مرقس 16
متن
ہفتے کا سبت ختم ہوتے ہی تین عورتیں مسالے لے کر قبر پر جاتی ہیں تاکہ لاش کو تیار کریں، لیکن پتھر ہٹا ہوا ملتا ہے اور ایک سفیدپوش نوجوان اعلان کرتا ہے: ”وہ جی اُٹھا ہے۔“ عورتیں سہمی ہوئی بھاگتی ہیں۔ اِس کے بعد عیسیٰ مریم مگدلینی، دو مسافروں، اور آخر میں گیارہ شاگردوں پر ظاہر ہوتا ہے، اُن کی بےاعتقادی کو ڈانٹتا ہے، اور اُنہیں پوری دنیا میں خوش خبری سنانے بھیج کر آسمان پر اُٹھا لیا جاتا ہے۔
مرکزی بات
یہ باب صرف قیامت کی خبر نہیں دیتا، بلکہ قیامت کے بعد کی حیرت انگیز سچائی کو بےنقاب کرتا ہے: خدا نے اپنے کلام کی گواہی اُن لوگوں کے ہاتھ میں دی جو خود یقین نہیں کر رہے تھے۔ عورتیں ڈر سے چپ ہو گئیں، شاگردوں کو مریم پر یقین نہ آیا، اور خداوند کو اُنہیں ”بےاعتقادی اور سخت دلی کے سبب سے“ ڈانٹنا پڑا۔ پھر بھی یہی لوگ گواہ بنائے گئے۔ یہاں نجات کی بنیاد انسانی جرأت یا یقین کی مضبوطی نہیں، بلکہ زندہ مسیح کا اقدام ہے۔ وہ خود ظاہر ہوتا ہے، خود بھیجتا ہے، اور خود ”کلام کی تصدیق“ کرتا ہے۔ ایمان مسیح کی جانب سے ایک تحفہ ہے، نہ کہ ہماری کارکردگی۔
مشترکہ دھاگا
مرقس نے اپنی انجیل باب 1 میں یوں شروع کی تھی: ”اللہ کے فرزند عیسیٰ مسیح کی خوش خبری کا آغاز۔“ اب آخری باب میں وہی خوش خبری ”پوری دنیا“ اور ”تمام مخلوقات“ تک پھیل جاتی ہے۔ جو بیج گلیل کے کنارے بویا گیا تھا، وہ اب پوری زمین کا درخت بننے جا رہا ہے۔ فرشتہ عورتوں کو گلیل واپس بھیجتا ہے، اُسی جگہ جہاں سب کچھ شروع ہوا تھا۔ یہ محض جغرافیائی حکم نہیں، بلکہ یاد دہانی ہے: قیامت کا مسیح وہی ہے جو بیمار چھو رہا تھا، بچوں کو گلے لگا رہا تھا، مچھیروں کو بلا رہا تھا۔ صلیب اور خالی قبر نے اُس کہانی کو منقطع نہیں کیا، بلکہ اُسے پوری دنیا کے لیے کھول دیا۔
آئینہ
غور کیجئے کہ یہاں جو لوگ سب سے پہلے مسیح کو زندہ دیکھتے ہیں، وہی سب سے زیادہ ٹوٹے ہوئے تھے: ایک عورت جس سے سات بدروحیں نکالی گئی تھیں، اور شاگرد جو ماتم اور آنسوؤں میں ڈوبے تھے۔ ہم اکثر سوچتے ہیں کہ خدا مضبوط، پُریقین، اور ”تیار“ لوگوں کو استعمال کرتا ہے۔ لیکن یہاں وہ اُن کے پاس آتا ہے جو کھانے کی میز پر بیٹھے مایوسی سے روٹی توڑ رہے ہیں۔ کیا آپ کے دل میں بھی وہ خاموش شرم ہے، کہ ”میں تو ایمان میں اتنا کمزور ہوں کہ مجھے خدا کیوں استعمال کرے“؟ یہ باب اُس شرم کو مسترد کرتا ہے۔ مسیح شک کرنے والوں کو ڈانٹتا ضرور ہے، مگر پھر اُنہی کو بھیجتا ہے۔ آپ کی بےاعتقادی خدمت سے آپ کو نااہل نہیں کرتی؛ صرف مسیح کی موجودگی ہی اہل بناتی ہے۔
تفصیل
آیت 7 میں ایک لفظ ہے جسے پڑھنے والا اکثر نظرانداز کر دیتا ہے: ”اُس کے شاگردوں اور پطرس کو بتا دو۔“ کیوں پطرس کو الگ سے نام لے کر ذکر کیا گیا؟ چند دن پہلے پطرس نے تین بار انکار کیا تھا کہ ”میں اِس آدمی کو نہیں جانتا۔“ وہ ٹوٹا ہوا تھا، شاید خود کو ”شاگرد“ کہنے کے لائق بھی نہ سمجھتا تھا۔ فرشتے کا یہ ایک اضافی لفظ گویا مسیح کا ذاتی پیغام ہے: ”پطرس کو خصوصی طور پر بتاؤ کہ وہ بھی شامل ہے۔“ خدا اُن ناموں کو الگ سے پکارتا ہے جو خود کو فہرست سے نکالے ہوئے سمجھتے ہیں۔ قیامت کا پہلا کام بحالی ہے، اجنبیوں کو رشتہ دار بنانا۔
بین المتنی گونج
مرقس 16 کا ”گلیل میں تم اُسے دیکھو گے“ سیدھا متی 28 سے جُڑتا ہے، جہاں پہاڑ پر مسیح ”آسمان و زمین کا سارا اختیار“ اعلان کرتا ہے۔ عورتوں کی خاموشی (”اُنہوں نے کسی کو بھی کچھ نہ بتایا“) لوقا 24 کے برعکس ہے، جہاں وہ فوراً شاگردوں کو خبر دیتی ہیں۔ یہ فرق مٹانے کی چیز نہیں؛ مرقس جان بوجھ کر ہمیں اُس ابتدائی صدمے میں چھوڑتا ہے، تاکہ ہم محسوس کریں کہ قیامت کوئی ہموار، منظم واقعہ نہیں تھا۔ ”اللہ کے دہنے ہاتھ بیٹھ گیا“ (آیت 19) زبور 110 کی وہی سطر ہے جسے عیسیٰ نے خود مرقس 12 میں اپنے بارے میں پیش کیا تھا: ”خداوند نے میرے خداوند سے کہا، میرے دہنے ہاتھ بیٹھ۔“ کہانی کا اختتام اُسی زبور کی تکمیل ہے جسے مسیح نے اپنی زبان سے کھولا تھا۔
سامعین کا پس منظر
پہلی صدی کے رومی سامعین کے لیے ”مصلوب شخص جی اُ
Mark 16 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
مرقس 16 کا کیا مطلب ہے؟
مرقس 16 کس بارے میں ہے؟
مرقس 16 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
مرقس 16 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
مرقس 16 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
کمیونٹی Mark 16 پر کیا شیئر کرتی ہے
اِس اقتباس پر قارئین اور ادارتی ٹیم کی بصیرتیں، دعائیں اور شکرگزاری۔
فرشتہ اُسے نئے نام سے نہیں پکارتا۔ وہ کہتا ہے، ”تم ناصرت کے عیسیٰ کو ڈھونڈ رہی ہو جو مصلوب ہوا تھا۔ وہ جی اُٹھا ہے۔“ یعنی جی اُٹھنے کے بعد بھی وہ وہی ہے جس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان ہیں۔ عورتیں خوشبو لے کر مُردے کے پاس آئی تھیں، اور اُنہیں خالی جگہ دکھائی گئی۔ تُو بھی کبھی اپنے دُکھ کو قبر میں ڈھونڈتا ہے جہاں سے مسیح کبھی کا نکل چکا ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے خوش خبری کو چند لوگوں تک محدود نہ رکھا بلکہ فرمایا، ”تمام دنیا میں جا کر کائنات کی تمام مخلوقات کو اللہ کی خوش خبری کا اعلان کرو۔“ اِسی حکم کی وجہ سے یہ پیغام ہم تک بھی پہنچا۔ شکر کہ تُو ہمیں بھی اِس خدمت کے لائق سمجھتا ہے۔
خداوند، شکر ہے کہ تُو نے اپنے شاگردوں کو اُن کی بےاعتقادی اور سخت دلی کے باوجود چھوڑ نہیں دیا، بلکہ خود اُن پر ظاہر ہوا جب وہ کھانا کھا رہے تھے۔ تیری ملامت بھی محبت سے بھری تھی۔ شکریہ کہ تُو میرے شک کے وقت بھی مجھے تلاش کرتا اور اپنے آپ کو دکھاتا ہے۔
وہ خوشبو لے کر آئی تھیں تاکہ ایک لاش کو تیار کریں، لیکن قبر کے اندر کوئی خاموشی سے بیٹھا تھا: "قبر میں داخل ہو کر اُنہوں نے دیکھا کہ ایک جوان آدمی دائیں طرف بیٹھا ہے جو سفید لباس پہنے ہوئے تھا۔" بیٹھنا آرام کی حالت ہے، کام مکمل ہونے کی نشانی۔ جہاں تُو ماتم کرنے آیا تھا، وہاں خدا پہلے سے سکون میں بیٹھا ہے۔ تیرا گھبرا جانا سمجھ میں آتا ہے، مگر ڈر کی ضرورت نہیں۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں
