یسوع مسیح کون ہیں؟
تعارف
ایک دن ایک نوجوان لڑکی نے اپنی ماں سے پوچھا: "امی، یسوع کوئی نبی تھے، کوئی اچھے استاد، یا واقعی خدا کے بیٹے؟" ماں چند لمحوں کے لیے خاموش ہو گئی۔ یہ سوال صدیوں سے انسانوں کے دلوں میں گونجتا آ رہا ہے۔ گلیل کے دیہاتوں سے لے کر آج کے شہروں کی مصروف سڑکوں تک، ہر نسل نے یہی سوال دوبارہ پوچھا ہے: یسوع مسیح آخر کون ہیں؟
یہ سوال بے ضرر نہیں ہے۔ اس کا جواب آپ کی زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔ اگر وہ صرف ایک اچھے آدمی تھے، تو ہم انہیں سراہ سکتے ہیں اور آگے بڑھ سکتے ہیں۔ لیکن اگر وہ وہی ہیں جو انہوں نے خود کہا، یعنی خدا کا مجسم کلام، تو پھر کوئی غیر جانبدار رہنا ممکن نہیں۔
اس صفحے پر آپ ان کی ذات، ان کے کام، اور ان کی زندگی کے مرکزی لمحات کو ترتیب کے ساتھ دیکھیں گے، اور آخر میں ایک آئینے کے سامنے کھڑے ہوں گے جہاں یہ سوال ذاتی بن جاتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے مضامین یسوع کی زندگی کو واقعات کی فہرست کی طرح بیان کرتے ہیں: پیدائش، معجزے، صلیب، جی اٹھنا۔ یہ صفحہ ایک الگ زاویے سے لکھا گیا ہے۔ یہاں ہم یسوع کو اُس آواز کے طور پر پیش کرتے ہیں جو خود اپنے بارے میں گواہی دیتی ہے۔ "میں ہوں" ان کے ہونٹوں پر آنے والا سب سے حیران کن جملہ ہے۔ ہم دیکھیں گے کہ ازل سے پہلے سے لے کر ابدیت تک، مسیح کی شناخت کوئی معما نہیں جسے ہم نے حل کرنا ہے، بلکہ ایک انکشاف ہے جو خود انہوں نے ہمارے سامنے کھولا ہے۔ اس زاویے سے ہر آیت ایک آئینہ بن جاتی ہے، اور ہر معجزہ ایک اعلان۔
بائبل یسوع مسیح کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل کا سب سے پہلا اور سب سے حیران کن اعلان یوحنا کی انجیل کی پہلی آیت میں ملتا ہے: "اِبتدا میں کلام تھا اور کلام خُدا کے ساتھ تھا اور کلام خُدا تھا" (یوحنا 1:1)۔ یوحنا نے مسیح کی کہانی بیت لحم سے شروع نہیں کی، بلکہ اُس نقطے سے جہاں وقت کا کوئی نشان نہیں تھا۔ یسوع مسیح ازل سے موجود تھے، وہ کلام تھے، اور وہ خود خدا تھے۔ یہ صرف ایک تاریخی شخصیت کا تعارف نہیں، یہ ایک کائناتی حقیقت کا اعلان ہے۔
پولس رسول نے کلسیوں کے نام اپنے خط میں اسی سچائی کو اور بھی گہرائی سے بیان کیا: "وہ اَن دیکھے خُدا کی صُورت اور تمام مخلوقات سے پہلے مَولُود ہے" (کلسیوں 1:15)۔ یسوع مسیح کوئی مخلوق نہیں ہیں، بلکہ وہ خدا کی وہ صورت ہیں جو انسانی آنکھوں کے سامنے آ گئی۔ جب آپ یسوع کو دیکھتے ہیں، تو آپ خدا کو دیکھتے ہیں۔ جب آپ ان کی محبت کو محسوس کرتے ہیں، تو آپ باپ کے دل کو چھو رہے ہوتے ہیں۔
فلپیوں کے خط میں ایک اور حیرت انگیز بات کہی گئی ہے: "جس نے خُدا کی صُورت پر ہو کر خُدا کے برابر ہونے کو قبضہ میں رکھنے کی چِیز نہ سمجھا" (فلپیوں 2:6)۔ یسوع مسیح نے اپنے الوہی رتبے کو کسی خزانے کی طرح مضبوطی سے نہیں پکڑا، بلکہ اسے چھوڑ دیا تاکہ ہم تک پہنچ سکیں۔ یہی ان کی محبت کی گہرائی ہے۔
پھر ایک دن قیصریہ فلپی کے راستے پر یسوع نے اپنے شاگردوں سے پوچھا کہ لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔ پطرس نے جواب دیا: "تُو زِندہ خُدا کا بیٹا مسِیح ہے" (متی 16:16)۔ یہ اعتراف مسیحی ایمان کی بنیاد ہے۔ یسوع صرف ایک نبی نہیں، ایک استاد نہیں، ایک اصلاح کار نہیں، وہ زندہ خدا کے بیٹے ہیں۔
پھر خود یسوع نے یہ الفاظ کہے جو یہودی سامعین کے کانوں میں بم کی طرح پھٹے: "میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ پیشتر اِس سے کہ ابرہام پَیدا ہُؤا میں ہُوں" (یوحنا 8:58)۔ "میں ہوں" یہ وہی نام ہے جو خدا نے جلتی جھاڑی سے موسیٰ کو بتایا تھا۔ یسوع نے کوئی اشارہ نہیں چھوڑا کہ ان کی بات کسی اور طرح سمجھی جائے۔ یہودیوں نے فوراً پتھر اٹھا لیے، کیونکہ وہ سمجھ گئے تھے کہ یسوع نے خود کو خدا کہا ہے۔
عبرانیوں کے مصنف نے ان تمام سچائیوں کو ایک جملے میں سمیٹ دیا: "وہ اُس کے جلال کا پَرتَو اور اُس کی ذات کا نقش ہو کر سب چِیزوں کو اپنی قُدرت کے کلام سے سنبھالتا ہے" (عبرانیوں 1:3)۔ یسوع مسیح خدا کے جلال کی روشنی ہیں، اس کی ذات کا نقش ہیں، اور کائنات کو تھامنے والے ہاتھ ہیں۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یسوع مسیح کی کہانی نئے عہد نامے میں شروع نہیں ہوتی۔ پرانے عہد نامے کا ہر ورق ان کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ پیدائش کی کتاب میں، جب آدم اور حوا نے گناہ کیا، تو خدا نے فوراً وعدہ کیا کہ عورت کی نسل سانپ کے سر کو کچلے گی۔ یہ پہلی خوشخبری تھی، اور یہ مسیح کی طرف اشارہ تھی۔
ابرہام سے وعدہ ہوا کہ اس کی نسل سے تمام قومیں برکت پائیں گی۔ موسیٰ کے ذریعے پسح کا میمنا ذبح کیا گیا، اور اس کا خون دروازوں پر لگایا گیا تاکہ موت گزر جائے۔ یہ سب یسوع کی صلیب کا سایہ تھا۔ داؤد کو وعدہ ہوا کہ اس کی نسل سے ایک بادشاہ آئے گا جس کی حکومت ہمیشہ قائم رہے گی۔
پرانا عہد نامہ مسیح کی طرف پھیلا ہوا ہاتھ ہے۔
یسعیاہ نبی نے 700 سال پہلے لکھا کہ ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی، اور اس کا نام عمانوایل رکھا جائے گا، یعنی "خدا ہمارے ساتھ"۔ اسی نبی نے باب 53 میں اس دکھی خادم کی تصویر کھینچی جو ہمارے گناہوں کے لیے چھیدا جائے گا۔ زکریاہ نے کہا کہ وہ گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں آئے گا۔ میکاہ نے بتایا کہ وہ بیت لحم میں پیدا ہوگا۔ داؤد نے زبور 22 میں صلیب کے مناظر کو ایسے بیان کیا جیسے وہ خود صلیب کے نیچے کھڑا ہو۔
جب یسوع مسیح آئے، تو انہوں نے خود کہا: "تُم کتابِ مُقدّس میں ڈُھونڈتے ہو کیونکہ سمجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زِندگی تُمہیں مِلتی ہے اور یہ وُہی ہے جو میری گواہی دیتی ہے۔" پرانا عہد نامہ ایک بند دروازہ نہیں، بلکہ ایک کھلا ہوا راستہ ہے جو مسیح تک لے جاتا ہے۔
نیا عہد نامہ اسی سلسلے کو مکمل کرتا ہے۔ چار انجیلیں یسوع کی زندگی، تعلیم، موت اور جی اٹھنے کو مختلف زاویوں سے پیش کرتی ہیں۔ رسولوں کے اعمال ان کی روح کی معرفت جاری کام کو دکھاتی ہے۔ خطوط اس سچائی کو ہر پہلو سے کھولتے ہیں۔ اور مکاشفہ کی کتاب ہمیں وہ دن دکھاتی ہے جب مسیح دوبارہ آئیں گے، بادشاہوں کے بادشاہ اور ربوں کے رب کی حیثیت سے۔
پرانے عہد نامے کے ہر پیغمبر، ہر قربانی، ہر بادشاہ، ہر کاہن نے اپنی جگہ سے مسیح کی طرف اشارہ کیا۔ اور جب وہ آئے، تو ہر اشارہ اپنی جگہ پر مکمل ہو گیا۔ یہی وہ سلسلہ ہے جو بائبل کے پہلے ورق سے لے کر آخری ورق تک چلتا ہے۔
ان کی زندگی کا مرکز
یسوع مسیح کی زندگی میں تین ایسے لمحات ہیں جو ہر چیز کو بدل دیتے ہیں۔ یہ صرف واقعات نہیں، بلکہ کائنات کے محور ہیں۔
پہلا لمحہ: بیت لحم میں پیدائش۔ ایک ٹھنڈی رات میں، ایک چھوٹے سے قصبے کے چرنی میں، خدا کا ازلی بیٹا انسان بن گیا۔ یہ صرف ایک بچے کی پیدائش نہیں تھی۔ یہ کائنات کی سب سے حیران کن گھڑی تھی۔ وہ جو ستاروں کو تولتا تھا، اب ایک ماں کی گود میں تھا۔ وہ جو ابراہام سے پہلے تھا، اب دودھ پی رہا تھا۔ فلپیوں 2 میں پولس اسے "خود کو خالی کرنا" کہتا ہے۔ خدا نے اپنی عظمت کو چھوڑا تاکہ ہمارے پاس آ سکے۔ یہ محبت کی ایسی صورت ہے جو کسی مذہب میں نہیں پائی جاتی۔
دوسرا لمحہ: صلیب پر موت۔ یسوع کی زندگی کا اصل مقصد سکھانا نہیں تھا، شفا دینا نہیں تھا، معجزے کرنا نہیں تھا۔ ان تمام چیزوں کے پیچھے ایک بڑا مقصد چھپا تھا: صلیب۔ ایک جمعہ کی دوپہر، یروشلیم کے باہر ایک پہاڑی پر، بے گناہ خدا کے بیٹے کو گنہگاروں کے ہاتھوں مصلوب کیا گیا۔ لیکن یہ ایک شکست نہیں تھی، یہ فتح تھی۔ اس صلیب پر ہمارے گناہوں کا سارا بوجھ رکھا گیا۔ اس صلیب پر خدا کا غضب اور محبت مل گئے۔ اس صلیب پر ہماری معافی کی قیمت ادا کی گئی۔ "پُورا ہُؤا" یسوع کے آخری الفاظ تھے، اور یہ الفاظ آج بھی گونج رہے ہیں۔
صلیب خدا کی سب سے گہری تحریر ہے۔
تیسرا لمحہ: قبر سے جی اٹھنا۔ اگر یسوع صرف مر جاتے، تو وہ ایک اور مذہبی رہنما ہوتے جنہوں نے اپنے آپ کو قربان کر دیا۔ لیکن اتوار کی صبح، جب عورتیں قبر پر آئیں، تو پتھر لڑھکا ہوا تھا اور قبر خالی تھی۔ یسوع زندہ تھے۔ یہ کوئی روحانی استعارہ نہیں تھا، یہ ٹھوس تاریخی حقیقت تھی۔ انہوں نے 500 سے زیادہ لوگوں کو اپنے آپ کو دکھایا۔ انہوں نے کھانا کھایا۔ انہوں نے شاگردوں کو اپنے زخم دکھائے۔ ان کے جی اٹھنے سے موت کی طاقت ٹوٹ گئی۔ ان کے جی اٹھنے نے ثابت کیا کہ وہ واقعی خدا کے بیٹے ہیں۔ ان کے جی اٹھنے نے ہمیں بھی ایک نئی زندگی کا وعدہ دیا۔
ان تین لمحوں کے بغیر مسیحی ایمان ممکن نہیں۔ پیدائش نے ہمیں دکھایا کہ خدا ہمارے پاس آیا۔ صلیب نے ہمیں دکھایا کہ خدا نے ہمارے لیے قیمت ادا کی۔ اور جی اٹھنے نے ہمیں دکھایا کہ خدا موت پر غالب آیا۔ یہی مسیح کی زندگی کا مرکز ہے، اور یہی ہماری امید کا مرکز بھی ہے۔
یسوع سے ہم کیا سیکھتے ہیں
یسوع مسیح کی زندگی صرف ہماری نجات کا ذریعہ نہیں، بلکہ ہمارے چلنے کا نمونہ بھی ہے۔ ان سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں، لیکن تین سبق ایسے ہیں جو ہر ایمان دار کے دل میں گڑھے ہونے چاہئیں۔
پہلا سبق: عاجزی حقیقی طاقت ہے۔ یسوع نے کبھی بھی اپنی الوہی طاقت کو اپنے فائدے کے لیے استعمال نہیں کیا۔ وہ خدا کے بیٹے تھے، لیکن انہوں نے اپنے شاگردوں کے پاؤں دھوئے۔ وہ کائنات کے بادشاہ تھے، لیکن گدھے پر سوار ہو کر یروشلیم میں آئے۔ وہ خدا کے ہمسر تھے، لیکن انہوں نے کانٹوں کا تاج پہنا۔ آج کی دنیا میں ہم عاجزی کو کمزوری سمجھتے ہیں، لیکن یسوع نے دکھایا کہ سچی طاقت خود کو نیچا کرنے میں ہے۔ جب آپ اپنے دفتر میں، اپنے گھر میں، اپنی جماعت میں خود کو نیچا کرتے ہیں، تو آپ مسیح کے قدم میں چل رہے ہوتے ہیں۔
دوسرا سبق: محبت شرطوں سے آزاد ہوتی ہے۔ یسوع نے فریسیوں سے پیار کیا جنہوں نے ان پر تنقید کی۔ انہوں نے چنگی لینے والوں کے ساتھ کھانا کھایا جنہیں معاشرہ حقیر سمجھتا تھا۔ انہوں نے اس عورت کو قبول کیا جو زناکاری میں پکڑی گئی تھی۔ انہوں نے اپنے مصلوب کرنے والوں کے لیے دعا کی۔ ان کی محبت اس بات پر منحصر نہیں تھی کہ سامنے والا کیسا ہے۔ ہم اکثر ان لوگوں سے پیار کرتے ہیں جو ہم سے پیار کرتے ہیں۔ لیکن یسوع کی محبت ایک نئی طرز کی محبت ہے، جو دشمنوں تک پہنچتی ہے، جو گنہگاروں کو گلے لگاتی ہے، جو معاف کرتی ہے چاہے قیمت کیا بھی ہو۔
تیسرا سبق: باپ کے ساتھ رشتہ سب سے پہلے۔ یسوع کی زندگی کا سب سے مضبوط پہلو یہ تھا کہ وہ ہمیشہ باپ سے جڑے رہے۔ صبح سویرے وہ تنہائی میں جا کر دعا کرتے تھے۔ ہر بڑے فیصلے سے پہلے وہ باپ سے مشورہ کرتے۔ گتسمنی کے باغ میں انہوں نے اپنے دل کا حال باپ کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔ ہماری زندگی میں کاموں کی بھیڑ ہمیں دعا سے دور کر دیتی ہے۔ لیکن یسوع نے دکھایا کہ سب سے مصروف زندگی میں بھی باپ کے ساتھ وقت گزارنا ممکن ہے، اور یہی زندگی کی اصل جڑ ہے۔ اگر آپ کو یسوع کی طرح چلنا ہے، تو آپ کو یسوع کی طرح دعا کرنی ہوگی۔
آئینہ
اب آپ سے ایک ذاتی سوال۔ آپ یسوع کو کون سمجھتے ہیں؟ نہ آپ کے والدین، نہ آپ کا پادری، نہ آپ کی جماعت، بلکہ آپ خود۔ یہ وہ سوال ہے جو یسوع نے پطرس سے پوچھا تھا، اور یہ وہی سوال ہے جو وہ آج آپ سے پوچھ رہے ہیں۔
شاید آپ کی زندگی میں سب کچھ ٹھیک لگ رہا ہے، لیکن اندر ایک خالی جگہ ہے جسے آپ بھر نہیں پا رہے۔ شاید آپ کے کام کی مصروفیت آپ کو تھکا رہی ہے، اور آپ کو رات کو نیند نہیں آتی۔ شاید آپ کی شادی ٹوٹ رہی ہے، آپ کا بچہ بغاوت پر ہے، یا آپ کے والدین کی صحت گر رہی ہے۔ شاید آپ کے پاس پیسے ہیں لیکن سکون نہیں، یا سکون ہے لیکن مقصد نہیں۔
یسوع مسیح آپ کی زندگی کے ہر خالی حصے پر دستک دے رہے ہیں۔ وہ ایک نئی نوکری کا وعدہ نہیں کر رہے، ایک بہتر صحت کا نہیں، ایک آسان زندگی کا نہیں۔ وہ خود کو دے رہے ہیں۔ اور جب آپ انہیں قبول کرتے ہیں، تو آپ کو صرف ایک نجات دہندہ نہیں ملتا، بلکہ ایک دوست، ایک بھائی، ایک بادشاہ، ایک باپ کی گود ملتی ہے۔
آج آپ کے پاس ایک انتخاب ہے۔ آپ یسوع کو ایک تاریخی شخصیت کی طرح دور رکھ سکتے ہیں، یا آپ انہیں اپنے دل میں آنے دے سکتے ہیں۔ آپ ان کی تعلیمات کی تعریف کر سکتے ہیں، یا آپ ان کے قدموں میں چل سکتے ہیں۔ آپ ان کے بارے میں بات کر سکتے ہیں، یا آپ ان سے بات کر سکتے ہیں۔ فیصلہ آپ کا ہے، اور یہ فیصلہ آپ کی ابدیت کا رخ متعین کرے گا۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یسوع کے بارے میں بتانا آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔ آسان اس لیے کہ ان کے دل اب بھی نرم ہیں اور وہ فوراً محبت کو پہچان لیتے ہیں۔ مشکل اس لیے کہ یسوع کی ذات میں اتنی گہرائی ہے کہ بڑے بھی اسے پوری طرح نہیں سمجھ پاتے۔
بچوں کو سب سے پہلے یہ بتائیں کہ یسوع خدا کے بیٹے ہیں جو ہم سے پیار کرتے ہیں۔ انہیں بتائیں کہ یسوع نے ہمیں بنایا، ہمارے لیے اس دنیا میں آئے، ہمارے گناہوں کے لیے صلیب پر جان دی، اور تیسرے دن قبر سے زندہ ہو گئے۔ انہیں بتائیں کہ یسوع اب بھی زندہ ہیں، اور ہم ان سے دعا میں بات کر سکتے ہیں۔ انہیں بتائیں کہ یسوع ایک دن دوبارہ آئیں گے اور اپنے بچوں کو گھر لے جائیں گے۔
بچوں کو یسوع کے قصے سنائیں: کیسے انہوں نے پانچ روٹیوں سے ہزاروں لوگوں کو کھلایا، کیسے انہوں نے طوفان کو ٹھہرا دیا، کیسے انہوں نے بچوں کو اپنے پاس بلایا اور برکت دی۔ یہ قصے ان کے دل میں ایمان کی جڑیں گہری کرتے ہیں۔
فیتھ نیٹ ورک پر ہر عمر کے بچوں کے لیے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: پری اسکول کے چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، پرائمری اسکول کے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ ہر عمر کی الگ ضروریات ہوتی ہیں، اور ہر عمر کے سوالات مختلف ہوتے ہیں۔ ان مخصوص صفحات پر جا کر آپ اپنے بچے کے لیے موزوں مواد پا سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا یسوع مسیح واقعی خدا ہیں؟
جی ہاں، بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ یسوع مسیح خدا ہیں۔ یوحنا 1:1 کہتی ہے کہ "کلام خدا تھا"، اور یہ کلام یسوع مسیح ہیں۔ یسوع نے خود کہا "میں اور باپ ایک ہیں"، اور "پیشتر اس سے کہ ابرہام پیدا ہوا میں ہوں" (یوحنا 8:58)۔ ان کی الوہیت کوئی ثانوی سچائی نہیں، بلکہ مسیحی ایمان کی بنیاد ہے۔
کیا یسوع مسیح واقعی انسان بھی تھے؟
جی ہاں، یسوع مسیح مکمل خدا اور مکمل انسان ہیں۔ وہ ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے، وہ بھوکے ہوتے تھے، وہ تھک جاتے تھے، وہ روتے تھے، وہ آزمائے گئے، اور وہ سچ مچ مرے۔ عبرانیوں کا خط سکھاتا ہے کہ وہ ہر پہلو سے ہماری طرح آزمائے گئے، مگر گناہ سے پاک رہے۔ اس لیے وہ ہماری کمزوریوں کو سمجھ سکتے ہیں۔
یسوع مسیح کیوں مرے؟
یسوع مسیح ہمارے گناہوں کی قیمت ادا کرنے کے لیے مرے۔ ہر انسان نے گناہ کیا ہے، اور گناہ کی سزا موت ہے۔ لیکن خدا نے اپنے بیٹے کو بھیجا تاکہ وہ ہماری جگہ لے۔ صلیب پر یسوع نے ہمارے گناہوں کا سارا بوجھ اٹھایا، خدا کا غضب برداشت کیا، اور اپنی جان قربان کر دی۔ اس قربانی کے ذریعے ہمیں معافی اور ابدی زندگی مل سکتی ہے۔
کیا یسوع مسیح واقعی قبر سے جی اٹھے؟
جی ہاں، یسوع کا جی اٹھنا تاریخی حقیقت ہے۔ 500 سے زیادہ لوگوں نے جی اٹھنے کے بعد انہیں دیکھا۔ خالی قبر، بدل جانے والے شاگرد، اور کلیسیا کا تیز پھیلاؤ اس کی گواہی ہیں۔ اگر یسوع نہ جی اٹھے ہوتے، تو مسیحی ایمان کھوکھلا ہوتا۔ لیکن وہ سچ مچ زندہ ہیں، اور اسی جی اٹھنے کی بنیاد پر ہماری امید کھڑی ہے۔
یسوع مسیح اور دوسرے مذہبی رہنماؤں میں کیا فرق ہے؟
سب سے بڑا فرق یہ ہے کہ دوسرے مذہبی رہنما راستہ بتاتے ہیں، لیکن یسوع نے کہا "راہ حق اور زندگی میں ہوں" (یوحنا 14:6)۔ وہ صرف راستہ نہیں دکھاتے، خود راستہ ہیں۔ دوسرے رہنما مر گئے اور ان کی قبریں موجود ہیں، لیکن یسوع کی قبر خالی ہے۔ وہ زندہ ہیں، اور آج بھی لوگوں سے ذاتی تعلق قائم کرتے ہیں۔
کیا یسوع کے بغیر نجات ممکن ہے؟
بائبل واضح طور پر سکھاتی ہے کہ نجات صرف یسوع کے ذریعے ممکن ہے۔ یوحنا 14:6 میں انہوں نے فرمایا کہ "کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا"۔ اعمال کی کتاب کہتی ہے کہ "آسمان کے تلے آدمیوں میں کوئی دوسرا نام نہیں بخشا گیا جس کے وسیلہ سے ہم نجات پا سکیں"۔ نجات صرف مسیح میں ہے، یہی خوشخبری کا مرکز ہے۔
یسوع مسیح آج ہمارے لیے کیا کرتے ہیں؟
یسوع مسیح آج بھی زندہ ہیں اور اپنے لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں۔ وہ باپ کے دائیں ہاتھ بیٹھ کر ہمارے لیے شفاعت کرتے ہیں۔ وہ روح القدس کے ذریعے ہمارے اندر رہتے ہیں اور ہمیں طاقت دیتے ہیں۔ وہ ہماری دعائیں سنتے ہیں، ہمیں شفا دیتے ہیں، ہماری راہنمائی کرتے ہیں، اور ہمیں اپنی صورت پر بدلتے ہیں۔
یسوع مسیح دوبارہ کب آئیں گے؟
بائبل کہتی ہے کہ یسوع مسیح ضرور دوبارہ آئیں گے، لیکن اس دن یا گھڑی کو کوئی نہیں جانتا۔ ان کی دوسری آمد پہلی سے بہت مختلف ہوگی۔ پہلی بار وہ حلیم میمنے کی طرح آئے، دوسری بار وہ جلال والے بادشاہ کی طرح آئیں گے۔ اس دن ہر گھٹنا ان کے سامنے جھکے گا، اور ہر زبان اقرار کرے گی کہ یسوع مسیح خداوند ہیں۔
میں یسوع کو کیسے قبول کر سکتا ہوں؟
یسوع کو قبول کرنا کوئی پیچیدہ رسم نہیں۔ آپ کو صرف اپنے گناہوں سے توبہ کرنی ہے، دل سے یقین کرنا ہے کہ یسوع خدا کے بیٹے ہیں جو آپ کے لیے مرے اور جی اٹھے، اور انہیں اپنا خداوند اور نجات دہندہ ماننا ہے۔ ایک سادہ سی دعا میں اپنے دل کی بات ان سے کہیں، اور وہ آپ کو ضرور قبول کریں گے۔ رومیوں کا خط کہتا ہے کہ "جو کوئی خداوند کا نام لے گا نجات پائے گا"۔
کیا یسوع کی تعلیمات آج بھی متعلق ہیں؟
بالکل۔ یسوع کی تعلیمات کبھی پرانی نہیں ہوتیں کیونکہ وہ انسانی دل کی گہرائیوں کو چھوتی ہیں، جو ہر زمانے میں ایک جیسا ہے۔ محبت، معافی، عاجزی، سچائی، اور خدا کے ساتھ تعلق، یہ سب چیزیں آج بھی اتنی ہی ضروری ہیں جتنی دو ہزار سال پہلے۔ ان کی تعلیم پہاڑی وعظ میں، تمثیلوں میں، اور شاگردوں کے ساتھ گفتگو میں ہمیشہ کے لیے تازہ ہے۔
یسوع مسیح کو "خدا کا بیٹا" کیوں کہا جاتا ہے؟
"خدا کا بیٹا" کا مطلب یہ نہیں کہ خدا نے کسی انسانی طریقے سے بیٹا پیدا کیا۔ یہ اصطلاح یسوع کی خاص شناخت کو ظاہر کرتی ہے، کہ وہ باپ کے ساتھ ازلی رشتہ رکھتے ہیں، اسی ذات میں شریک ہیں، اور اسی جوہر کے مالک ہیں۔ جب پطرس نے کہا "تو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے" (متی 16:16)، تو وہ یسوع کی الوہیت کا اقرار کر رہا تھا۔
اختتام میں
یسوع مسیح کوئی افسانہ نہیں، کوئی صرف تاریخی شخصیت نہیں، کوئی محض اخلاقی استاد نہیں۔ وہ ازلی کلام ہیں جو جسم بن کر ہمارے درمیان رہے۔ وہ خدا کے جلال کا پرتو ہیں اور اس کی ذات کا نقش۔ وہ راہ، حق اور زندگی ہیں۔ وہ زندہ خدا کے بیٹے مسیح ہیں۔ اس صفحے کا مقصد صرف معلومات دینا نہیں تھا، بلکہ آپ کے دل کے سامنے وہی سوال رکھنا تھا جو ایک دن گلیل کی جھیل کے کنارے پوچھا گیا تھا۔
اب آپ کے پاس ایک انتخاب ہے۔ یسوع کی ذات کے بارے میں پڑھنا اور بات ہے، اور انہیں اپنی زندگی کا مالک ماننا اور بات۔ اگر یہ صفحہ پڑھ کر آپ کے دل میں ایک ہلچل پیدا ہوئی ہے، تو اسے دبائیں نہیں۔ یہ روح القدس کی آواز ہو سکتی ہے۔ آگے بڑھیں، انجیل یوحنا پڑھنا شروع کریں، دعا میں ان سے بات کریں، ایک بائبل پر یقین رکھنے والی جماعت میں شامل ہوں، اور دیکھیں کہ یسوع مسیح آپ کی زندگی میں کیا کرتے ہیں۔ کیونکہ ان کو جاننا ہی ہمیشہ کی زندگی ہے۔
