لعزر کون تھا؟ اُس کا جی اٹھنا اور یسوع کی قدرت
تعارف
بیت عنیاہ کے ایک گھر میں چار دن سے ماتم ہو رہا تھا۔ دروازے پر پڑوسی آ جا رہے تھے، آنگن میں رونے کی آوازیں تھیں، اور قبر کے منہ پر ایک بھاری پتھر رکھا جا چکا تھا۔ گھر کا اکلوتا بھائی مر چکا تھا، اور جس دوست کو بہنوں نے بلایا تھا وہ وقت پر نہ پہنچا۔ پھر وہ آیا۔ اور جو کچھ اُس نے کیا، اُس نے نہ صرف ایک قبر کھولی بلکہ یروشلیم کی سیاست ہلا دی اور خود اُس کی اپنی موت کا فیصلہ پکا کر دیا۔
اِس صفحے پر ہم لعزر کی پوری کہانی ترتیب سے دیکھیں گے: ایک بیمار آدمی، ایک مُردہ آدمی، ایک زندہ کیا گیا آدمی، اور پھر ایک ایسا آدمی جس کی زندگی ہی دشمنوں کے لیے خطرہ بن گئی۔ اور ہم دیکھیں گے کہ یہ سب کچھ آپ کی اپنی قبر اور آپ کی اپنی اُمید سے کیا تعلق رکھتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
انجیل میں لعزر ایک لفظ بھی نہیں بولتا۔ نہ بیماری میں، نہ قبر سے نکلتے وقت، نہ اُس کھانے پر جہاں وہ خداوند کے ساتھ بیٹھا ہے۔ اُس کی گواہی اُس کی تقریر نہیں، اُس کا وجود ہے۔ اِسی لیے ہم اِس صفحے پر لعزر کو "خاموش گواہ" کے زاویے سے دیکھیں گے: وہ آدمی جس نے کچھ کیے بغیر سب کچھ پایا، اور جس کا محض زندہ ہونا اتنی زوردار منادی بن گیا کہ سردار کاہنوں نے اُسے بھی مار ڈالنے کا مشورہ کیا۔ یہ زاویہ ہمیں فضل کے مرکز تک لے جاتا ہے: نجات ہماری کارکردگی نہیں، مسیح کی آواز ہے۔
بائبل لعزر کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
لعزر کا تعارف ایک ہی جملے میں ہو جاتا ہے، اور وہ جملہ خوشی کا نہیں بلکہ بیماری کا ہے۔ یوحنا 11:1 میں لکھا ہے: "اور مریم اور اُس کی بہن مرتھا کے گاؤں بیت عنیاہ کا ایک شخص لعزر نام بیمار تھا۔" نام کے معنی ہی گویا پوری کہانی کا خاکہ ہیں، کیونکہ "لعزر" عبرانی "الیعزر" کی صورت ہے، یعنی "خدا میری مدد ہے"۔ ایسے آدمی کا پہلا تعارف بیماری سے ہوتا ہے جس کے نام میں مدد لکھی ہے۔ یہی بائبل کا انداز ہے: وہ ہمیں پہلے ہماری بے بسی دکھاتی ہے، پھر خدا کی مدد۔
بہنوں نے پیغام بھیجا، مگر غور کیجیے کہ اُنہوں نے کیا نہیں مانگا۔ یوحنا 11:3 کے مطابق "پس اُس کی بہنوں نے اُسے کہلا بھیجا کہ اَے خداوند دیکھ جسے تُو عزیز رکھتا ہے وہ بیمار ہے۔" نہ کوئی درخواست، نہ کوئی مطالبہ، صرف ایک حقیقت خداوند کے سامنے رکھ دی گئی۔ اور خداوند یسوع مسیح کا جواب حیران کن ہے: "یہ بیماری موت کی نہیں بلکہ خدا کے جلال کے لئے ہے تاکہ اُس کے وسیلہ سے خدا کے بیٹے کا جلال ظاہر ہو" (یوحنا 11:4)۔ پھر وہ جان بوجھ کر دو دن اَور وہیں ٹھہرے۔ محبت نے تاخیر کی۔ یہ وہ نکتہ ہے جس پر ہم میں سے اکثر ٹھوکر کھاتے ہیں: دیر کا مطلب بے پروائی نہیں۔
جب خداوند بیت عنیاہ پہنچے تو لعزر کو قبر میں چار دن ہو چکے تھے۔ مرتھا آگے بڑھی اور وہی کہا جو ہم سب کہتے ہیں: "اَے خداوند اگر تُو یہاں ہوتا تو میرا بھائی نہ مرتا" (یوحنا 11:21)۔ اِسی بات چیت کے بیچ میں وہ اعلان آتا ہے جو پوری انجیل کا ستون ہے۔ یوحنا 11:25 میں خداوند فرماتے ہیں: "قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔" دھیان دیجیے کہ خداوند یسوع مسیح نے یہ نہیں فرمایا کہ میرے پاس قیامت کا نسخہ ہے، یا میں قیامت کے دن تمہاری سفارش کروں گا۔ اُنہوں نے خود کو ہی قیامت قرار دیا۔ زندگی کوئی چیز نہیں جو مسیح دیتے ہیں؛ زندگی خود ایک شخص ہے جو ہمارے پاس آتا ہے۔
پھر وہ آیت آتی ہے جو پوری بائبل میں سب سے چھوٹی اور شاید سب سے گہری ہے۔ یوحنا 11:35: "یسوع کے آنسو بہنے لگے۔" وہ جانتے تھے کہ چند منٹ بعد لعزر زندہ نکل آئے گا، اور پھر بھی وہ روئے۔ خدا کا بیٹا موت کی قبر کے سامنے کھڑا ہو کر لاتعلق نہیں رہا۔ اُس سے پہلے کی آیت بتاتی ہے کہ اُن کے "دل میں نہایت ہی غم اور اضطراب ہوا" (یوحنا 11:33)۔ یہ غصہ اور غم ملا جلا ہے، موت کے خلاف ایک مقدّس بیزاری۔
اور پھر حکم۔ یوحنا 11:43: "یہ کہہ کر اُس نے بڑی آواز سے پکارا کہ اَے لعزر نکل آ۔" ایک نام اور دو لفظ۔ قبر میں پڑا ہوا آدمی نہ دعا کر سکتا تھا، نہ توبہ، نہ ایمان کا اقرار۔ اُس کی طرف سے کچھ بھی حصہ نہ تھا۔ صرف ایک آواز تھی جو موت کی سرحد پار کر گئی۔ اور "جو مَر گیا تھا وہ کفن سے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے نکل آیا" (یوحنا 11:44)۔ قبر سے نکلنے کے بعد بھی اُسے کھولنے کی ضرورت تھی، اور خداوند نے گرد کھڑے لوگوں سے فرمایا کہ اُسے کھولو اور جانے دو۔
زندگی اُس نے دی؛ کفن کھولنے کا کام جماعت کو سونپا گیا۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
لعزر کی قبر آسمان سے اچانک نہیں گری۔ پرانے عہدنامے میں خدا بار بار اپنی قوم کو یہ سکھاتا رہا کہ موت اُس کے لیے آخری دیوار نہیں۔ ایلیاہ نبی کی دعا پر صارپت کی بیوہ کا بیٹا جی اُٹھا، الیشع کے وسیلے سے شونیم کی عورت کا بیٹا زندہ ہوا، اور ایک مُردہ آدمی الیشع کی ہڈیوں کو چھو کر اُٹھ کھڑا ہوا۔ مگر ہر بار یہ قدرت نبی کی اپنی نہیں تھی، وہ دعا مانگتے تھے، وہ خدا سے التجا کرتے تھے۔ بیت عنیاہ میں کوئی التجا نہیں، صرف حکم ہے۔ یہی فرق ہمیں بتاتا ہے کہ قبر کے سامنے کون کھڑا ہے۔
حزقی ایل نبی کو خدا نے خشک ہڈیوں کی وادی دکھائی اور پوچھا کہ کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں۔ وہاں ایک پوری قوم قبروں میں پڑی تھی، جلاوطن، بے اُمید، بکھری ہوئی۔ خدا نے وعدہ کیا کہ وہ اپنی قبریں کھولے گا اور اپنی روح اُن میں ڈالے گا۔ بیت عنیاہ اُس وعدے کی چھوٹی سی مگر ٹھوس جھلک ہے: ایک قبر، ایک پتھر، ایک آواز، ایک زندہ آدمی۔ ایوب نے اپنی راکھ پر بیٹھ کر کہا تھا کہ اُس کا چھڑانے والا زندہ ہے اور آخر میں زمین پر کھڑا ہو گا؛ دانی ایل نے دیکھا کہ خاک میں سونے والوں میں سے بہت سے جاگ اُٹھیں گے۔ پرانا عہدنامہ قیامت کی اُمید رکھتا ہے، مگر اُسے دور، آخری دن میں رکھتا ہے۔ مرتھا بھی وہیں کھڑی تھی: وہ مانتی تھی کہ اُس کا بھائی آخری دن جی اُٹھے گا۔ خداوند یسوع مسیح نے اُس کی اُمید کو جھٹلایا نہیں، بلکہ اُسے اُٹھا کر اپنے اوپر رکھ دیا۔
انجیلوں میں اِس سلسلے کی تین سیڑھیاں ہیں۔ یائیر کی بیٹی ابھی بستر پر ہی تھی جب خداوند نے اُس کا ہاتھ پکڑا۔ نائن شہر کے بیوہ کے بیٹے کا جنازہ راستے میں تھا جب اُنہوں نے تابوت چھوا۔ اور لعزر چار دن سے قبر میں بند تھا، جہاں بوسیدگی شروع ہو چکی تھی؛ مرتھا نے خود کہا: "اَے خداوند اُس میں سے تو اب بدبو آتی ہے کیونکہ اُسے چار دن ہو گئے" (یوحنا 11:39)۔ موت جتنی گہری ہوتی گئی، خداوند کا اختیار اُتنا ہی واضح ہوتا گیا۔
لیکن سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ لعزر دوبارہ مرا۔ اُس کا کفن اُتارا گیا مگر دوبارہ پہنایا گیا۔ یسوع مسیح کے جی اُٹھنے میں کفن قبر ہی میں تہہ کیا ہوا رہ گیا اور پھر کبھی استعمال نہ ہوا۔ اِسی لیے پولس رسول مسیح کو "سونے والوں میں پہلا پھل" کہتے ہیں۔ لعزر کی واپسی اُسی پرانی زندگی میں تھی؛ مسیح کی قیامت ایک نئی مخلوق کا آغاز ہے۔ اور یہیں رومیوں 8:11 ہمیں شامل کر لیتا ہے: "اور اگر اُسی کا روح جس نے یسوع کو مُردوں میں سے جِلایا تم میں بسا ہُوا ہے تو جس نے مسیح یسوع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تمہارے فانی بدنوں کو بھی اپنے اُس روح کے وسیلہ سے زندہ کرے گا جو تم میں بسا ہُوا ہے۔" بیت عنیاہ کی وہی آواز، جو پتھر کے پار گئی تھی، آج ایمانداروں کے اندر روح القدس کی صورت میں بستی ہے۔
ان کی زندگی کا مرکز
لعزر کی زندگی تین لمحوں پر ٹکی ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں میں وہ خاموش ہے۔
پہلا لمحہ بیماری اور موت کا ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب خداوند کی محبت کا ثبوت اُس کی رفتار نہیں بلکہ اُس کا مقصد ہے۔ بہنوں نے کہلا بھیجا، خداوند نے سنا، اور پھر "جس جگہ تھا وہاں دو دن اَور ٹھہرا"۔ اِس دوران لعزر کی روح جسم سے جدا ہو گئی۔ یہاں ہمیں اُس کی سب سے بڑی کمزوری نظر آتی ہے، جو دراصل ہر انسان کی کمزوری ہے: وہ کچھ نہ کر سکا۔ وہ دیندار تھا، خداوند کا عزیز تھا، ایک محبت کرنے والے گھرانے کا فرد تھا، اور پھر بھی موت نے اُسے نہ چھوڑا۔ تقویٰ موت کے خلاف بیمہ نہیں۔
دوسرا لمحہ قبر کے منہ پر ہے۔ پتھر ہٹایا جاتا ہے، لوگ ناک پر ہاتھ رکھتے ہیں، اور خداوند آسمان کی طرف دیکھ کر باپ کا شکر ادا کرتے ہیں، پھر پکارتے ہیں: "اَے لعزر نکل آ" (یوحنا 11:43)۔ کلیسیا کے بزرگ آگسٹین نے لطیف بات کہی تھی کہ اگر خداوند نام نہ لیتے تو شاید ساری قبریں خالی ہو جاتیں۔ یہ بات اپنی جگہ، مگر اصل نکتہ یہ ہے کہ یہاں ایک مُردہ آدمی نے آواز سنی اور جواب دیا۔ یہ قدرتی طور پر ممکن نہیں؛ جو آواز بلاتی ہے وہی سننے کی طاقت بھی دیتی ہے۔ لعزر کی "کارکردگی" صرف اتنی تھی کہ وہ نکل آیا، اور وہ بھی اُسی قوت سے جو باہر سے آئی تھی۔ پھر خداوند نے مرتھا سے فرمایا: "کیا میں نے تجھ سے کہا نہ تھا کہ اگر تُو ایمان لائے گی تو خدا کا جلال دیکھے گی؟" (یوحنا 11:40)۔
تیسرا لمحہ وہ ہے جسے اکثر نظرانداز کیا جاتا ہے، حالانکہ یہی ہمارے زاویے کا دل ہے۔ یوحنا 12:1 بتاتا ہے: "پھر یسوع عیدِ فسح سے چھ روز پہلے بیت عنیاہ میں آیا جہاں لعزر تھا جسے یسوع نے مُردوں میں سے جلایا تھا۔" اُس شام مرتھا خدمت کرتی تھی، مریم نے عطر اُنڈیلا، اور لعزر خاموشی سے خداوند کے ساتھ دسترخوان پر بیٹھا تھا۔ وہ کچھ نہیں کہتا، مگر اُس کے کھانے پینے کا منظر ہی اتنا خطرناک تھا کہ لوگ جوق در جوق آنے لگے۔ یوحنا 12:10 میں یہ ہولناک جملہ ہے: "اور سردار کاہنوں نے لعزر کو بھی مار ڈالنے کا مشورہ کیا۔" سوچیے: ایک آدمی کا جرم صرف یہ ہے کہ وہ زندہ ہے۔ اُس نے کوئی وعظ نہیں دیا، کوئی تحریک نہیں چلائی؛ اُس کا سانس لینا ہی مسیح کی قدرت کا ناقابلِ تردید ثبوت تھا۔ مذہبی قیادت نے حقیقت کو ماننے کے بجائے ثبوت کو مٹانے کا فیصلہ کیا۔ اِس سے بڑی اندھے پن کی تصویر کم ہی ملے گی: جو قبر خالی کرے اُسے قتل کرو، اور جو قبر سے نکلے اُسے بھی۔
لعزر سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ کہ فضل کسی کی لیاقت نہیں دیکھتا۔ لعزر کی کہانی میں ایک بھی ایسی بات نہیں جو وہ اپنے لیے کر سکتا ہو۔ وہ بیمار پڑا، مر گیا، لپیٹا گیا، دفن ہوا، اور چار دن تک قبر میں رہا۔ جب خداوند آئے تو اُس کے پاس پیش کرنے کے لیے صرف بوسیدگی تھی۔ یہی آپ کی اور میری حالت تھی جب خدا نے ہم پر رحم کیا؛ افسیوں کی کتاب ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم قصوروں اور گناہوں کے سبب سے مُردہ تھے۔ مُردے خود کو نہیں جگاتے۔ اِسی لیے مسیحی زندگی کا پہلا سبق شکرگزاری ہے، فخر نہیں۔
دوسرا سبق یہ کہ خدا کی تاخیر اُس کی بے رُخی نہیں۔ بہنوں کے لیے وہ چار دن ناقابلِ فہم تھے، مگر اُنہی چار دنوں نے اِس معجزے کو ایسی شہادت بنا دیا جس پر کوئی اعتراض ممکن نہ رہا۔ اگر خداوند پہلے دن پہنچ جاتے تو لعزر شفا پاتا اور گاؤں خوش ہو جاتا؛ مگر اُس وقت کوئی یہ نہ کہتا کہ قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جب خدا آپ کی دعا کا جواب دیر سے دیتا ہے، تو ممکن ہے وہ آپ کو ایک چھوٹی راحت سے بچا کر ایک بڑی گواہی دینا چاہتا ہو۔ یہ آسان بات نہیں، اور بائبل اِسے آسان بنا کر پیش بھی نہیں کرتی، اِسی لیے وہ درمیان میں آنسوؤں کی آیت رکھتی ہے۔
تیسرا سبق خاموش گواہی کا ہے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ گواہی دینے کے لیے زبان، علم اور دلیری چاہیے۔ لعزر کے پاس ریکارڈ میں ایک جملہ بھی نہیں، پھر بھی یوحنا لکھتا ہے کہ بہت سے یہودی اُس کے سبب سے جا کر یسوع پر ایمان لائے۔ اُس کی تبدیل شدہ زندگی خود ایک دلیل تھی۔ جب ایک شرابی کا گھر بدل جائے، جب ایک کڑوا آدمی معاف کرنا سیکھ لے، جب ایک بے ایمان دکاندار سچ بولنے لگے، تو محلے میں قبر کے کھلنے کی آواز سنائی دیتی ہے۔
کبھی کبھی سب سے زوردار منادی محض زندہ رہنا ہوتی ہے۔
آئینہ
آپ کو اپنی زندگی کا وہ حصہ معلوم ہے جسے آپ نے چار دن سے نہیں، شاید چار سال سے، پتھر رکھ کر بند کر دیا ہے۔ وہ رشتہ جس کی بابت آپ کہہ چکے ہیں کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ وہ عادت جس سے آپ نے لڑنا چھوڑ دیا۔ وہ قرض، وہ شرمندگی، وہ بیماری، وہ تنہائی جس کا ذکر آپ دعا میں بھی نہیں کرتے کیونکہ آپ کو لگتا ہے کہ اب اُس میں سے بدبو آتی ہے۔ مرتھا نے یہی اعتراض کیا تھا، اور خداوند نے اُس کے اعتراض پر ناراض ہونے کے بجائے فرمایا کہ پتھر ہٹاؤ۔
یہ سوال آپ سے ہے: کیا آپ پتھر ہٹانے کو تیار ہیں؟ کیونکہ خدا عموماً وہاں کام کرتا ہے جہاں ہم اُسے دیکھنے دیتے ہیں۔ پتھر ہٹانا یعنی سچ بول دینا؛ کسی قابلِ اعتماد مسیحی بھائی یا بہن کے سامنے وہ بات رکھ دینا جو آپ نے برسوں سے دبا رکھی ہے؛ دعا میں اپنی اصل حالت بیان کر دینا، سجی سجائی عبادت نہیں۔
اور دوسری بات: آپ کے پاس شاید آج بھی کفن بندھا ہوا ہے۔ لعزر زندہ تو ہو گیا تھا مگر چل نہیں سکتا تھا، دیکھ نہیں سکتا تھا، گلے نہیں لگا سکتا تھا۔ بہت سے ایمان دار یہی زندگی گزار رہے ہیں: نئی زندگی مل چکی ہے مگر پرانے خوف، پرانی شرم اور پرانے الزام ابھی لپٹے ہوئے ہیں۔ خداوند نے وہ کفن خود نہیں کھولا؛ اُنہوں نے گرد کھڑے لوگوں سے کہا کہ اِسے کھولو اور جانے دو۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کو جماعت کی ضرورت ہے، اور کسی اور کو آپ کی۔ کسی تنہا، لپٹے ہوئے مسیحی کی طرف ہاتھ بڑھانا آج آپ کا کام ہو سکتا ہے۔ اور آخری بات: اگر مسیح نے آپ کو بلایا ہے تو آپ کا محض زندہ ہونا، آپ کا کام پر دیانت، آپ کا گھر میں صبر، آپ کا خرچ کرنے کا انداز، یہ سب خاموش منادی ہے جسے دنیا نظرانداز نہیں کر سکتی۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو لعزر کی کہانی سنانا آسان بھی ہے اور نازک بھی، کیونکہ اِس میں موت ہے۔ موت کو چھپانے کی ضرورت نہیں، مگر اُسے اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے؛ ہمیشہ اُس کے ساتھ یسوع کے آنسو اور یسوع کی آواز رکھیے۔ چھوٹے بچوں کو یوں بتایا جا سکتا ہے کہ یسوع کا ایک دوست تھا جس کا نام لعزر تھا۔ وہ بہت بیمار ہو گیا اور مر گیا، اور اُس کی بہنیں بہت روئیں۔ جب یسوع آئے تو وہ بھی روئے، کیونکہ وہ اپنے دوستوں کے دکھ میں شریک ہوتے ہیں۔ پھر یسوع نے اونچی آواز سے پکارا کہ لعزر نکل آ، اور لعزر زندہ ہو کر باہر آ گیا۔ یسوع موت سے بھی زیادہ طاقتور ہیں۔
سات سے بارہ سال کے بچوں کے ساتھ آپ آگے بڑھ کر یہ سوال کر سکتے ہیں کہ یسوع روئے کیوں جبکہ وہ جانتے تھے کہ لعزر زندہ ہو جائے گا، اور یہ کہ خدا کبھی کبھی انتظار کیوں کرواتا ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ یوحنا 11:25 کا اعلان اور یوحنا 12:10 کی سازش ایک ساتھ پڑھیے، اور پوچھیے کہ لوگ سچائی کا ثبوت دیکھ کر بھی اُسے کیوں مٹانا چاہتے ہیں۔
اگر آپ والدین، اتالیق یا اتوار اسکول کے استاد ہیں تو حوصلہ رکھیے: اِس موضوع پر عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں، تین سے چھ سال کے ننھے بچوں کے لیے سادہ کہانی کی صورت میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال و جواب کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے گہرے سوالات کے ساتھ۔ انہی سے مدد لیجیے اور اپنے بچوں کے ساتھ مل کر یہ باب پڑھیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
لعزر کون تھا؟
لعزر بیت عنیاہ کا رہنے والا ایک آدمی تھا، مرتھا اور مریم کا بھائی، اور خداوند یسوع مسیح کا قریبی دوست۔ یوحنا 11:1 اُسے پہلی بار بیمار حالت میں متعارف کراتا ہے۔ بیت عنیاہ یروشلیم سے تقریباً تین کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، اور ایسا لگتا ہے کہ خداوند یروشلیم آتے جاتے اِسی گھر میں قیام کرتے تھے۔ انجیل میں لعزر کا کوئی قول درج نہیں؛ ہم اُسے اُس کی بیماری، اُس کی موت، اُس کے جی اُٹھنے اور خداوند کے ساتھ ایک دسترخوان پر بیٹھنے سے پہچانتے ہیں۔
لعزر کا جی اٹھنا کس انجیل میں لکھا ہے؟
یہ واقعہ صرف یوحنا کی انجیل میں درج ہے، باب گیارہ میں پوری تفصیل کے ساتھ اور باب بارہ میں اُس کے نتائج کے ساتھ۔ متی، مرقس اور لوقا نے اِسے کیوں شامل نہیں کیا، اِس کی ایک معقول وجہ یہ سمجھی جاتی ہے کہ ابتدائی دنوں میں لعزر اور اُس کا گھرانہ خطرے میں تھا، کیونکہ یوحنا 12:10 کے مطابق سردار کاہن اُسے مار ڈالنے کا مشورہ کر چکے تھے۔ یوحنا نے اپنی انجیل سب سے بعد میں لکھی، جب یہ خطرہ باقی نہ رہا تھا۔
یسوع نے پہنچنے میں دو دن کی تاخیر کیوں کی؟
یوحنا صاف لکھتا ہے کہ خداوند نے خبر سننے کے باوجود دو دن اَور وہیں قیام کیا، اور اِسے بے پروائی نہیں بلکہ محبت کے ساتھ جوڑتا ہے۔ مقصد یوحنا 11:4 میں بیان ہوا ہے کہ یہ بیماری خدا کے جلال کے لیے ہے۔ اگر خداوند فوراً پہنچ جاتے تو ایک شفا ہوتی؛ تاخیر نے اُسے قیامت کی نشانی بنا دیا۔ خدا کی دیر اکثر اِس لیے ہوتی ہے کہ وہ ہماری توقع سے چھوٹی چیز دینے کے بجائے کچھ بہت بڑا دکھانا چاہتا ہے۔
یسوع کیوں روئے جب وہ جانتے تھے کہ لعزر زندہ ہو جائے گا؟
یوحنا 11:35 کے یہ تین لفظ، "یسوع کے آنسو بہنے لگے"، ہمیں بتاتے ہیں کہ خدا کا بیٹا ہمارے دکھ میں رسمی طور پر نہیں بلکہ سچ مچ شریک ہوتا ہے۔ آخری انجام کا علم موجودہ غم کو جھوٹا نہیں بنا دیتا۔ اِن آنسوؤں میں ماتم بھی ہے اور موت کے خلاف ایک مقدّس غصہ بھی، کیونکہ موت خدا کی اصل تخلیق کا حصہ نہیں بلکہ گناہ کا پھل ہے۔ اِسی لیے سوگوار مسیحی تسلی میں کھوکھلے فقرے نہیں، بلکہ ایک ہمدرد نجات دہندہ پاتے ہیں۔
"چار دن" کا ذکر بار بار کیوں آتا ہے؟
مرتھا نے یوحنا 11:39 میں خود کہا کہ لاش سے بدبو آنے لگی ہے کیونکہ چار دن ہو چکے ہیں۔ اُس زمانے کے کئی یہودی یہ خیال رکھتے تھے کہ تین دن تک روح جسم کے قریب منڈلاتی ہے، اِس لیے چوتھے دن کے بعد واپسی کا کوئی امکان نہیں سمجھا جاتا تھا۔ یوحنا یہ تفصیل اِسی لیے دہراتا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہہ سکے کہ لعزر بےہوش تھا یا موت مشکوک تھی۔ موت مکمل تھی، اِسی لیے معجزہ مکمل ہے۔
کیا لعزر دوبارہ مر گیا؟
جی ہاں۔ بائبل اُس کی دوسری موت کا ذکر نہیں کرتی، مگر اصول واضح ہے: لعزر کو نیا، غیر فانی بدن نہیں ملا تھا، بلکہ وہی پرانی زندگی واپس ملی تھی۔ اُسے دوبارہ بوڑھا ہونا اور مرنا تھا۔ یہی اُس کے اور خداوند یسوع مسیح کے جی اُٹھنے میں بنیادی فرق ہے۔ مسیح موت پر ہمیشہ کے لیے غالب آئے اور "سونے والوں میں پہلا پھل" بنے؛ لعزر اُس آنے والی حقیقت کا زندہ اشارہ تھا، اُس کی تکمیل نہیں۔
کیا لوقا 16 والا لعزر یہی شخص ہے؟
نہیں۔ لوقا کی انجیل کے سولہویں باب میں دولت مند آدمی اور لعزر نامی مسکین کی تمثیل ہے، جو بیت عنیاہ کے لعزر سے الگ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اُس تمثیل کے آخر میں یہ جملہ آتا ہے کہ اگر کوئی مُردوں میں سے بھی جی اُٹھے تو وہ نہ مانیں گے۔ یوحنا 12:10 میں ہم یہ پیشگوئی حرف بحرف پوری ہوتی دیکھتے ہیں: ایک آدمی واقعی مُردوں میں سے جی اُٹھا، اور لوگوں نے توبہ کرنے کے بجائے اُسے قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔
سردار کاہن لعزر کو کیوں مار ڈالنا چاہتے تھے؟
کیونکہ وہ ایک چلتا پھرتا ثبوت تھا۔ یوحنا 12:10 کے مطابق "سردار کاہنوں نے لعزر کو بھی مار ڈالنے کا مشورہ کیا"، اور اگلی آیت وجہ بتاتی ہے کہ اُس کے سبب سے بہت سے یہودی یسوع پر ایمان لا رہے تھے۔ قیادت کو اپنے مقام اور قوم کی سیاسی حفاظت کی فکر تھی۔ جب سچائی ہمارے مفادات سے ٹکرائے تو انسان کے پاس دو ہی راستے رہ جاتے ہیں: توبہ کرنا یا ثبوت مٹانا۔ اُنہوں نے دوسرا راستہ چنا۔
لعزر نے موت کے بعد کیا دیکھا، بائبل خاموش کیوں ہے؟
یہ انجیل کی سب سے حیران کن خاموشی ہے۔ لعزر نے چار دن موت کے پردے کے پیچھے گزارے، مگر یوحنا اُس سے ایک لفظ بھی نقل نہیں کرتا۔ وجہ یہ ہے کہ یوحنا کا مقصد مُردوں کی دنیا کا نقشہ کھینچنا نہیں بلکہ مسیح کا جلال دکھانا ہے۔ ہماری اُمید کسی کے تجربے پر نہیں بلکہ خداوند کے کلام پر قائم ہے۔ اِسی لیے آج بھی ایمان کی بنیاد کسی کے خواب یا بیان کردہ نظارے نہیں، بلکہ وہ ہیں جو خود فرماتے ہیں کہ قیامت اور زندگی میں ہوں۔
یوحنا 11:25 کا کیا مطلب ہے؟
"قیامت اور زندگی تو میں ہوں۔ جو مجھ پر ایمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تو بھی زندہ رہے گا۔" اِس جملے کا سب سے اہم لفظ "میں" ہے۔ مرتھا کا ایمان ایک آنے والے دن پر تھا؛ خداوند نے اُس ایمان کو ایک شخص پر منتقل کر دیا۔ اِس کا عملی مطلب یہ ہے کہ ایمان دار کی موت اُس کے وجود کا خاتمہ نہیں بلکہ ایک دروازہ ہے، اور قبر اُس کا آخری پتہ نہیں۔ جو مسیح کے ساتھ جڑا ہے، اُس کی زندگی اُس سے زیادہ مضبوط ہے جتنی موت کی گرفت۔
رومیوں 8:11 کا لعزر کی کہانی سے کیا تعلق ہے؟
گہرا تعلق ہے۔ بیت عنیاہ میں وہ قدرت باہر سے ایک آواز کی صورت میں آئی تھی؛ رومیوں 8:11 کہتا ہے کہ وہی قدرت اب ایمان داروں کے اندر بستی ہے: "اور اگر اُسی کا روح جس نے یسوع کو مُردوں میں سے جِلایا تم میں بسا ہُوا ہے تو جس نے مسیح یسوع کو مُردوں میں سے جِلایا وہ تمہارے فانی بدنوں کو بھی اپنے اُس روح کے وسیلہ سے زندہ کرے گا"۔ یعنی لعزر کا جی اُٹھنا ایک استثنا نہیں، بلکہ ہر ایماندار کے لیے ایک وعدے کی پیشگی جھلک ہے۔
کیا آج بھی خدا مُردوں کو زندہ کر سکتا ہے؟
خدا کی قدرت میں کوئی کمی نہیں آئی، اور کلیسیا کی تاریخ میں ایسے واقعات کی گواہیاں موجود ہیں، مگر بائبل ایسے معجزوں کو عام قاعدہ نہیں بلکہ نشان قرار دیتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے بھی ہر قبر نہیں کھولی، صرف چند۔ ہماری روزمرہ اُمید کسی جسمانی معجزے کی توقع پر نہیں بلکہ اُس آخری قیامت پر ٹکی ہے جس کا وعدہ مسیح کے جی اُٹھنے سے پکا ہو چکا ہے۔ اِسی لیے مسیحی ماتم کرتے ہیں، مگر اُن کی طرح نہیں جن کو کوئی اُمید نہیں۔
اختتام میں
بیت عنیاہ کا وہ آدمی ہمیں کوئی تقریر نہیں دیتا، کوئی نصیحت نہیں کرتا، کوئی اصول نہیں سکھاتا۔ وہ صرف قبر سے نکلتا ہے، کفن کھلواتا ہے، اور پھر اپنے نجات دہندہ کے ساتھ کھانے پر بیٹھ جاتا ہے۔ اور یہی اُس کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ خاموش گواہ کا سبق یہ ہے کہ انجیل کا مرکز ہماری کارکردگی نہیں بلکہ مسیح کی آواز ہے، اور جب وہ آواز کسی مُردہ دل تک پہنچتی ہے تو زندگی کو روکا نہیں جا سکتا، چاہے سردار کاہن مشورہ ہی کیوں نہ کریں۔
اگر آپ اِس موضوع میں مزید گہرائی چاہتے ہیں تو یوحنا کا گیارہواں اور بارہواں باب ایک ہی نشست میں آہستہ آہستہ پڑھیے، اور ہر بار رُک کر پوچھیے کہ یہاں خداوند کی محبت کس شکل میں ظاہر ہوئی: تاخیر میں، آنسوؤں میں، حکم میں، یا دسترخوان پر۔ پھر رومیوں کا آٹھواں باب پڑھیے اور دیکھیے کہ وہی آواز آج روح القدس کے وسیلے سے آپ کے اندر بسی ہوئی ہے۔ اور آخر میں دعا میں ایک ہی سوال رکھ دیجیے: اَے خداوند، میری زندگی کا کون سا پتھر تُو آج ہٹانا چاہتا ہے؟
