بائبل کی کتاب

پیدائش کی کتاب کا خلاصہ اور تعارف

تعارف

ایک بوڑھا آدمی رات کے وقت خیمے سے باہر نکلتا ہے۔ اُس کی گود خالی ہے، بیوی بانجھ ہے، عمر ڈھل چکی ہے، اور خدا اُس سے کہتا ہے: آسمان کے ستارے گنو۔ یہ کتابِ پیدائش کا ایک منظر ہے، اور یہ منظر بتاتا ہے کہ یہ کتاب اصل میں کس چیز کے بارے میں ہے۔ ہم اکثر پیدائش کو "شروعات کی کتاب" سمجھ کر پڑھتے ہیں، اور پھر پہلے دو تین باب پر بحث کرتے کرتے تھک جاتے ہیں، اور باقی سینتالیس باب اجنبی رہ جاتے ہیں۔ مگر جو شخص اِس کتاب کو آخر تک پڑھتا ہے، وہ ایک اور چیز دیکھتا ہے: ایک ٹوٹی ہوئی دنیا میں خدا کا ایک وعدہ، جو نسل در نسل چلتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور کسی گناہ، کسی قحط، کسی دھوکے سے نہیں رُکتا۔

اِس صفحے پر آپ کتابِ پیدائش کا مصنف، زمانہ، ساخت، مرکزی موضوعات اور اہم آیات دیکھیں گے، اور اُس دھاگے کو پکڑنا سیکھیں گے جو پہلی آیت سے لے کر خداوند یسوع مسیح تک جاتا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

اِس رہنما میں ہم پیدائش کو "کائنات کیسے بنی" کے سائنسی سوال کے گرد نہیں، بلکہ ایک وعدے کے گرد پڑھیں گے۔ پیدائش 3:15 میں خدا ایک "نسل" کا وعدہ کرتا ہے، اور اِس کے بعد پوری کتاب اُس نسل کا پیچھا کرتی ہے: شیت، نوح، ابرہام، اضحاق، یعقوب، یہوداہ، یوسف۔ اِسی لیے پیدائش میں اتنے شجرے، اتنے گھرانے، اتنی بانجھ مائیں اور اتنے ناکارہ باپ ہیں۔ خدا اپنے وعدے کو مکمل لوگوں کے ذریعے نہیں، ٹوٹے گھرانوں کے ذریعے لے کر چلتا ہے۔

پیدائش آغاز کی کتاب سے زیادہ وعدے کی کتاب ہے۔

یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ یہی زاویہ آپ کو اپنی ٹوٹی ہوئی زندگی میں بھی خدا کی وفاداری دکھاتا ہے۔

بائبل پیدائش کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

پیدائش کی پہلی آیت پوری بائبل کی بنیاد رکھ دیتی ہے: "خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا۔" (پیدائش 1:1) یہاں کوئی دلیل نہیں دی جاتی، کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جاتا۔ خدا کے وجود پر بحث نہیں ہوتی، بلکہ اُس کے کام کا اعلان ہوتا ہے۔ اِس ایک جملے میں یہ سب کچھ آ جاتا ہے کہ خدا دنیا سے پہلے ہے، دنیا سے باہر ہے، اور دنیا کا مالک ہے۔ کائنات نہ کوئی حادثہ ہے، نہ دیوتاؤں کی جنگ کا ملبہ، جیسا کہ اُس زمانے کی قدیم قوموں کی کہانیاں کہتی تھیں۔ یہ ایک ہی خدا کے کلام سے وجود میں آئی، اور اُس نے اِسے دیکھ کر کہا کہ بہت اچھی ہے۔

اِس تخلیق کے تاج پر انسان ہے: "اور خدا نے انسان کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ خدا کی صورت پر اُس کو پیدا کیا۔ نر اور ناری اُن کو پیدا کیا۔" (پیدائش 1:27) قدیم مشرق میں "صورت" یا مورت بادشاہ کے لیے مخصوص لفظ تھا؛ بادشاہ ہی دیوتا کی شبیہ کہلاتا تھا۔ پیدائش یہ اعزاز ہر انسان کو دے دیتی ہے، مرد کو اور عورت کو، غلام کو اور آزاد کو، پیدا ہونے والے بچے کو اور مرنے والے بوڑھے کو۔ یہی آیت انسانی عزت کی سب سے مضبوط بنیاد ہے جو کسی کتاب نے کبھی رکھی۔

مگر تیسرا باب سب کچھ توڑ دیتا ہے۔ انسان خدا کے کلام کی جگہ سانپ کے سوال کو ترجیح دیتا ہے، اور شرم، الزام، درد اور موت دنیا میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اور یہیں، لعنت کے عین بیچ میں، خدا کا پہلا وعدہ آتا ہے: "اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔" (پیدائش 3:15) کلیسیا نے صدیوں سے اِس آیت کو "پہلی خوش خبری" کہا ہے۔ سانپ کا انجام لکھا جا چکا ہے، مگر فتح مفت نہیں ہوگی؛ فاتح کی ایڑی زخمی ہوگی۔ یہ زخم کلوری پر لگا۔

اِس وعدے کے بعد پیدائش ایک تلاش بن جاتی ہے: وہ نسل کون ہے؟ کائن نہیں، لمک نہیں، بابل کے مینار بنانے والے نہیں۔ پھر خدا ایک بُت پرست شہر سے ایک بے اولاد آدمی کو بلاتا ہے اور فرماتا ہے: "اور میں تجھے ایک بڑی قوم بناؤں گا اور برکت دوں گا اور تیرا نام سرفراز کروں گا۔ سو تُو برکت کا باعث ہو۔" (پیدائش 12:2) گیارہ باب تک انسان اپنا نام بڑا کرنے کی کوشش کرتا رہا؛ اب خدا خود ایک نام بڑا کرنے کا وعدہ کرتا ہے، اور وہ بھی اِس مقصد کے لیے کہ ایک آدمی کے ذریعے تمام قومیں برکت پائیں۔

ابرہام اِس وعدے کا جواب کیسے دیتا ہے؟ "اور وہ خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِس کو اُس کے لیے راستبازی شمار کیا۔" (پیدائش 15:6) شریعت سے سینکڑوں سال پہلے، خانہ بدوشی کے ایک خیمے میں، فضل کا اصول رکھ دیا جاتا ہے: انسان اپنے کاموں سے نہیں، خدا کے وعدے پر بھروسہ کرنے سے راستباز ٹھہرتا ہے۔ پولس رسول رومیوں اور گلتیوں میں اِسی آیت پر انجیل کی پوری عمارت کھڑی کرتا ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

پیدائش کے آخری الفاظ "مصر میں" ہیں، اور یہ اتفاق نہیں۔ کتاب جان بوجھ کر ادھوری چھوڑی گئی ہے، کیونکہ وعدہ ابھی پورا نہیں ہوا۔ خروج، احبار، گنتی اور استثنا اِسی کہانی کو آگے بڑھاتے ہیں: جس گھرانے کو خدا نے پیدائش میں چُنا، وہ اب ایک قوم بن چکا ہے، اور خدا اُسے اُس ملک کی طرف لے جا رہا ہے جس کا وعدہ ابرہام سے ہوا تھا۔ یشوع میں زمین ملتی ہے، بادشاہوں میں کھو جاتی ہے، نبیوں میں بحال ہونے کا وعدہ ملتا ہے۔ پرانے عہد نامے کا ہر صفحہ اُسی دھاگے کو تھامے ہوئے ہے جو پیدائش 3:15 اور پیدائش 12:2 میں شروع ہوا۔

اور پھر نیا عہد نامہ کھلتا ہے، اور متی کی انجیل پہلا جملہ ہی ایک شجرے سے شروع کرتی ہے: یسوع مسیح، ابنِ داؤد، ابنِ ابرہام۔ متی جانتا ہے کہ اُس کا قاری پیدائش سے واقف ہے۔ وہ کہہ رہا ہے: جس نسل کی تلاش پیدائش میں شروع ہوئی تھی، وہ آ گئی۔ پولس گلتیوں میں اِسی نکتے کو سنبھالتا ہے کہ ابرہام سے کیے گئے وعدے میں "نسل" کا لفظ آخر کار ایک شخص کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی مسیح کی طرف۔ ابرہام کے ذریعے تمام قوموں کی برکت کا وعدہ اُس دن پورا ہونے لگا جب یہودی اور غیر یہودی ایک ہی صلیب کے نیچے جمع ہوئے۔

یوحنا کی انجیل تو پیدائش کے پہلے الفاظ ہی اُٹھا لیتی ہے: "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔" (یوحنا 1:1) جس کلام سے روشنی پیدا ہوئی، وہی کلام مجسم ہو کر ہمارے درمیان بسا۔ پولس دوسرے کرنتھیوں اور کلسیوں میں مسیح کو "نئی خلقت" اور "خدا کی صورت" کہتا ہے، یعنی وہ کام جو آدم میں بگڑا، وہ مسیح میں بحال ہو رہا ہے۔ اور بائبل کا آخری باب باغ کو واپس لاتا ہے: زندگی کا درخت، بہتا پانی، اور لعنت کا خاتمہ۔ پیدائش 3 میں جو دروازہ بند ہوا تھا، مکاشفہ 22 میں کھول دیا جاتا ہے، مگر اب باغ ایک شہر بن چکا ہے، اور اُس میں ہر قوم اور ہر زبان کے لوگ ہیں، بالکل جیسا ابرہام سے وعدہ ہوا تھا۔

اِسی لیے پیدائش کو صرف "پرانی تاریخ" سمجھ کر پڑھنا اِس کتاب کے ساتھ ناانصافی ہے۔ یہ کتاب انجیل کا پہلا باب ہے۔ بغیر پیدائش کے، ہمیں معلوم نہیں ہوگا کہ مسیح آخر کس چیز کو بحال کرنے آیا اور کس وعدے کو پورا کرنے آیا۔

ساخت اور بنیادی موضوعات

روایتی طور پر یہودی اور مسیحی کلیسیا دونوں نے پیدائش کو توریت کا حصہ سمجھا اور موسیٰ کو اِس کا مصنف مانا۔ خداوند یسوع مسیح خود توریت کی کتابوں کو "موسیٰ" کے نام سے پکارتے ہیں، اور یہ گواہی ایمان داروں کے لیے فیصلہ کن رہی ہے۔ پیدائش کے واقعات موسیٰ سے صدیوں پہلے کے ہیں، اِس لیے یہ کتاب ایک محفوظ روایت کی بنیاد پر لکھی گئی، اور خدا کے روح نے موسیٰ کو یہ سب اُس قوم کے لیے قلم بند کرنے کا کام سونپا جو مصر سے نکل کر بیابان میں سفر کر رہی تھی۔ زمانے کے لحاظ سے، اکثر روایتی تخمینے تیرہویں سے پندرہویں صدی قبلِ مسیح کے درمیان جاتے ہیں، اور کچھ حصوں کی حتمی ترتیب بعد میں ہوئی ہو، اِس بات سے کتاب کے الہامی اختیار پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔

حالات کو سمجھنا ضروری ہے، کیونکہ اِس سے کتاب کا مقصد کھلتا ہے۔ پہلے قاری وہ لوگ تھے جو ابھی مصر کے دیوتاؤں کے سائے سے نکلے تھے اور کنعان کے بُت پرست ملک کی طرف جا رہے تھے۔ اُنہیں یہ جاننا تھا کہ سورج، دریا اور آسمان دیوتا نہیں، مخلوق ہیں؛ کہ وہ کسی مقامی دیوتا کے پیچھے نہیں، بلکہ اُس خدا کے پیچھے چل رہے ہیں جس نے اُن کے باپ دادا سے وعدہ کیا تھا؛ اور کہ جو زمین اُن کے سامنے ہے، وہ لوٹ کا مال نہیں، وراثت ہے۔

ساخت کے لحاظ سے پیدائش کا ڈھانچہ خود کتاب کے اندر لکھا ہوا ہے۔ دس بار ایک فقرہ دہرایا جاتا ہے، "یہ پیدائش ہے" یا "یہ نسل نامہ ہے"، اور ہر بار کہانی ایک نئی کڑی کی طرف بڑھتی ہے۔ یہ فہرستیں پڑھنے میں خشک لگتی ہیں، مگر یہی کتاب کی ریڑھ کی ہڈی ہیں: یہ ثابت کرتی ہیں کہ خدا کا وعدہ ہوا میں معلق نہیں، بلکہ اصل انسانوں کی اصل اولاد میں سے گزرتا ہوا آگے چل رہا ہے۔ خدا ٹوٹے گھرانوں کے ذریعے اپنا وعدہ لے کر چلتا ہے۔

موٹے طور پر کتاب دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ پہلے گیارہ باب پوری انسانیت کی کہانی ہیں: تخلیق، باغ، گناہ، کائن اور ہابل، نوح اور طوفان، اور بابل کا مینار۔ یہ حصہ ایک اُترتی ہوئی سیڑھی ہے؛ ہر باب میں گناہ گہرا ہوتا ہے، اور ہر بار خدا سزا کے ساتھ ساتھ فضل کی کوئی صورت رکھ دیتا ہے: آدم اور حوّا کے لیے کھال کا لباس، نوح کے لیے کشتی، بابل کے بعد ایک بلاوا۔ باب بارہ سے پچاس تک چار گھرانوں کی کہانی ہے: ابرہام، اضحاق، یعقوب اور یوسف۔ یہاں رفتار سست ہو جاتی ہے، کیونکہ خدا اب تفصیل سے دکھانا چاہتا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے ساتھ کیسے وفادار رہتا ہے۔

بنیادی موضوعات آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ پہلا موضوع خدا کی بادشاہت اور تخلیق کی نیکی ہے: مادّہ بُرا نہیں، جسم بُرا نہیں، شادی بُری نہیں، کام بُرا نہیں۔ دوسرا موضوع گناہ کا اصل مسئلہ ہے: بداعتمادی، خود مختاری، اور رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ۔ تیسرا موضوع عہد اور برکت ہے: خدا اپنی مرضی سے خود کو ایک وعدے کا پابند بناتا ہے اور قسم کھا کر اُس پر قائم رہتا ہے۔ چوتھا موضوع ایمان ہے، اور یہ ایمان مثالی نہیں؛ ابرہام جھوٹ بولتا ہے، سارہ ہنستی ہے، یعقوب دھوکہ دیتا ہے، یہوداہ گر جاتا ہے۔ پانچواں موضوع خدا کی حکمرانی ہے: انسانی بدنیتی بھی اُس کے مقصد کی خدمت کرتی ہے، اور یہی بات یوسف کے آخری الفاظ میں کھل کر سامنے آتی ہے۔

اور اِن سب کے اوپر ایک اور بات: خدا اِس کتاب میں بولتا ہے۔ وہ روشنی کو بلاتا ہے، آدم کو پکارتا ہے، نوح سے عہد کرتا ہے، ابرہام سے وعدہ کرتا ہے، یعقوب سے کشتی لڑتا ہے۔ پیدائش ہمیں ایک خاموش، دُور بیٹھا خدا نہیں دکھاتی، بلکہ ایک ایسا خدا جو اپنی مخلوق کے پیچھے چل کر آتا ہے۔

اس کتاب کی اہم آیات

پہلی آیت جس پر ٹھہرنا چاہیے، پیدائش 22:8 ہے۔ ابرہام اپنے بیٹے کو لے کر پہاڑ پر چڑھ رہا ہے۔ لڑکا معصومیت سے پوچھتا ہے کہ قربانی کا برّہ کہاں ہے، اور باپ کا جواب پوری بائبل کے سب سے بھاری جملوں میں سے ایک ہے: "ابرہام نے کہا اے میرے بیٹے خدا آپ ہی اپنے واسطے برّہ مہیا کر لے گا۔ سو وہ دونوں آگے چلے گئے۔" (پیدائش 22:8) ابرہام یہاں پیش گوئی نہیں کر رہا تھا، وہ صرف بھروسہ کر رہا تھا؛ مگر خدا نے اُس کے بھروسے میں انجیل کا خاکہ رکھ دیا۔ اُس دن ایک مینڈھا مہیا ہوا، اور اُسی پہاڑی سلسلے میں صدیوں بعد خدا نے وہ برّہ مہیا کیا جس کے بارے میں یوحنا اصطباغی نے کہا کہ یہ دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اضحاق بچا لیا گیا، مگر خدا نے اپنے اکلوتے بیٹے کو نہیں بچایا۔

دوسری آیت پیدائش 15:6 ہے: "اور وہ خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِس کو اُس کے لیے راستبازی شمار کیا۔" غور کیجیے کہ ابرہام کے پاس اِس وقت کوئی بیٹا نہیں، کوئی زمین نہیں، کوئی مذہبی کارنامہ نہیں۔ اُس کے پاس صرف ایک وعدہ ہے اور اُس وعدے پر بھروسہ۔ خدا اُس بھروسے کو اُس کے حساب میں راستبازی لکھ دیتا ہے۔ یہی وہ آیت ہے جو سولہویں صدی میں اصلاح کے دوران دوبارہ گونجی، اور یہی آیت آج بھی ہر تھکے ہوئے ایمان دار کے لیے آرام ہے: آپ کی قبولیت آپ کے ریکارڈ پر نہیں، مسیح پر بھروسہ کرنے سے ہے۔

تیسری آیت پیدائش 50:20 ہے، اور یہ پوری کتاب کا خلاصہ ہے۔ یوسف اپنے اُن بھائیوں سے کہتا ہے جنہوں نے اُسے گڑھے میں پھینکا اور بیچ دیا تھا: "تم نے تو مجھ سے بدی کرنے کا ارادہ کیا تھا پر خدا نے اُسی سے نیکی کا قصد کیا تاکہ بہت لوگوں کو زندہ رکھے چنانچہ ایسا ہی ہو رہا ہے۔" (پیدائش 50:20) یوسف بدی کو بدی کہتا ہے، وہ اپنے زخم کی صفائی پیش نہیں کرتا۔ مگر وہ اُس زخم کے اوپر خدا کا ہاتھ دیکھتا ہے۔ اِسی ایک آیت سے معافی ممکن ہوتی ہے، کیونکہ جو شخص جانتا ہے کہ اُس کی کہانی خدا کے ہاتھ میں ہے، وہ بدلہ لینے کا بوجھ چھوڑ سکتا ہے۔ جہاں انسان بدی کا ارادہ کرتا ہے، خدا نیکی بُنتا ہے۔

آئینہ

آپ کے پاس بھی کوئی خیمہ ہے جس سے آپ رات کے وقت باہر نکل کر آسمان کو دیکھتے ہیں۔ شاید وہ ایک خالی گود ہے، یا ایک رشتہ جو کبھی نہ بن سکا، یا ایک کاروبار جو ڈوب گیا، یا ایک نوکری جس کے لیے آپ نے دس سال دیے اور آخر میں کچھ ہاتھ نہ آیا۔ ابرہام کی کہانی آپ کو یہ نہیں سکھاتی کہ خدا فوراً جواب دیتا ہے؛ اُس نے پچیس سال انتظار کیا اور اِس دوران دو بار خود اپنے ہاتھوں سے وعدہ پورا کرنے کی کوشش کی اور نقصان اُٹھایا۔ سوال یہ ہے: آپ اُس وقت کیا کرتے ہیں جب خدا خاموش ہو؟

پیدائش 1:27 آپ کے آئینے کے سامنے آ کر کھڑی ہو جاتی ہے۔ آپ اپنے جسم سے شرمندہ ہیں، اپنی عمر سے، اپنی آمدنی سے، اپنی تعلیم سے، اپنی زبان سے۔ آپ نے اپنی قیمت اُن چیزوں سے جوڑ لی ہے جو بدلتی رہتی ہیں۔ مگر آپ خدا کی صورت پر بنائے گئے ہیں، اور یہ وہ اعزاز ہے جو نہ آپ نے کمایا اور نہ کوئی آپ سے چھین سکتا ہے۔ اِس کا دوسرا رُخ بھی ہے: وہ آدمی بھی خدا کی صورت پر بنایا گیا ہے جس کے بارے میں آپ دفتر میں بات کرتے ہیں، اور وہ عورت بھی جس کے واٹس ایپ پیغام کا آپ جواب نہیں دیتے۔

اور یوسف کے الفاظ آپ کے سب سے پرانے زخم پر آ کر رُکتے ہیں۔ کسی نے آپ کے ساتھ حقیقتاً بدی کی۔ آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ اُسے کم کر کے دیکھیں یا اُسے "سب کچھ ٹھیک تھا" کہہ دیں۔ آپ سے یہ کہا جا رہا ہے کہ اُس بدی کے اوپر ایک بڑا ہاتھ بھی تھا، اور یہ کہ آپ برسوں سے جس زہر کو سنبھال کر رکھے ہوئے ہیں، اُسے آپ خدا کے قدموں میں رکھ سکتے ہیں۔ خدا نے کبھی نہیں کہا کہ گڑھا اچھا تھا۔ اُس نے کہا کہ گڑھے میں بھی وہ آپ کے ساتھ تھا۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو پیدائش سنانا آسان ہے، کیونکہ اِس میں تصویریں بہت ہیں: روشنی، پانی، جانور، ایک باغ، ایک سانپ، ایک بڑی کشتی، ایک اُونچا مینار، ستارے، ایک رنگین لباس۔ مشکل یہ ہے کہ ہم اِن تصویروں کو الگ الگ کہانیاں بنا کر سنا دیتے ہیں، اور بچہ بڑا ہو کر سمجھتا ہے کہ بائبل جانوروں اور کشتیوں کی کہانیوں کا مجموعہ ہے۔

اِس لیے سب سے پہلے بچے کو ایک ہی جملہ دیجیے: خدا نے سب کچھ بہت اچھا بنایا، انسان نے خدا کی بات نہ مانی اور سب کچھ خراب ہو گیا، اور خدا نے فوراً وعدہ کیا کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر دے گا اور کوئی آئے گا جو سانپ کا سر کچل دے گا۔ اِس کے بعد ہر کہانی اُسی وعدے کے ساتھ جوڑ دیجیے۔ نوح کی کشتی: خدا اپنے وعدے کو بچا رہا ہے۔ ابرہام کا بلاوا: خدا ایک گھرانا چُن رہا ہے۔ یوسف کا مصر جانا: خدا اُس گھرانے کو قحط سے بچا رہا ہے۔ چھوٹے بچے کو یہ بھی بتائیے کہ باغ میں خدا نے آدم کو ڈھونڈا اور پکارا؛ بچوں کو یہ سننا چاہیے کہ خدا ڈھونڈنے والا خدا ہے، ڈرانے والا نہیں۔

بڑے بچوں کے ساتھ آپ مشکل سوالوں سے نہ بھاگیں۔ وہ پوچھیں گے کہ چھ دن کا کیا مطلب ہے، سانپ بولا کیسے، اور کائن نے اپنے بھائی کو کیوں مارا۔ "بس ایسا ہی ہے" کہنے سے بہتر ہے کہ آپ کہیں: یہ اچھا سوال ہے، آؤ مل کر دیکھیں۔

مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ اور تصویری بیان، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے تھوڑی تفصیل اور نقشے کے ساتھ، اور بارہ سال سے اُوپر نوجوانوں کے لیے وہ سوالات جو وہ اسکول اور انٹرنیٹ پر سنتے ہیں۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چُنیے اور اُس کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

پیدائش کی کتاب کس نے لکھی؟

روایتی یہودی اور مسیحی گواہی موسیٰ کو اِس کتاب کا مصنف مانتی ہے، اور خداوند یسوع مسیح اور رسول بھی توریت کی کتابوں کو موسیٰ کے نام سے پکارتے ہیں۔ کتاب کے اندر مصنف کا نام نہیں دیا گیا، اِس لیے علما اِس پر بحث کرتے رہے ہیں کہ بعد میں کچھ تفصیلات، جیسے جگہوں کے نئے نام، کسی مدون نے شامل کیں یا نہیں۔ ایمان دار کے لیے بنیادی بات یہ ہے کہ یہ کتاب خدا کے الہام سے لکھی گئی اور کلیسیا نے اِسے ہمیشہ خدا کے کلام کے طور پر قبول کیا۔

پیدائش کی کتاب کب لکھی گئی؟

جن واقعات کا بیان اِس کتاب میں ہے، وہ لکھے جانے سے صدیوں پہلے پیش آئے، اور روایت کے ذریعے محفوظ رہے۔ خود کتاب کے قلم بند ہونے کا زمانہ اکثر روایتی حساب سے مصر سے خروج کے بعد کا وقت مانا جاتا ہے، یعنی لگ بھگ پندرہویں سے تیرہویں صدی قبلِ مسیح کے درمیان۔ کتاب کا پہلا سامع وہی نسل تھی جو بیابان میں سفر کر رہی تھی اور جسے یہ جاننا ضروری تھا کہ وہ کس خدا کے پیچھے چل رہی ہے اور کس وعدے کی وارث ہے۔

کتابِ پیدائش میں کتنے باب ہیں اور اُس کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

پیدائش میں پچاس باب ہیں، اور یہ بائبل کی پہلی کتاب ہے۔ اِس کا مرکزی پیغام یہ ہے کہ ایک ہی خدا نے سب کچھ اچھا بنایا، انسان کے گناہ نے سب کچھ توڑ دیا، اور خدا نے اُسی لمحے سے بحالی کا کام شروع کر دیا؛ ایک وعدے کے ذریعے جو ایک نسل میں سے گزرتا ہوا آگے بڑھتا ہے۔ پہلے گیارہ باب پوری انسانیت کے بارے میں ہیں، اور باقی انتالیس باب ایک گھرانے کے بارے میں، جس کے ذریعے تمام قومیں برکت پانے والی تھیں۔

کیا پیدائش کے پہلے گیارہ باب تاریخ ہیں یا شاعری؟

اِن ابواب کی زبان بلند اور ترتیب یافتہ ہے، اِس لیے کچھ مسیحی اِن میں ادبی سانچہ زیادہ دیکھتے ہیں اور کچھ سیدھا تاریخی بیان۔ مگر دونوں گروہ ایک بات پر متفق ہیں: یہ ابواب حقیقی واقعات کی خبر دیتے ہیں، افسانہ نہیں۔ آدم اور حوّا حقیقی انسان تھے، گناہ حقیقی واقعہ تھا، اور اِسی بنیاد پر پولس رسول رومیوں میں اپنی دلیل کھڑی کرتا ہے۔ ادبی خوبی اور تاریخی سچائی ایک دوسرے کی دشمن نہیں ہیں۔

پیدائش 1:1 کا کیا مطلب ہے؟

"خدا نے ابتدا میں زمین اور آسمان کو پیدا کیا" کا مطلب یہ ہے کہ ہر موجود چیز خدا سے پہلے نہیں، خدا کے بعد ہے۔ نہ مادّہ ازلی ہے، نہ وقت، نہ کوئی دوسرا دیوتا۔ "زمین اور آسمان" ایک محاورہ ہے جس کا مطلب ہے "سب کچھ، ایک سرے سے دوسرے سرے تک"۔ اِس ایک آیت میں تخلیق کا مالک، انسانی زندگی کا مقصد اور اخلاق کی بنیاد سب کچھ آ جاتا ہے، کیونکہ اگر دنیا خدا کی ہے تو ہماری زندگی بھی ہماری اپنی ملکیت نہیں۔

"خدا کی صورت پر" ہونے کا کیا مطلب ہے؟

پیدائش 1:27 کے مطابق انسان خدا کی صورت پر بنایا گیا، اور یہ بات مرد اور عورت دونوں کے بارے میں کہی گئی ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ خدا کا جسم ہمارے جیسا ہے، بلکہ یہ کہ انسان خدا کی نمائندگی کرتا ہے: وہ سوچ سکتا ہے، محبت کر سکتا ہے، فیصلہ کر سکتا ہے، تخلیق کر سکتا ہے اور خدا کے سامنے جواب دہ ہے۔ اِسی سے ہر انسان کی برابر عزت نکلتی ہے، خواہ وہ کمزور ہو، بیمار ہو، غریب ہو یا ابھی پیدا بھی نہ ہوا ہو۔

پیدائش 3:15 کو پہلی خوش خبری کیوں کہا جاتا ہے؟

کیونکہ یہ سزا کے اعلان کے بیچ میں فضل کا پہلا وعدہ ہے۔ خدا سانپ سے کہتا ہے کہ عورت کی نسل اُس کا سر کچلے گی اور وہ اُس کی ایڑی پر کاٹے گا۔ یعنی گناہ کے پہلے ہی دن خدا نے فتح کا اعلان کر دیا، اور یہ بھی بتا دیا کہ یہ فتح تکلیف کے بغیر نہیں ہوگی۔ پوری بائبل اِسی وعدے کی تکمیل کی طرف چلتی ہے، اور صلیب اور خالی قبر میں یہ وعدہ پورا ہوا۔

ابرہام کو راستباز کیسے شمار کیا گیا جب شریعت ابھی نہیں دی گئی تھی؟

یہی تو نکتہ ہے۔ پیدائش 15:6 کہتی ہے کہ ابرہام خداوند پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لیے راستبازی شمار کیا گیا، اور یہ سب شریعت سے سینکڑوں سال پہلے ہوا۔ اِس سے ثابت ہوتا ہے کہ خدا نے کبھی بھی انسان کو کاموں کی بنیاد پر قبول نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ وعدے پر بھروسہ کرنے کی بنیاد پر۔ پولس رسول رومیوں 4 میں یہی دلیل دیتا ہے تاکہ ہم سمجھیں کہ ہمارا نجات پانا بھی فضل سے ایمان کے وسیلے سے ہے۔

کیا پیدائش میں تخلیق کے چھ دن چوبیس گھنٹے کے دن تھے؟

مسیحیوں میں اِس پر مختلف رائیں ہیں۔ کچھ اِسے چھ عام دن مانتے ہیں، کچھ اِسے طویل زمانوں کے لیے تصویر سمجھتے ہیں، اور کچھ اِس ترتیب کو ایک ادبی سانچہ قرار دیتے ہیں جو خدا کی بادشاہت دکھاتا ہے۔ یہ فرق ایمان کی بنیاد نہیں، اِس لیے اِس پر بھائی چارے کو نہیں توڑنا چاہیے۔ جس بات پر کوئی سمجھوتا نہیں، وہ یہ ہے کہ خدا خالق ہے، تخلیق حادثہ نہیں، اور انسان اُس کی صورت پر بنایا گیا۔

کائن اور ہابل کی کہانی ہمیں کیا سکھاتی ہے؟

یہ گناہ کے دوسرے قدم کی کہانی ہے۔ باغ میں انسان نے خدا کے ساتھ رشتہ توڑا؛ یہاں انسان اپنے بھائی کے ساتھ رشتہ توڑ دیتا ہے۔ خدا کائن کو خبردار کرتا ہے کہ گناہ دروازے پر بیٹھا ہے، مگر وہ حسد کو پالتا ہے اور خون تک پہنچ جاتا ہے۔ کہانی بتاتی ہے کہ عبادت اور رویّہ الگ نہیں کیے جا سکتے، اور یہ بھی کہ خدا مقتول کی آواز سنتا ہے۔ خون پکارتا ہے، اور آخر میں ایک بہتر خون ہمارے لیے بولتا ہے۔

یوسف کی کہانی پیدائش میں اتنی لمبی کیوں ہے؟

کیونکہ یہ کہانی بتاتی ہے کہ خدا اپنے وعدے کو کیسے سنبھالتا ہے جب سب کچھ غلط ہو رہا ہو۔ حسد، اغوا، جھوٹا الزام، قید، بھول جانا؛ ہر قدم پر وعدہ ٹوٹنے کے قریب لگتا ہے، مگر خدا اِسی راستے سے وعدے کے گھرانے کو قحط سے بچاتا ہے۔ پیدائش 50:20 اِس پورے حصے کا خلاصہ ہے۔ یہ چودہ باب ہمیں سکھاتے ہیں کہ خدا کی حکمرانی انسانی بدنیتی سے منسوخ نہیں ہوتی، اور معافی اُسی یقین سے پیدا ہوتی ہے۔

کیا کتابِ پیدائش خداوند یسوع مسیح کے بارے میں بات کرتی ہے؟

جی ہاں، اور کھلے طور پر۔ پیدائش 3:15 کی نسل، پیدائش 12:2 کی وہ برکت جو تمام قوموں تک پہنچے گی، اور پیدائش 22:8 کا وہ برّہ جو خدا خود مہیا کرے گا، سب مسیح کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ متی اپنی انجیل کا آغاز ابرہام کے نسل نامے سے کرتا ہے اور پولس گلتیوں میں کہتا ہے کہ وعدے کی "نسل" مسیح ہے۔ اِس لیے پیدائش کو انجیل کا پہلا باب سمجھ کر پڑھنا سب سے صحیح طریقہ ہے۔

پڑھنے کا عملی رہنما

پہلی بار پیدائش پڑھنے والے کے لیے سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ وہ پہلے تین باب میں الجھ کر رُک جائے۔ اِس لیے پہلی بار کتاب کو ایک ہی رَو میں پڑھیے، جیسے کوئی خط پڑھتے ہیں، اور ہر سوال کا جواب فوراً ڈھونڈنے کی کوشش نہ کیجیے۔ ایک نوٹ بک رکھیے اور دو کالم بنائیے: ایک میں وہ باتیں جو خدا کے بارے میں معلوم ہوئیں، دوسرے میں وہ سوال جن پر بعد میں واپس آنا ہے۔ پچاس باب ہیں، سو روزانہ تین باب پڑھیں تو دو ہفتے سے کچھ زیادہ وقت میں پوری کتاب مکمل ہو جائے گی۔

دوسری بار پڑھتے وقت وعدے کے دھاگے کو پکڑیے۔ پیدائش 3:15 پر نشان لگائیے، پھر دیکھیے کہ خدا ہر بار کس کو چُنتا ہے اور کیوں۔ جب بھی "یہ پیدائش ہے" یا نسل ناموں کی فہرست آئے، رُک کر پوچھیے: کہانی اب کس کی طرف بڑھ رہی ہے؟ اِس طرح شجرے بوجھ نہیں رہتے، نقشے بن جاتے ہیں۔

تیسری بار گھرانوں کو الگ الگ پڑھیے۔ ابرہام کے لیے باب بارہ سے پچیس، اضحاق اور یعقوب کے لیے پچیس سے چھتیس، اور یوسف کے لیے سینتیس سے پچاس۔ ہر گھرانے میں دیکھیے کہ خدا کہاں بولتا ہے، انسان کہاں گرتا ہے، اور خدا اُس گراوٹ کے بعد کیا کرتا ہے۔

اگر آپ کے پاس وقت کم ہو تو یہ چھوٹا راستہ اپنائیے: باب 1 اور 2 تخلیق کے لیے، باب 3 گناہ کے لیے، باب 12 اور 15 وعدے کے لیے، باب 22 قربانی کے لیے، باب 32 یعقوب کی کشتی کے لیے، اور باب 45 اور 50 معافی کے لیے۔ اِس کے بعد رومیوں 4 اور عبرانیوں 11 پڑھیے؛ آپ دیکھیں گے کہ نئے عہد نامے کے لکھنے والے پیدائش کو کیسے پڑھتے تھے۔ اور ہر نشست کے آخر میں ایک سادہ دعا کیجیے: اے خدا، جو ابتدا میں بولے، مجھ سے بھی بولیے۔

اختتام میں

اگر پیدائش صرف کائنات کی ابتدا کے بارے میں ہوتی، تو یہ ایک دلچسپ قدیم دستاویز ہوتی اور بس۔ مگر یہ کتاب اُس سے بہت بڑا دعویٰ کرتی ہے: کہ جس خدا نے روشنی کو بلایا، اُسی خدا نے ایک بے اولاد بوڑھے کو بلایا؛ کہ جس نے سمندر کی حد باندھی، اُس نے اپنی مرضی سے خود کو ایک وعدے کا پابند بنایا؛ اور کہ یہ وعدہ نہ طوفان سے مٹا، نہ بابل کے غرور سے، نہ ابرہام کے جھوٹ سے، نہ یعقوب کے دھوکے سے، نہ یوسف کے بھائیوں کی بدنیتی سے۔ پچاس باب کے آخر میں ایک تابوت مصر میں رکھا ہے اور وعدہ ابھی ادھورا ہے، مگر امید زندہ ہے، کیونکہ وعدہ کرنے والا زندہ ہے۔

اِسی لیے پیدائش کو ہمیشہ آگے کی طرف دیکھتے ہوئے پڑھیے۔ ہر شجرہ، ہر بانجھ ماں، ہر قربانی کا برّہ اُس طرف اشارہ کر رہا ہے جو آخرکار آیا، جس نے سانپ کا سر کچلا اور جس کی ایڑی زخمی ہوئی۔ اب اگلا قدم اُٹھائیے: آج ہی باب ایک کھولیے، اور اِس ہفتے پیدائش 15:6 اور پیدائش 50:20 حفظ کر لیجیے۔ یہ دو آیتیں آپ کو یاد دلاتی رہیں گی کہ آپ ایمان سے قبول کیے گئے ہیں اور آپ کی کہانی کا آخری لفظ خدا لکھتا ہے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.333 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

7.142
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 156 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

دعا ادارتی کو یونس 1:2

اے خدا، تُو اُن جگہوں کو بھی دیکھتا ہے جہاں جانے سے میرا دل کتراتا ہے۔ جب تُو مجھے اُن…

بصیرت ادارتی کو اِستِثنا 28:39

تُو انگور کے باغ لگا کر اُن کی پرورش کرے گا لیکن نہ اُن کی مَے پئے گا، نہ انگور…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 5:25

یسوع کہتے ہیں، ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، وہ وقت آنے والا ہے بلکہ آ چکا ہے جب مُردے…

دعا ادارتی کو دانیال 5:29

اے خدا، دنیا کے اعزاز، ارغوانی لباس اور سونے کے ہار ایک ہی رات میں ختم ہو سکتے ہیں۔ مجھے…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 15:2

کانٹ چھانٹ اُس شاخ کی نہیں ہوتی جو ناکام ہے، بلکہ اُس کی جو پھل لا رہی ہے۔ "جو شاخ…

شکرگزاری ادارتی کو ۲-تیمُتھیُس 1:17

خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے اُنیسفرس جیسے دوست دیے جو روم میں بڑی محنت سے پولس کا کھوج لگاتے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟