بائبل کی شخصیت

ایوب کی زندگی اور صبر کا امتحان

تعارف

راکھ کے ایک ڈھیر پر ایک آدمی بیٹھا ہے۔ اُس کے دس بچے ایک ہی دن میں دفن ہو چکے ہیں۔ اُس کے مال مویشی لُٹ گئے، نوکر مارے گئے، اور اب اُس کا اپنا جسم پھوڑوں سے بھر گیا ہے۔ اُس کی بیوی ٹوٹ چکی ہے، اُس کے تین بہترین دوست سات دن اُس کے ساتھ خاموش بیٹھتے ہیں اور پھر بولنا شروع کرتے ہیں، اور اُن کا بولنا اُن کی خاموشی سے زیادہ تکلیف دہ ثابت ہوتا ہے۔ آسمان چُپ ہے۔ اور اِس آدمی کا نام ایوب ہے، وہی ایوب جس کے بارے میں پاک کلام کہتا ہے کہ زمین پر اُس جیسا راست باز کوئی نہ تھا۔

اگر آپ نے کبھی رات کے کسی پہر تکیے پر منہ رکھ کر پوچھا ہے کہ "خدا، آپ کہاں ہیں؟"، تو ایوب کی کتاب آپ کے لیے لکھی گئی ہے۔ اِس صفحے پر ہم ایوب کی پوری زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے، اُس کی مضبوطی اور اُس کی کمزوری کو، اور یہ دریافت کریں گے کہ اُس کے صبر کا اصل مطلب کیا تھا اور وہ صبر ہمیں مسیح تک کیسے پہنچاتا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

ہم میں سے اکثر نے سنا ہے کہ "ایوب کا صبر" کا مطلب خاموشی سے سر جھکا دینا ہے۔ لیکن اگر آپ کتاب کے چالیس باب پڑھیں تو ایوب خاموش نہیں ہے؛ وہ چیختا ہے، سوال کرتا ہے، خدا سے عدالت میں ملنے کی درخواست کرتا ہے۔ اِس رہنما کا زاویہ یہی ہے: ایوب کا صبر بے حِس برداشت نہیں، بلکہ زخمی حالت میں خدا سے لپٹے رہنا ہے۔ وہ خدا سے بھاگ کر نہیں، خدا کی طرف روتے ہوئے جاتا ہے۔ اور آخر میں خدا اُسے اُس کے سوالوں کے جواب نہیں دیتے، اپنی حضوری دیتے ہیں۔ یہی فرق اِس کتاب کو تسلی کی کتاب بناتا ہے، فلسفے کی نہیں۔

بائبل ایوب نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

ایوب کی کتاب ہمیں ایک ایسے آدمی سے ملاتی ہے جو نہ اسرائیل کا تھا، نہ ابرہام کی نسل میں گنا جاتا ہے۔ وہ ملکِ عُوض میں رہتا تھا، غالباً ادوم کے مشرق میں، اور اُس کا زمانہ آبائی زمانہ لگتا ہے، یعنی وہ دور جب گھر کا بڑا خود قربانی چڑھاتا تھا اور عمریں لمبی ہوتی تھیں۔ کلام اُس کا تعارف چار الفاظ سے کرتا ہے: خدا ترس، راست باز، بدی سے دور رہنے والا، اور نہایت دولت مند۔ اُس کے سات بیٹے اور تین بیٹیاں تھیں، ہزاروں مویشی، اور اُس علاقے میں اُس جیسا بڑا آدمی کوئی نہ تھا۔ اور وہ صرف بیرونی طور پر مذہبی نہیں تھا: وہ اپنے بچوں کی خاطر بھی قربانیاں چڑھاتا تھا، یہ سوچ کر کہ کہیں اُنہوں نے دل میں خدا کی بے حرمتی نہ کی ہو۔ یہ ایک باپ کی دعا ہے جو اپنے بچوں کے دلوں کی فکر کرتا ہے۔

پھر کتاب ہمیں ایک ایسے کمرے میں لے جاتی ہے جس کا دروازہ ہم سے عام طور پر بند رہتا ہے: آسمانی دربار۔ خدا فخر سے اپنے بندے کا ذکر کرتے ہیں، اور شیطان ایک زہریلا سوال اُٹھاتا ہے: "کیا ایوب مفت خدا سے ڈرتا ہے؟" (ایوب 1:9)۔ یہی اِس پوری کتاب کا اصل مقدمہ ہے۔ سوال یہ نہیں کہ "دُکھ کیوں آتا ہے"، سوال یہ ہے کہ "کیا انسان خدا سے بغیر معاوضے کے محبت کر سکتا ہے؟" شیطان کا دعویٰ ہے کہ ایمان ایک سودا ہے: برکتیں ہٹا دیں تو محبت بھی ہٹ جائے گی۔

اور پھر سب کچھ چھن جاتا ہے۔ ایک ہی دن میں چار خبریں آتی ہیں اور آخری خبر بچوں کی موت کی ہے۔ ایوب اُٹھتا ہے، اپنا لباس چاک کرتا ہے، سر منڈاتا ہے، زمین پر گر کر سجدہ کرتا ہے اور کہتا ہے: "میں اپنی ماں کے پیٹ سے ننگا نکلا اور ننگا ہی واپس جاؤں گا۔ خداوند نے دیا اور خداوند نے لے لیا۔ خداوند کا نام مبارک ہو" (ایوب 1:21)۔ غور کیجیے، یہ آیت جذبات کے انکار سے نہیں نکلی۔ ایوب نے پہلے اپنا لباس چاک کیا، پھر سجدہ کیا۔ ماتم اور پرستش ایک ہی سانس میں ہیں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ "کوئی بات نہیں"؛ وہ کہتا ہے کہ میری زندگی میری ملکیت نہ تھی، وہ ہمیشہ ایک عطیہ تھی۔

دوسری آزمائش اُس کے جسم پر آتی ہے۔ سر سے پاؤں تک بدترین پھوڑے، ٹھیکری سے کھجانا، راکھ میں بیٹھنا۔ اُس کی بیوی، جو خود سب کچھ کھو چکی ہے، ٹوٹ کر کہتی ہے کہ خدا کی بے حرمتی کر اور مر جا۔ ایوب کا جواب آتا ہے: "کیا ہم خدا کے ہاتھ سے سکھ ہی لیں اور دُکھ نہ لیں؟" (ایوب 2:10)۔ یہ خدا کی حاکمیت کا وہ اقرار ہے جو منہ سے آسانی سے نکلتا ہے مگر پھوڑوں کے ساتھ کہنا آسان نہیں۔ ایوب دُکھ کو حادثہ نہیں کہتا؛ وہ اُسے بھی خدا کے ہاتھ سے آنے والی چیز مانتا ہے، اور پھر بھی خدا سے چمٹا رہتا ہے۔

یہی صبر ہے: زخم کے ساتھ خدا کے دامن کو نہ چھوڑنا۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

ایوب پرانے عہد نامے میں تنہا نہیں کھڑا۔ حِزقی ایل 14:14 میں خداوند نوح، دانی ایل اور ایوب کو راست بازی کی تین مثالوں کے طور پر ایک ساتھ رکھتے ہیں، یعنی اسرائیل کی یاد میں ایوب ایک حقیقی اور مشہور شخص تھا۔ اُس کی کتاب حکمت کے اُس حصے میں شامل ہے جہاں امثال کا سیدھا اصول ("راست باز کو برکت، شریر کو سزا") زندگی کی پیچیدگی سے ٹکراتا ہے۔ ایوب امثال کا انکار نہیں کرتا، وہ امثال کو زیادہ گہرا بناتا ہے: خدا کی راہیں ایک فارمولا نہیں ہیں جسے ہم اپنے حساب سے چلا سکیں۔

اِس کے ساتھ زبور کے نالے چلتے ہیں، یرمیاہ کی شکایتیں چلتی ہیں، اور نوحہ کی آہیں چلتی ہیں۔ پاک کلام دُکھ اُٹھانے والے ایمان دار کو خاموش رہنے کا حکم نہیں دیتا؛ وہ اُسے بولنے کے لیے الفاظ دیتا ہے۔ ایوب اِسی سلسلے کا سب سے جرات مند حصہ ہے، کیونکہ وہ ایک ایسی چیز کی تمنا کرتا ہے جو اُس وقت موجود نہ تھی: کوئی درمیانی، کوئی ثالث جو خدا اور انسان کے درمیان ہاتھ رکھ سکے (ایوب 9:33)۔ اور اِسی تمنا کے عین بیچ میں سے وہ آیت پھوٹتی ہے جو صدیوں سے قبرستانوں میں پڑھی جاتی ہے: "لیکن میں جانتا ہوں کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے اور آخرکار وہ زمین پر کھڑا ہو گا" (ایوب 19:25)۔ عبرانی میں یہ لفظ "گو ایل" ہے، یعنی وہ قریبی رشتہ دار جو مقرر تھا کہ چھڑائے، قرض ادا کرے، خون کا بدلہ لے، عزت واپس دلائے۔ ایوب اپنے راکھ کے ڈھیر پر بیٹھ کر ایک ایسے رشتہ دار کا اعلان کرتا ہے جو زندہ ہے اور جو ایک دن اِس مٹی پر آ کر کھڑا ہو گا۔

نیا عہد نامہ اُس اعلان کا نام بتاتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح وہ درمیانی ہیں جس کی ایوب کو ضرورت تھی، اور وہ ایوب سے بہت آگے جاتے ہیں۔ ایوب بے گناہ نہیں تھا، صرف راست باز تھا؛ مسیح واقعی بے گناہ تھے۔ ایوب نے پوچھا "کیوں؟" اور خدا نے آندھی سے جواب دیا؛ مسیح نے صلیب پر پوچھا "اے میرے خدا، اے میرے خدا، تُو نے مجھے کیوں چھوڑ دیا؟" اور آسمان خاموش رہا، تاکہ ہم کبھی نہ چھوڑے جائیں۔ ایوب کے دوستوں نے سمجھا کہ دُکھ گناہ کا لازمی نتیجہ ہے؛ خداوند یسوع نے نابینا آدمی کے بارے میں یہی سوچ رد کی اور فرمایا کہ یہ اِس لیے ہوا کہ خدا کے کام اُس میں ظاہر ہوں (یوحنا 9:3)۔ اور جیسے شیطان نے ایوب کو مانگا تھا، ویسے ہی خداوند نے پطرس سے کہا کہ شیطان نے تمہیں مانگ لیا ہے تاکہ گیہوں کی طرح پھٹکے، مگر میں نے تمہارے لیے دعا کی (لوقا 22:31 اور 32)۔ آسمانی دربار میں آج ایوب کے بارے میں کوئی سودا نہیں ہو رہا؛ آج وہاں ہمارا وکیل بیٹھا ہے۔

یعقوب اِس سارے سلسلے کو ایک جملے میں سمیٹتا ہے: "دیکھو، ہم صابروں کو مبارک کہتے ہیں۔ تم نے ایوب کے صبر کا حال سنا ہے اور خداوند کے انجام سے واقف ہو کہ خداوند بہت مہربان اور رحیم ہے" (یعقوب 5:11)۔ یعقوب ہمیں ایوب کی مضبوطی کی طرف نہیں، بلکہ خداوند کے "انجام" کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے۔ کہانی کا مرکز ایوب کا کردار نہیں، خدا کا رحم ہے۔

اُن کی زندگی کا مرکز

ایوب کی زندگی میں تین موڑ ہیں، اور تینوں مل کر ہمیں بتاتے ہیں کہ اُس کا صبر کس قسم کا تھا۔

پہلا موڑ وہ لمحہ ہے جب سب کچھ چھن جانے کے بعد وہ سجدہ کرتا ہے۔ ایوب 1:21 اور ایوب 2:10 دونوں ایک ہی حقیقت کی گواہی دیتے ہیں: اُس کا ایمان اُس کی برکتوں کے ساتھ بندھا ہوا نہ تھا۔ شیطان کا دعویٰ اِسی مقام پر ٹوٹ جاتا ہے۔ ایک انسان ہے جو خدا سے مفت محبت کرتا ہے، جس کے پاس کوئی وجہ باقی نہ رہی اور پھر بھی وہ خدا کا نام مبارک کہتا ہے۔ دُنیا کی نظر میں یہ ہار ہے؛ آسمان کی نظر میں یہ جیت ہے۔

دوسرا موڑ باب تین ہے، اور یہی وہ حصہ ہے جسے ہم عام طور پر چھپا دیتے ہیں۔ سات دن کی خاموشی کے بعد ایوب اپنا منہ کھولتا ہے اور اپنے پیدا ہونے کے دن پر لعنت کرتا ہے۔ وہ موت کی تمنا کرتا ہے، وہ خدا کو تیر چلانے والا کہتا ہے، وہ اپنے دوستوں کو بے فائدہ تسلی دینے والے کہتا ہے، وہ کہتا ہے کہ خدا اُس کے ساتھ انصاف نہیں کر رہا۔ اُسی کے ساتھ ساتھ وہ کہتا ہے: "گو وہ مجھے قتل کرے تو بھی میں اُس کا انتظار کروں گا" (ایوب 13:15)، اور "جب وہ مجھے تپا چکے گا تو میں سونے کی مانند نکلوں گا" (ایوب 23:10)۔ یہی ایوب کا اصل چہرہ ہے: وہ خدا سے لڑ رہا ہے مگر خدا کے سامنے لڑ رہا ہے، کسی اور دروازے پر نہیں جا رہا۔ اُس کی کمزوری بھی صاف نظر آتی ہے: باب انتیس سے اکتیس تک وہ اپنی نیکیوں کی لمبی فہرست پیش کرتا ہے اور خود کو کہانی کا مرکز بنا لیتا ہے۔ خدا اِس کی اصلاح ضرور کریں گے، مگر اُسے مسترد نہیں کریں گے۔

تیسرا اور فیصلہ کن موڑ وہ ہے جب آندھی میں سے خداوند بولتے ہیں۔ ایوب کے سوالوں کی جگہ خدا کے سوال آ جاتے ہیں: "جب میں نے زمین کی بنیاد ڈالی تو تُو کہاں تھا؟ اگر تجھے سمجھ ہے تو بتا" (ایوب 38:4)۔ اِس کے بعد چار باب تک خدا برف کے خزانوں، جنگلی بکریوں کے بچے دینے، عقاب کی پرواز، شُتر مرغ کی حرکتوں اور دو خوفناک مخلوقات کی بات کرتے ہیں۔ ایوب کے مصیبت کے "کیوں" کا ذکر ایک بار بھی نہیں آتا۔ یہ سرد جواب نہیں ہے، یہ ایک باپ کا اپنے بیٹے کو گود میں لے کر کائنات کی سیر کرانا ہے۔ اور نتیجہ یہ نکلتا ہے: "میں نے تیری خبر کان سے سنی تھی پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے" (ایوب 42:5)۔ ایوب کو معلومات نہیں ملیں، خدا مل گئے۔ اُس کی توبہ اِس بات پر نہیں کہ اُس کے دُکھ اُس کے گناہوں کا نتیجہ تھے، بلکہ اِس پر کہ اُس نے وہ باتیں کیں جو اُس کی سمجھ سے باہر تھیں۔

ایوب سے ہم کیا سیکھتے ہیں

پہلا سبق یہ ہے کہ ایمان کا امتحان اکثر اُس جگہ ہوتا ہے جہاں ہمیں کوئی وضاحت نہیں ملتی۔ ایوب کو یہ کبھی نہیں بتایا گیا کہ باب ایک اور دو میں آسمان پر کیا ہوا تھا۔ ہم قارئین کو پردے کے پیچھے کی خبر ہے، ایوب کو نہیں۔ اُس نے آخر تک اندھیرے میں ایمان رکھا۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کی زندگی کے اُس دُکھ کا کوئی معنی ہو سکتا ہے جس کا معنی آپ کو اِس زندگی میں کبھی نہ بتایا جائے۔ ایمان یہ نہیں کہ ہمیں نقشہ مل جائے؛ ایمان یہ ہے کہ ہم نقشہ بنانے والے پر بھروسا کریں۔

دوسرا سبق دعا کے بارے میں ہے۔ ہم اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ خدا کے سامنے صرف صاف ستھری، تہذیب والی باتیں لے جانی چاہییں۔ ایوب اِس خیال کو توڑ دیتا ہے۔ اُس کی زبان کھری ہے، کبھی بے ادب لگنے کی حد تک، اور پھر بھی خدا باب بیالیس میں اُس کے دوستوں سے کہتے ہیں کہ تم نے میرے حق میں وہ بات نہیں کہی جو ٹھیک ہے، جیسی میرے بندے ایوب نے کہی۔ خدا کو ایوب کی زخمی سچائی، اُس کے دوستوں کی ٹھنڈی، درست دکھائی دینے والی تقریروں سے زیادہ پسند آئی۔ جو آدمی خدا سے لپٹ کر روتا ہے، وہ اُس آدمی سے قریب ہے جو خدا کے بارے میں دور بیٹھ کر لیکچر دیتا ہے۔

خدا آپ کی جھوٹی مسکراہٹ کے مقابلے میں آپ کے سچے آنسو کو ترجیح دیتے ہیں۔

تیسرا سبق بحالی کے بارے میں ہے، اور یہ سب سے نازک ہے۔ "اور جب اُس نے اپنے دوستوں کے لیے دعا کی تو خداوند نے ایوب کی مصیبت کو دور کیا اور خداوند نے ایوب کو پہلے سے دو چند دیا" (ایوب 42:10)۔ ترتیب دیکھیے: بحالی اُس وقت آئی جب ایوب اپنے اُن دوستوں کے لیے دعا کرنے لگا جنہوں نے اُسے مہینوں تک زخمی کیا تھا۔ معافی اُس کی شفا کا دروازہ بنی۔ اور یہ بھی یاد رکھیں کہ خدا نے اُسے دس نئے بچے دیے، مگر پہلے دس واپس نہیں کیے۔ بحالی کا مطلب یہ نہیں کہ ماضی مِٹا دیا جائے؛ اِس کا مطلب ہے کہ خدا اُس ماضی کے بعد بھی زندگی دینے والے رہتے ہیں۔ کچھ زخم اِس زمین پر داغ بن کر رہ جاتے ہیں، اور مسیح کے ہاتھوں میں بھی داغ رہ گئے۔

آئینہ

آپ نے یہ صفحہ کسی سبب سے کھولا ہے۔ ممکن ہے آپ کی رپورٹ ابھی آئی ہو، یا نوکری چلی گئی ہو، یا آپ ہر مہینے کے آخری ہفتے میں پیسے گِن کر سانس روک لیتے ہوں۔ ممکن ہے آپ کے گھر میں ایک ایسی خاموشی ہو جس کا نام کوئی نہیں لیتا، یا ایک بچہ ہو جو دور جا چکا ہے، یا ایک قبر ہو جس پر جانا آپ ابھی تک ٹال رہے ہیں۔ اور ممکن ہے آپ نے دعا میں یہ جملہ نگل لیا ہو: "خدا، یہ انصاف نہیں ہے۔"

ایوب آپ کو اجازت دیتا ہے کہ وہ جملہ نگلنے کی بجائے خدا کے سامنے بول دیں۔ لیکن وہ آپ کو ایک سوال بھی دیتا ہے، اور یہ سوال چُبھتا ہے: اگر آج آپ کی ساری برکتیں ہٹا لی جائیں، تو کیا محبت باقی رہے گی؟ ہم میں سے بہت سے لوگ خدا سے اُس کے تحفوں کی وجہ سے محبت کرتے ہیں، اور یہ سمجھتے ہیں کہ ہم خدا سے محبت کرتے ہیں۔ آزمائش کا اصل کام یہی ہے: وہ دکھاتی ہے کہ ہم کس چیز پر کھڑے تھے۔ اور یہ دریافت خوفناک بھی ہے اور آزاد کرنے والی بھی، کیونکہ اگر آپ کی بنیاد ہل گئی ہے تو اِس کا مطلب ہے کہ خدا آپ کو ایک زیادہ مضبوط بنیاد پر لے جا رہے ہیں۔

اور ایک بات آپ کے دوستوں کے بارے میں۔ آپ کسی کی زندگی میں ایلیفز، بلدد یا ضوفر بھی ہو سکتے ہیں۔ جب کوئی روتا ہے تو ہمارے پاس فوراً وضاحت آ جاتی ہے: "شاید خدا آپ کو کچھ سکھا رہے ہیں"، "شاید کوئی گناہ ہے"، "سب ٹھیک ہو جائے گا"۔ ایوب کے دوستوں نے سب سے اچھا کام پہلے سات دن میں کیا، جب وہ خاموش بیٹھے رہے۔ اگلی بار جب آپ کسی ٹوٹے ہوئے شخص کے پاس بیٹھیں، اپنی تقریر گھر چھوڑ دیں۔ ساتھ بیٹھنا اکثر سب سے گہری تسلی ہوتی ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کے ساتھ ایوب کی کہانی سنانا آسان لگتا ہے مگر ہے نہیں، کیونکہ اِس میں موت، بیماری اور غم ہے۔ اِس لیے سب سے پہلے یہ فیصلہ کریں کہ آپ کہانی کا کون سا حصہ اُٹھائیں گے۔ چھوٹے بچوں کے لیے سب سے محفوظ اور سب سے سچا مرکز یہ ہے: ایوب ایک ایسا آدمی تھا جس نے بہت مشکل وقت میں بھی خدا پر بھروسا کرنا نہیں چھوڑا، اور خدا نے آخر میں اُسے تنہا نہیں چھوڑا۔ آپ اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ ایوب رویا بھی، اُس نے خدا سے سوال بھی کیے، اور خدا اُس سے ناراض نہیں ہوئے؛ خدا خود اُس کے پاس آ کر بولے۔

بڑی عمر کے بچوں کے ساتھ آپ ایک قدم آگے جا سکتے ہیں اور اُن سے پوچھ سکتے ہیں کہ کیا وہ خدا سے صرف اُس صورت میں محبت کریں گے جب سب کچھ اُن کی مرضی کے مطابق ہو۔ باب اڑتیس والی بات بچوں کو خاص طور پر بھاتی ہے، جہاں خدا ستاروں، بارش، برف اور جانوروں کا ذکر کرتے ہیں؛ اِس سے وہ سیکھتے ہیں کہ خدا اِتنے بڑے ہیں کہ ہم اُنہیں پوری طرح سمجھ نہیں سکتے، اور اِتنے مہربان ہیں کہ ہم اُن پر بھروسا کر سکتے ہیں۔

اِسی موضوع پر ہمارے پاس عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے ایک نرم، سادہ کہانی؛ سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال و جواب کے ساتھ ایک تفصیلی سبق؛ اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے ایک ایسی وضاحت جو دُکھ اور انصاف کے مشکل سوالوں کا سامنا کرتی ہے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ چُنیں اور ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

ایوب نبی کون تھے اور وہ کہاں رہتے تھے؟

ایوب ملکِ عُوض کا ایک نہایت دولت مند اور خدا ترس آدمی تھا، غالباً ادوم کے مشرقی علاقے میں۔ کلام اُس کا تعارف اِن الفاظ سے کرتا ہے کہ وہ کامل اور راست باز تھا، خدا سے ڈرتا اور بدی سے دور رہتا تھا۔ اُس کے سات بیٹے، تین بیٹیاں اور ہزاروں مویشی تھے۔ وہ اسرائیلی نہیں تھا اور نہ ہی کسی نبی کی طرح پیغام سنانے والا؛ اُسے "نبی" کہنے کی روایت اُس کے مرتبے اور اُس کے ذریعے دی گئی الٰہی تعلیم کی وجہ سے مشہور ہوئی۔ حِزقی ایل 14:14 میں خداوند خود اُس کا نام نوح اور دانی ایل کے ساتھ راست بازی کی مثال کے طور پر لیتے ہیں۔

کیا ایوب واقعی ایک تاریخی شخص تھا یا صرف ایک کہانی؟

پاک کلام اُسے ایک حقیقی شخص کے طور پر پیش کرتا ہے۔ حِزقی ایل 14:14 اُس کا نام دو دوسرے تاریخی افراد کے ساتھ لیتا ہے، اور یعقوب 5:11 مسیحی جماعت کو ایوب کے صبر کی حقیقی مثال کی طرف اشارہ کرتا ہے، نہ کہ کسی فرضی کردار کی طرف۔ کتاب کا ادبی انداز شاعرانہ اور منظم ہے، جیسا حکمت کی کتابوں میں عام ہے، مگر ادبی خوبی تاریخی حقیقت کی نفی نہیں کرتی۔ بہترین سمجھ یہی ہے کہ ایک حقیقی آدمی کے حقیقی دُکھ کو الہام کے ذریعے ایک گہری، شاعرانہ صورت میں محفوظ کیا گیا۔

ایوب کی کتاب کس نے لکھی اور یہ کب لکھی گئی؟

کتاب میں مصنف کا نام نہیں دیا گیا، اِس لیے یقین سے کچھ کہنا ممکن نہیں۔ یہودی روایت میں کچھ لوگ موسیٰ کو مصنف کہتے ہیں، دوسروں نے سلیمان کے دور کے کسی حکیم یا بعد کے کسی الہامی لکھاری کی طرف اشارہ کیا ہے۔ کتاب میں بیان شدہ زندگی کا انداز، یعنی گھر کے بڑے کا خود قربانی چڑھانا اور لمبی عمر، آبائی زمانے کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی ابرہام کے دور کے قریب۔ لکھے جانے کا وقت اِس سے بہت بعد بھی ہو سکتا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ اِس کا اختیار مصنف کے نام سے نہیں، بلکہ اِس کے الہام سے ہے۔

خدا نے شیطان کو ایوب پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت کیوں دی؟

کتاب اِس کا سیدھا جواب نہیں دیتی، مگر وہ ایک بات صاف کر دیتی ہے: شیطان آزاد نہیں ہے۔ وہ ہر قدم پر اجازت مانگتا ہے اور خدا حدود مقرر کرتے ہیں، پہلے ایوب کی جان بچانے کی حد اور پھر مال و اولاد کی حد۔ آسمانی دربار میں اصل سوال یہ تھا کہ کیا انسان خدا سے بغیر معاوضے کے محبت کر سکتا ہے، اور ایوب کی وفاداری نے شیطان کے دعوے کو جھوٹا ثابت کیا۔ اِس سے ہم سیکھتے ہیں کہ ہمارے دُکھ بے مقصد نہیں ہیں، چاہے اُن کا مقصد ہم سے چھپا رہے۔

کیا ایوب کی مصیبتیں اُس کے گناہ کی سزا تھیں؟

نہیں، اور یہی اِس کتاب کا بنیادی نکتہ ہے۔ خدا خود باب ایک اور دو میں ایوب کی راست بازی کی گواہی دیتے ہیں، اور آخر میں اُس کے اُن تینوں دوستوں کو ڈانٹتے ہیں جو یہ ثابت کرنے پر تُلے تھے کہ اُس کا دُکھ کسی چھپے گناہ کا نتیجہ ہے۔ ایوب گناہ سے پاک نہیں تھا، کوئی انسان نہیں ہے، مگر اُس کے پھوڑے اور اُس کے بچوں کی موت کسی حساب کتاب کا نتیجہ نہ تھے۔ خداوند یسوع نے یوحنا 9 میں یہی سوچ رد کی جب شاگردوں نے نابینا آدمی کے بارے میں پوچھا کہ کس کا گناہ اِس کی وجہ ہے۔

ایوب کی بیوی کے بارے میں بائبل کیا کہتی ہے؟

بہت کم، اور اِسی لیے ہمیں محتاط رہنا چاہیے۔ وہ ایک ہی جملہ بولتی ہے، کہ خدا کی بے حرمتی کر اور مر جا، اور اِس پر ہم اُسے صدیوں سے کٹہرے میں کھڑا کرتے آئے ہیں۔ مگر یاد رکھیں کہ وہ بھی ماں تھی جس نے ایک ہی دن میں دس بچے کھوئے، اور اُس نے بھی سب کچھ لُٹتے دیکھا۔ اُس کا جملہ کفر ہے، مگر وہ کفر ایک ٹوٹے ہوئے دل سے نکلا۔ ایوب اُس سے علیحدگی نہیں کرتا؛ وہ نرمی سے اُسے سمجھاتا ہے، اور آخری باب میں دس نئے بچوں کی ماں غالباً وہی ہے۔

ایوب کے تین دوست کون تھے اور اُن کی اصل غلطی کیا تھی؟

ایلیفز تیمانی، بلدد سوخی اور ضوفر نعماتی۔ وہ دور سے آئے، سات دن خاموش بیٹھے رہے، اور یہ اُن کا سب سے بہتر کام تھا۔ اُن کی غلطی یہ نہ تھی کہ اُن کے سارے فقرے غلط تھے؛ اُن میں سے کئی باتیں بذاتِ خود سچ ہیں۔ اُن کی غلطی یہ تھی کہ اُنہوں نے سچائی کو ایک لاٹھی بنا لیا اور اپنے دوست پر ایک ایسا الزام لگایا جو خدا نے نہیں لگایا تھا۔ خدا نے آخر میں ایلیفز سے فرمایا کہ اُن پر اُس کا غضب بھڑکا ہے کیونکہ اُنہوں نے خدا کے حق میں ٹھیک بات نہ کہی، اور ایوب کو اُن کے لیے دعا کرنی پڑی۔

ایوب 19:25 کا کیا مطلب ہے اور یہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے؟

ایوب 19:25 میں ایوب کہتا ہے: "لیکن میں جانتا ہوں کہ میرا مخلصی دینے والا زندہ ہے اور آخرکار وہ زمین پر کھڑا ہو گا۔" عبرانی میں یہ لفظ اُس قریبی رشتہ دار کے لیے استعمال ہوتا ہے جو مصیبت میں پڑے عزیز کا قرض ادا کرے اور اُس کی عزت واپس دلائے۔ ایوب اپنی بربادی کے عین بیچ میں ایک ایسے چھڑانے والے پر ایمان کا اعلان کرتا ہے جو زندہ ہے اور جو ایک دن اِس مٹی پر آ کھڑا ہو گا۔ مسیحی ایمان میں یہ اعلان خداوند یسوع مسیح میں پورا ہوا، جو ہمارے بھائی بنے، ہمارا قرض چکایا، اور جی اُٹھے۔

خدا نے ایوب کے سوالوں کا سیدھا جواب کیوں نہیں دیا؟

کیونکہ ایوب کی سب سے گہری ضرورت وضاحت نہیں تھی، حضوری تھی۔ آندھی میں سے خدا نے پوچھا: "جب میں نے زمین کی بنیاد ڈالی تو تُو کہاں تھا؟ اگر تجھے سمجھ ہے تو بتا" (ایوب 38:4)۔ اِس کے بعد چار باب تک وہ اپنی مخلوقات کی سیر کراتے ہیں اور ایوب کی مصیبت کی وجہ ایک بار بھی نہیں بتاتے۔ اور ایوب مطمئن ہو جاتا ہے، کیونکہ اُس نے جان لیا کہ کائنات چلانے والا خدا اُس سے بولنے کے لیے خود نیچے آیا ہے۔ ایوب 42:5 کہتا ہے: "میں نے تیری خبر کان سے سنی تھی پر اب میری آنکھ تجھے دیکھتی ہے۔"

ایوب کو دو چند برکت ملنے کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہر دُکھ کے بعد ایسا ہی ہوتا ہے؟

ایوب 42:10 بتاتا ہے کہ جب ایوب نے اپنے دوستوں کے لیے دعا کی تو خداوند نے اُس کی مصیبت دور کی اور اُسے پہلے سے دو چند دیا۔ یہ خدا کی فیاضی کی گواہی ہے، مگر یہ کوئی فارمولا نہیں ہے کہ ہر ایمان دار کو اِسی دُنیا میں دُگنی دولت ملے گی۔ غور کریں کہ اُس کے پہلے دس بچے واپس نہیں ملے؛ غم کا داغ باقی رہا۔ نیا عہد نامہ ہماری اصل بحالی کو مسیح کے آنے اور جی اُٹھنے کے دن سے جوڑتا ہے۔ ایوب کی کہانی کا انجام اُس بڑے انجام کا ایک جھلکتا ہوا پیش خیمہ ہے۔

الیہو کون تھا اور اُس کی باتیں دوسروں سے مختلف کیوں ہیں؟

الیہو ایک نوجوان تھا جو باب بتیس سے سینتیس تک بولتا ہے، تینوں دوستوں کے چُپ ہونے کے بعد۔ وہ دونوں طرف سے ناراض ہے: دوستوں سے، کیونکہ اُن کے پاس جواب نہیں تھا، اور ایوب سے، کیونکہ وہ خود کو خدا سے زیادہ راست ثابت کر رہا تھا۔ الیہو دُکھ کو صرف سزا نہیں بلکہ خدا کی تربیت اور پکار بھی کہتا ہے، اور خدا کی عظمت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ آخر میں خدا اُسے ڈانٹتے نہیں، جیسے تینوں دوستوں کو ڈانٹا، مگر اُس کی تصدیق بھی نہیں کرتے۔ اُس کی تقریر آندھی کے لیے راستہ بناتی ہے۔

ایوب کے دُکھ اور خداوند یسوع مسیح کے دُکھ میں کیا فرق ہے؟

ایوب راست باز تھا مگر بے گناہ نہیں؛ خداوند یسوع مسیح واقعی بے گناہ تھے۔ ایوب اپنے دُکھ کی وجہ نہیں سمجھ سکا؛ مسیح جانتے ہوئے صلیب کی طرف بڑھے۔ ایوب کے دُکھ نے شیطان کے جھوٹ کو بے نقاب کیا؛ مسیح کے دُکھ نے شیطان کے اختیار کو توڑ دیا اور ہمارے گناہوں کا کفارہ دیا۔ ایوب کو ایک ثالث کی تمنا تھی اور مسیح خود وہ ثالث بنے۔ اِسی لیے ایوب کی کتاب پڑھتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ راکھ پر بیٹھا آدمی اُس کی طرف اشارہ کرتا ہے جو ہمارے لیے باہر، شہر کے دروازے سے بھی باہر، دُکھ اُٹھانے گیا۔

کیا مسیحی ہونے کے ناطے خدا سے شکایت کرنا گناہ ہے؟

ایوب کی کتاب اور زبور کے نالے دونوں اِس کا جواب نہ میں دیتے ہیں، بشرطیکہ شکایت خدا سے کی جائے اور خدا کے خلاف بغاوت نہ بنے۔ ایوب نے سخت باتیں کہیں اور پھر بھی خدا نے اُس کے بارے میں فرمایا کہ اُس نے ٹھیک بات کہی، اُس کے دوستوں کے مقابلے میں جن کی زبان مہذب مگر دل دور تھا۔ فرق نیت کا ہے: ایک آدمی اپنا دُکھ خدا کے قدموں میں رکھتا ہے، دوسرا خدا کو کٹہرے میں کھڑا کرتا ہے اور چل دیتا ہے۔ اپنی سچی بات لے کر خدا کے پاس آئیں؛ وہ آپ کی چیخ سے نہیں ڈرتے۔

ایوب کی زندگی کا انجام کیا ہوا؟

آخری باب بتاتا ہے کہ خداوند نے اُس کی حالت بحال کی، اُس کے بھائی بہن اور جاننے والے اُس کے گھر آ کر اُس کے ساتھ کھانا کھانے لگے اور اُس کی تسلی کی، اور اُس کے مویشی پہلے سے دُگنے ہو گئے۔ اُسے پھر سات بیٹے اور تین بیٹیاں ملیں، اور بیٹیوں کے نام بھی درج ہیں: یمیمہ، قصیعہ اور قرن ہپوک، اور اُنہیں بھائیوں کے ساتھ میراث میں حصہ دیا گیا، جو اُس زمانے میں غیر معمولی بات تھی۔ ایوب ایک سو چالیس سال جیا، اپنی چوتھی پُشت تک دیکھی، اور بوڑھا اور عمر سے آسودہ ہو کر مر گیا۔

اختتام میں

ایوب کی کہانی ہمیں دُکھ کا فلسفہ نہیں سکھاتی، وہ ہمیں دُکھ میں چلنے کا طریقہ سکھاتی ہے۔ اور وہ طریقہ خاموش برداشت نہیں ہے۔ ایوب رویا، چیخا، سوال کیا، اپنی صفائی پیش کی، غلط بھی بولا، اور پھر بھی ایک بات نہ کی: اُس نے خدا کا دامن نہ چھوڑا۔ اِسی لیے یعقوب 5:11 اُسے صابروں کی فہرست میں رکھتا ہے اور ساتھ ہی ہمیں خداوند کے "انجام" کی طرف دیکھنے کو کہتا ہے، کیونکہ کہانی کا ہیرو ایوب نہیں، وہ مہربان اور رحیم خداوند ہے جو آندھی میں سے بولنے کے لیے نیچے آتا ہے۔

اگر آپ اِس وقت اپنی راکھ کے ڈھیر پر بیٹھے ہیں، تو ایوب 19:25 کو زور سے پڑھیں اور دیکھیں کہ وہ چھڑانے والا اب صرف ایک اُمید نہیں، ایک نام ہے: خداوند یسوع مسیح، جو زخموں کے ساتھ جی اُٹھے۔ آگے بڑھنے کے لیے ایوب کی کتاب کو ایک ہی نشست میں پڑھنے کی کوشش کریں، پھر زبور 73 اور یوحنا 11 کو، اور ہر بار یہ سوال دل میں رکھیں: کیا میں خدا سے مفت محبت کر سکتا ہوں؟ جواب آپ کی حالت میں نہیں، اُس کی حضوری میں ملے گا۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.333 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

7.142
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 156 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

دعا ادارتی کو یونس 1:2

اے خدا، تُو اُن جگہوں کو بھی دیکھتا ہے جہاں جانے سے میرا دل کتراتا ہے۔ جب تُو مجھے اُن…

بصیرت ادارتی کو اِستِثنا 28:39

تُو انگور کے باغ لگا کر اُن کی پرورش کرے گا لیکن نہ اُن کی مَے پئے گا، نہ انگور…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 5:25

یسوع کہتے ہیں، ”مَیں تم کو سچ بتاتا ہوں، وہ وقت آنے والا ہے بلکہ آ چکا ہے جب مُردے…

دعا ادارتی کو دانیال 5:29

اے خدا، دنیا کے اعزاز، ارغوانی لباس اور سونے کے ہار ایک ہی رات میں ختم ہو سکتے ہیں۔ مجھے…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 15:2

کانٹ چھانٹ اُس شاخ کی نہیں ہوتی جو ناکام ہے، بلکہ اُس کی جو پھل لا رہی ہے۔ "جو شاخ…

شکرگزاری ادارتی کو ۲-تیمُتھیُس 1:17

خداوند، تیرا شکر کہ تُو نے اُنیسفرس جیسے دوست دیے جو روم میں بڑی محنت سے پولس کا کھوج لگاتے…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟