بائبل کی تشریح

رومیوں 9:22

بائبل

متن

کمہار کے چاک کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ پولس اُسے سیدھا خدا پر لاگو کر دیتا ہے۔ آیت کہتی ہے: اگرچہ اللہ چاہتا تھا کہ اپنا غضب نازل کرے اور اپنی قدرت ظاہر کرے، تو بھی اُس نے ”بڑے صبر و تحمل سے وہ برتن برداشت کئے جن پر اُس کا غضب آنا ہے اور جو ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔“ یعنی جہاں ہم فوری عدالت کی توقع رکھتے ہیں، وہاں خدا ٹھہر جاتا ہے۔ جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ فیصلہ سنایا جا چکا ہے، وہاں ابھی مہلت چل رہی ہے۔ چند سطریں پہلے فرعون کا نام آ چکا ہے، اور پہلے سننے والوں کے ذہن میں وہی منظر تازہ ہے: ایک کے بعد ایک آفت، ہر بار ایک اور موقع، ہر بار ایک اور انکار۔

اصل بات

یہ آیت خدا کے غضب کو ہلکا نہیں کرتی، وہ اُسے حقیقی مانتی ہے۔ مگر جملے کا بوجھ ایک اور لفظ پر پڑتا ہے: صبر۔ یونانی میں یہاں وہ لفظ ہے جس کا مطلب ہے ”دیر سے غصہ کرنے والا“، یعنی وہ مزاج جو بدلہ لینے کی طاقت رکھتے ہوئے ہاتھ روکے رکھتا ہے۔ غور کریں کہ پولس یہاں یہ نہیں کہتا کہ خدا نے اُن برتنوں کو ہلاکت کے لئے تیار کیا؛ وہ صرف کہتا ہے کہ وہ تیار کئے گئے ہیں۔ اگلی آیت میں البتہ جلال کے برتنوں کے بارے میں کرنے والا صاف خدا ہے۔ یہ توازن اتفاقی نہیں۔ رومہ کی اُس ملی جلی جماعت کے لئے، جہاں یہودی ایمان دار جلاوطنی سے لوٹ کر غیریہودی بھائیوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے، سوال یہی تھا: خدا نے ابھی تک معاملہ طے کیوں نہیں کیا؟ جواب یہ ہے کہ اُس کی تاخیر خالی وقت نہیں، وہ رحم کے کام کرنے کی جگہ ہے۔

مشترکہ دھاگا

خدا کا یہ ”دیر سے غصہ کرنا“ پوری کتابِ مقدّس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نوح کے دنوں کی مہلت، مصر میں آفتوں کے درمیان کے وقفے، نبیوں کی وہ صدیاں جن میں اسرائیل کو بار بار بلایا گیا اور بار بار اُس نے نہ سنا: ہر بار عدالت کا ہاتھ اُٹھا ہوا تھا اور ہر بار رُک گیا۔ پولس یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا بھول گیا ہے؛ وہ کہہ رہا ہے کہ خدا انتظار کر رہا ہے۔ اور یہ انتظار صلیب پر اپنے انجام کو پہنچتا ہے، جہاں غضب اور صبر ایک ہی جگہ آ ملتے ہیں۔ اِسی لئے باب کے آخر میں پولس اُس ”پتھر“ پر آتا ہے جو ٹھوکر کا باعث بنتا ہے۔ خدا کی تاخیر کا مقصد یہی تھا کہ لوگ اُس پتھر تک پہنچیں، نہ کہ وہ اُن سے چھپا رہے۔

آئینہ

ہم میں سے اکثر کے پاس ایک فہرست ہے۔ وہ رشتہ دار جس نے جائیداد ہڑپ کر لی اور آج تک آرام سے جی رہا ہے۔ وہ افسر جو جھوٹ بول کر ترقی پا گیا۔ وہ شخص جس نے آپ کے بچے کو نقصان پہنچایا اور کبھی معافی نہیں مانگی۔ اور دل میں ایک خاموش دعا چلتی ہے: خداوند، آپ کچھ کرتے کیوں نہیں؟ یہ آیت اُس دعا کا جواب دیتی ہے، مگر اُس طرح نہیں جیسے ہم چاہتے ہیں۔ جس تحمل کو آپ خدا کی بے پروائی سمجھ رہے ہیں، وہی تحمل کسی زمانے میں آپ کے اپنے لئے کھلا دروازہ تھا۔ پولس خود آیت 3 میں اپنے مخالف ہم وطنوں کے لئے ملعون ہونے تک تیار ہے۔ آج ایک کام کریں: اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جسے آپ نے دل میں ختم شدہ قرار دے دیا ہے، اور بلند آواز میں ایک جملے کی دعا کریں کہ خدا کا صبر اُس پر آج بھی کھلا رہے۔

پس منظر

روم کی گلیوں میں کمہار کا استعارہ خالی تشبیہ نہیں تھا۔ شہر کے مزدور محلوں میں بھٹیوں کا دھواں، گیلی مٹی کی بو، اور ہر گھر میں دو قسم کے برتن: میز پر رکھنے والے سجے ہوئے ظروف اور وہ موٹے، بدبودار مٹکے جو گندگی کے لئے استعمال ہوتے اور ٹوٹتے ہی باہر پھینک دیے جاتے۔ سننے والے جانتے تھے کہ برتن کی قسمت کمہار کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ روم میں انصاف تیز اور بے رحم ہوتا ہے: سڑک کے کنارے صلیبیں، بغیر مقدمے کے جلاوطنی۔ کلودیُس نے یہودیوں کو شہر سے نکال دیا تھا اور اب وہ لوٹ کر غیریہودی ایمان داروں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے، دونوں طرف شکایت اور شک کے ساتھ۔ اِس ماحول میں ایک ایسے حاکم کا تصور، جو سزا دینے کی پوری طاقت رکھتے ہوئے ہاتھ روکے رکھے، حیران کن حد تک غیرمعمولی تھا۔

بین المتون

پولس خود ہی اِس آیت کے بعد دو گواہ پیش کرتا ہے، اور دونوں بتاتے ہیں کہ خدا کا صبر کس کام آتا ہے۔ ہوسیع سے وہ نقل کرتا ہے: ”مَیں اُسے ’میری قوم‘ کہوں گا جو میری قوم نہ تھی، اور اُسے ’میری پیاری‘ کہوں گا جو مجھے پیاری نہ تھی۔“ جو لوگ ہمیشہ باہر سمجھے جاتے تھے، وہ اِسی مہلت کے دوران اندر لائے گئے۔ اور یسعیاہ سے وہ باب کے آخر میں وہ پتھر لاتا ہے ”جو ٹھوکر کا باعث بنے گا“، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہ ”جو اُس پر ایمان لائے گا اُسے شرمندہ نہیں کیا جائے گا۔“ یعنی غضب کے برتن اور جلال کے برتن کوئی مہربند فہرستیں نہیں؛ اُن کے درمیان ایک پتھر پڑا ہے، اور ہر شخص یا تو اُس سے ٹھوکر کھاتا ہے یا اُس پر بھروسا کرتا ہے۔

سوال

پھر بھی وہ جملہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے: ”جو ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔“ کیا خدا نے کچھ لوگ تباہی کے لئے بنائے؟ ایمان داری سے کہنا پڑے گا کہ پولس اِس سوال کا دوٹوک جواب نہیں دیتا، اور یہ اُس کی لاپروائی نہیں بلکہ اُس کا ارادہ ہے۔ وہ غضب کے برتنوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ ”تیار کئے گئے ہیں“، مگر جلال کے برتنوں کے بارے میں صاف کہتا ہے کہ خدا نے اُنہیں تیار کیا۔ نجات کا سہرا پورا خدا کے سر ہے؛ ہلاکت کا بوجھ وہ خدا پر نہیں ڈالتا۔ یہ عدم توازن منطق کا نقص نہیں، یہ انجیل کی شکل ہے۔ ہم مٹی ہیں جو کمہار سے بحث کرنا چاہتی ہے، اور جواب میں ہمیں بحث نہیں ملتی بلکہ ایک پتھر ملتا ہے جس پر کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔ اِس سے کم پر اطمینان کرنا آسان ہوتا، مگر سچ نہ ہوتا۔

غور و فکر

کس شخص کے بارے میں آپ نے چپکے سے فیصلہ سنا دیا ہے کہ وہ ”ہلاکت کا برتن“ ہے، اور خدا کا صبر آپ کے اِس فیصلے کے بارے میں کیا کہتا ہے؟

اگر آپ کی زندگی کے وہ سال، جب آپ خدا سے دور تھے، دراصل اُسی تحمل کا نتیجہ تھے، تو آج آپ اُس مہلت کا کیا کریں گے؟

یہ وضاحت شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter

Romans 9:22 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات

اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔

رومیوں 9:22 کا کیا مطلب ہے؟
کمہار کے چاک کی بات ابھی ختم نہیں ہوئی تھی کہ پولس اُسے سیدھا خدا پر لاگو کر دیتا ہے۔ آیت کہتی ہے: اگرچہ اللہ چاہتا تھا کہ اپنا غضب نازل کرے اور اپنی قدرت ظاہر کرے، تو بھی اُس نے ”بڑے صبر و تحمل سے وہ برتن برداشت کئے جن پر اُس کا غضب آنا ہے اور جو ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔“ یعنی جہاں ہم فوری عدالت کی توقع رکھتے ہیں، وہاں خدا ٹھہر جاتا ہے۔ جہاں ہم سمجھتے ہیں کہ فیصلہ سنایا جا چکا ہے، وہاں ابھی مہلت چل رہی ہے۔ چند سطریں پہلے فرعون کا نام آ چکا ہے، اور پہلے سننے والوں کے ذہن میں وہی منظر تازہ ہے: ایک کے بعد ایک آفت، ہر بار ایک اور موقع، ہر بار ایک اور انکار۔
رومیوں 9:22 کس بارے میں ہے؟
خدا کا یہ ”دیر سے غصہ کرنا“ پوری کتابِ مقدّس کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ نوح کے دنوں کی مہلت، مصر میں آفتوں کے درمیان کے وقفے، نبیوں کی وہ صدیاں جن میں اسرائیل کو بار بار بلایا گیا اور بار بار اُس نے نہ سنا: ہر بار عدالت کا ہاتھ اُٹھا ہوا تھا اور ہر بار رُک گیا۔ پولس یہ نہیں کہہ رہا کہ خدا بھول گیا ہے؛ وہ کہہ رہا ہے کہ خدا انتظار کر رہا ہے۔ اور یہ انتظار صلیب پر اپنے انجام کو پہنچتا ہے، جہاں غضب اور صبر ایک ہی جگہ آ ملتے ہیں۔ اِسی لئے باب کے آخر میں پولس اُس ”پتھر“ پر آتا ہے جو ٹھوکر کا باعث بنتا ہے۔ خدا کی تاخیر کا مقصد یہی تھا کہ لوگ اُس پتھر تک پہنچیں، نہ کہ وہ اُن سے چھپا رہے۔
رومیوں 9:22 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
روم کی گلیوں میں کمہار کا استعارہ خالی تشبیہ نہیں تھا۔ شہر کے مزدور محلوں میں بھٹیوں کا دھواں، گیلی مٹی کی بو، اور ہر گھر میں دو قسم کے برتن: میز پر رکھنے والے سجے ہوئے ظروف اور وہ موٹے، بدبودار مٹکے جو گندگی کے لئے استعمال ہوتے اور ٹوٹتے ہی باہر پھینک دیے جاتے۔ سننے والے جانتے تھے کہ برتن کی قسمت کمہار کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ یہ بھی جانتے تھے کہ روم میں انصاف تیز اور بے رحم ہوتا ہے: سڑک کے کنارے صلیبیں، بغیر مقدمے کے جلاوطنی۔ کلودیُس نے یہودیوں کو شہر سے نکال دیا تھا اور اب وہ لوٹ کر غیریہودی ایمان داروں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھے تھے، دونوں طرف شکایت اور شک کے ساتھ۔ اِس ماحول میں ایک ایسے حاکم کا تصور، جو سزا دینے کی پوری طاقت رکھتے ہوئے ہاتھ روکے رکھے، حیران کن حد تک غیرمعمولی تھا۔
رومیوں 9:22 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پھر بھی وہ جملہ کانٹے کی طرح چبھتا ہے: ”جو ہلاکت کے لئے تیار کئے گئے ہیں۔“ کیا خدا نے کچھ لوگ تباہی کے لئے بنائے؟ ایمان داری سے کہنا پڑے گا کہ پولس اِس سوال کا دوٹوک جواب نہیں دیتا، اور یہ اُس کی لاپروائی نہیں بلکہ اُس کا ارادہ ہے۔ وہ غضب کے برتنوں کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ ”تیار کئے گئے ہیں“، مگر جلال کے برتنوں کے بارے میں صاف کہتا ہے کہ خدا نے اُنہیں تیار کیا۔ نجات کا سہرا پورا خدا کے سر ہے؛ ہلاکت کا بوجھ وہ خدا پر نہیں ڈالتا۔ یہ عدم توازن منطق کا نقص نہیں، یہ انجیل کی شکل ہے۔ ہم مٹی ہیں جو کمہار سے بحث کرنا چاہتی ہے، اور جواب میں ہمیں بحث نہیں ملتی بلکہ ایک پتھر ملتا ہے جس پر کھڑا ہوا جا سکتا ہے۔ اِس سے کم پر اطمینان کرنا آسان ہوتا، مگر سچ نہ ہوتا۔
رومیوں 9:22 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
اگر آپ کی زندگی کے وہ سال، جب آپ خدا سے دور تھے، دراصل اُسی تحمل کا نتیجہ تھے، تو آج آپ اُس مہلت کا کیا کریں گے؟
ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے

کمیونٹی Romans 9 پر کیا شیئر کرتی ہے

اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔

دعا ادارتی کو آیت 6

اے خدا، جب حالات الجھے ہوئے لگتے ہیں تو میرا دل سوال کرتا ہے کہ کیا تیرا وعدہ ٹوٹ گیا۔ مجھے یاد دلا کہ تیرا کلام کبھی ناکام نہیں ہوتا۔ میں خاندان یا نام پر نہیں، تیرے فضل اور بلاہٹ پر بھروسہ کرنا چاہتا ہوں۔ میرے بےصبر دل کو تھام لے۔

دعا ادارتی کو آیت 23

اے رحیم خدا، میں مٹی کا ایک معمولی برتن ہوں، پھر بھی تُو نے مجھے اپنی رحمت کے لیے چُنا۔ میری کمزوریوں کے باوجود اپنے جلال کی دولت مجھ میں دکھا، تاکہ لوگ مجھے نہیں بلکہ تیری بھلائی کو دیکھیں۔ مجھے اِس محبت کے لائق بنا جو تُو نے پہلے ہی مجھ پر نچھاور کر دی۔

اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں

ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔

مطالعے کے ٹول میں کھولیں

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کی تشریحات تیار کرنے کے لیے خودکار لسانی ماڈلز استعمال کرتا ہے۔ اگرچہ ہم علمِ الٰہیات کے اعتبار سے درستگی کی پوری کوشش کرتے ہیں، پھر بھی سافٹ ویئر سے غلطی ہو سکتی ہے۔ اس سہولت کو اپنے ذاتی مطالعۂ بائبل اور کلیسیا کی رفاقتی زندگی کا نعم البدل نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے ایک معاون ذریعہ جانیں۔

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

کمپنی؟