موضوع

کام اور محنت کے بارے میں بائبل کی تعلیم

تعارف

پیر کی صبح پانچ بجے، لاہور کے کسی اڈے پر درجنوں مزدور اپنے تھیلے اور ترنگل لیے کھڑے ہیں، اس انتظار میں کہ کوئی ٹھیکیدار آ کر انہیں دن بھر کے لیے چُن لے۔ اسی وقت شہر کے دوسرے کونے میں ایک نوجوان دفتر جانے کے لیے تیار ہو رہا ہے اور آئینے کے سامنے سوچ رہا ہے کہ "کیا میری ساری زندگی بس یہی ہے؟" ایک ماں چولہے کے پاس بیٹھی روٹی پکا رہی ہے اور دل ہی دل میں پوچھ رہی ہے کہ کیا اُس کے ہاتھوں کے اس بے نام کام کی خدا کے ہاں کوئی قیمت بھی ہے۔

یہ تینوں ایک ہی سوال کے تین چہرے ہیں۔ کیا کام ایک بوجھ ہے جسے اٹھانا پڑتا ہے، یا کوئی بخشش ہے جسے سمجھنا پڑتا ہے؟ اس صفحے پر ہم بائبل کی پہلی سے آخری کتاب تک اس سوال کا پیچھا کریں گے، اور آپ دیکھیں گے کہ محنت کے بارے میں مقدّس کلام کی تعلیم اُس سے کہیں زیادہ گہری، زیادہ آزاد کرنے والی اور زیادہ عزت بخشنے والی ہے جتنا ہم نے عموماً سنا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ کام انسان کے گناہ کی سزا ہے، کہ پیدائش 3 کے بعد خدا نے ہمیں مشقت کی چکّی میں ڈال دیا۔ یہ رہنما ایک بالکل مختلف ترتیب پر کھڑا ہے: محنت لعنت کی پیداوار نہیں، باغ کی پہلی بخشش ہے۔ انسان کو کام گناہ سے پہلے ملا تھا، اُس وقت جب سب کچھ "بہت اچھا" تھا۔ گناہ نے کام ایجاد نہیں کیا، اُس نے کام میں کانٹے اور پسینہ ملا دیا۔ اور مسیح میں خدا کام کو ختم نہیں کرتا بلکہ اُسے چنگا کرتا ہے۔ اس زاویے سے آپ کی نوکری، آپ کا کھیت اور آپ کا چولہا ایک نئی روشنی میں آ جاتے ہیں۔

بائبل کام اور محنت کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

بائبل کی سب سے پہلی تصویر خود خدا کی ہے جو کام کر رہے ہیں۔ پیدائش کا پہلا باب ایک محنت کی داستان ہے: بولنا، الگ کرنا، سجانا، بھرنا، اور پھر دیکھنا کہ "یہ اچھا ہے"۔ ساتویں دن خدا نے آرام کیا، مگر آرام کرنے سے پہلے چھ دن کام کیا۔ اس لیے جب انسان کو خدا کی صورت پر بنایا گیا تو اُس صورت کا ایک حصہ یہ بھی تھا کہ وہ بنانے والا، سنوارنے والا اور سنبھالنے والا ہو۔

اسی لیے انسان کو جو پہلی ذمہ داری ملی وہ عبادت کی رسم نہیں بلکہ مٹی اور پودوں کا کام تھا۔ پیدائش 2:15 فرماتی ہے: "اور خداوند خدا نے آدم کو لے کر باغِ عدن میں رکھا کہ اُس کی باغبانی اور نگہبانی کرے۔" غور کیجیے کہ یہ آیت گناہ سے پہلے کی ہے۔ باغ تیار تھا، پھل موجود تھے، کسی چیز کی کمی نہ تھی، پھر بھی خدا نے آدم کے ہاتھ میں کام دیا۔ اصل عبرانی میں یہاں جو الفاظ ہیں وہ آگے چل کر ہیکل میں کاہنوں کی خدمت کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں۔ یعنی باغبانی ایک طرح کی عبادت تھی۔

باغ میں کُدال تھی، پھر کانٹے آئے۔

بائبل محنت کو صرف جائز نہیں ٹھہراتی، وہ سستی کو کھل کر ڈانٹتی بھی ہے۔ امثال 6:6 میں ایک عجیب استاد مقرر کیا گیا ہے: "اے کاہل! چیونٹی کے پاس جا۔ اُس کی راہوں پر غور کر اور دانشمند بن۔" ایک کمزور، ننھا سا کیڑا انسان کا معلم بن جاتا ہے، کیونکہ وہ بغیر کسی نگران کے، بغیر کسی ٹھیکیدار کے، موسم کو پہچان کر اپنا کام کرتا ہے۔ امثال کی حکمت یہ ہے کہ محنت کوئی مجبوری نہیں بلکہ عقل مندی ہے، اور سستی ایک دھیمی زہریلی عادت ہے جو انسان کو آہستہ آہستہ خالی کر دیتی ہے۔

واعظ کی کتاب اس بات کو ایک اور رنگ دیتی ہے۔ سلیمان نے زندگی کی بے ثباتی پر بہت کچھ لکھا، مگر وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھنے کا مشورہ نہیں دیتا۔ واعظ 9:10 کہتی ہے: "جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدور بھر کر کیونکہ پاتال میں جہاں تو جاتا ہے نہ کوئی کام ہے نہ منصوبہ۔ نہ علم نہ حکمت۔" یعنی آج جو کام سامنے ہے، چھوٹا ہو یا بڑا، اُسے پورے زور سے کرو۔ وقت محدود ہے، ہاتھ محدود ہیں، اس لیے آدھے دل سے جینا سب سے بڑا نقصان ہے۔

نئے عہدنامے میں پولس رسول اس تعلیم کو مسیحی زندگی کے عین قلب میں رکھ دیتا ہے۔ افسیوں 4:28 میں وہ لکھتا ہے: "چوری کرنے والا پھر چوری نہ کرے بلکہ اپنے ہاتھوں سے اچھا پیشہ اختیار کر کے محنت کرے تاکہ محتاج کو دینے کے لئے اُس کے پاس کچھ ہو۔" یہ آیت توبہ کی ایک مکمل تصویر ہے: ہاتھ جو لیتے تھے، اب کماتے ہیں؛ اور جو کماتے ہیں، وہ دیتے بھی ہیں۔ محنت کا مقصد صرف اپنا پیٹ نہیں، دوسرے کی مدد بھی ہے۔

اور پھر وہ آیت جو ہر مسیحی مزدور، استاد، نرس اور گھریلو خاتون کے لیے ایک نیا آسمان کھول دیتی ہے، کلسیوں 3:23: "جو کچھ تم کرتے ہو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ آدمیوں کے لئے نہیں بلکہ خداوند کے لئے کرتے ہو۔" پولس یہ بات غلاموں سے کہہ رہا تھا، یعنی اُن لوگوں سے جن کے کام میں عزت، اختیار اور اجرت کچھ بھی نہ تھا۔ اگر اُن کا کام خداوند کی خدمت بن سکتا تھا، تو آپ کے دفتر کی فائل اور آپ کے صحن کا جھاڑو بھی بن سکتا ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

محنت کا دھاگہ پیدائش سے مکاشفہ تک بغیر ٹوٹے چلتا ہے۔ شروع باغ سے ہوتا ہے، جہاں کام خوشی اور رفاقت کا حصہ ہے۔ پھر پیدائش 3 آتا ہے، اور یہاں بہت احتیاط سے پڑھنے کی ضرورت ہے: خدا نے آدم کو لعنتی نہیں کہا، اور نہ کام کو۔ آیت 17 میں فرمایا گیا: "زمین تیرے سبب سے لعنتی ہوئی۔ مشقت کے ساتھ تو عمر بھر اُس کی پیداوار کھائے گا۔" لعنت زمین پر آئی، محنت پر نہیں۔ اب مٹی مزاحمت کرے گی، کانٹے اور اونٹ کٹارے اُگیں گے، اور روٹی پسینے کے ساتھ ملے گی۔ یعنی کام وہی رہا جو خدا نے دیا تھا، مگر اُس میں تھکن، ناانصافی اور مایوسی شامل ہو گئی۔ آج بھی ہماری شکایت کام سے نہیں، بلکہ کام کے کانٹوں سے ہوتی ہے: کم اجرت، بے عزتی، رشوت، غیر یقینی، اور وہ احساس کہ محنت کا پھل کوئی اور کھا رہا ہے۔

شریعت میں خدا اس خراب شدہ نظام میں رحم کے بند باندھتا ہے۔ سبت کا حکم انسان کو مشین بننے سے بچاتا ہے: خروج 20:9 میں لکھا ہے، "چھ دن تک تو محنت کر کے اپنا سارا کام کاج کرنا۔" یہ حکم صرف آرام کا نہیں، کام کا بھی ہے، مگر ایسے کام کا جس کی ایک حد ہے۔ استثنا 24 مزدور کی اجرت اُسی دن ادا کرنے کا حکم دیتا ہے، کیونکہ وہ غریب ہے اور اُس کا دل اُسی پر لگا ہے۔ خروج 31 میں خدا بضلی ایل کو اپنی روح سے بھر دیتے ہیں تاکہ وہ سونے، چاندی اور لکڑی کا کام کر سکے۔ بائبل میں روح القدس سے معموری کا پہلا ذکر ایک کاریگر کے بارے میں ہے، منبر پر کھڑے کسی واعظ کے بارے میں نہیں۔

انبیا اُن مالکوں کے خلاف گرجتے ہیں جو مزدور کا حق مارتے ہیں، اور یسعیاہ آنے والی نئی دنیا کو محنت کی زبان میں بیان کرتا ہے: لوگ گھر بنائیں گے اور خود اُن میں بسیں گے، تاکستان لگائیں گے اور خود اُن کا پھل کھائیں گے۔

اور پھر خدا خود ایک بڑھئی کے طور پر ہمارے درمیان آتا ہے۔ مرقس 6:3 میں لوگ حیرت سے پوچھتے ہیں، "کیا یہ وہی بڑھئی نہیں؟" تیس برس تک ابدی کلام نے ناصرت کی ایک ورکشاپ میں ہاتھ چلائے، لکڑی ناپی، کیل ٹھونکے اور گاہکوں سے معاملہ کیا۔ یوحنا 5:17 میں خداوند یسوع مسیح فرماتے ہیں، "میرا باپ اب تک کام کرتا ہے اور میں بھی کام کرتا ہوں۔" اور صلیب پر اُن کا آخری اعلان بھی ایک کاریگر کا اعلان ہے: کام پورا ہوا۔ یوحنا 17:4 میں وہ دعا کرتے ہیں، "جو کام تو نے مجھے کرنے کو دیا تھا اُسے تمام کر کے میں نے زمین پر تیرا جلال ظاہر کیا۔" نجات بھی ایک محنت ہے، مگر وہ محنت ہمارے ہاتھوں نے نہیں، مسیح کے ہاتھوں نے کی۔

رسولوں کے دور میں یہی سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ پولس خیمہ دوزی کرتا رہا تاکہ کسی پر بوجھ نہ بنے۔ اور آخر میں مکاشفہ 14:13 ہمیں یقین دلاتی ہے کہ خداوند میں مرنے والے "اپنی محنتوں سے آرام پائیں گے اور ان کے کام ان کے ساتھ ہو لیتے ہیں"۔ نیا یروشلیم ایک آرام گاہ ضرور ہے، مگر وہ ایک شہر بھی ہے، اور شہر بنائے جاتے ہیں۔ باغ سے شروع ہو کر کہانی ایک شہر پر ختم ہوتی ہے، اور درمیان میں خدا کے لوگوں کے ہاتھ چلتے رہتے ہیں۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ کام آدم کے گناہ کی سزا ہے۔ یہ خیال اتنا عام ہے کہ بہت سے مسیحی ہر پیر کی صبح اپنے دل میں ایک خفیہ شکایت لے کر اٹھتے ہیں۔ مگر پیدائش 2:15 اس شکایت کی جڑ کاٹ دیتی ہے۔ آدم کو کام اُس وقت ملا جب نہ کوئی گناہ تھا، نہ شرم، نہ موت۔ سزا یہ نہیں کہ ہمیں کام کرنا پڑتا ہے؛ سزا یہ ہے کہ کام میں اب کانٹے ہیں۔ اس فرق کو سمجھ لینا آپ کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے، کیونکہ پھر آپ کام سے بھاگتے نہیں بلکہ اُس کے کانٹوں کے ساتھ صبر سے لڑتے ہیں۔

دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ روحانی کام دنیاوی کام سے بڑا ہے، یعنی پادری اور مشنری کا پیشہ مقدّس ہے اور ترکھان، کلرک یا کسان کا پیشہ محض گزر بسر۔ بائبل اس تقسیم کو نہیں جانتی۔ کلسیوں 3:23 کسی مبلغ سے نہیں بلکہ گھروں میں کام کرنے والے غلاموں سے کہی گئی تھی: "جو کچھ تم کرتے ہو جی سے کرو۔ یہ جان کر کہ آدمیوں کے لئے نہیں بلکہ خداوند کے لئے کرتے ہو۔" خدا نے خود تیس سال ایک ورکشاپ میں گزارے اور تین سال منادی میں۔ اگر ہم اُن تیس سالوں کو "انتظار کا وقت" کہیں تو ہم خدا کے نزدیک وقت کی قیمت نہیں سمجھے۔

تیسری غلط فہمی اس کے بالکل الٹ ہے: کام ہی سب کچھ ہے۔ یہ ہمارے زمانے کی بت پرستی ہے، جہاں آدمی اپنی پہچان اپنے عہدے، تنخواہ یا بیرونِ ملک کی کمائی سے بناتا ہے۔ پولس 1 تھسلنیکیوں 4:11 میں ایک عجیب حکم دیتا ہے: "اور جیسا ہم نے تمہیں حکم دیا تھا چپ چاپ رہنے اور اپنا کاروبار کرنے اور اپنے ہاتھوں سے محنت کرنے کی کوشش کرو۔" یہاں محنت کے ساتھ "چپ چاپ" کا لفظ جڑا ہوا ہے۔ یعنی ایسی محنت جو شور نہ مچائے، جو خود کو ثابت کرنے کے لیے نہ ہو، جو دوسروں کی نظر میں بڑا بننے کے لیے نہ ہو۔ سبت کا حکم بھی یہی سکھاتا ہے: دنیا آپ کے ہاتھوں پر نہیں چل رہی، آپ ہفتے میں ایک دن رک سکتے ہیں اور دنیا گرے گی نہیں۔

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ ایمان دار کو بس خدا پر بھروسا کرنا ہے اور ہاتھ پاؤں ہلانے کی ضرورت نہیں۔ تھسلنیکی کلیسیا میں کچھ لوگ خداوند کی آمد کے انتظار میں کام چھوڑ کر بیٹھ گئے تھے اور دوسروں کے سر پر بوجھ بن گئے تھے۔ پولس کا جواب دو ٹوک ہے، 2 تھسلنیکیوں 3:10: "اور جب ہم تمہارے پاس تھے اُس وقت بھی تمہیں یہ حکم دیتے تھے کہ جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔" یہ آیت بیمار، معذور یا بیروزگار شخص کے خلاف نہیں؛ یہاں بات اُس کی ہے "جسے محنت کرنا منظور نہ ہو"، یعنی نیت کی، نہ کہ حالات کی۔ ایمان سستی کا مذہبی لباس نہیں بنتا۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

سب سے پہلے، اپنے کام کا پتہ بدل دیجیے۔ آپ کی محنت کا اصل خریدار آپ کا مالک، ٹھیکیدار یا باس نہیں بلکہ خداوند ہے۔ اس کا عملی مطلب یہ ہے کہ آپ اُس وقت بھی ایمانداری سے کام کریں گے جب کوئی دیکھ نہ رہا ہو، اُس فائل کو بھی ٹھیک سے بھریں گے جس کی کسی کو خبر نہ ہو گی، اور اُس گاہک کو بھی پورا تول کر دیں گے جو دوبارہ کبھی نہ آئے گا۔ کلسیوں 3:23 کو دیوار پر نہیں، اپنے ہاتھوں پر لکھیے۔

دوسرا، اپنی کمائی کا مقصد بڑا کیجیے۔ افسیوں 4:28 کے مطابق محنت کا انجام صرف اپنی ضرورت پوری کرنا نہیں بلکہ "محتاج کو دینے کے لئے" کچھ رکھنا ہے۔ جب آپ تنخواہ ہاتھ میں لیں تو ایک سوال پوچھنے کی عادت ڈالیے: اس میں سے کس کا حصہ ہے؟ شاید وہ بیوہ پڑوسن، وہ طالب علم جس کی فیس رک گئی ہے، یا وہ بھائی جس کا علاج ادھورا ہے۔ یہی وہ موڑ ہے جہاں ایک مزدور کا ہاتھ خدا کے رحم کا ہاتھ بن جاتا ہے۔

تیسرا، کانٹوں کو حقیقت مان کر کام کیجیے۔ اگر آپ یہ توقع رکھیں گے کہ ایمان لانے کے بعد نوکری میں سب کچھ ہموار ہو جائے گا، تو پہلی ناانصافی ہی آپ کا ایمان ہلا دے گی۔ پیدائش 3 کے بعد ہر کھیت میں کانٹے ہیں، ہر دفتر میں سیاست ہے، ہر کاروبار میں دھوکے کا امکان ہے۔ مسیحی ہونے کا مطلب کانٹوں سے استثنا نہیں بلکہ کانٹوں کے درمیان صبر، دیانت اور امید ہے۔

چوتھا، چھوٹا کام پورے دل سے کیجیے۔ واعظ 9:10 ہمیں "مقدور بھر" کرنے کو کہتی ہے، یعنی جتنی طاقت ہے اُتنی لگا دو۔ برتن دھونا، رکشہ چلانا، سبق یاد کرنا، مریض کا بستر بدلنا، یہ سب خدا کی نظر میں چھوٹا نہیں۔

پانچواں، رکنا سیکھیے۔ جو آدمی آرام نہیں کر سکتا، وہ یہ مان چکا ہے کہ سب کچھ اُسی پر منحصر ہے۔ ہفتے میں ایک دن اپنے موبائل، اپنے حساب کتاب اور اپنی فکروں کو رخصت دیجیے، اور خدا کو یاد دلائیے کہ روزی دینے والے وہی ہیں۔

آئینہ

اب ذرا ایک لمحے کے لیے یہ صفحہ ایک آئینہ بن جائے۔ آپ کس قسم کے مزدور ہیں؟ کچھ لوگ اس صفحے کو اس لیے پڑھ رہے ہیں کہ وہ تھک چکے ہیں۔ آپ صبح نکلتے ہیں، رات کو لوٹتے ہیں، بچوں کو جاگتے ہوئے کم ہی دیکھتے ہیں، اور دل میں ایک خاموش غصہ پلتا ہے کہ اتنی محنت کے بعد بھی مہینے کا آخر تنگ ہے۔ آپ سے مجھے یہ کہنا ہے کہ خدا آپ کی تھکن سے واقف ہیں اور آپ کے پسینے کو حقیر نہیں جانتے۔ یعقوب 5 میں جب مزدوروں کی روکی ہوئی اجرت چِلّاتی ہے تو وہ آواز رب الافواج کے کانوں تک پہنچتی ہے۔ آپ کی ناانصافی اوپر تک سنی گئی ہے۔

مگر کچھ لوگ اس صفحے کو کسی اور وجہ سے پڑھ رہے ہیں۔ آپ کے پاس کام ہے، صحت ہے، موقع ہے، مگر دل نہیں۔ آپ نے سستی کو "حالات" کا نام دے رکھا ہے اور اپنی بے عملی کو "خدا کے وقت کا انتظار" کہتے ہیں۔ گھر والے آپ کی وجہ سے بوجھ اٹھا رہے ہیں اور آپ روحانی باتیں کرتے ہیں۔ امثال 6:6 آج آپ کو ایک چیونٹی کے پاس بھیج رہی ہے، اور یہ شرمندگی نہیں، محبت ہے۔

اور کچھ لوگ تیسری قسم کے ہیں: آپ کا کام آپ کا خدا بن چکا ہے۔ آپ کی قیمت آپ کے عہدے سے ناپی جاتی ہے، آپ کی نیند آپ کے اہداف نے چھین لی ہے، اور آپ کا خاندان آپ کی کامیابی کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ خداوند یسوع مسیح آج بھی کہتے ہیں، "اے محنت اٹھانے والو اور بوجھ سے دبے ہوئے لوگو سب میرے پاس آؤ۔ میں تم کو آرام دوں گا۔"

تینوں صورتوں میں سوال ایک ہی ہے: آپ کے ہاتھ کس کے لیے چل رہے ہیں؟ جب تک یہ جواب نہ بدلے، نہ تھکن ختم ہو گی، نہ سستی، نہ غرور۔

آپ کی قیمت آپ کی تنخواہ نہیں، مسیح کا خون ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو یہ موضوع سمجھانے کا سب سے آسان راستہ باغ کی تصویر ہے۔ آپ اُن سے کہہ سکتے ہیں کہ جب خدا نے دنیا بنائی تو سب سے پہلے خود کام کیا، اور جب اُس نے آدم کو باغ میں رکھا تو اُسے ایک خوبصورت ذمہ داری دی: پودوں کا خیال رکھنا اور باغ کی حفاظت کرنا۔ یعنی کام کوئی سزا نہیں تھی، بلکہ ایک تحفہ تھا، جیسے کسی بچے کو اُس کا اپنا گملا دے دیا جائے اور کہا جائے کہ اب یہ تمہاری ذمہ داری ہے۔

پھر آپ بتا سکتے ہیں کہ انسان کے نافرمانی کرنے کے بعد کام میں مشکل آ گئی، جیسے باغ میں کانٹے اُگ آئے ہوں، اس لیے اب کام کرتے ہوئے تھکن بھی ہوتی ہے۔ مگر خداوند یسوع خود بھی ایک بڑھئی تھے اور لکڑی کا کام کرتے تھے، اس لیے کوئی ایمانداری کا کام چھوٹا نہیں۔ بچوں کو یہ سکھانا بہت قیمتی ہے کہ سکول کا کام، کھلونے سمیٹنا، چھوٹے بہن بھائی کی مدد کرنا اور امی کے ہاتھ بٹانا بھی خدا کے لیے کیا جا سکتا ہے، کیونکہ وہ دیکھتے ہیں کہ ہم اپنا کام دل سے کرتے ہیں یا نہیں۔

ہر عمر کے بچے کو مختلف زبان چاہیے۔ چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے تصویروں اور کہانی کی ضرورت ہوتی ہے؛ سکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے آیات اور عملی مثالیں؛ اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے کیریئر، پیسے، دباؤ اور دیانت کے بارے میں کھلی گفتگو۔ ہماری ویب سائٹ پر ان تینوں عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں، اور ہم آپ کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں کہ انہیں اپنے گھر کی عبادت یا اتوار سکول میں استعمال کریں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا کام انسان کے گناہ کی سزا ہے؟

نہیں۔ پیدائش 2:15 کے مطابق خدا نے آدم کو باغِ عدن میں رکھا "کہ اُس کی باغبانی اور نگہبانی کرے"، اور یہ گناہ سے پہلے کی بات ہے، جب سب کچھ کامل تھا۔ گناہ کے بعد جو بدلا وہ خود کام نہیں بلکہ کام کا ماحول تھا۔ پیدائش 3:17 میں زمین لعنتی ٹھہری، محنت نہیں۔ اس لیے تھکن، ناانصافی اور بے ثمری گناہ کے نتائج ہیں، جبکہ کام کرنے کی صلاحیت خدا کی صورت کا حصہ ہے۔

بائبل میں محنت کا سب سے پہلا ذکر کہاں ہے؟

سب سے پہلا ذکر خدا کے اپنے کام کا ہے۔ پیدائش کا پہلا باب چھ دن کی تخلیق بیان کرتا ہے اور دوسرا باب کہتا ہے کہ خدا نے ساتویں دن اپنے کام سے فراغت پائی۔ انسان کے کام کا پہلا ذکر پیدائش 2:15 میں ہے، جہاں آدم کو باغ کی باغبانی اور نگہبانی سونپی جاتی ہے۔ یعنی بائبل کی ترتیب میں محنت گناہ سے پہلے، لعنت سے پہلے اور کسی مذہبی رسم سے بھی پہلے آتی ہے۔

کیا بائبل سست آدمی کے بارے میں کچھ کہتی ہے؟

جی ہاں، اور بہت صاف الفاظ میں۔ امثال کی کتاب میں کاہل ایک مستقل کردار ہے جو بستر پر کروٹیں بدلتا ہے، بہانے بناتا ہے اور آخر میں محتاج ہو جاتا ہے۔ امثال 6:6 کہتی ہے: "اے کاہل! چیونٹی کے پاس جا۔ اُس کی راہوں پر غور کر اور دانشمند بن۔" یہ طنز نہیں بلکہ ایک محبت بھری تنبیہ ہے، کیونکہ سستی انسان کو آہستہ آہستہ دوسروں پر بوجھ اور اپنے آپ پر مایوسی بنا دیتی ہے۔

2 تھسلنیکیوں 3:10 کا کیا مطلب ہے، کیا بیروزگار لوگ کھانے کے حق دار نہیں؟

پولس لکھتا ہے: "جسے محنت کرنا منظور نہ ہو وہ کھانے بھی نہ پائے۔" یہاں کلیدی لفظ "منظور نہ ہو" ہے، یعنی جو جان بوجھ کر کام سے انکار کرتا ہے۔ تھسلنیکی کلیسیا میں کچھ لوگ خداوند کی آمد کے بہانے کام چھوڑ بیٹھے تھے اور دوسروں کے خرچ پر پل رہے تھے۔ یہ آیت بیماروں، معذوروں، بزرگوں یا اُن لوگوں کے خلاف ہرگز نہیں جو کام ڈھونڈ رہے ہیں مگر نہیں مل رہا؛ بائبل ایسے لوگوں کی مدد کا بار بار حکم دیتی ہے۔

کیا کلیسیا کی خدمت دنیاوی نوکری سے زیادہ مقدس ہے؟

بائبل میں مقدّس اور دنیاوی پیشوں کی ایسی تقسیم نہیں ملتی۔ خروج 31 میں روح القدس سے معموری کا پہلا ذکر ایک کاریگر بضلی ایل کے بارے میں ہے، اور خداوند یسوع مسیح نے اپنی زمینی زندگی کے تیس سال بڑھئی کے طور پر گزارے۔ کلسیوں 3:23 غلاموں سے کہتی ہے کہ جو کچھ کرو "جی سے کرو"، خداوند کے لیے۔ فرق پیشے کا نہیں، نیت کا ہے۔ ایک دیانت دار درزی خدا کی اتنی ہی خدمت کر سکتا ہے جتنا ایک واعظ۔

کیا مسیحی کو اتوار کے دن کام کرنا چاہیے؟

اصول یہ ہے کہ ہفتے میں ایک دن آرام اور عبادت کے لیے الگ کرنا خدا کی حکمت ہے، جیسا خروج 20:9 اور اُس کے بعد کی آیات میں سکھایا گیا۔ مگر نئے عہدنامے میں سبت ایک شرعی بوجھ نہیں رہا، اور بعض پیشے، مثلاً ہسپتال، سکیورٹی یا سفر سے متعلق کام، لازمی طور پر جاری رہتے ہیں۔ خداوند یسوع نے خود فرمایا کہ سبت کے دن نیکی کرنا جائز ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کی زندگی میں خدا کے لیے رکنے کی کوئی جگہ ہے یا نہیں۔

کیا بائبل دولت کمانے کی اجازت دیتی ہے؟

ہاں، مگر شرائط کے ساتھ۔ امثال محنت سے حاصل ہونے والی برکت کی تعریف کرتی ہے، اور بائبل میں ابرہام، ایوب اور لِدیہ جیسے دولت مند ایمان دار موجود ہیں۔ خطرہ دولت میں نہیں بلکہ دولت سے محبت میں ہے، جسے پولس ہر طرح کی برائی کی جڑ کہتا ہے۔ افسیوں 4:28 کمائی کا رخ متعین کرتی ہے: کماؤ "تاکہ محتاج کو دینے کے لئے" کچھ ہو۔ جو دولت کھلی مٹھی میں ہو وہ برکت ہے، جو بند مٹھی میں ہو وہ بت بن جاتی ہے۔

گھریلو کام اور بچوں کی پرورش کو بائبل کس نظر سے دیکھتی ہے؟

بائبل گھر کے کام کو کبھی کمتر نہیں کہتی۔ امثال 31 میں جس عورت کی تعریف ہے وہ خریدتی، بیچتی، بُنتی، کھیت خریدتی اور گھر سنبھالتی ہے، اور اُس کے ہاتھوں کے کام کو شہر کے پھاٹکوں پر سراہا جاتا ہے۔ روٹی پکانا، بیمار کی تیمارداری، بچوں کو کلام سکھانا، یہ سب کلسیوں 3:23 کے دائرے میں آتے ہیں۔ دنیا ان کاموں کی تنخواہ نہیں دیتی، مگر خدا انہیں دیکھتے اور یاد رکھتے ہیں۔

اگر میری نوکری بے معنی یا بورنگ لگے تو کیا کروں؟

پہلے یہ تسلیم کیجیے کہ یہ احساس حقیقی ہے؛ واعظ کی پوری کتاب اسی بے معنویت کے تجربے سے لڑتی ہے۔ مگر واعظ 9:10 کا جواب فرار نہیں بلکہ وفاداری ہے: "جو کام تیرا ہاتھ کرنے کو پائے اُسے مقدور بھر کر۔" اپنے کام کا مقصد نئے سرے سے تلاش کیجیے، یعنی یہ کس کی خدمت کرتا ہے اور آپ کی کمائی سے کون سنبھلتا ہے۔ اور بہتر موقع تلاش کرنا بھی غیر روحانی نہیں، بشرطیکہ آپ موجودہ ذمہ داری دیانت سے ادا کرتے رہیں۔

کیا خداوند یسوع مسیح نے خود کوئی پیشہ اختیار کیا تھا؟

جی ہاں۔ مرقس 6:3 میں اُن کے اپنے شہر کے لوگ حیرت سے کہتے ہیں، "کیا یہ وہی بڑھئی نہیں؟" اس کا مطلب ہے کہ وہ ناصرت میں ایک جانے پہچانے کاریگر تھے، جو لکڑی اور شاید پتھر کا کام کرتے تھے۔ اُن کی عوامی خدمت تین سال کی تھی، مگر اُس سے پہلے کے تقریباً تیس سال عام محنت میں گزرے۔ یہ حقیقت ہر محنت کش کے لیے گہری عزت کا باعث ہے: خدا نے خود مزدوری کا ذائقہ چکھا ہے۔

کیا نئی زمین پر بھی کام ہو گا؟

بائبل اشارہ دیتی ہے کہ ہاں، مگر بغیر کانٹوں کے۔ یسعیاہ 65 میں خدا کے لوگ گھر بناتے اور تاکستان لگاتے ہیں اور اُن کا پھل خود کھاتے ہیں، اور وہ "بے فائدہ محنت" نہیں کریں گے۔ مکاشفہ 14:13 کہتی ہے کہ خداوند میں مرنے والے اپنی محنتوں سے آرام پائیں گے اور اُن کے کام اُن کے ساتھ جاتے ہیں۔ آخری منظر ایک باغ نہیں بلکہ ایک شہر ہے، اور شہر بنائے جاتے ہیں۔ آرام کا مطلب بے کاری نہیں، بلکہ تھکن اور بے ثمری کا خاتمہ ہے۔

مزدور کی اجرت کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

بائبل اس معاملے میں غیر معمولی طور پر سخت ہے۔ شریعت حکم دیتی ہے کہ غریب مزدور کی اجرت اُسی دن سورج ڈوبنے سے پہلے ادا کی جائے، اور یعقوب 5 میں اُن مالکوں کو سخت تنبیہ ملتی ہے جنہوں نے مزدوروں کی مزدوری دغا سے روک رکھی ہے، کیونکہ وہ روکی ہوئی اجرت خدا کے حضور چِلّاتی ہے۔ اس لیے کسی ٹھیکیدار، دکاندار یا مالک کے لیے مزدور کا حق دبانا محض معاشی زیادتی نہیں، بلکہ خدا کے خلاف براہِ راست گناہ ہے۔

کیا حد سے زیادہ کام کرنا بھی گناہ ہو سکتا ہے؟

ہو سکتا ہے، جب کام خدا کی جگہ لے لے۔ 1 تھسلنیکیوں 4:11 محنت کے ساتھ "چپ چاپ رہنے" کی بات کرتی ہے، یعنی ایسی محنت جو خود کو ثابت کرنے اور لوگوں پر رعب ڈالنے کے لیے نہ ہو۔ سبت کا اصول بتاتا ہے کہ دنیا آپ کے بغیر بھی چلتی رہے گی۔ جب کام آپ کی نیند، صحت، خاندان اور عبادت کو نگلنے لگے تو یہ محنت نہیں بلکہ بت پرستی کی ایک شکل ہے، اور اس کا علاج آرام نہیں بلکہ توبہ اور بھروسا ہے۔

اختتام میں

اگر آپ اس صفحے سے صرف ایک بات لے کر جائیں تو وہ یہ ہو: آپ کے ہاتھ سزا کے لیے نہیں بنائے گئے۔ باغ میں کام لعنت سے پہلے تھا، صلیب پر مسیح نے کام "تمام" کیا، اور نئے شہر میں بھی خدا کے لوگ بے ثمر محنت نہیں کریں گے۔ درمیان کا یہ عرصہ کانٹوں والا ہے، اور ہم سب اُن کانٹوں کو جانتے ہیں: کم اجرت، تھکن، ناانصافی، بے قدری۔ مگر کانٹے کہانی کا اختتام نہیں۔

اس لیے کل صبح جب آپ اپنا اوزار اٹھائیں، لیپ ٹاپ کھولیں، چولہا جلائیں یا کتابیں کھولیں، تو ایک لمحے کے لیے رک کر کہیے کہ "یہ کام میں خداوند کے لیے کر رہا ہوں"، اور پھر اُسے "مقدور بھر" کیجیے۔ آگے مطالعے کے لیے پیدائش 1 اور 2 کو نئے سرے سے پڑھیے، پھر امثال کے اُن حصوں پر وقت لگائیے جو محنت اور سستی کے بارے میں ہیں، اور آخر میں کلسیوں 3 کا پورا باب غور سے پڑھیے۔

تمہاری محنت خداوند میں بے فائدہ نہیں ہے۔

یہی 1 کرنتھیوں 15:58 کا وعدہ ہے، اور یہی آپ کے تھکے ہوئے ہاتھوں کے لیے خدا کا آخری لفظ ہے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.457 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

7.261
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 103 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو ۱-سموئیل 22:22

داؤد نے یہ نہیں کہا کہ ساؤل ظالم ہے یا دوئیگ غدار ہے۔ اُس نے کہا، ”تیرے باپ کے پورے…

دعا ادارتی کو فلیمون 1:4

اے خدا، آپ کا شکر ہے اُن لوگوں کے لیے جو میری زندگی میں ہیں۔ جب میں اُن کا نام…

بصیرت ادارتی کو پَیدایش 32:14

یعقوب ایک ایک جانور گن رہا ہے: "دو سَو بکریاں، بیس بکرے، دو سَو بھیڑیں، بیس مینڈھے۔" جو کبھی برکت…

بصیرت ادارتی کو دانیال 8:20

جبرائیل دانیایل کے خوفناک خواب کو کھول کر کہتا ہے، ”جو مینڈھا تُو نے دیکھا اُس کے دو سینگ مادی…

شکرگزاری ادارتی کو خروج 18:23

خدایا، تیرا شکر کہ تُو نے موسیٰ کو اکیلے بوجھ اُٹھانے کے لیے نہیں چھوڑا بلکہ یترو کی زبان سے…

دعا ادارتی کو ۲-پطرس 1:19

اے خدا، میرے اندھیرے میں تیرا کلام ایک چراغ کی طرح جلتا ہے۔ جب راستہ دھندلا لگے تو مجھے اِسی…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟