بائبل کی شخصیت

مریم، یسوع کی ماں کی زندگی

تعارف

ناصرت کوئی شہر نہیں تھا، بس ایک چھوٹی سی بستی تھی؛ چند درجن گھر، ایک کنواں، پتھریلی ڈھلوانیں اور زیتون کے درخت۔ گلیل کے اِس گاؤں سے کوئی خبر یروشلم تک نہ پہنچتی تھی۔ وہاں ایک لڑکی رہتی تھی، غالباً تیرہ یا چودہ برس کی، جس کی منگنی ایک بڑھئی سے ہو چکی تھی۔ اُس کا نام مریم تھا۔ نہ اُس کے پاس دولت تھی، نہ خاندانی رسوخ، نہ کوئی مذہبی عہدہ۔ اور پھر ایک دن، بغیر کسی پیشگی اطلاع کے، آسمان اُس کے کمرے میں داخل ہوا۔

اِس صفحے پر ہم مریم کی زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: ناصرت سے بیت لحم تک، مصر کی ہجرت سے صلیب کے سائے تک، اور بالا خانے کی دعا تک۔ ہم اُن کی طاقت کو بھی دیکھیں گے اور اُن کی الجھن کو بھی، کیونکہ بائبل دونوں کو چھپاتی نہیں۔ اور آخر میں آپ دیکھیں گے کہ مریم کی ساری زندگی کا رخ اپنی طرف نہیں، بلکہ اپنے بیٹے کی طرف مڑا ہوا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

انجیل میں مریم بہت کم بولتی ہیں۔ اُن کے صرف چار مواقع کے الفاظ محفوظ ہیں: فرشتے سے دو سوال و جواب، الیشبع کے گھر میں ایک گیت، بارہ سالہ بیٹے سے ایک شکایت آمیز سوال، اور قانا میں خدمت گاروں سے ایک ہدایت۔ اِس کے بعد وہ خاموش ہو جاتی ہیں، اور صلیب کے نیچے اُن کے ہونٹ بند ہیں۔ ہم اُن کی زندگی کو اِن ہی گنے چنے جملوں کے آئینے میں پڑھیں گے، کیونکہ اُن کے آخری محفوظ الفاظ اُن کے پورے کردار کا خلاصہ ہیں: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو۔" مریم کا سب سے بڑا اعزاز یہ نہیں کہ لوگ اُن کی طرف دیکھیں، بلکہ یہ کہ وہ ہر نظر کو مسیح کی طرف موڑ دیتی ہیں۔

بائبل مریم، یسوع کی ماں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

بائبل مریم کے بچپن، شکل و صورت یا وفات کے بارے میں ایک لفظ نہیں کہتی۔ وہ اچانک لوقا کی انجیل کے پہلے باب میں نمودار ہوتی ہیں، اور خدا کا کلام سب سے پہلے اُن کے بارے میں یہ بتاتا ہے کہ اُن پر فضل ہوا۔ فرشتہ جبرائیل کا سلام یوں درج ہے: "سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے! خداوند تیرے ساتھ ہے" (لوقا 1:28)۔ اِس فقرے کو غور سے سنیے۔ فرشتہ یہ نہیں کہتا کہ "تُو کس قدر نیک ہے" یا "تیری خدمت قبول ہوئی"۔ وہ کہتا ہے کہ تجھ پر فضل ہوا۔ فضل ایسی چیز ہے جو کمائی نہیں جاتی، دی جاتی ہے۔ مریم اِس کہانی میں مستحق ہیرو کے طور پر داخل نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ایسی لڑکی کے طور پر جس کو خدا نے مفت میں چُن لیا۔ یہی وجہ ہے کہ مریم کی زندگی مسیحی پیغام کے خلاف نہیں، بالکل اُس کے عین مطابق ہے: خدا خالی ہاتھوں کو بھرتا ہے۔

فرشتے کے پیغام کے بعد مریم نے ایک عملی سوال پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا جب کہ وہ مرد کو نہیں جانتی۔ یہ بےاعتقادی کا سوال نہ تھا، جیسا زکریاہ کا تھا، بلکہ حیرت کا سوال تھا۔ اور جب جواب آیا کہ روحُ القدس اُس پر سایہ کرے گا، تو مریم نے وہ جملہ کہا جو ہر ایمان دار کے لیے نمونہ بن گیا: "دیکھ میں خداوند کی بندی ہوں۔ میرے لیے تیرے قول کے موافق ہو" (لوقا 1:38)۔ ذرا سوچیے کہ اِس "ہاں" کی قیمت کیا تھی۔ اُس معاشرے میں غیر شادی شدہ حاملہ لڑکی کے لیے بدنامی، منگنی کا ٹوٹنا، اور بعض حالات میں جان کا خطرہ بھی موجود تھا۔ مریم نے یہ سب جانتے ہوئے اپنی عزت خدا کے ہاتھ میں رکھ دی۔

پھر وہ یہوداہ کے پہاڑی علاقے میں الیشبع کے پاس گئیں، اور وہاں اُن کے دل سے ایک گیت پھوٹ پڑا: "میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے" (لوقا 1:46)۔ یہ گیت مریم کی روحانی گہرائی کو کھول دیتا ہے۔ ایک دیہاتی نوعمر لڑکی، جس کے پاس نہ تعلیم کی ڈگری تھی نہ کتابوں کی الماری، پرانے عہدنامے کے مضامین کو یوں بُنتی ہے جیسے وہ اُس کے خون میں شامل ہوں: حنّہ کی دعا، زبور کی زبان، ابرہام سے کیا گیا وعدہ۔ اور اِس گیت کا مرکز مریم نہیں، خدا ہے۔ وہ اپنی پستی کا ذکر کرتی ہیں اور خدا کی رحمت کا، زوردار حاکموں کے تختوں سے گرائے جانے کا اور بھوکوں کے بھرے جانے کا۔ یہ گیت انقلابی ہے، مگر بندوق سے نہیں، رحمت سے۔

مریم کا گیت اپنی تعریف نہیں، خدا کی بڑائی ہے۔

اِسی دوران خدا نے یوسف کو خواب میں تسلی دی، اور متی نے اُس واقعے کے ساتھ یسعیاہ نبی کی پیش گوئی جوڑ دی: "دیکھو کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے جس کے معنی ہیں خدا ہمارے ساتھ" (متی 1:23)۔ یہاں بائبل مریم کے کردار کی صحیح جگہ متعین کرتی ہے۔ وہ مرکز نہیں ہیں، مگر وہ اُس دروازے کی چوکھٹ ہیں جس سے "خدا ہمارے ساتھ" ہمارے درمیان آیا۔ اُن کا رحم وہ مقدّس جگہ بنا جہاں ابدی کلام نے گوشت پوست کا جسم لیا۔ اِس سے بڑھ کر کسی انسان کو کیا عزت مل سکتی ہے، اور اِس سے کم کچھ بھی مریم کے ساتھ انصاف نہیں۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

مریم آسمان سے اچانک نہیں ٹپکیں۔ وہ ایک لمبی قطار کے آخر میں کھڑی ہیں، اُن عورتوں کی قطار میں جن کے ذریعے خدا نے اپنے نجات کے منصوبے کو آگے بڑھایا۔ پیدایش 3:15 میں خدا نے سانپ سے کہا تھا کہ عورت کی نسل اُس کے سر کو کچلے گی، اور اُس دن سے پوری بائبل ایک بچے کی راہ دیکھتی ہے۔ سارہ بانجھ تھی اور بڑھاپے میں اُس کے ہاں اسحاق پیدا ہوا۔ رِبقہ کے ہاں دو قومیں تھیں۔ حنّہ نے آنسوؤں میں دعا کی اور سموئیل ملا، اور اُس کی دعا کے الفاظ صدیوں بعد مریم کے گیت میں گونجے۔ راعوت ایک اجنبی موآبی عورت تھی جو داؤد کی پڑنانی بنی۔ خدا کا طریقہ بار بار وہی رہا: وہ بند رحموں، ناقابل ذکر خاندانوں اور نظرانداز شدہ عورتوں سے تاریخ بدلتا ہے۔

مریم اِس سلسلے کی انتہا ہیں، مگر ایک فرق کے ساتھ۔ سارہ اور حنّہ کے معجزے قدرت کی رکاوٹ ہٹانے کے معجزے تھے؛ مریم کا معجزہ قدرت سے بالکل باہر کی بات تھی۔ یہاں کوئی انسانی باپ نہیں، کیونکہ یہ بچہ کسی نئی نسل کا آغاز نہیں بلکہ خود خدا کا آنا تھا۔ داؤد سے کیا گیا وعدہ کہ اُس کے تخت پر ایک ہمیشہ کا بادشاہ بیٹھے گا، ناصرت کی ایک غریب لڑکی کے گھر میں پورا ہوا۔ یسعیاہ 7:14 کی وہ آیت، جو صدیوں تک ایک معمہ لگتی تھی، متی 1:23 میں کھل گئی۔

پرانے عہدنامے میں شریعت کا صندوق وہ جگہ تھی جہاں خدا کا جلال بستا تھا، اور اُس پر بادل کا سایہ ہوتا تھا۔ فرشتے نے مریم سے کہا کہ روحُ القدس اُن پر سایہ کرے گا؛ زبان کی یہ گونج اتفاقی نہیں۔ جس طرح داؤد صندوق کے آگے خوشی سے ناچا، اُسی طرح الیشبع کے پیٹ میں یوحنا اُچھلا جب مریم قریب آئیں۔ مگر خیال رہے کہ صندوق کی عظمت اُس کے تختوں میں نہیں، بلکہ اُس میں رہنے والے کے جلال میں تھی۔

نئے عہدنامے میں یہ سلسلہ مسیح میں مکمل ہوتا ہے اور پھر کلیسیا میں پھیل جاتا ہے۔ گلتیوں 4:4 کہتی ہے کہ خدا نے وقت کے پورے ہونے پر اپنے بیٹے کو بھیجا جو عورت سے پیدا ہوا اور شریعت کے ماتحت پیدا ہوا۔ یہ آیت مریم کا نام نہیں لیتی، مگر اُن کے بغیر بےمعنی ہے۔ مریم کے ذریعے مسیح ہماری اِنسانی حالت میں شامل ہوا: بھوک، تھکن، آنسو، درد، اور آخرکار موت۔ وہ فرشتہ بن کر نہیں آیا، ماں کی گود میں آیا۔ اور یہی ہماری نجات کی بنیاد ہے، کیونکہ جس چیز کو مسیح نے اپنایا نہیں، اُسے وہ بچا بھی نہیں سکتا۔

اِس لیے مریم کی کہانی کا اختتام مریم پر نہیں ہوتا۔ اعمال 1:14 میں ہم اُنہیں آخری بار دیکھتے ہیں، بالا خانے میں شاگردوں کے ساتھ دعا میں مشغول، اپنے ہی بیٹے کی عبادت کرنے والی جماعت کے درمیان بیٹھی ہوئی، ایک ماں کی حیثیت میں نہیں بلکہ ایک ایمان دار کی حیثیت میں۔ جو قطار پیدایش سے شروع ہوئی تھی وہ مریم تک پہنچی، اور مریم سے آگے بڑھ کر مسیح کے بدن، یعنی کلیسیا میں جا گری۔

ان کی زندگی کا مرکز

مریم کی ساری زندگی میں تین لمحے ایسے ہیں جن پر باقی سب کچھ گھومتا ہے، اور دلچسپ بات یہ ہے کہ تینوں میں وہ خود پیچھے ہٹ کر مسیح کو آگے کرتی ہیں۔

پہلا لمحہ ناصرت کا کمرہ ہے، جہاں انہوں نے کہا: "دیکھ میں خداوند کی بندی ہوں۔ میرے لیے تیرے قول کے موافق ہو" (لوقا 1:38)۔ یہ ایمان کا وہ سرنڈر ہے جو ابرہام کے "حاضر ہوں" کے برابر ہے۔ مگر یہ فرمانبرداری اُنہیں تکلیف سے آزاد نہیں کرتی، بلکہ سیدھا تکلیف میں لے جاتی ہے۔ بیت لحم کا سفر حمل کے آخری دنوں میں، جانوروں کی جگہ میں ولادت، چرواہوں کا اچانک آنا، مجوسیوں کے تحفے، اور پھر ہیرودیس کے قہر سے بچنے کے لیے مصر کی راتوں رات ہجرت۔ ایک ماں جو "خداوند کی بندی" بنی، پناہ گزین بن گئی۔ ہیکل میں شمعون نے اِس قیمت کا نام بھی بتا دیا تھا کہ تیری جان بھی تلوار سے چھد جائے گی (لوقا 2:35)۔ فرمانبرداری کے راستے پر برکت اور تلوار ساتھ ساتھ چلتی ہیں۔

دوسرا لمحہ قانا کی شادی ہے، جہاں مریم کے آخری محفوظ الفاظ ہیں: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو" (یوحنا 2:5)۔ اِس سے پہلے یسوع نے اُن سے وہ جواب دیا تھا جو ہمیں کھٹکتا ہے: اے عورت، مجھے تجھ سے کیا کام، ابھی میرا وقت نہیں آیا۔ یہ بدتمیزی نہیں تھی، بلکہ ایک واضح لکیر تھی۔ یسوع اپنی خدمت کا وقت اپنی ماں کی خواہش سے نہیں، اپنے آسمانی باپ کی مرضی سے مقرر کرتا ہے۔ اور مریم کا ردعمل حیران کن ہے۔ وہ ناراض نہیں ہوتیں، ضد نہیں کرتیں؛ وہ خدمت گاروں کا رخ اپنے بیٹے کی طرف موڑ دیتی ہیں۔ ماں سے شاگرد تک کا یہ سفر مریم کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ جو عورت ایک بچے کو دودھ پلاتی رہی، اب اُسی کے حکم پر کان لگانے کو کہتی ہے۔

ماں سے شاگرد بننا مریم کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔

تیسرا لمحہ صلیب ہے۔ "جب یسوع نے اپنی ماں اور اُس شاگرد کو جس کو وہ پیارا رکھتا تھا پاس کھڑے دیکھا تو ماں سے کہا اے عورت دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے" (یوحنا 19:26)۔ یہاں مریم بولتی نہیں۔ شمعون کی تلوار اُتر آئی ہے۔ اور مرتے ہوئے بیٹے نے دنیا کے گناہ کا بوجھ اٹھاتے ہوئے بھی اپنی ماں کے کھانے پینے کا بندوبست کیا، اُسے یوحنا کے حوالے کر دیا۔ مگر غور کیجیے کہ یسوع نے مریم کو کلیسیا کا سربراہ نہیں بنایا، بلکہ ایک شاگرد کے گھر کی فرد بنایا۔ صلیب کے نیچے مریم کا مقام ہمارے ساتھ ہے، اُس کے سامنے، نہ کہ اُس کے پہلو میں تخت پر۔

اِن تین لمحوں کے درمیان ایک تلخ سچ بھی ہے جسے بائبل چھپاتی نہیں۔ بارہ سالہ یسوع کو ہیکل میں پا کر مریم نے شکایت کی، اور لوقا لکھتا ہے کہ وہ اُس کی بات نہ سمجھے۔ مرقس 3 باب میں اُس کے عزیز اُسے پکڑنے آئے کیونکہ لوگ کہتے تھے کہ وہ بےخود ہے۔ مریم بھی الجھن، خوف اور غلط فہمی سے گزریں۔ اُن کا ایمان پیدائشی کمال نہیں تھا، بلکہ ایک بڑھتا ہوا، ٹھوکریں کھاتا ہوا، مگر ہار نہ ماننے والا ایمان تھا۔

مریم سے ہم کیا سیکھتے ہیں

پہلا سبق یہ ہے کہ فضل پہلے آتا ہے، فرمانبرداری بعد میں۔ فرشتے نے مریم کو "جس پر فضل ہوا ہے" کہ کر پکارا اُس سے پہلے کہ اُنہوں نے "ہاں" کہی۔ ہم اکثر ترتیب اُلٹ دیتے ہیں: پہلے اپنی کارکردگی بہتر کریں، پھر خدا ہم سے خوش ہوگا۔ مریم کی کہانی یہ ترتیب توڑ دیتی ہے۔ خدا نے پہلے چُنا، پھر بھیجا۔ آپ کا "ہاں" کہنا اُس کی محبت کی قیمت نہیں، اُس کی محبت کا جواب ہے۔ اِس لیے جب آپ اُس کے حکم کے سامنے ڈرتے ہیں، پہلے یہ یاد کریں کہ حکم دینے والا آپ سے پہلے آپ کی طرف جھکا ہے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ سچی فرمانبرداری اکثر بےآرام کرتی ہے۔ مریم کے "میرے لیے تیرے قول کے موافق ہو" کے بعد اُن کی زندگی آسان نہیں ہوئی، پیچیدہ ہو گئی: لوگوں کی سرگوشیاں، منگیتر کا شک، بیت لحم میں جگہ کی کمی، مصر کی جلاوطنی، اور آخر میں صلیب کے سامنے کھڑا ہونا۔ اگر آپ کو یہ سکھایا گیا ہے کہ خدا کی راہ پر چلنے کا مطلب ہمیشہ سکون اور کامیابی ہے، تو مریم کی زندگی اُس تعلیم کو رد کرتی ہے۔ خدا کی مرضی محفوظ ہے، مگر آرام دہ نہیں۔ اور اِسی راہ پر وہ لوگ بنتے ہیں جن کے ذریعے وہ دنیا کو چھوتا ہے۔

تیسرا سبق مریم کے آخری الفاظ میں ہے: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو" (یوحنا 2:5)۔ یہ ایک سچے رہنما، ایک سچے ماں باپ، ایک سچے مسیحی گواہ کا نصب العین ہے۔ مریم اپنے پاس آنے والوں کو اپنے پاس نہیں روکتیں۔ وہ کہتی ہیں: میری طرف نہ دیکھو، اُس کی طرف دیکھو؛ میری بات نہ مانو، اُس کی مانو۔ ماں باپ اپنے بچوں کے لیے، پاسبان اپنی کلیسیا کے لیے، اور ہم اپنے دوستوں کے لیے یہی کر سکتے ہیں۔ ہم کسی کو ایمان دے نہیں سکتے، مگر ہم اُس کا رخ مسیح کی طرف موڑ سکتے ہیں۔

اور ایک چوتھی بات، جو تینوں سبق کو باندھتی ہے: مریم کا ایمان غور و فکر سے بڑھا۔ لوقا دو بار لکھتا ہے کہ مریم اِن باتوں کو اپنے دل میں رکھ کر غور کرتی رہیں۔ اُن کے پاس ہر سوال کا جواب نہ تھا، مگر انہوں نے سوالوں کو خدا کی حضوری میں رکھا۔ یہی وہ عادت ہے جو ہمیں بھی الجھن کے موسموں میں بےایمانی سے بچاتی ہے۔

آئینہ

آپ کے پاس بھی کوئی ایسا کمرہ ہے جہاں خدا نے آپ سے کچھ کہا اور آپ ابھی تک جواب دینے سے کترا رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کی نوکری کے بارے میں ہو، جہاں دیانت داری آپ کو مہنگی پڑ رہی ہے۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کے پیسوں کے بارے میں ہو، اُس دسواں حصے کے بارے میں یا اُس قرض کے بارے میں جسے چکانا ہے۔ ہو سکتا ہے یہ آپ کے جسم کے بارے میں ہو، اُس تعلق کے بارے میں جسے آپ خدا کے کلام کے سامنے لانا نہیں چاہتے۔ یا آپ کے وقت کے بارے میں، جو موبائل کی روشنی میں پگھل رہا ہے۔ مریم کے سامنے بھی حساب صاف تھا: عزت جائے گی، لوگ باتیں کریں گے، منگیتر چھوڑ سکتا ہے۔ اور اُس نے پھر بھی کہا کہ میں خداوند کی بندی ہوں۔

ہم اکثر خدا سے پوری تصویر مانگتے ہیں تاکہ پہلا قدم اٹھا سکیں۔ مریم کو پوری تصویر نہیں ملی۔ اُس کو ایک وعدہ ملا اور ایک حکم، اور تیس سال بعد ایک صلیب۔ اگر آپ اُس دن کا انتظار کر رہے ہیں جب فرمانبرداری بےخطر ہو جائے گی، تو وہ دن نہیں آئے گا۔

اور آپ کے دل کا دوسرا کونا؟ وہ جہاں تنہائی بیٹھی ہے۔ وہ رات جب آپ کے گھر میں کوئی نہیں سمجھتا کہ آپ کیا مانتے ہیں اور کیوں۔ مریم کے اپنے گھر والے ایک وقت پر یسوع کو دیوانہ سمجھتے تھے، اور وہ اِس گھریلو کشمکش کے بیچ کھڑی تھیں۔ صلیب کے نیچے اُن کے پاس کوئی وضاحت نہ تھی، صرف حاضری تھی۔ کبھی کبھی ایمان کا سب سے بڑا کام کھڑا رہنا ہے، جب سمجھ ختم ہو چکی ہو۔

آخر میں ایک سوال، سیدھا آپ سے۔ آپ لوگوں کو کس طرف موڑتے ہیں؟ آپ کے بچے، آپ کے ساتھی، آپ کے پڑوسی، جب آپ کے پاس آتے ہیں تو کیا آپ اُنہیں اپنی رائے، اپنی طاقت اور اپنی تعریف کے گرد جمع کرتے ہیں، یا آپ ہٹ کر کہتے ہیں: جو کچھ وہ تم سے کہے وہی کرو؟ مریم کی عظمت اُس کے پیچھے ہٹنے میں تھی۔ ہماری بھی وہیں ہوگی۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو مریم کی کہانی سنانے کا سب سے آسان راستہ ایک سوال سے شروع ہوتا ہے: کیا خدا نے کبھی تمہارے دروازے پر دستک دی ہے؟ پھر بتائیں کہ ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک لڑکی رہتی تھی جسے کوئی خاص نہیں سمجھتا تھا۔ ایک دن خدا نے اپنا فرشتہ اُس کے پاس بھیجا اور کہا کہ تُو خدا کے بیٹے کی ماں بنے گی۔ مریم ڈر گئی، اُس کے دل میں بہت سوال تھے، مگر اُس نے کہا کہ ٹھیک ہے، خدا جو کہے وہی ہو۔ اور یوں یسوع بیت لحم میں پیدا ہوا، اور مریم اُس کی ماں بنی جس نے اُسے چلنا سکھایا اور جس کے بیٹے نے پوری دنیا کو بچایا۔

چھوٹے بچوں کے لیے اِتنا کافی ہے: مریم نے خدا پر بھروسہ کیا، حالانکہ وہ سب کچھ سمجھ نہیں پائی۔ ذرا بڑے بچوں سے آپ قانا کی شادی کی بات کر سکتے ہیں، جہاں مریم نے کہا کہ جو یسوع کہے وہی کرو، اور یہ سکھا سکتے ہیں کہ مریم ہمیں اپنی طرف نہیں، یسوع کی طرف بھیجتی ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ آپ صلیب کے نیچے کھڑی ماں پر بات کر سکتے ہیں، اور اُس سوال پر کہ درد میں خدا پر اعتماد کیسے قائم رہتا ہے۔

اِس بات کا خیال رکھیں کہ بچوں کے سامنے مریم کو کہانی کی ہیروئن بنانے کے بجائے خدا کے فضل کی مثال بنائیں۔ فیتھ نیٹ ورک پر مریم کی زندگی کی الگ الگ عمروں کے مطابق وضاحتیں بھی موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ اور تصویری انداز میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے کہانی اور سوالات کے ساتھ، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے گہرے سوالوں کے ساتھ۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وضاحت چنیے اور گھر کی عبادت میں اُسے پڑھیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مریم، یسوع کی ماں کون تھیں؟

مریم گلیل کے گاؤں ناصرت کی ایک یہودی لڑکی تھیں، غالباً نوعمر، جن کی منگنی داؤد کی نسل کے ایک بڑھئی یوسف سے ہو چکی تھی۔ بائبل اُن کے والدین کا نام نہیں بتاتی، مگر یہ بتاتی ہے کہ الیشبع اُن کی رشتہ دار تھی۔ فرشتہ جبرائیل نے اُنہیں خبر دی کہ وہ روحُ القدس کی قدرت سے حاملہ ہوں گی اور خدا کے بیٹے کو جنم دیں گی۔ وہ یسوع کی ماں، اُس کی پہلی معلمہ اور آخرکار اُس کی شاگرد بنیں، اور ہم اُنہیں آخری بار اعمال 1:14 میں یروشلم کی جماعت کے ساتھ دعا میں دیکھتے ہیں۔

لوقا 1:28 میں "جس پر فضل ہوا ہے" کا کیا مطلب ہے؟

فرشتے کے الفاظ ہیں: "سلام تجھ کو جس پر فضل ہوا ہے! خداوند تیرے ساتھ ہے" (لوقا 1:28)۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ مریم فضل کا سرچشمہ تھیں یا فضل بانٹنے والی تھیں، بلکہ یہ کہ وہ خدا کے مفت فضل کی وصول کنندہ تھیں۔ خدا نے اُنہیں اپنی خودمختار محبت سے چُنا، اُن کی خوبیوں کے صلے میں نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ آیت مریم کو ہم سے دور نہیں کرتی بلکہ ہمارے قریب لاتی ہے، کیونکہ ہر ایمان دار اُسی فضل سے قبول کیا جاتا ہے۔

کیا مریم واقعی کنواری تھیں جب یسوع پیدا ہوا؟

جی ہاں، اور یہ مسیحی ایمان کا بنیادی حصہ ہے۔ متی 1:23 میں یسعیاہ کی پیش گوئی کا حوالہ ہے: "دیکھو کنواری حاملہ ہوگی اور بیٹا جنے گی اور اُس کا نام عمانوایل رکھیں گے جس کے معنی ہیں خدا ہمارے ساتھ۔" لوقا بھی صاف بتاتا ہے کہ مریم نے فرشتے سے پوچھا کہ یہ کیسے ہوگا جب کہ وہ مرد کو نہیں جانتی۔ کنواری سے پیدائش اِس حقیقت کی نشانی ہے کہ یسوع کا وجود انسانی منصوبے سے نہیں، خدا کے اپنے اقدام سے شروع ہوا۔

مریم کے گیت میگنیفیکاٹ کی اہمیت کیا ہے؟

لوقا 1:46 سے شروع ہونے والا گیت اِن الفاظ سے کھلتا ہے: "میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے۔" یہ نئے عہدنامے کی سب سے پرانی مسیحی حمد کہی جا سکتی ہے، اور اِس کا موضوع مریم نہیں بلکہ وہ خدا ہے جو حاکموں کو تختوں سے گراتا ہے اور پستوں کو سرفراز کرتا ہے، بھوکوں کو اچھی چیزوں سے بھرتا ہے اور اپنے وعدوں کو یاد رکھتا ہے۔ یہ گیت ہمیں سکھاتا ہے کہ نجات کی خوشی ہمیشہ عبادت میں پھوٹتی ہے اور دنیا کے اقدار کو اُلٹ دیتی ہے۔

کیا مسیحیوں کو مریم سے دعا کرنی چاہیے؟

بائبل میں کہیں بھی مریم سے دعا کرنے یا اُن کی عبادت کرنے کی تعلیم یا مثال نہیں ملتی۔ نئے عہدنامے کی گواہی صاف ہے کہ خدا اور انسانوں کے درمیان ایک ہی درمیانی ہے، یعنی مسیح یسوع، جو انسان ہے (1 تیمتھیس 2:5)۔ ہم مریم کو مبارک کہتے ہیں، اُن کے ایمان کی عزت کرتے ہیں اور اُن کے نمونے سے سیکھتے ہیں، مگر ہماری دعا اُس باپ سے ہے جو بیٹے کے نام میں سنتا ہے۔ مریم خود ہمیں یہی کہتی ہیں: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو" (یوحنا 2:5

کیا مریم گناہ سے پاک تھیں؟

بائبل مریم کو ایمان دار، فرمانبردار اور مبارک کہتی ہے، مگر بےگناہ نہیں۔ وہ خود اپنے گیت میں خدا کو "میرا منجی" کہتی ہیں، اور منجی کی ضرورت اُسے ہوتی ہے جسے بچایا جانا ہے۔ رومیوں 3:23 کے مطابق سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں۔ لوقا اور مرقس دونوں بتاتے ہیں کہ مریم اپنے بیٹے کی باتیں ہمیشہ نہ سمجھ سکیں اور اُن کے گھر والوں نے ایک موقع پر اُسے روکنے کی کوشش کی۔ مریم کی عظمت اُن کے کمال میں نہیں، خدا کے فضل میں ہے۔

یسوع نے قانا میں اپنی ماں سے سخت لہجے میں کیوں بات کی؟

یوحنا 2 باب میں یسوع کا جواب کہ اے عورت، مجھے تجھ سے کیا کام، ابھی میرا وقت نہیں آیا، بےادبی نہیں بلکہ ایک واضح حد بندی ہے۔ اُس کی خدمت کا وقت اور طریقہ آسمانی باپ کی مرضی سے طے ہوتا ہے، خاندانی دباؤ سے نہیں۔ خوبصورت بات یہ ہے کہ مریم نے اِسے رد نہیں سمجھا۔ اُنہوں نے خدمت گاروں سے کہا: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو" (یوحنا 2:5)۔ ماں نے اپنا اختیار چھوڑ کر اپنے بیٹے کے اختیار کو تسلیم کیا۔

یسوع نے صلیب پر مریم کو "اے عورت" کیوں کہا؟

یوحنا 19:26 میں لکھا ہے: "جب یسوع نے اپنی ماں اور اُس شاگرد کو جس کو وہ پیارا رکھتا تھا پاس کھڑے دیکھا تو ماں سے کہا اے عورت دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے۔" اُس زمانے میں یہ ایک باعزت خطاب تھا، تلخ نہیں۔ اِس جملے میں دو باتیں ہیں: ایک ماں کے لیے عملی بندوبست، کہ یوحنا اب اُس کی دیکھ بھال کرے گا، اور ایک تبدیلی، کہ مریم اب اپنے بیٹے کے ساتھ خونی رشتے سے نہیں بلکہ ایمان کے نئے خاندان میں جڑی ہیں۔

یسوع کے بھائی اور بہنیں کون تھے؟

انجیل صاف طور پر یسوع کے بھائیوں اور بہنوں کا ذکر کرتی ہے، اور مرقس 6:3 میں یعقوب، یوسیس، یہوداہ اور شمعون کے نام بھی آتے ہیں۔ متی 1:25 کہتی ہے کہ یوسف نے مریم کو نہ جانا جب تک اُس کا پہلوٹھا بیٹا پیدا نہ ہوا، جس سے قدرتی مفہوم یہ نکلتا ہے کہ اِس کے بعد وہ عام میاں بیوی کی طرح رہے۔ اِسی لیے اکثر پروٹسٹنٹ مسیحی یہ سمجھتے ہیں کہ یہ مریم اور یوسف کے اپنے بچے تھے، جن میں سے یعقوب بعد میں یروشلم کی کلیسیا کا رہنما اور ایک خط کا مصنف بنا۔

کیا مریم "خدا کی ماں" کہلائی جا سکتی ہیں؟

قدیم کلیسیا نے یہ لقب مریم کی بڑائی کے لیے نہیں، بلکہ مسیح کے بارے میں سچائی کی حفاظت کے لیے استعمال کیا: جو بچہ مریم سے پیدا ہوا وہ ایک شخص تھا جس میں خدائی اور انسانی فطرت دونوں مکمل تھیں۔ اِس لیے یہ کہنا درست ہے کہ مریم نے اُس کو جنم دیا جو خدا ہے۔ مگر اِس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ مریم خدائی ذات کا سرچشمہ ہیں یا ازل سے ہیں۔ الیشبع کے الفاظ محفوظ اور کافی ہیں: وہ "میرے خداوند کی ماں" ہیں۔

مریم کی موت کیسے ہوئی اور بعد میں اُن کا کیا ہوا؟

بائبل اِس بارے میں مکمل خاموش ہے۔ آخری بار ہم اُنہیں اعمال 1:14 میں دیکھتے ہیں، جہاں وہ رسولوں اور دیگر عورتوں کے ساتھ ایک دل ہو کر دعا میں مشغول ہیں۔ اِس کے بعد نہ اُن کی وفات کا ذکر ہے، نہ قبر کا، نہ کسی خاص اعزاز کا۔ بعد کی صدیوں کی روایات مختلف باتیں کہتی ہیں، مگر وہ الہامی کلام نہیں۔ یہ خاموشی خود ایک پیغام ہے: روحُ القدس نے ہماری توجہ مریم کے انجام پر نہیں، اُن کے بیٹے کے جی اٹھنے پر مرکوز رکھی ہے۔

مریم کو مبارک کہنا اور اُن کی پوجا کرنا، اِن میں کیا فرق ہے؟

مبارک کہنا بائبلی ہے؛ مریم نے خود کہا کہ اب سے سب زمانے مجھے مبارک کہیں گے۔ اُن کے ایمان، اُن کی فرمانبرداری اور اُن کے درد کی عزت کرنا ہمارے لیے سیکھنے کا باعث ہے۔ مگر پوجا، دعا اور نجات کی اُمید صرف اُس کا حق ہے جو خالق اور منجی ہے۔ یسوع نے خود ایک عورت کے جواب میں یہ لکیر کھینچی کہ زیادہ مبارک وہ ہیں جو خدا کا کلام سنتے اور اُس پر عمل کرتے ہیں۔ عزت اور عبادت میں فرق رکھنا مریم کی خواہش کے عین مطابق ہے۔

اختتام میں

مریم کی زندگی کو اُن کے اپنے چند جملوں کی روشنی میں پڑھیے تو ایک صاف راستہ سامنے آتا ہے۔ ناصرت میں انہوں نے کہا: "میرے لیے تیرے قول کے موافق ہو" (لوقا 1:38)۔ الیشبع کے گھر میں انہوں نے گایا: "میری جان خداوند کی بڑائی کرتی ہے" (لوقا 1:46)۔ قانا میں انہوں نے ہدایت دی: "جو کچھ یہ تم سے کہے وہی کرو" (یوحنا 2:5)۔ اور صلیب کے نیچے وہ خاموش ہو گئیں، جب اُن کے بیٹے نے کہا: "اے عورت دیکھ تیرا بیٹا یہ ہے" (یوحنا 19:26)۔ فرمانبرداری، عبادت، اشارہ اور خاموشی؛ یہی ایک شاگرد کا سفر ہے۔

اِسی لیے مریم کو صحیح جگہ پر رکھنا اُن کی توہین نہیں، اُن کی خواہش کا احترام ہے۔ وہ ہمیں اپنی طرف نہیں بلاتیں۔ وہ ہمیں اُس کی طرف بھیجتی ہیں جس کا نام عمانوایل ہے، یعنی خدا ہمارے ساتھ (متی 1:23

آگے کے مطالعے کے لیے لوقا کے پہلے دو باب آرام سے پڑھیے، پھر یوحنا 2 اور یوحنا 19، اور آخر میں اعمال 1:14۔ ساتھ ہی حنّہ کی دعا (1 سموئیل 2) کو مریم کے گیت کے ساتھ رکھ کر دیکھیے۔ اور اپنے دل سے ایک سوال پوچھیے: اُس کمرے میں، جہاں خدا نے آپ سے بات کی ہے، آپ کا جواب کیا ہوگا؟

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 3.165 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

5.245
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 92 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو ۱-یوحنا 2:24

یوحنا اتنی سادہ بات کہتا ہے: "لازم ہے کہ جو کچھ آپ نے شروع سے سنا ہے وہ آپ میں…

شکرگزاری ادارتی کو لوقا 24:15

خداوند، شکر ہے کہ جب وہ دو شاگرد اُداس دل کے ساتھ راستے میں بحث کر رہے تھے تو تُو…

بصیرت ادارتی کو ۱-تِھسّلُنیکیوں 1:10

تھسلُنیکے کے ایمان دار بُتوں سے پھرے، زندہ خدا کی خدمت میں لگ گئے اور پھر انتظار میں کھڑے ہو…

دعا ادارتی کو دانیال 10:4

اے خدا، دریا کے کنارے کھڑے دانیایل کی طرح میں بھی انتظار میں ہوں۔ دن گنتا ہوں، دل بھاری ہے،…

بصیرت ادارتی کو یوحنا 4:9

کیا؟ آپ یہودی ہیں اور مجھ سے پانی مانگ رہے ہیں؟ مَیں تو سامری عورت ہوں۔“ اُس کی حیرانی سمجھ…

شکرگزاری ادارتی کو ایوب 11:14

خداوند، شکر ہے کہ تُو ہمیں یہ موقع دیتا ہے کہ ہم اپنے ہاتھوں کا گناہ دُور کریں اور ناانصافی…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے