پولس رسول کی زندگی اور خدمت
تعارف
دمشق کی طرف جانے والی سڑک پر ایک نوجوان چلا جا رہا ہے۔ اُس کے تھیلے میں کاغذ ہیں، سردار کاہن کے دستخط شدہ اجازت نامے، تاکہ وہ اُس نئے فرقے کے لوگوں کو باندھ کر یروشلیم لے آئے۔ اُس کے قدموں میں جوش ہے، دل میں یقین ہے کہ وہ خدا کی خدمت کر رہا ہے۔ اُس کے کانوں میں ابھی بھی ستفنس کے پتھراؤ کا شور تازہ ہے، جس کے قاتلوں کے کپڑوں کی نگرانی اُس نے خود کی تھی۔ دوپہر کا وقت ہے۔ اور پھر، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، آسمان سے ایک نُور چمکتا ہے اور یہ آدمی زمین پر گر پڑتا ہے۔
اُس دن جو شخص گرا، وہ ساؤل تھا؛ جو شخص اُٹھا، وہ کلیسیا کی تاریخ کا سب سے بڑا مشنری بننے والا تھا۔ اِس صفحے پر ہم اُس کی پوری زندگی کو ترتیب کے ساتھ دیکھیں گے: ترسس کے ایک فریسی سے لے کر روم کی قید میں قلم چلانے والے بوڑھے قیدی تک، اور اُس کے ساتھ ہم ایک ایسی بات دریافت کریں گے جو اُس کی زندگی کے ہر موڑ پر دہرائی جاتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
پولس رسول کی زندگی کو سمجھنے کا سب سے سادہ اور سب سے چونکا دینے والا راستہ یہ ہے کہ ہم اُس کے خطوں میں اُس کے اپنے القاب کی ترتیب دیکھیں۔ شروع میں وہ "عبرانیوں میں سے عبرانی، فریسی" تھا؛ پھر "رسولوں میں سب سے چھوٹا"؛ پھر "گنہگاروں میں سب سے بڑا"؛ آخر میں صرف "مسیح یسوع کا قیدی"۔ جوں جوں سال گزرتے ہیں، پولس اپنی نظر میں چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور مسیح بڑا ہوتا جاتا ہے۔ اِس صفحے پر ہم اُس کی زندگی کو اِسی زاویے سے پڑھیں گے، کیونکہ یہی فضل کے کام کی اصل پہچان ہے: فضل آدمی کو پھُلاتا نہیں، خالی کرتا ہے تاکہ مسیح سے بھر جائے۔
بائبل پولس رسول کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
پولس کے بارے میں ہمارے پاس دو قسم کے گواہ ہیں۔ ایک طرف لوقا کی لکھی ہوئی اعمال کی کتاب ہے، جس کا نصف سے زیادہ حصہ اُسی کے سفروں اور مقدموں کا بیان ہے۔ دوسری طرف پولس کے اپنے تیرہ خطوط ہیں، رومیوں سے لے کر فلیمون تک، جن میں وہ بار بار اپنی ذاتی کہانی کھول کر رکھ دیتا ہے۔ یہ دونوں گواہ مل کر ہمیں کسی افسانوی ہیرو کی تصویر نہیں دیتے، بلکہ ایک ایسے آدمی کی جو اپنی خامیوں کے بارے میں حیرت انگیز حد تک سچا ہے۔
اُس کا پس منظر یہ تھا: کلِکیہ کے شہر ترسس میں پیدا ہوا، پیدائشی رومی شہری، یونانی زبان اور ثقافت سے واقف، مگر تربیت میں پکا یہودی۔ اُس نے اعمال 22:3 میں خود بتایا کہ وہ یروشلیم میں گملی ایل کے قدموں میں تعلیم پایا اور باپ دادا کی شریعت کا سخت پابند تھا۔ پیشے کے لحاظ سے وہ خیمے یا ترپال بنانے والا کاریگر تھا، اور یہی ہنر بعد میں اُس کی خدمت کو خودمختار بناتا رہا۔ بائبل میں اُس کا پہلا ذکر کوئی خوشگوار ذکر نہیں: وہ ستفنس کے قاتلوں کے پاس کھڑا ہے اور کلیسیا کو اُجاڑ رہا ہے، گھر گھر جا کر مردوں اور عورتوں کو قید میں ڈال رہا ہے۔
اور پھر وہ لمحہ آتا ہے جس نے سب کچھ پلٹ دیا۔ اعمال 9:3 لکھتا ہے: "اور چلتے چلتے دمشق کے نزدیک پہنچا کہ یکایک اُس کے گِرد آسمان سے ایک نُور چمکا۔" غور کریں کہ یہاں ساؤل کچھ تلاش نہیں کر رہا تھا، توبہ کی طرف بڑھ نہیں رہا تھا، کسی روحانی بحران میں نہیں تھا۔ وہ مخالفت کے راستے پر پورے جوش سے چل رہا تھا جب آسمان نے مداخلت کی۔ یہی وجہ ہے کہ پولس بعد میں نجات کو کبھی انسان کی کوشش کا انعام نہیں کہتا۔ اُس نے اپنے جسم پر تجربہ کیا تھا کہ فضل پہلے آتا ہے۔ آواز آئی: "اَے ساؤل اَے ساؤل تُو مُجھے کیوں ستاتا ہے؟" اور جب اُس نے پوچھا کہ تُو کون ہے، تو جواب ملا: "مَیں یِسُوع ہُوں جِسے تُو ستاتا ہے۔" خداوند نے یہ نہیں کہا کہ تُو میرے لوگوں کو ستاتا ہے، بلکہ "مُجھے"۔ کلیسیا کے زخم مسیح کے زخم ہیں؛ یہ سبق پولس کبھی نہ بھولا۔
اِس کے فوراً بعد خدا حننیاہ نامی ایک ڈرے ہوئے شاگرد کو بھیجتے ہیں، اور اُس کے اعتراض کے جواب میں اعمال 9:15 میں فرماتے ہیں: "مگر خُداوند نے اُس سے کہا تُو چلا جا کیونکہ یہ شخص غَیر قَوموں اور بادشاہوں اور بنی اِسرائیل پر میرا نام ظاہر کرنے کے لِئے میرا چُنا ہُؤا وسِیلہ ہے۔" یہ آیت پولس کی ساری خدمت کا نقشہ ہے: غیر قومیں، بادشاہ، اور اسرائیل؛ اور وہ "وسیلہ" یعنی برتن ہے، ایسا ظرف جس کی قیمت اُس میں رکھی ہوئی چیز سے ہے۔
پولس نے خود کو کبھی اِس بلاہٹ کا مستحق نہ سمجھا۔ 1 کرنتھیوں 15:9 میں وہ لکھتا ہے: "کیونکہ میں رسُولوں میں سب سے چھوٹا ہُوں بلکہ رسُول کہلانے کے لائِق نہیں کیونکہ میں نے خُدا کی کلِیسیا کو ستایا تھا۔" اور اپنی ساری مذہبی کامیابیوں کے ڈھیر کو دیکھ کر فلپیوں 3:7 میں کہتا ہے: "لیکن جِن چِیزوں کو میں نفع کا سمجھتا تھا اُن ہی کو مَیں نے مسِیح کی خاطِر نُقصان سمجھ لِیا ہے۔" یہی اُس کی داخلی تاریخ ہے: جو کھاتہ نفع میں لکھا تھا، مسیح سے ملنے کے بعد نقصان کے خانے میں منتقل ہو گیا۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پولس آسمان سے گرا ہوا کوئی نیا کردار نہیں ہے۔ وہ اُس ایک کہانی کے آخری حصے کا مزدور ہے جو پیدائش سے شروع ہوتی ہے۔ خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا تھا کہ اُس کی نسل سے زمین کی سب قومیں برکت پائیں گی، اور پولس نے اپنی ساری زندگی اُس وعدے کی تعمیل میں لگا دی: افسس، فلپی، کرنتھس، روم، ہر جگہ غیر یہودی لوگوں کو ابرہام کے خدا کے ساتھ ملاتا رہا۔ جب وہ گلتیوں اور رومیوں میں یہ ثابت کرتا ہے کہ آدمی شریعت کے اعمال سے نہیں بلکہ ایمان سے راستباز ٹھہرتا ہے، تو وہ نئی بات نہیں گھڑ رہا؛ وہ پیدائش 15:6 اور حبقوق 2:4 سے دلیل لا رہا ہے۔ پرانا عہد نامہ اُس کے لیے حوالہ نہیں بلکہ بنیاد تھی۔
پرانے عہد نامے میں نبیوں کی بلاہٹ کا ایک خاص نمونہ ہے: موسیٰ جلتی جھاڑی کے پاس، یسعیاہ ہیکل میں، یرمیاہ اپنی جوانی کا عذر پیش کرتا ہوا، حزقی ایل جلال کے نظارے سے زمین پر گرتا ہوا۔ پولس اِسی سلسلے میں کھڑا ہے۔ وہ گلتیوں 1:15 میں یرمیاہ کی زبان ادھار لے کر کہتا ہے کہ خدا نے اُسے ماں کے پیٹ ہی سے مخصوص کیا اور اپنے فضل سے بلایا۔ اور یسعیاہ نبی کے وہ باب جن میں خداوند اپنے خادم کو "قوموں کے لیے نور" ٹھہراتے ہیں، پولس کے لیے کوئی مبہم پیشین گوئی نہ تھی؛ اعمال 13:47 میں وہ اور برنباس یہی آیت اپنی خدمت پر لاگو کرتے ہیں۔
مگر فرق بھی دیکھیے۔ یونس کو خدا نے قوموں کے پاس بھیجا اور وہ بھاگ گیا۔ پولس کو بھیجا گیا اور وہ سمندروں میں ٹوٹے جہازوں کے تختوں پر تیرتا ہوا بھی آگے بڑھتا رہا۔ اِس فرق کی وجہ کوئی بہتر مزاج نہیں تھی، بلکہ ایک بھری ہوئی نظر: اُس نے جی اُٹھے مسیح کو دیکھ لیا تھا۔
نئے عہد نامے میں پولس کا کردار ایک لفظ سے واضح ہوتا ہے جو وہ بار بار استعمال کرتا ہے: بھید۔ اُس کا کہنا ہے کہ جو بات پہلے چھپی ہوئی تھی اب کھول دی گئی ہے، یعنی یہ کہ غیر قومیں یہودیوں کے ساتھ ایک ہی بدن میں شامل ہیں، ایک ہی وعدے کی وارث۔ افسیوں 3 اِسی حیرت کا گیت ہے۔ چار انجیلیں ہمیں بتاتی ہیں کہ خداوند یسوع مسیح نے کیا کیا؛ اعمال اور پولس کے خطوط ہمیں بتاتے ہیں کہ صلیب اور قبر سے اُٹھنے کے بعد وہ کام دنیا کے کناروں تک کیسے پہنچا۔ اور یہ سب مسیح میں سمٹ آتا ہے: پولس کبھی خود کو کہانی کا مرکزی کردار نہیں بناتا۔ اُس کے تیرہ خطوں کا موضوع "پولس کی زندگی" نہیں بلکہ "مسیح اور اُس کا مصلوب ہونا" ہے۔ اُس کے القاب سکڑتے رہے، مگر اُس کی مسیح شناسی پھیلتی رہی، یہاں تک کہ کلسیوں 1 میں وہ مسیح کو ساری کائنات کا پہلوٹھا اور سرچشمہ کہہ کر پکارتا ہے۔
ترسس سے روم تک: پولس کی زندگی کا سفر
دمشق کے تجربے کے فوراً بعد پولس کو کوئی بڑا اسٹیج نہیں ملا۔ حننیاہ کے ہاتھ رکھنے پر اُس کی بینائی لوٹی، اُس نے بپتسمہ لیا، اور دمشق کے عبادت خانوں میں یسوع کی منادی شروع کر دی۔ نتیجہ؟ قتل کی سازش، اور رات کے وقت دیوار کے سوراخ سے ٹوکرے میں لٹکا کر فرار۔ کلیسیا کا سب سے بڑا مبلغ اپنی خدمت کا آغاز ایک ٹوکرے میں چھپ کر بھاگنے سے کرتا ہے۔ اِس کے بعد گلتیوں 1 کے مطابق اُس نے عربیہ میں وقت گزارا، پھر ترسس اور شام کے علاقوں میں کئی برس گمنامی میں رہا۔ خدا اپنے برتنوں کو جلدی نہیں توڑتے؛ وہ اُنہیں پکاتے ہیں۔
اُس گمنامی کو توڑنے والا آدمی برنباس تھا۔ وہ ترسس جا کر پولس کو ڈھونڈ لایا اور انطاکیہ کی ملی جلی کلیسیا میں اُسے تعلیم دینے کے لیے شامل کر لیا۔ یہی انطاکیہ پولس کا گھر بن گیا اور یہیں سے، روح القدس کی ہدایت پر، پہلا مشنری سفر شروع ہوا۔ قبرص، پسدیا کا انطاکیہ، اکنیم، لسترہ، دربے۔ اِس سفر میں دو باتیں مستقل نمونہ بن گئیں: پہلے عبادت خانے میں منادی، پھر مخالفت، اور پھر غیر قوموں کی طرف رخ۔ لسترہ میں لوگوں نے پہلے اُسے دیوتا سمجھا اور کچھ ہی دیر بعد اُسی کو پتھراؤ کر کے مردہ سمجھ کر شہر سے باہر گھسیٹ دیا۔ پولس اُٹھا، اور اگلے دن پھر چل پڑا۔
پھر ایک بحران آیا جو تلواروں سے زیادہ خطرناک تھا: بعض یہودی مسیحی کہنے لگے کہ غیر قوم کے ایمانداروں کو ختنہ کرانا اور شریعت کی پابندی کرنی ہوگی۔ یہ محض رسم کا جھگڑا نہیں تھا، انجیل کی جان کا سوال تھا۔ اعمال 15 میں یروشلیم کی مجلس نے فیصلہ دیا کہ نجات فضل سے ہے، اور پولس اِس فیصلے کا سب سے پُرجوش محافظ رہا۔ گلتیوں کا خط اِسی جنگ کا میدان ہے۔
دوسرا سفر تلخی سے شروع ہوا۔ پولس اور برنباس کے درمیان یوحنا مرقس کو ساتھ لے جانے پر ایسا اختلاف ہوا کہ دونوں الگ ہو گئے۔ بائبل اِس پر پردہ نہیں ڈالتی اور نہ ہمیں ڈالنا چاہیے: خدا کے بڑے خادم بھی ایک دوسرے سے اُلجھ پڑتے ہیں۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ کہانی یہاں نہیں رکی؛ برسوں بعد پولس نے خود مرقس کو "خدمت کے لیے کارآمد" کہا۔ سیلاس کے ساتھ چلتے ہوئے پولس نے تیمتھیس کو ساتھ لیا، اور ایک رات کے خواب کے ذریعے یورپ کا دروازہ کھلا۔ فلپی میں لُدیہ کا دل کھلا، ایک قیدخانے کی رات آدھی رات کے گیتوں سے گونجی، اور جیل کا داروغہ اپنے گھر کے ساتھ ایمان لے آیا۔ تھسلنیکے، اتھینے، اور پھر کرنتھس، جہاں وہ ڈیڑھ برس رہا اور اَکوِلہ اور پرِسکِلّہ کے ساتھ خیمے سیتا رہا۔
تیسرے سفر کا مرکز افسس تھا، جہاں تین سال کی محنت نے صوبۂ ایشیا کو ہلا دیا۔ اِس دور میں کرنتھیوں اور رومیوں کے خطوط لکھے گئے، اور اِسی دور میں اُس نے وہ فہرست لکھی جو کسی بھی خدمت گزار کو خاموش کر دیتی ہے: کوڑے، قید، جہاز کی تباہی، بھوک، بے خوابی، اور اِن سب کے اوپر کلیسیاؤں کی فکر۔ 2 کرنتھیوں میں وہ اِن سب کو اپنی "فخر" کہتا ہے، مگر اُلٹے معنوں میں: میں اپنی کمزوریوں پر فخر کروں گا۔
آخری سفر یروشلیم کی طرف تھا، ہاتھ میں غیر قوم کی کلیسیاؤں کا چندہ، اور دل میں یہ یقین کہ آگے قید ہے۔ ہیکل میں ہنگامہ ہوا، رومی سپاہیوں نے اُسے بچایا، اور اگلے دو سال قیصریہ کی حراست میں گزرے، فیلکس اور فیستُس اور اگرپا کے سامنے صفائی پیش کرتے ہوئے۔ یہی وہ "بادشاہ" تھے جن کا ذکر اعمال 9:15 میں پہلے ہی ہو چکا تھا۔ قیصر کی اپیل کے بعد وہ روم روانہ ہوا، ملِتہ کے قریب جہاز ٹوٹا، اور بالآخر وہ زنجیروں میں سلطنت کے دل تک پہنچ گیا۔ اعمال کی کتاب یہاں ایک عجیب سکون کے ساتھ ختم ہوتی ہے: پولس کرائے کے مکان میں قید ہے اور بے روک ٹوک بادشاہی کی منادی کر رہا ہے۔
زنجیریں پولس کو باندھ سکیں، کلام کو نہیں۔
اِسی قید میں افسیوں، فلپیوں، کلسیوں اور فلیمون کے خطوط لکھے گئے۔ ابتدائی کلیسیا کی گواہی کے مطابق وہ ایک بار رہا ہوا، کچھ عرصہ مزید سفر کیا، اور پھر نیرو کے دور میں دوبارہ گرفتار ہو کر روم میں شہید ہوا، غالباً تلوار سے۔ اُس کا آخری محفوظ خط 2 تیمتھیس ہے، اور اُس میں وہ فقرہ ہے جو ہر ایماندار کی دعا بن جانا چاہیے: "میں اچھّی کُشتی لڑ چُکا۔ میں نے دَوڑ کو ختم کر لِیا۔ میں نے اِیمان کو محفُوظ رکھّا۔" یہ 2 تیمتھیس 4:7 ہے، ایک قیدی کی زبان سے نکلا ہوا فتح کا اعلان۔
اُن کی زندگی کا مرکز
اگر ہمیں پولس کی پوری زندگی تین لمحوں میں سمیٹنی ہو، تو وہ تینوں لمحے اُس زاویے کی تصدیق کرتے ہیں جس سے ہم چلے تھے: ہر موڑ پر وہ چھوٹا ہوتا گیا اور مسیح بڑا۔
پہلا لمحہ دمشق کی سڑک ہے۔ یہاں اُس کی مذہبی خودکفالت ٹوٹی۔ اُس دن سے پہلے پولس کے پاس ایک بے عیب فہرست تھی: نسب، ختنہ، فریسیت، شریعت کے لحاظ سے بے الزام۔ نُور کے بعد وہی فہرست ردی کے کاغذات بن گئی۔ فلپیوں 3:7 کی اصل چوٹ یہی ہے کہ اُس نے اپنی کامیابیوں کو صرف "کم اہم" نہیں کہا بلکہ "نقصان" کہا، کیونکہ وہی چیزیں اُسے مسیح سے دور رکھے ہوئے تھیں۔ جو آدمی خود کو دیندار سمجھتا تھا، اُسے پتہ چلا کہ وہ خدا کے بیٹے کو ستا رہا تھا۔ توبہ کی سب سے گہری شکل یہی ہوتی ہے: جب ہمارے گناہ ہی نہیں، ہماری نیکیاں بھی ہمیں شرمندہ کریں۔
دوسرا لمحہ کوئی ایک دن نہیں بلکہ ایک لڑائی ہے: انجیل کے فضل کا دفاع۔ انطاکیہ میں پولس نے پطرس کے منہ پر مخالفت کی، کیونکہ پطرس نے دباؤ میں آ کر غیر قوم کے بھائیوں سے کھانا چھوڑ دیا تھا۔ یہ منظر ہمیں بتاتا ہے کہ پولس کے لیے یہ مسئلہ آداب کا نہیں تھا؛ اگر شریعت کے اعمال سے راستبازی مل سکتی ہو تو مسیح کا مرنا بے فائدہ تھا۔ اِسی بحث کی چوٹی پر وہ جملہ آتا ہے جو گلتیوں 2:20 میں لکھا ہے: "مَیں مسِیح کے ساتھ مصلُوب ہُؤا ہُوں اور اب مَیں زِندہ نہ رہا بلکہ مسِیح مُجھ میں زِندہ ہے اور مَیں جو اب جِسم میں زِندگی گُذارتا ہُوں تو خُدا کے بیٹے پر اِیمان لا کر گُذارتا ہُوں جِس نے مُجھ سے مُحبّت رکھّی اور اپنے آپ کو میرے لِئے موت کے حوالہ کر دِیا۔" یہ صرف عقیدہ نہیں، خود شناسی کی نئی بنیاد ہے۔ پولس کی شناخت اب اُس کے حسب نسب یا اُس کے ریکارڈ میں نہیں، بلکہ ایک مصلوب اور جی اُٹھے شخص میں ہے۔
تیسرا لمحہ روم کا قیدخانہ ہے۔ یہاں کوئی تالیاں نہیں، کوئی بڑھتی ہوئی کلیسیا کے اعداد و شمار نہیں۔ ایک بوڑھا آدمی ہے جسے سردی لگتی ہے، جو تیمتھیس سے اپنا چوغہ اور کتابیں منگواتا ہے، جس کے ساتھی ایک ایک کر کے چھوڑ گئے ہیں۔ اور اِسی خالی کمرے سے وہ 2 تیمتھیس 4:7 لکھتا ہے۔ غور کیجیے کہ اُس نے یہ نہیں کہا کہ میں نے بہت کچھ حاصل کر لیا، بلکہ یہ کہ میں نے سونپی ہوئی امانت کی حفاظت کی۔ پولس کے پیمانے پر کامیاب زندگی وہ ہے جو وفاداری کے ساتھ ختم ہو۔ 1 کرنتھیوں 15:9 کا "سب سے چھوٹا" آدمی آخر میں شکایت نہیں کرتا؛ وہ انصاف کے تاج کا انتظار کرتا ہے، اور یہ تاج بھی اپنی محنت کی مزدوری نہیں بلکہ عادل منصف کا انعام ہے۔
پولس رسول سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق: فضل ماضی کو مٹاتا نہیں، اُسے گواہی میں بدل دیتا ہے۔ پولس نے اپنی پرانی زندگی کو کبھی چھپایا نہیں۔ وہ برسوں بعد بھی لکھتا ہے کہ میں نے خدا کی کلیسیا کو ستایا تھا، اور 1 تیمتھیس 1:15 میں تو یہاں تک کہتا ہے: "یہ بات سچ اور ہر طرح سے قبُول کرنے کے لائِق ہے کہ مسِیح یِسُوع گُنہگاروں کو نجات دینے کے لِئے دُنیا میں آیا جِن میں سب سے بڑا میں ہُوں۔" جس نے یہ لکھا وہ آدھی دنیا میں کلیسیائیں لگا چکا تھا۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے ساتھ ہماری قربت ہمیں اپنے گناہ کے بارے میں بے حس نہیں کرتی، بلکہ زیادہ حساس بناتی ہے، اور اُسی حساسیت میں شکرگزاری پیدا ہوتی ہے۔ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ اُن کی کہانی بہت گندی ہے، وہ پولس کو دیکھیں: خدا نے ایک تعصب پرست کو قوموں کا رسول بنایا۔
دوسرا سبق: کمزوری خدمت کی رکاوٹ نہیں، اُس کا راستہ ہے۔ پولس کے جسم میں ایک "کانٹا" تھا جس کے ہٹنے کی اُس نے تین بار دعا کی، اور جواب یہ ملا، 2 کرنتھیوں 12:9 کے مطابق: "میرا فضل تیرے لِئے کافی ہے کیونکہ میری قُدرت کمزوری میں پُوری ہوتی ہے۔" ہم کمزوری کو اپنی گواہی کا داغ سمجھتے ہیں؛ خدا اُسے اپنی قدرت کا اسٹیج بناتے ہیں۔ پولس نے یہ بھی مانا کہ اُس کے اندر جنگ جاری ہے، کہ وہ نیکی کرنا چاہتا ہے مگر ہمیشہ کر نہیں پاتا۔ ایسے آدمی کے قلم سے فضل کی تعلیم آنا حیرت کی بات نہیں۔
تیسرا سبق: وفاداری کا پیمانہ شہرت نہیں بلکہ اختتام ہے۔ پولس نے سب کو خوش نہیں کیا۔ اُس کی زبان کبھی تیز ہو جاتی تھی، اُس نے برنباس سے جدا ہوا، اُس نے سردار کاہن کو ایسا جواب دیا جس پر اُسے خود پیچھے ہٹنا پڑا، اور کئی کلیسیائیں اُس سے ناراض رہیں۔ بائبل اِن کمزوریوں کو مٹاتی نہیں، اور یہی اُس کی سچائی کی دلیل ہے۔ مگر جو بات مستقل رہی وہ راستے کا رخ تھا: وہ ہمیشہ اُسی طرف چلتا رہا جہاں مسیح کا نام ابھی نہ سنا گیا تھا۔ ہمارے لیے سبق یہ ہے کہ روحانی زندگی بے عیب ریکارڈ کا نام نہیں بلکہ ایک ہی سمت میں مسلسل قدم اُٹھانے کا نام ہے۔
خدا سیدھی لکیریں ٹیڑھی قلموں سے لکھتے ہیں۔
آئینہ
اب ذرا خود سے پوچھیے: آپ کی فہرست کیا ہے؟ ہم سب کے پاس ایک فہرست ہوتی ہے جس کے سہارے ہم اپنی قیمت ناپتے ہیں۔ کسی کے لیے یہ ڈگری اور عہدہ ہے، کسی کے لیے اولاد کی کامیابی، کسی کے لیے کلیسیا میں خدمت کے برس، کسی کے لیے یہ کہ اُس نے فلاں گناہ کبھی نہیں کیا۔ پولس کی فہرست ہم سب سے زیادہ متاثر کن تھی، اور اُس نے اُسے نقصان کے خانے میں لکھ دیا۔ اگر آج مسیح آپ سے وہی سوال کریں جو اُنہوں نے دمشق کی سڑک پر کیا تھا، کیا آپ کے پاس بھی کوئی ایسی چیز ہے جس کے چھِن جانے سے آپ کی شناخت زمین پر گر جائے گی؟
یہ سوال دفتر میں چبھتا ہے، جب ترقی کسی اور کو ملتی ہے اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ کی زندگی ضائع ہو رہی ہے۔ یہ گھر میں چبھتا ہے، جب رشتے آپ کی توقع کے مطابق نہیں چل رہے اور آپ خود کو ناکام والدین یا ناکام شریکِ حیات سمجھنے لگتے ہیں۔ یہ آپ کے جسم میں چبھتا ہے، جب بیماری یا عمر آپ سے وہ صلاحیتیں چھین لیتی ہے جن پر آپ فخر کرتے تھے۔ اور یہ تنہائی میں سب سے زیادہ چبھتا ہے، جب لوگ ساتھ چھوڑ دیتے ہیں اور آپ کے پاس صرف آپ کی وفاداری کا خالی کمرہ رہ جاتا ہے۔ پولس نے یہ سب جھیلا۔ اُس نے لکھا کہ میری پہلی پیشی پر سب نے مجھے چھوڑ دیا، مگر خداوند میرے ساتھ رہے اور مجھے تقویت دی۔
اِسی لیے گلتیوں 2:20 آپ کے لیے آزادی کا اعلان ہے، نہ کہ کوئی مشکل عقیدہ۔ اگر آپ کی پرانی زندگی مسیح کے ساتھ مصلوب ہو چکی ہے، تو اب آپ کی قیمت اُس کے فیصلے پر ٹھہری ہے، لوگوں کی رائے یا اپنی کارکردگی پر نہیں۔ آپ کو خود کو ثابت کرنے کی مزدوری سے رہائی مل چکی ہے۔ آج، اپنی فہرست ہاتھ میں لے کر خدا کے سامنے بیٹھیے اور دیانتداری سے پوچھیے: کون سی چیز ہے جسے مجھے نفع کے خانے سے اُٹھا کر مسیح کے قدموں میں رکھ دینا چاہیے؟
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو پولس کی کہانی سنانے کے لیے کسی تمہید کی ضرورت نہیں، صرف ایک سیدھا سوال کافی ہے: "کیا خدا کسی ایسے آدمی کو بھی اپنا دوست بنا سکتے ہیں جو اُن کے دوستوں کو تنگ کرتا تھا؟" پھر انہیں بتائیں کہ ایک آدمی تھا جس کا نام ساؤل تھا۔ وہ سمجھتا تھا کہ وہ ٹھیک کام کر رہا ہے، لیکن وہ یسوع کے ماننے والوں کو ڈرا رہا تھا۔ ایک دن راستے میں آسمان سے ایک بہت تیز روشنی چمکی اور یسوع نے اُس سے بات کی۔ اُس دن کے بعد ساؤل بدل گیا۔ اُس نے دنیا کے بہت سے شہروں کا سفر کیا تاکہ لوگوں کو یسوع کی محبت کے بارے میں بتائے، اور جب اُسے قید میں ڈالا گیا تو وہ وہاں بیٹھ کر خطوط لکھتا رہا، وہی خطوط جو آج ہماری بائبل میں ہیں۔
چھوٹے بچوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے کہ خدا کی محبت اُن سے چھینی نہیں جا سکتی، خواہ اُنہوں نے کوئی غلط کام بھی کیا ہو، کیونکہ خدا نے ساؤل کو بھی معاف کیا۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ نقشہ کھول کر اُس کے سفروں پر انگلی رکھ سکتے ہیں، اور نوجوانوں کے ساتھ اِس سوال پر بات کر سکتے ہیں کہ کیا کوئی بہت مذہبی شخص بھی خدا سے دور ہو سکتا ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر پولس رسول کی زندگی کی الگ الگ عمر کے مطابق وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے ننھے بچوں کے لیے سادہ کہانی، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سفروں اور خطوں سمیت تفصیلی بیان، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے شناخت، فضل اور بلاہٹ کے سوالات پر گہری گفتگو۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ منتخب کریں اور کہانی مل کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پولس رسول کون تھے؟
پولس رسول پہلی صدی کا ایک یہودی عالم تھا جو ترسس شہر میں پیدا ہوا، فریسی تربیت پایا، اور شروع میں مسیحی کلیسیا کا سخت مخالف رہا۔ دمشق کے راستے پر جی اُٹھے خداوند یسوع مسیح سے ملاقات کے بعد وہ غیر یہودی قوموں کا رسول بن گیا۔ اُس نے بحیرۂ روم کے گرد کئی مشنری سفر کیے، بہت سی کلیسیائیں قائم کیں، اور نئے عہد نامے کے تیرہ خطوط لکھے۔ اعمال کی کتاب اُس کی خدمت کا تاریخی بیان دیتی ہے اور اُس کے خطوط اُس کی تعلیم اور دل کا اندرونی نقشہ پیش کرتے ہیں۔
پولس کا نام ساؤل سے پولس کیوں بن گیا؟
عام خیال یہ ہے کہ نئے ایمان کے ساتھ اُس کا نام بدل دیا گیا، مگر بائبل ایسا نہیں کہتی۔ دمشق کے واقعے کے بعد بھی لوقا کئی باب تک اُسے ساؤل ہی کہتا رہا۔ حقیقت یہ ہے کہ اُس کے پاس دو نام تھے، جو رومی دنیا کے یہودیوں میں عام تھا: عبرانی نام ساؤل اور رومی نام پولس۔ اعمال 13 سے آگے، جب اُس کی خدمت کا رخ یونانی رومی دنیا کی طرف ہوا، لوقا نے اُس کا رومی نام استعمال کرنا شروع کر دیا، کیونکہ وہی نام اُس کے سامعین کے لیے مانوس تھا۔
پولس نے بائبل کی کتنی کتابیں لکھیں؟
روایتی طور پر نئے عہد نامے کے تیرہ خطوط پولس کے نام سے منسوب ہیں: رومیوں، 1 اور 2 کرنتھیوں، گلتیوں، افسیوں، فلپیوں، کلسیوں، 1 اور 2 تھسلنیکیوں، 1 اور 2 تیمتھیس، تیتس اور فلیمون۔ عبرانیوں کے خط کا مصنف نامعلوم ہے اور خط خود اپنے لکھنے والے کا نام نہیں دیتا، اِس لیے اُسے پولس کے خطوط میں شمار نہیں کیا جاتا۔ اِن خطوط میں کچھ کلیسیاؤں کے نام ہیں، کچھ افراد کے نام، اور چار قید کی حالت میں لکھے گئے۔
کیا پولس نے یسوع کو اُن کی زمینی زندگی میں دیکھا تھا؟
اِس کا کوئی ثبوت نہیں کہ پولس نے مسیح کی خدمت کے دنوں میں اُنہیں دیکھا ہو، اور وہ خود اپنی گواہی کی بنیاد ایک بعد کے تجربے پر رکھتا ہے۔ 1 کرنتھیوں 15 میں جی اُٹھنے کے گواہوں کی فہرست دیتے ہوئے وہ خود کو سب سے آخر میں رکھتا ہے، ایک ایسے شخص کے طور پر جس پر خداوند نے سب کے بعد ظاہر ہو کر رحم کیا۔ اُس کی رسولی حیثیت کی بنیاد دمشق کے راستے کا وہ ظہور ہے، جس کے بعد وہ کہہ سکا کہ اُس نے خداوند کو دیکھا ہے۔
پولس رسول کی موت کیسے ہوئی؟
بائبل اُس کی موت کا بیان نہیں دیتی؛ اعمال کی کتاب اُسے روم میں نظربندی کی حالت میں منادی کرتے ہوئے چھوڑ دیتی ہے۔ ابتدائی کلیسیا کی مضبوط اور قدیم گواہی یہ ہے کہ نیرو کے دور میں، تقریباً چھٹی دہائی کے آخر میں، پولس روم میں شہید ہوا اور رومی شہری ہونے کی وجہ سے اُسے تلوار سے قتل کیا گیا۔ 2 تیمتھیس 4:7 کے الفاظ اِسی انجام کے قریب لکھے گئے لگتے ہیں، جہاں وہ اپنی دوڑ کو ختم شدہ اور اپنی روانگی کو قریب بتاتا ہے۔
پولس کے "جسم کا کانٹا" کیا تھا؟
پولس 2 کرنتھیوں 12 میں ایک ایسی تکلیف کا ذکر کرتا ہے جسے وہ "جسم میں کانٹا" کہتا ہے، مگر وہ اُس کی نوعیت نہیں بتاتا۔ تاریخ میں لوگوں نے کئی اندازے لگائے: آنکھوں کی بیماری، کوئی مستقل جسمانی درد، ملیریا جیسی تکلیف، یا مسلسل مخالفت اور ستائو۔ کلام کی خاموشی خود ایک رحمت ہے، کیونکہ اِس طرح ہر ایماندار اپنی تکلیف اُس جگہ رکھ سکتا ہے۔ اہم بات وہ جواب ہے جو پولس کو ملا: خدا کا فضل کافی ہے اور اُن کی قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔
کیا پولس رسول شادی شدہ تھے؟
جب پولس یہ لکھتا ہے تو وہ اپنی موجودہ حالت کو غیر شادی شدہ بتاتا ہے اور 1 کرنتھیوں 7 میں غیر شادی شدہ لوگوں کو اپنے جیسا رہنے کی ترغیب دیتا ہے، اگر وہ اِس پر قائم رہ سکیں۔ کچھ محققین کا خیال ہے کہ فریسی ہونے کے ناتے وہ پہلے شادی شدہ رہا ہو گا اور بیوہ ہوا، مگر یہ محض قیاس ہے۔ صاف بات یہ ہے کہ اپنی خدمت کے دوران وہ تنہا رہا، اور اُس نے شادی اور تنہائی، دونوں کو خدا کی طرف سے دی گئی نعمت کہا، نہ کہ ایک کو دوسری سے کم درجہ۔
پولس اور پطرس کے درمیان جھگڑا کس بات پر ہوا؟
گلتیوں 2 کے مطابق انطاکیہ میں پطرس پہلے غیر قوم کے ایمانداروں کے ساتھ آزادی سے کھاتا پیتا تھا، مگر جب یروشلیم سے کچھ لوگ آئے تو وہ ڈر کر الگ ہو گیا۔ پولس نے سب کے سامنے اُس کی مخالفت کی، کیونکہ یہ رویہ عملاً یہ کہہ رہا تھا کہ غیر قوم کے ایماندار دوسرے درجے کے ہیں اور نجات کے لیے شریعت کی پابندی ضروری ہے۔ یہ ذاتی رنجش نہیں بلکہ انجیل کی سچائی کا دفاع تھا، اور 2 پطرس میں پطرس کا پولس کو "ہمارا پیارا بھائی" کہنا بتاتا ہے کہ رشتہ ٹوٹا نہیں۔
کیا پولس نے یسوع کی تعلیم بدل کر ایک نیا مذہب بنایا؟
یہ اعتراض عام ہے مگر تاریخ اور کلام دونوں اِس کے خلاف ہیں۔ پولس کی ساری منادی کا مرکز مسیح کی صلیب، دفن اور تیسرے دن جی اُٹھنا ہے، اور وہ خود کہتا ہے کہ اُس نے یہ پیغام گھڑا نہیں بلکہ پایا ہے۔ اُس نے یروشلیم جا کر رسولوں کے سامنے اپنی خدمت رکھی اور اُنہوں نے اُسے رفاقت کا ہاتھ دیا۔ خداوند یسوع مسیح نے خود فرمایا تھا کہ توبہ اور گناہوں کی معافی کی منادی سب قوموں میں کی جائے گی؛ پولس بالکل وہی کر رہا تھا۔
پولس خود کو "گنہگاروں میں سب سے بڑا" کیوں کہتے ہیں؟
یہ عاجزی کا کوئی رسمی جملہ نہیں تھا۔ پولس کے ذہن میں ایک مخصوص یاد تھی: اُس نے ایمانداروں کو گھروں سے نکالا، اُن کے قتل پر رضامندی دی، اور کلیسیا کو مٹانے کی کوشش کی۔ 1 کرنتھیوں 15:9 میں وہ اِسی بنیاد پر خود کو رسولوں میں سب سے چھوٹا کہتا ہے۔ جتنا وہ مسیح کے نور کے قریب گیا، اتنا ہی اپنے ماضی کی سنگینی اُس پر واضح ہوئی۔ اور یہی احساس اُس کے فضل کے پیغام کی گرمی کا سبب بنا: جس نے مجھے قبول کیا، وہ کسی کو رد نہیں کرے گا۔
پولس نے کتنے مشنری سفر کیے؟
اعمال کی کتاب میں تین بڑے مشنری سفر واضح طور پر بیان ہوئے ہیں: پہلا قبرص اور جنوبی گلتیہ کی طرف، دوسرا یورپ میں فلپی، تھسلنیکے، اتھینے اور کرنتھس تک، اور تیسرا افسس کو مرکز بنا کر تین سال کی طویل خدمت۔ اِس کے بعد قیدی کی حالت میں روم کا سفر ہوا، جسے کئی لوگ چوتھا سفر کہتے ہیں۔ اُس کے خطوط اور ابتدائی روایت سے یہ اشارہ بھی ملتا ہے کہ پہلی قید سے رہائی کے بعد اُس نے مزید سفر کیے، ممکنہ طور پر کریتے اور مکدنیہ کی طرف۔
پولس نے قید میں کون سے خط لکھے؟
روایتی طور پر چار خطوں کو "قید کے خطوط" کہا جاتا ہے: افسیوں، فلپیوں، کلسیوں اور فلیمون۔ اِن میں پولس اپنی زنجیروں کا ذکر کرتا ہے، مگر لہجہ شکایت کا نہیں بلکہ اطمینان اور خوشی کا ہے؛ فلپیوں میں تو خوشی کا حکم بار بار آتا ہے۔ 2 تیمتھیس بھی قید سے لکھا گیا ہے، مگر اُس کا ماحول زیادہ سنگین ہے، جیسے مقدمے کا فیصلہ قریب ہو۔ یہ خطوط ثابت کرتے ہیں کہ خدا کا کلام باندھا نہیں جا سکتا، خواہ اُس کا خادم زنجیروں میں ہو۔
اختتام میں
پولس کی کہانی اُس نُور سے شروع ہوتی ہے جو اعمال 9:3 میں چمکا اور اُس اعتماد پر ختم ہوتی ہے جو 2 تیمتھیس 4:7 میں لکھا گیا، اور اِن دو آیتوں کے درمیان ایک ہی سمت میں سفر ہے: آدمی چھوٹا ہوتا جاتا ہے اور مسیح بڑا۔ فریسی سے "سب سے چھوٹا رسول"، اور "سب سے چھوٹے رسول" سے "مسیح کا قیدی"۔ یہی ترتیب فضل کے کام کی پہچان ہے۔ اگر ہم اپنی روحانی ترقی کو اپنے بڑھتے ہوئے وقار سے ناپیں گے تو ہم غلط سیڑھی چڑھ رہے ہیں۔
اِس صفحے کو یہاں ختم نہ کریں۔ اگلا قدم یہ ہو کہ آپ اعمال کی کتاب کے باب 9 سے 28 تک کو ایک ہی نشست میں کہانی کی طرح پڑھیں، اور پھر گلتیوں اور فلپیوں کو ساتھ رکھ کر دیکھیں کہ وہی آدمی اپنی زبان سے اپنے تجربے کی تشریح کیسے کرتا ہے۔ اور جب آپ فلپیوں 3:7 پر پہنچیں، تو رُک جائیں۔ قلم اُٹھائیں، اپنی "نفع" کی فہرست لکھیں، اور خدا سے پوچھیں کہ اُس میں سے کیا اُنہیں سونپ دینا ہے۔ فضل ہمیشہ اِسی طرح کام کرتا ہے: پہلے ہمیں گراتا ہے، پھر اُٹھاتا ہے، اور آخر میں ہمیں ایک ایسی دوڑ سونپ دیتا ہے جسے پورا کرنا ممکن ہے۔
