حنّہ کی دعا: دکھ میں ایمان اور خدا کی وفاداری
تعارف
سَیلا کے مقدِس کے دروازے کے پاس ایک عورت کھڑی ہے۔ اُس کے ہونٹ ہل رہے ہیں مگر آواز نہیں نکل رہی۔ سال میں ایک بار آنے والا یہ تہوار پورے خاندان کے لیے خوشی کا موقع تھا، گوشت کے حصے بٹ رہے تھے، قربانیاں چڑھ رہی تھیں، بچوں کی آوازیں گونج رہی تھیں، اور اِس عورت کے پاس ایک ہی چیز تھی: ایک خالی گود اور ایک بھرا ہوا دل۔ کاہن نے اُسے دیکھا اور سمجھا کہ یہ نشے میں ہے۔ وہ غلط تھا۔ یہ عورت نشے میں نہیں، درد میں تھی، اور وہ درد خدا کے سامنے اُنڈیل رہی تھی۔
اِس صفحے پر ہم حنّہ کی پوری کہانی ترتیب سے دیکھیں گے: اُس کا گھر، اُس کی تکلیف، اُس کی منت، اُس کا بیٹا، اُس کا گیت، اور وہ خاموشی جس میں وہ بائبل کے صفحوں سے غائب ہو جاتی ہے۔ اور آپ دیکھیں گے کہ حنّہ کی دعا صرف ایک ماں کی دعا نہیں؛ یہ وہ دروازہ ہے جس سے خدا کی بادشاہی اسرائیل کی تاریخ میں داخل ہوئی۔
اس رہنما کا زاویہ
عام طور پر حنّہ کی کہانی اِس طرح سنائی جاتی ہے: ایک بانجھ عورت نے دعا کی، خدا نے بیٹا دیا، کہانی ختم۔ ہم اِس صفحے پر ایک اور زاویے سے دیکھیں گے: حنّہ کی دعا ایک بند مٹھی کے کھلنے کی کہانی ہے۔ اُس نے جو مانگا، وہی واپس کر دیا۔ اُس کی دعا مانگنے سے شروع ہوئی اور دینے پر مکمل ہوئی۔ اِسی کھلی ہتھیلی سے خدا نے اسرائیل کو ایک نبی دیا، نبی کے ذریعے بادشاہت، اور بادشاہت کے راستے سے مسیح۔ حنّہ کے نام کا مطلب ہی "فضل" ہے، اور اُس کی زندگی ثابت کرتی ہے کہ فضل وہ ہے جو ملتا ہے، کمایا نہیں جاتا، اور جو کھلے ہاتھ میں ٹکتا ہے، مٹھی میں نہیں۔
بائبل حنّہ کی دعا کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
حنّہ کی کہانی اُس وقت شروع ہوتی ہے جب اسرائیل کا حال بہت خراب تھا۔ قاضیوں کا زمانہ اختتام پر تھا، ہر شخص اپنی نظر میں جو ٹھیک تھا وہی کرتا تھا، اور سَیلا کے مقدِس میں عیلی کاہن کے بیٹے حُفنی اور فینحاس خداوند کی قربانیوں کی بےحرمتی کر رہے تھے۔ اِسی ٹوٹے ہوئے منظر میں بائبل ہمیں افرائیم کے پہاڑی علاقے کے ایک قصبے رامتائم صوفیم لے جاتی ہے، جہاں القانہ نام کا ایک آدمی رہتا تھا۔ اُس کی دو بیویاں تھیں، حنّہ اور فننہ۔ فننہ کے بچے تھے، حنّہ کے نہیں۔ یہی ایک جملہ پورے باب کا زخم ہے۔
دو بیویوں کا یہ گھر خود ایک گواہی ہے کہ انسان نے خدا کے بنائے ہوئے نقشے کو کس طرح بگاڑ دیا۔ بائبل اِس بندوبست کی تعریف نہیں کرتی؛ وہ صرف اُس کا نتیجہ دکھاتی ہے: طعنے، مقابلہ، آنسو۔ فننہ حنّہ کو رنجیدہ کرتی تھی، اور وہ ہر سال کرتی تھی، خاص طور پر اُس سفر پر جب سب لوگ خداوند کے گھر عبادت کے لیے جاتے تھے۔ القانہ حنّہ سے محبت کرتا تھا اور اُسے دوگنا حصہ دیتا تھا، مگر محبت بھری نیت ہمیشہ درد کو سمجھ نہیں پاتی۔ اُس کا سوال، "کیا میں تیرے لیے دس بیٹوں سے بڑھ کر نہیں؟" (1 سموئیل 1:8) ہمدردی سے کہا گیا تھا، لیکن حنّہ کے زخم پر یہ مرہم نہیں بنا۔
پھر وہ آیت آتی ہے جہاں سے اصل کہانی شروع ہوتی ہے۔ 1 سموئیل 1:10 کہتی ہے: "اور وہ دل کی بہت غمگین تھی سو وہ خداوند سے دعا کرنے لگی اور زار زار روئی۔" غور کریں کہ وہ کہاں گئی۔ اُس نے فننہ سے جھگڑا نہیں کیا، شوہر سے شکوہ نہیں کیا، کاہن سے سفارش نہیں مانگی۔ وہ سیدھی خداوند کے حضور گئی اور اپنا دل کھول دیا۔ بائبل اُس کی حالت چھپاتی نہیں: دل کی بہت غمگین، زار زار روتی ہوئی۔ یہ شریف اور سجی سجائی دعا نہیں تھی۔
دعا پہلے خوبصورت نہیں، سچی ہونی چاہیے۔
اِسی رونے میں اُس نے منت مانی کہ اگر خداوند اُسے بیٹا دے تو وہ اُسے ساری عمر کے لیے خداوند کے لیے وقف کر دے گی اور اُس کے سر پر اُسترہ نہ پھرے گا (1 سموئیل 1:11)۔ یہاں ہمیں اُس کے زاویے کا پہلا اشارہ ملتا ہے۔ حنّہ وہ چیز مانگ رہی تھی جسے وہ رکھنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ وہ اولاد مانگ رہی تھی تاکہ اُسے لوٹا دے۔
عیلی نے اُسے شرابی سمجھا، اور حنّہ نے نرمی سے جواب دیا کہ اُس نے مے نہیں پی بلکہ اپنا دل خداوند کے حضور اُنڈیل دیا ہے۔ عیلی نے اُسے سلامتی سے رخصت کیا، اور پھر ایک حیرت انگیز بات لکھی گئی ہے: "پھر اُس کا چہرہ اُداس نہ رہا" (1 سموئیل 1:18)۔ ابھی بچہ نہیں ملا تھا۔ بدلی ہوئی صرف ایک چیز تھی: بوجھ اب اُس کے کندھے پر نہیں، خدا کے ہاتھ میں تھا۔
خدا نے یاد فرمایا۔ 1 سموئیل 1:20 بتاتی ہے: "اور ایسا ہوا کہ ایک مدت کے بعد حنہ حاملہ ہوئی اور اُس کے بیٹا ہوا اور اُس نے اُس کا نام سموئیل رکھا اور کہا کہ میں نے اُسے خداوند سے مانگ لیا ہے۔" نام میں ہی اعتراف ہے۔ یہ بیٹا حنّہ کی کامیابی کا تمغہ نہیں، خدا کے سننے کی یادگار تھا۔ اور جب وہ بچے کو مقدِس میں لے کر آئی تو اُس نے عیلی سے کہا: "میں نے اِس لڑکے کے لیے دعا کی اور خداوند نے میری مراد جو میں نے اُس سے مانگی تھی مجھے بخشی" (1 سموئیل 1:27)۔ اگلی ہی آیت میں وہ بچہ خداوند کو سونپ دیتی ہے۔ مانگنا اور دینا ایک ہی سانس میں۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
حنّہ تنہا نہیں ہے۔ وہ ایک لمبی قطار میں کھڑی ہے۔ سارہ بانجھ تھی اور اسحاق پیدا ہوا؛ ربقہ بانجھ تھی اور اسحاق نے اُس کے لیے دعا کی؛ راخل بانجھ تھی اور خدا نے اُسے یاد فرمایا۔ ہر بار ایک ہی نمونہ: خدا کا وعدہ انسانی امکان کے ختم ہونے کے بعد آگے بڑھتا ہے۔ زبور 113:9 اِسی سچائی کو حمد میں ڈھال دیتی ہے: "وہ بانجھ کو گھر بسا دیتا ہے، کہ بچوں والی خوش دل ماں بنے۔ خداوند کی حمد کرو!" یہ آیت ایک خاص عورت کے بارے میں نہیں بلکہ خدا کے مزاج کے بارے میں ہے۔ وہ وہیں سے شروع کرتا ہے جہاں سے کچھ بھی نہیں شروع ہو سکتا۔
حنّہ کا جواب کوئی چھوٹی سی شکرگزاری نہیں، ایک مکمل گیت ہے۔ 1 سموئیل 2:1 میں لکھا ہے: "اور حنہ نے دعا کی اور کہا، میرا دل خداوند میں شادمان ہے، میرا سینگ خداوند میں بلند ہوا، میرا منہ میرے دشمنوں پر کھلا کیونکہ میں تیری نجات سے خوش ہوں۔" یہاں اُس کا لہجہ ایک ماں سے بڑھ کر ایک نبیہ کا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے بیٹے کا ذکر ہی نہیں کرتی۔ وہ خدا کے بارے میں گاتی ہے: کہ وہ زورآوروں کی کمانیں توڑتا ہے اور کمزوروں کو طاقت بخشتا ہے، کہ بھوکے سیر ہو جاتے ہیں اور سیر بھوکے، کہ وہ غریب کو خاک سے اُٹھاتا ہے، کہ وہ مارتا اور جِلاتا ہے۔ اور پھر گیت کے آخر میں ایک جملہ آتا ہے جو پوری بائبل کی رفتار بدل دیتا ہے: خداوند اپنے بادشاہ کو زور بخشے گا اور اپنے ممسوح کے سینگ کو بلند کرے گا (1 سموئیل 2:10)۔
ذرا رُکیے۔ اسرائیل میں ابھی کوئی بادشاہ نہیں تھا۔ مسح کیے ہوئے بادشاہ کا ذکر پہلی بار سموئیل کی کتاب میں ایک تکلیف زدہ عورت کے منہ سے نکلتا ہے۔ سموئیل آگے چل کر ساؤل کو اور پھر داؤد کو مسح کرے گا، اور داؤد کی نسل سے وہ آئے گا جس کی بادشاہی کا کوئی انت نہیں۔ حنّہ کی بند مٹھی جب کھلی تو خدا نے اُس میں سے پورا ایک عہد نکال لیا۔
اِسی لیے نیا عہد نامہ حنّہ کی زبان بولتا ہے۔ لوقا 1:46 میں مریم کہتی ہیں: "میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے۔" اِس کے بعد کا پورا گیت حنّہ کے گیت کی گونج ہے: زورآور تختوں سے گرائے جاتے ہیں، بھوکے اچھی چیزوں سے سیر کیے جاتے ہیں، دولتمند خالی ہاتھ لوٹائے جاتے ہیں۔ دو عورتیں، تقریباً گیارہ سو سال کا فاصلہ، اور ایک ہی سُر۔ فرق یہ ہے کہ حنّہ نے اپنا بیٹا خداوند کو دیا، اور خدا نے آخرکار اپنا بیٹا ہمیں دے دیا۔ سَیلا میں ایک ماں نے مٹھی کھولی؛ گلگتا پر باپ نے اپنا ہاتھ کھولا۔ یوحنا 3:16 اِسی کھلی ہتھیلی کا اعلان ہے۔ حنّہ کی دعا اُس بڑی کہانی کی ایک چھوٹی سی، مگر سچی، تصویر ہے۔
اُن کی زندگی کا مرکز
حنّہ کی زندگی کے تین لمحے ہیں جن کے گرد باقی سب کچھ گھومتا ہے۔
پہلا لمحہ سَیلا کے دروازے پر ہے۔ یہ اُس کی زندگی کا سب سے تنہا لمحہ تھا۔ فننہ کے طعنے، القانہ کی ناسمجھ تسلی، اور اب ایک کاہن کا غلط الزام۔ جس جگہ اُسے سب سے زیادہ سمجھا جانا چاہیے تھا، وہیں اُسے سب سے زیادہ غلط سمجھا گیا۔ مگر یہی اُس کا سب سے بڑا لمحہ بھی بنا، کیونکہ اُس نے اپنے دکھ کو کڑواہٹ میں نہیں بدلا۔ بائبل یہ نہیں بتاتی کہ حنّہ نے کبھی فننہ کو جواب دیا۔ وہ خداوند کے حضور اپنا دل اُنڈیلتی رہی۔ یہاں ہمیں اُس کی قوت نظر آتی ہے: ایمان کا مطلب درد کا انکار نہیں بلکہ درد کا صحیح پتے پر پہنچانا ہے۔ اور یہیں اُس کی کمزوری بھی چھپی ہوئی ہے، کیونکہ اُس کی منت میں ایک سودے کی بُو آتی ہے، "اگر تُو مجھے دے، تو میں تجھے دوں گی۔" خدا نے اُس کی ناپاک آمیزش والی دعا کو بھی رد نہیں کیا۔ وہ ہمارے دلوں کی ملاوٹ جانتا ہے اور پھر بھی سنتا ہے۔
دوسرا لمحہ وہ ہے جب سموئیل دودھ چھوڑتا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ تین سے پانچ سال کی عمر تک ہو سکتا تھا۔ سوچیے، تین سال اُس نے اُس بچے کو سینے سے لگایا جس کے بارے میں وہ جانتی تھی کہ وہ اُس کے پاس نہیں رہے گا۔ ہر بوسہ ایک الوداع تھا۔ القانہ نے اُسے اجازت دی کہ جب تک مناسب ہو وہ بچے کو اپنے پاس رکھے، اور پھر وہ ایک بیل، آٹا اور مے لے کر سَیلا گئی۔ اُس نے بچہ عیلی کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ ساری عمر یہ خداوند کا ہے۔ اور پھر لکھا ہے کہ وہاں اُس نے خداوند کو سجدہ کیا (1 سموئیل 1:28)۔ یہ کہانی کا وہ حصہ ہے جس پر ہم جلدی سے گزر جاتے ہیں، حالانکہ یہی اصل معجزہ ہے۔ بیٹا ملنا خدا کا کام تھا؛ بیٹا واپس دینا حنّہ کے ایمان کا کام تھا۔
تیسرا لمحہ گیت ہے۔ ایک ماں جو ابھی اپنا بچہ چھوڑ کر آئی ہے، وہ گا رہی ہے۔ اور وہ خود پر نہیں، خدا پر دھیان دیتی ہے۔ اِس کے بعد حنّہ کی زندگی خاموشی میں چلی جاتی ہے، مگر خالی خاموشی میں نہیں۔ ہر سال وہ سموئیل کے لیے ایک چھوٹا سا جبہ بنا کر لاتی تھی (1 سموئیل 2:19)، اور خدا نے اُس پر نظر کی اور اُس کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں (1 سموئیل 2:21)۔ جس نے ایک دیا، اُس نے پانچ پائے۔ مگر یہ فارمولا نہیں، فضل ہے۔ حنّہ کا نام ہی یہی کہتا ہے۔
حنّہ سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ خدا کے سامنے بےتکلف ہونا بےادبی نہیں۔ ہم اکثر اپنی دعاؤں کو اتنا صاف ستھرا کر دیتے ہیں کہ اُن میں سے ہم خود نکل جاتے ہیں۔ حنّہ کی دعا میں آنسو تھے، تلخی تھی، شکایت تھی، اور خدا نے اُسے ڈانٹا نہیں۔ 1 سموئیل 1:10 ہمیں اجازت دیتی ہے کہ ہم اپنی اصل حالت میں حاضر ہوں۔ جو دُکھ آپ خدا کو نہیں بتاتے، وہ آخر میں آپ کے دل میں زہر بن جاتا ہے۔ جو دُکھ آپ خدا کے سامنے اُنڈیل دیتے ہیں، وہ عبادت بن جاتا ہے۔
دوسرا سبق مٹھی کے بارے میں ہے۔ ہم عموماً خدا سے چیزیں رکھنے کے لیے مانگتے ہیں؛ حنّہ نے دینے کے لیے مانگا۔ اِس فرق کو سمجھ لیجیے تو آپ کی دعا کا رُخ بدل جائے گا۔ آپ جس نوکری، جس رشتے، جس اولاد، جس صحت یا جس عزت کے لیے دعا کر رہے ہیں، سوال یہ ہے: اگر مل جائے تو کیا وہ خدا کے لیے کھلا رہے گا یا آپ کی ملکیت بن جائے گا؟ حنّہ نے سیکھا کہ جو چیز خدا کو واپس دی جاتی ہے، وہ ضائع نہیں ہوتی بلکہ تاریخ بدل دیتی ہے۔ اُس کا بیٹا اگر رامتائم میں ہی رہتا تو ایک نیک آدمی بنتا؛ خداوند کے گھر میں وہ وہ نبی بنا جس نے داؤد کو مسح کیا۔
جو خدا کو لوٹایا جائے، وہ ضائع نہیں ہوتا۔
تیسرا سبق جواب سے پہلے کی تبدیلی کا ہے۔ حنّہ کا چہرہ اُس وقت روشن ہوا جب ابھی کچھ بھی نہیں بدلا تھا۔ ہمارے حالات ہمیشہ نہیں بدلتے، مگر ایمان حالات کے اندر بھی ہمیں بدل دیتا ہے۔ کئی لوگ برسوں سے ایک ہی دعا مانگ رہے ہیں اور ابھی تک خالی ہاتھ ہیں۔ حنّہ کی کہانی اُنھیں یہ سبق دیتی ہے کہ بوجھ خدا کے حضور رکھ دینا بذاتِ خود ایک جواب ہے، چاہے وہ جواب نہ ہو جو ہم چاہتے تھے۔ اور حنّہ کے گیت میں اِس کی جڑ موجود ہے: وہ خدا کی نجات سے خوش تھی، صرف اپنی نعمت سے نہیں۔
آئینہ
آپ کے پاس کوئی ایک ایسی جگہ ہے جو خالی ہے۔ ہر ایک کے پاس ہوتی ہے۔ کسی کے لیے یہ اولاد ہے، کسی کے لیے شادی، کسی کے لیے نوکری، کسی کے لیے صحت، کسی کے لیے وہ گھر جس کا کرایہ ہر مہینے دل بٹھا دیتا ہے، اور کسی کے لیے صرف یہ کہ کوئی اُسے سمجھتا نہیں۔ اور آپ کے گھر میں، آپ کی برادری میں، آپ کی کلیسیا میں کوئی فننہ بھی ضرور ہے، کوئی جس کی باتیں عین اُس جگہ لگتی ہیں جہاں آپ پہلے سے زخمی ہیں۔ تہوار کے دن، شادی کی تقریبیں، عید اور کرسمس کے اجتماعات، وہیں تو سب سے زیادہ چُبھتا ہے، کیونکہ وہاں سب کے ہاتھ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں اور آپ کے خالی۔
سوال یہ ہے کہ آپ اپنا دکھ کہاں لے جاتے ہیں۔ فون پر؟ طعنے میں؟ خاموش تنہائی میں؟ کام میں خود کو جھونک دینے میں؟ حنّہ ایک راستہ دکھاتی ہے جو ہمیں پسند نہیں آتا کیونکہ وہ ہمیں بےبس کر دیتا ہے: خدا کے حضور جا کر رو لینا، بغیر کسی سمجھدار جواب کے۔
اور دوسرا سوال اِس سے بھی زیادہ چُبھتا ہے۔ آپ جس چیز کے لیے ترس رہے ہیں، کیا آپ اُسے خدا کو واپس دے سکیں گے؟ وہ بیٹا جس کے لیے آپ نے سالوں دعا کی، کیا وہ آپ کی ملکیت ہے یا خدا کی امانت؟ وہ پیسہ جو اِس سال آیا، کیا وہ آپ کی مٹھی میں ہے یا آپ کی کھلی ہتھیلی پر؟ وہ وقت جو آپ کے پاس بچتا ہے، وہ جسم جو آپ کو دیا گیا، وہ قابلیت جس پر آپ کو فخر ہے، کیا یہ سب کسی اور کے ہیں؟
حنّہ کا نام "فضل" ہے، اور یہی اُس کا پیغام ہے۔ جب تک آپ سمجھتے ہیں کہ جو آپ کے پاس ہے وہ آپ نے کمایا ہے، آپ اُسے چھوڑ نہیں سکیں گے۔ جس دن آپ کو یقین آ جائے گا کہ سب کچھ ملا ہوا ہے، اُس دن ہاتھ آسانی سے کھلیں گے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو حنّہ کی کہانی سنانا آسان ہے، کیونکہ بچے خالی اور بھرے ہاتھ کا فرق فوراً سمجھتے ہیں۔ آپ اِس طرح شروع کر سکتے ہیں: ایک عورت تھی جو بہت اُداس تھی، کیونکہ اُس کے پاس بچہ نہیں تھا اور سب لوگ اُس کا دل دُکھاتے تھے۔ اُس نے کسی سے لڑائی نہیں کی، بلکہ خدا کے گھر جا کر خدا کو اپنے دل کی ساری بات بتا دی، حتیٰ کہ وہ رو بھی پڑی۔ خدا نے اُس کی بات سنی اور اُسے ایک بیٹا دیا جس کا نام سموئیل رکھا گیا، جس کا مطلب ہے "خدا نے سنا"۔ اور پھر حنّہ نے بڑی عجیب بات کی: اُس نے اپنا سب سے قیمتی تحفہ خدا کو واپس دے دیا۔
چھوٹے بچوں کے ساتھ ہاتھ کی مشق بہت کام کرتی ہے۔ مٹھی بند کریں اور پوچھیں، "اِس میں کچھ آ سکتا ہے؟" پھر ہتھیلی کھولیں اور کہیں، "خدا ایسے ہاتھوں میں رکھتا ہے جو کھلے ہوں۔" بڑے بچوں کے ساتھ آپ یہ بات کر سکتے ہیں کہ دعا جادو نہیں ہے، بلکہ ایک باپ سے بات کرنا ہے، اور کہ خدا ہمارے آنسوؤں سے ناراض نہیں ہوتا۔
ہر عمر کی اپنی زبان ہوتی ہے۔ اِسی لیے Faith.network پر حنّہ کی کہانی کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے ننھے بچوں کے لیے ایک سادہ، تصویری انداز میں؛ سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوالات اور سرگرمیوں کے ساتھ؛ اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے اُن سوالات کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے "اگر خدا نے میری دعا نہ سنی تو؟" آپ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چن کر گھر کی عبادت میں استعمال کر سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
حنّہ کون تھی اور وہ بائبل میں کہاں ملتی ہے؟
حنّہ افرائیم کے پہاڑی علاقے کے قصبے رامتائم صوفیم میں رہنے والے القانہ نامی آدمی کی بیوی تھی، اور نبی سموئیل کی ماں۔ اُس کی کہانی بنیادی طور پر 1 سموئیل کے پہلے اور دوسرے باب میں درج ہے، جہاں اُس کی بانجھ پن، اُس کی دعا، سموئیل کی پیدائش، اُس کا بچے کو خداوند کے لیے وقف کرنا اور اُس کا حمد کا گیت شامل ہیں۔ اُس کے بعد وہ ایک بار 1 سموئیل 2:19 اور 2:21 میں ظاہر ہوتی ہے، اور پھر بائبل اُس کی زندگی کے بارے میں خاموش ہو جاتی ہے۔
حنّہ کی دعا بائبل کی کس آیت میں ہے؟
حنّہ کی پہلی اور سب سے مشہور دعا 1 سموئیل 1:10 سے 1:11 تک ہے، جہاں لکھا ہے: "اور وہ دل کی بہت غمگین تھی سو وہ خداوند سے دعا کرنے لگی اور زار زار روئی۔" اِس کے بعد وہ منت مانتی ہے۔ اُس کی دوسری دعا، جسے عام طور پر "حنّہ کا گیت" کہا جاتا ہے، 1 سموئیل 2:1 سے 2:10 تک ہے اور یہ حمد اور نبوّت سے بھری ہوئی ہے۔ اِن دونوں کے درمیان 1 سموئیل 1:27 میں اُس کی گواہی ملتی ہے کہ خداوند نے اُس کی مراد پوری کی۔
حنّہ نے کیا منت مانی تھی اور کیا آج منت ماننا درست ہے؟
حنّہ نے منت مانی کہ اگر خداوند اُسے بیٹا دے تو وہ اُسے ساری عمر کے لیے خداوند کے لیے وقف کر دے گی اور اُس کے سر پر اُسترہ نہ پھرے گا، جو نذیروں کی وقفیت کی نشانی تھی۔ بائبل منت ماننے سے منع نہیں کرتی، مگر وہ خبردار کرتی ہے کہ منت پوری کرنا لازم ہے (واعظ 5:4-5)۔ خطرہ یہ ہے کہ ہم منت کو خدا کے ساتھ سودے بازی بنا لیں، جیسے ہم اپنی قربانی سے اُس کا بازو مروڑ رہے ہوں۔ فضل کی بنیاد پر مانگنا اور شکرگزاری میں وقف ہونا منت کی صحیح روح ہے۔
عیلی کاہن نے حنّہ کو شرابی کیوں سمجھا؟
حنّہ اپنے دل میں دعا کر رہی تھی، اُس کے ہونٹ ہل رہے تھے مگر آواز نہیں آ رہی تھی، اور عیلی نے اِسے نشے کی حالت سمجھا۔ اُس زمانے میں بلند آواز سے دعا کرنا عام تھا، اِس لیے خاموش ہلتے ہونٹ اُسے عجیب لگے۔ اِس واقعے میں ایک افسوسناک بات بھی ہے: جس کاہن کو روحانی بصیرت رکھنی چاہیے تھی، وہ ایک سچی عبادت کو پہچان نہ سکا۔ حنّہ نے بدتمیزی سے جواب نہیں دیا بلکہ ادب سے اپنی حالت بیان کی، اور عیلی نے پھر اُسے سلامتی کی دعا دے کر رخصت کیا۔
سموئیل کے نام کا مطلب کیا ہے؟
عبرانی میں سموئیل کے نام کا تعلق "سننے" اور "خدا" سے جوڑا جاتا ہے، یعنی "خدا نے سنا" یا "خدا سے مانگا گیا"۔ 1 سموئیل 1:20 خود اِس کی وضاحت کرتی ہے: "اور اُس نے اُس کا نام سموئیل رکھا اور کہا کہ میں نے اُسے خداوند سے مانگ لیا ہے۔" یعنی یہ نام بچے کی خوبی کا بیان نہیں بلکہ خدا کی وفاداری کی یادگار تھا۔ جب بھی حنّہ اپنے بیٹے کو پکارتی، وہ دراصل یہ اعلان کرتی تھی کہ خدا دعا سننے والا خدا ہے۔
حنّہ کے گیت اور مریم کے گیت میں کیا تعلق ہے؟
لوقا 1:46 میں مریم کہتی ہیں: "میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے۔" اِس کے بعد کا گیت حنّہ کے گیت سے حیرت انگیز طور پر ملتا ہے: دونوں میں خدا زورآوروں کو نیچا اور کمزوروں کو بلند کرتا ہے، بھوکوں کو سیر کرتا ہے اور مغروروں کو خالی لوٹا دیتا ہے۔ مریم غالباً حنّہ کا گیت جانتی تھیں اور اُسی زبان میں اپنی حمد پیش کی۔ فرق یہ ہے کہ حنّہ کا بیٹا ایک نبی تھا جو بادشاہ کو مسح کرے گا، جبکہ مریم کا بیٹا خود وہ بادشاہ ہے جس کا ذکر حنّہ نے 1 سموئیل 2:10 میں کیا تھا۔
کیا خدا ہر بانجھ عورت کو اولاد دیتا ہے؟
نہیں، اور یہی بات ایمانداری سے کہنی ضروری ہے۔ زبور 113:9 کہتی ہے: "وہ بانجھ کو گھر بسا دیتا ہے، کہ بچوں والی خوش دل ماں بنے۔ خداوند کی حمد کرو!" یہ آیت خدا کے کردار کا اعلان ہے، ہر شخص کے لیے گارنٹی نہیں۔ بائبل میں ایسی خواتین بھی ہیں جن کی گود خالی رہی، اور یسوع مسیح کے پیروکاروں میں بھی بہت سے لوگ بےاولاد رہے۔ حنّہ کی کہانی وعدہ نہیں بلکہ گواہی ہے کہ خدا سنتا ہے، یاد فرماتا ہے، اور اپنی حکمت سے جواب دیتا ہے، کبھی ہماری مانگ کے مطابق اور کبھی اُس سے بڑا۔
حنّہ نے اپنا بیٹا کیوں دے دیا، کیا یہ ظلم نہیں تھا؟
حنّہ نے اپنا بیٹا پھینک نہیں دیا؛ اُس نے اُسے خداوند کے گھر میں خدمت کے لیے وقف کیا، جہاں وہ عیلی کاہن کی نگرانی میں پرورش پاتا رہا۔ وہ ہر سال اُس سے ملنے جاتی اور اُس کے لیے ایک چھوٹا سا جبہ بنا کر لاتی تھی (1 سموئیل 2:19)، یعنی رشتہ ٹوٹا نہیں تھا۔ اُس زمانے کی ثقافت میں یہ ایک اعلیٰ اعزاز سمجھا جاتا تھا۔ اِس سے بڑھ کر، یہ اُس منت کی تکمیل تھی جو حنّہ نے خدا سے کی تھی، اور بائبل اِسے ایمان کا عمل قرار دیتی ہے، قربانی کی بےرحمی نہیں۔
کیا حنّہ کی دعا یہ سکھاتی ہے کہ اصرار کرنے سے خدا مان جاتا ہے؟
حنّہ کی لگن قابلِ تقلید ہے، مگر وہ کوئی طریقہ یا نسخہ نہیں۔ خدا نے اُس کی دعا اُس کی شدت کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مرضی اور رحم کی وجہ سے سنی، اور اُس کا جواب اسرائیل کی پوری تاریخ کے نقشے میں فٹ تھا۔ یسوع مسیح نے بار بار دعا میں ثابت قدم رہنے کی تعلیم دی (لوقا 18:1-8)، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ خدا زیادہ بولنے سے خوش نہیں ہوتا (متی 6:7)۔ لگن سے دعا کیجیے، مگر اعتماد خدا کے کردار پر رکھیے، اپنی دعا کے زور پر نہیں۔
حنّہ کے کل کتنے بچے ہوئے؟
سموئیل کے علاوہ حنّہ کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں ہوئیں۔ 1 سموئیل 2:21 بتاتی ہے کہ خداوند نے حنّہ پر نظر کی اور اُس کے مزید پانچ بچے ہوئے۔ یہ تفصیل مختصر ہے، مگر معنی سے بھری ہوئی۔ جس عورت کو برسوں طعنے سنے تھے، اُس کا گھر بھر گیا۔ یہ کوئی لین دین کا حساب نہیں کہ "ایک دیا تو پانچ ملے"، بلکہ خدا کی فیاضی کی ایک جھلک ہے۔ اُس کی برکت سودے کا نتیجہ نہیں ہوتی، اُس کے مزاج کا نتیجہ ہوتی ہے۔
حنّہ کے نام کا مطلب کیا ہے؟
عبرانی میں حنّہ کا نام "حن" سے نکلتا ہے، جس کا مطلب فضل، مہربانی یا بےوجہ کرم ہے۔ یہ ایک نہایت خوبصورت اتفاق ہے کہ وہ عورت جس نے سب سے زیادہ خالی پن محسوس کیا، اُس کا نام ہی "فضل" تھا۔ اُس کی پوری کہانی اِسی ایک لفظ کی تفسیر ہے: جو ملا، وہ کمایا ہوا نہیں بخشا ہوا تھا؛ جو واپس دیا گیا، وہ ضائع نہیں ہوا۔ نئے عہد نامے میں یہی لفظ یونانی "خاریس" کی صورت میں آتا ہے، وہ فضل جو ہمیں مسیح میں ملتا ہے (افسیوں 2:8)۔
فننہ کون تھی اور اُس کا کیا بنا؟
فننہ القانہ کی دوسری بیوی تھی، جس کے بچے تھے اور جو حنّہ کو مسلسل طعنے دے کر رنجیدہ کرتی تھی، خاص طور پر سَیلا کے سالانہ سفر پر۔ بائبل اُس کا انجام نہیں بتاتی، اور یہ خود ایک پیغام ہے: کہانی اُس کے گرد نہیں گھومتی۔ حنّہ کے گیت میں یہ جملہ ہے کہ بانجھ کے سات بچے ہوئے اور بہت بچوں والی کمزور پڑ گئی (1 سموئیل 2:5)، جو شاید فننہ کی طرف ایک اشارہ ہے۔ یہ یاد دلاتا ہے کہ جو آج طاقت میں ہیں، اُن کا مقام خدا کے ہاتھ میں ہے۔
کیا حنّہ کو نبیہ کہا جا سکتا ہے؟
بائبل حنّہ کو باقاعدہ "نبیہ" کا خطاب نہیں دیتی، مگر 1 سموئیل 2:1-10 میں اُس کا گیت نبوّتی انداز رکھتا ہے۔ وہ اُس وقت خدا کے مسح کیے ہوئے بادشاہ کی بات کرتی ہے جب اسرائیل میں کوئی بادشاہ موجود نہیں تھا، اور خدا کے اُلٹ پھیر کرنے والے انصاف کا ایسا نقشہ پیش کرتی ہے جو صدیوں بعد مریم کے گیت اور یسوع مسیح کی تعلیم میں پورا ہوتا ہے۔ یہودی روایت نے اُسی لیے حنّہ کو دعا کی ایک اہم استاد مانا ہے۔ کم از کم یہ کہا جا سکتا ہے کہ اُس کے ہونٹوں پر خدا کا کلام تھا۔
اختتام میں
حنّہ کی کہانی اُس عورت سے شروع ہوتی ہے جس کے پاس کچھ نہیں تھا، اور اُس عورت پر ختم ہوتی ہے جس نے جو ملا تھا وہ بھی دے دیا۔ درمیان میں دو دعائیں ہیں: ایک آنسوؤں والی اور ایک گیت والی۔ دونوں ایک ہی سچائی پر کھڑی ہیں، کہ خدا سنتا ہے، یاد فرماتا ہے، اور جو دیتا ہے اُس سے اپنی بڑی کہانی آگے بڑھاتا ہے۔ سَیلا کے دروازے پر کھلنے والی وہ مٹھی اسرائیل کے لیے ایک نبی، ایک بادشاہت، اور آخر میں ایک نجات دہندہ لے کر آئی۔
اگر آپ آج خالی ہاتھ ہیں، تو حنّہ کی دعا آپ کو کوئی نسخہ نہیں دیتی، مگر ایک راستہ ضرور دکھاتی ہے: اپنا دل خدا کے حضور اُنڈیل دیجیے، پوری سچائی کے ساتھ، اور پھر ہاتھ کھلا رکھیے۔ آگے پڑھنے کے لیے 1 سموئیل کے پہلے دو باب آہستہ سے، ایک ایک آیت ٹھہر کر پڑھیے، پھر لوقا 1:46 سے 55 تک مریم کا گیت پڑھیے، اور دیکھیے کہ کس طرح ایک تکلیف زدہ ماں کی زبان صدیوں بعد نجات کے اعلان کی زبان بن گئی۔ آخر میں زبور 113 پڑھ کر خدا کی حمد کیجیے۔
خدا وہیں سے شروع کرتا ہے جہاں کچھ باقی نہیں رہتا۔
