یسعیاہ کی کتاب کا تعارف اور مسیحائی پیشین گوئیاں
تعارف
یروشلیم میں ایک جنازہ ہوا۔ عزیاہ بادشاہ، جس نے باون برس حکومت کی تھی، کوڑھ کے ساتھ الگ مکان میں مرا۔ لوگ سوچ رہے تھے: اب کیا ہوگا؟ شمال میں اسور کی فوجیں مضبوط ہو رہی تھیں، دربار میں سازشیں تھیں، ہیکل میں قربانیاں تو جاری تھیں مگر دل خالی تھے۔ اُسی سال ایک نوجوان ہیکل میں کھڑا تھا اور اُس نے وہ دیکھا جو کوئی اخبار نہیں چھاپ سکتا: ایک اور تخت، جو خالی نہیں ہوا تھا۔
یسعیاہ کی کتاب یہیں سے سانس لیتی ہے۔ یہ چھیاسٹھ بابوں کی ایک ایسی کتاب ہے جس میں عدالت کی گرج اور ماں جیسی تسلی ایک ساتھ ملتی ہیں، اور جس کے صفحوں پر مسیح کا چہرہ اتنا صاف نظر آتا ہے کہ کلیسیا نے اِسے "پانچویں انجیل" کہا۔
اِس صفحے پر آپ جانیں گے کہ یہ کتاب کس نے، کب اور کن حالات میں لکھی، اِس کی ساخت کیا ہے، اِس کے بڑے موضوعات کون سے ہیں، اور اِس کی مسیحائی پیشین گوئیاں کیسے یسوع مسیح میں پوری ہوئیں۔ آخر میں پڑھنے کا ایک عملی نقشہ بھی ملے گا۔
اس رہنما کا زاویہ
ہم یسعیاہ کو "پیشین گوئیوں کی فہرست" کی طرح نہیں پڑھیں گے، بلکہ دو تختوں کی کہانی کی طرح۔ اِس کتاب میں انسانی تخت ایک کے بعد ایک ہلتے ہیں: عزیاہ کا تخت موت سے خالی ہوتا ہے، آخز کا تخت خوف سے کانپتا ہے، حِزقیاہ کا تخت اسور کے خطوں سے لرزتا ہے، بابل کا تخت گرتا ہے، خورس کا تخت خدا کے ہاتھ میں اوزار بنتا ہے۔ اور اِن سب کے اوپر ایک تخت ہے جو نہ ہلتا ہے نہ خالی ہوتا ہے۔ حیرت یہ ہے کہ اُس تخت کا وارث ایک بچہ، ایک شاخ اور ایک زخمی خادم ہے۔ اِس زاویے سے پڑھیں تو یسعیاہ کی ہر مسیحائی آیت ایک ہی سوال کا جواب بن جاتی ہے: آخر میں تخت پر کون بیٹھا ہے؟
بائبل یسعیاہ کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
کتاب اپنا تعارف خود دیتی ہے۔ یسعیاہ 1:1 میں لکھا ہے کہ یہ "آموص کے بیٹے یسعیاہ کا رویا" ہے جو اُس نے یہوداہ اور یروشلیم کے بارے میں عزیاہ، یوتام، آخز اور حِزقیاہ کے دنوں میں دیکھا۔ یعنی خدمت کا زمانہ تقریباً 740 قبل مسیح سے لے کر 680 قبل مسیح کے قریب تک پھیلا ہوا ہے، کم و بیش پچاس سے ساٹھ سال۔ یسعیاہ یروشلیم کا باشندہ تھا، دربار تک رسائی رکھتا تھا، بادشاہوں سے آنکھ ملا کر بات کرتا تھا، شادی شدہ تھا اور اُس کے بیٹوں کے نام خود ایک پیغام تھے۔ اُس کا نام بھی پیغام ہے: "خداوند نجات ہے"۔
اِس نبی کی بنیاد وہ تجربہ ہے جو باب 6 میں بیان ہوا۔ عزیاہ کی موت کے سال اُس نے خداوند کو "ایک بلند تخت پر بیٹھا" دیکھا اور سرافیم کو پکارتے سنا: "قدوس قدوس قدوس ربُ الافواج ہے۔ ساری زمین اُس کے جلال سے معمور ہے۔" جواب میں یسعیاہ ٹوٹ گیا، اپنے ہونٹوں کی ناپاکی کا اقرار کیا، مذبح سے آئے ہوئے انگارے سے پاک ہوا، اور پھر وہ آواز آئی جو صدیوں سے مبلغوں، مشنریوں اور عام مسیحیوں کے دل میں گونجتی ہے۔ یسعیاہ 6:8 کہتا ہے: "پھر میں نے خداوند کی آواز سنی کہ میں کس کو بھیجوں اور کون ہماری طرف سے جائے گا؟ تب میں نے کہا میں حاضر ہوں مجھے بھیج۔" غور کریں: بھیجے جانے کی رضامندی تخت دیکھنے کے بعد آئی، پہلے نہیں۔ خدمت کی طاقت پہلے خدا کی قدوسیت کے سامنے پگھلنے سے پیدا ہوتی ہے۔
اِس کے فوراً بعد کتاب ہمیں ایک کانپتے ہوئے تخت کے پاس لے جاتی ہے۔ باب 7 میں آخز بادشاہ دو دشمن بادشاہوں کے اتحاد سے خوفزدہ ہے اور اسور سے مدد مانگنے کا سوچ رہا ہے۔ خدا اُسے نشان مانگنے کی دعوت دیتا ہے، وہ مذہبی عاجزی کے بہانے انکار کرتا ہے، اور خدا پھر بھی نشان دیتا ہے۔ یسعیاہ 7:14 میں لکھا ہے: "اِس لیے خداوند آپ تم کو ایک نشان بخشے گا۔ دیکھو ایک کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا پیدا ہوگا اور وہ اُس کا نام عمانوایل رکھے گی۔" یعنی "خدا ہمارے ساتھ"۔ سیاسی خوف کے عین بیچ میں خدا ایک بچے کا وعدہ دیتا ہے۔ متی 1:22-23 اِسی آیت کو یسوع کی پیدائش پر لاگو کرتا ہے، اور اِس طرح یسعیاہ کا نشان تاریخ کے سب سے بڑے واقعے کا اعلان بن جاتا ہے۔
پھر دو باب بعد وہ بچہ تخت پر بٹھایا جاتا ہے۔ یسعیاہ 9:6 اعلان کرتا ہے: "کیونکہ ہمارے لیے ایک لڑکا تولد ہوا اور ہمیں ایک بیٹا بخشا گیا اور سلطنت اُس کے کندھے پر ہوگی اور اُس کا نام عجیب مشیر خدائے قادر ابدیت کا باپ سلامتی کا شاہزادہ ہوگا۔" اگلی آیت میں کہا گیا ہے کہ وہ "داؤد کے تخت پر" سلطنت کرے گا اور اُس کی سلطنت کی کوئی انتہا نہ ہوگی۔ داؤد کا خاندان اُس وقت کمزور اور بےاعتبار تھا؛ خدا کا جواب یہ نہیں تھا کہ وہ خاندان بدل دے، بلکہ یہ کہ وہ خود اُس تخت پر آ بیٹھے۔
اور یہ سب اسی لیے قابلِ بھروسا ہے کہ خدا کا کلام خالی نہیں لوٹتا۔ یسعیاہ 55:11 کہتا ہے: "میرا کلام بھی جو میرے منہ سے نکلتا ہے ایسا ہی ہوگا۔ وہ بےانجام میرے پاس واپس نہ آئے گا بلکہ جو میری مرضی ہے اُسے پورا کرے گا اور اُس کام میں جس کے لیے میں نے اُس کو بھیجا ہے مؤثر ہوگا۔" یسعیاہ کی ساری پیشین گوئی اِسی ایک دعوے پر کھڑی ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یسعیاہ اکیلا نہیں کھڑا۔ وہ اُس دھاگے کو آگے بڑھاتا ہے جو پیدایش 3:15 میں عورت کی نسل کے وعدے سے شروع ہوا، ابرہام کے ساتھ عہد میں چوڑا ہوا، اور 2 سموئیل 7 میں داؤد سے کیے گئے وعدے میں تخت کی شکل اختیار کر گیا: تیرا گھر اور تیری سلطنت ابد تک قائم رہے گی۔ یسعیاہ کے دنوں میں یہی وعدہ سب سے بڑا مسئلہ بن گیا تھا، کیونکہ داؤد کی نسل کے بادشاہ بےایمانی، بت پرستی اور سیاسی سودے بازی میں ڈوبے ہوئے تھے۔ نبی نے وہ کیا جو ایمان کرتا ہے: اُس نے وعدے کو نہیں چھوڑا، بلکہ کہا کہ خدا خود اُسے پورا کرے گا۔
اِسی لیے یسعیاہ میں تصویریں ایک دوسرے پر تہ در تہ چڑھتی ہیں۔ عمانوایل کا بچہ، 9:6 کا شاہزادہ، 11:1 کی وہ کونپل جو "یسّی کے تنے" سے نکلتی ہے، 32 باب کا راستباز بادشاہ، اور پھر 40 سے 55 بابوں میں وہ "خادم" جس کے چار گیت ہیں۔ ابتدا میں لگتا ہے کہ خادم اسرائیل ہے، پھر معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک شخص ہے جو اسرائیل کو واپس لاتا ہے، اور آخرکار باب 53 میں یہ خادم قوم کے گناہ کا بوجھ اپنے اوپر اٹھا لیتا ہے۔ تخت کی راہ زخموں سے گزرتی ہے۔
نئے عہد نامے میں یہ سلسلہ کھل کر بہتا ہے۔ یسوع اپنی خدمت کا آغاز ناصرت کے عبادت خانے میں یسعیاہ 61:1 پڑھ کر کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سننے میں پورا ہوا (لوقا 4:16-21)۔ یوحنا اصطباغی کی خدمت کو انجیل نویس یسعیاہ 40:3 کی صدا کہتے ہیں۔ متی یسعیاہ 7:14 کو کنواری مریم پر لاگو کرتا ہے۔ خزانچی حبشی خصی یسعیاہ 53 پڑھ رہا تھا جب فلپس نے "اُسی نوشتے سے شروع کر کے اُسے یسوع کی خوشخبری سنائی" (اعمال 8:35)۔ پطرس اپنے پہلے خط میں 53 باب کے الفاظ صلیب پر چسپاں کرتا ہے۔ پولوس رومیوں میں یسعیاہ کے حوالوں سے یہ ثابت کرتا ہے کہ خدا نے غیرقوموں کو بھی اپنے میں شامل کیا۔ اور مکاشفہ 21 میں نیا آسمان اور نئی زمین، آنسوؤں کا پونچھا جانا اور موت کا نگل لیا جانا سب یسعیاہ 25 اور 65 کی گونج ہیں۔
یوحنا 12:41 ایک حیران کن جملہ لکھتا ہے: یسعیاہ نے یہ باتیں اِس لیے کہیں کہ اُس نے اُس کا جلال دیکھا اور اُس کی بابت کلام کیا۔ یعنی جو تخت یسعیاہ نے باب 6 میں دیکھا، انجیل نویس کے مطابق وہ مسیح کا جلال تھا۔ پرانا عہد نامہ وعدہ بولتا ہے، نیا عہد نامہ نام بتاتا ہے۔ دونوں کا مرکز ایک ہی ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
یسعیاہ کو سمجھنے کا سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اِسے تین بڑے حصوں میں دیکھا جائے۔ باب 1 سے 39 تک ہم اسور کے سائے میں ہیں: یہاں عدالت، ملامت، قوموں کے خلاف بوجھ، بت پرستی پر افسوس اور یروشلیم کے غرور پر "وائے" کی صدائیں ہیں، مگر اِن کے بیچ بیچ روشنی کے جھروکے بھی ہیں (باب 2، 9، 11، 12، 25، 35)۔ باب 40 سے 55 تک لہجہ بدل جاتا ہے: "تم میری قوم کو تسلی دو۔ تسلی دو۔" یہ حصہ جلاوطنی میں بیٹھی قوم سے بات کرتا ہے، بابل کے بتوں کا مذاق اڑاتا ہے، خدا کی تخلیقی قدرت گاتا ہے، اور خادم کے چار گیت پیش کرتا ہے۔ باب 56 سے 66 تک نظر آگے جاتی ہے: واپس آئی ہوئی قوم کے اندر بھی گناہ ہے، لہٰذا اصل نجات ایک نئی تخلیق ہوگی، نیا آسمان اور نئی زمین، جہاں سے رونے کی آواز اٹھ جائے گی۔
اِن دو حصوں کے درمیان باب 36 سے 39 ایک قبضے کی طرح جڑا ہوا ہے۔ یہاں دو بحران ہیں: اسور کا حملہ، جس میں حِزقیاہ خدا پر بھروسا کرتا ہے اور بچ جاتا ہے؛ اور بابل کے سفیروں کی آمد، جہاں حِزقیاہ اپنے خزانے دکھاتا ہے اور یسعیاہ اعلان کرتا ہے کہ یہ سب بابل جائے گا۔ ایک ہی بادشاہ، دو ردعمل۔ اِسی موڑ پر کتاب اسور سے بابل کی طرف، اور عدالت سے تسلی کی طرف مڑتی ہے۔ بہترین انسانی تخت بھی خود کو بچا نہیں سکا۔
اِس ساخت پر چار بڑے موضوع بار بار لوٹتے ہیں۔ پہلا، خدا کی قدوسیت۔ "اسرائیل کا قدوس" یسعیاہ کا محبوب لقب ہے، اور یہی قدوسیت بیک وقت گناہ کو جلاتی اور گنہگار کو پاک کرتی ہے۔ دوسرا، بھروسے کا سوال: کیا تُو مصر کے گھوڑوں پر ٹیک لگائے گا یا زندہ خدا پر؟ تیسرا، بےبسوں کے لیے انصاف؛ یسعیاہ 1:17 میں خدا مذہبی رسم سے نہیں بلکہ یتیم کے مقدمے سے متاثر ہوتا ہے۔ چوتھا، عالمگیر امید: قومیں یروشلیم کی طرف آئیں گی، خادم "قوموں کے لیے نور" ہوگا، اور خدا کا گھر "سب امتوں کے لیے دعا کا گھر" کہلائے گا۔
مصنف کے بارے میں ایک لفظ ضروری ہے۔ کچھ محققین یہ خیال رکھتے ہیں کہ باب 40 سے آگے کا حصہ کسی بعد کے شاگرد نے لکھا، کیونکہ لہجہ اور تاریخی پس منظر بدلا ہوا ہے۔ ہم کلامِ مقدس کی گواہی کے ساتھ چلتے ہیں: نئے عہد نامے میں دونوں حصوں کے اقتباسات "یسعیاہ نبی" کے نام سے پیش کیے گئے ہیں، بحرِ مردار کے طوماروں سے ملا یسعیاہ کا مکمل طومار ایک ہی متواتر کتاب ہے، اور جو خدا مستقبل بتانے کا دعویٰ کرتا ہے (یسعیاہ 46:9-10) اُس کے لیے خورس کا نام سو سال پہلے بولنا مشکل نہیں۔ کتاب کی وحدت اِس کے پیغام کی وحدت ہے: وہی قدوس خدا جو عدالت کرتا ہے، وہی تسلی دیتا ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
یسعیاہ 53:5 اِس کتاب کا دل ہے: "حالانکہ وہ ہماری خطاؤں کے سبب سے گھایل کیا گیا اور ہماری بدکرداری کے باعث کچلا گیا۔ ہماری ہی سلامتی کے لیے اُس پر سیاست ہوئی تاکہ اُس کے مار کھانے سے ہم شفا پائیں۔" ذرا اُن ضمیروں پر غور کریں: "ہماری" اور "اُس پر"۔ یہاں بدلے کا اصول ہے، رسم نہیں۔ خادم اپنی کسی خطا کی سزا نہیں پاتا؛ وہ ہمارے حصے کی سزا اپنے اوپر لے لیتا ہے۔ اور نتیجہ صرف معافی نہیں بلکہ "سلامتی" اور "شفا" ہے، یعنی ٹوٹے رشتے کی مرمت۔ یہی وہ تخت ہے جس کا راستہ صلیب سے گزرتا ہے: بادشاہ اپنی رعایا پر بوجھ نہیں ڈالتا، اُن کا بوجھ اٹھا لیتا ہے۔
یسعیاہ 40:31 اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی جو تخت کے انتظار میں تھک چکے تھے: "لیکن جو خداوند کا انتظار کرتے ہیں وہ ازسرِنو زور حاصل کریں گے۔ وہ عقابوں کی مانند بال و پر سے اُڑیں گے۔ وہ دوڑیں گے اور نہ تھکیں گے۔ وہ چلیں گے اور ماندہ نہ ہوں گے۔" اِس آیت کو موٹیویشنل نعرہ بنانا آسان ہے، مگر سیاق و سباق زیادہ گہرا ہے۔ اِس سے پہلے کی آیتیں کہتی ہیں کہ جوان بھی تھک جاتے ہیں اور گر پڑتے ہیں؛ یعنی مسئلہ توانائی کی کمی نہیں، غلط جگہ سے توانائی مانگنا ہے۔ "انتظار" یہاں سستی نہیں بلکہ خدا پر ٹِک جانے کا فعال عمل ہے۔ آخری جملہ سب سے مہربان ہے: صرف اڑنے کا وعدہ نہیں، بلکہ روز مرہ کے "چلنے" میں بھی نہ گرنے کا وعدہ ہے۔
یسعیاہ 61:1 اُس بادشاہ کا افتتاحی خطبہ ہے: "خداوند خدا کی روح مجھ پر ہے کیونکہ خداوند نے میرے سر پر مسح کر کے مجھے مقرر کیا کہ حلیموں کو خوشخبری سناؤں۔ اُس نے مجھے بھیجا کہ شکستہ دلوں کو تسلی دوں۔ قیدیوں کے لیے رہائی اور اسیروں کے لیے آزادی کا اعلان کروں۔" لفظ "مسح" ہی سے "مسیح" بنتا ہے۔ اور دیکھیں کہ یہ مسیح کن کے پاس بھیجا گیا: حلیم، شکستہ دل، قیدی۔ جب یسوع نے ناصرت میں یہ طومار کھولا اور کہا کہ آج یہ پورا ہوا، تو اُنہوں نے صرف ایک پیشین گوئی کا دعویٰ نہیں کیا؛ اُنہوں نے اپنی سلطنت کا منشور پڑھا۔
یسعیاہ کو پڑھنے کا عملی نقشہ
یسعیاہ کو شروع سے آخر تک ایک ہی سانس میں پڑھنے کی کوشش اکثر مایوسی پر ختم ہوتی ہے، کیونکہ باب 13 سے 27 تک قوموں کے نام اور قدیم سیاست کے حوالے قاری کو تھکا دیتے ہیں۔ ایک بہتر راستہ یہ ہے کہ آپ چار مرحلوں میں چلیں۔
پہلے ہفتے میں بنیاد رکھیں: باب 1، پھر باب 6، پھر باب 7 سے 12۔ اِس سے آپ کے ہاتھ میں تین چابیاں آ جائیں گی، یعنی گناہ کی تشخیص، خدا کی قدوسیت، اور عمانوایل کا وعدہ۔ باب 12 کا مختصر گیت اِس حصے کا شکرانہ ہے، اُسے بلند آواز سے پڑھیں۔
دوسرے مرحلے میں تاریخ کے کمرے میں داخل ہوں: باب 36 سے 39۔ یہ حصہ نثر میں ہے، پڑھنے میں آسان ہے، اور کتاب کے دونوں نصف حصوں کو جوڑ دیتا ہے۔ حِزقیاہ کی دعا اور یسعیاہ کا جواب دیکھیں، اور پھر باب 39 کے آخری الفاظ پر رک جائیں، کیونکہ وہیں سے جلاوطنی کا سایہ شروع ہوتا ہے۔
تیسرا مرحلہ سب سے میٹھا ہے: باب 40 سے 55۔ اِسے دو دو باب روز پڑھیں اور خاص طور پر خادم کے چار گیتوں پر ٹھہریں، یعنی 42:1-9، 49:1-6، 50:4-9 اور 52:13 سے 53:12 تک۔ باب 53 پر ایک ہی دن میں نہ گزریں؛ ہر آیت کے سامنے یسوع کی صلیب کا ایک واقعہ رکھیں اور دعا کریں۔ باب 55 کی دعوت اِس حصے کو کھلے دروازے پر ختم کرتی ہے۔
چوتھے مرحلے میں باب 56 سے 66 پڑھیں، اور اُسی ترتیب سے 61 اور 65 پر توجہ دیں۔ اِس کے بعد ہی درمیانی حصے (باب 13 سے 35) میں واپس جائیں؛ اب وہ اجنبی نہیں لگیں گے، کیونکہ آپ جان چکے ہوں گے کہ ہر قوم کا مقدمہ اُسی ایک تخت کے سامنے پیش ہو رہا ہے۔
پڑھتے وقت تین سوال ساتھ رکھیں۔ یہاں خدا اپنے بارے میں کیا ظاہر کر رہا ہے؟ یہاں انسانی بھروسا کہاں غلط جگہ لگا ہوا ہے؟ اور یہ حصہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے؟ ساتھ ہی نئے عہد نامے کے متعلقہ حوالے کھولیں، جیسے متی 1، لوقا 4، یوحنا 12، اعمال 8، رومیوں 10 اور 1 پطرس 2۔ اگر آپ ایک ماہ میں یہ نقشہ مکمل کریں، تو یسعیاہ آپ کے لیے ایک مشکل کتاب سے ایک مانوس دوست بن جائے گا۔
آئینہ
اب ایک لمحہ ٹھہریں اور اپنے تخت کی طرف دیکھیں۔ آخز کی کہانی صرف تاریخ نہیں، وہ ہمارا آئینہ ہے۔ اُس کے پاس خدا کا واضح وعدہ تھا، مگر اُس نے حساب لگایا کہ اسور کی فوج زیادہ قابلِ اعتماد ہے۔ آپ کا "اسور" کیا ہے؟ وہ ملازمت جسے آپ چھوڑنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اُسی سے آپ کی عزت جڑی ہے؟ وہ بینک بیلنس جو آپ کی اصل تسلی ہے؟ وہ رشتہ جسے آپ نے خدا کی جگہ بٹھا دیا ہے؟ ہم اکثر کھلے الفاظ میں بت پرستی سے انکار کرتے ہیں اور دل میں مصر کے گھوڑوں کا حساب لگاتے رہتے ہیں۔
اور اگر آپ تھکے ہوئے ہیں، تو یسعیاہ 40:31 آپ کو جھنجھوڑنے کے لیے نہیں بلکہ سنبھالنے کے لیے آیا ہے۔ آپ کی تھکن کوئی روحانی ناکامی نہیں؛ جوان بھی تھک جاتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آپ اپنی طاقت کہاں سے مانگ رہے ہیں۔ جو ماں رات بھر بیمار بچے کے ساتھ جاگی، جو باپ تیسری شفٹ کے بعد گھر آتا ہے، جو بہن تنہائی میں فون کی سکرین گھورتی ہے، جو بھائی مسلسل درد کے ساتھ جیتا ہے: خدا آپ سے پہلے اڑنے کا مطالبہ نہیں کرتا۔ وہ کہتا ہے کہ چلنے میں بھی وہ آپ کو ماندہ ہونے سے بچائے گا۔
مگر سب سے زیادہ چبھنے والی بات باب 53 ہے۔ وہاں لکھا ہے کہ "ہم سب بھیڑوں کی مانند بھٹک گئے۔ ہم میں سے ہر ایک اپنی راہ کو پھرا"۔ اِس آیت میں کوئی گنجائش نہیں ہے کہ ہم اپنا نام باہر لکھ دیں۔ ہماری بھٹکن ہمیشہ ڈرامائی نہیں ہوتی؛ زیادہ تر وہ صرف "اپنی راہ" ہوتی ہے، آرام دہ، منظم اور خدا کے بغیر۔ اور اِسی آیت میں شفا بھی ہے، کیونکہ خداوند نے ہماری سب کی بدکرداری اُس پر لادی۔ آپ اپنے بوجھ کو اُس مذبح تک لے جا سکتے ہیں جہاں انگارہ آپ کے ہونٹوں کو چھو کر پاک کر دے۔ قدوسیت آپ کو جلانے کے لیے نہیں، صاف کرنے کے لیے جھکی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یسعیاہ سنانا مشکل نہیں، بس داخلے کا دروازہ صحیح چننا ہوتا ہے۔ سب سے آسان دروازہ باب 6 ہے۔ آپ اُن سے کہہ سکتے ہیں کہ ایک بادشاہ مر گیا اور سب لوگ ڈر گئے، مگر ایک آدمی نے خدا کے کمرے میں جھانکا اور دیکھا کہ آسمان کا اصل بادشاہ اپنی کرسی پر بیٹھا ہے، بہت بڑا، بہت پاک، اور اُس کے فرشتے گا رہے تھے۔ یسعیاہ ڈر گیا کیونکہ اُس کے منہ سے غلط باتیں نکلتی تھیں، مگر خدا نے اُسے صاف کیا اور پوچھا "کون جائے گا؟" اور یسعیاہ نے ہاتھ اٹھا کر کہا "میں جاؤں گا"۔
اِس کے بعد آپ اُنہیں یہ بتا سکتے ہیں کہ خدا نے یسعیاہ کے ذریعے ایک بہت بڑا راز پہلے سے بتا دیا: ایک بچہ آنے والا ہے جس کا نام "خدا ہمارے ساتھ" ہوگا۔ کرسمس پر یہی بچہ، یعنی یسوع، پیدا ہوا۔ سات سو سال پہلے لکھی گئی بات وقت پر پوری ہوئی۔ چھوٹے بچوں کے لیے یہی کافی ہے؛ باب 53 کے زخموں کی بات ذرا بڑی عمر میں، نرمی کے ساتھ اور صلیب کی امید کے ساتھ کریں۔
ہماری ویب سائٹ پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ کہانی اور تصویری زبان میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے تاریخی پس منظر اور پیشین گوئی کے پورا ہونے کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے اُن سوالوں کے جواب کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے کہ ہم کیسے جانیں کہ یہ پیشین گوئیاں بعد میں نہیں لکھی گئیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یسعیاہ کی کتاب کس نے لکھی؟
کتاب خود اپنے پہلے آیت میں بتاتی ہے کہ یہ آموص کے بیٹے یسعیاہ کا رویا ہے، جو یروشلیم میں عزیاہ، یوتام، آخز اور حِزقیاہ کے زمانے میں نبوت کرتا رہا۔ کچھ محققین باب 40 کے بعد کے حصے کو کسی بعد کے لکھنے والے سے جوڑتے ہیں، مگر نئے عہد نامے میں کتاب کے دونوں حصوں کے اقتباسات "یسعیاہ نبی" کے نام سے پیش کیے جاتے ہیں، اور بحرِ مردار سے ملا یسعیاہ کا مکمل طومار ایک ہی متواتر کتاب ہے۔ روایتی مسیحی مؤقف یہی ہے کہ یہ نبی یسعیاہ ہی کی کتاب ہے۔
یسعیاہ کی کتاب کب لکھی گئی؟
یسعیاہ کی خدمت کا آغاز تقریباً 740 قبل مسیح میں، عزیاہ بادشاہ کی موت کے سال ہوا، اور وہ کم از کم 701 قبل مسیح کے اسوری حملے تک، اور روایت کے مطابق منسّی کے دور تک زندہ رہا۔ اِس لیے کتاب کا مواد آٹھویں صدی قبل مسیح کے دوسرے نصف اور ساتویں صدی کے آغاز کا ہے، یعنی کم و بیش پچاس سے ساٹھ برس کی خدمت کا نچوڑ۔ اِس دوران شمالی مملکت اسرائیل تباہ ہوئی اور یہوداہ بال بال بچا، اور یہی حالات کتاب کے پیغام کو سمجھنے کی کنجی ہیں۔
یسعیاہ کی کتاب میں کتنے باب ہیں اور اُس کی تقسیم کیا ہے؟
یسعیاہ میں چھیاسٹھ باب ہیں۔ عام طور پر اِسے تین حصوں میں دیکھا جاتا ہے: باب 1 سے 39 تک عدالت اور اسور کے بحران کا زمانہ، باب 40 سے 55 تک جلاوطنی میں تسلی اور خادمِ خداوند کے گیت، اور باب 56 سے 66 تک نئی تخلیق اور آنے والے جلال کی امید۔ باب 36 سے 39 نثر میں ہیں اور دونوں بڑے حصوں کے درمیان پل کا کام دیتے ہیں، جہاں حِزقیاہ کے دو امتحان کتاب کا رخ اسور سے بابل کی طرف موڑ دیتے ہیں۔
یسعیاہ 7:14 میں "کنواری" کا مطلب کیا ہے؟
عبرانی لفظ "علماہ" ایک ایسی جوان لڑکی کے لیے استعمال ہوتا ہے جو شادی شدہ نہ ہو، اور پرانے عہد نامے کے یونانی ترجمے میں اِسے واضح طور پر "کنواری" کہا گیا۔ متی 1:22-23 اِسی آیت کو مریم کے حوالے سے نقل کرتا ہے، یعنی الہامی انجیل نویس اِس کا مطلب کنواری سے پیدائش ہی سمجھتا ہے۔ آخز کے زمانے میں اِس نشان کا ایک قریبی پہلو بھی تھا، مگر اِس کی مکمل تعبیر عمانوایل یسوع میں ہوئی، جس میں خدا واقعی ہمارے ساتھ آ بسا۔
کیا یسعیاہ 53 واقعی یسوع مسیح کے بارے میں ہے؟
نیا عہد نامہ اِس میں کوئی شک نہیں چھوڑتا۔ اعمال 8 میں حبشی خصی یہی حصہ پڑھ رہا تھا اور فلپس نے اِسی نوشتے سے شروع کر کے اُسے یسوع کی خوشخبری سنائی، اور 1 پطرس 2 میں اِس باب کے الفاظ سیدھے صلیب پر لاگو کیے گئے ہیں۔ باب کی تفصیل بھی حیرت انگیز ہے: بےگناہ کا دکھ، خاموشی سے مار کھانا، بدکاروں کے ساتھ گنا جانا، دولت مند کی قبر، اور پھر زندگی کا دیکھنا۔ یہ سب مسیح کی موت اور جی اٹھنے میں پورا ہوا۔
یسعیاہ کو "پانچویں انجیل" کیوں کہا جاتا ہے؟
کیونکہ اِس کتاب میں مسیح کی زندگی کے تقریباً سبھی بڑے پہلو پہلے سے کھینچے گئے ہیں: کنواری سے پیدائش، جلیل میں نور کا چمکنا، روح سے مسح ہونا، غریبوں کو خوشخبری سنانا، ہمارے گناہوں کے لیے زخمی ہونا، اور قوموں کے لیے نور بننا۔ نیا عہد نامہ یسعیاہ کا حوالہ زبور کے بعد سب سے زیادہ دیتا ہے۔ جو شخص انجیلیں پڑھ کر یسعیاہ کھولتا ہے، اُسے لگتا ہے کہ وہ وہی چہرہ دیکھ رہا ہے، صرف وعدے کی روشنی میں۔
یسعیاہ 6:8 آج ہمارے لیے کیا معنی رکھتی ہے؟
یہ آیت خدمت کی بلاہٹ کا نمونہ ہے، مگر اِس کی ترتیب اہم ہے۔ یسعیاہ نے پہلے خدا کی قدوسیت دیکھی، پھر اپنی ناپاکی کا اقرار کیا، پھر پاک کیا گیا، اور اُس کے بعد کہا "میں حاضر ہوں مجھے بھیج"۔ یعنی خدمت کا آغاز جوش سے نہیں بلکہ فضل سے ہوتا ہے۔ آج بھی جو شخص خدا کے سامنے جھکنا اور معاف کیا جانا سیکھ لیتا ہے، وہی حقیقی معنوں میں بھیجا جانے کے قابل ہوتا ہے، خواہ اُس کا میدان منبر ہو، گھر ہو یا دفتر۔
یسعیاہ 40:31 میں "انتظار" کرنے کا کیا مطلب ہے؟
یہ سستی یا بےعملی نہیں ہے۔ عبرانی تصور میں انتظار کرنا خدا پر پوری امید سے ٹِک جانا، اُس کے کلام سے چمٹے رہنا اور اپنی چالاکیوں سے ہاتھ اٹھا لینا ہے۔ سیاق و سباق بتاتا ہے کہ جوان اور طاقتور لوگ بھی تھک کر گر جاتے ہیں، کیونکہ انسانی طاقت کی حد ہے۔ جو خدا کا انتظار کرتے ہیں اُنہیں نئی توانائی ملتی ہے، اور وعدہ صرف بلند اڑان کا نہیں بلکہ روزمرہ کے تھکا دینے والے چلنے میں بھی سنبھلے رہنے کا ہے۔
یسعیاہ 9:6 میں بچے کو "خدائے قادر" کیوں کہا گیا ہے؟
کیونکہ آنے والا بادشاہ محض داؤد کی نسل کا ایک اور انسان نہیں تھا۔ اُس کے چار نام اُس کی ذات بیان کرتے ہیں: عجیب مشیر، یعنی اُس کی حکمت انسانی مشورے سے بالا ہے؛ خدائے قادر، یعنی وہ خود الٰہی ہے؛ ابدیت کا باپ، یعنی وہ اپنی قوم کی ہمیشہ کی حفاظت کرتا ہے؛ اور سلامتی کا شاہزادہ، یعنی اُس کی سلطنت زور زبردستی سے نہیں بلکہ صلح سے قائم ہوتی ہے۔ نئے عہد نامے کی روشنی میں یہ سب یسوع مسیح کی الٰہی حیثیت کی صاف گواہی ہے۔
یسعیاہ 55:11 کا وعدہ کیا ہے؟
یہ وعدہ ہے کہ خدا کا کلام کبھی بےاثر واپس نہیں آتا۔ اِس سے پہلے کی آیت میں بارش اور برف کی تصویر ہے جو زمین کو سیراب کیے بغیر واپس نہیں جاتی؛ اِسی طرح خدا کا بولا ہوا کلام اپنا مقصد پورا کرتا ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر سننے والا فوراً ایمان لے آئے گا، بلکہ یہ کہ خدا کا منصوبہ ناکام نہیں ہو سکتا۔ گواہی دیتے، بائبل پڑھتے یا دعا میں وعدے دہراتے وقت یہ آیت ہمارے دل کا لنگر ہے۔
یسعیاہ 61:1 اور لوقا 4 کا تعلق کیا ہے؟
لوقا 4 میں یسوع ناصرت کے عبادت خانے میں یسعیاہ کا طومار کھولتے ہیں اور یہی آیت پڑھ کر فرماتے ہیں کہ آج یہ نوشتہ تمہارے سننے میں پورا ہوا۔ یعنی وہ خود کو وہ مسح شدہ شخص قرار دیتے ہیں جس پر خدا کی روح ہے، جو حلیموں کو خوشخبری، شکستہ دلوں کو تسلی اور قیدیوں کو رہائی دینے آیا ہے۔ یہ یسوع کی خدمت کا افتتاحی اعلان ہے اور بتاتا ہے کہ اُس کی بادشاہی سب سے پہلے کمزوروں اور ٹوٹے ہوئے لوگوں کے لیے ہے۔
یسعیاہ کی کتاب پہلی بار پڑھنے والے کہاں سے شروع کریں؟
باب 1 سے، پھر سیدھے باب 6 پر جائیں، اِس کے بعد باب 7 سے 12 پڑھیں تاکہ عمانوایل کے وعدے کی زمین سمجھ آ جائے۔ اُس کے بعد باب 36 سے 39 کی تاریخی کہانی پڑھیں، پھر باب 40 سے 55 آرام سے، خاص طور پر خادم کے چار گیت، اور آخر میں باب 61 اور 65۔ درمیانی حصے یعنی باب 13 سے 35 کو سب سے آخر میں چھوڑ دیں؛ اُس وقت وہ اجنبی نہیں لگیں گے کیونکہ آپ کتاب کے بڑے منظر سے واقف ہو چکے ہوں گے۔
اختتام میں
یسعیاہ کی کتاب اُس سال شروع ہوتی ہے جب ایک تخت خالی ہوا، اور اُس منظر پر ختم ہوتی ہے جہاں نیا آسمان اور نئی زمین قائم ہیں اور خدا کی حکومت پر کوئی سایہ نہیں۔ درمیان میں انسانی تخت ایک ایک کر کے گرتے ہیں: خوفزدہ آخز، لڑکھڑاتا حِزقیاہ، مغرور بابل، طاقتور اسور۔ اور اِن کھنڈرات کے بیچ خدا ایک بچہ، ایک کونپل اور ایک زخمی خادم بھیجتا ہے، جس کے کندھے پر سلطنت ہے اور جس کی پیٹھ پر ہمارے گناہ کے کوڑے ہیں۔ یہی یسعیاہ کا جواب ہے اُس سوال کا جو ہر بحران میں ہمارے دل میں اٹھتا ہے: آخر میں تخت پر کون بیٹھا ہے؟
اِس لیے یسعیاہ کو دلیل کے ہتھیار کے طور پر نہ پڑھیں، بلکہ اُس آواز کے طور پر جو آپ کو جھکنے اور پھر اٹھنے کی دعوت دیتی ہے۔ آج ہی باب 6 اور باب 53 کھولیں، دونوں کو دعا کے ساتھ پڑھیں، اور پھر لوقا 4 میں یسوع کو یہی طومار کھولتے دیکھیں۔ اگر آپ چاہیں تو اوپر دیے گئے چار مرحلوں کے نقشے سے ایک ماہ کا سفر شروع کر دیں۔ جو خدا نے سات سو سال پہلے وعدہ کیا اور وقت پر پورا کیا، وہ آپ کے ساتھ کیے ہوئے وعدے بھی نہیں بھولے گا۔
