توما رسول: شک سے ایمان تک کا سفر
تعارف
آٹھ دن۔
ذرا اُن آٹھ دنوں کا تصوّر کیجیے۔ باقی گیارہ شاگرد ایک ہی بات دہرا رہے ہیں: "ہم نے خداوند کو دیکھا ہے!" اُن کے چہرے دمک رہے ہیں، اُن کی آوازوں میں جوش ہے، اور کمرے کے ایک کونے میں ایک آدمی بیٹھا ہے جس کے دل میں کچھ نہیں جاگتا۔ نہ خوشی، نہ اطمینان۔ صرف ایک خالی پن جسے دوسروں کی گواہی بھر نہیں سکتی۔ وہ آدمی توما ہے، اُن بارہ میں سے ایک، جس نے کچھ عرصہ پہلے سب سے پہلے کہا تھا کہ وہ یسوع کے ساتھ مرنے کو تیار ہے۔
ہم نے اُسے ایک لقب دے دیا ہے: "شک کرنے والا توما"۔ مگر انجیل اُسے یہ نام کبھی نہیں دیتی۔ اِس صفحے پر ہم توما کی پوری کہانی ترتیب سے دیکھیں گے: اُس کی جرأت، اُس کی اُلجھن، اُس کا زخم، اور وہ لمحہ جب اُس کے منہ سے نئے عہدنامے کا سب سے بلند اعتراف نکلا۔ اور ہم دیکھیں گے کہ یہ کہانی آپ کی کہانی سے کتنی ملتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ صفحہ توما کو "شک کرنے والے" کے طور پر پیش نہیں کرتا، بلکہ اُس شاگرد کے طور پر جو ادھورے ایمان پر راضی نہ ہوا۔ توما کا اصل مسئلہ عقل کا نہیں، محبت کا تھا: وہ جسے چاہتا تھا، اُس کی صرف خبر سننے پر قناعت نہ کر سکا۔ اور غور کیجیے کہ اُس کے شک کا علاج کوئی دلیل، کوئی منطق یا کوئی مباحثہ نہ تھا۔ علاج دو چیزیں تھیں: مسیح کے زخم، اور جماعت کی رفاقت میں واپسی۔ توما تنہائی میں شک کے اندھیرے میں ڈوبا، اور جماعت کے درمیان نور میں آیا۔ یہی زاویہ اِس پورے صفحے کی روح ہے، کیونکہ آج بھی ایمان اکیلے کمرے میں نہیں، بلکہ مسیح کی موجودگی اور اُس کے لوگوں کے بیچ سانس لیتا ہے۔
بائبل توما رسول کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
توما کا نام چاروں انجیلوں اور اعمال کی کتاب میں رسولوں کی فہرستوں میں آتا ہے: متی 10:3، مرقس 3:18، لوقا 6:15 اور اعمال 1:13۔ اِن فہرستوں میں وہ محض ایک نام ہے، بغیر کسی تفصیل کے۔ اگر ہمارے پاس صرف یہی تینوں انجیلیں ہوتیں تو ہم توما کے بارے میں کچھ بھی نہ جانتے۔ یہ یوحنا کی انجیل ہے جو پردہ اُٹھاتی ہے اور ہمیں چار مواقع پر اُس کے قریب لے جاتی ہے، اور ہر بار ہم ایک جیتا جاگتا، بولتا، سوال کرتا، محبت کرتا انسان دیکھتے ہیں۔
اُس کا نام خود ایک اشارہ ہے۔ "توما" آرامی لفظ سے ہے جس کا مطلب "جڑواں" ہے، اور یونانی میں اُس کا ترجمہ "توام" یعنی دیدومس ہوا۔ کلامِ مقدس ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ اُس کا جڑواں بھائی یا بہن کون تھی۔ مگر کلیسیا میں صدیوں سے ایک پیاری بات کہی جاتی ہے: توما ہر اُس ایماندار کا جڑواں ہے جو دل میں محبت بھی رکھتا ہے اور سوال بھی۔
پہلی بار ہم اُسے اُس وقت سنتے ہیں جب یسوع لعزر کی موت کے بعد یہودیہ لوٹنے کا ارادہ فرماتے ہیں، اُس علاقے میں جہاں کچھ ہی دن پہلے لوگ اُنہیں سنگسار کرنے کے لیے پتھر اُٹھا چکے تھے۔ شاگرد خوف زدہ ہیں، اور توما بولتا ہے: "اِس پر توما نے جو توام کہلاتا ہے اپنے ہم شاگردوں سے کہا آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مریں۔" (یوحنا 11:16) یہ شک کرنے والے کی آواز نہیں۔ یہ اُس آدمی کی آواز ہے جو اپنے خداوند کے ساتھ قبر تک جانے کو تیار ہے، چاہے اُسے اُمید کی کوئی کرن نظر نہ آ رہی ہو۔ توما مایوسی اور وفاداری کو ایک ہی سانس میں جوڑ دیتا ہے۔
دوسری بار وہ بالاخانے میں بولتا ہے، جب یسوع اپنے جانے کی بات فرما رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ شاگرد راہ جانتے ہیں۔ توما خاموش نہیں رہتا: "توما نے اُس سے کہا اَے خداوند ہمیں یہ معلوم نہیں کہ تُو کہاں جاتا ہے۔ پھر راہ کیونکر معلوم ہو؟" (یوحنا 14:5) یہ سوال پوچھنا آسان نہ تھا۔ باقی سب غالباً یہی سوچ رہے تھے، مگر کہنے کی جرأت ایک نے کی۔ اور اُس ایک سوال کے جواب میں وہ جملہ آیا جو صدیوں سے لاکھوں دلوں کی روشنی ہے: "یسوع نے اُس سے کہا راہ اور حق اور زندگی مَیں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔" (یوحنا 14:6) غور کیجیے: توما کی اُلجھن نے ہمیں خزانہ دیا۔
تیسری اور سب سے مشہور ملاقات قیامت کے بعد ہے۔ یوحنا بڑی احتیاط سے ایک تفصیل لکھتا ہے جو اکثر نظر انداز ہو جاتی ہے: جب یسوع پہلی بار شاگردوں پر ظاہر ہوئے، توما وہاں موجود نہ تھا۔ اور جب اُسے خبر ملی، اُس نے کہا: "پس دوسرے شاگردوں نے اُس سے کہا ہم نے خداوند کو دیکھا ہے۔ مگر اُس نے اُن سے کہا جب تک مَیں اُس کے ہاتھوں میں میخوں کے سُوراخ نہ دیکھ لوں اور اپنی اُنگلی اُن سُوراخوں میں نہ ڈالوں اور اپنا ہاتھ اُس کی پسلی میں نہ ڈالوں ہرگز یقین نہ کروں گا۔" (یوحنا 20:25)
یہ سخت الفاظ ہیں، مگر ان میں ایک بات چھپی ہے جسے سمجھنا ضروری ہے۔ توما نے کسی فرشتے، کسی روشنی، کسی عجوبے کی فرمائش نہیں کی۔ اُس نے زخم مانگے۔ وہ کسی اور مسیح کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھا سوائے اُس کے جو مصلوب ہوا تھا۔ اُس کا شک دراصل ایک گہری وفاداری کی اُلٹی شکل تھی: جس کو اُس نے صلیب پر مرتے دیکھا تھا، اُسی کو وہ زندہ دیکھنا چاہتا تھا۔
چوتھی بار وہ گلیل کی جھیل پر مچھلی پکڑنے والوں میں شامل ہے (یوحنا 21:2)، اور پھر اعمال 1:13 میں اُن کے ساتھ ہے جو یروشلم کے بالاخانے میں دعا میں مشغول ہیں، روحُ القدس کے وعدے کے منتظر۔ شک کرنے والا توما دعا کرنے والا توما بن چکا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
توما کی کہانی آسمان سے اچانک نہیں ٹپکتی۔ وہ ایک لمبے سلسلے کی ایک کڑی ہے، اُن لوگوں کا سلسلہ جنہوں نے خدا سے سوال کیے اور خدا نے اُنہیں رد نہیں کیا۔
ابرہام کو وعدہ ملا تھا، پھر بھی اُس نے پوچھا کہ مَیں کیونکر جانوں کہ مَیں اِس کا وارث ہوں گا، اور خدا نے جواب میں ایک عہد باندھا۔ موسیٰ نے جلتی ہوئی جھاڑی کے سامنے بہانے پیش کیے، اور خدا نے نشان دیا۔ جدعون نے اُون کا ٹکڑا رکھ کر دو بار آزمایا، اور خدا نے اُس کی کمزوری پر صبر فرمایا۔ حبقوق نبی نے کھلے لفظوں میں شکایت کی کہ اَے خداوند مَیں کب تک پکاروں، اور خدا نے اُسے چپ نہیں کرایا بلکہ ایک ایسا جواب دیا جس سے نئے عہدنامے کا نعرہ نکلا: راستباز ایمان سے جیتا رہے گا۔ زبور کی کتاب شکایت کرنے والوں کی دعاؤں سے بھری ہے، اور وہ دعائیں خدا نے خود اپنے کلام میں محفوظ کیں۔
خدا اپنے بندوں کے سوالوں سے نہیں گھبراتا۔
مگر پرانا عہدنامہ ایک اَور لکیر بھی کھینچتا ہے جو سیدھی توما تک پہنچتی ہے: چھدے ہوئے کی لکیر۔ یسعیاہ نبی نے لکھا کہ وہ ہمارے گناہوں کے سبب سے چھدا گیا اور اُس کی کوڑوں سے ہم نے شفا پائی۔ زکریاہ نبی نے فرمایا کہ وہ مجھ پر جسے اُنہوں نے چھیدا نظر کریں گے۔ یوحنا صلیب کے بیان میں خود اِس نبوّت کا حوالہ دیتا ہے جب سپاہی نے یسوع کی پسلی میں برچھی ماری۔ اور پھر، قیامت کے بعد، وہی پسلی، وہی سوراخ، توما کے سامنے پیش کیے جاتے ہیں۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سب کچھ مسیح میں آ کر جمع ہو جاتا ہے۔ پرانے عہدنامے میں لوگ نشان مانگتے تھے، اور خدا اُنہیں باہر سے نشان دیتا تھا: آگ، بادل، اُون، بارش۔ نئے عہدنامے میں خدا نشان نہیں بھیجتا، وہ خود آتا ہے۔ وہ اپنا جسم لے کر آتا ہے، اور اُس جسم پر ہمارے گناہ کے نشان باقی رہتے ہیں۔ قیامت نے زخم مٹائے نہیں، زخموں کو جلال بخشا۔ یہ عجیب بات ہے: نئی مخلوق کے پہلے بشر کے بدن پر پرانی دنیا کے ظلم کے نشان قائم ہیں، اِس لیے کہ وہ نشان اب الزام نہیں بلکہ محبت کی سند ہیں۔
اور سلسلہ توما پر ختم نہیں ہوتا۔ یسوع نے اُس سے جو آخری بات فرمائی، وہ دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک برکت تھی: "یسوع نے اُس سے کہا تُو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے۔" (یوحنا 20:29) اور چند دہائیوں بعد پطرس رسول اُن لوگوں کو خط لکھتا ہے جنہوں نے یسوع کو کبھی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھا: "اُس سے تم بے دیکھے محبت رکھتے ہو اور اگرچہ اِس وقت اُس کو نہیں دیکھتے تَو بھی اُس پر ایمان لا کر اَیسی خوشی کرتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے پُری ہے۔" (1 پطرس 1:8) توما کے لیے کہی گئی برکت پطرس کی قلم سے ہماری برکت بن گئی۔ ہم اُس مبارک جماعت میں شامل ہیں جس کا ذکر خداوند نے اُس بالاخانے میں فرمایا تھا۔
ان کی زندگی کا مرکز
توما کی زندگی میں تین لمحے ایسے ہیں جن پر سب کچھ گھومتا ہے، اور ان تینوں میں ایک ہی بات مشترک ہے: ہر بار وہ اپنے دل کی بات چھپاتا نہیں، کہہ دیتا ہے۔
پہلا لمحہ: قبر کی طرف جانے کی تیاری۔ لعزر مر گیا ہے، اور یسوع یہودیہ لوٹنا چاہتے ہیں جہاں موت کا خطرہ ہے۔ شاگرد ہچکچاتے ہیں۔ تب توما کہتا ہے: "آؤ ہم بھی چلیں تاکہ اُس کے ساتھ مریں۔" (یوحنا 11:16) یہاں ہمیں ایک ایسا آدمی ملتا ہے جس کی وفاداری اُس کی اُمید سے بڑی ہے۔ اُسے یقین ہے کہ یہ سفر موت پر ختم ہو گا، اور پھر بھی وہ چلنے کو تیار ہے۔ اِسے ہلکا نہ سمجھیے۔ جب پطرس نے بہادری کے دعوے کیے، وہ ٹوٹ گئے؛ توما نے بہادری کا دعویٰ نہیں کیا، صرف محبت کا فیصلہ کیا۔ یہی آدمی ہے جسے ہم بعد میں "شک کرنے والا" کہتے ہیں۔
دوسرا لمحہ: وہ سوال جس نے ہمیں راہ دکھائی۔ آخری رات، جب باقی سب ادب میں خاموش تھے، توما نے اپنی ناسمجھی کا اعتراف کیا: "اَے خداوند ہمیں یہ معلوم نہیں کہ تُو کہاں جاتا ہے۔ پھر راہ کیونکر معلوم ہو؟" (یوحنا 14:5) یہ ایمان کی کمزوری نہیں، ایمان کی ایمانداری ہے۔ اور خداوند نے اُسے جھڑکا نہیں؛ اُنہوں نے اُسے اپنی ذات دے دی۔ راہ کوئی نقشہ نہیں، ایک شخص ہے۔ توما ایک پتہ پوچھ رہا تھا، اور اُسے ایک رشتہ مل گیا۔
تیسرا لمحہ: آٹھویں دن کا اعتراف۔ یہاں ہمیں پوری دیانت سے توما کی کمزوری دیکھنی ہو گی۔ قیامت کی شام وہ جماعت کے ساتھ نہ تھا، اور یوحنا اِس غیر حاضری کو خاص طور پر درج کرتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ جب مسیح آئے، توما نے کھو دیا۔ غم نے اُسے تنہائی میں دھکیل دیا، اور تنہائی نے اُس کے غم کو سخت کر دیا۔ اُس کے الفاظ "ہرگز یقین نہ کروں گا" (یوحنا 20:25) محض تحقیق کی طلب نہیں، ایک بند ہوتے دل کی آواز ہیں۔
اور پھر آٹھ دن بعد، دروازے بند، اور خداوند پھر تشریف لاتے ہیں۔ وہ توما پر ناراض نہیں ہوتے، وہ اُس کی شرط دہراتے ہیں، لفظ بہ لفظ، گویا اُنہوں نے اُس کے دل کی ہر سرگوشی سن رکھی تھی: "پھر اُس نے توما سے کہا اپنی اُنگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ پاس لا کر میری پسلی میں ڈال اور بے اعتقاد نہ ہو بلکہ اعتقاد رکھ۔" (یوحنا 20:27) یہ فضل ہے: مسیح اُس شخص کے پاس اُس کی شرائط پر آتے ہیں تاکہ اُسے اپنی شرائط سے آزاد کر دیں۔
اور توما کے منہ سے وہ کلمہ نکلتا ہے جو چاروں انجیلوں میں مسیح کے بارے میں سب سے بلند اعتراف ہے: "توما نے جواب میں اُس سے کہا اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!" (یوحنا 20:28) جو سب سے پیچھے رہ گیا تھا، وہ سب سے آگے پہنچ گیا۔ انجیل کے آغاز میں لکھا تھا کہ کلام خدا تھا؛ انجیل کے انجام پر ایک انسان گھٹنوں پر گر کر وہی سچائی پکارتا ہے۔
توما سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق: اپنے سوال خدا سے چھپانے کی ضرورت نہیں۔ توما نے اپنے شک کو مقدّس زبان میں لپیٹا نہیں، کھل کر رکھ دیا، اور خداوند نے اُسے جماعت سے نکالا نہیں۔ بہت سے ایماندار برسوں تک ایک ایسی خاموشی ڈھوتے ہیں جس میں سوال سڑ کر بے اعتقادی بن جاتے ہیں، کیونکہ اُنہیں سکھایا گیا کہ پوچھنا بے ادبی ہے۔ مگر بائبل گواہی دیتی ہے کہ خدا نے اپنے بندوں کی شکایتوں کو اپنی کتاب میں جگہ دی۔ جو شک آپ خدا کے سامنے لے آتے ہیں، وہ دعا بن جاتا ہے؛ جو شک آپ دل میں چھپا لیتے ہیں، وہ دیوار بن جاتا ہے۔
دوسرا سبق: ایمان تنہائی میں نہیں پلتا۔ توما کا سب سے تاریک لمحہ تب آیا جب وہ جماعت سے الگ تھا، اور اُس کا سب سے روشن لمحہ تب آیا جب وہ لوٹ آیا۔ یہی ہماری زندگی کا نمونہ ہے۔ جب دل ٹوٹتا ہے تو پہلا وسوسہ یہی ہوتا ہے کہ لوگوں سے دور ہو جاؤ، عبادت چھوڑ دو، کسی کو دل کی بات نہ بتاؤ۔ مگر مسیح نے خود کو جمع ہوئی جماعت کے درمیان ظاہر فرمایا۔ اگر توما اُس آٹھویں دن بھی گھر بیٹھا رہتا، تو ہمارے پاس یوحنا 20:28 نہ ہوتا۔
حاضری ہی اکثر ایمان کا پہلا قدم ہوتی ہے۔
تیسرا سبق: ایمان کا انجام معلومات نہیں، عبادت ہے۔ توما نے جب تحقیق پوری کی تو وہ کوئی بیان جاری نہیں کرتا، کسی نظریے کا اعلان نہیں کرتا۔ وہ پکارتا ہے: "اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!" دو بار لفظ "میرے" آتا ہے۔ یہ صرف عقیدہ نہیں، تعلق ہے۔ اور یہی بات پطرس اُن لوگوں میں دیکھتا ہے جنہوں نے مسیح کو دیکھا ہی نہیں: "اُس پر ایمان لا کر اَیسی خوشی کرتے ہو جو بیان سے باہر اور جلال سے پُری ہے۔" (1 پطرس 1:8) سچا ایمان ہمیشہ محبت اور خوشی پر منتج ہوتا ہے، ورنہ وہ صرف معلومات ہے۔ توما ہمیں سکھاتا ہے کہ تحقیق کی منزل سجدہ ہے۔
آئینہ
آپ کے آٹھ دن کون سے ہیں؟
شاید آپ وہ شخص ہیں جس نے ایک دعا برسوں تک دہرائی اور آسمان خاموش رہا۔ بچہ نہیں ہوا۔ نوکری نہیں ملی۔ ویزا نہیں آیا۔ رپورٹ وہی پرانی خبر لے کر لوٹ آئی۔ اور اب جب لوگ گواہی دیتے ہیں، "خدا نے میرے لیے یہ کیا، خدا نے میرے لیے وہ کیا"، آپ کے دل میں خوشی نہیں، ایک ہلکی سی چبھن اُٹھتی ہے۔ آپ کو شرم آتی ہے کہ آپ خوش نہیں ہو سکتے۔ توما اُسی کونے میں بیٹھا تھا۔
شاید آپ کا زخم رشتوں کا ہے۔ گھر میں وہ آدمی آپ کو پہچانتا ہی نہیں جس کے ساتھ آپ بیس سال سے رہ رہے ہیں۔ یا اولاد نے ایمان چھوڑ دیا اور آپ ہر اتوار مسکرا کر بیٹھتے ہیں جبکہ اندر سے سوال اُٹھتا ہے کہ کیا یہ سب سچ ہے۔ شاید پیسے کی تنگی نے آپ کی عزتِ نفس کاٹ دی، یا بدن کی بیماری نے آپ کو تھکا دیا، یا تنہائی نے اتنا لمبا عرصہ لے لیا کہ آپ کو یاد ہی نہیں کہ کسی کے ساتھ ہنسنا کیسا ہوتا ہے۔
سنیے: مسیح اُس کمرے میں آئے جہاں دروازے بند تھے۔ اُنہوں نے توما سے یہ نہیں کہا کہ "پہلے اپنا شک درست کرو، پھر آؤ"۔ اُنہوں نے اپنے زخم پیش کیے۔ وہ آج بھی اپنے ایمانداروں کے پاس زخموں کے ساتھ آتے ہیں، اِس لیے کہ صرف ایک زخمی مسیح ہی زخمی دل کو تسلی دے سکتا ہے۔
مگر ایک بات صاف کہنی ہے، کیونکہ محبت صاف بولتی ہے۔ توما کا شک معصوم نہ تھا؛ اُس نے کہا تھا "ہرگز یقین نہ کروں گا"۔ جب ہم اپنی تکلیف کو عبادت چھوڑنے، جماعت سے کٹنے، اور دل پر تالا لگانے کا جواز بنا لیتے ہیں تو ہم خود اُس دروازے کو روک رہے ہوتے ہیں جس سے فضل آتا ہے۔ اِس اتوار کو اُس کمرے میں بیٹھے رہیے جہاں خدا کے لوگ جمع ہوتے ہیں، چاہے آپ کے پاس گانے کی طاقت نہ ہو۔ کسی ایک بھروسے کے آدمی سے اپنے شک کا ذکر کیجیے۔ اور اپنی دعا میں وہ جملہ شامل کیجیے جو ایک باپ نے مسیح سے کہا تھا: مَیں ایمان رکھتا ہوں، میری بے اعتقادی کا علاج کر۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو توما کی کہانی سنانا آسان ہے، کیونکہ بچے خود سوال پوچھنے والے ہوتے ہیں۔ شروع ایک سادہ منظر سے کیجیے: ایک دوست تھا جس کا نام توما تھا، اور وہ یسوع سے بہت محبت کرتا تھا۔ جب یسوع صلیب پر دکھ اُٹھا کر مر گئے، توما کا دل بہت ٹوٹ گیا۔ پھر اُس کے دوست دوڑتے ہوئے آئے اور کہا کہ یسوع زندہ ہو گئے ہیں! مگر توما نے کہا، "مَیں یقین نہیں کروں گا جب تک خود نہ دیکھ لوں۔"
یہاں بچوں سے پوچھیے: اگر تمہیں کوئی ایسی خبر سنائے جو بہت اچھی ہو مگر ناممکن لگے، تم کیا کرو گے؟ پھر اُنہیں بتائیے کہ یسوع نے توما کو ڈانٹا نہیں۔ وہ خود چل کر اُس کے پاس آئے اور اپنے ہاتھ دکھائے اور فرمایا، دیکھ لے، مَیں واقعی زندہ ہوں۔ اور توما نے کہا، "اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!"
بچوں کے لیے سبق ایک جملے میں یہ ہے: یسوع اُن بچوں سے ناراض نہیں ہوتے جو سوال پوچھتے ہیں؛ وہ اُن کے قریب آتے ہیں۔ یہ بات اُن کے دل میں ایمان اور حفاظت دونوں بوتی ہے۔
ہر عمر کو اپنی زبان چاہیے۔ اِسی لیے فیتھ نیٹ ورک پر توما کی کہانی کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین تا چھ سال) کے لیے ایک مختصر، تصویری انداز؛ اسکول جانے والے بچوں (سات تا بارہ سال) کے لیے کہانی کے ساتھ سوال و جواب؛ اور نوعمروں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے وہ گہرے سوالات جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، مثلاً یہ کہ ایمان اور ثبوت کا رشتہ کیا ہے اور شک کے ساتھ ایمانداری سے کیسے جیا جائے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
توما رسول کون تھے؟
توما یسوع مسیح کے بارہ رسولوں میں سے ایک تھے۔ اُن کا نام چاروں انجیلوں اور اعمال کی کتاب کی رسولی فہرستوں میں آتا ہے، یعنی متی 10:3، مرقس 3:18، لوقا 6:15 اور اعمال 1:13۔ مگر اُن کی شخصیت ہمیں صرف یوحنا کی انجیل میں کھل کر نظر آتی ہے، جہاں وہ چار بار سامنے آتے ہیں: یسوع کے ساتھ مرنے کی پیشکش کرتے ہوئے، بالاخانے میں راہ کا سوال پوچھتے ہوئے، قیامت کے بعد ثبوت مانگتے ہوئے، اور گلیل کی جھیل پر دوسرے شاگردوں کے ساتھ۔ آخر میں وہ یروشلم میں دعا کرنے والی جماعت کا حصہ ہیں۔
توما کو "شک کرنے والا توما" کیوں کہا جاتا ہے؟
یہ لقب بائبل میں کہیں نہیں ملتا؛ یہ بعد کی کلیسیائی زبان سے آیا ہے۔ اِس کی بنیاد یوحنا 20:25 ہے، جہاں توما نے کہا کہ جب تک وہ میخوں کے سوراخ نہ دیکھ لے اور اپنا ہاتھ مسیح کی پسلی میں نہ ڈالے، وہ ہرگز یقین نہ کرے گا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ایک لمحے کا شک اُن کی پہچان بن گیا، جبکہ اُسی شخص نے سب سے پہلے کہا تھا کہ آؤ ہم بھی خداوند کے ساتھ مرنے کو چلیں، اور اُسی کے منہ سے انجیل کا بلند ترین اعتراف نکلا۔
توما کا نام "توام" کیوں ہے؟ کیا اُن کا کوئی جڑواں بھائی تھا؟
"توما" آرامی لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب جڑواں ہے، اور یونانی میں اِسی کا ترجمہ "دیدومس" یعنی توام کیا گیا، جیسا کہ یوحنا 11:16 اور یوحنا 20:24 میں لکھا ہے۔ کلامِ مقدس ہمیں یہ نہیں بتاتا کہ اُن کا جڑواں بھائی یا بہن کون تھا، اور اِس بارے میں تمام اندازے محض قیاس ہیں۔ کلیسیا میں ایک روحانی اطلاق مشہور ہے: توما ہر اُس ایماندار کا جڑواں ہے جو دل میں محبت کے ساتھ ساتھ سوال بھی رکھتا ہے۔
کیا یسوع نے توما کو شک پر سزا دی یا سخت ملامت کی؟
نہیں۔ یوحنا 20:27 میں خداوند یسوع مسیح نے توما کی اپنی ہی شرائط دہرائیں اور فرمایا کہ اپنی اُنگلی پاس لا کر میرے ہاتھوں کو دیکھ اور اپنا ہاتھ میری پسلی میں ڈال اور بے اعتقاد نہ ہو بلکہ اعتقاد رکھ۔ یہ تنبیہ ضرور ہے، مگر محبت بھری تنبیہ، جس کے ساتھ وہی ثبوت پیش کیا گیا جس کا توما نے مطالبہ کیا تھا۔ مسیح اُس آدمی کے پاس اُس کی شرائط پر آئے تاکہ اُسے اُس کی شرائط سے آزاد کریں۔ یہ فضل کی بہترین مثالوں میں سے ایک ہے۔
یوحنا 20:29 کا کیا مطلب ہے؟ کیا دیکھ کر ایمان لانا کم درجے کا ہے؟
خداوند نے فرمایا: "تُو تو مجھے دیکھ کر ایمان لایا ہے۔ مبارک وہ ہیں جو بغیر دیکھے ایمان لائے۔" اِس کا مقصد توما کے ایمان کو جھوٹا یا ناقص کہنا نہیں تھا؛ اُس کا ایمان سچا تھا۔ یہ جملہ دراصل آنے والی نسلوں کے لیے ایک برکت ہے، یعنی اُن کروڑوں لوگوں کے لیے جو رسولوں کی گواہی کے ذریعے ایمان لائیں گے بغیر اپنی آنکھوں سے مسیح کو دیکھے۔ پطرس رسول نے 1 پطرس 1:8 میں بالکل اِسی برکت کی گواہی دی جب اُس نے لکھا کہ تم اُس سے بے دیکھے محبت رکھتے ہو۔
کیا توما نے واقعی یسوع کے زخموں کو چھوا؟
انجیل یہ صاف نہیں کہتی۔ یوحنا 20:27 میں یسوع نے دعوت دی کہ اپنا ہاتھ پاس لا کر میری پسلی میں ڈال، مگر اگلی آیت میں ہم صرف یہ پڑھتے ہیں کہ توما نے پکار کر کہا "اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!" بہت سے مسیحی مفسر یہی سمجھتے ہیں کہ جب مسیح نے اُس کے دل کے چھپے الفاظ دہرائے، تو چھونے کی ضرورت ہی باقی نہ رہی۔ ثبوت کی طلب اُس وقت ختم ہو گئی جب اُس نے زندہ خداوند کو اپنے سامنے کھڑا پایا۔ جو چیز اُس کا دل بدلی، وہ لمس سے زیادہ مسیح کی حاضری تھی۔
یوحنا 20:28 سے یسوع کی خدائی کیسے ثابت ہوتی ہے؟
توما کے الفاظ "اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!" ایک توحید پرست یہودی کے منہ سے نکلے، یعنی ایسے شخص کے منہ سے جو جانتا تھا کہ کسی انسان کو خدا کہنا کفر ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ یسوع نے اُسے درست نہیں کیا، نہ یہ کہا کہ ایسا نہ کہو؛ بلکہ اُس کے ایمان کو قبول فرمایا۔ یوحنا کی انجیل اِسی سچائی سے شروع ہوئی تھی کہ کلام خدا تھا، اور اب ایک شاگرد کے سجدے میں وہی اعلان اپنی انتہا پر پہنچ جاتا ہے۔ یہ انجیل کا مرکزی دعویٰ ہے، کوئی جذباتی نعرہ نہیں۔
توما رسول کی موت کیسے ہوئی اور وہ کہاں تک گئے؟
بائبل اِس بارے میں خاموش ہے، لہٰذا یہاں ہم روایت کی بات کر رہے ہیں، کلام کی نہیں۔ قدیم کلیسیائی تحریروں میں بتایا گیا ہے کہ توما مشرق کی طرف گئے، پارتھیا اور پھر ہندوستان تک۔ جنوبی ہندوستان کے "مار توما" مسیحی صدیوں سے اپنی کلیسیا کی بنیاد اُنہی سے منسوب کرتے ہیں، اور روایت کے مطابق وہ موجودہ چنئی کے قریب مائلاپور میں شہید ہوئے۔ یہ روایات محترم ہیں اور قابلِ غور بھی، مگر اِنہیں کلامِ مقدس کی گواہی کے برابر نہیں رکھنا چاہیے۔
"توما کی انجیل" کیا ہے؟ کیا یہ بائبل کا حصہ ہے؟
نہیں، یہ بائبل کا حصہ نہیں اور نہ ہی توما رسول کی تحریر ہے۔ "توما کی انجیل" دوسری صدی کی ایک تحریر ہے جو اقوال کا مجموعہ ہے اور جسے جدید دور میں مصر کے نجع حمادی سے کھودا گیا۔ اُس کا مزاج گنوصی ہے: وہ مسیح کی صلیب، قیامت اور جسمانی نجات کے پیغام کو تقریباً نظر انداز کرتی ہے اور باطنی علم پر زور دیتی ہے۔ ابتدائی کلیسیا نے اِسے رسولی گواہی سے میل نہ کھانے کی وجہ سے قبول نہیں کیا۔ توما کا اصل اعتراف ہمیں یوحنا 20:28 میں ملتا ہے۔
کیا ایمان میں شک کرنا گناہ ہے؟
ایک فرق سمجھنا ضروری ہے۔ وہ شک جو ایمان کے اندر سے سوال پوچھتا ہے، اور خدا کے سامنے اپنی اُلجھن رکھ دیتا ہے، گناہ نہیں؛ بائبل ایسے لوگوں سے بھری ہے، ابرہام سے لے کر حبقوق اور توما تک۔ مگر وہ ضد جو کہتی ہے کہ "مَیں ہرگز یقین نہ کروں گا" اور دل پر تالا لگا دیتی ہے، خطرناک ہے، کیونکہ وہ خود کو خدا کی گواہی سے اونچا بٹھا لیتی ہے۔ راستہ یہ ہے کہ شک کو چھپایا نہ جائے بلکہ دعا بنا دیا جائے: مَیں ایمان رکھتا ہوں، میری بے اعتقادی کا علاج کر۔
توما کا ذکر بائبل میں کتنی بار آتا ہے؟
اُن کا نام نئے عہدنامے میں آٹھ مقامات پر آتا ہے۔ چار بار رسولوں کی فہرستوں میں، یعنی متی 10:3، مرقس 3:18، لوقا 6:15 اور اعمال 1:13۔ اور چار بار یوحنا کی انجیل کے بیانوں میں: یوحنا 11:16 میں وہ یسوع کے ساتھ مرنے کو چلنے کی بات کرتے ہیں، یوحنا 14:5 میں راہ کے بارے میں سوال کرتے ہیں، یوحنا 20:24 سے 29 تک قیامت کے بعد کا مشہور واقعہ پیش آتا ہے، اور یوحنا 21:2 میں وہ گلیل کی جھیل پر مچھلی پکڑنے والوں میں شامل ہیں۔
جب خدا میری دعا کے جواب میں خاموش ہو تو مَیں توما کی کہانی سے کیا لوں؟
توما کو آٹھ دن انتظار کرنا پڑا، اور وہ آٹھ دن خدا کی بے پروائی نہیں بلکہ خدا کی تیاری تھے۔ جب خداوند آئے تو وہ توما کے لفظ لفظ سے واقف تھے، حالانکہ توما نے وہ باتیں اُن کی غیر موجودگی میں کہی تھیں۔ خاموشی کا مطلب غیر حاضری نہیں۔ اِس دوران سب سے عقلمند کام وہی ہے جو توما نے کیا: جماعت میں واپس آ جانا، اُس کمرے میں موجود رہنا جہاں خدا کے لوگ جمع ہوتے ہیں، کیونکہ مسیح نے خود کو بند دروازوں کے پیچھے جمع ہوئی جماعت کے درمیان ظاہر فرمایا۔
اختتام میں
توما کی کہانی اِس لیے ہمیں عزیز ہے کہ یہ ایک ایسے آدمی کی کہانی ہے جس نے سستا یقین قبول نہیں کیا۔ وہ خبر پر راضی نہ ہوا، کیونکہ اُسے خبر نہیں، خداوند درکار تھا۔ اور مسیح نے اُسے خالی نہیں لوٹایا۔ وہ اُس کمرے میں آئے جہاں دروازے بند تھے، وہ زخم دکھائے جن سے ہماری نجات بہی، اور ایک ٹوٹے دل کو ایسا اعتراف بخشا جو آج تک دنیا بھر کی کلیسیاؤں میں گونجتا ہے: "اَے میرے خداوند! اَے میرے خدا!"
اگر آپ آج اُس کونے میں بیٹھے ہیں جہاں دوسروں کی خوشی آپ کے دل تک نہیں پہنچ پا رہی، تو یاد رکھیے کہ خداوند یسوع مسیح اُسی کونے کا پتہ جانتے ہیں۔ اور وہ برکت جو اُنہوں نے یوحنا 20:29 میں فرمائی، آپ ہی کے لیے کہی گئی تھی، اُن سب کے لیے جو بغیر دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ 1 پطرس 1:8 اِسی برکت کا پھل بیان کرتا ہے: بے دیکھے محبت، اور ایسی خوشی جو بیان سے باہر ہے۔
آگے بڑھنے کے لیے یوحنا کے بیسویں باب کو آرام سے، شروع سے آخر تک پڑھیے، اور اُس کے ساتھ یوحنا 14:1 سے 14:7 بھی۔ پھر رُک کر اپنے دل سے ایک سوال پوچھیے: مَیں خدا سے کیا پوچھنے سے ڈر رہا ہوں؟ اُسے چھپانے کی ضرورت نہیں۔ اُسے دعا بنا دیجیے، اور جماعت کے درمیان بیٹھ جائیے۔ مسیح وہیں آنے کے عادی ہیں۔
