یہوداہ اسکریوتی کون تھا؟ دغا اور اُس کا انجام
تعارف
رات کا آخری پہر ہے۔ گتسمنی کے باغ میں زیتون کے درختوں کے نیچے مشعلوں کی روشنی کانپ رہی ہے۔ تلواروں اور لاٹھیوں کی کھڑکھڑاہٹ کے درمیان ایک آدمی آگے بڑھتا ہے، بھیڑ سے الگ، اور سیدھا اُس شخص کی طرف جاتا ہے جس کے ساتھ وہ تین سال سے ایک ہی سڑک پر چلا، ایک ہی روٹی توڑی، ایک ہی آسمان کے نیچے سویا۔ وہ جھکتا ہے اور اُس کے گال پر بوسہ دیتا ہے۔ پہچان کا سب سے نرم اشارہ، جو اُس رات گرفتاری کا اشارہ بن گیا۔
یہوداہ اسکریوتی کا نام سن کر ہمارے ذہن میں فوراً ایک ولن کی تصویر اُبھرتی ہے، ایک ایسا آدمی جو ہم سے بالکل مختلف تھا۔ لیکن انجیل اُسے اِس طرح پیش نہیں کرتی۔ انجیل اُسے "اُن بارہ میں سے ایک" کہتی ہے۔ اِس صفحے پر ہم اُس کی پوری کہانی ترتیب سے دیکھیں گے: اُس کا بلاوا، اُس کی خاموش گراوٹ، اُس کا سودا، اُس کا بوسہ، اُس کا پچھتاوا اور اُس کا بھیانک انجام۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہ اُس کی کہانی میں خدا کے فضل کی آواز کہاں کہاں سنائی دیتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
ہم یہوداہ کو ایک "اچانک غدّار" کے طور پر نہیں پڑھیں گے۔ انجیل ہمیں ایک آہستہ آہستہ گلنے والی چیز دکھاتی ہے: وہ ہاتھ جو تھیلی میں خاموشی سے جاتا رہا، آخر میں تیس روپے لینے کے لیے کھل گیا۔ یہوداہ کی غدّاری ایک رات میں پیدا نہیں ہوئی؛ وہ ایک خفیہ عادت سے شروع ہوئی جسے اُس نے کبھی خداوند کے سامنے نہ رکھا۔ اِسی لیے اُس کا انجام بھی توبہ کے بجائے صرف ندامت پر ختم ہوا۔ یہ صفحہ اُس فرق کے گرد گھومتا ہے: قربت اور تبدیلی میں فرق، پچھتاوے اور توبہ میں فرق۔ یہی فرق آج بھی کلیسیا کے بیچ میں بیٹھے لوگوں کے دل کا سب سے بڑا سوال ہے۔
بائبل یہوداہ اسکریوتی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل یہوداہ کے بارے میں زیادہ تفصیل نہیں دیتی، مگر جو کچھ دیتی ہے وہ بےحد واضح ہے۔ چاروں انجیلوں میں بارہ رسولوں کی فہرست آتی ہے اور ہر فہرست کے آخر میں اُس کا نام آتا ہے، تقریباً ہمیشہ ایک تلخ اضافے کے ساتھ: "جس نے اُسے پکڑوایا بھی"۔ اُس کا لقب "اسکریوتی" غالباً یہوداہ کے جنوبی علاقے کے ایک قصبے قریوت کی طرف اشارہ کرتا ہے، یعنی وہ بارہ میں شاید اکیلا جنوبی آدمی تھا، باقی سب گلیل کے۔ اُس کے باپ کا نام شمعون تھا (یوحنا 6:71)۔ اِس کے علاوہ اُس کے ماضی کے بارے میں خاموشی ہے۔
وہ کوئی باہر کا آدمی نہ تھا۔ خداوند یسوع نے اُسے خود چُنا، اُسے دوسروں کے ساتھ منادی کے لیے بھیجا، اُسے بیماروں پر ہاتھ رکھتے دیکھا، اُسے معجزوں کا گواہ بنایا۔ اور اُسے جماعت کی رقم کی ذمہ داری بھی دی گئی۔ یہی وہ جگہ تھی جہاں سے دراڑ شروع ہوئی۔ جب مریم نے بیت عنیاہ میں قیمتی عطر خداوند کے پاؤں پر اُنڈیلا تو یہوداہ نے احتجاج کیا کہ یہ غریبوں کو کیوں نہ دیا گیا۔ یوحنا اِس پر پردہ نہیں رہنے دیتا، یوحنا 12:6 میں لکھا ہے: "اُس نے یہ اِس لئے نہ کہا کہ اُسے غریبوں کی فکر تھی بلکہ اِس لئے کہ چور تھا اور چونکہ اُس کے پاس اُن کی تھیلی رہتی تھی اور جو کچھ اُس میں پڑتا وہ نکال لیتا تھا۔"
یہ آیت پوری کہانی کی کنجی ہے۔ یہوداہ کی زبان پر غریبوں کا نام تھا اور ہاتھ تھیلی میں تھا۔ اُس نے سیکھ لیا تھا کہ کیسے روحانی الفاظ کے پیچھے ایک خفیہ زندگی چھپائی جاتی ہے۔ قربت اپنے آپ میں نجات نہیں ہے۔
اِس خفیہ عادت کا نتیجہ کچھ ہی دن بعد سامنے آیا۔ متی 26:14 سے وہ لمحہ شروع ہوتا ہے: "اُس وقت اُن بارہ میں سے ایک نے جس کا نام یہوداہ اسکریوتی تھا سردار کاہنوں کے پاس جا کر کہا۔" اگلی ہی آیت میں وہ سوال پوچھتا ہے جو قیامت تک گونجتا رہے گا: اگر میں اُسے تمہارے حوالہ کرا دوں تو مجھے کیا دینے کو راضی ہو؟ غور کیجیے کہ متی نے اُسے "اُن بارہ میں سے ایک" کہہ کر یاد دلایا۔ یہ کسی اجنبی کا جرم نہیں، اندر کے آدمی کا جرم ہے۔ اور قیمت تیس روپے، یعنی چاندی کے تیس سکے، شریعت میں ایک غلام کی جان کا معاوضہ۔ خداوند کی قیمت ایک غلام کے برابر لگائی گئی۔
آخری رات کھانے کی میز پر خداوند یسوع نے صاف کہا کہ اُن میں سے ایک اُنہیں پکڑوائے گا۔ نوالہ یہوداہ کو دیا گیا، اور یوحنا 13:27 بتاتا ہے: "اور نوالہ لیتے ہی شیطان اُس میں سما گیا۔ پس یسوع نے اُس سے کہا جو کچھ تُو کرتا ہے جلد کر لے۔" یہ آیت دو سچائیاں ایک ساتھ رکھتی ہے جنہیں ہم الگ کرنا چاہتے ہیں: شیطان کی اصل مداخلت، اور یہوداہ کی اپنی ذمہ داری۔ خداوند نے اُس سے یہ نہیں کہا کہ "تجھ پر زبردستی ہو رہی ہے"، بلکہ "جو کچھ تُو کرتا ہے"۔ ابلیس نے دروازہ توڑا نہیں تھا؛ دروازہ مہینوں سے کھلا پڑا تھا۔
پھر باغ میں وہ لمحہ آیا جس کے بارے میں لوقا 22:48 لکھتا ہے: "مگر یسوع نے اُس سے کہا اَے یہوداہ! کیا تُو بوسہ لے کر ابنِ آدم کو پکڑواتا ہے؟" خداوند نے اُسے نام لے کر پکارا۔ یہ عدالت کی گرج نہیں، ایک زخمی محبت کا سوال ہے۔ آخری دم تک اُس کے لیے دروازہ کھلا رکھا گیا، مگر یہوداہ اُس دروازے سے باہر ہی رہا۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یہوداہ کی کہانی آسمان سے اچانک نہیں گری۔ پرانے عہدنامے میں ایک تاریک دھاگا پہلے سے بُنا ہوا ہے: قریبی لوگوں کی غدّاری۔ یوسف کو اُس کے اپنے بھائیوں نے چاندی کے سکوں کے عوض اسماعیلیوں کے ہاتھ بیچا، اور خدا نے اُسی غدّاری کو بعد میں پورے خاندان کی بقا کا راستہ بنا دیا۔ داؤد کا تجربہ اِس سے بھی زیادہ ذاتی تھا۔ زبور 41:9 میں وہ کراہتا ہے: "بلکہ میرے دلی دوست نے جس پر مجھے اعتماد تھا اور جو میری روٹی کھاتا تھا مجھ پر لات اُٹھائی۔" یہ کسی دشمن کا وار نہیں، میز کے ساتھی کا وار ہے۔ داؤد کا مشیر اخیتفل، جس کی رائے خدا کے کلام کی طرح مانی جاتی تھی، ابی سلوم کے ساتھ جا ملا اور آخر میں اپنے گھر جا کر خود کو پھانسی دے لی۔ کون کہہ سکتا ہے کہ یہ منظر یہوداہ کے انجام سے کتنا ملتا جلتا ہے۔
خداوند یسوع نے خود زبور 41:9 کو اپنی زندگی پر لاگو کیا۔ آخری رات اُنہوں نے یوحنا 13:18 میں شاگردوں سے کہا کہ یہ اِس لیے ہو رہا ہے تاکہ یہ نوشتہ پورا ہو کہ جو میری روٹی کھاتا ہے اُس نے مجھ پر لات اُٹھائی۔ یعنی خداوند بےخبری میں پھنسے ہوئے شکار نہ تھے۔ وہ جانتے تھے، اور پھر بھی اُنہوں نے یہوداہ کے پاؤں دھوئے، اور پھر بھی اُسے اپنی میز پر جگہ دی۔
زکریاہ نبی کی کتاب کا گیارہواں باب ایک اور دھاگا جوڑتا ہے: وہاں خدا کے چرواہے کی مزدوری چاندی کے تیس سکے مقرر کی جاتی ہے اور اُسے حقارت کے ساتھ خداوند کے گھر میں کمہار کے آگے پھینک دیا جاتا ہے۔ صدیوں بعد متی نے اُس منظر کو دوبارہ ہوتے دیکھا: سکے ہیکل میں پھینکے گئے اور اُن سے کمہار کا کھیت خریدا گیا۔ نبیوں کے صفحات پر لکھی ہوئی سطریں گتسمنی کی رات میں جسم اختیار کر گئیں۔
مگر سلسلہ یہیں ختم نہیں ہوتا۔ پرانے عہدنامے میں غدّاری ہمیشہ موت پر ختم ہوتی تھی؛ نئے عہدنامے میں غدّاری نجات کا دروازہ بن گئی۔ یوسف کے ساتھ جو ہوا وہ قحط میں زندگی لے آیا؛ خداوند یسوع کے ساتھ جو ہوا وہ پوری دنیا کے لیے معافی لے آیا۔ یہوداہ کا بوسہ شیطان کی چال تھا، مگر اُسی بوسے کے ذریعے وہ برّہ قربانگاہ تک پہنچا جس کا اعلان یسعیاہ 53 میں صدیوں پہلے ہو چکا تھا۔ انسان کی سب سے گھٹیا حرکت خدا کے سب سے بڑے کام کو روک نہ سکی۔
یہ بات ہمیں خدا کی حاکمیت کے بارے میں ایک گہرا سکون دیتی ہے اور ساتھ ہی ایک سنجیدہ انتباہ بھی۔ خدا کے منصوبے میں یہوداہ کا کردار پورا ہوا، مگر مرقس 14:21 میں خداوند نے جو کہا وہ بھی سچ ہے کہ اُس آدمی پر افسوس جس کے وسیلہ سے ابنِ آدم پکڑوایا جاتا ہے۔ خدا کی مرضی کا پورا ہونا کسی گنہگار کو اُس کی ذمہ داری سے بری نہیں کرتا۔
ان کی زندگی کا مرکز
یہوداہ کی زندگی میں تین لمحے ایسے ہیں جن کے گرد باقی سب کچھ گھومتا ہے، اور تینوں میں وہی خفیہ ہاتھ نظر آتا ہے جس کا ذکر ہم نے شروع میں کیا۔
پہلا لمحہ بیت عنیاہ کا ہے، جب مریم نے عطر اُنڈیلا۔ باہر سے یہ ایک معاشی بحث تھی، اندر سے یہ دو دلوں کا مقابلہ تھا۔ مریم نے اپنی سب سے قیمتی چیز خداوند کے قدموں میں بہا دی؛ یہوداہ نے اُسی خداوند کی قیمت لگانی شروع کر دی۔ اُس دن دو حساب کتاب آمنے سامنے آئے: عبادت کا حساب اور نفع کا حساب۔ یوحنا 12:6 ہمیں بتاتا ہے کہ یہوداہ کے اعتراض کے نیچے مہینوں کی خاموش بےایمانی چھپی تھی۔ کوئی بھی آدمی ایک ہی دن میں خداوند کو نہیں بیچتا؛ پہلے وہ سینکڑوں چھوٹے سکے چراتا ہے۔ چھوٹی چوری نے بڑی غدّاری کا دروازہ کھولا۔
دوسرا لمحہ سردار کاہنوں کے صحن میں ہے۔ متی 26:14 کے مطابق وہ خود چل کر اُن کے پاس گیا۔ کسی نے اُسے مجبور نہیں کیا، کسی نے اُسے بلایا نہیں۔ وہ ایک سودے کی تلاش میں تھا اور اُسے گاہک مل گئے۔ یہاں ایک بات نوٹ کرنے والی ہے: جب دل کسی چیز کا عادی ہو جائے تو موقع خود بخود ڈھونڈ لیتا ہے۔ تیس روپے بہت بڑی رقم نہ تھی، شاید چار مہینے کی مزدوری۔ انسان اپنے خداوند کو ہمیشہ بڑی قیمت پر نہیں بیچتا؛ اکثر وہ بہت سستے میں بکتا ہے۔
تیسرا اور سب سے دردناک لمحہ باغ میں ہے۔ یہوداہ نے پہچان کے لیے جو نشان چُنا وہ بوسہ تھا، محبت اور احترام کی علامت۔ لوقا 22:48 میں خداوند کا سوال اِسی زخم پر انگلی رکھتا ہے: "اَے یہوداہ! کیا تُو بوسہ لے کر ابنِ آدم کو پکڑواتا ہے؟" متی لکھتا ہے کہ خداوند نے اُسے "اَے دوست" کہہ کر مخاطب کیا۔ آخری سانس تک رحم کا دروازہ کھٹکھٹایا گیا۔
اور پھر چوتھا منظر، جو اصل میں پہلے تین کا نتیجہ ہے۔ جب یہوداہ نے دیکھا کہ خداوند یسوع مجرم ٹھہرا دیے گئے تو اُسے ہوش آیا۔ متی 27:3 کے مطابق وہ پچھتایا اور تیس روپے واپس لے آیا اور اعتراف کیا کہ اُس نے بےقصور کو قتل کے لیے پکڑوا کر گناہ کیا ہے۔ مذہبی رہنماؤں نے ٹھنڈے لہجے میں جواب دیا: ہمیں کیا؟ تُو جان۔ اُس کے بعد متی 27:5 لکھتا ہے: "اور وہ روپیوں کو مَقدِس میں پھینک کر چلا گیا اور جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی۔" اعمال 1:18 اُسی انجام کا دوسرا، زیادہ بھیانک پہلو کھولتا ہے: "اِس شخص نے اپنی بدکاری کی کمائی سے ایک کھیت حاصل کیا اور سر کے بل گرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور اُس کی سب انتڑیاں نکل پڑیں۔" ایک روایت رسی ٹوٹنے یا شاخ ٹوٹنے کی بات کرتی ہے، جس سے دونوں بیانات مل جاتے ہیں۔ جو بھی ہوا، آخر یہ ہے کہ وہ اپنے گناہ کو خداوند کے پاس نہیں، صرف اپنی رسی کے پاس لے گیا۔
یہوداہ اسکریوتی سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق: مذہبی قربت دل کی تبدیلی کا متبادل نہیں۔ یہوداہ نے خداوند یسوع کی تعلیم کسی مجمع کے پیچھے سے نہیں سنی تھی، وہ سامنے بیٹھتا تھا۔ اُس نے معجزے دیکھے، خود دعا کر کے بیماروں کو شفا ملتے دیکھا، اور پھر بھی اندر سے اجنبی رہا۔ کلیسیا کی کرسی، خدمت کی ذمہ داری اور بائبل کا علم بذاتِ خود کسی کو نیا نہیں بناتے۔ تبدیلی وہاں شروع ہوتی ہے جہاں ہم اپنا چھپا ہوا کونہ خداوند کے حوالے کرتے ہیں۔
دوسرا سبق: جس گناہ کو ہم روشنی میں نہیں لاتے، وہ آخرکار ہمیں بیچ دیتا ہے۔ تھیلی میں سے چند سکے نکالنا کسی کی نظر میں نہ آیا۔ شاید یہوداہ نے خود کو سمجھایا ہو کہ یہ میرا حق ہے، کہ میں تو حساب رکھتا ہوں۔ لیکن یوحنا 12:6 کی گواہی بتاتی ہے کہ وہ چھوٹی عادت ایک رستہ بن چکی تھی جس پر شیطان کو چلنے کی اجازت مل گئی۔ اعتراف کسی سزا کا نام نہیں، یہ وہ دروازہ ہے جس سے فضل اندر آتا ہے۔
تیسرا سبق، اور شاید سب سے ضروری: ندامت اور توبہ ایک چیز نہیں۔ یہوداہ نے گناہ مانا، رقم واپس کی، اور اذیت میں مرا۔ پطرس نے بھی انکار کیا، شدت سے رویا، مگر وہ اپنے آنسو لے کر خداوند کے پاس لوٹ آیا۔ پولس رسول 2 کرنتھیوں 7:10 میں یہی فرق بیان کرتا ہے: "کیونکہ خدا پرستی کا غم اُس توبہ کو پیدا کرتا ہے جس کا انجام نجات ہے اور اُس سے پچھتانا نہیں پڑتا مگر دنیا کا غم موت پیدا کرتا ہے۔" یہوداہ کا غم اُس کے اپنے ضمیر کے گرد گھومتا رہا؛ وہ کبھی اُس چہرے کی طرف نہ مڑا جس نے باغ میں اُسے "دوست" کہا تھا۔ ندامت آنسو بہاتی ہے، توبہ لوٹ آتی ہے۔
اِن تینوں سبقوں کے پیچھے ایک ہی پکار ہے: خداوند یسوع کے قریب بیٹھنا کافی نہیں، اُن کے سامنے کھل جانا ضروری ہے۔ یہوداہ کا المیہ یہ نہیں کہ اُس کے لیے فضل دستیاب نہ تھا؛ اُس کا المیہ یہ ہے کہ فضل اُس کے اتنا قریب تھا کہ وہ اُسے چھو سکتا تھا، اور اُس نے رسی کو چُنا۔
آئینہ
آپ شاید یہ سب پڑھتے ہوئے اندر سے مطمئن ہوں کہ آپ نے کبھی کسی کو تیس روپے میں نہیں بیچا۔ مگر ذرا رُکیے۔ یہوداہ کا اصل گناہ گتسمنی میں شروع نہیں ہوا، وہ تھیلی میں شروع ہوا، اُن لمحوں میں جب کوئی نہیں دیکھ رہا تھا۔ آپ کی زندگی میں وہ تھیلی کہاں ہے؟ شاید وہ دفتر کا حساب ہے جس میں تھوڑی سی ہیرا پھیری آپ نے جائز سمجھ لی ہے۔ شاید وہ فون ہے جسے آپ اپنی بیوی یا شوہر کے کمرے میں آتے ہی اُلٹا رکھ دیتے ہیں۔ شاید وہ وقت ہے جو آپ خاندان سے چُرا کر کسی ایسی چیز کو دیتے ہیں جو آپ کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔ شاید وہ زبان ہے جو کلیسیا میں غریبوں کی بات کرتی ہے اور گھر میں ملازمہ کی تنخواہ کاٹ لیتی ہے۔
یہوداہ آپ سے بہت دور کا آدمی نہیں۔ وہ ہر اُس شخص کا آئینہ ہے جو عبادت کے لیے باقاعدگی سے بیٹھتا ہے مگر اپنا ایک کونہ خداوند کو دینے سے انکار کرتا ہے۔ اور سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ یہ عمل آہستہ ہے۔ کوئی الارم نہیں بجتا۔ آپ آج بھی گاتے ہیں، آج بھی دعا کرتے ہیں، آج بھی دوسروں کو نصیحت کرتے ہیں۔
لیکن سنیے، یہ صفحہ آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں لکھا گیا۔ اگر آپ کے دل میں ابھی یہ بےچینی جاگی ہے تو یہ خدا کی مہربانی ہے، سزا نہیں۔ وہی خداوند جس نے باغ میں یہوداہ کو نام لے کر پکارا، آج آپ کا نام لے رہا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ آپ اپنے پچھتاوے کو کہاں لے جاتے ہیں۔ اگر آپ اُسے اپنے اندر دبائے رکھیں گے تو وہ آپ کو کھا جائے گا۔ اگر آپ اُسے صلیب کے پاس لے آئیں تو وہی پچھتاوا آزادی بن جائے گا۔ آج ہی وہ چیز نام لے کر خداوند کے سامنے رکھ دیجیے جسے آپ مہینوں سے چھپا رہے ہیں۔ دیر کسی اور چیز میں ہو سکتی ہے، فضل میں نہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یہوداہ کی کہانی سنانا مشکل لگتا ہے، کیونکہ اِس میں دھوکہ بھی ہے اور خودکشی بھی۔ مگر اِس کہانی کو مکمل طور پر چھپانا بھی ٹھیک نہیں، کیونکہ بچے خود سے سوال کرتے ہیں کہ یسوع کو پکڑوایا کس نے۔ آسان زبان میں بات یوں کی جا سکتی ہے: یہوداہ خداوند یسوع کے بارہ خاص دوستوں میں سے ایک تھا۔ وہ گروہ کے پیسوں کا تھیلا سنبھالتا تھا، مگر چپکے چپکے اُس میں سے پیسے نکال لیتا تھا۔ یہ چھوٹا سا جھوٹ اُس کے دل میں بڑھتا گیا، یہاں تک کہ ایک دن اُس نے پیسوں کے بدلے یسوع کو دشمنوں کے حوالے کر دیا۔ بعد میں اُسے بہت دکھ ہوا، مگر وہ یسوع کے پاس معافی مانگنے واپس نہ آیا، اور اِسی غم میں اُس کی زندگی ختم ہو گئی۔
چھوٹے بچوں کے لیے سب سے اہم بات یہ ہے: جب ہم سے غلطی ہو جائے تو ہم چھپتے نہیں، ہم یسوع کے پاس دوڑ کر جاتے ہیں، کیونکہ وہ معاف کرنے کو تیار ہیں۔ پطرس کی مثال ساتھ رکھنا بہت مددگار ہے، تاکہ بچہ دیکھ سکے کہ واپس آنے کا راستہ کھلا ہے۔
ہر عمر کے لیے بات کرنے کا انداز مختلف ہوتا ہے۔ تین سے چھ سال کے بچوں کے لیے صرف دوستی اور معافی پر زور دینا کافی ہے، تفصیل کی ضرورت نہیں۔ سات سے بارہ سال کے بچوں کے ساتھ چھوٹے گناہوں کے بڑھنے اور ایمانداری کی بات کی جا سکتی ہے۔ بارہ سال سے اوپر کے نوجوان پیسے، دباؤ، مایوسی اور پچھتاوے بمقابلہ توبہ جیسے موضوعات سنجیدگی سے سمجھ سکتے ہیں۔ اِن تینوں عمروں کے لیے الگ الگ تیار کی گئی وضاحتیں ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں، اور والدین اور اتالیق اُن سے بہت فائدہ اُٹھا سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
"اسکریوتی" کے نام کا کیا مطلب ہے؟
زیادہ تر عالم اِسے عبرانی فقرے "اِیش قریوت" سے جوڑتے ہیں، یعنی "قریوت کا آدمی"۔ قریوت یہوداہ کے جنوبی علاقے کا ایک قصبہ تھا، جس کا مطلب یہ ہوا کہ یہوداہ بارہ رسولوں میں غالباً اکیلا شخص تھا جو گلیل سے نہیں بلکہ یہودیہ سے تھا۔ کچھ لوگ اِسے خنجر رکھنے والے باغی گروہ "سیکاری" سے جوڑتے ہیں، مگر اِس کے لیے ٹھوس ثبوت نہیں۔ یوحنا 6:71 میں اُس کے باپ کا نام شمعون بتایا گیا ہے، جسے بھی اسکریوتی کہا گیا ہے، اِس لیے یہ خاندانی نسبت لگتی ہے۔
کیا یہوداہ نے یسوع کو تیس چاندی کے سکوں میں بیچا، اور یہ کتنی رقم تھی؟
جی ہاں۔ متی 26:14 کے بعد والی آیت میں لکھا ہے کہ سردار کاہنوں نے اُسے چاندی کے تیس سکے تول کر دے دیے۔ شریعت میں یہی رقم اُس غلام کا معاوضہ تھی جسے کسی کے بیل نے مار ڈالا ہو، یعنی ایک غلام کی جان کی قیمت۔ آج کے حساب سے یہ تقریباً تین سے چار مہینے کی مزدوری بنتی ہے، کوئی بہت بڑی دولت نہیں۔ اِسی میں اِس واقعے کی تلخی ہے: دنیا نے خدا کے بیٹے کی قیمت ایک غلام کے برابر لگائی، اور زکریاہ نبی کی پیشین گوئی حرف بحرف پوری ہوئی۔
یہوداہ اسکریوتی کی موت کیسے ہوئی، اور متی اور اعمال کے بیان میں فرق کیوں ہے؟
متی 27:5 کہتا ہے کہ اُس نے روپے مَقدِس میں پھینک کر جا کر اپنے آپ کو پھانسی دی، جبکہ اعمال 1:18 بتاتا ہے کہ وہ سر کے بل گرا اور اُس کا پیٹ پھٹ گیا اور انتڑیاں نکل پڑیں۔ یہ دو متضاد بیانات نہیں بلکہ ایک ہی واقعے کے دو پہلو ہیں۔ عام فہم وضاحت یہ ہے کہ پھانسی کے بعد رسی یا شاخ ٹوٹنے سے لاش کھائی میں گری اور پھٹ گئی۔ متی اُس کے فعل پر توجہ دیتا ہے، لوقا اُس کے انجام کی ہولناکی پر۔ دونوں ایک ساتھ پوری تصویر بناتے ہیں۔
کیا یہوداہ کے پاس کوئی اختیار تھا، یا خدا نے اُسے مجبور کیا تھا؟
بائبل دونوں باتیں ساتھ رکھتی ہے بغیر کسی ایک کو ختم کیے۔ نوشتوں میں پہلے سے لکھا تھا کہ مسیح پکڑوایا جائے گا، اور زبور 41:9 جیسی آیتیں اِس کی گواہ ہیں۔ مگر یہوداہ کو کبھی مجبور نہیں کیا گیا۔ وہ خود سردار کاہنوں کے پاس گیا، خود قیمت پوچھی، خود بوسہ دیا۔ یوحنا 13:27 میں خداوند کے الفاظ "جو کچھ تُو کرتا ہے" اُس کی اپنی ذمہ داری کو واضح کرتے ہیں۔ خدا کے منصوبے کا پورا ہونا کسی انسان کو اُس کے اپنے انتخاب سے بری نہیں کرتا۔
کیا یہوداہ اسکریوتی کو معافی مل سکتی تھی؟
مسیح کی صلیب اتنی وسیع ہے کہ وہ یہوداہ کے گناہ کو بھی ڈھانپ سکتی تھی؛ مسئلہ فضل کی کمی نہیں بلکہ لوٹنے سے انکار تھا۔ متی 27:3 بتاتا ہے کہ اُسے پچھتاوا ہوا اور اُس نے اعتراف بھی کیا، مگر وہ اعتراف اُس نے سردار کاہنوں کے سامنے کیا، خداوند کے سامنے نہیں۔ 2 کرنتھیوں 7:10 اِسی فرق کو دنیاوی غم اور خدا پرستی کے غم کے نام سے بیان کرتا ہے۔ ہم کسی کی ابدی حالت کا فیصلہ کرنے والے نہیں، مگر انجیل کی گواہی سنجیدہ ہے، خاص کر یوحنا 17:12 کے الفاظ "ہلاکت کا فرزند"۔
یہوداہ اور پطرس میں اصل فرق کیا تھا، دونوں نے تو خداوند کو چھوڑا؟
دونوں گرے، مگر گرنے کے بعد کا رخ مختلف تھا۔ پطرس نے تین بار انکار کیا اور پھوٹ پھوٹ کر رویا، پھر بھی وہ شاگردوں کے بیچ ہی رہا اور جی اُٹھنے کے بعد خداوند کے سامنے آیا، جہاں اُسے تین بار بحال کیا گیا۔ یہوداہ نے اعتراف تو کیا مگر اکیلے ہی نکل گیا اور اپنی زندگی ختم کر لی۔ فرق توبہ کی سمت کا ہے: پطرس کے آنسو مسیح کی طرف بہے، یہوداہ کے آنسو اپنے ہی اندر۔ یہی فرق آج بھی ہماری ناکامیوں کو ہلاکت یا بحالی میں بدلتا ہے۔
یسوع نے یہوداہ کو رسول کیوں چُنا جب اُنہیں سب معلوم تھا؟
یوحنا 6:70 میں خداوند خود فرماتے ہیں کہ اُنہوں نے بارہ کو چُنا اور اُن میں سے ایک شیطان ہے، یعنی وہ شروع سے جانتے تھے۔ اِس کے کئی پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ نوشتوں کا پورا ہونا ضروری تھا۔ دوسرا یہ کہ یہوداہ کا وجود ہر نسل کی کلیسیا کے لیے ایک سنجیدہ انتباہ ہے کہ قربت اور خدمت خود بخود نئے دل کی ضمانت نہیں۔ اور تیسرا، اِس میں خداوند کی محبت کی حیرت انگیز وسعت نظر آتی ہے: اُنہوں نے اُس شخص کے پاؤں بھی دھوئے جس کا ارادہ وہ پہلے سے جانتے تھے۔
"ہلاکت کا فرزند" کا کیا مطلب ہے؟
یہ عبرانی اندازِ بیان ہے، جس میں کسی شخص کو اُس چیز کا "بیٹا" کہا جاتا ہے جو اُس کی پہچان یا انجام بن چکی ہو۔ یوحنا 17:12 میں خداوند یسوع اپنی دعا میں کہتے ہیں کہ اُنہوں نے سب کی حفاظت کی اور ہلاکت کے فرزند کے سوا کوئی ہلاک نہ ہوا، تاکہ کتاب مقدس پوری ہو۔ یعنی یہوداہ کا راستہ تباہی کی طرف مڑ چکا تھا اور وہ اُسی سے جُڑ گیا۔ یہ لقب خدا کی طرف سے کسی جبر کا اعلان نہیں بلکہ ایک آدمی کے چُنے ہوئے انجام کی تشخیص ہے۔
کیا یہوداہ آخری عشائے ربانی میں شامل تھا؟
انجیلوں کے بیانات کو ملا کر دیکھیں تو یہ واضح ہے کہ یہوداہ فسح کے کھانے کی میز پر موجود تھا اور خداوند یسوع نے اُسی میز پر اُسے نوالہ دیا۔ یوحنا 13:27 کے مطابق نوالہ لیتے ہی شیطان اُس میں سما گیا اور وہ اُسی وقت باہر نکل گیا، اور یوحنا لکھتا ہے کہ رات تھی۔ آیا وہ روٹی اور پیالے کی اُس خاص رسم تک بیٹھا رہا جسے ہم عشائے ربانی کہتے ہیں، اِس پر مسیحیوں میں رائے مختلف ہے۔ جو بات سب مانتے ہیں وہ یہ کہ وہ خداوند کی میز کے قریب ترین تھا اور پھر بھی باہر نکل گیا۔
یہوداہ نے پہچان کے لیے بوسہ ہی کیوں چُنا؟
اُس زمانے میں شاگرد اپنے اُستاد کو ادب اور محبت کے ساتھ بوسہ دیتے تھے، اِس لیے یہ نشان بالکل فطری لگتا اور کسی کو شک نہ ہوتا۔ تاریک باغ میں مشعلوں کی مدھم روشنی میں سپاہیوں کے لیے یہی سب سے یقینی طریقہ تھا۔ مگر اِسی میں اِس حرکت کی اصل بدصورتی ہے: محبت کے اشارے کو گرفتاری کا آلہ بنا دیا گیا۔ لوقا 22:48 میں خداوند کا سوال اِسی تضاد کو بےنقاب کرتا ہے، اور ساتھ ہی یہوداہ کو آخری بار اپنا نام سننے اور رکنے کا موقع دیتا ہے۔
"خون کا کھیت" یا حقل دما کیا ہے؟
جب یہوداہ نے تیس روپے ہیکل میں پھینک دیے تو سردار کاہنوں نے کہا کہ خون کی قیمت کو ہیکل کے خزانے میں رکھنا جائز نہیں، اِس لیے اُنہوں نے اُس رقم سے کمہار کا کھیت خریدا تاکہ پردیسیوں کو دفنانے کے کام آئے۔ متی بتاتا ہے کہ اُس کھیت کا نام آج تک "خون کا کھیت" پڑ گیا۔ اعمال 1:18 اُسی کھیت کو یہوداہ کی "بدکاری کی کمائی" سے حاصل شدہ کہتا ہے، کیونکہ قانونی طور پر وہ اُسی کے پیسوں سے خریدا گیا تھا۔ وہی زمین اُس کی موت کی جگہ بن گئی۔
یہوداہ کی جگہ کون آیا؟
اعمال کی پہلی باب میں پطرس نے جماعت کے سامنے زبور کے حوالے پیش کیے اور کہا کہ یہوداہ کی خدمت کسی اور کو ملنی چاہیے۔ اُنہوں نے دو آدمیوں کو پیش کیا، یوسف جو برسبا کہلاتا تھا اور متیاہ، اور دعا کر کے قرعہ ڈالا۔ قرعہ متیاہ کے نام نکلا اور وہ گیارہ رسولوں کے ساتھ شمار کیا گیا۔ شرط یہ تھی کہ یہ شخص یوحنا کے بپتسمے سے لے کر خداوند کے آسمان پر اُٹھائے جانے تک ساتھ رہا ہو اور جی اُٹھنے کا گواہ ہو۔ خدا کا کام کسی ایک آدمی کی غدّاری سے رُکتا نہیں۔
کیا شیطان کے یہوداہ میں سما جانے کے بعد وہ بےقصور نہیں ہو جاتا؟
نہیں۔ یوحنا 13:2 بتاتا ہے کہ ابلیس اُس سے پہلے ہی یہوداہ کے دل میں یہ بات ڈال چکا تھا، یعنی یہ خیال پہلے سے وہاں پرورش پا رہا تھا۔ یوحنا 12:6 ہمیں دکھاتا ہے کہ اُس کی خفیہ بےایمانی مہینوں سے جاری تھی۔ شیطان نے کوئی بند دروازہ نہیں توڑا؛ وہ اُس راستے پر چلا جو یہوداہ نے خود کھلا چھوڑا تھا۔ اِسی لیے یوحنا 13:27 میں خداوند اُسے "جو کچھ تُو کرتا ہے" کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔ آزمائش بیرونی ہو سکتی ہے، مگر رضامندی ہمیشہ اندر سے آتی ہے۔
اختتام میں
یہوداہ اسکریوتی کی کہانی ہمیں ایک انوکھے، تکلیف دہ سچ کے سامنے کھڑا کرتی ہے: انسان خدا کے بیٹے کے پہلو میں تین سال گزار سکتا ہے اور پھر بھی اپنا دل بند رکھ سکتا ہے۔ اُس کی گراوٹ گتسمنی میں شروع نہیں ہوئی، وہ تھیلی کے اندر خاموشی سے جانے والے ہاتھ سے شروع ہوئی، اور اُس کا انجام اِس لیے اندھیرا رہا کہ اُس کا پچھتاوا کبھی توبہ میں نہ بدلا۔ دوسری طرف وہی رات ہمیں ایک اور چیز دکھاتی ہے: خداوند یسوع نے اپنے غدّار کے پاؤں دھوئے، اُسے روٹی کا نوالہ دیا اور باغ میں اُسے نام لے کر پکارا۔ غدّاری بھی نجات کے منصوبے کو ناکام نہ کر سکی؛ وہی بوسہ خداوند کو اُس صلیب تک لے گیا جہاں ہمارے لیے معافی خریدی گئی۔
اگر یہ صفحہ پڑھتے ہوئے آپ کے اندر کوئی چھپی ہوئی بات جاگ اُٹھی ہے تو اُسے دبائیے مت۔ متی کے ستائیسویں باب اور یوحنا کے تیرہویں باب کو کھول کر آہستہ پڑھیے، اور ساتھ میں لوقا 22 میں پطرس کی بحالی کی بات بھی۔ پھر گھٹنوں کے بل اپنی تھیلی خداوند کے سامنے اُلٹ دیجیے۔ جو دروازہ یہوداہ کے لیے آخری لمحے تک کھلا تھا، وہ آج بھی آپ کے لیے کھلا ہے۔
