آستر 3
متن
ہامان بن ہمّداتا اجاجی کو بادشاہ سب سے اعلیٰ عُہدہ دیتا ہے، اور دربار کے سب افسر اُس کے سامنے منہ کے بل جھکتے ہیں، سوائے ایک آدمی کے۔ مردکی کا انکار ہامان کے اندر ایسی آگ بھڑکاتا ہے کہ وہ صرف ایک یہودی نہیں بلکہ پوری سلطنت کے یہودیوں کو مٹانے کا منصوبہ باندھتا ہے؛ قرعہ ڈالا جاتا ہے، تاریخ مقرر ہوتی ہے، شاہی مُہر لگتی ہے، قاصد نکل پڑتے ہیں۔ اور باب کا آخری منظر یہ ہے: ”پھر بادشاہ اور ہامان کھانے پینے کے لئے بیٹھ گئے۔ لیکن پورے شہر میں ہل چل مچ گئی۔“
اصل بات
اِس پورے باب میں خدا کا نام ایک بار بھی نہیں آتا۔ نہ کوئی دعا، نہ کوئی نبی، نہ آسمان سے کوئی آواز۔ صرف ایک انگوٹھی جو ایک اُنگلی سے اُتر کر دوسری اُنگلی میں چلی جاتی ہے، اور اُس کے ساتھ ہزاروں جانیں۔ یہی اِس متن کی سب سے بڑی سچائی ہے اور سب سے بڑی اذیت بھی: خدا خاموش ہیں، مگر غیرحاضر نہیں۔ قرعہ ہامان کے ہاتھ میں ڈالا جاتا ہے، مگر وہ گیارہ مہینے بعد کی تاریخ نکالتا ہے، یعنی موت اتنی دور سَرک جاتی ہے کہ نجات کے لئے گنجائش بن جائے۔ کتابِ آستر ہمیں یہ ماننے پر مجبور کرتی ہے کہ خدا کی حکومت اکثر بغیر معجزے کے، بغیر اعلان کے، تاریخوں اور اتفاقات کے نیچے چھپی ہوئی چلتی ہے۔ ایمان یہیں پیدا ہوتا ہے: خاموشی میں بھروسا کرنا۔
بُنیادی دھاگا
”اجاجی“ لفظ بےوجہ نہیں دہرایا گیا۔ یہ ہامان کو عمالیقی بادشاہ اجاج سے جوڑتا ہے، اُس قوم سے جس نے مصر سے نکلتے ہوئے اسرائیل کے کمزوروں پر پیچھے سے حملہ کیا تھا۔ یعنی یہ محض دفتری رقابت نہیں، یہ وہی پرانی دشمنی ہے جو عہد کی قوم کو جڑ سے مٹانا چاہتی ہے۔ اور جہاں کہیں وعدے کی نسل مٹانے کی کوشش ہوتی ہے، وہاں مسیح کی آمد پر وار ہو رہا ہوتا ہے: فرعون کے بچوں کے قتل سے لے کر بیت لحم کے بچوں تک۔ ہامان کا فرمان ”چھوٹے ہوں یا بڑے، بچے ہوں یا عورتیں“ اُسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ مگر یہ سلسلہ ہر بار ناکام ہوتا ہے، کیونکہ خدا کا وعدہ انگوٹھیوں اور فرمانوں سے زیادہ مضبوط ہے۔
آئینہ
ہامان کو ایک آدمی کا نہ جھکنا سہن نہیں ہوتا۔ سب جھک رہے ہیں، مگر اُس کی نظر اُس ایک پر ٹکی ہے جو کھڑا ہے۔ یہ ہمیں جانی پہچانی بات لگنی چاہئے: دس تعریفیں بھول جاتی ہیں، ایک تنقید رات بھر جگائے رکھتی ہے۔ ترقی، عُہدہ، واٹس ایپ پر ملنے والی عزت، سب مل جائے تو بھی ایک انکار کافی ہے کہ دل میں زہر بھر جائے۔ دوسری طرف مردکی ہے، جو روز بہ روز دباؤ جھیلتا ہے اور صرف اتنا کہتا ہے، ”مَیں تو یہودی ہوں۔“ کوئی تقریر نہیں، کوئی بحث نہیں، بس پہچان کا اقرار۔ آپ کے دفتر، خاندان یا کلاس میں بھی کوئی ایسی جگہ ہے جہاں جھکنا آسان اور کھڑا رہنا مہنگا ہے۔ آج ہی ایک کاغذ پر وہ ایک نام یا وہ ایک موقع لکھیں جہاں آپ ڈر کے مارے جھک جاتے ہیں، اور اُس کاغذ کو ہاتھ میں لے کر زور سے کہیں: ”مَیں مسیح کا ہوں۔“
ایک باریک نکتہ
قرعہ۔ ہامان سلطنت کا سب سے طاقتور آدمی ہے، اُس کے پاس بادشاہ کا کان ہے، خزانے کے لئے چاندی ہے، اور پھر بھی وہ ایک دن چُننے کے لئے پانسے پر انحصار کرتا ہے، ”سب سے مبارک تاریخ معلوم“ کرنے کے لئے۔ طاقت کی پشت پر توہم پرستی بیٹھی ہے۔ اور یہیں خاموش خدا پہلی بار کام کرتے دکھائی دیتے ہیں، بغیر نام لئے: قرعہ پہلے مہینے میں ڈالا جاتا ہے اور بارھویں مہینے کی تاریخ نکلتی ہے۔ ہامان سمجھتا ہے اُس نے قسمت سے بہترین دن لیا ہے؛ درحقیقت اُس نے اپنے شکار کو سانس لینے کا پورا سال دے دیا ہے۔ اور اِسی لفظ ”پور“ سے اُس عید کا نام بنا جو یہودی آج تک نجات کی یاد میں مناتے ہیں۔
پس منظر
یہ اخسویرس (خشیارشا) کی حکومت کا بارھواں سال ہے، تقریباً 474 قبلِ مسیح، سوسن کے قلعے میں۔ فارسی سلطنت ہندوستان سے حبشہ تک پھیلی ہوئی ہے اور اُس کی طاقت دو چیزوں پر کھڑی ہے: ڈاک کا تیز نظام اور شاہی مُہر۔ جو خط ایک بار اُس مُہر سے مُہر ہو جائے، وہ ناقابلِ تنسیخ ہے۔ یہودی یہاں جلاوطنی کے بعد بھی رہ رہے ہیں، نہ پوری طرح اجنبی نہ پوری طرح اپنے۔ ہامان کا الزام اِسی کشمکش کو چھوتا ہے: ”ایک قوم بکھری ہوئی ہے جو اپنے آپ کو دیگر قوموں سے الگ رکھتی ہے۔“ ہر زمانے کی اقلیت پر یہی الزام لگتا ہے: تم مختلف ہو، اِس لئے خطرناک ہو۔ اور بادشاہ بغیر تحقیق کے کہتا ہے، ”چاندی اور قوم آپ ہی کی ہیں۔“ اتنی آسانی سے انسانی زندگیاں سودے کا مال بن جاتی ہیں۔
بین المتون
خروج 17 میں عمالیق کی یاد مٹانے کا اعلان ہوتا ہے، اور 1-سموئیل 15 میں ساؤل اجاج کو زندہ چھوڑ دیتا ہے؛ یہاں اُسی ادھوری فرمانبرداری کا سایہ ہامان کی شکل میں لوٹ آتا ہے، اور یہ دکھاتا ہے کہ نافرمانی کے نتائج نسلوں تک چلتے ہیں۔ دوسری گونج زیادہ تلخ ہے: سوسن میں بادشاہ اور ہامان مزے سے کھانے بیٹھتے ہیں جبکہ شہر میں ہل چل مچی ہوئی ہے۔ یہ منظر مرقس میں ہیرودیس کی اُس ضیافت کی یاد دلاتا ہے جہاں رقص اور شراب کے بیچ ایک نبی کا سر کٹتا ہے۔ طاقت کی میز ہمیشہ کسی کی آہ پر لگی ہوتی ہے، اور خدا اُس آہ کو سنتے ہیں، چاہے وہ باب کے آخر تک کچھ نہ کہیں۔
غور و فکر
جب میری زندگی میں خدا خاموش محسوس ہوں، تو کیا مَیں اُن کی خاموشی کو غیرحاضری سمجھ لیتا ہوں، یا اُسے اُن کے پوشیدہ کام کے طور پر برداشت کرنا سیکھ رہا ہوں؟
مردکی کا انکار کسی بحث سے نہیں، اپنی پہچان سے نکلا۔ میری پہچان اِس وقت کس چیز پر ٹکی ہے، اور وہ کس موڑ پر جھکنے سے انکار کرے گی؟
Esther 3 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
آستر 3 کا کیا مطلب ہے؟
آستر 3 کس بارے میں ہے؟
آستر 3 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
آستر 3 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
آستر 3 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Esther 3 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
اے خدا، جب طاقتور لوگ آرام سے بیٹھ کر جام اٹھاتے ہیں اور شہر خوف سے بےچین ہو جاتا ہے، تُو اُس بےچینی کو دیکھتا ہے۔ آج بھی بہت سے لوگ ایسے فیصلوں کا بوجھ اٹھاتے ہیں جن میں اُن کی کوئی رائے نہیں تھی۔ اُن کے ساتھ کھڑا رہ، اور مجھے بےحس ہونے سے بچا۔
خداوند، شکر ہے کہ جب اخسویرس بادشاہ نے ہامان کو ترقی دے کر سب شرفا سے اعلیٰ عُہدہ دیا، تب بھی تُو تخت پر بیٹھا تھا۔ تُو نے پہلے ہی آستر کو محل میں پہنچا دیا تھا۔ شکر کہ دشمن کی بڑھوتری تیرے منصوبے کو نہیں روک سکتی، اور میری زندگی بھی تیرے ہاتھ میں محفوظ ہے۔
اے خدا، جب ظلم کے فرمان لکھے جاتے ہیں اور کمزوروں کی جان سستی سمجھی جاتی ہے، تب ہمارا دل کانپ اٹھتا ہے۔ تُو اُن سب کو دیکھ جو آج خوف کے سائے میں جی رہے ہیں۔ ہمیں تھام لے، اور ہمیں ایسے لوگ بنا جو خاموش نہ رہیں بلکہ دوسروں کے لیے کھڑے ہوں۔
بادشاہ نے اپنی مُہر کی انگوٹھی اُتار کر ہامان کو دے دی، اور ایک بار بھی نہ پوچھا کہ اِس سے کیا لکھا جائے گا۔ ایک غافل لمحہ، اور ایک پوری قوم موت کے کنارے آ گئی۔ آج سوچ کہ تُو نے اپنی انگوٹھی کس کے ہاتھ میں دی ہے۔ کون تیرے فیصلے، تیری زبان، تیرے پیسے پر مُہر لگا رہا ہے؟ جو اختیار ہم بےپروائی سے سونپ دیتے ہیں، وہ دوسروں کو مہنگا پڑتا ہے۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
