ایلیاہ نبی کی زندگی اور معجزے
تعارف
سوچیے کہ ایک نبی کرمل کے پہاڑ پر کھڑا ہے۔ آسمان سے آگ گر چکی ہے، ساڑھے تین سال کی خشک سالی ٹوٹ چکی ہے، ساری قوم منہ کے بل گر کر پکار رہی ہے کہ خداوند ہی خدا ہے۔ اور اُس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد وہی آدمی جنگل میں جھاؤ کے ایک درخت کے نیچے بیٹھا ہے، تنہا، بھوکا، ٹوٹا ہوا، اور خدا سے اپنی موت مانگ رہا ہے۔
یہی ایلیاہ نبی ہے۔ بائبل اُس کے معجزوں کو چھپاتی نہیں، مگر اُس کی کمزوری کو بھی نہیں چھپاتی۔ اور یہی بات اُس کی کہانی کو ہمارے لیے قیمتی بناتی ہے۔
اس صفحے پر آپ ایلیاہ کی زندگی کو ترتیب کے ساتھ دیکھیں گے: اُس کا اچانک ظہور، اُس کے چھپنے کے برس، کرمل کی آگ، ہوریب کی دھیمی آواز، اور وہ آتشی رتھ جس نے اُسے اٹھا لیا۔ ساتھ ہی آپ دیکھیں گے کہ یہ سب مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
اِس صفحے پر ہم ایلیاہ کو "معجزوں کے ہیرو" کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے بندے کے طور پر پڑھیں گے جس کی اصل تربیت آگ میں نہیں، خاموشی میں ہوئی۔ خدا نے اُسے قوم کے سامنے بھیجنے سے پہلے ایک نالی کے کنارے چھپایا، اور کرمل کی فتح کے بعد ایک غار میں لے جا کر دھیمی آواز سے بات کی۔ اُس کے معجزے اُس کی روحانی طاقت کا انعام نہیں تھے؛ وہ خدا کی وفاداری کے نشان تھے۔ اسی لیے یعقوب رسول اُسے "ہماری طرح انسان" کہتا ہے۔ اگر آپ کبھی کسی بڑی کامیابی کے بعد اندر سے خالی ہوئے ہیں، تو یہ کہانی آپ کی بھی ہے۔
بائبل ایلیاہ نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
ایلیاہ بائبل میں کسی تعارف کے بغیر آتا ہے۔ نہ اُس کے باپ کا نام، نہ اُس کے خاندان کا شجرہ، نہ کوئی بلاوے کی تفصیل۔ بس ایک آدمی، دریائے یردن کے پار کے کھردرے علاقے جلعاد سے، شمالی اسرائیل کے سب سے بدنام بادشاہ کے دربار میں کھڑا ہو جاتا ہے: "اور جلعاد کے باشندوں میں سے تشبی ایلیاہ نے اخی اب سے کہا کہ خداوند اسرائیل کے خدا کی حیات کی قسم جس کے حضور میں کھڑا ہوں کہ ان برسوں میں نہ اوس پڑے گی نہ مینہ برسے گا جب تک میں نہ کہوں" (۱-سلاطین 17:1)۔
اِس ایک آیت میں پوری کہانی کا بیج ہے۔ پہلی بات، اُس کا نام: ایلیاہ کے معنی ہیں "یاہ ہی میرا خدا ہے"۔ ایسے وقت میں جب اخی اب اور اُس کی صیدانی ملکہ ایزبل بعل کی پوجا کو سرکاری مذہب بنا رہے تھے، اِس آدمی کا نام ہی ایک اعلانِ جنگ تھا۔ دوسری بات، وہ "خداوند کے حضور میں کھڑا" ہے۔ بادشاہ کے سامنے کھڑے ہونے سے پہلے وہ خدا کے سامنے کھڑا ہے، اور یہی ترتیب اُس کی ساری جرأت کی جڑ ہے۔ تیسری بات، بارش کا رُک جانا محض ایک قدرتی آفت نہیں تھی۔ استثنا 11:16-17 میں خدا نے صاف فرمایا تھا کہ اگر اُس کی قوم دوسرے معبودوں کی طرف مڑ جائے تو آسمان بند ہو جائے گا۔ بعل کو کنعان میں بادل، بجلی اور بارش کا دیوتا مانا جاتا تھا۔ خدا نے اُس دیوتا کے دعوے کو اُس کی اپنی سرزمین پر جھوٹا ثابت کیا۔
اِس کے بعد بائبل ایلیاہ کی زندگی کو کئی مناظر میں دکھاتی ہے: کریت کی نالی پر کوّوں کے ذریعے روٹی، صارپت کی بیوہ کے ہاں آٹے اور تیل کا نہ گھٹنا، اُس بیوہ کے بیٹے کا مُردوں میں سے زندہ ہونا (پاک کلام میں پہلی مرتبہ کسی مُردے کا جی اٹھنا)، کرمل پر بعل کے نبیوں سے مقابلہ، دعا کے جواب میں آگ کا نازل ہونا، پھر سات بار جھک کر دعا کرنے پر بارش، اور آخر میں ایک آتشی رتھ میں اُس کا اٹھا لیا جانا۔
مگر بائبل ایک اور منظر بھی رکھتی ہے، جس کے بغیر ایلیاہ کو سمجھنا ناممکن ہے: ہوریب کے پہاڑ پر غار کا منظر۔ آندھی گزری، زلزلہ آیا، آگ بھڑکی، مگر لکھا ہے: "اور زلزلہ کے بعد آگ آئی پر خداوند آگ میں نہ تھا اور آگ کے بعد ایک دھیمی آواز آئی" (۱-سلاطین 19:12)۔ جس نبی نے آگ مانگی تھی اور آگ پائی تھی، اُسی کو خدا نے سکھایا کہ میں آگ سے بندھا ہوا نہیں ہوں۔
اور جب نیا عہد نامہ ایلیاہ کا ذکر کرتا ہے، تو وہ اُسے مافوق الفطرت ہستی نہیں بناتا: "ایلیاہ ایک انسان تھا ہماری طرح دکھ سکھ کا شریک: اُس نے دل سے دعا کی کہ مینہ نہ برسے۔ چنانچہ ساڑھے تین برس تک زمین پر مینہ نہ برسا" (یعقوب 5:17)۔ یعقوب یہ آیت اِس لیے لکھتا ہے کہ ہم مایوس نہ ہوں۔ ایلیاہ کی طاقت اُس کے مزاج میں نہیں، اُس کے خدا میں تھی۔
آگ ایک دن گری؛ آواز نے پوری زندگی بنائی۔
اچانک ظہور اور چھپنے کے برس
جس دن ایلیاہ نے آسمان بند ہونے کا اعلان کیا، اُسی دن سے وہ ایک مفرور بن گیا۔ خدا کا پہلا حکم یہ نہیں تھا کہ "جا اور منادی کر"، بلکہ یہ تھا کہ چھپ جا (۱-سلاطین 17:2-3)۔ یردن کے مشرق میں کریت کی نالی پر وہ تنہا بیٹھا رہا، اور کوّے صبح شام اُس کے لیے روٹی اور گوشت لاتے رہے۔ کوّا شریعت میں ناپاک پرندہ تھا اور خود بھی لالچی، مگر خدا نے اپنے نبی کا رزق اُسی کے ہاتھ میں رکھا۔ یہ ایلیاہ کا پہلا سبق تھا: تیری روزی تیرے حساب سے نہیں آئے گی۔
پھر نالی سوکھ گئی۔ غور کیجیے کہ خدا نے نالی سوکھنے سے پہلے نیا انتظام ظاہر نہیں کیا۔ نبی کو بھی اُسی خشک سالی میں سے گزرنا پڑا جس کا اُس نے اعلان کیا تھا۔ اِس کے بعد خدا اُسے صیدا کے علاقے صارپت بھیجتا ہے، یعنی ایزبل کے اپنے وطن میں، ایک غریب غیر یہودی بیوہ کے گھر۔ جس عورت کے پاس آخری وقت کا آٹا اور تیل تھا، اُسی کو خدا نے نبی کا میزبان بنایا۔ اور جب اُس کا بیٹا مر گیا، ایلیاہ اُسے بالاخانے پر لے گیا، اُس پر پسر گیا اور دعا کی، اور خدا نے لڑکے کی جان لوٹا دی (۱-سلاطین 17:17-24)۔
اِن تین سالوں میں کوئی مجمع نہیں تھا، کوئی گواہ نہیں تھا، کوئی خبر نہیں پھیلی۔ ایک نالی، ایک بیوہ، ایک بچہ۔ خدا اپنے آدمی کو گمنامی کے مدرسے میں پڑھا رہا تھا۔ اور یہی اِس صفحے کا زاویہ ہے: کرمل پر جو ہوا، وہ کریت اور صارپت میں تیار ہوا تھا۔ جو آدمی خفیہ طور پر خدا پر بھروسا کرنا نہ سیکھے، وہ عوامی طور پر خدا کے لیے کھڑا نہیں ہو سکتا۔
یہ بات یسوع مسیح نے خود اُٹھائی۔ ناصرت کے عبادت خانے میں اُنہوں نے یاد دلایا کہ ایلیاہ کے دنوں میں اسرائیل میں بہت بیوائیں تھیں، مگر نبی کسی اسرائیلی کے پاس نہیں بھیجا گیا بلکہ صیدا کی ایک غیر قوم عورت کے پاس (لوقا 4:25-26)۔ ایلیاہ کے چھپنے کے برسوں میں ہی خدا کی وہ فیاضی چمکی جو آگے چل کر ساری قوموں تک پہنچنے والی تھی۔
کرمل کا پہاڑ: آگ اور بارش
تیسرے سال خدا کا کلام آیا: اخی اب کو جا کر دکھائی دے۔ ملاقات کے وقت بادشاہ نے اُسے "اسرائیل کا ستانے والا" کہا، اور ایلیاہ نے الزام واپس اُس کے سر ڈال دیا: مصیبت اُس گھرانے سے آئی ہے جس نے خداوند کے حکم چھوڑ کر بعلوں کی پیروی کی (۱-سلاطین 18:17-18)۔ پھر اُس نے وہ مقابلہ تجویز کیا جو تاریخ کا سب سے بے باک ایمانی چیلنج ہے۔
کرمل پر ساری قوم جمع ہوئی، اور ایلیاہ نے وہ سوال پوچھا جو آج بھی ہمارے سینے میں چبھتا ہے: "تم کب تک دو خیالوں میں رہو گے؟" لوگ خاموش رہے۔ اُن کا مسئلہ کھلا انکار نہیں تھا، بلکہ دو کشتیوں میں سوار رہنے کی عادت تھی۔ وہ خداوند کو بھی نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اور بعل کی فصلوں کی برکت بھی چاہتے تھے۔
بعل کے نبی صبح سے دوپہر تک ناچتے، پکارتے اور اپنے آپ کو زخمی کرتے رہے۔ ایلیاہ نے اُن کا مذاق کیا کہ شاید تمہارا دیوتا سو رہا ہے یا سفر پر ہے۔ کوئی آواز نہ آئی، کوئی جواب نہ ملا۔ پھر شام کی قربانی کے وقت ایلیاہ نے خداوند کا وہ مذبح مرمت کیا جو گرا دیا گیا تھا، بارہ پتھر لیے (یعقوب کے بارہ قبیلوں کی یاد میں، حالانکہ ملک بٹ چکا تھا)، بیل کاٹا، لکڑیاں رکھیں، اور تین بار پانی ڈلوا کر ہر شک کی گنجائش ختم کر دی۔ اُس کی دعا مختصر تھی: خداوند اپنے آپ کو خدا ثابت کرے اور لوگوں کے دل واپس پھیرے۔
"تب خداوند کی آگ نازل ہوئی اور سوختنی قربانی اور لکڑیوں اور پتھروں اور مٹی کو بھسم کر دیا اور اُس نالی کے پانی کو چاٹ لیا" (۱-سلاطین 18:38)۔ آگ نے صرف قربانی نہیں، پتھر اور مٹی اور پانی تک نگل لیا۔ قوم منہ کے بل گر پڑی اور پکار اٹھی کہ خداوند ہی خدا ہے۔
یہاں ایک بات دھیان سے دیکھیے۔ آگ لوگوں پر نہیں گری، قربانی پر گری۔ خدا کا انصاف اپنی جگہ سے ہٹا نہیں، مگر اُس کا رخ اُس بھینٹ کی طرف مڑا جو مذبح پر رکھی گئی تھی۔ یہی سایہ ہے اُس دن کا جب صلیب پر خدا کا غضب گنہگاروں پر نہیں، اُن کے بدل پر آ پڑا۔ کرمل کی آگ ہمیں ڈراتی ہے اور تسلی بھی دیتی ہے: خدا حقیقی ہے، اور اُس نے ایک قربانی ٹھہرائی ہے۔
اِس کے بعد ایلیاہ پہاڑ کی چوٹی پر گیا، اپنا سر گھٹنوں کے درمیان رکھا اور اپنے خادم کو سات بار سمندر کی طرف دیکھنے بھیجا۔ چھ بار کچھ نہ تھا۔ ساتویں بار آدمی کے ہاتھ کے برابر ایک چھوٹا بادل نظر آیا، اور پھر زور کی بارش ہوئی (۱-سلاطین 18:41-45)۔ یعقوب 5:17-18 اِسی دعا کو ہمارے لیے نمونہ بناتا ہے۔ آگ ایک لمحے کا معجزہ تھی؛ بارش سات بار کی مسلسل دعا کا پھل تھی۔
جھاؤ کے درخت سے ہوریب تک
اب کہانی وہاں جاتی ہے جہاں ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ ایزبل کو خبر ملی اور اُس نے ایلیاہ کے قتل کی قسم کھائی۔ اور وہی آدمی جو سینکڑوں جھوٹے نبیوں کے سامنے تنہا کھڑا ہوا تھا، ایک عورت کے پیغام سے ڈر کر جنوب کی طرف بھاگ گیا، بیر سبع میں اپنے خادم کو چھوڑا، اور دن بھر کا سفر کر کے جنگل میں جھاؤ کے ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا اور دعا کی کہ اے خداوند بس ہے، اب میری جان لے لے (۱-سلاطین 19:4)۔
یہ آیت بائبل نے کاٹی نہیں۔ خدا کا نبی مایوسی کی اُس گہرائی میں ہے جہاں سے موت بھی راحت لگتی ہے۔ اور خدا نے کیا کیا؟ نہ ڈانٹ، نہ طعنہ، نہ "تیرے ایمان کو کیا ہوا"۔ فرشتے نے اُسے چھوا، روٹی اور پانی دیا، اور اُسے پھر سونے دیا۔ دوسری بار جگا کر کھلایا اور کہا کہ سفر لمبا ہے۔
خدا اپنے تھکے ہوئے بندے کو پہلے کھلاتا اور سلاتا ہے۔
چالیس دن اور چالیس رات کے بعد وہ ہوریب پہنچا، اُسی پہاڑ پر جہاں خدا نے موسیٰ سے کلام کیا تھا۔ غار کے منہ پر خدا نے پوچھا: ایلیاہ، تُو یہاں کیا کر رہا ہے؟ ایلیاہ نے اپنی شکایت رکھی: میں نے غیرت دکھائی، قوم نے عہد توڑا، تیرے نبی مار ڈالے گئے، اور اکیلا میں ہی بچا ہوں، اور اب وہ میری جان کے بھی درپے ہیں۔
پھر آندھی آئی جس نے پہاڑ چیر دیے، مگر خداوند آندھی میں نہ تھا۔ زلزلہ آیا، مگر وہ زلزلے میں نہ تھا۔ "اور زلزلہ کے بعد آگ آئی پر خداوند آگ میں نہ تھا اور آگ کے بعد ایک دھیمی آواز آئی" (۱-سلاطین 19:12)۔ ایلیاہ نے اپنا منہ چادر سے ڈھانپا اور غار کے منہ پر آ کھڑا ہوا۔
یہ ایلیاہ کی زندگی کا سب سے بڑا موڑ ہے۔ جس آدمی کی خدمت آگ اور آندھی پر بنی تھی، اُسے سکھایا گیا کہ خدا کا اصل کام شور سے نہیں چلتا۔ اور خدا نے اُس کی شکایت کا جواب تین کاموں اور ایک خبر سے دیا: حزائیل کو مسح کر، یہو کو مسح کر، اور الیشع کو اپنی جگہ کے لیے مسح کر؛ اور جان لے کہ میں نے اسرائیل میں سات ہزار ایسے چھوڑ رکھے ہیں جنہوں نے بعل کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے (۱-سلاطین 19:15-18)۔ یعنی: تُو اکیلا نہیں ہے، تیرا اندازہ غلط ہے، اور میرا کام تیرے بعد بھی چلے گا۔ پولس رسول نے رومیوں 11:2-5 میں اِسی واقعے سے فضل کے بقیے کی تعلیم دی۔
نابوت کا انگورستان اور آتشی رتھ
ہوریب کے بعد ایلیاہ نے الیشع کو بلایا، اپنی چادر اُس پر ڈالی، اور ایک نئی چیز شروع ہوئی: تنہا نبی نے ایک جانشین تیار کرنا سیکھ لیا۔
پھر نابوت کا واقعہ آتا ہے۔ اخی اب نے ایک عام آدمی کا موروثی انگورستان چاہا، ایزبل نے جھوٹی گواہی سے نابوت کو سنگسار کروایا، اور بادشاہ لُوٹے ہوئے کھیت میں ٹہلنے چلا گیا۔ وہاں ایلیاہ اُس کے سامنے آ کھڑا ہوا (۱-سلاطین 21:17-24)۔ یہاں نبی کا کام معجزہ نہیں، انصاف کی آواز ہے۔ ایلیاہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سچا ایمان صرف عبادت کے سوال نہیں پوچھتا، زمین، مزدوری اور غریب کے حق کے سوال بھی پوچھتا ہے۔ اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جب اخی اب نے کچھ نرمی دکھائی، خدا نے سزا میں تاخیر کر دی۔ عدالت سنانے والا خدا توبہ کے ایک اشارے پر بھی رحم کرنے کو تیار ہے۔
اخی اب کے بعد اُس کا بیٹا اخزیاہ زخمی ہوا اور اُس نے عقرون کے دیوتا سے پوچھ گچھ کے لیے قاصد بھیجے۔ ایلیاہ نے راستہ روکا، اور دو بار آسمان سے آگ نازل ہوئی (۲-سلاطین باب 1)۔ یہی وہ واقعہ ہے جسے یاد کر کے یعقوب اور یوحنا نے سامریوں کے گاؤں پر آگ مانگی، اور یسوع نے اُنہیں جھڑکا (لوقا 9:54-55)۔ ایلیاہ کا جوش اپنے وقت میں سچا تھا، مگر مسیح کا آنا ایک نئے دور کا آغاز تھا: پہلے فضل، پھر عدالت۔ ۲-تواریخ 21:12 میں ایک خط کا بھی ذکر ہے جو ایلیاہ نے یہوداہ کے بادشاہ یہورام کو لکھا، یعنی اُس کی خدمت شمالی ملک کی سرحدوں سے بھی آگے پہنچی۔
اور پھر اختتام۔ ایلیاہ اور الیشع جلجال سے بیت ایل، بیت ایل سے یریحو، اور یریحو سے یردن گئے۔ تین بار ایلیاہ نے کہا کہ تُو یہیں ٹھہر جا، اور تین بار الیشع نے انکار کیا۔ چادر سے پانی دو حصے ہوا، دونوں پار گئے، اور الیشع نے دوہری روح مانگی۔ "اور ایسا ہوا کہ جب وہ چلے جاتے اور باتیں کرتے تھے کہ دیکھو ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑے نمودار ہوئے اور اُن دونوں کو جدا کر دیا اور ایلیاہ آسمان پر چلا گیا" (۲-سلاطین 2:11)۔
جس آدمی نے موت مانگی تھی، اُس نے موت دیکھی ہی نہیں۔ خدا نے اُس کی مایوس دعا قبول نہ کی، اور اُس سے کہیں بہتر دیا۔ یہ فضل کی خوبصورت تصویر ہے: خدا ہماری بری دعاؤں کا "نہیں" بھی محبت سے کہتا ہے۔ اور غور کیجیے، معجزہ آتشی رتھ نہیں تھا؛ معجزہ یہ تھا کہ چادر الیشع کے ہاتھ میں آ گئی اور کام رُکا نہیں۔
ان کی زندگی کا مرکز
ایلیاہ کی پوری کہانی میں تین لمحے ہیں جن کے گرد باقی سب گھومتا ہے۔
پہلا لمحہ اخی اب کے سامنے وہ قسم ہے: "خداوند اسرائیل کے خدا کی حیات کی قسم جس کے حضور میں کھڑا ہوں" (۱-سلاطین 17:1)۔ یہ صرف بہادری نہیں، ایک الٰہیات ہے۔ ایلیاہ کی زندگی کا محور یہ تھا کہ خدا زندہ ہے اور وہ اُس کے حضور میں کھڑا ہے۔ جو آدمی روز خدا کے حضور میں کھڑا ہو، وہ بادشاہ کے دربار میں جھکنا بھول جاتا ہے۔ ہماری بہت سی بزدلیاں دراصل حضوری کی کمی ہیں، جرأت کی کمی نہیں۔
دوسرا لمحہ کرمل کی آگ ہے: "تب خداوند کی آگ نازل ہوئی" (۱-سلاطین 18:38)۔ یہ ایلیاہ کی کامیابی کا عروج تھا، مگر اِس دن کا مقصد نبی کی شہرت نہیں تھی۔ اُس کی دعا صاف تھی: لوگ جان لیں کہ خداوند ہی خدا ہے اور اُن کے دل پھر جائیں۔ آگ نے سوال کا فیصلہ کر دیا، مگر اُس نے قوم کا دل مستقل نہیں بدلا؛ کچھ ہی عرصے میں ایزبل پھر مضبوط تھی۔ یہاں ہمیں ایک تلخ سچائی ملتی ہے: بڑے نشان لوگوں کو قائل کر سکتے ہیں، مگر توبہ پیدا کرنے کے لیے کچھ اور چاہیے، اور وہ "کچھ اور" روحِ خدا کا کام ہے۔
تیسرا لمحہ غار کے منہ پر وہ دھیمی آواز ہے (۱-سلاطین 19:12)۔ اِس زاویے سے دیکھیں تو یہ ایلیاہ کی زندگی کا اصل مرکز ہے۔ کرمل نے قوم کو ہلایا؛ ہوریب نے نبی کو بدلا۔ وہاں خدا نے اُس کی خدمت کی بنیاد جوش سے ہٹا کر رفاقت پر رکھی، اُس کی تنہائی کے جھوٹ کو توڑا، اور اُسے یہ سکھایا کہ کام اُس کے کندھوں پر نہیں ٹھہرا ہوا ہے۔ اِسی ملاقات کے بعد ایلیاہ نے پہلی بار کسی اور کو تیار کیا۔
اِن تین لمحوں کے ساتھ ایک چوتھا منظر بھی رکھیے: آتشی رتھ (۲-سلاطین 2:11)۔ خدا نے ایک ٹوٹے ہوئے، غصیلے، بعض اوقات مبالغہ کرنے والے آدمی کو رد نہیں کیا، بلکہ عزت کے ساتھ اپنے پاس لے گیا۔ ایلیاہ کی زندگی کا مرکز آخر میں ایلیاہ نہیں، بلکہ وہ خدا ہے جو کمزوروں کے ساتھ آخر تک وفادار رہتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
ایلیاہ کی کہانی ۲-سلاطین باب 2 پر ختم نہیں ہوتی۔ پرانے عہد نامے کا آخری صفحہ اُسے پھر سامنے لے آتا ہے: "دیکھو خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن کے آنے سے پہلے میں ایلیاہ نبی کو تمہارے پاس بھیجوں گا" (ملاکی 4:5)۔ اگلی آیت بتاتی ہے کہ اِس بھیجے جانے کا مقصد کیا ہے: باپوں کے دل بیٹوں کی طرف اور بیٹوں کے دل باپوں کی طرف پھیرنا۔ یعنی ایلیاہ کی خدمت کا خلاصہ عدالت نہیں، دلوں کا پھرنا ہے، بالکل وہی جس کے لیے اُس نے کرمل پر دعا کی تھی۔
نیا عہد نامہ اِس وعدے کو یوحنا اصطباغی میں پورا ہوتے دیکھتا ہے۔ فرشتے نے زکریاہ سے کہا کہ اُس کا بیٹا ایلیاہ کی روح اور قوت میں خداوند کے آگے آگے چلے گا (لوقا 1:17)۔ یسوع نے صاف فرمایا کہ جو قبول کرنا چاہے تو یوحنا ہی وہ ایلیاہ ہے جس کا آنا مقرر تھا (متی 11:14 اور متی 17:12)۔ یوحنا کا لباس، اُس کا بیابان، اُس کی بے باکی، اور ہیرودیس اور ہیرودیاس کے سامنے اُس کی جرأت، سب ایلیاہ اور اخی اب اور ایزبل کے منظر کی گونج ہیں۔
پھر تبدیلِ ہیئت کا پہاڑ آتا ہے: "اور دیکھو دو شخص یعنی موسیٰ اور ایلیاہ اُس سے باتیں کر رہے تھے" (لوقا 9:30)۔ یہاں شریعت (موسیٰ) اور انبیا (ایلیاہ) دونوں مسیح کے ساتھ کھڑے ہیں، اور لوقا بتاتا ہے کہ اُن کی گفتگو کا موضوع یسوع کا وہ "کوچ" تھا جو اُنہیں یروشلیم میں پورا کرنا تھا۔ ایلیاہ نے ہوریب پر خدا کی دھیمی آواز سنی تھی؛ اب وہ اُس ہوریب کے خدا کے ساتھ ایک پہاڑ پر کھڑا ہے، جسم میں ظاہر ہوئے مجسّم کلام کے ساتھ۔ اور جب شاگرد ابر میں گھر گئے، تو باپ کی آواز آئی کہ یہ میرا بیٹا ہے، اِس کی سنو۔ موسیٰ اور ایلیاہ چلے گئے، یسوع اکیلا رہ گیا۔ اِس سے بڑھ کر کوئی چیز مسیح کی مرکزیت کو واضح نہیں کر سکتی۔
اور آخر میں رسولوں کا خط ایلیاہ کو ہمارے ہاتھ میں دے دیتا ہے: "ایلیاہ ایک انسان تھا ہماری طرح دکھ سکھ کا شریک" (یعقوب 5:17)۔ ایلیاہ آسمان پر گیا، مگر ہمارے لیے وہ ایک بت نہیں بنا؛ وہ ایک دعا کرنے والے کمزور بھائی کا نمونہ بنا۔ مکاشفہ 11:6 میں بھی اُن گواہوں کا ذکر ہے جنہیں آسمان بند کرنے کا اختیار ہے، یعنی کلیسیا کی گواہی آخری دنوں تک ایلیاہ کے مزاج کی حامل رہے گی: سچ بولنے والی، دعا کرنے والی، اور دنیا کے دباؤ سے نہ ٹوٹنے والی۔
ایلیاہ سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ خدا کے ساتھ تنہائی خدا کی خدمت سے پہلے آتی ہے۔ ایلیاہ کریت کی نالی پر جتنے مہینے بیٹھا، وہ ضائع نہیں گئے۔ آج ہم روحانی زندگی کو نظر آنے والے نتائج سے ناپتے ہیں: کتنے لوگ آئے، کتنی تعریف ہوئی، کتنا اثر پھیلا۔ مگر بائبل کی ترتیب دوسری ہے۔ اگر آپ کی زندگی میں ابھی "چھپنے" کا موسم ہے، بے روزگاری، بیماری، گمنامی، یا وہ خدمت جسے کوئی نہیں دیکھتا، تو ممکن ہے خدا آپ کو ضائع نہیں کر رہا بلکہ گھڑ رہا ہے۔ وہاں جو بھروسا سیکھا جاتا ہے، وہی کرمل پر کام آتا ہے۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ ایمان کا زوال اکثر فتح کے فوراً بعد آتا ہے۔ کرمل کے بعد جھاؤ کا درخت ہے۔ روحانی تھکن گناہ نہیں، انسان ہونے کی علامت ہے، اور خدا اُس سے مذہبی طعنوں کے ساتھ نہیں، روٹی، پانی اور نیند کے ساتھ نمٹتا ہے۔ ایلیاہ کی مایوسی نے اُس سے نبوت کا منصب نہیں چھینا۔ اگر آپ کبھی اِس مقام پر پہنچے ہیں جہاں دعا میں لفظ نہیں بچے، تو یاد رکھیے کہ خدا نے اپنے نبی کو اُس حالت میں چھوڑا نہیں تھا۔
تیسرا سبق دعا کے بارے میں ہے، اور یہی وہ سبق ہے جسے یعقوب نے چنا۔ ایلیاہ کا کمال کسی خاص روحانی درجے میں نہیں تھا؛ اُس نے "دل سے دعا کی" (یعقوب 5:17)۔ اُس نے آسمان بند ہونے کی دعا کی، بیوہ کے بیٹے کی زندگی کے لیے دعا کی، آگ کے لیے دعا کی، اور بارش کے لیے سات بار جھک کر دعا کی۔ اُس کی دعاؤں میں وہ دعا بھی شامل ہے جو خدا نے قبول نہ کی، یعنی موت کی درخواست۔ ہماری دعائیں ہمیشہ درست نہیں ہوتیں، مگر ہمارا خدا ہمیشہ درست جواب دیتا ہے۔
وہ ہماری طرح انسان تھا، اور یہی ہماری امید ہے۔
آئینہ
آپ کی زندگی میں وہ کون سا "دو خیالوں" والا مقام ہے؟ ایلیاہ کا سوال آج بھی وہیں چبھتا ہے جہاں ہم کھلا انکار نہیں کرتے، صرف حساب برابر رکھتے ہیں۔ اتوار کو عبادت، اور سوموار کو دفتر میں وہی جھوٹ جو "سب کرتے ہیں"۔ زبان پر خدا کا نام، اور موبائل کی سکرین پر وہ عادت جسے آپ کسی کو دکھا نہیں سکتے۔ بعل کبھی مندر کی مورتی ہوتی تھی؛ آج اُس کے چہرے بدل گئے ہیں: پیسہ جو تحفظ کا وعدہ کرتا ہے، لوگوں کی رائے جو عزت کا وعدہ کرتی ہے، کامیابی جو معنی کا وعدہ کرتی ہے۔ ایلیاہ آپ سے یہ نہیں کہتا کہ مذہب بدلو؛ وہ پوچھتا ہے کہ تمہارا اصل بھروسا کہاں گروی ہے۔
اور اگر آپ آج کرمل پر نہیں، جھاؤ کے درخت کے نیچے بیٹھے ہیں، تو یہ حصہ خاص طور پر آپ کے لیے ہے۔ شاید آپ نے سالوں تک ایک گھر سنبھالا، ایک بیمار کی خدمت کی، ایک کلیسیا کی خدمت کی، اور آج اندر سے صرف تھکن بچی ہے۔ شاید آپ رات کو یہ سوچتے ہیں کہ اب بس ہے۔ شاید آپ کو یہ لگتا ہے کہ وفاداری سے چلنے والے صرف آپ ہی رہ گئے ہیں، اور یہ سوچ آپ کے دل کو کڑوا کر رہی ہے۔ خدا نے ایلیاہ سے یہ نہیں کہا کہ اپنی ہمت جمع کر۔ اُس نے اُسے کھانا دیا، سونے دیا، اُسے چالیس دن کا لمبا راستہ دیا، اور پھر ایک دھیمی آواز میں بتایا کہ سات ہزار اور بھی ہیں۔
آپ کے حساب میں غلطی ہو سکتی ہے۔ آپ اکیلے نہیں ہیں، اور آپ ناگزیر بھی نہیں ہیں، اور دونوں باتیں راحت کی ہیں۔ خدا کا کام آپ کی طاقت پر کھڑا نہیں؛ اِسی لیے آپ آرام کر سکتے ہیں۔ آج آپ کے لیے سوال یہ نہیں کہ آسمان سے آگ گرے گی یا نہیں۔ سوال یہ ہے کہ اُس دھیمی آواز کو سننے کے لیے آپ اپنی زندگی کا شور کہاں کم کریں گے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو ایلیاہ کی کہانی سنانا آسان ہے، کیونکہ اِس میں تصویریں ہیں: کوّے جو روٹی لاتے ہیں، ایک ڈبہ جس کا آٹا کبھی ختم نہیں ہوتا، آسمان سے آگ، اور آخر میں گھوڑوں والا آتشی رتھ۔ مگر کہانی کا مرکز معجزہ نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ایک سادہ جملہ: خدا سچّا ہے، اور خدا اپنے دوستوں کا خیال رکھتا ہے۔
چھوٹے بچوں سے آپ یوں بات کر سکتے ہیں کہ ایک بادشاہ تھا جو جھوٹے دیوتا سے دعا مانگتا تھا، اور خدا نے اپنے ایک بندے کو بھیجا تاکہ سب لوگ جان لیں کہ اصلی خدا کون ہے۔ اور جب وہ بندہ بہت تھک گیا اور رونے لگا، خدا نے اُسے ڈانٹا نہیں، بلکہ کھانا دیا اور نرمی سے بات کی۔ یہ آخری بات بچوں کے دل میں بہت گہری اترتی ہے، خاص طور پر اُن بچوں کے دل میں جو ڈر یا ناکامی سے واقف ہیں۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ کرمل کا مقابلہ تفصیل سے پڑھ سکتے ہیں اور اُن سے پوچھ سکتے ہیں کہ آج ہمارے دلوں میں کون سی چیزیں خدا کی جگہ لینا چاہتی ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ ایلیاہ کی مایوسی اور تنہائی پر بات کیجیے، کیونکہ یہ اُن کے تجربے سے قریب ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر ایلیاہ کی زندگی کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والوں کے لیے (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت چن کر ساتھ بیٹھ کر پڑھیے، اور آخر میں مل کر ایک چھوٹی سی دعا کیجیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایلیاہ نبی کون تھے؟
ایلیاہ نویں صدی قبل مسیح کا ایک نبی تھا جو جلعاد کے علاقے تشبی سے تعلق رکھتا تھا اور شمالی اسرائیل میں بادشاہ اخی اب اور ملکہ ایزبل کے دور میں خدمت کرتا رہا۔ اُس کے نام کے معنی ہیں "یاہ ہی میرا خدا ہے"، اور اُس کی پوری خدمت اِسی اعلان کی گواہی تھی۔ اُس کا ذکر ۱-سلاطین باب 17 سے ۲-سلاطین باب 2 تک ملتا ہے۔ اُسے بعل کی پوجا کے خلاف کھڑا کیا گیا، اور اُس کے ذریعے خدا نے خشک سالی، رزق، شفا، آگ اور بارش کے نشان دکھائے۔
ایلیاہ نبی نے کتنے معجزے کیے؟
بائبل ایلیاہ کے ذریعے تقریباً سات یا آٹھ نشانوں کا ذکر کرتی ہے: بارش کا رُک جانا، کوّوں کے ذریعے رزق، صارپت کی بیوہ کے آٹے اور تیل کا نہ گھٹنا، اُس کے بیٹے کا زندہ ہونا، کرمل پر آگ کا نازل ہونا، بارش کا لوٹ آنا، اخزیاہ کے قاصدوں پر آگ، اور یردن کے پانی کا دو حصے ہونا۔ مگر یاد رکھیے کہ خود بائبل اِن معجزوں کو ایلیاہ کی طاقت نہیں کہتی؛ یہ سب خداوند کے کام تھے جو دعا کے جواب میں ظاہر ہوئے۔
کیا یہ سچ ہے کہ ایلیاہ کبھی مرے نہیں؟
جی ہاں، ۲-سلاطین 2:11 کے مطابق ایک آتشی رتھ اور آتشی گھوڑے نمودار ہوئے اور ایلیاہ آسمان پر اٹھا لیا گیا، یعنی اُس نے عام موت نہیں دیکھی۔ بائبل میں اِس سے پہلے صرف حنوک کے بارے میں ایسی بات لکھی گئی ہے۔ یہ ایلیاہ کی ذاتی برتری کا اعلان نہیں، بلکہ خدا کے اختیار کا نشان ہے کہ موت اُس کے ہاتھ میں ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس نبی نے مایوسی میں اپنی موت مانگی تھی، خدا نے اُسے موت کے بجائے اپنی حضوری دی۔
ایلیاہ اور الیاس ایک ہی شخص ہیں؟
بالکل ایک ہی شخص ہیں۔ عبرانی میں نام "ایلیاہو" ہے، یونانی میں یہی نام "ایلیاس" بن جاتا ہے، اور اردو کے مختلف تراجم و روایات میں آپ کو ایلیاہ، ایلیّاہ یا الیاس کی صورتیں ملیں گی۔ نئے عہد نامے کی یونانی عبارت میں یہی یونانی صورت استعمال ہوئی ہے، اِسی لیے کچھ پرانے اردو تراجم میں لوقا 9:30 جیسی آیات میں یہ نام مختلف ہجوں کے ساتھ نظر آتا ہے۔ نام کے ہجّے کا فرق کسی الگ ہستی کا فرق نہیں۔
ایلیاہ نے بعل کے نبیوں کے ساتھ ایسا سخت سلوک کیوں کیا؟
کرمل کے بعد بعل کے نبی قتل کیے گئے، اور یہ آج ہمیں شدید لگتا ہے۔ سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ ایک عہد کی قوم تھی جہاں غیر معبودوں کی پوجا کو بغاوت مانا جاتا تھا، اور اِن نبیوں نے ایزبل کی سرپرستی میں خداوند کے نبیوں کے قتل میں حصہ لیا تھا۔ یہ ایک مخصوص، ایک بار پیش آنے والا الٰہی فیصلہ تھا، نہ کہ کلیسیا کے لیے کوئی نمونہ۔ لوقا 9:54-55 میں یسوع نے اپنے شاگردوں کو ایسی آگ مانگنے سے صاف منع فرمایا۔
۱-سلاطین 19:12 کی "دھیمی آواز" کا مطلب کیا ہے؟
عبرانی الفاظ کا مطلب ہے ایک باریک، ہلکی سی سرگوشی جیسی آواز، یا لفظی طور پر "نرم خاموشی کی آواز"۔ اِس کا پیغام یہ نہیں کہ خدا آندھی، زلزلے یا آگ میں کبھی کام نہیں کرتا، کیونکہ کرمل پر اُس نے آگ ہی بھیجی تھی۔ اِس کا پیغام یہ ہے کہ خدا کسی ایک طریقے کا قیدی نہیں، اور اُس کا سب سے گہرا کام اکثر خاموشی میں ہوتا ہے۔ ایلیاہ کو یہاں یہ سکھایا گیا کہ اُس کی خدمت شور اور نشانوں پر نہیں، خدا کے کلام پر ٹکی ہے۔
ملاکی 4:5 میں ایلیاہ کے دوبارہ آنے کا وعدہ کیسے پورا ہوا؟
ملاکی 4:5 کہتی ہے کہ خداوند کے بزرگ اور ہولناک دن سے پہلے خدا ایلیاہ نبی کو بھیجے گا۔ نیا عہد نامہ اِس وعدے کو یوحنا اصطباغی میں پورا ہوتے دیکھتا ہے، کیونکہ فرشتے نے کہا تھا کہ وہ ایلیاہ کی روح اور قوت میں آئے گا (لوقا 1:17) اور یسوع نے متی 11:14 میں یوحنا کو ہی وہ ایلیاہ کہا۔ یعنی وعدہ کسی ہستی کے دوبارہ جنم لینے کا نہیں تھا، بلکہ اُسی خدمت کے دوبارہ ظاہر ہونے کا تھا جو دلوں کو خدا کی طرف پھیرتی ہے۔
تبدیلِ ہیئت کے پہاڑ پر ایلیاہ کیوں موجود تھے؟
لوقا 9:30 میں موسیٰ اور ایلیاہ دونوں یسوع کے ساتھ باتیں کرتے دکھائے گئے ہیں۔ موسیٰ شریعت کا نمائندہ ہے اور ایلیاہ انبیا کا، اور دونوں مل کر گواہی دیتے ہیں کہ سارا پرانا عہد نامہ مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ لوقا خاص طور پر بتاتا ہے کہ اُن کی گفتگو یسوع کے اُس کوچ کے بارے میں تھی جو یروشلیم میں پورا ہونا تھا، یعنی صلیب۔ پھر دونوں چلے گئے اور یسوع اکیلا رہ گیا، کیونکہ آخری اور کامل کلام وہی ہے۔
ایلیاہ نے خدا سے اپنی موت کیوں مانگی؟
کرمل کی زبردست فتح کے فوراً بعد ایزبل کی دھمکی آئی، اور ایلیاہ ڈر کر جنوب کی طرف بھاگ گیا۔ ۱-سلاطین 19:4 میں وہ جھاؤ کے درخت کے نیچے بیٹھ کر خدا سے اپنی جان لینے کی درخواست کرتا ہے۔ اِس کے پیچھے کئی چیزیں تھیں: جسمانی تھکن، نیند اور خوراک کی کمی، شدید تنہائی، اور یہ مایوسی کہ قوم مستقل طور پر نہیں بدلی۔ خدا کا جواب قابلِ غور ہے: پہلے خوراک اور آرام، پھر ملاقات، پھر نیا کام۔ روحانی مایوسی خدا کے بندوں کے لیے اجنبی چیز نہیں۔
یعقوب 5:17 ایلیاہ کی مثال کیوں دیتا ہے؟
یعقوب دعا کی طاقت پر بات کر رہا تھا اور اُسے یہ خطرہ نظر آیا کہ لوگ سوچیں گے کہ ایسی دعائیں صرف غیر معمولی لوگوں کے لیے ہیں۔ اِس لیے اُس نے لکھا کہ ایلیاہ ہماری طرح دکھ سکھ کا شریک ایک انسان تھا جس نے دل سے دعا کی، اور ساڑھے تین برس بارش نہ ہوئی۔ یعنی فرق دعا کرنے والے کے درجے میں نہیں، اُس خدا میں ہے جو سنتا ہے۔ یہ آیت ہر عام مسیحی کو دعا کے لیے ہمت دیتی ہے۔
ایلیاہ اور الیشع کا رشتہ کیسا تھا؟
ہوریب پر خدا کے حکم کے بعد ایلیاہ نے الیشع کو ہل چلاتے ہوئے بلایا اور اپنی چادر اُس پر ڈال دی۔ اِس کے بعد الیشع کئی سال اُس کا خادم اور شاگرد رہا۔ جدائی کے دن الیشع نے تین بار پیچھے رہنے سے انکار کیا اور ایلیاہ کی روح کا دوہرا حصہ مانگا، جو موروثی وارث کے حق کی زبان تھی۔ ایلیاہ کے اٹھائے جانے کے بعد الیشع نے وہی چادر اٹھائی اور خدمت جاری رہی۔ یہ رشتہ ہمیں سکھاتا ہے کہ سچی خدمت اپنے بعد کسی کو تیار کر کے جاتی ہے۔
اختتام میں
ایلیاہ کی زندگی کو صرف معجزوں کی فہرست بنا کر پڑھنا سب سے آسان غلطی ہے۔ آگ گری، بارش آئی، مُردہ زندہ ہوا، رتھ آیا؛ یہ سب سچ ہے اور یہ سب خدا کی قدرت کی گواہی ہے۔ مگر جو چیز اِس نبی کو ہمارے قریب لاتی ہے وہ آگ نہیں بلکہ وہ غار ہے جہاں ایک تھکا ہوا آدمی چادر میں منہ چھپا کر خدا کی سرگوشی سنتا ہے۔ وہاں ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ خدا اپنے بندے سے اُس کی کارکردگی کے بدلے محبت نہیں کرتا۔
اور یہی راستہ ہمیں مسیح تک لے جاتا ہے۔ کرمل پر آگ قربانی پر گری، اور صلیب پر عدالت ہمارے بدل پر آئی۔ ایلیاہ اٹھایا گیا، مگر یسوع اپنے اختیار سے آسمان پر گئے اور اپنی روح ہم پر ڈال دی۔ ایلیاہ کے ہاتھ میں چادر تھی؛ ہمارے پاس خود روح القدس ہے۔
اب ۱-سلاطین باب 17 سے ۲-سلاطین باب 2 تک ایک ہی نشست میں پڑھیے، اور خاص طور پر ۱-سلاطین باب 19 پر ٹھہریے۔ پھر یعقوب 5:13-18 پڑھ کر ایک چھوٹی، سچی، دل سے نکلی دعا کیجیے۔ ایلیاہ کا خدا آج بھی وہی ہے، اور آپ بھی ہماری طرح ایک انسان ہیں۔
