شیطان کون ہے؟ بائبل کی تعلیم اور اُس سے بچاؤ
تعارف
رات کے دو بجے ہیں۔ کمرے میں اندھیرا ہے، گھر والے سو رہے ہیں، اور آپ چھت کو تک رہے ہیں۔ پھر وہ آواز آتی ہے۔ کوئی سینگوں والا سایہ نہیں، کوئی بھیانک شکل نہیں، بس ایک سرگوشی جو آپ کی ہی آواز میں بولتی ہے: "تُو نے جو کیا، اُس کے بعد خدا تجھے کیسے قبول کرے گا؟ تُو دکھاوے کا مسیحی ہے۔ تیری دعائیں چھت سے آگے نہیں جاتیں۔"
بہت سے ایمان دار شیطان کو فلموں میں ڈھونڈتے ہیں، جن بھوت کی کہانیوں میں، کالے جادو کے قصوں میں۔ مگر بائبل ہمیں بتاتی ہے کہ اُس کا اصل میدان کہیں اور ہے: انسانی دل کے اندر، جہاں الفاظ گونجتے ہیں اور سچ مروڑا جاتا ہے۔
اِس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ بائبل شیطان کے بارے میں اصل میں کیا فرماتی ہے: وہ کون ہے، کہاں سے آیا، کیسے کام کرتا ہے، اُس کا انجام کیا ہے، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ خداوند یسوع مسیح میں آپ کے پاس اُس کے مقابلے کے لیے کیا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ صفحہ شیطان کو ایک ہیبت ناک مخلوق کے طور پر نہیں، بلکہ ایک جھوٹی آواز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ بائبل میں اُس کا پہلا ہتھیار طاقت نہیں، سوال ہے: "کیا خدا نے سچ مچ کہا ہے؟" اور اُس کا آخری لقب بھی وہی ہے: جھوٹ کا باپ، تہمت لگانے والا، مدعی۔ وہ پہاڑ نہیں گراتا، وہ اعتماد گراتا ہے۔
یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ اگر دشمن بنیادی طور پر ایک آواز ہے تو اُس سے بچاؤ بھی توہمات، تعویذ یا خوف سے نہیں بلکہ سچائی سے ہوگا: خدا کے کلام سے، مسیح کے خون سے، اور اُس گواہی سے جو ہم زور سے بولتے ہیں۔ دشمن کو پہچاننا اُسے بڑا ماننا نہیں، اُسے اُس کے اصل قد میں دیکھنا ہے۔
بائبل شیطان کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل شیطان کو کبھی خدا کے برابر نہیں دکھاتی۔ وہ ایک مخلوق ہے، ایک گرا ہوا فرشتہ، جس کی حد بندی ہے اور جس کا وقت مقرر ہے۔ اُس کے ناموں پر غور کریں تو زاویہ خود بخود صاف ہو جاتا ہے۔ "شیطان" کا مطلب عبرانی میں مخالف یا مدعی ہے، یعنی وہ جو عدالت میں کھڑا ہو کر الزام لگاتا ہے۔ یونانی میں "دیابلوس"، جسے اردو بائبل میں "ابلیس" کہا گیا ہے، کا مطلب ہے تہمت لگانے والا، بدنام کرنے والا۔ دونوں نام زبان سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہ اتفاق نہیں۔
بائبل میں وہ پہلی بار باغ عدن میں نظر آتا ہے، اور دیکھیں کہ کس روپ میں: "اور سانپ کل دشتی جانوروں سے جن کو خداوند خدا نے بنایا تھا چالاک تھا اور اُس نے عورت سے کہا کیا خدا نے سچ مچ کہا ہے کہ باغ کے کسی درخت کا پھل تم نہ کھانا؟" (پیدائش 3:1)۔ نہ کوئی حملہ، نہ کوئی زور زبردستی۔ صرف ایک سوال، جس میں خدا کے حکم کو ذرا بڑھا کر بیان کیا گیا تاکہ خدا سخت لگے۔ یہیں شیطان کی حکمت عملی کھل جاتی ہے: پہلے خدا کے کلام میں شک، پھر خدا کی نیت پر شک، پھر نافرمانی۔
ایوب کی کتاب ہمیں ایک اور پردہ اُٹھا کر دکھاتی ہے: "اور خدا کے بیٹے ایک دن خداوند کے حضور حاضر ہوئے اور شیطان بھی اُن کے درمیان آیا" (ایوب 1:6)۔ یہاں شیطان آسمانی دربار میں آتا ہے، مگر بطور حاکم نہیں؛ وہ اجازت مانگتا ہے، حد میں رہتا ہے، اور خدا اُس کی حد مقرر فرماتے ہیں۔ اور وہ وہاں کیا کرتا ہے؟ الزام لگاتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ ایوب کی نیکی سچی نہیں، بس سودا ہے۔ گویا دشمن کا کام صرف انسان کو خدا کے خلاف بھڑکانا نہیں، بلکہ خدا کے سامنے انسان کے بارے میں جھوٹ بولنا بھی ہے۔
یسعیاہ 14:12 میں ایک ایسی آواز گونجتی ہے جو صدیوں سے کلیسیا کے کان میں ہے: "اے صبح کے ستارے تُو آسمان پر سے کیونکر گر پڑا!" یہ پیشگوئی براہ راست بابل کے مغرور بادشاہ کے بارے میں ہے، مگر اِس کے الفاظ اُس تکبر کی جڑ کو بے نقاب کرتے ہیں جو ہر بغاوت کے پیچھے ہے: "میں اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی مانند بناؤں گا"۔ کلیسیا نے ہمیشہ اِس میں اُس گرے ہوئے فرشتے کی تصویر بھی دیکھی ہے، کیونکہ خداوند یسوع نے خود فرمایا: "میں شیطان کو بجلی کی طرح آسمان سے گرا ہوا دیکھ رہا تھا" (لوقا 10:18)۔
نئے عہد نامے میں دشمن کا چہرہ مکمل طور پر بے نقاب ہوتا ہے، اور خداوند یسوع کے منہ سے۔ یہودی رہنماؤں سے آپ نے فرمایا: "تم اپنے باپ ابلیس سے ہو اور اپنے باپ کی خواہشوں کو پورا کرنا چاہتے ہو۔ وہ شروع ہی سے خونی ہے اور سچائی پر قائم نہیں رہا کیونکہ اُس میں سچائی نہیں۔ جب وہ جھوٹ بولتا ہے تو اپنی ہی سی کہتا ہے کیونکہ وہ جھوٹا ہے بلکہ جھوٹ کا باپ ہے" (یوحنا 8:44)۔ یہ آیت اِس پورے صفحے کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ شیطان جھوٹ بولتا نہیں، وہ جھوٹ ہے؛ جھوٹ اُس کی مادری زبان ہے۔ اور جہاں جھوٹ ہے وہاں موت آتی ہے، اسی لیے آپ نے اُسے "خونی" بھی فرمایا۔
پولس رسول اِسی بات کو ایک اور رخ سے کھولتے ہیں: "اور کچھ عجب نہیں کیونکہ شیطان بھی اپنے آپ کو نور کا فرشتہ بنا لیتا ہے" (2 کرنتھیوں 11:14)۔ دشمن کی سب سے خطرناک شکل بھیانک نہیں، خوبصورت ہے۔ وہ روحانیت کے لباس میں آتا ہے، مذہبی زبان بولتا ہے، معقول لگتا ہے۔ اور پطرس رسول ہمیں ہوش میں رہنے کو کہتے ہیں: "ہوشیار ہو اور جاگتے رہو کیونکہ تمہارا مخالف ابلیس گرجنے والے شیر کی طرح ڈھونڈتا پھرتا ہے کہ کس کو پھاڑ کھائے" (1 پطرس 5:8)۔ غور کریں، پطرس یہ اُن لوگوں کو لکھتے ہیں جو دُکھ اُٹھا رہے تھے، کیونکہ دشمن اُس وقت سب سے زیادہ بولتا ہے جب انسان تھکا ہوا اور تنہا ہو۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پیدائش کی کتاب میں یہ آواز باغ میں گھستی ہے، اور اُسی باب میں خدا کا پہلا وعدہ بھی آتا ہے: "اور میں تیرے اور عورت کے درمیان اور تیری نسل اور عورت کی نسل کے درمیان عداوت ڈالوں گا۔ وہ تیرے سر کو کچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی پر کاٹے گا" (پیدائش 3:15)۔ پوری بائبل اِس ایک جملے کی تکمیل کی کہانی ہے۔ سانپ کا سر کچلا جائے گا، اور یہ کام ایک "عورت کی نسل" کے ہاتھ سے ہوگا۔
پرانے عہد نامے میں شیطان کا ذکر کم ہے، مگر اُس کا کردار واضح ہے۔ ایوب میں وہ آزمانے والا اور الزام لگانے والا ہے۔ زکریاہ نبی ایک عدالت کا منظر دیکھتے ہیں جہاں یشوع سردار کاہن میلے کپڑوں میں کھڑا ہے "اور شیطان اُس کی داہنی طرف کھڑا تھا کہ اُس سے مخالفت کرے"، مگر خداوند فرماتے ہیں: "خداوند تجھے ملامت کرے اے شیطان" (زکریاہ 3:1-2)۔ یہاں پرانے عہد نامے کا سب سے خوبصورت اصول سامنے آتا ہے: مدعی بولتا ہے، مگر فیصلہ خدا کرتے ہیں، اور خدا اپنے لوگوں کے حق میں فیصلہ فرماتے ہیں۔ گندے کپڑے اُتارے جاتے ہیں اور صاف پوشاک پہنائی جاتی ہے۔ یہ صلیب کی پیشگوئی ہے۔
نئے عہد نامے میں پردہ اُٹھ جاتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح کی خدمت کا آغاز ہی اِس مقابلے سے ہوتا ہے: "اُس وقت روح یسوع کو جنگل میں لے گیا تاکہ ابلیس سے آزمایا جائے" (متی 4:1)۔ دیکھیں کہ دشمن نے آپ پر پتھر نہیں پھینکے؛ اُس نے بات کی۔ اُس نے کلام کو بھی استعمال کیا، زبور سے حوالہ دیا، مگر مروڑ کر۔ اور خداوند نے ہر بار جواب دیا: "لکھا ہے کہ آدمی صرف روٹی ہی سے جیتا نہ رہے گا بلکہ ہر بات سے جو خدا کے منہ سے نکلتی ہے" (متی 4:4)۔ جنگل میں وہ دوسرا آدم کھڑا تھا جہاں پہلا آدم گرا تھا، اور اُس نے اُسی ہتھیار سے جیتا جو ہمارے پاس بھی ہے: لکھا ہوا کلام۔
پھر انجیلوں میں آپ بدروحوں کو نکالتے ہیں، بیماروں کو چھڑاتے ہیں، اور ہر ایسا کام خدا کی بادشاہی کے آنے کا اعلان بن جاتا ہے۔ یوحنا رسول اِس ساری خدمت کا خلاصہ ایک جملے میں کر دیتے ہیں: "خدا کا بیٹا اِسی لیے ظاہر ہوا تھا کہ ابلیس کے کاموں کو مٹائے" (1 یوحنا 3:8)۔
اور صلیب؟ وہاں یہ لڑائی ختم ہوئی، اُس طرح سے جس کی دشمن کو توقع نہ تھی۔ "اور اُس نے حکومتوں اور اختیاروں کو اپنے آپ سے الگ کر کے اُن کا صاف تماشا بنایا اور صلیب کے سبب سے اُن پر فتح یابی کا شادیانہ بجایا" (کلسیوں 2:15)۔ عبرانیوں کا مصنف فرماتے ہیں کہ مسیح نے انسانی بدن لیا "تاکہ موت کے وسیلہ سے اُس کو جسے موت پر قدرت حاصل تھی یعنی ابلیس کو تباہ کر دے" (عبرانیوں 2:14)۔ مدعی کا سب سے بڑا ہتھیار ہمارا گناہ تھا؛ صلیب پر وہ ہتھیار چھین لیا گیا۔
مکاشفہ میں ساری تصویریں جمع ہو جاتی ہیں: "پس وہ بڑا اژدہا یعنی وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے اور سارے جہان کو گمراہ کر دیتا ہے زمین پر گرا دیا گیا" (مکاشفہ 12:9)۔ باغ کا سانپ، ایوب کا مدعی، جنگل کا آزمانے والا، سب ایک ہی ہے۔ اور اُس پر غالب آنے والوں کے بارے میں لکھا ہے کہ "وہ برّہ کے خون اور اپنی گواہی کے کلام کے سبب سے اُس پر غالب آئے" (مکاشفہ 12:11)۔ خون اور کلام: یعنی جو مسیح نے کیا، اور جو ہم اُس کے بارے میں بولتے ہیں۔ آواز کا جواب آواز سے دیا گیا۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ شیطان خدا کا برابر کا مقابل ہے، گویا کائنات میں دو خدا ہیں، ایک نیکی کا اور ایک بدی کا، جو ایک دوسرے سے کشتی لڑ رہے ہیں۔ بائبل اِس خیال کو جڑ سے کاٹ دیتی ہے۔ ایوب 1:6 میں شیطان دربار میں اجازت مانگنے آتا ہے؛ وہ خدا کی مقرر کردہ حد سے ایک قدم آگے نہیں بڑھ سکتا۔ زکریاہ 3 میں ایک ہی ملامت سے وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ وہ مخلوق ہے، خالق نہیں؛ محدود ہے، قادرِ مطلق نہیں؛ ہر جگہ موجود نہیں، اور دلوں کو پڑھ نہیں سکتا۔ دو طاقتوں کی جنگ نہیں، ایک بادشاہ اور ایک باغی۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ شیطان بنیادی طور پر طاقت سے کام کرتا ہے، اسی لیے بہت سے لوگ صرف "بڑے" حملوں سے ڈرتے ہیں اور روزمرہ کے جھوٹ کو نظر انداز کرتے ہیں۔ مگر پیدائش 3:1 میں وہ سوال لے کر آتا ہے، متی 4:1 میں تجویز لے کر، اور 2 کرنتھیوں 11:14 کے مطابق وہ نور کا فرشتہ بن کر آتا ہے۔ جس دشمن سے ہمیں سب سے زیادہ ہوشیار رہنا ہے وہ آپ کو ڈرانے نہیں، قائل کرنے آتا ہے۔ اکثر وہ آپ کے دماغ میں آپ ہی کی آواز میں بولتا ہے، اور اسی لیے اُس کے جھوٹ آپ کو اپنی سوچ لگتے ہیں۔
تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ ہر مسئلہ، ہر بیماری اور ہر ناکامی شیطان کا کام ہے۔ یہ سوچ ظاہراً روحانی لگتی ہے، مگر عملاً ہمیں توبہ سے بچا لیتی ہے۔ یعقوب 1 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری اپنی خواہش بھی ہمیں کھینچتی ہے، اور کلام ہماری ذمہ داری کو ہٹاتا نہیں۔ اگر آپ نے سستی سے کام کیا، اگر آپ نے سخت الفاظ کہے، اگر آپ نے بجٹ سے زیادہ خرچ کیا، تو ہر بار دشمن کو ملامت کرنا ایک نئی قسم کا جھوٹ ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جھوٹ کا باپ اِس جھوٹ سے بھی خوش ہوتا ہے، کیونکہ یہ ہمیں تبدیلی سے روک دیتا ہے۔
چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ ایمان دار کو دشمن سے ڈرتے رہنا چاہیے۔ 1 پطرس 5:8 ہمیں ہوشیاری کی تلقین کرتا ہے، خوف کی نہیں، اور اگلی ہی آیتوں میں پطرس ہمیں خدا کے قوی ہاتھ کے نیچے جھکنے کو کہتے ہیں۔ یعقوب کا حکم اِس سے بھی زیادہ صاف ہے: "پس خدا کے تابع ہو جاؤ اور ابلیس کا مقابلہ کرو تو وہ تم سے بھاگ جائے گا" (یعقوب 4:7)۔ مقابلہ کرنے والا وہی ہو سکتا ہے جس کے پیچھے ایک بڑا نام ہو۔ اور پولس رسول تسلی دیتے ہیں: "اور خدا جو اطمینان کا چشمہ ہے شیطان کو تمہارے پاؤں کے نیچے جلد کچلوا دے گا" (رومیوں 16:20)۔
پانچویں بات جسے بہت لوگ نہیں سمجھتے: یسعیاہ 14:12 کو یوں پڑھنا جیسے یہ صرف اور صرف شیطان کی سوانح عمری ہو۔ سیاق و سباق میں یہ بابل کے بادشاہ پر ماتم کا گیت ہے۔ مگر اِس گیت میں ایک آئینہ ہے، کیونکہ جو تکبر بادشاہ کو گراتا ہے وہی تکبر آسمان میں پہلی بغاوت کی جڑ تھا، اور وہی تکبر ہمارے دلوں میں بھی سرگوشی کرتا ہے کہ "میں خود اپنا خدا بن سکتا ہوں"۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
اگر دشمن بنیادی طور پر ایک آواز ہے، تو روحانی جنگ کا میدان آپ کے کان اور آپ کا دل ہے۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہر بُرے خیال کو دشمن کے کھاتے میں ڈال دیں، بلکہ یہ کہ ہم خیالات کو پرکھنا سیکھیں۔ ایک آسان سوال یہ ہے: یہ آواز مجھے مسیح کے قریب لے جا رہی ہے یا اُس سے دور؟ خدا کی روح گناہ کا احساس دلا کر ہمیں صلیب کی طرف لے جاتی ہے؛ مدعی الزام لگا کر ہمیں چھپنے پر مجبور کرتا ہے۔ دونوں آپ کے گناہ کا ذکر کریں گے، مگر ایک معافی کی طرف اشارہ کرتا ہے اور دوسرا مایوسی کی طرف۔
دفتر میں، جہاں آپ کے ساتھی آپ سے آگے بڑھ گئے ہیں، وہ آواز کہتی ہے: "خدا نے تیرے ساتھ ناانصافی کی۔" گھر میں، جب شادی میں سردی آ جاتی ہے، وہ کہتی ہے: "تُو نے غلط فیصلہ کیا، کہیں اور خوشی ملے گی۔" پیسوں کے معاملے میں وہ کہتی ہے: "تھوڑی بے ایمانی سے کچھ نہیں ہوتا، سب یہی کرتے ہیں۔" اپنے جسم کے بارے میں وہ کہتی ہے: "تُو ناکارہ ہے، تجھے کوئی نہیں چاہتا۔" تنہائی میں وہ سب سے زیادہ بولتی ہے: "تُو اکیلا ہے، اور کسی کو فرق نہیں پڑتا۔" یہ سب پیدائش 3:1 کے اُسی پہلے سوال کی نئی شکلیں ہیں: کیا خدا نے واقعی کہا ہے؟ کیا خدا واقعی بھلا ہے؟
عملی طور پر تین چیزیں کریں۔ پہلی، کلام کو یاد کریں اور زور سے بولیں۔ خداوند یسوع نے جنگل میں یہی کیا، اور یہ کوئی جادوئی منتر نہیں بلکہ سچائی کا اعلان ہے جو جھوٹ کی جگہ لے لیتا ہے۔ دوسری، جھوٹ کو روشنی میں لے آئیں۔ مدعی اندھیرے اور تنہائی میں طاقتور ہے؛ جب آپ کسی بھروسے والے ایمان دار بھائی یا بہن سے کہتے ہیں کہ "میرے دل میں یہ آواز بول رہی ہے"، تو اکثر وہ آواز اپنی آدھی طاقت کھو دیتی ہے۔ تیسری، اُن دروازوں کو بند کریں جنہیں آپ خود کھلا رکھتے ہیں۔ افسیوں 6:11 کہتا ہے: "خدا کے سب ہتھیار باندھ لو تاکہ تم ابلیس کے منصوبوں کے سامنے قائم رہ سکو۔" ہتھیار باندھنا ایک روزانہ کا عمل ہے، ایک بار کا واقعہ نہیں۔
اور جب آزمائش آئے تو یہ یاد رکھیں کہ آزمایا جانا بذات خود گناہ نہیں۔ خداوند یسوع آزمائے گئے مگر بے گناہ رہے۔ اور آپ کے لیے وعدہ ہے: "خدا سچا ہے۔ وہ تم کو تمہاری طاقت سے زیادہ آزمایش میں نہ پڑنے دے گا بلکہ آزمایش کے ساتھ نکلنے کی راہ بھی پیدا کر دے گا" (1 کرنتھیوں 10:13)۔
آئینہ
آپ سے ایک سیدھی بات کرنی ہے۔ آپ کے اندر جو آواز آپ کو مسلسل یہ بتاتی ہے کہ آپ کافی نہیں ہیں، وہ آواز کہاں سے آتی ہے؟ ممکن ہے آپ نے کبھی سوچا ہی نہ ہو، کیونکہ وہ اتنی جانی پہچانی ہے کہ آپ نے اُسے اپنی شخصیت کا حصہ مان لیا ہے۔ مگر ذرا رُک کر پوچھیں: جب آپ اپنے بچے پر چلانے کے بعد اپنے کمرے میں بیٹھتے ہیں اور کوئی کہتا ہے "تُو ناکام والدین ہے، بس یہی تیری اصلیت ہے"، تو کیا یہ خدا کا لہجہ ہے؟ خدا آپ سے توبہ مانگتے ہیں، آپ کی تحقیر نہیں کرتے۔
اور دوسری طرف، وہ آواز جو آپ کو نرمی سے یہ سمجھاتی ہے کہ تھوڑا سا سمجھوتہ کوئی مسئلہ نہیں، وہ بھی آپ کی دوست نہیں۔ فون پر وہ چند منٹ، وہ رشتہ جو آپ جانتے ہیں کہ آپ کے لیے نہیں، وہ حساب جس میں آپ نے ذرا ہیر پھیر کیا، وہ شکایت جو آپ نے پیٹھ پیچھے کی۔ ہر بار وہی پرانا سوال، بس نئے لباس میں: کیا خدا نے سچ مچ ایسا کہا ہے؟
سچ یہ ہے کہ ہم میں سے اکثر شیطان سے خوف زدہ ہونے میں وقت ضائع کرتے ہیں اور سچائی سیکھنے میں بہت کم۔ ہم بدروحوں پر گفتگو کرنے کو تیار ہیں مگر توبہ کرنے کو نہیں۔ ہم روحانی جنگ کے سیمینار میں جاتے ہیں مگر اپنی بیوی سے معافی نہیں مانگتے۔ مدعی اِس طرزِ زندگی سے بہت مطمئن ہے، کیونکہ اُس کی سب سے بڑی کامیابی یہ نہیں کہ آپ اُس سے ڈرتے ہیں، بلکہ یہ کہ آپ مسیح کو بھول جاتے ہیں۔
تو آج ایک کام کریں۔ اُس ایک جھوٹ کا نام لیں جو آپ برسوں سے سنتے آئے ہیں، اور اُس کے مقابل خدا کے کلام کا ایک جملہ رکھ دیں۔ نام لے کر دعا کریں۔ زور سے بولیں۔ آپ اکیلے نہیں لڑ رہے؛ آپ اُس فتح میں شریک ہو رہے ہیں جو صلیب پر پہلے ہی حاصل ہو چکی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں سے شیطان کے بارے میں بات کرتے وقت دو غلطیاں آسانی سے ہو جاتی ہیں: یا ہم اُنہیں ڈرا دیتے ہیں، یا ہم موضوع کو مکمل ٹال دیتے ہیں اور وہ باہر سے، اسکول کے دوستوں یا موبائل سے، ادھوری اور خوفناک باتیں سیکھ لیتے ہیں۔ بہتر راستہ درمیان میں ہے: سچ بولیں، مگر ہمیشہ مسیح کی فتح پر جملہ ختم کریں۔
بچوں کے لیے سب سے آسان اور سچی تصویر یہی ہے کہ شیطان ایک جھوٹ بولنے والا ہے۔ اُسے جھوٹ بولنا اچھا لگتا ہے، اور وہ چاہتا ہے کہ ہم خدا کی باتوں پر شک کریں، جیسے اُس نے باغ میں حوا سے کہا تھا۔ مگر وہ خدا سے بڑا ہرگز نہیں؛ وہ ایک بنایا ہوا وجود ہے جو خدا کی بات ماننے سے انکار کر بیٹھا، اور خداوند یسوع مسیح نے صلیب پر اُسے ہرا دیا۔ اِسی لیے جب کوئی بُرا خیال یا ڈر آئے، تو بچے خداوند یسوع کا نام لے کر دعا کر سکتے ہیں اور کلام کی ایک آیت بول سکتے ہیں۔
عمر کا فرق بہت اہم ہے۔ تین سے چھ سال کے بچوں کو تفصیل کی ضرورت نہیں، اُنہیں تحفظ کا احساس چاہیے۔ سات سے بارہ سال کے بچے سوال پوچھتے ہیں اور کہانی کا سلسلہ سمجھنا چاہتے ہیں: باغ سے صلیب تک۔ اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوان گہری بات کے قابل ہیں، کیونکہ وہ آزمائش، شناخت اور دباؤ کا سامنا کر رہے ہوتے ہیں اور اُنہیں یہ جاننا ضروری ہے کہ جھوٹ کو کیسے پہچانا جائے۔
ہماری ویب سائٹ پر اِن تینوں عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں، تاکہ آپ اپنے بچے کی سمجھ کے مطابق بات کر سکیں اور یہ گفتگو خوف کے بجائے ایمان کو مضبوط کرے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
شیطان کون ہے، مختصر میں بائبل کا جواب کیا ہے؟
بائبل کے مطابق شیطان ایک گرا ہوا فرشتہ ہے، خدا کی ایک مخلوق جو تکبر کے باعث خدا کے خلاف کھڑی ہو گئی۔ اُس کے بنیادی کام دو ہیں: جھوٹ بولنا اور الزام لگانا۔ خداوند یسوع نے اُسے "جھوٹا" اور "جھوٹ کا باپ" فرمایا (یوحنا 8:44)، اور پطرس رسول نے اُسے "تمہارا مخالف ابلیس" کہا (1 پطرس 5:8)۔ وہ خدا کے برابر نہیں، محدود ہے، اور صلیب پر شکست خوردہ ہے؛ اُس کی سزا اور اختتام دونوں مقرر ہیں۔
کیا شیطان اور ابلیس ایک ہی ہستی ہے؟
جی ہاں، یہ ایک ہی وجود کے دو نام ہیں۔ "شیطان" عبرانی لفظ ہے جس کا مطلب مخالف یا مدعی ہے، اور "ابلیس" اردو بائبل میں یونانی لفظ "دیابلوس" کا ترجمہ ہے، یعنی تہمت لگانے والا۔ مکاشفہ 12:9 دونوں نام ایک ساتھ استعمال کرتا ہے: "وہی پرانا سانپ جو ابلیس اور شیطان کہلاتا ہے"۔ اِسی وجود کو "پرانا سانپ"، "اژدہا"، "بعل زبول" اور "اِس جہان کا سردار" بھی کہا گیا ہے۔ نام مختلف ہیں، کردار ایک ہی ہے۔
یسعیاہ 14:12 میں "صبح کا ستارا" کون ہے؟
سیاق و سباق میں یہ آیت بابل کے مغرور بادشاہ پر ایک ماتمی گیت کا حصہ ہے، جو خود کو آسمان تک بلند سمجھتا تھا اور گرا دیا گیا۔ لاطینی ترجمے میں اِس لفظ کو "لوسیفر" لکھا گیا، اور اسی سے یہ نام مشہور ہوا۔ کلیسیا نے صدیوں سے اِس میں اُس گہری بغاوت کی جھلک بھی دیکھی ہے جو ہر انسانی تکبر کے پیچھے کارفرما ہے، خاص طور پر خداوند یسوع کے اُس کلام کی روشنی میں کہ "میں شیطان کو بجلی کی طرح آسمان سے گرا ہوا دیکھ رہا تھا" (لوقا 10:18)۔
اگر خدا اچھے ہیں تو اُنہوں نے شیطان کو کیوں رہنے دیا؟
بائبل اِس سوال کا مکمل نقشہ نہیں دیتی، مگر وہ ایک بات صاف کر دیتی ہے: شیطان آزاد نہیں، اجازت شدہ ہے۔ ایوب 1:6 کے بعد کی آیتوں میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ خدا کی مقرر کردہ حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا۔ خدا بدی کو اپنے مقاصد میں بھی موڑ دیتے ہیں؛ صلیب اِس کی سب سے بڑی مثال ہے، جہاں دشمن کی بڑی کامیابی ہی اُس کی مکمل شکست بن گئی۔ خدا نے اُسے نظر انداز نہیں کیا؛ اُس کا فیصلہ ہو چکا ہے اور اُس کا عمل درآمد بھی آ رہا ہے۔
کیا شیطان میرے خیالات پڑھ سکتا ہے؟
نہیں۔ دلوں کو جاننا صرف خدا کی صفت ہے، اور بائبل کہیں بھی شیطان کو یہ اختیار نہیں دیتی۔ وہ ہر جگہ موجود نہیں، سب کچھ جاننے والا نہیں، اور خدا جیسا نہیں۔ البتہ وہ ایک پرانا مشاہدہ کار ہے جو انسانی رویوں سے واقف ہے اور ہماری کمزوریوں کا اندازہ لگا سکتا ہے، جیسے ایک پرانا شکاری جانتا ہے کہ شکار کہاں پانی پینے آئے گا۔ اِسی لیے ہوشیاری ضروری ہے، مگر خوف نہیں؛ آپ کے دل کا مالک صرف خداوند ہے۔
کیا کوئی سچا مسیحی بدروح کے قبضے میں آ سکتا ہے؟
ایمان دار کا بدن روح القدس کا مقام ہے اور وہ مسیح کا ہے، اِس لیے بائبل کہیں کسی نئے سرے سے پیدا ہوئے ایمان دار پر بدروح کے قبضے کی تعلیم نہیں دیتی۔ مگر بائبل یہ ضرور بتاتی ہے کہ ایمان دار آزمائے جا سکتے ہیں، دھوکہ کھا سکتے ہیں اور دباؤ میں آ سکتے ہیں؛ پطرس رسول کو خداوند یسوع نے خود متی 16 میں سخت الفاظ کہے۔ اِس کا علاج توبہ، کلام، دعا، اور ایمان داروں کی جماعت میں کھلی زندگی ہے۔
آزمائش اور گناہ میں کیا فرق ہے؟
آزمائش وہ دعوت ہے جو باہر سے یا اندر کی خواہش سے آتی ہے؛ گناہ وہ لمحہ ہے جب ہم اُس دعوت کو قبول کر لیتے ہیں۔ متی 4:1 کے مطابق خداوند یسوع مسیح خود آزمائے گئے، مگر وہ بے گناہ رہے، اِس لیے آزمایا جانا بذات خود جرم نہیں۔ فرق نیت اور رضامندی میں ہے: جب ہم خیال کو مہمان کی طرح بٹھا کر اُس سے دوستی کر لیتے ہیں، تو وہ ہمارا مالک بن جاتا ہے۔ اسی لیے جلد پہچاننا اور جلد انکار کرنا سب سے بڑی حکمت ہے۔
مجھے کیسے پتہ چلے کہ آواز خدا کی ہے یا شیطان کی؟
سب سے آسان پیمانہ لکھا ہوا کلام ہے؛ جو آواز بائبل کی تعلیم اور مسیح کی شخصیت کے خلاف جاتی ہے، وہ خدا کی نہیں۔ دوسرا پیمانہ اُس کا اثر ہے: خدا کی روح گناہ کا احساس دلا کر ہمیں مسیح کے پاس لے جاتی ہے اور نرمی، توبہ اور امید پیدا کرتی ہے؛ مدعی کی آواز شرم، ناامیدی اور چھپنے کی خواہش پیدا کرتی ہے۔ اور یاد رکھیں کہ 2 کرنتھیوں 11:14 کے مطابق دھوکہ خوبصورت بھی ہو سکتا ہے، اِس لیے تنہا فیصلہ کرنے کے بجائے پکے ایمان داروں سے مشورہ لیں۔
کیا شیطان بیماری اور مصیبت بھیجتا ہے؟
ایوب کی کتاب دکھاتی ہے کہ وہ نقصان اور بیماری کا ذریعہ بن سکتا ہے، مگر صرف خدا کی اجازت کی حد میں۔ اِس کے ساتھ ساتھ بائبل یہ بھی سکھاتی ہے کہ دنیا گناہ کے باعث ٹوٹی ہوئی ہے، ہمارے جسم فانی ہیں، اور ہر تکلیف کے پیچھے براہ راست کوئی روحانی حملہ نہیں ہوتا۔ اِس لیے ہمیں دو انتہاؤں سے بچنا چاہیے: ہر بیماری کو شیطان کا کام کہنا، اور روحانی پہلو کو مکمل نظر انداز کرنا۔ دعا کریں، علاج بھی کروائیں، اور خدا کی حاکمیت پر بھروسہ رکھیں۔
کیا ہمیں شیطان سے براہ راست بات کرنی یا اُسے ڈانٹنا چاہیے؟
بائبل ہمیں بنیادی طور پر خدا سے دعا کرنے اور مسیح میں قائم رہنے کی تعلیم دیتی ہے، نہ کہ دشمن سے لمبی گفتگو کرنے کی۔ زکریاہ 3:2 میں ملامت خداوند کی طرف سے آتی ہے، اور یہوداہ کا خط ہمیں گستاخی سے منع کرتا ہے۔ یعقوب 4:7 میں ترتیب واضح ہے: پہلے خدا کے تابع ہونا، پھر ابلیس کا مقابلہ کرنا۔ اِس لیے انکار کرنا اور سچائی کا اعلان کرنا جائز ہے، مگر توجہ کا مرکز ہمیشہ خداوند یسوع مسیح ہونا چاہیے، دشمن نہیں۔
شیطان کا آخری انجام کیا ہوگا؟
بائبل اِس بارے میں غیر مبہم ہے: اُس کا مقدمہ ختم ہو چکا ہے اور صرف سزا کا نفاذ باقی ہے۔ مکاشفہ 20 میں ابلیس کو آگ اور گندھک کی جھیل میں ڈالا جاتا ہے، اور اُس کا دھوکہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو جاتا ہے۔ صلیب پر یہ فیصلہ ہو گیا تھا، جیسا کلسیوں 2:15 کہتا ہے کہ خداوند نے "صلیب کے سبب سے اُن پر فتح یابی کا شادیانہ بجایا"۔ ایمان دار کے لیے اِس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ہارے ہوئے دشمن سے لڑ رہا ہے، ایک غیر یقینی جنگ نہیں۔
کیا تعویذ، دم یا کسی خاص دعا سے شیطان سے حفاظت ملتی ہے؟
نہیں۔ حفاظت کسی چیز، لفظ یا رسم میں نہیں بلکہ ایک شخص میں ہے: خداوند یسوع مسیح۔ جب ہم اشیاء پر بھروسہ کرنے لگتے ہیں تو ہم دراصل ایک نیا جھوٹ قبول کر لیتے ہیں، اور یہی مدعی چاہتا ہے۔ مکاشفہ 12:11 غالب آنے کے دو ذریعے بتاتا ہے: "برّہ کے خون اور اپنی گواہی کے کلام کے سبب سے"۔ یعنی مسیح کے کفارے پر بھروسہ اور سچائی کا کھلا اعلان۔ اِس کے ساتھ کلام کا مطالعہ، دعا، توبہ اور کلیسیائی رفاقت آپ کی سب سے مضبوط ڈھال ہیں۔
اختتام میں
اگر آپ اِس صفحے سے ایک بات لے کر جائیں، تو یہ ہو: آپ کا دشمن ایک آواز ہے، اور اُس آواز کا علاج ایک بہتر آواز ہے۔ باغ میں اُس نے سوال پوچھا اور انسان گر گیا؛ جنگل میں اُس نے پھر سوال پوچھا، اور دوسرے آدم نے جواب دیا: "لکھا ہے"۔ عدالت میں وہ کھڑا ہو کر الزام لگاتا ہے، مگر وہاں ایک وکیل بھی کھڑا ہے جس کے ہاتھوں میں کیلوں کے نشان ہیں۔ صلیب پر مدعی سے اُس کی فائل چھین لی گئی۔
اِس لیے شیطان کا مطالعہ ہمیں خوف میں نہیں، شکرگزاری میں پہنچانا چاہیے۔ ہوشیار رہیں، جیسے پطرس رسول فرماتے ہیں، مگر اُس ہوشیاری کے ساتھ جو ایک محفوظ بچے کی ہوتی ہے، نہ کہ ایک بے یار مدد گار قیدی کی۔
اگلے قدم کے طور پر متی 4 کے پہلے گیارہ آیات کو آرام سے پڑھیں اور غور کریں کہ خداوند یسوع نے ہر جھوٹ کا جواب کس طرح دیا۔ پھر افسیوں 6 پڑھیں اور ایک ایک ہتھیار پر اپنی زندگی کا جائزہ لیں۔ اور آخر میں ایک کاغذ پر وہ جھوٹ لکھیں جو آپ کو سب سے زیادہ تنگ کرتا ہے، اور اُس کے سامنے خدا کے کلام کا وعدہ لکھ دیں۔ سچائی لکھی جائے تو جھوٹ کی آواز مدھم پڑ جاتی ہے۔
