھلی سڑک پر رکھ دیا گیا، مگر ایک صندوق کے اندر۔
اور صندوق کی کنجی کہاں ہے؟ اِس کا جواب مرقس 4:11 دیتا ہے: "اُس نے اُن سے کہا کہ تم کو خدا کی بادشاہی کا بھید دیا گیا ہے مگر اُن کے لیے جو باہر ہیں سب باتیں تمثیلوں میں ہوتی ہیں۔" یہ آیت ہمیں مؤدبانہ طور پر بے چین کر دیتی ہے۔ تمثیل ایک ہی آواز میں دو کام کرتی ہے: شاگردوں کے لیے وہ وضاحت ہے، اور دور سے تماشا دیکھنے والوں کے لیے وہ پردہ ہے۔ فرق کہانی میں نہیں، سننے والے کے دل میں ہے۔ جو شخص کہانی سن کر خداوند کے قدموں میں آ کر پوچھتا ہے "اِس کا مطلب کیا ہے؟" وہ بھید کا شریک بن جاتا ہے؛ جو کندھے اُچکا کر چلا جاتا ہے، وہ اپنی ہی بے پروائی میں بند رہ جاتا ہے۔
تمثیل سچائی کو آسان نہیں بناتی، وہ دل کو آشکار کرتی ہے۔
تمثیلوں کا مرکزی موضوع کوئی مجرد فلسفہ نہیں بلکہ "آسمان کی بادشاہی" ہے، یعنی خدا کی وہ بادشاہت جو خداوند یسوع مسیح کی آمد سے دنیا میں داخل ہو چکی ہے۔ متی 25:1 اِسی بادشاہی کا ایک اور رُخ دکھاتا ہے: "اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کنواریوں کی مانند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے استقبال کو نکلیں۔" یہاں بادشاہی صرف بیج کی طرح بڑھتی ہوئی نہیں، بلکہ ایک آنے والے دُلہا کی طرح منتظر ہے۔ تمثیلیں ہمیں بادشاہی کے تین زمانوں میں لے جاتی ہیں: وہ آ چکی ہے (بیج بویا جا چکا)، وہ چھپی ہوئی طور پر بڑھ رہی ہے (خمیر اور رائی کا دانہ)، اور وہ ایک دن مکمل شان کے ساتھ ظاہر ہو گی (شادی، فصل، حساب کا دن)۔
پھر انجیلِ لوقا ہمیں خدا کے دل کے قریب لے جاتی ہے۔ لوقا 15:11 میں خداوند نے فرمایا: "پھر اُس نے کہا کہ کسی آدمی کے دو بیٹے تھے۔" اِس ایک سادہ جملے سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جس نے صدیوں سے گنہگاروں کو رُلایا ہے۔ اور لوقا 18:13 میں ہیکل کے صحن میں کھڑے ایک شخص کی دعا ہے: "لیکن محصول لینے والے نے دور کھڑے ہو کر ایسا نہ کیا کہ آسمان کی طرف آنکھ بھی اُٹھائے بلکہ اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر کہا کہ اے خدا مجھ گنہگار پر رحم کر۔" تمثیلیں صرف بادشاہی کا نظام نہیں سکھاتیں، وہ اُس بادشاہ کا چہرہ دکھاتی ہیں جو دوڑ کر گلے لگاتا ہے اور جو ٹوٹے دل کی مختصر دعا کو محلوں کی لمبی تقریروں پر ترجیح دیتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
تمثیل کا انداز خداوند یسوع مسیح کی ایجاد نہیں تھا؛ وہ عہدِ عتیق کی زمین میں پہلے سے جڑیں رکھتا تھا۔ قضاۃ 9 باب میں یوتام درختوں کی ایک کہانی سناتا ہے تاکہ اپنے بھائی ابی مَلِک کی حکومت کی کھوکھلی بنیاد دکھائے۔ یہ بائبل مقدّس کی قدیم ترین تمثیلوں میں سے ایک ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ وہ بھی ایک فیصلہ مانگتی ہے، محض معلومات نہیں دیتی۔
سب سے زوردار مثال 2 سموئیل 12 باب میں ہے۔ داؤد بادشاہ نے زنا اور خون کا گناہ کیا اور اپنے آپ کو تسلی دے کر بھول گیا۔ ناتن نبی اُس پر انگلی نہیں اُٹھاتا، بلکہ ایک کہانی سناتا ہے: ایک امیر آدمی، ایک غریب آدمی، اور ایک ننھی سی بھیڑ۔ داؤد کہانی سن کر غصے سے بھر جاتا ہے اور اُس ظالم کے لیے سزا کا حکم دے دیتا ہے۔ اور پھر وہ جملہ آتا ہے جو تمثیل کے کام کا بہترین نمونہ ہے: "تُو ہی وہ شخص ہے۔" یہی ہمارے زاویے کا مرکزی نکتہ ہے۔ تمثیل آپ کو کہانی کے اندر کھینچ لاتی ہے، آپ سے فیصلہ کرواتی ہے، اور پھر آپ کو بتاتی ہے کہ وہ فیصلہ آپ ہی کے بارے میں تھا۔
انبیا نے اِسی روایت کو جاری رکھا۔ یسعیاہ 5 باب میں انگور کے باغ کا گیت ہے: خدا نے باغ لگایا، اُس کی حفاظت کی، اُس سے اچھے پھل کی توقع کی، مگر جنگلی انگور نکلے۔ حزقی ایل نبی بلند پرواز عقاب اور بیل کی شاخوں کی تمثیلیں پیش کرتے ہیں۔ زبور 78:2 میں لکھا ہے: "میں تمثیل میں کلام کروں گا اور قدیم بھید کہوں گا۔" متی 13:35 اِسی آیت کا حوالہ دے کر بتاتا ہے کہ خداوند کا تمثیلی کلام محض حکمتِ عملی نہیں بلکہ نبوّت کی تکمیل تھا۔
مگر عہدِ عتیق کی تمثیلیں ایک خلا چھوڑ جاتی ہیں۔ انگور کا باغ پھل نہیں لاتا؛ بادشاہ توبہ کرتا ہے مگر تخت پر ایک کامل بادشاہ نہیں بیٹھتا؛ باغ کے مالک کی توقع پوری نہیں ہوتی۔ اور پھر خداوند یسوع مسیح آتے ہیں اور وہی تصویریں اُٹھا کر اپنے اوپر رکھ دیتے ہیں۔ باغ کے کاشتکاروں کی تمثیل میں مالک آخر میں اپنے پیارے بیٹے کو بھیجتا ہے، اور کاشتکار اُسے باغ سے باہر نکال کر قتل کر دیتے ہیں۔ یہ محض کہانی نہیں، یہ صلیب کی پیشین گوئی ہے جو تمثیل کے لباس میں آئی۔ انجیلِ یوحنا میں خداوند وہی بات بغیر پردے کے کہہ دیتے ہیں: مَیں ہی اصلی انگور کا درخت ہوں، مَیں ہی اچھا چرواہا ہوں۔
اور سلسلہ مکاشفہ تک جاتا ہے۔ جو دس کنواریاں متی 25:1 میں مشعلیں لے کر نکلی تھیں، اُن کا انتظار مکاشفہ 19 باب میں پورا ہوتا ہے، جہاں برّہ کی شادی کا اعلان ہوتا اور مبارک وہ ہیں جو برّہ کی شادی کی ضیافت میں بلائے گئے ہیں۔ فصل کاٹنے والے فرشتے، گندم اور کڑوے دانے کی جدائی، خزانے کا کھلنا؛ جو تمثیلوں میں چھپا تھا، وہ آخری کتاب میں ننگی آنکھ سے دیکھا جاتا ہے۔ گویا پوری بائبل مقدّس ایک تمثیل کی مانند چلتی ہے: پردہ آہستہ آہستہ ہٹتا ہے، یہاں تک کہ دولہا خود سامنے آ جاتا ہے۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: تمثیلیں محض آسان کہانیاں ہیں تاکہ ہر کوئی جلدی سمجھ جائے۔ یہ سب سے عام خیال ہے، مگر مرقس 4:11 اِسے سیدھا رد کر دیتا ہے۔ خداوند نے صاف فرمایا کہ باہر والوں کے لیے سب باتیں تمثیلوں میں ہوتی ہیں۔ شاگردوں کو بھی خود بیج بونے والے کی تمثیل کا مطلب پوچھنا پڑا۔ تمثیل کا مقصد یہ نہیں کہ سوچنے کی محنت ختم ہو جائے، بلکہ یہ کہ سننے والا رُکے، جھکے اور پوچھے۔ جو پوچھتا ہے اُسے دیا جاتا ہے؛ جو صرف تفریح لینے آیا ہے وہ خالی ہاتھ لوٹتا ہے۔ اِسی لیے تمثیل بیک وقت رحمت اور عدالت ہے: وہ سخت دل کو مزید سختی سے نہیں مارتی، مگر اُسے بے جواب بھی نہیں چھوڑتی۔
دوسری غلط فہمی: تمثیل کی ہر چھوٹی تفصیل میں ایک پوشیدہ روحانی راز ہے۔ کلیسیا کی تاریخ میں کئی مبلغوں نے نیک سامری کی تمثیل میں سرائے کو کلیسیا، دو دینار کو دو ساکرامنٹ، اور تیل کو روحُ القدس بنا دیا۔ ایسی تشریح میں زور دار تقریر بن جاتی ہے مگر خداوند کی اصل بات دب جاتی ہے۔ ایک صحت مند اصول یہ ہے: ہر تمثیل کا ایک مرکزی نکتہ ہوتا ہے، اور تفصیلیں اُس نکتے کو منظر عطا کرتی ہیں۔ لوقا 10:33 کا اصل وزن یہی ہے: "لیکن ایک سامری اُس راہ سے آ نکلا اور اُسے دیکھ کر اُس پر ترس آیا۔" اِس ایک جملے میں کہانی کا دل ہے، کیونکہ جس قوم سے یہودی نفرت کرتے تھے، وہی قوم ہمسائے کی تعریف بن گئی۔ اِس سے بڑھ کر تفصیلوں میں گم ہونے کی ضرورت نہیں۔
تیسری غلط فہمی: تمثیلیں صرف اخلاقی سبق ہیں، یعنی "اچھے بنو اور دوسروں کی مدد کرو"۔ اگر نیک سامری کی تمثیل صرف ہمدردی کا سبق ہوتی تو اُس شریعت کے عالِم کو صرف ایک اچھا مشورہ ملتا۔ مگر سیاق دیکھیے: اُس نے پوچھا تھا کہ ہمیشہ کی زندگی میرے وارث ہونے کے لیے مَیں کیا کروں، اور وہ اپنے آپ کو راستباز ثابت کرنا چاہتا تھا۔ تمثیل نے اُس کا دفاع توڑ دیا۔ اِسی طرح لوقا 18:13 کا محصول لینے والا کوئی ہمدردی کا سبق نہیں سکھاتا؛ وہ ہمیں یہ دکھاتا ہے کہ راستبازی کمائی نہیں جاتی بلکہ رحم کے طور پر بخشی جاتی ہے۔ تمثیلیں ہمیں بہتر انسان بنانے سے پہلے ہمیں گنہگار ثابت کرتی ہیں، اور پھر فضل کے سامنے خالی ہاتھ کھڑا کر دیتی ہیں۔
چوتھی غلط فہمی: تمثیلیں نرم اور پیاری کہانیاں ہیں، اُن میں عدالت کی بات نہیں۔ لوقا 15:11 کی کہانی، "کسی آدمی کے دو بیٹے تھے"، بےشک فضل سے لبریز ہے، مگر اُس کا انجام کھلا چھوڑا گیا ہے کیونکہ بڑا بیٹا باہر ہی کھڑا رہتا ہے۔ متی 25:1 کی دس کنواریوں میں سے پانچ کے لیے دروازہ بند ہو جاتا ہے۔ ہر ضیافت کی تمثیل میں دعوت کے ساتھ انکار کا نتیجہ بھی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمثیلیں فضل اور عدالت کو ایک ساتھ پیش کرتی ہیں، کیونکہ ایک سچی دعوت کا مطلب ہے کہ انکار بھی حقیقی ہے۔ جو فضل کو سستا سمجھے، وہ نہ فضل سمجھا نہ عدالت۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
تمثیلیں کسی قدیم دیہات کی یادگار نہیں؛ وہ آج بھی دروازے پر دستک دیتی ہیں، اور عام طور پر ہماری سب سے حساس جگہوں پر۔
پیسے کے معاملے میں دیکھیے۔ خداوند نے اُس دولت مند آدمی کی تمثیل سنائی جس کی فصل اِتنی ہوئی کہ اُس نے بڑے گودام بنانے کا فیصلہ کیا اور اپنے آپ سے کہا کہ اب آرام کر، مگر اُسی رات اُس کی جان طلب کر لی گئی۔ اگر آپ کی ساری منصوبہ بندی صرف اِس بارے میں ہے کہ اگلے پانچ سال میں آپ کا بینک اکاؤنٹ کہاں ہو گا، اور خدا کے حضور آپ کی جان کہاں ہو گی اِس پر کوئی منصوبہ نہیں، تو یہ تمثیل آپ کے لیے ہے۔ عمل یہ نہیں کہ کمانا چھوڑ دیں، بلکہ یہ کہ ہر مہینے شعوری طور پر کچھ ایسا دیں جو واپس نہ آئے۔
معاف کرنے کے معاملے میں، بے رحم نوکر کی تمثیل ہمیں ایک آئینہ دیتی ہے۔ ہم اپنے قرض کی معافی جیب میں ڈال کر اپنے بھائی کا گلا پکڑنے کے ماہر ہیں۔ رشتوں کی جن گرہوں کو آپ برسوں سے "اصولی مؤقف" کہہ کر جائز ٹھہراتے آئے ہیں، ذرا اُنہیں اِس روشنی میں رکھیں کہ خدا نے آپ کے ساتھ کیا سلوک کیا ہے۔
ہمسائے کے معاملے میں، لوقا 10:33 کا سامری آج بھی ہمیں شرمندہ کرتا ہے۔ ہماری برادری، مسلک، زبان اور خاندان کی دیواریں اُسی طرح بلند ہیں جیسے یہودیوں اور سامریوں کے درمیان تھیں۔ وہ ایک شخص جو راستے میں پڑا ہے، آپ کے لیے کوئی اور ذات، کوئی اور فرقہ، کوئی اور محلہ ہو سکتا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون آپ کا ہمسایہ ہے، سوال یہ ہے کہ آپ کس کے ہمسائے بننے کو تیار ہیں۔
دعا کے معاملے میں، لوقا 18:13 ہمیں آزاد کرتا ہے۔ اگر آپ کو دعا کے وقت شرم آتی ہے کہ آپ کے الفاظ خوبصورت نہیں، تو یاد رکھیں کہ خدا کے حضور جو دعا قبول ہوئی وہ صرف نو لفظوں کی تھی۔
اور انتظار کے معاملے میں، متی 25:1 کی مشعلیں ہمیں روزمرہ کی وفاداری سکھاتی ہیں۔ عقلمند کنواریوں نے کوئی بڑا کارنامہ نہیں کیا، صرف تیل ساتھ رکھا۔ آج کی زبان میں اِس کا مطلب ہے: کلام کا روزانہ پڑھنا، عبادت میں مستقل حاضری، اور دل کا وہ خفیہ رشتہ جو کسی کو نظر نہیں آتا۔ جب رات لمبی ہو جاتی ہے، تو مشعل صرف اُس کے ہاتھ میں جلتی ہے جس نے پہلے سے تیل خرید رکھا تھا۔
آئینہ
آپ سے ایک سیدھا سوال۔ جب آپ لوقا 15 باب پڑھتے ہیں، تو خود کو کہاں پاتے ہیں؟ زیادہ تر لوگ فوراً کہتے ہیں کہ ہم چھوٹے بیٹے ہیں، بھٹکے ہوئے مگر گھر لوٹے ہوئے۔ مگر ذرا ٹھہریے۔ کیا کبھی ایسا ہوا ہے کہ کلیسیا میں کوئی ایسا شخص آ کر بیٹھ جائے جس کا ماضی آپ جانتے ہیں، اور آپ کے اندر ایک باریک سی آواز اُٹھے کہ "یہ اِتنی آسانی سے قبول کیسے ہو سکتا ہے؟" اُس لمحے آپ چھوٹے بیٹے نہیں، بڑے بیٹے ہیں، دروازے کے باہر کھڑے، اپنی وفاداری کا حساب ہاتھ میں لیے، اور باپ کی خوشی سے چڑتے ہوئے۔
اور ناتن کی کہانی یاد رکھیں۔ داؤد نے پوری کہانی سنی، پورا غصہ کیا، پورا انصاف مانگا، اور پھر اُس پر انگلی رکھی گئی کہ تُو ہی وہ شخص ہے۔ تمثیلیں پڑھتے ہوئے سب سے بڑا خطرہ یہی ہے کہ ہم ہمیشہ کہانی کے اچھے کردار میں خود کو ڈھونڈ لیتے ہیں۔ ہم سامری ہیں، فریسی نہیں۔ ہم عقلمند کنواری ہیں، احمق نہیں۔ ہم وہ زمین ہیں جس نے سو گنا پھل لایا، وہ پتھریلی زمین نہیں جس کا جوش تین ہفتے چلا اور پھر مصروفیت نے بیج جلا دیا۔
مگر سچ یہ ہے کہ آپ کی زندگی کے بیشتر دن کانٹوں والی زمین جیسے ہیں۔ بیج گرا تھا، اور پھر دفتر کی مہلت، بچوں کے سکول کی فیس، رشتہ داروں کی باتیں، فون کی مسلسل چمک، اور جسم کی تھکن نے اُسے دبا دیا۔ یہ کوئی بڑی بغاوت نہیں تھی، صرف ایک خاموش دم گھٹنا تھا۔
بیج مر نہیں گیا؛ وہ صرف دبا ہوا ہے۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں تمثیل چُبھنے کے بعد آزاد کرتی ہے۔ کیونکہ وہی خداوند جو آپ کے دل کی مٹی بےنقاب کرتے ہیں، وہی بونے والا بھی ہیں جو بار بار، فضول خرچی کی حد تک، بیج بکھیرتے چلے جاتے ہیں۔ آج بھی۔ آپ کے اُس کونے پر بھی جسے آپ ناقابلِ اصلاح سمجھتے ہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچے کہانیوں کی دنیا میں رہتے ہیں، اِس لیے تمثیلیں اُن کے لیے کسی اجنبی زبان میں نہیں ہیں؛ وہ اُن کی مادری زبان ہے۔ ایک آسان طریقہ یہ ہے کہ بچے کو بتائیں: خداوند یسوع مسیح لوگوں کو خدا کے بارے میں سمجھانا چاہتے تھے، مگر خدا کو نہ کوئی دیکھ سکتا تھا نہ ہاتھ سے چھو سکتا تھا۔ اِس لیے وہ ایسی چیزوں کی بات کرتے تھے جو بچے بھی جانتے ہیں: بیج، روٹی، بھیڑ، گمی ہوئی چیز، اور ابّا جو اپنے بچے کے لوٹنے پر دوڑ کر گلے لگا لیتا ہے۔
گھر میں اِسے کھیل کی طرح کریں۔ ایک گمشدہ سکہ چھپا دیں اور بچے سے ڈھونڈنے کو کہیں؛ جب وہ ملے تو مل کر خوشی منائیں اور بتائیں کہ خدا ایک بھی گم ہوئے شخص کے لوٹنے پر آسمان پر ایسی ہی خوشی مناتا ہے۔ بیج کی تمثیل کے لیے ایک گملے میں دو بیج بوئیں، ایک کو پانی دیں اور ایک کو نہ دیں، اور ہفتے بعد نتیجہ دیکھیں۔ بچوں کے ساتھ اصل مقصد یہ نہیں کہ وہ تمام تشریحی اصول یاد کر لیں، بلکہ یہ کہ اُن کے دل میں یہ نقش بیٹھ جائے کہ خدا محبت کرنے والا اور ڈھونڈنے والا ہے۔
نوعمروں کے ساتھ ایک قدم آگے جائیے اور اُن سے پوچھیے کہ کہانی میں وہ خود کون ہیں۔ اِس عمر میں بڑے بیٹے کا رشک اور فریسی کی خودپسندی حیرت انگیز طور پر پہچانی جاتی ہے۔
ہماری ویب سائٹ پر تمثیلوں کی عمر کے مطابق وضاحتیں الگ الگ دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین تا چھ سال) کے لیے سادہ تصویری انداز میں، سکول کے بچوں (سات تا بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور سرگرمیوں کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے وہ گہرے سوالات جو اُن کی اصل زندگی سے جُڑے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چنیں اور مل کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
تمثیل کا مطلب کیا ہے؟
تمثیل ایک ایسی مختصر کہانی ہے جو روزمرہ زندگی سے لی گئی ہو اور کسی روحانی سچائی کو ظاہر کرے۔ یونانی لفظ کا مفہوم ہے "ساتھ رکھ کر دکھانا"، یعنی ایک جانی پہچانی چیز کو ایک اَنجانی حقیقت کے پہلو میں رکھنا تاکہ روشنی پڑے۔ خداوند یسوع مسیح نے کھیتی باڑی، ماہی گیری، تجارت، شادی اور خاندانی زندگی سے مثالیں لیں، اور اُن کے ذریعے آسمان کی بادشاہی، خدا کے دل اور انسان کے دل کی حالت بیان فرمائی۔ تمثیل صرف مثال نہیں، وہ ایک دعوت ہے جو سننے والے سے جواب مانگتی ہے۔
یسوع نے تمثیلوں میں کیوں کلام فرمایا؟
اِس کی دو وجوہات کلام میں دی گئی ہیں۔ پہلی یہ کہ تمثیلیں سچائی کو یادگار اور ٹھوس بنا دیتی ہیں، اور دوسری یہ کہ وہ دلوں کو چھانتی ہیں۔ مرقس 4:11 کے مطابق شاگردوں کو بادشاہی کا بھید دیا گیا تھا، مگر باہر والوں کے لیے سب باتیں تمثیلوں میں ہوتی تھیں۔ متی 13 باب میں خداوند یسعیاہ نبی کی اُس نبوّت کا حوالہ دیتے ہیں جس میں لوگ سنتے ہوئے نہیں سمجھتے۔ گویا تمثیل رحمت بھی ہے کہ سچائی محفوظ رہے، اور عدالت بھی کہ بے پروا دل خود پر ہی بند ہو جائے۔
انجیل میں یسوع کی کتنی تمثیلیں ہیں؟
گنتی اِس پر منحصر ہے کہ آپ مختصر تشبیہوں کو بھی شمار کرتے ہیں یا نہیں۔ عام طور پر علما تیس سے چالیس کے درمیان تمثیلیں گنتے ہیں؛ بعض چھوٹی مثالیں شامل کر کے یہ تعداد ساٹھ تک لے جاتے ہیں۔ متی، مرقس اور لوقا کی انجیلوں میں یہ تمثیلیں پائی جاتی ہیں، اور اِن میں سے تقریباً ایک تہائی صرف لوقا میں محفوظ ہیں، جیسے نیک سامری، مسرف بیٹا، اور فریسی و محصول لینے والا۔ متی 13:34 کے مطابق ہجوم کے سامنے تمثیل خداوند کا معمول تھا۔
کیا یوحنا کی انجیل میں بھی تمثیلیں ہیں؟
انجیلِ یوحنا میں وہ طرز نہیں ملتا جو متی، مرقس اور لوقا میں ہے۔ یوحنا کی انجیل میں کہانیوں کے بجائے وسیع تصویری اِستعارے ہیں: اچھا چرواہا، اصلی انگور کا درخت، زندگی کی روٹی، اور دنیا کا نور۔ یہ تمثیل سے زیادہ براہِ راست اعلان ہیں، کیونکہ اِن میں خداوند یسوع مسیح خود کو مرکز میں رکھ کر فرماتے ہیں "مَیں ہوں"۔ یوں یوحنا وہ پردہ اُٹھا دیتا ہے جو باقی انجیلوں کی تمثیلوں میں آہستہ آہستہ اُٹھتا ہے، اور ہمیں سیدھا مسیح کے چہرے کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔
نیک سامری کی تمثیل کا اصل مطلب کیا ہے؟
لوقا 10:33 میں لکھا ہے: "لیکن ایک سامری اُس راہ سے آ نکلا اور اُسے دیکھ کر اُس پر ترس آیا۔" اِس کہانی کا پس منظر یہ ہے کہ ایک شریعت کے عالِم نے اپنے آپ کو راستباز ثابت کرنے کے لیے پوچھا کہ میرا ہمسایہ کون ہے۔ خداوند نے اُس کا سوال پلٹ دیا: اصل سوال یہ نہیں کہ کون میرا ہمسایہ ہے بلکہ یہ کہ مَیں کس کا ہمسایہ بنتا ہوں۔ جس قوم کو یہودی نفرت کی نگاہ سے دیکھتے تھے، اُس کا ایک فرد رحم کا نمونہ بن گیا۔ تمثیل ہماری مذہبی حد بندیوں کو توڑ دیتی ہے۔
مسرف بیٹے کی تمثیل ہمیں کیا سکھاتی ہے؟
لوقا 15:11 اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے: "پھر اُس نے کہا کہ کسی آدمی کے دو بیٹے تھے۔" کہانی کا مرکز چھوٹا بیٹا نہیں بلکہ باپ ہے، جو عزت کی پروا کیے بغیر دوڑ کر گنہگار بیٹے کے گلے لگ جاتا ہے۔ ساتھ ہی یہ تمثیل بڑے بیٹے کے ذریعے مذہبی خودپسندی کو بےنقاب کرتی ہے، جو اپنی خدمت کو سودا سمجھتا ہے اور باپ کی خوشی میں شامل ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔ سبق واضح ہے: خدا کے گھر میں داخلہ کارکردگی سے نہیں، فضل کی قبولیت سے ملتا ہے۔
دس کنواریوں کی تمثیل کا مطلب کیا ہے؟
متی 25:1 میں فرمایا گیا: "اُس وقت آسمان کی بادشاہی اُن دس کنواریوں کی مانند ہو گی جو اپنی مشعلیں لے کر دُلہا کے استقبال کو نکلیں۔" دولہا خداوند یسوع مسیح ہیں اور اُن کی آمد میں تاخیر ایمان داروں کے انتظار کی آزمائش ہے۔ تیل کسی سے مانگا نہیں جا سکتا، یعنی ایمان اور مسیح کے ساتھ ذاتی رشتہ کوئی اَور آپ کی طرف سے نہیں رکھ سکتا۔ تمثیل ہمیں خوف میں نہیں بلکہ روزمرہ وفاداری میں بلاتی ہے، تاکہ جب رات لمبی ہو جائے تو ہماری مشعل بجھ نہ جائے۔
فریسی اور محصول لینے والے کی تمثیل کیوں اِتنی اہم ہے؟
کیونکہ یہ تمثیل نجات کی بنیاد کو ایک ہی منظر میں کھول دیتی ہے۔ لوقا 18:13 میں لکھا ہے: "لیکن محصول لینے والے نے دور کھڑے ہو کر ایسا نہ کیا کہ آسمان کی طرف آنکھ بھی اُٹھائے بلکہ اپنا سینہ پیٹ پیٹ کر کہا کہ اے خدا مجھ گنہگار پر رحم کر۔" فریسی کی دعا سچی معلومات پر مشتمل تھی مگر اُس کا دل اپنی نیکی پر بھروسا کر رہا تھا۔ خداوند نے فرمایا کہ راستباز ٹھہرا کر وہی گھر گیا جو اپنے آپ کو گنہگار مانتا تھا۔ فضل صرف خالی ہاتھوں میں رکھا جاتا ہے۔
کیا تمثیلیں سچے واقعات ہیں یا فرضی کہانیاں؟
تمثیلیں تاریخی رپورٹیں نہیں بلکہ حقیقت کے قریب گھڑی گئی کہانیاں ہیں، اور اِس میں کوئی کمی نہیں کیونکہ اُن کا دعویٰ ہی کچھ اور ہے۔ خداوند یسوع مسیح کسی خاص کسان یا کسی خاص باپ کی خبر نہیں دے رہے تھے، بلکہ ایسے مناظر پیش کر رہے تھے جو ہر سننے والے کی دنیا میں روز ہوتے تھے۔ اِس لیے اُن کی سچائی واقعاتی نہیں بلکہ الٰہی اور اخلاقی ہے۔ ایک استثنا لعزر اور دولت مند آدمی کا بیان ہے، جس میں ایک کردار کا نام دیا گیا ہے اور جس کی نوعیت پر ایمان داروں میں بحث رہی ہے۔
تمثیل، تشبیہ اور الیگری میں کیا فرق ہے؟
تشبیہ ایک مختصر موازنہ ہوتی ہے، جیسے "آسمان کی بادشاہی خمیر کی مانند ہے"۔ تمثیل اُسی موازنے کو ایک مکمل کہانی میں پھیلا دیتی ہے اور عام طور پر ایک مرکزی نکتے پر زور دیتی ہے۔ الیگری میں کہانی کا تقریباً ہر عنصر کسی نہ کسی حقیقت کی نمائندگی کرتا ہے۔ خداوند نے بیج بونے والے اور باغ کے کاشتکاروں کی تمثیلوں میں الیگری کے قریب انداز اختیار فرمایا اور خود اُن کی تفصیلی وضاحت بھی دی؛ مگر باقی تمثیلوں میں ہر تفصیل کو معنی دینے کی کوشش تشریح کو بھٹکا دیتی ہے۔
تمثیلوں کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے مَیں کیا کروں؟
پہلے سیاق دیکھیں: خداوند یہ بات کس سے، کہاں اور کس سوال کے جواب میں فرما رہے ہیں۔ اکثر تمثیل سے پہلے یا بعد ایک جملہ ہوتا ہے جو اُس کا مقصد کھول دیتا ہے۔ پھر مرکزی نکتے کو تلاش کریں اور تفصیلوں کو منظر سمجھیں۔ اِس کے بعد پوچھیں کہ پہلی صدی کے سننے والوں کے لیے اِس میں کیا چونکانے والی بات تھی، کیونکہ ہماری واقفیت نے اکثر دھار کم کر دی ہے۔ آخر میں یہ سوال کریں کہ کہانی مجھ سے کون سا فیصلہ مانگ رہی ہے۔
کیا خدا آج بھی کچھ لوگوں سے سچائی چھپاتا ہے؟
مرقس 4:11 کو پڑھ کر یہ سوال اُٹھنا فطری ہے۔ کلام یہ نہیں سکھاتا کہ خدا کسی سچے متلاشی کو دھکیل دیتا ہے؛ بلکہ یہ کہ مسلسل انکار خود آنکھیں اندھی اور کان بہرے کر دیتا ہے۔ جو باہر کھڑے رہنا چاہتے ہیں، اُن کے لیے پردہ اُن کی اپنی پسند کا نتیجہ بھی ہے۔ اِس کے برعکس ہر وہ شخص جو خداوند کے قدموں میں آ کر پوچھتا ہے کہ اِس کا مطلب کیا ہے، اُسے سمجھ عطا کی جاتی ہے۔ عاجز سوال ہی بھید کی کنجی ہے۔
اختتام میں
خداوند یسوع مسیح آسانی پیدا کرنے کے لیے کہانیاں نہیں سناتے تھے۔ وہ ہمیں کہانی کے اندر لے جاتے تھے تاکہ ہم اپنے آپ کو اُس آئینے میں دیکھیں جسے ہم نے برسوں سے ٹالا ہوا ہے۔ اِسی لیے تمثیل بیک وقت پردہ اور دروازہ ہے۔ جو محض تفریح کے لیے سنتا ہے، وہ ایک دیہاتی قصے کے ساتھ گھر چلا جاتا ہے۔ جو رُک کر پوچھتا ہے، اُس کے لیے وہی کہانی بادشاہی کا دروازہ کھول دیتی ہے، اور دروازے کے پیچھے کوئی سبق نہیں بلکہ ایک شخص کھڑا ہے۔
اب ایک عملی مشورہ۔ ایک ایک تمثیل لے کر دو ہفتے تک اُسی پر رہیے۔ بیج بونے والے سے شروع کریں، پھر لوقا 15 باب کی تینوں کہانیاں پڑھیں، پھر لوقا 18:13 کی مختصر دعا کو اپنی روزانہ دعا بنائیں، اور آخر میں متی 25:1 کی مشعلوں پر غور کریں۔ ہر بار دو سوال لکھیں: اِس کہانی میں خدا کیسا دکھایا گیا ہے، اور مَیں اِس میں کہاں ہوں۔
اور جب جواب چُبھے تو بھاگیے نہیں۔ کیونکہ وہی خداوند جو ناتن کی طرح آپ پر انگلی رکھتے ہیں، وہی باپ کی طرح دوڑ کر گلے لگانے کے لیے راستے پر نظریں جمائے بیٹھے ہیں۔
