موضوع

خوف اور پریشانی پر بائبل کی تعلیم

تعارف

رات کے دو بجے ہیں۔ گھر میں سب سو رہے ہیں، مگر آپ چھت کو تک رہے ہیں۔ دل کی دھڑکن کانوں میں سنائی دے رہی ہے۔ کل کی وہ رپورٹ، وہ کال جو نہیں آئی، کرایہ جو اگلے ہفتے دینا ہے، بیٹے کی نوکری، بیٹی کی شادی، اور وہ ایک انجانا سا بوجھ جس کا نام بھی آپ کو معلوم نہیں۔ آپ نے دعا کی، مگر لگا جیسے الفاظ چھت سے ٹکرا کر واپس آ گئے۔ آپ نے خود کو ڈانٹا بھی: "میں ایمان دار ہوں، مجھے یوں نہیں ڈرنا چاہیے۔"

اگر یہ منظر آپ کا جانا پہچانا ہے تو یہ صفحہ آپ کے لیے لکھا گیا ہے۔ آگے آپ دیکھیں گے کہ پاک کلام خوف کو شرم کی بات نہیں بناتا، بلکہ اُس کے ساتھ ایک عجیب نرمی سے پیش آتا ہے، اور خدا اپنے ڈرے ہوئے بچوں کو جو چیز دیتا ہے وہ وضاحت نہیں بلکہ اپنی حضوری ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

پاک کلام میں "مت ڈر" کبھی خالی حکم نہیں ہوتا۔ تقریباً ہر بار اُس کے ساتھ ایک "کیونکہ" جڑا ہوتا ہے، اور وہ "کیونکہ" کسی بدلے ہوئے حالات کی طرف اشارہ نہیں کرتا بلکہ ایک شخص کی طرف: "کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔" یہی اس رہنما کا زاویہ ہے۔ ہم خوف اور پریشانی کو محض ایک نفسیاتی مسئلہ یا کمزور ایمان کی علامت کے طور پر نہیں دیکھیں گے، بلکہ اُس مقام کے طور پر جہاں خدا اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ خدا آپ کے ڈر کا علاج معلومات سے نہیں، اپنی قربت سے کرتا ہے۔ اس فرق کو سمجھ لینا آدھی شفا ہے۔

بائبل خوف اور پریشانی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

سب سے پہلے ایک ضروری فرق۔ پاک کلام میں "خوف" ایک ہی چیز نہیں۔ ایک خوف وہ ہے جو خدا کے حضور میں ادب، جھکاؤ اور حیرت پیدا کرتا ہے؛ اُسے "خداوند کا خوف" کہا گیا ہے اور امثال اُسے حکمت کی ابتدا کہتی ہے۔ یہ خوف انسان کو خدا سے دور نہیں کرتا، قریب لاتا ہے۔ دوسرا خوف وہ ہے جو دم گھونٹتا ہے، جو چھپاتا ہے، جو زبان بند کر دیتا ہے۔ پولوس رسول اُسے "دہشت کی روح" کہتا ہے۔ 2 تیمتھیس 1:7 میں وہ اپنے ڈرے ہوئے، جوان شاگرد کو لکھتا ہے: "کیونکہ خدا نے ہمیں دہشت کی روح نہیں بلکہ قدرت اور محبت اور تربیت کی روح دی۔" غور کریں، پولوس یہ نہیں کہتا کہ تیمتھیس کے حالات آسان ہیں۔ وہ کہتا ہے کہ تیمتھیس کے اندر جو رہتا ہے وہ دہشت کا نہیں، قدرت اور محبت کا خدا ہے۔

پھر ایک اور فرق: خوف اور پریشانی۔ خوف عموماً کسی خاص خطرے کا ردِعمل ہے؛ پریشانی، یعنی فکر، وہ ہے جب دل کل کے بوجھ آج اُٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے پہاڑی وعظ میں اسی پر ہاتھ رکھا۔ متی 6:34 میں آپ فرماتے ہیں: "پس کل کے لیے فکر نہ کرو کیونکہ کل اپنے لیے آپ فکر کر لے گا۔ آج کے لیے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔" یہ آیت آج کے دُکھ کا انکار نہیں کرتی۔ وہ مانتی ہے کہ آج کا دُکھ موجود ہے، اور کافی ہے۔ خداوند صرف یہ کہتے ہیں کہ کل کا بوجھ اُٹھانے کے لیے آج کا فضل نہیں دیا گیا۔ یہی پریشانی کی جڑ ہے: ہم اُس وقت کے لیے طاقت مانگتے ہیں جو ابھی آیا ہی نہیں۔

اور جب دل ڈرتا ہے تو کیا کرے؟ زبور نویس نے سب سے سادہ اور سب سے ایماندارانہ راستہ دکھایا۔ زبور 56:3 میں داؤد لکھتا ہے: "جس روز مجھے ڈر لگے گا میں تجھ پر بھروسہ کروں گا۔" یہ آیت اُس آدمی کی ہے جو فلستیوں کے ہاتھ میں تھا۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ "مجھے کبھی ڈر نہیں لگے گا"، وہ کہتا ہے کہ "جس روز ڈر لگے گا"، اُس دن میرا ڈر مجھے تجھ سے دور نہیں لے جائے گا بلکہ تیری طرف دھکیلے گا۔ خوف بھروسے کا دشمن نہیں، اُس کا موقع ہے۔

پولوس اسی راستے کو ایک قدم آگے لے جاتا ہے۔ فلپیوں 4:6 میں لکھا ہے: "کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگزاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔" لفظ "بلکہ" پر رُکیں۔ فکر کو محض دبانا نہیں ہے، اُسے منتقل کرنا ہے۔ خالی جگہ نہیں چھوڑی جاتی؛ فکر کی جگہ دعا اور شکرگزاری آتی ہے۔ اور اگلی آیت میں جو وعدہ ہے وہ حالات کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک پہرا ہے: "خدا کا اطمینان جو سمجھ سے بالکل باہر ہے تمہارے دلوں اور خیالوں کو مسیح یسوع میں محفوظ رکھے گا۔"

پطرس رسول، جو خود ڈر کر منکر ہوا تھا اور پھر بحال کیا گیا، سب سے نرم جملہ لکھتا ہے۔ 1 پطرس 5:7: "اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو کیونکہ اُس کو تمہاری فکر ہے۔" یہاں دو بار "فکر" کا لفظ آیا ہے، مگر دو مختلف معنوں میں۔ آپ کی فکر بوجھ ہے؛ خدا کی فکر محبت ہے۔ آپ کا بوجھ اُس کی محبت پر ڈالا جاتا ہے۔ اور یہ حکم صرف اُس شخص کو دیا جا سکتا ہے جس کا خدا واقعی اُس کی پروا کرتا ہو۔ کسی اجنبی کے سامنے آپ اپنا دل نہیں کھولتے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

پاک کلام میں پہلا انسانی جذبہ جس کا نام لیا گیا ہے، وہ خوف ہے۔ باغ میں گناہ کے بعد آدم کہتا ہے: "میں نے باغ میں تیری آواز سنی اور میں ڈرا کیونکہ میں ننگا تھا اور میں نے اپنے آپ کو چھپایا" (پیدائش 3:10)۔ یہاں خوف کا پہلا اثر یہ ہے کہ انسان خدا سے چھپ جاتا ہے۔ آج بھی خوف کا سب سے بڑا نقصان یہی ہے: وہ ہمیں اُس واحد ہستی سے دور کرتا ہے جو ہمیں سنبھال سکتی ہے۔ اور خدا کا پہلا سوال ایک تلاش ہے: "تو کہاں ہے؟"

اُس کے بعد پورا عہدِ عتیق ایک ہی جملے سے گونجتا ہے۔ ابرام رات کو ڈرا ہوا ہے اور خدا فرماتے ہیں: "اے ابرام مت ڈر۔ میں تیری سپر اور تیرا بہت بڑا اجر ہوں" (پیدائش 15:1)۔ بنی اسرائیل بحرِ قلزم کے کنارے پھنسے ہوئے ہیں اور موسیٰ کہتا ہے کہ ڈرو مت، خداوند تمہاری طرف سے لڑے گا۔ یشوع پہاڑ جیسی ذمہ داری کے سامنے کھڑا ہے اور اُسے کہا جاتا ہے: "خوف نہ کھا اور بے دل نہ ہو کیونکہ جہاں جہاں تو جائے گا وہیں خداوند تیرا خدا تیرے ساتھ ہوگا" (یشوع 1:9)۔ داؤد موت کے سائے کی وادی میں سے گزرتا ہے اور کہتا ہے: "میں کسی بلا سے نہیں ڈروں گا کیونکہ تو میرے ساتھ ہے" (زبور 23:4

اور اسیری میں، جب قوم ٹوٹ چکی تھی، خدا نے یسعیاہ کے ذریعے وہ آیت دی جو صدیوں سے ڈرے ہوئے دلوں کا تکیہ ہے۔ یسعیاہ 41:10: "تُو مت ڈر کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔ ہول نہ کر کیونکہ میں تیرا خدا ہوں۔ میں تجھے زور بخشوں گا۔ میں تجھے سنبھالوں گا۔ ہاں، میں اپنی صداقت کے دہنے ہاتھ سے تجھے تھام لوں گا۔" چار وعدے، اور چاروں خدا کے کام ہیں، ہمارے نہیں۔ وہ ساتھ ہے، وہ ہمارا خدا ہے، وہ زور بخشتا ہے، اور وہ ہاتھ تھامتا ہے۔ ہمیں صرف تھامے جانے کی اجازت دینی ہے۔

پھر عہدِ جدید میں یہ "میں تیرے ساتھ ہوں" جسم پہن کر آتا ہے۔ اُس کا نام عمانوایل ہے، یعنی خدا ہمارے ساتھ۔ جھیل پر طوفان میں شاگرد چیخ اُٹھتے ہیں اور خداوند فرماتے ہیں: "خاطر جمع رکھو، میں ہوں، ڈرو مت" (متی 14:27)۔ گتسمنی میں وہی خداوند خود "غمگین اور بے قرار" ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ میری جان نہایت غمگین ہے۔ یہ عہدِ جدید کا سب سے حیران کن نکتہ ہے: ہمارا نجات دہندہ گھبراہٹ سے واقف ہے، باہر سے نہیں، اندر سے۔ صلیب سے پہلی رات، جدائی کی خبر دیتے ہوئے، وہ اپنے شاگردوں کو وراثت میں کیا دیتے ہیں؟ یوحنا 14:27: "میں تمہیں اطمینان دیے جاتا ہوں۔ اپنا اطمینان تمہیں دیتا ہوں۔ جس طرح دنیا دیتی ہے میں تمہیں اُس طرح نہیں دیتا۔ تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔" غور کریں: "اپنا اطمینان"۔ یہ کوئی عام سکون نہیں، یہ اُس کا ذاتی اطمینان ہے، وہی جس کے بل پر وہ طوفان میں سو سکتے تھے۔

اور کہانی وہیں ختم ہوتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی، مگر اُلٹ کر۔ باغ میں انسان خدا سے چھپا تھا؛ مکاشفہ میں یوحنا جلال کے سامنے مُردہ سا گر پڑتا ہے اور خداوند اپنا دہنا ہاتھ اُس پر رکھ کر کہتے ہیں: "خوف نہ کر۔ میں اول و آخر اور زندہ ہوں۔" اور آخر میں وہ ہاتھ ہر آنکھ کے آنسو پونچھتا ہے، اور موت باقی نہیں رہتی۔ چھپنے سے شروع، دیکھنے پر ختم۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی: خوف محسوس کرنا خود گناہ ہے۔ بہت سے ایمان دار دوہرے بوجھ تلے جیتے ہیں: پہلے پریشانی، پھر پریشان ہونے کا احساسِ گناہ۔ مگر پاک کلام خوف کو ایک جذبہ مانتا ہے، اور اُس کے بہترین بندے ڈرے تھے۔ ایلیاہ جان بچا کر بھاگا۔ داؤد نے لکھا کہ "جس روز مجھے ڈر لگے گا"، یعنی وہ دن آتے تھے۔ خود خداوند یسوع گتسمنی میں بے قرار ہوئے۔ سوال یہ نہیں کہ ڈر آیا یا نہیں، سوال یہ ہے کہ ڈر آپ کو کہاں لے جاتا ہے: چھپنے کی طرف یا اُس کے دہنے ہاتھ کی طرف۔ گناہ خوف کا محسوس ہونا نہیں، خوف کو اپنا خدا بنا لینا ہے۔

دوسری غلط فہمی: اگر میرا ایمان مضبوط ہوتا تو دعا کے بعد پریشانی فوراً ختم ہو جاتی۔ فلپیوں 4:6 کے بعد جو وعدہ ہے وہ یہ نہیں کہ آپ کے جذبات فوراً بدل جائیں گے، بلکہ یہ کہ خدا کا اطمینان آپ کے دل اور خیالات کی "پہرے داری" کرے گا۔ پہرہ دار اس لیے کھڑا کیا جاتا ہے کہ حملہ ہوتا رہتا ہے۔ کئی بار وہی دعا کئی بار کرنی پڑتی ہے، اور یہ بے ایمانی نہیں بلکہ ثابت قدمی ہے۔ خداوند نے گتسمنی میں ایک ہی بات تین بار کہی۔ بار بار دعا کرنا کمزوری نہیں، وفاداری ہے۔

تیسری غلط فہمی: "فکر نہ کرو" کا مطلب ہے کہ منصوبہ بندی، احتیاط اور ذمہ داری چھوڑ دو۔ متی 6 میں خداوند پرندوں کی مثال دیتے ہیں، مگر پرندے بھی چگتے ہیں۔ امثال چیونٹی کی محنت اور آنے والے دن کے لیے جمع کرنے کی تعریف کرتی ہے، اور پولوس لکھتا ہے کہ جو اپنے گھر کی پرورش نہیں کرتا وہ ایمان سے مکر گیا ہے۔ فرق نیت اور مالکیت کا ہے۔ منصوبہ بندی کہتی ہے: "میں آج جو کر سکتا ہوں کروں گا اور نتیجہ خدا کے ہاتھ میں ہے۔" پریشانی کہتی ہے: "مجھے سب کچھ سنبھالنا ہے، ورنہ سب گر جائے گا۔" پہلی امانت داری ہے، دوسری خدا کی جگہ لینے کی کوشش۔

چوتھی غلط فہمی: پریشانی خالص روحانی معاملہ ہے، جسم اور ذہن کا اس سے تعلق نہیں۔ پاک کلام انسان کو ٹکڑوں میں نہیں دیکھتا۔ جب ایلیاہ ٹوٹ چکا تھا تو خدا نے پہلے اُسے کھانا دیا اور سلایا، پھر ہلکی آواز میں کلام کیا۔ زبوروں میں جسم کے علامات کھل کر بیان ہوتے ہیں: ہڈیاں پگھلنا، حلق سوکھنا، نیند اُڑ جانا۔ نیند، غذا، آرام، کسی امانت دار مسیحی مشیر یا ڈاکٹر سے رجوع، یہ سب خدا کے فراہم کردہ وسیلے ہو سکتے ہیں، اور اِن کا استعمال ایمان کی توہین نہیں۔ خدا نے آپ کو روح اور بدن دونوں دیے ہیں، اور وہ دونوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

سب سے پہلا قدم: اپنے خوف کا نام لیں۔ زبوروں کی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ وہ مہذب زبان میں دعا نہیں کرتے۔ "میں کب تک اپنے دل میں غم کھاؤں؟" یہ الفاظ خدا کی کتاب میں ہیں۔ اپنی دعا میں "میں پریشان ہوں" کہنے کی اجازت آپ کے پاس ہے۔ جو خوف بے نام رہتا ہے وہ بے حد لگتا ہے؛ جو خوف خدا کے سامنے نام لے کر رکھ دیا جائے، وہ سکڑنے لگتا ہے۔

دوسرا قدم: فکر کو دعا میں تبدیل کریں، دبانے میں نہیں۔ فلپیوں 4:6 کے مطابق کاغذ لیں اور جو کچھ آپ کے سر پر ہے لکھ دیں، پھر ہر نکتے کو ایک ایک کر کے دعا میں پیش کریں، اور ہر نکتے کے ساتھ ایک شکرگزاری جوڑیں۔ شکرگزاری خوش فہمی نہیں، یادداشت ہے۔ وہ آپ کو یاد دلاتی ہے کہ جس خدا نے پچھلے سال سنبھالا تھا وہ بدلا نہیں۔

تیسرا قدم: کل کو آج میں گھسنے نہ دیں۔ متی 6:34 کو ایک عملی نظم بنا لیں: رات کو سونے سے پہلے صرف اگلے دن کے لیے دعا کریں، پورے سال کے لیے نہیں۔ اگر خیال بار بار پانچ سال آگے بھاگے، تو نرمی سے اُسے واپس لائیں: "آج کے لیے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔"

چوتھا قدم: آیت کو زبان سے بولیں۔ ڈرا ہوا دل دلیل نہیں سنتا، آواز سنتا ہے۔ یسعیاہ 41:10 یاد کر لیں اور بلند آواز میں پڑھیں، خاص طور پر رات کو۔ جب دماغ خطرے کے منظر بنا رہا ہو تو کلام کی آواز اُس سے زیادہ سچی ہے۔

پانچواں قدم: تنہا نہ لڑیں۔ 1 پطرس 5:7 اُس خط میں ہے جو ایک ستائی ہوئی جماعت کو لکھا گیا، نہ کہ کسی تنہا صوفی کو۔ کسی ایک ایمان دار دوست، پاسبان یا بزرگ کو اپنی حالت بتائیں اور اُس سے دعا کرائیں۔ خوف اندھیرے میں بڑھتا ہے اور روشنی میں چھوٹا ہو جاتا ہے۔

اور چھٹا قدم: بدن کا خیال رکھیں۔ نیند پوری کریں، وقت پر کھائیں، تھوڑا چلیں، فون رات کو ایک طرف رکھ دیں، اور اگر گھبراہٹ آپ کی روزمرہ زندگی توڑ رہی ہے تو مدد لینے میں دیر نہ کریں۔ خدا سے مانگی ہوئی مدد کبھی کبھی ڈاکٹر، مشیر یا کسی دوست کی صورت میں آتی ہے۔

آئینہ

آپ سے ایک سیدھی بات۔ آپ کا خوف بے وقوفانہ نہیں ہے۔ آپ جس چیز سے ڈرتے ہیں وہ واقعی ہو سکتی ہے۔ نوکری واقعی جا سکتی ہے۔ رپورٹ واقعی بُری آ سکتی ہے۔ بچہ واقعی غلط راستے پر جا سکتا ہے۔ پاک کلام آپ کو یہ نہیں کہتا کہ خطرہ فرضی ہے۔ وہ آپ کو کچھ زیادہ سخت اور زیادہ خوبصورت بات کہتا ہے: اگر وہ سب ہو جائے، تب بھی وہ آپ کے ساتھ ہوگا، اور وہ آپ کو ہاتھ سے تھامے رہے گا۔

اب اپنے آپ سے پوچھیں: میرا خوف مجھ سے کیا کروا رہا ہے؟ کچھ لوگ ڈر کے مارے حد سے زیادہ کام کرتے ہیں، کیونکہ آرام کرنا اُنہیں غیرمحفوظ لگتا ہے، اور یوں گھر والوں کو وقت نہیں ملتا۔ کچھ لوگ ڈر کے مارے پیسہ جوڑتے رہتے ہیں اور دینے سے ہاتھ روک لیتے ہیں، اور دل تنگ ہوتا چلا جاتا ہے۔ کچھ ماں باپ خوف سے اپنے بچوں کی زندگی کو مٹھی میں بند کر لیتے ہیں اور محبت کے نام پر گلا گھونٹ دیتے ہیں۔ کچھ لوگ خوف سے رشتے نہیں بناتے، کیونکہ چھوڑ دیے جانے کا خطرہ برداشت نہیں، اور پھر تنہائی کو تقدیر کہہ کر بیٹھ جاتے ہیں۔ اور بہت سے لوگ خوف سے چپ رہتے ہیں، جماعت میں مسکراتے ہیں اور اندر سے ٹوٹتے ہیں۔

اگر آپ نے اپنی تصویر پہچان لی ہے تو یہ شرمندگی کا لمحہ نہیں، دعوت کا لمحہ ہے۔ آدم چھپ گیا تھا اور خدا نے اُسے پکارا۔ آج بھی وہی آواز ہے۔ آپ سے یہ نہیں کہا جا رہا کہ پہلے مضبوط بنیں، پھر آئیں۔ آپ سے کہا جا رہا ہے کہ کانپتے ہاتھوں کے ساتھ آئیں، اور اپنی ساری فکر اُس پر ڈال دیں، کیونکہ اُس کو آپ کی فکر ہے۔ آج رات، بس ایک جملہ: "خداوند، مجھے ڈر لگ رہا ہے، میں تجھ پر بھروسہ کرتا ہوں۔" یہ کافی ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچے خوف کو بڑوں سے چھپاتے نہیں، وہ اُسے دکھا دیتے ہیں: اندھیرے کمرے سے نکل کر آ جانا، امی کا دامن پکڑ لینا، سکول جانے سے پہلے پیٹ میں درد۔ یہی وہ لمحے ہیں جہاں انجیل کا سب سے سادہ سچ سکھایا جا سکتا ہے۔ بچوں سے کہیں کہ خدا ہمیں یہ نہیں کہتا کہ "بہادر بنو اور ڈرو مت"؛ وہ کہتا ہے "مت ڈر، کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں"۔ فرق بہت بڑا ہے۔ پہلی بات بچے کو اکیلا کر دیتی ہے، دوسری اُسے تھام لیتی ہے۔

اُنہیں طوفان والی کہانی سنائیں: کشتی میں پانی بھر رہا تھا، شاگرد چلّا رہے تھے، اور خداوند یسوع نے اُٹھ کر ہوا کو خاموش کر دیا۔ بچوں کو یہ سمجھانا مفید ہے کہ خداوند اُس وقت بھی کشتی میں تھے جب طوفان چل رہا تھا۔ وہ صرف طوفان کے بعد نہیں آتے، وہ طوفان کے دوران ساتھ ہوتے ہیں۔ ایک چھوٹی سی آیت یاد کروا دیں، مثلاً زبور 56:3 کا سادہ حصہ، اور سونے سے پہلے مل کر ایک ایک ڈر کا نام لے کر خدا کو بتا دیں۔ سکھائیں کہ خدا سے سچ بولنا اجازت ہے۔

اِسی موضوع پر ہمارے پاس مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے کہانی اور تصویری انداز میں، سکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور آیت یاد کرنے کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن کے اصل دباؤ، امتحان، دوستوں کا دباؤ، مستقبل اور شناخت کے سوالوں کے ساتھ۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت چنیں اور مل کر پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

کیا خوف محسوس کرنا گناہ ہے؟

نہیں، خوف بذاتِ خود گناہ نہیں بلکہ ایک انسانی جذبہ ہے جو خطرے کے سامنے پیدا ہوتا ہے۔ داؤد نے صاف لکھا "جس روز مجھے ڈر لگے گا"، اور خداوند یسوع مسیح خود گتسمنی میں غمگین اور بے قرار ہوئے۔ گناہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب خوف ہمارا مالک بن جائے، جب ہم اُس کی وجہ سے خدا سے چھپیں، جھوٹ بولیں، فرمانبرداری چھوڑ دیں یا اپنے آپ کو بچانے کے لیے دوسروں کو نقصان پہنچائیں۔ خوف کو خدا کے سامنے لانا ایمان کا کام ہے، اُسے چھپانا خطرناک ہے۔

بائبل میں "مت ڈر" کتنی بار آیا ہے؟

بہت سے لوگ کہتے ہیں کہ یہ تین سو پینسٹھ بار آیا ہے، ہر دن کے لیے ایک بار، مگر یہ ایک خوبصورت بات ہے، حقیقت میں گنتی ترجمے اور الفاظ کے چناؤ پر منحصر ہے۔ اتنا یقین سے کہا جا سکتا ہے کہ "مت ڈر"، "خوف نہ کر"، "ہول نہ کر" اور اس قسم کے فقرے پاک کلام میں سو سے زیادہ مرتبہ ملتے ہیں، اور یہ خدا کی طرف سے بار بار دہرایا جانے والا حکم اور تسلی ہے۔ اہم بات گنتی نہیں، بلکہ وہ وجہ ہے جو تقریباً ہر بار ساتھ آتی ہے: "کیونکہ میں تیرے ساتھ ہوں۔"

خدا کے خوف اور پریشانی والے خوف میں کیا فرق ہے؟

خداوند کا خوف ادب، حیرت اور جھکاؤ ہے؛ وہ ہمیں خدا کے قریب لاتا ہے، گناہ سے دور رکھتا ہے اور امثال کے مطابق حکمت کی ابتدا ہے۔ پریشانی والا خوف، جسے پولوس "دہشت کی روح" کہتا ہے، ہمیں سکڑا دیتا ہے، چھپاتا ہے اور خدا کو ایک خطرہ سمجھنے پر مجبور کرتا ہے۔ سادہ پہچان یہ ہے: جو خوف آپ کو دعا کی طرف لے جائے وہ صحت مند ہے؛ جو خوف آپ کو دعا سے دور کرے وہ آپ کا دشمن ہے۔ اور 1 یوحنا 4:18 کے مطابق کامل محبت اِس دوسری قسم کے خوف کو دور کر دیتی ہے۔

فلپیوں 4:6 کا اصل مطلب کیا ہے؟

اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ اپنے احساسات کو دبا دیں یا حالات کا انکار کریں۔ پولوس تین چیزیں کہتا ہے: فکر کو دعا میں بدلو، "ہر بات" لے کر آؤ یعنی کوئی مسئلہ چھوٹا نہیں، اور یہ سب شکرگزاری کے ساتھ کرو۔ شکرگزاری اس لیے کہ وہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہم جس سے مانگ رہے ہیں وہ اجنبی نہیں بلکہ ہمارا وفادار باپ ہے۔ اگلی آیت میں نتیجہ حالات کی تبدیلی نہیں بلکہ خدا کا اطمینان ہے جو دل اور خیالات پر پہرہ دیتا ہے۔

متی 6:34 کا کیا مطلب ہے، کیا مستقبل کی منصوبہ بندی غلط ہے؟

خداوند یسوع فرماتے ہیں کہ کل کے لیے فکر نہ کرو اور آج کے لیے آج ہی کا دُکھ کافی ہے۔ یہ منصوبہ بندی کی مخالفت نہیں بلکہ بوجھ اُٹھانے کے وقت کے بارے میں ہے۔ کام کرنا، بچت کرنا، احتیاط کرنا اور آنے والے دنوں کے لیے تیاری کرنا امانت داری ہے، اور پاک کلام اِس کی تعریف کرتا ہے۔ فرق یہ ہے کہ منصوبہ بندی نتیجہ خدا کے ہاتھ میں چھوڑتی ہے، جبکہ پریشانی نتیجہ اپنے کندھوں پر اُٹھا لیتی ہے، اور کندھے اِس کے لیے بنے ہی نہیں۔

پریشانی کے وقت کون سی آیات پڑھنی چاہئیں؟

سب سے مؤثر یہ ہے کہ چند آیات یاد کر لی جائیں تاکہ رات کے وقت آپ کو کتاب کھولنے کی ضرورت نہ پڑے۔ زبور 56:3 آپ کو ڈر کے لمحے میں بھروسے کے الفاظ دیتی ہے، یسعیاہ 41:10 خدا کے چار وعدے دہراتی ہے، یوحنا 14:27 خداوند کا اپنا اطمینان پیش کرتی ہے، فلپیوں 4:6 دعا کا راستہ دکھاتی ہے، اور 1 پطرس 5:7 آپ کا بوجھ اُس پر ڈالنے کی اجازت دیتی ہے۔ اِنہیں بلند آواز میں پڑھیں، کیونکہ ڈرا ہوا دل خیالوں سے زیادہ آواز پر یقین کرتا ہے۔

کیا مسیحی کے لیے دوا یا مشورہ لینا بے ایمانی ہے؟

نہیں۔ خدا نے انسان کو روح اور بدن دونوں بنایا ہے اور وہ دونوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔ لوقا انجیل کا مصنف خود طبیب تھا، اور پولوس نے تیمتھیس کو اُس کی جسمانی کمزوری کے لیے عملی مشورہ دیا۔ جس طرح بخار میں دوا لینا خدا پر بھروسے کے خلاف نہیں، اُسی طرح شدید گھبراہٹ یا ڈپریشن میں کسی امانت دار مسیحی مشیر یا ڈاکٹر سے رجوع کرنا ایمان کی کمی نہیں۔ ساتھ ساتھ دعا، کلام اور جماعت کی رفاقت کو نہ چھوڑیں، کیونکہ شفا صرف جسم کی نہیں، پورے انسان کی ہوتی ہے۔

میں نے بار بار دعا کی مگر پریشانی واپس آ جاتی ہے، کیا میرا ایمان کمزور ہے؟

پریشانی کا لوٹ آنا لازمی طور پر کمزور ایمان کی علامت نہیں۔ فلپیوں 4:7 میں خدا کا اطمینان ایک پہرے دار کی طرح بیان ہوا ہے، اور پہرہ وہاں لگتا ہے جہاں حملے ہوتے رہتے ہیں۔ خداوند یسوع نے گتسمنی میں ایک ہی دعا تین بار کی، اور پولوس نے اپنے کانٹے کے لیے تین بار منت کی۔ بار بار آنا آپ کی ناکامی نہیں بلکہ آپ کی انسانیت ہے، اور بار بار دعا کرنا ثابت قدمی ہے۔ خدا تھکتا نہیں جب آپ وہی بات دوبارہ لے کر آتے ہیں۔

1 پطرس 5:7 پر عمل کیسے کیا جائے؟

"اپنی ساری فکر اُسی پر ڈال دو" ایک عمل ہے، محض احساس نہیں۔ عملی طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی فکر کو الفاظ دیں، ایک ایک نکتہ خدا کے سامنے نام لے کر رکھیں، اور پھر شعوری طور پر یہ کہیں کہ "خداوند، اب یہ تیرے ہاتھ میں ہے۔" بہت لوگوں کو لکھنا مدد دیتا ہے، کیونکہ کاغذ پر لکھی ہوئی فکر ختم ہوتی نظر آتی ہے جبکہ دماغ میں وہ بے حد لگتی ہے۔ اور آیت کا دوسرا حصہ نہ بھولیں: آپ اپنا بوجھ کسی اجنبی پر نہیں، اُس پر ڈال رہے ہیں جس کو آپ کی فکر ہے۔

کیا خوف شیطان کی طرف سے آتا ہے؟

پاک کلام بتاتا ہے کہ شیطان جھوٹ اور الزام کے ذریعے کام کرتا ہے، اور دہشت اُس کے پسندیدہ ہتھیاروں میں سے ہے، کیونکہ 2 تیمتھیس 1:7 کے مطابق دہشت کی روح خدا کی طرف سے نہیں۔ مگر ہر خوف کو براہِ راست شیطانی حملہ کہہ دینا بھی درست نہیں؛ کچھ خوف تھکن، بیماری، صدمے یا حقیقی خطرے کا قدرتی ردِعمل ہوتا ہے۔ زیادہ مفید سوال یہ ہے کہ اِس خوف میں کون سا جھوٹ چھپا ہے، اور اُس جھوٹ کے مقابلے میں خدا کا کون سا وعدہ کھڑا کیا جا سکتا ہے۔

مجھے موت کا خوف ہے، بائبل اِس بارے میں کیا کہتی ہے؟

عبرانیوں کے خط میں لکھا ہے کہ خداوند یسوع مسیح اِسی لیے موت میں شریک ہوئے تاکہ اُن لوگوں کو چھڑائیں جو موت کے ڈر سے ساری عمر غلامی میں تھے۔ مکاشفہ 1 میں جی اُٹھے خداوند فرماتے ہیں کہ وہ مر گئے تھے اور اب ابد تک زندہ ہیں، اور موت کی کنجیاں اُن کے پاس ہیں۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ موت آپ کے لیے آخری دروازہ نہیں بلکہ ایک گزرگاہ ہے، اور اُس گزرگاہ پر پہلے سے کوئی چل چکا ہے۔ زبور 23:4 کا "تو میرے ساتھ ہے" اُس وادی کے لیے ہی لکھا گیا تھا۔

کیا ایمان دار کو کبھی مکمل طور پر خوف سے آزادی ملتی ہے؟

اِس زندگی میں ہمیں خوف سے مکمل نجات کے بجائے خوف کے اندر ایک محفوظ جگہ دی جاتی ہے۔ پولوس نے خود لکھا کہ وہ ڈر اور کپکپی کے ساتھ کرنتھس آیا تھا، پھر بھی وہ خدمت کرتا رہا۔ یوحنا 14:27 کا اطمینان حالات کی خاموشی نہیں بلکہ ایک شخص کی حضوری ہے۔ خوف سے کامل آزادی اُس دن ہوگی جب ہر آنسو پونچھا جائے گا اور موت باقی نہ رہے گی۔ اُس وقت تک ہماری بلاہٹ یہ ہے کہ ہر بار ڈر کے لمحے میں دوبارہ اُسی ہاتھ کو تھام لیں جو ہمیں تھامے ہوئے ہے۔

اختتام میں

اگر آپ اِس صفحے سے صرف ایک بات لے جا سکیں تو یہ لے جائیں: خدا آپ کے خوف کا جواب دلیل سے نہیں دیتا، اپنی موجودگی سے دیتا ہے۔ اُس نے ابرام کو رات کے اندھیرے میں ستارے دکھا کر نہیں، خود کو اُس کی سپر کہہ کر تسلی دی۔ اُس نے یشوع کو کنعان کا نقشہ نہیں دیا، ساتھ چلنے کا وعدہ دیا۔ اُس نے یسعیاہ کے ذریعے اسیر قوم کو رہائی کی تاریخ نہیں بتائی، اپنے دہنے ہاتھ کی گرفت کا یقین دلایا۔ اور جب وقت پورا ہوا تو وہی وعدہ جسم لے کر آیا اور صلیب سے پہلی رات فرمایا: "تمہارا دل نہ گھبرائے اور نہ ڈرے۔"

آپ کے خوف بے سبب نہیں ہوں گے، مگر وہ آخری لفظ بھی نہیں ہیں۔ آج شام صرف اتنا کریں: زبور 56:3 اور یسعیاہ 41:10 کھول کر بلند آواز میں پڑھیں، پھر جو کچھ آپ کے دل پر بوجھ ہے اُسے نام لے کر خدا کے سامنے رکھ دیں اور کہیں، "یہ میں تجھ پر ڈالتا ہوں، کیونکہ تجھ کو میری فکر ہے۔" اِسے چند ہفتے دہرائیے۔ آپ دیکھیں گے کہ خوف ختم ہونے سے پہلے کچھ اور بدلتا ہے: آپ اکیلے محسوس کرنا چھوڑ دیتے ہیں۔ اور یہی شفا کی پہلی سانس ہے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 4.768 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

5.710
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 28 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو لوقا 23:45

سورج تاریک ہو گیا اور بیت المُقدّس کے مُقدّس ترین کمرے کے سامنے لٹکا ہوا پردہ درمیان میں سے پھٹ…

بصیرت ادارتی کو میکاہ 7:17

قومیں جو کبھی خدا کے لوگوں کا مذاق اُڑاتی تھیں، آخر میں اپنی پناہ گاہوں سے نکل کر آتی ہیں:…

شکرگزاری ادارتی کو طِطُس 1:6

خدایا، تیرا شکر ہے کہ تُو نے کلیسیا کو ایسے بزرگ عطا کیے جو بےالزام ہیں اور اپنے گھر میں…

دعا ادارتی کو حزقی ایل 11:22

اے خدا، جب مجھے لگے کہ تُو مجھ سے دور ہٹ گیا ہے، اور میرا دل خالی سا محسوس ہو،…

بصیرت ادارتی کو گِنتی 11:12

موسیٰ خدا سے شکایت کرتے ہیں، ”کیا مَیں اِن سب لوگوں سے حاملہ ہوا تھا؟ کیا مَیں نے اُنہیں جنم…

بصیرت ادارتی کو عبدیاہ 1:1

عبدیاہ کی کتاب ایک ہی باب کی ہے، اور اُس کا آغاز یوں ہوتا ہے: ”رب قادرِ مطلق ادوم کے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟