بائبل کی شخصیت

استفنس: کلیسیا کا پہلا شہید اور اُس کی گواہی

تعارف

یروشلیم کے باہر، شہرپناہ سے ذرا دُور، پتھروں کی بارش ہو رہی ہے۔ ایک نوجوان آدمی گھٹنوں کے بل گرا ہوا ہے، اُس کا چہرہ خون سے تر ہے، مگر اُس کی آنکھیں اوپر لگی ہیں۔ تھوڑی دُور ایک اور نوجوان کھڑا ہے، جس کے قدموں میں قاتلوں نے اپنی چادریں رکھ دی ہیں۔ وہ سنگسار ہونے والا استفنس ہے، اور چادروں کا نگہبان ساؤلِ ترسُسی ہے، جو ایک دن پولس رسول کہلائے گا۔ اُس لمحے میں ایسا لگتا ہے کہ کلیسیا ہار گئی اور ہجوم جیت گیا۔ مگر آسمان کی کہانی کچھ اور ہے۔ اِس صفحے پر ہم استفنس کی پوری زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: وہ کہاں سے آیا، اُس نے کیا خدمت کی، اُس نے کیا کہا جس پر لوگ طیش میں آ گئے، اور مرتے وقت اُس نے آسمان میں کیا دیکھا، ایسی تفصیل کے ساتھ کہ آپ کو محسوس ہو کہ آپ اُس صحن میں خود کھڑے ہیں۔

اس رہنما کا زاویہ

اِس تحریر کا مرکز ایک ہی لفظ ہے: "کھڑا ہوا"۔ پورے نئے عہدنامے میں خداوند یسوع مسیح آسمان پر خدا کی دہنی طرف "بیٹھے" ہوئے بیان کیے جاتے ہیں، کیونکہ اُن کا کفّارے کا کام پورا ہو چکا۔ مگر اعمال 7:55 میں استفنس اُنہیں کھڑے ہوئے دیکھتا ہے۔ ہم استفنس کی زندگی کو اِسی زاویے سے پڑھیں گے: ایک گمنام میز کے خادم کی خدمت سے لے کر سنگساری کے گڑھے تک، ہر قدم پر یہ سوال کہ آسمان اِس آدمی کو کیسے دیکھ رہا ہے۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ ہم میں سے اکثر اپنی خدمت اور اپنی قیمت زمین کی عدالت سے ناپتے ہیں، جبکہ فیصلہ وہاں ہوتا ہے جہاں خداوند اپنے گواہ کے لیے اُٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔

بائبل استفنس کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

استفنس (اردو کتابِ مقدس میں عموماً "ستِفنُس") کا نام بائبل میں پہلی بار اعمال کی کتاب کے چھٹے باب میں آتا ہے، اور چند ہی صفحوں بعد وہ منظر سے چلا جاتا ہے۔ مگر یہ چند صفحے کلیسیا کی تاریخ کا رُخ بدل دیتے ہیں۔

اُس کی کہانی کسی عظیم مُبلّغانہ بلاوے سے نہیں، بلکہ ایک گھریلو جھگڑے سے شروع ہوتی ہے۔ ابتدائی یروشلیمی کلیسیا میں یونانی زبان بولنے والے یہودی مسیحیوں نے شکایت کی کہ روزمرّہ خیرات میں اُن کی بیوائیں نظرانداز ہو رہی ہیں۔ یہ کوئی روحانی بحث نہیں تھی؛ یہ روٹی، راشن اور انصاف کا مسئلہ تھا۔ رسولوں نے جواب میں کلیسیا کو ایک اصول دیا جو آج تک قائم ہے: اعمال 6:3 میں وہ کہتے ہیں، "پس اے بھائیو! اپنے میں سے سات نیک نام شخصوں کو چُن لو جو رُوح اور دانائی سے بھرے ہوئے ہوں کہ ہم اُنہیں اِس کام پر مقرر کریں۔" غور کیجیے کہ کھانا بانٹنے کے لیے بھی خدا کی کلیسیا نے کوئی معمولی معیار نہیں رکھا۔ "نیک نام"، یعنی جن کی گواہی اچھی ہو؛ "رُوح سے بھرے ہوئے"، یعنی جن کی زندگی پر رُوح القدس کا قبضہ ہو؛ اور "دانائی"، یعنی جو عملی معاملات کو سمجھداری سے سنبھال سکیں۔ خدا کے نزدیک میز کی خدمت بھی مقدّس خدمت ہے۔

جن سات کو چُنا گیا، اُن میں پہلا نام استفنس کا ہے، اور لوقا اُس کا تعارف ایک خاص جملے سے کراتا ہے: وہ "ایمان اور رُوح القدس سے معمور تھا" (اعمال 6:5)۔ اور پھر اعمال 6:8 میں وہ بات آتی ہے جو کسی خیرات بانٹنے والے سے کوئی توقع نہیں کرتا: "اور ستِفنُس فضل اور قوت سے بھرا ہوا لوگوں میں بڑے بڑے عجیب کام اور نشان ظاہر کرتا تھا۔" یہاں دو الفاظ ساتھ ساتھ کھڑے ہیں: فضل اور قوت۔ وہ قوت جو نشان دکھاتی ہے اور وہ فضل جو دل کو نرم رکھتا ہے۔ جہاں یہ دونوں جدا ہو جائیں، وہاں خدمت یا تو بے جان ہو جاتی ہے یا بے رحم۔

استفنس کی منادی نے یروشلیم کے ایک عبادت خانے میں بحث چھیڑ دی، اور اُس کے مخالفین "اُس دانائی اور رُوح کا جس سے وہ کلام کرتا تھا مقابلہ نہ کر سکے" (اعمال 6:10)۔ جو دلیل سے نہ جیت سکے، اُنہوں نے جھوٹے گواہ کھڑے کیے اور الزام لگایا کہ وہ ہیکل اور موسیٰ کی شریعت کے خلاف بولتا ہے۔ عدالت میں جب سب کی نظریں اُس پر جمیں تو "اُس کا چہرہ فرشتہ کا سا" دکھائی دیا (اعمال 6:15)۔ ملزم کے کٹہرے میں کھڑا آدمی اپنے منصفوں سے زیادہ روشن تھا۔

اعمال کا ساتواں باب استفنس کی صفائی ہے، مگر یہ صفائی سے زیادہ ایک تاریخی مقدمہ ہے۔ وہ ابرہام سے شروع کرتا ہے، یوسف اور موسیٰ سے ہوتا ہوا ہیکل تک آتا ہے، اور ثابت کرتا ہے کہ خدا کبھی کسی عمارت کا قیدی نہیں رہا: "لیکن خدا تعالیٰ ہاتھ کے بنائے ہوئے گھروں میں نہیں رہتا" (اعمال 7:48)۔ پھر اچانک تقریر کا لہجہ بدلتا ہے اور اعمال 7:51 میں تلوار چل جاتی ہے: "اے گردن کش اور دل اور کان کے نامختونو! تم ہمیشہ رُوح القدس کی مخالفت کرتے ہو۔ جیسے تمہارے باپ دادا کرتے تھے ویسے ہی تم بھی کرتے ہو۔" یہ کوئی نئی گالی نہیں تھی؛ یہ عین وہی الفاظ ہیں جو خدا نے بنی اسرائیل کے لیے پرانے عہدنامے میں استعمال فرمائے۔ استفنس اُن سے کہہ رہا ہے کہ تم شریعت کے محافظ نہیں، اُسی پرانی بغاوت کے وارث ہو۔

اِس کے بعد جو ہوا، وہ اِس صفحے کا دل ہے۔ ہجوم دانت پیسنے لگا، مگر اعمال 7:55 کہتی ہے: "مگر اُس نے رُوح القدس سے معمور ہو کر آسمان کی طرف غور سے دیکھا اور خدا کا جلال اور یسوع کو خدا کی دہنی طرف کھڑا ہوا دیکھا۔" شہر سے باہر گھسیٹے جاتے ہوئے، پتھروں کے نیچے، اُس نے دو دعائیں کیں۔ پہلی اپنے لیے: "اے خداوند یسوع! میری روح کو قبول کر" (اعمال 7:59)۔ اور دوسری اپنے قاتلوں کے لیے، اعمال 7:60 میں: "پھر گھٹنے ٹیک کر بڑی آواز سے چلایا کہ اے خداوند! یہ گناہ اُن کے ذمہ نہ لگا اور یہ کہہ کر سو گیا۔"

لوقا اِس موت کو ایک ہی لفظ میں سمیٹتا ہے: "سو گیا"۔ اور اگلی سطر، اعمال 8:1، بتاتی ہے کہ اِس نیند کے بعد کلیسیا میں طوفان آ گیا: "اور ستِفنُس کے قتل پر ساؤل بھی رضامند تھا۔ اُسی دن یروشلیم کی کلیسیا پر بڑا ظلم شروع ہوا اور رسولوں کے سوا سب کے سب یہودیہ اور سامریہ کے علاقوں میں تتر بتر ہو گئے۔"

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

استفنس اچانک آسمان سے نہیں ٹپکا۔ وہ ایک لمبے سلسلے کی کڑی ہے جو کتابِ مقدس کے بالکل شروع سے چلا آ رہا ہے۔ پہلا خون ہابل کا تھا، جسے اُس کے اپنے بھائی نے اِس لیے مارا کہ اُس کی قربانی قبول ہوئی تھی۔ اُس کے بعد نبیوں کی ایک قطار ہے: یرمیاہ کنوئیں میں، میکایاہ قید میں، ایسے لوگ جن کے بارے میں عبرانیوں 11 کہتا ہے کہ وہ سنگسار کیے گئے اور دنیا اُن کے لائق نہ تھی۔

مگر سب سے حیران کن مماثلت پرانے عہدنامے کے ایک کم معروف واقعے سے بنتی ہے۔ 2 تواریخ 24 میں یہوداہ کا کاہن زکریاہ خدا کی رُوح سے معمور ہو کر لوگوں کو اُن کی نافرمانی پر ٹوکتا ہے، اور وہ بادشاہ کے حکم سے اُسے ہیکل کے صحن میں سنگسار کر دیتے ہیں۔ مرتے وقت اُس کے آخری الفاظ یہ تھے کہ خداوند اِس کو دیکھے اور اِس کا بدلہ پوچھے۔ وہ انصاف کی پکار تھی، اور وہ جائز تھی۔ اب استفنس کو دیکھیے: وہی رُوح، وہی پیغام، وہی پتھر، مگر آخری الفاظ بالکل اُلٹے: "اے خداوند! یہ گناہ اُن کے ذمہ نہ لگا۔" درمیان میں کیا بدلا؟ صلیب۔ استفنس نے اُس سے سیکھا تھا جس نے کیلوں کے نیچے سے دعا کی: "اے باپ، اِن کو معاف کر کیونکہ یہ جانتے نہیں کہ کیا کرتے ہیں" (لوقا 23:34)۔ عبرانیوں 12:24 کہتا ہے کہ مسیح کا چھڑکاؤ کا خون ہابل کے خون سے بہتر بات کہتا ہے، اور استفنس کے ہونٹ اِسی بہتر بات کا پہلا گواہ ہیں۔

یہی سلسلہ مسیح میں اپنے کمال کو پہنچتا ہے اور پھر مسیح سے آگے بہتا ہے۔ خداوند یسوع نے اپنے پہاڑی وعظ میں پہلے ہی فرما دیا تھا، متی 5:11 میں: "جب میرے سبب سے لوگ تم کو لعن طعن کریں گے اور ستائیں گے اور ہر طرح کی بری باتیں تمہاری نسبت ناحق کہیں گے تو تم مبارک ہو گے۔" استفنس اِس آیت کا پہلا مکمل نمونہ ہے؛ اُس پر جھوٹے گواہوں نے ناحق الزام لگائے، بالکل ویسے ہی جیسے اُس کے آقا پر لگے تھے۔ اور جو مبارکبادی خداوند نے وعدہ فرمائی تھی، وہ استفنس کو پتھروں کے نیچے ہی مل گئی: کھُلا آسمان اور کھڑا ہوا نجات دہندہ۔

نئے عہدنامے کے آخر تک یہ دھارا بہتا رہتا ہے۔ مکاشفہ میں انطپاس کو "میرا وفادار گواہ" کہا گیا ہے، اور قربان گاہ کے نیچے اُن جانوں کا ذکر ہے جو کلامِ خدا کے سبب ماری گئیں۔ یونانی لفظ "مارتُس" کا مطلب ہی گواہ ہے؛ شہادت کوئی الگ درجہ نہیں، بلکہ گواہی کی انتہا ہے۔ پولس خود، جو اُس دن چادروں کا نگہبان تھا، بعد میں خداوند کے حضور اعتراف کرتا ہے: "اور جب تیرے شہید ستِفنُس کا خون بہایا جا رہا تھا تو میں بھی وہاں کھڑا تھا اور اِس بات سے رضامند تھا" (اعمال 22:20)۔ خدا کی نجات کی کہانی میں کوئی بہا ہوا خون ضائع نہیں جاتا۔

ان کی زندگی کا مرکز

استفنس کی پوری زندگی تین موڑوں پر کھڑی ہے، اور تینوں میں وہی سوال گونجتا ہے جو ہمارے زاویے کا مرکز ہے: آسمان اِس آدمی کو کیسے دیکھتا ہے؟

پہلا موڑ: میز کی خدمت کے لیے چُنا جانا۔ جب کلیسیا میں بیواؤں کی شکایت اُٹھی، تو استفنس کسی اسٹیج پر نہیں، بلکہ ایک انتظامی مسئلے میں کھینچا گیا۔ اعمال 6:3 کے مطابق اُسے روٹی بانٹنے کے کام پر مقرر کیا گیا۔ دنیا کی نظر میں یہ ترقی نہیں تھی؛ یہ ایک پس منظر کا کام تھا جس میں کوئی نام نہیں بنتا۔ مگر یہیں سے اُس کا راستہ شروع ہوا۔ جس شخص کو خدا نے بعد میں کلیسیا کا پہلا شہید اور پہلا ایسا گواہ بنایا جس نے ہیکل سے بڑی سچائی کھول کر بیان کی، اُس کی تربیت گاہ ایک کھانے کی قطار تھی۔ جو لوگ آج شکایت کرتے ہیں کہ اُن کی خدمت بہت چھوٹی ہے، اُنہیں یاد رکھنا چاہیے کہ آسمان میں عہدے زمین کے نقشے سے مختلف ہیں۔

دوسرا موڑ: عدالت میں سچ کہنا۔ استفنس پر الزام تھا کہ وہ ہیکل اور شریعت کا دشمن ہے۔ وہ چاہتا تو معذرت خواہانہ انداز میں اپنی جان بچا سکتا تھا۔ اِس کے بجائے اُس نے اسرائیل کی پوری تاریخ دہرائی اور ایک نمونہ دکھایا: جب بھی خدا نے کوئی نجات دہندہ بھیجا، قوم نے پہلے اُسے رد کیا۔ یوسف کو بھائیوں نے بیچا، موسیٰ کو قوم نے ٹھکرایا، نبیوں کو باپ دادا نے قتل کیا۔ پھر اعمال 7:51 میں اُس نے یہ نقشہ اپنے سامنے بیٹھے ہوئے منصفوں پر چسپاں کر دیا: "اے گردن کش اور دل اور کان کے نامختونو!" یہاں ایمانداری سے ایک بات کہنی چاہیے: یہ لہجہ نرم نہیں تھا، اور بہت سے پڑھنے والے سوچتے ہیں کہ کیا استفنس زیادہ سخت ہو گیا۔ کلام اُسے نہ تو سرزنش کرتا ہے نہ اُس کا دفاع کرتا ہے؛ لوقا صرف اتنا بتاتا ہے کہ وہ رُوح القدس سے معمور تھا۔ سچائی ہمیشہ خوشگوار نہیں ہوتی، اور ہر سخت بات محبت سے خالی نہیں ہوتی۔ جس آدمی کے آخری الفاظ معافی کی دعا ہوں، اُس کی سخت باتوں کو نفرت کہنا مشکل ہے۔

تیسرا موڑ: کھُلا آسمان اور کھڑا ہوا خداوند۔ جب فیصلہ ہو چکا اور ہجوم بے قابو ہو گیا، تو استفنس کی نظر اوپر اُٹھی۔ اعمال 7:55 کے مطابق اُس نے "خدا کا جلال اور یسوع کو خدا کی دہنی طرف کھڑا ہوا دیکھا"۔ یہی وہ تفصیل ہے جو اِس پورے بیان کو روشن کرتی ہے۔ کتابِ مقدس عموماً مسیح کو دہنی طرف بیٹھا ہوا بیان کرتی ہے، کیونکہ اُن کا کام پورا ہو چکا اور وہ تختِ شاہی پر متمکن ہیں۔ مگر یہاں وہ اُٹھ کھڑے ہیں۔ زمین کی عدالت نے استفنس کو مجرم ٹھہرایا، اور عین اُسی لمحے آسمان کی عدالت میں مُنصف اپنے گواہ کے لیے کھڑا ہو گیا۔ کچھ لوگ اِسے وکیل کا کھڑا ہونا کہتے ہیں، کچھ میزبان کا استقبال، کچھ بادشاہ کا اپنے سپاہی کو عزت دینا۔ تینوں معنی ایک ہی سچائی کی طرف اشارہ کرتے ہیں: استفنس اکیلا نہیں مرا۔ اور اعمال 7:60 کے بعد، جب لوقا لکھتا ہے کہ "یہ کہہ کر سو گیا"، تو موت کا سارا خوف اُس ایک فعل میں ختم ہو جاتا ہے۔

استفنس سے ہم کیا سیکھتے ہیں

پہلا سبق: چھوٹی خدمت میں بھی پورا رُوح کام کرتا ہے۔ استفنس کو کبھی رسول نہیں کہا گیا۔ اُس کے پاس کوئی بڑا منصب نہ تھا۔ وہ بیواؤں کا راشن سنبھالنے والا ایک خادم تھا جو "فضل اور قوت سے بھرا ہوا" تھا (اعمال 6:8)۔ یہ ترتیب اہم ہے: پہلے وفاداری، پھر قوت۔ خدا اُن ہاتھوں کو نشان دکھانے کے لیے استعمال فرماتا ہے جو پہلے برتن دھونے کو تیار ہوں۔ اگر آپ اپنی خدمت کو حقیر سمجھ کر چھوڑ بیٹھے ہیں، تو ممکن ہے آپ نے وہ دروازہ بند کیا ہو جس کے پیچھے خدا کا اصل بلاوا تھا۔

دوسرا سبق: سچائی اور معافی ایک ہی سانس میں رہ سکتی ہیں۔ ہم عموماً دو انتہاؤں میں رہتے ہیں۔ یا تو ہم سچ بولتے ہیں مگر دل میں کڑواہٹ لیے، یا ہم معاف کرتے ہیں مگر سچ کو دبا کر۔ استفنس نے اعمال 7:51 میں ایسا سچ بولا جو ہڈیوں تک اُترتا ہے، اور اعمال 7:60 میں ایسی دعا کی جو جہنم کے دروازے پر بھی رحم مانگتی ہے۔ یہ دونوں باتیں ایک ہی رُوح سے نکلیں۔ جو معافی کے لیے جھک سکے، وہی سچ کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے۔

تیسرا سبق: آپ کے بہائے ہوئے آنسو اور خون کا پھل آپ شاید نہ دیکھیں۔ استفنس نے اپنی آنکھوں سے صرف اتنا دیکھا کہ اُس کی منادی ناکام ہوئی، اُس کے مخالفین جیت گئے، اور کلیسیا تتر بتر ہو گئی۔ وہ یہ نہیں دیکھ سکا کہ اعمال 8:1 کی وہی بِکھراؤ انجیل کو سامریہ، فینیکے، کُپرُس اور انطاکیہ تک لے جائے گی، اور نہ یہ کہ چادروں کا وہ نگہبان نوجوان ایک دن غیرقوموں کا سب سے بڑا رسول بنے گا۔ خدا کی کھیتی میں دفن ہونا ضائع ہونا نہیں۔ آپ کی وفاداری کا پھل شاید آپ کے جنازے کے بعد پکے، مگر پکے گا ضرور۔

آئینہ

اب ایک لمحے کے لیے یروشلیم کو چھوڑیے اور اپنی زندگی میں آئیے۔ کیا آپ اپنی خدمت کو اِس لیے بوجھ سمجھتے ہیں کہ کسی نے اُسے سراہا نہیں؟ اتوار کو کرسیاں لگانا، بوڑھی خالہ کو گاڑی میں لانا، بچوں کی کلاس میں شور سہنا، دفتر میں ایمانداری سے حساب رکھنا۔ کوئی آپ کا نام نہیں لیتا۔ استفنس کا نام بھی تب تک کسی نے نہ لیا تھا جب تک وہ راشن بانٹتا رہا۔ مگر آسمان اُسے جانتا تھا، اور آسمان آپ کو جانتا ہے۔

اور کیا آپ کسی جگہ سچ بولنے سے ڈرتے ہیں؟ گھر میں جہاں سچ بولنے سے جھگڑا ہو گا، خاندان میں جہاں کسی رواج پر سوال اُٹھانا بغاوت سمجھا جائے گا، نوکری پر جہاں ایمانداری کی قیمت تنخواہ سے کٹتی ہے، اُس دوستی میں جہاں مسیح کا نام لیتے ہی ہنسی اُڑتی ہے۔ متی 5:11 میں خداوند نے جھوٹے الزامات کا ذکر یوں کیا جیسے وہ معمول کی بات ہو، نہ کہ کوئی غیرمتوقع حادثہ۔ اگر آپ مسیح کے سبب سے بدنام ہوئے ہیں، تو آپ کسی غلط راستے پر نہیں؛ آپ ایک پرانی اور معزز قطار میں کھڑے ہیں۔

اور شاید سب سے چُبھنے والا سوال یہ ہے: آپ کے ہاتھ میں کس کے خلاف پتھر ہے؟ وہ رشتہ دار جس نے آپ کی زمین دبا لی، وہ ساتھی جس نے آپ کو جھوٹا الزام دیا، وہ والد جس نے آپ کو بچپن میں زخمی کیا، وہ کلیسیائی بھائی جس کی زبان نے آپ کی عزت گرائی۔ استفنس کے پاس ہر حق تھا کہ وہ انصاف مانگتا، مگر اُس نے گھٹنے ٹیک کر کہا، "اے خداوند! یہ گناہ اُن کے ذمہ نہ لگا" (اعمال 7:60)۔ یہ کوئی فطری بڑائی نہیں تھی؛ یہ اُس فضل کا رِساؤ تھا جو اُس کے اندر بھرا ہوا تھا۔ معافی کوئی ایسی چیز نہیں جو آپ اپنی طاقت سے نچوڑیں۔ وہ اُس چشمے سے نکلتی ہے جو صلیب سے بہتا ہے۔ اگر آج آپ کا دل سخت ہے، تو پہلے معافی مانگنے کی کوشش نہ کیجیے؛ پہلے اُس کی طرف دیکھیے جو آپ کے لیے دہنی طرف کھڑا ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو استفنس کی کہانی سناتے وقت پتھروں سے شروع نہ کیجیے، بلکہ روٹی سے۔ اُنہیں بتائیے کہ پہلی کلیسیا میں کچھ بوڑھی خالائیں بھوکی رہ جاتی تھیں، اور یسوع کے لوگوں نے سات ایسے مددگار چُنے جو خدا سے محبت کرتے تھے اور کھانا بانٹنے میں ایمانداری سے کام کرتے تھے۔ اُن میں سے ایک کا نام استفنس تھا۔ پھر سمجھائیے کہ استفنس یسوع کے بارے میں اتنی خوبصورت باتیں بتاتا تھا کہ کچھ لوگ غصے میں آ گئے، کیونکہ وہ یسوع کو خدا کا بیٹا ماننا نہیں چاہتے تھے۔ آخر میں وہ حصہ آتا ہے جو بچوں کے دل میں سب سے گہرا بیٹھتا ہے: جب لوگ استفنس کو پتھر مار رہے تھے، تو خدا نے آسمان کھول دیا اور استفنس نے یسوع کو اپنے لیے کھڑے ہوئے دیکھا، اور اُس نے دعا کی کہ خدا اُن لوگوں کو معاف کر دے جو اُسے مار رہے تھے۔

چھوٹے بچوں کے لیے زور اِس پر رکھیے کہ یسوع اپنے دوستوں کو کبھی اکیلا نہیں چھوڑتے۔ بڑے بچوں سے اِس بات پر بات کیجیے کہ سچ بولنا کبھی مہنگا پڑتا ہے، اور معاف کرنا کمزوری نہیں بلکہ سب سے بڑی طاقت ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ آپ ساؤل کا ذکر بھی کر سکتے ہیں اور پوچھ سکتے ہیں کہ خدا کسی دشمن کو بھی کیسے بدل سکتا ہے۔ Faith.network پر اِسی موضوع پر عمر کے مطابق الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال)، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے، تاکہ آپ اپنے بچے کی سمجھ کے مطابق یہ کہانی سنا سکیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

استفنس کون تھا؟

استفنس یروشلیم کی پہلی کلیسیا کا ایک یونانی بولنے والا یہودی مسیحی تھا، جسے اُن سات آدمیوں میں چُنا گیا جو بیواؤں کی روزمرّہ خیرات سنبھالنے پر مقرر ہوئے۔ اعمال 6:5 اُسے "ایمان اور رُوح القدس سے معمور" بتاتا ہے، اور اعمال 6:8 کے مطابق وہ فضل اور قوت سے بھرا ہوا نشان اور عجیب کام دکھاتا تھا۔ اُس کی منادی کی وجہ سے اُس پر ہیکل اور شریعت کے خلاف بولنے کا جھوٹا الزام لگا، اور صدرِ عدالت کے سامنے اپنی تقریر کے بعد اُسے شہر کے باہر سنگسار کر دیا گیا۔

استفنس کو شہید کیوں کیا گیا؟

ظاہری وجہ یہ تھی کہ جھوٹے گواہوں نے اُس پر موسیٰ اور ہیکل کی توہین کا الزام لگایا۔ اصل وجہ اُس کی تقریر کا نتیجہ تھی: اُس نے دکھایا کہ خدا کسی عمارت میں قید نہیں اور اسرائیل کی تاریخ خدا کے بھیجے ہوئے نجات دہندوں کو رد کرنے کی تاریخ ہے، اور پھر اعمال 7:51 میں اپنے منصفوں کو "گردن کش اور دل اور کان کے نامختون" کہا۔ یہ سن کر ہجوم بے قابو ہو گیا اور اُس نے استفنس کو شہر سے باہر گھسیٹ کر سنگسار کر دیا۔

کیا استفنس واقعی کلیسیا کا پہلا شہید تھا؟

جی ہاں، نئے عہدنامے میں مسیح کے بعد وہ پہلا ایمان دار ہے جس کی موت مسیح کی گواہی دینے کے سبب بیان کی گئی ہے۔ پولس خود اعمال 22:20 میں اُسے "تیرے شہید ستِفنُس" کہہ کر پکارتا ہے۔ البتہ یاد رہے کہ خدا کے لیے جان دینے والوں کا سلسلہ ہابل سے شروع ہوتا ہے اور نبیوں تک پھیلا ہوا ہے؛ استفنس اُس پرانی قطار کا نیا سرا ہے، یعنی نئے عہد کی کلیسیا کا پہلا گواہ جس نے اپنی گواہی خون سے مہر کی۔

استفنس نے مرتے وقت یسوع کو کھڑا ہوا کیوں دیکھا؟

یہی اِس پورے بیان کی سب سے خوبصورت تفصیل ہے۔ عام طور پر کلامِ مقدس خداوند یسوع مسیح کو خدا کی دہنی طرف بیٹھا ہوا بیان کرتا ہے، کیونکہ کفّارے کا کام مکمل ہو چکا۔ مگر اعمال 7:55 میں استفنس اُنہیں "کھڑا ہوا" دیکھتا ہے۔ مفسر اِسے تین طرح سمجھاتے ہیں: وکیل اپنے مؤکل کی پیروی کے لیے کھڑا ہوا، میزبان اپنے مہمان کے استقبال کے لیے، اور بادشاہ اپنے وفادار گواہ کو عزت دینے کے لیے۔ نتیجہ ایک ہی ہے: زمین نے اُسے رد کیا، آسمان اُس کے لیے اُٹھ کھڑا ہوا۔

کیا استفنس ڈیکن یعنی خادم تھا؟

اعمال 6 میں لفظ "ڈیکن" بطور عہدہ استعمال نہیں ہوا، لیکن خدمت کے لیے جو فعل استعمال ہوا ہے وہ اُسی جڑ سے ہے، اِس لیے کلیسیا روایتی طور پر اِن سات کو پہلے خادم یا ڈیکن مانتی ہے۔ اعمال 6:3 بتاتا ہے کہ اُنہیں نیک نامی، رُوح سے معموری اور دانائی کی بنا پر چُنا گیا، یعنی عملی خدمت کے لیے بھی روحانی معیار ضروری تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ استفنس اور فِلپُّس دونوں میز کی خدمت سے نکل کر زبردست منادی کرنے والے بنے۔

اعمال 7 میں استفنس کی تقریر اتنی لمبی کیوں ہے؟

کیونکہ وہ محض اپنی صفائی نہیں دے رہا تھا بلکہ ایک پوری دلیل تعمیر کر رہا تھا۔ اُس پر الزام تھا کہ وہ موسیٰ اور ہیکل کا دشمن ہے، اِس لیے اُس نے ابرہام سے لے کر سلیمان تک کی تاریخ دہرا کر ثابت کیا کہ خدا ہمیشہ اپنے لوگوں کے ساتھ سفر میں رہا ہے، خیمے میں اور بیابان میں، اور یہ کہ "خدا تعالیٰ ہاتھ کے بنائے ہوئے گھروں میں نہیں رہتا" (اعمال 7:48)۔ لوقا نے یہ تقریر پوری درج کی کیونکہ یہ اعمال کی کتاب میں انجیل کے یروشلیم سے نکل کر دنیا تک پھیلنے کی بنیاد رکھتی ہے۔

ساؤل یعنی پولس رسول کا استفنس کی موت سے کیا تعلق ہے؟

اعمال 7:58 بتاتا ہے کہ گواہوں نے اپنے کپڑے "ساؤل نام ایک جوان کے پاؤں کے پاس" رکھ دیے، اور اعمال 8:1 صاف کہتا ہے کہ "ستِفنُس کے قتل پر ساؤل بھی رضامند تھا"۔ یعنی وہی شخص جو بعد میں غیرقوموں کا رسول بنا، اُس دن قاتلوں کے ساتھ کھڑا تھا۔ برسوں بعد پولس نے خود یہ بات بطور اعتراف دہرائی (اعمال 22:20)۔ بہت سے ایمان داروں کا خیال ہے کہ استفنس کی معافی کی دعا کا پہلا جواب پولس کی تبدیلی تھی۔

کیا استفنس کی موت قانونی سزا تھی یا ہجوم کا تشدد؟

بیان میں دونوں کی ملاوٹ نظر آتی ہے۔ مقدمہ باقاعدہ صدرِ عدالت میں شروع ہوا، گواہ پیش ہوئے، اور ملزم کو صفائی کا موقع ملا۔ مگر فیصلے کے لمحے میں کارروائی ہاتھ سے نکل گئی: لوگ دانت پیسنے لگے، کان بند کر لیے، شور مچاتے ہوئے اُس پر ٹوٹ پڑے اور اُسے شہر سے باہر گھسیٹ کر سنگسار کر دیا۔ رومی حکومت کے تحت یہودی عدالت کو سزائے موت دینے کا اختیار عموماً حاصل نہ تھا، اِس لیے یہ واقعہ زیادہ تر مشتعل ہجوم کی کارروائی سمجھا جاتا ہے۔

"یہ گناہ اُن کے ذمہ نہ لگا" کا مطلب کیا ہے؟

اعمال 7:60 کے یہ الفاظ ایک عدالتی تصویر ہیں: استفنس دعا کرتا ہے کہ یہ جرم اُس کے قاتلوں کے کھاتے میں درج نہ کیا جائے۔ وہ اُن کے گناہ کو چھوٹا نہیں کہہ رہا، بلکہ اُس کی سزا کا مطالبہ چھوڑ رہا ہے اور معاملہ خدا کے رحم کے حوالے کر رہا ہے۔ یہ دعا خداوند یسوع کی صلیبی دعا کی گونج ہے (لوقا 23:34) اور اِس بات کا ثبوت کہ فضل صرف ایک تعلیم نہیں، بلکہ ایک ایسی طاقت ہے جو مرتے ہوئے آدمی کے ہونٹوں پر بھی کام کرتی ہے۔

استفنس کے نام کا مطلب کیا ہے؟

یونانی میں "ستِفانوس" کا مطلب ہے تاج یا سہرا، یعنی وہ اِکلیل جو دوڑ جیتنے والے کے سر پر رکھی جاتی تھی۔ یہ ایک حیرت انگیز مناسبت ہے، کیونکہ نئے عہدنامے میں وفاداری کے انعام کو بار بار "زندگی کا تاج" کہا گیا ہے۔ جس آدمی کے نام کا مطلب تاج تھا، اُس نے زمین پر پتھر پائے اور آسمان پر اپنے خداوند کو اپنے استقبال کے لیے کھڑا ہوا دیکھا۔ نام اتفاق ہو سکتا ہے، مگر پیغام بالکل واضح ہے۔

استفنس کا چہرہ فرشتے کا سا کیوں دکھائی دیا؟

اعمال 6:15 کہتا ہے کہ عدالت میں بیٹھے سب لوگوں نے اُس پر غور سے نظر کی "تو اُس کا چہرہ فرشتہ کا سا دیکھا"۔ یہ وہی نشان ہے جو موسیٰ کے چہرے پر سینا سے اُترتے وقت تھا: خدا کے حضور میں رہنے والے پر خدا کے جلال کی جھلک آ جاتی ہے۔ جن لوگوں نے اُس پر موسیٰ کی توہین کا الزام لگایا تھا، اُنہیں خدا نے عین اُسی لمحے موسیٰ جیسا نشان دکھا دیا۔ یہ ملزم کی بے گناہی پر آسمانی مہر تھی۔

کیا ہر مسیحی کو شہید ہونا پڑے گا؟

نہیں۔ کتابِ مقدس کہیں یہ نہیں سکھاتی کہ نجات یا کمال شہادت سے مشروط ہے؛ نجات صرف خداوند یسوع مسیح کے فضل سے ایمان کے وسیلے ملتی ہے۔ البتہ خداوند نے صاف فرمایا کہ اُن کے پیروکاروں کو اُن کے نام کے سبب لعن طعن اور ستایا جانا ملے گا (متی 5:11)۔ اِس لیے سوال یہ نہیں کہ ہم مریں گے یا نہیں، بلکہ یہ کہ کیا ہم روزمرّہ زندگی میں اُن کے گواہ ہیں۔ شہادت گواہی کی انتہا ہے، مگر گواہی کی شروعات آج، اپنی زبان اور اپنے معاملات سے ہوتی ہے۔

استفنس کی موت سے کلیسیا کو کیا فائدہ ہوا؟

ظاہری طور پر نقصان ہی نقصان تھا: اعمال 8:1 کے مطابق اُسی دن یروشلیم کی کلیسیا پر بڑا ظلم شروع ہوا اور ایمان دار یہودیہ اور سامریہ میں تتر بتر ہو گئے۔ مگر لوقا بعد میں بتاتا ہے کہ یہی بِکھرے ہوئے لوگ فینیکے، کُپرُس اور انطاکیہ تک پہنچے اور وہیں پہلی غیرقومی کلیسیا قائم ہوئی (اعمال 11:19 سے آگے)۔ یعنی جس پتھراؤ نے کلیسیا کو توڑنا چاہا، اُسی نے انجیل کے بیج دُور دُور تک بکھیر دیے۔

اختتام میں

استفنس کی کہانی ہمیں یہ نہیں سکھاتی کہ وفاداری ہمیشہ محفوظ رکھتی ہے۔ وہ سنگسار ہوا، نوجوان تھا، کلیسیا کو اُس کی ضرورت تھی، اور پھر بھی خدا نے اُسے نہیں بچایا۔ مگر خدا نے کچھ اور کیا: اُس نے آسمان کھول دیا۔ جس لمحے زمین کی عدالت نے فیصلہ سنایا، اُسی لمحے استفنس نے دیکھا کہ خداوند یسوع مسیح دہنی طرف کھڑے ہیں، گویا اُس کے لیے گواہی دینے اور اُس کا استقبال کرنے کو تیار۔ یہی اِس پورے صفحے کا زاویہ ہے اور یہی اُس کا پیغام: مسیح کے گواہ کبھی اکیلے نہیں مرتے، اور اُن کا کھویا ہوا کچھ بھی ضائع نہیں جاتا۔

اگر آپ آگے مطالعہ کرنا چاہیں تو اعمال کے چھٹے اور ساتویں باب کو ایک ہی نشست میں آہستہ آہستہ پڑھیے، اور ساتھ میں لوقا 23 کھول کر دیکھیے کہ شاگرد کے آخری الفاظ اپنے آقا کے آخری الفاظ سے کتنے ملتے ہیں۔ پھر اعمال 8:1 سے اعمال 11 تک چلیے اور گنتے جائیے کہ خدا نے اُس ایک موت سے کتنے شہر جیت لیے۔ اور آخر میں ایک سوال اپنے دل سے پوچھیے: اگر آج آسمان کھل جائے، تو کیا میرا خداوند مجھے اپنی خدمت میں، اپنی سچائی میں اور اپنی معافی میں وفادار پائے گا؟

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.392 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

7.199
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 6 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

دعا ادارتی کو عبدیاہ 1:16

اے خدا، تیرے سامنے قومیں بھی مٹی کی مانند ہیں اور ہماری ساری شیخی ایک دن ہوا میں تحلیل ہو…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 14:30

یسوع جانتے تھے کہ گرفتاری کی گھڑی قریب ہے، پھر بھی اُنہوں نے کہا، ”اِس دنیا کا حکمران آ رہا…

شکرگزاری ادارتی کو ہوسیع 5:10

خداوند، شکر ہے کہ تُو خاموش تماشائی نہیں۔ جب لوگ "زمین کی حدود کے پتھر کھسکا" کر کمزوروں کا حق…

بصیرت ادارتی کو غزلُ الغزلات 6:4

میری محبوبہ، تُو تِرضہ کی طرح خوبصورت، یروشلم کی طرح من موہن اور عَلَموں سے آراستہ لشکر کی طرح رُعب…

دعا ادارتی کو لوقا 1:44

اے خدا، جب تیری قربت کی آہٹ آتی ہے تو دل کے اندر کچھ جاگ اٹھتا ہے۔ میری سنی ان…

بصیرت ادارتی کو روت 2:11

بوعز کہتا ہے، ”مجھے سب کچھ بتایا گیا ہے جو تُو نے اپنے شوہر کی موت کے بعد اپنی ساس…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟