بائبل کی کتاب

حزقی ایل کی کتاب کا تعارف اور پیغام

تعارف

بابل کے مضافات میں ایک گدلا سا نہری پانی بہتا ہے۔ اُس کے کنارے مٹی کی اینٹوں کی ایک بستی ہے جہاں یروشلیم سے اُٹھا کر لائے گئے قیدی بسائے گئے ہیں۔ اُن میں ایک تیس سالہ نوجوان ہے جو کاہن کے گھرانے میں پیدا ہوا تھا۔ عمر کے اِسی برس میں اُسے ہیکل کی خدمت سنبھالنی تھی، قربان گاہ کے سامنے کھڑا ہونا تھا، بخور کی خوشبو میں سانس لینا تھی۔ مگر ہیکل سینکڑوں میل دور ہے اور وہ ایک اجنبی ملک کی نہر کے کنارے بیٹھا ہے۔ کوئی مذبح نہیں، کوئی قربانی نہیں، کوئی خدمت نہیں۔ بظاہر ایک ضائع شدہ زندگی۔

اور عین اُسی مقام پر آسمان کھل جاتا ہے۔

اِس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ حزقی ایل کی کتاب کیوں لکھی گئی، کس نے لکھی، کس دور میں لکھی گئی، اُس کی ساخت کیا ہے، اُس کے بڑے موضوعات کون سے ہیں، اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اُس کا پیغام آج آپ کے اپنے دل تک کیسے پہنچتا ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

زیادہ تر تعارف حزقی ایل کو "عجیب رویاؤں والا نبی" کہہ کر گزر جاتے ہیں۔ ہم ایک اور راستہ لیں گے۔ اِس پوری کتاب کی ریڑھ کی ہڈی ایک ہی سفر ہے: خدا کا جلال۔ وہ جلال جو ہیکل میں بندھا ہوا سمجھا جاتا تھا، پہیوں والے تخت پر سوار ہو کر جلاوطنوں کے درمیان آ پہنچتا ہے، پھر ہیکل کو چھوڑ دیتا ہے، اور آخر میں ایک نئے گھر میں لوٹ آتا ہے جس کا نام ہی "خداوند وہاں ہے" ہے۔ یعنی حزقی ایل اُن لوگوں کی کتاب ہے جنہوں نے سب کچھ کھو دیا اور پھر دریافت کیا کہ خدا خود چل کر اُن تک آتے ہیں۔

خدا کا تخت پہیوں پر ہے۔

بائبل حزقی ایل کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

کتاب اپنا تعارف خود کراتی ہے، اور بڑی باریکی کے ساتھ۔ پہلی ہی آیت میں تاریخ، جگہ اور حالت تینوں درج ہیں: "تِیسویں برس کے چوتھے مہینے کی پانچویں تاریخ کو جب میں دریایِ کبار کے کنارے اسیروں کے درمیان تھا تو آسمان کھل گیا اور مَیں نے خُدا کی رویتیں دیکھیں" (حزقی ایل 1:1)۔ غور کیجیے کہ خدا کی رویتیں کہاں دکھائی دیں۔ ہیکل کے پاک ترین مقام میں نہیں، بلکہ "اسیروں کے درمیان"، ایک غیر قوم کی نہر کے کنارے، ایک ایسی سرزمین پر جسے یہودی ذہن ناپاک سمجھتا تھا۔ یہی اِس کتاب کا پہلا دھماکا ہے۔

نبی کا نام حزقی ایل ہے، بوزی کا بیٹا، کاہن (حزقی ایل 1:3)۔ وہ 597 قبلِ مسیح میں یہویاکین بادشاہ کے ساتھ اُس پہلی بڑی جلاوطنی میں بابل لے جایا گیا جب نبوکدنضر نے یروشلیم کے معزز گھرانوں کو اُٹھا لیا تھا۔ اُس کی بلاہٹ تقریباً 593 قبلِ مسیح میں ہوئی اور اُس کی آخری درج شدہ نبوت تقریباً 571 قبلِ مسیح کی ہے۔ یعنی بائیس برس کی خدمت، جس کا سب سے سیاہ دن 586 قبلِ مسیح تھا جب یروشلیم گرا اور ہیکل جلا دی گئی۔ کتاب کے پہلے چوبیس باب اُس تباہی سے پہلے کے ہیں، اور باقی اُس کے بعد کے۔ اِسی لیے کتاب کا لہجہ بیچ میں بدل جاتا ہے: پہلے کلہاڑی، پھر مرہم۔

نبی کو اپنی خدمت کے بارے میں کوئی خوش فہمی نہیں دی گئی۔ بلاہٹ کے وقت خداوند نے صاف فرمایا: "اور اُس نے مجھے فرمایا کہ اَے آدم زاد میں تجھے بنی اسرائیل کے پاس یعنی باغی قوم کے پاس جس نے مجھ سے بغاوت کی ہے بھیجتا ہوں" (حزقی ایل 2:3)۔ یہاں دو لفظ سمجھنے کے ہیں۔ پہلا "آدم زاد"، جو اِس کتاب میں تقریباً ترانوے بار آتا ہے۔ یہ خطاب نبی کو بار بار یاد دلاتا ہے کہ وہ مٹی کا ایک آدمی ہے جو تختِ جلال کے سامنے کھڑا ہے۔ دوسرا "باغی قوم"۔ خدا نے حزقی ایل سے یہ نہیں کہا کہ لوگ خوشی سے سنیں گے؛ بلکہ اُلٹا فرمایا کہ وہ شاید نہ سنیں، مگر تُو بول۔ کامیابی کی پیمائش سامعین کے ردِعمل سے نہیں، فرمانبرداری سے ہوگی۔

اِسی لیے حزقی ایل کو "نگہبان" مقرر کیا گیا (حزقی ایل 3:17 اور 33:7)۔ نگہبان کا کام شہر کو بچانا نہیں، خطرے کی خبر دینا ہے۔ اگر وہ خاموش رہے تو خون اُس کی گردن پر ہے؛ اگر وہ پکار دے اور لوگ نہ مانیں تو وہ بری ہے۔ اِس تصور نے آنے والی صدیوں میں ہر مبشر، ہر پاسبان اور ہر گواہ کی ذمہ داری کی تعریف متعین کر دی۔

کتاب کا سب سے زیادہ دہرایا جانے والا فقرہ بھی اِسی مقصد کو کھولتا ہے: "تب وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں"۔ یہ جملہ تقریباً ستر مرتبہ آتا ہے۔ عدالت ہو یا بحالی، تباہی ہو یا نئی زندگی، خدا کا مقصد ایک ہی ہے کہ لوگ اُنہیں پہچانیں۔ حزقی ایل کی کتاب بنیادی طور پر اسرائیل کی تاریخ کے بارے میں نہیں، خدا کی شناخت کے بارے میں ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

حزقی ایل اچانک آسمان سے نہیں ٹپکتا۔ خروج کی کتاب میں جب خیمۂ اجتماع تیار ہوا تو خدا کا جلال بادل کی صورت میں اُس پر اُترا، اور بادشاہ سلیمان کی ہیکل کی مخصوصیت پر بھی یہی ہوا۔ اسرائیل کا پورا ایمان اِسی ایک حقیقت پر کھڑا تھا کہ خدا اپنے لوگوں کے بیچ سکونت کرتے ہیں۔ اب حزقی ایل کے باب آٹھ سے گیارہ تک ہم وہ منظر دیکھتے ہیں جسے پڑھ کر سانس رک جاتی ہے: وہی جلال ہیکل کے اندرونی مقام سے اُٹھتا ہے، دہلیز پر ٹھہرتا ہے، صحن میں آتا ہے، مشرقی پھاٹک پر رکتا ہے، اور پھر شہر کے مشرق میں پہاڑ پر جا ٹھہرتا ہے۔ ہیکل اِس لیے نہیں گری کہ بابل طاقتور تھا، بلکہ اِس لیے کہ اُس کا مکین پہلے ہی نکل چکا تھا۔

لیکن یہی جلال پہیوں پر ہے۔ جو تخت یروشلیم چھوڑ سکتا ہے وہ بابل بھی پہنچ سکتا ہے۔ خدا نے جلاوطنوں سے وعدہ کیا کہ پردیس کے اُن ملکوں میں وہ خود تھوڑی مدت کے لیے اُن کا مقدِس بنیں گے (حزقی ایل 11:16)۔ مقدِس اب عمارت نہیں، ایک شخص ہے۔

نئے عہدنامے میں یہ سلسلہ اپنی منزل پر پہنچتا ہے۔ یوحنا لکھتا ہے کہ کلام مجسم ہوا اور ہمارے درمیان خیمہ زن ہوا، اور ہم نے اُس کا جلال دیکھا (یوحنا 1:14)۔ وہی جلال جو حزقی ایل نے دور سے، اشاروں اور تمثیلوں میں دیکھا تھا، اب گلیل کی سڑکوں پر چلتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے اپنے جسم کو ہیکل کہا (یوحنا 2:19-21)، یعنی خدا کی حضوری کا اصل مرکز اب پتھروں میں نہیں رہا۔

چرواہے کا موضوع بھی اِسی راستے پر چلتا ہے۔ حزقی ایل 34 میں خدا اسرائیل کے جھوٹے گلہ بانوں پر غصے میں ہیں جو اپنا پیٹ بھرتے اور ریوڑ کو چھوڑ دیتے ہیں، اور پھر وہ خود میدان میں اُتر آتے ہیں: "کیونکہ خداوند خدا یوں فرماتا ہے کہ دیکھ میں خود اپنی بھیڑوں کی تلاش کروں گا اور اُن کو ڈھونڈ نکالوں گا" (حزقی ایل 34:11)۔ اِس آیت پر غور کیجیے: خدا کسی اور کو نہیں بھیجتے، وہ خود جاتے ہیں۔ صدیوں بعد خداوند یسوع مسیح نے فرمایا، "اچھا چرواہا میں ہوں" اور اُس کھوئی ہوئی بھیڑ کی تمثیل سنائی جسے چرواہا بیابان میں ڈھونڈنے نکلتا ہے (یوحنا 10:11، لوقا 15:4)۔ حزقی ایل 34 کا وعدہ انجیل میں گوشت پوش ہوا۔

نیا دل اور نئی روح کا وعدہ (حزقی ایل 36:26-27) پنتکست کے دن پورا ہونا شروع ہوا، اور پولس رسول نے اُسی کو دوسرا کرنتھیوں 3 میں "دل کی تختیوں پر لکھی ہوئی تحریر" کہا۔ سوکھی ہڈیوں پر چلنے والی ہوا اور اوپری کمرے میں چلنے والی تیز ہوا ایک ہی خدا کا سانس ہے۔ اور کتاب کے آخری ابواب کی وہ ہیکل، جس میں سے زندگی بخش دریا بہتا ہے اور کنارے پر شفا دینے والے درخت ہیں، مکاشفہ 21 اور 22 میں نئے یروشلیم کی صورت میں دوبارہ نظر آتی ہے۔ حزقی ایل جہاں ختم ہوتا ہے، بائبل وہیں ختم ہوتی ہے: خدا اپنے لوگوں کے ساتھ، ہمیشہ کے لیے۔

ساخت اور بنیادی موضوعات

کتاب چار واضح حصوں میں بٹی ہوئی ہے، اور یہ تقسیم سمجھ لیں تو اڑتالیس ابواب کا یہ پہاڑ قابلِ عبور ہو جاتا ہے۔

پہلا حصہ باب 1 سے 24 تک ہے اور اِس کا موضوع یروشلیم پر عدالت ہے۔ یہاں بلاہٹ کی رویا، نگہبان کی ذمہ داری، اور پھر اشاروں کی وہ عجیب زنجیر ہے جس میں نبی اینٹ پر شہر کا نقشہ کھینچتا ہے، ایک پہلو پر لیٹا رہتا ہے، اپنے بال مونڈ کر تین حصوں میں بانٹتا ہے، اور اپنا سامان باندھ کر جلاوطن کی طرح دیوار میں سوراخ کرکے نکلتا ہے۔ یہ محض ڈرامہ نہیں تھا؛ یہ اُن لوگوں کے لیے جسمانی تمثیلیں تھیں جو لفظوں پر کان نہیں دھرتے تھے۔ اِسی حصے میں وہ دل دہلا دینے والا لمحہ بھی ہے جب نبی کی بیوی وفات پاتی ہے اور اُسے ماتم کرنے سے روک دیا جاتا ہے، تاکہ قوم دیکھے کہ ہیکل کے گرنے پر بھی ماتم کا وقت نہ ملے گا (حزقی ایل 24:15-24)۔ خدا نے اپنے نبی سے بہت مہنگی قیمت لی۔

دوسرا حصہ باب 25 سے 32 تک غیر اقوام کے خلاف نبوتیں ہیں: عمون، موآب، ادوم، فلستی، صور، صیدا اور مصر۔ یہ ابواب اکثر چھوڑ دیے جاتے ہیں، حالانکہ اِن کا پیغام تسلی بخش ہے۔ اگر خدا نے اپنے لوگوں کا انصاف کیا تو اُن کا بھی کریں گے جنہوں نے اُن کے زوال پر تالیاں بجائیں۔ صور کے بادشاہ اور مصر کے فرعون کے خلاف بلند آہنگ مرثیے یاد دلاتے ہیں کہ ہر سلطنت فانی ہے۔

تیسرا حصہ باب 33 سے 39 تک بحالی کا اعلان ہے۔ یہاں نگہبان کی ذمہ داری دوبارہ بیان ہوتی ہے، جھوٹے چرواہوں کی عدالت اور سچے چرواہے کا وعدہ آتا ہے، نئے دل کی بشارت دی جاتی ہے، سوکھی ہڈیوں کی وادی زندہ ہوتی ہے، اور دو لکڑیاں جوڑ کر منقسم قوم کے اتحاد کا نشان دیا جاتا ہے۔ جوج اور ماجوج کے ابواب اِس بات پر مہر لگاتے ہیں کہ آخرکار ہر دشمنی خدا کے قدموں میں ٹوٹے گی۔

چوتھا حصہ باب 40 سے 48 تک ایک نئی ہیکل، نئی عبادت اور نئی تقسیمِ ملک کی تفصیلی رویا ہے۔ یہ ابواب ماپ، دروازوں اور صحنوں سے بھرے ہیں، مگر اِن کا دل باب 43 ہے جہاں خدا کا جلال مشرقی پھاٹک سے واپس آتا ہے، ٹھیک اُسی راستے سے جہاں سے وہ گیا تھا۔ اور کتاب کا آخری جملہ اُس شہر کا نیا نام ہے: "خداوند وہاں ہے" (حزقی ایل 48:35)۔

بنیادی موضوعات اِسی ڈھانچے سے اُبھرتے ہیں: خدا کی پاکیزگی اور جلال؛ گناہ کی سنگینی، خاص کر بت پرستی جسے کتاب زناکاری کی زبان میں بیان کرتی ہے؛ ہر فرد کی ذاتی ذمہ داری؛ خدا کی اپنے نام کی غیرت، کیونکہ وہ بحالی اپنے لوگوں کی لیاقت کی بنا پر نہیں بلکہ اپنے پاک نام کی خاطر کرتے ہیں (حزقی ایل 36:22)؛ اور روح کا کام، جو اِس کتاب میں پرانے عہدنامے کی کسی بھی کتاب سے زیادہ نمایاں ہے۔

اس کتاب کی اہم آیات

پہلی آیت رحم کی ہے۔ "کیونکہ مَیں مرنے والے کی موت سے خوش نہیں ہوں خداوند خدا فرماتا ہے۔ پس باز آؤ اور زندہ رہو" (حزقی ایل 18:32)۔ باب اٹھارہ اُس مقولے کو توڑتا ہے جو جلاوطنی میں زبان زدِ عام تھا: باپ دادا نے کچے انگور کھائے اور بیٹوں کے دانت کھٹے ہو گئے۔ لوگ اپنی حالت کا سارا الزام پچھلی نسل پر ڈال کر خود بری ہو جانا چاہتے تھے۔ خدا نے جواب دیا کہ ہر جان میری ہے اور ہر شخص اپنے عمل کا جوابدہ ہے۔ مگر باب کا اختتام عدالت پر نہیں، دعوت پر ہوتا ہے۔ خدا کی ذات میں کوئی بے رحم لذت نہیں جو گنہگار کی ہلاکت سے خوش ہو۔ یہ آیت خدا کے دل کا دروازہ کھول دیتی ہے۔

دوسری آیت نئے عہد کی بنیاد ہے۔ "اور میں تم کو نیا دل بخشوں گا اور نئی روح تمہارے باطن میں ڈالوں گا اور تمہارے جسم میں سے سنگین دل کو نکال ڈالوں گا اور گوشت کا دل تم کو عنایت کروں گا" (حزقی ایل 36:26)۔ یہاں مسئلہ طرزِ عمل کا نہیں، عضو کا ہے۔ پتھر کا دل محسوس نہیں کرتا، جھکتا نہیں، توڑا تو جا سکتا ہے مگر بدلا نہیں جا سکتا۔ اِس لیے خدا اصلاح کی نہیں، پیوندکاری کی بات کرتے ہیں۔ غور کیجیے کہ تمام فعل خدا کے ہیں: میں بخشوں گا، میں ڈالوں گا، میں نکال ڈالوں گا۔ یہی فضل کی تعریف ہے۔

دل کی پیوندکاری خدا کا کام ہے، ہماری کوشش کا انعام نہیں۔

تیسری آیت قبرستان میں بولی گئی۔ "خداوند خدا اِن ہڈیوں سے یوں فرماتا ہے کہ دیکھو میں تم میں دم ڈالوں گا اور تم زندہ ہو جاؤ گی" (حزقی ایل 37:5)۔ وادی میں پڑی ہڈیاں بہت سی تھیں اور نہایت سوکھی، یعنی موت پرانی اور مکمل تھی۔ جب خدا نے پوچھا کہ کیا یہ ہڈیاں زندہ ہو سکتی ہیں، تو نبی نے نہ ہاں کہا نہ نہیں؛ اُس نے کہا کہ اے خداوند خدا، تُو ہی جانتا ہے۔ یہی ایمان کی زبان ہے۔ پھر حیرت انگیز بات ہوئی: خدا نے خود زندگی نہیں پھونکی بلکہ نبی سے کہا کہ تُو اِن پر نبوت کر۔ کلام کی منادی اور روح کا سانس مل کر مردوں کو کھڑا کرتے ہیں۔ جو جلاوطن خود کو قومی قبر میں دفن سمجھ رہے تھے، اُن کے لیے یہ سب سے بڑی خبر تھی، اور ہر اُس شخص کے لیے بھی جو آج اپنے اندر سوکھا پن محسوس کرتا ہے۔

اس کتاب کو پڑھنے کا عملی منصوبہ

حزقی ایل کو شروع سے آخر تک ایک ہی نشست میں پڑھنے کی کوشش اکثر ناکام ہوتی ہے، اِس لیے چار ہفتوں کا ایک سادہ راستہ تجویز ہے۔

پہلے ہفتے باب 1 سے 3 اور پھر باب 8 سے 11 پڑھیے، اور صرف ایک سوال ذہن میں رکھیے: خدا کا جلال کہاں ہے اور کس طرف جا رہا ہے؟ یہ ساتھ ساتھ ایک نقشہ ہے، اور اِسے دیکھ لیں تو باقی کتاب روشن ہو جاتی ہے۔ ابتدائی رویا کی ہر تفصیل کو سمجھانے کی کوشش نہ کریں؛ یاد رکھیں کہ خود نبی بھی بار بار "مانند" اور "نمونہ" کے الفاظ استعمال کرتا ہے، کیونکہ جو اُس نے دیکھا وہ زبان کی گرفت سے باہر تھا۔

دوسرے ہفتے باب 4 سے 7 اور 12 سے 24 تک کے اشارے اور تمثیلیں پڑھیے۔ یہاں خود کو بور ہونے کی اجازت نہ دیں بلکہ پوچھیں کہ خدا اِتنی سخت زبان کیوں استعمال کر رہے ہیں۔ باب 16 اور 23 خاص طور پر تکلیف دہ ہیں؛ اِن کا مقصد شرمندہ کرنا نہیں بلکہ یہ دکھانا ہے کہ بے وفائی خدا کو کتنی گہری چوٹ پہنچاتی ہے۔ باب 18 پر رک کر ٹھہریے۔

تیسرے ہفتے باب 25 سے 32 کو تیزی سے پڑھ جائیے، صرف یہ نوٹ کرتے ہوئے کہ ہر قوم کے خلاف الزام کیا ہے، اور پھر باب 33 سے 39 کو آہستہ آہستہ۔ یہ کتاب کا سب سے زیادہ تسلی بخش حصہ ہے۔ باب 34، 36 اور 37 کو ایک سے زیادہ بار پڑھیں اور ہر وعدے کے ساتھ لکھیں کہ خداوند یسوع مسیح میں وہ کیسے پورا ہوا۔

چوتھے ہفتے باب 40 سے 48 پڑھیے۔ پیمائشوں میں الجھنے کے بجائے ترتیب دیکھیے: پہلے حدود، پھر قربان گاہ، پھر جلال کی واپسی باب 43 میں، پھر باب 47 کا دریا، اور آخر میں شہر کا نام۔ اختتام پر دعا میں خدا سے کہیے کہ وہ آپ کے اپنے دل کو وہ جگہ بنائیں جہاں اُن کی حضوری ٹھہرے۔

آئینہ

آپ شاید اِس وقت اپنی زندگی کے کسی ایسے موڑ پر کھڑے ہیں جو آپ کے منصوبے میں نہیں تھا۔ نوکری وہ نہیں رہی جو آپ نے سوچی تھی۔ گھر میں وہ خاموشی ہے جو جھگڑے سے بھی بھاری ہے۔ جسم ساتھ نہیں دے رہا۔ پیسہ مہینے کے آخر تک نہیں پہنچتا۔ یا وہ خدمت جس کے لیے آپ نے خود کو تیار کیا تھا، آپ کے ہاتھ سے نکل گئی۔ حزقی ایل آپ کو یہ نہیں کہے گا کہ ہمت رکھیں، سب ٹھیک ہو جائے گا۔ وہ آپ کو ایک کاہن کے پاس لے جائے گا جو اپنی تیسویں سالگرہ ایک غیر ملکی نہر کے کنارے، قیدیوں کے درمیان، بغیر کسی مذبح کے منا رہا تھا۔ اور وہیں آسمان کھلا۔

یہ کتاب آپ سے ایک تکلیف دہ سوال بھی پوچھتی ہے۔ آپ کس چیز پر بھروسا کر رہے ہیں؟ یروشلیم کے لوگ کہتے تھے کہ ہیکل یہاں ہے، ہمیں کچھ نہیں ہو سکتا۔ عمارت موجود تھی، رسم موجود تھی، حضوری جا چکی تھی۔ ممکن ہے آپ کی زندگی میں بھی سب کچھ اپنی جگہ ہو، اتوار کی حاضری، دعا کے الفاظ، مسیحی گھرانے کا نام، اور اندر پتھر۔ حزقی ایل 36:26 آپ کے لیے نرمی سے مگر بے رحمی سے کھلتی ہے: پتھر کا دل خود کو مرمت نہیں کر سکتا۔

اور پھر وہی کتاب آپ کو رہائی دیتی ہے۔ آپ کو اپنی ہڈیوں میں جان ڈالنے کا حکم نہیں ملا۔ آپ کو وہ چرواہا نہیں بننا جو خود کو ڈھونڈے۔ حزقی ایل 34:11 میں خدا کہتے ہیں کہ میں خود تلاش کروں گا۔ آپ کا کام اُس آواز کے سامنے کھڑے ہونا اور باز آنا ہے، کیونکہ وہ آپ کی موت سے خوش نہیں ہوتے۔ جہاں آپ آج ہیں، چاہے وہ جگہ آپ کی پسند کی نہ ہو، وہیں آسمان کھل سکتا ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو حزقی ایل سنانا مشکل نہیں، بس صحیح دروازے سے داخل ہونا پڑتا ہے۔ سب سے اچھا دروازہ سوکھی ہڈیوں کی وادی ہے۔ آپ اُنہیں بتا سکتے ہیں کہ خدا کے ایک دوست کو ایک بہت عجیب خواب دکھایا گیا جس میں ایک بڑے میدان میں صرف ہڈیاں پڑی تھیں، اور وہ اتنی پرانی تھیں کہ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ کچھ ہو سکتا ہے۔ پھر خدا نے کہا، بول، اور جب حزقی ایل نے خدا کی بات کہی تو ہڈیاں کھڑکھڑائیں، جُڑیں، اُن پر گوشت آیا، اور خدا کی پھونک سے وہ جی اُٹھیں۔ سبق سادہ ہے: ہمارا خدا وہ ہے جو مُردہ چیزوں کو زندہ کر سکتا ہے، اِس لیے کوئی حالت اُس کے لیے بہت دیر نہیں ہوئی۔

دوسرا آسان دروازہ باب 34 ہے۔ بچے چرواہے اور بھیڑ کی تصویر فوراً سمجھتے ہیں۔ بتائیے کہ خدا نے وعدہ کیا تھا کہ وہ خود اپنی بھیڑیں ڈھونڈنے نکلیں گے، اور پھر خداوند یسوع مسیح آئے اور کہا، اچھا چرواہا میں ہوں۔ تیسرا دروازہ نئے دل کا وعدہ ہے، جسے پتھر اور نرم مٹی کے ایک چھوٹے سے مظاہرے کے ساتھ سمجھایا جا سکتا ہے۔

بڑی رویاؤں، پہیوں اور چہروں کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں؛ بچوں کو یہ کہنا کافی ہے کہ خدا اتنے عظیم ہیں کہ حزقی ایل کے پاس اُنہیں بیان کرنے کے لیے لفظ ختم ہو گئے۔

ہماری ویب سائٹ پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں بھی دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال)، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)، تاکہ آپ اپنے گھر یا کلاس کی ضرورت کے مطابق مناسب سطح چن سکیں۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

حزقی ایل کی کتاب کس نے لکھی؟

کتاب خود اپنے مصنف کا نام دیتی ہے: حزقی ایل، بوزی کا بیٹا، جو کاہن تھا اور بابل کی جلاوطنی میں دریائے کبار کے کنارے رہتا تھا۔ زیادہ تر کتاب پہلے شخص واحد میں لکھی گئی ہے، یعنی "میں نے دیکھا"، "مجھ پر خداوند کا کلام نازل ہوا"، جو ذاتی گواہی کا انداز ہے۔ تاریخوں کی باریک ترتیب اور کاہنانہ اصطلاحات کی کثرت اِس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ لکھنے والا ہیکل کی خدمت سے گہری واقفیت رکھتا تھا۔ یہودی اور مسیحی روایت دونوں نے ہمیشہ اِسی نبی کو اِس کتاب کا مصنف مانا ہے۔

حزقی ایل کس زمانے میں رہے اور کتاب کب لکھی گئی؟

حزقی ایل 597 قبلِ مسیح میں یہویاکین بادشاہ کے ساتھ بابل لے جائے گئے۔ اُن کی بلاہٹ تقریباً 593 قبلِ مسیح میں ہوئی اور اُن کی آخری تاریخ شدہ نبوت تقریباً 571 قبلِ مسیح کی ہے، یعنی اُن کی خدمت کا دورانیہ تقریباً بائیس برس بنتا ہے۔ اِس عرصے کا سب سے اہم موڑ 586 قبلِ مسیح ہے، جب یروشلیم گرا اور ہیکل جلا دی گئی۔ کتاب کے پہلے چوبیس ابواب اُس تباہی سے پہلے کے ہیں اور باقی اُس کے بعد کے، اِسی لیے لہجہ بیچ میں عدالت سے اُمید کی طرف مڑ جاتا ہے۔

حزقی ایل کی کتاب کا مرکزی پیغام کیا ہے؟

مرکزی پیغام یہ ہے کہ خدا اپنے پاک نام کی خاطر عدالت بھی کرتے ہیں اور بحالی بھی، تاکہ سب جانیں کہ وہی خداوند ہیں۔ اُن کا جلال ہیکل کا قیدی نہیں؛ وہ گناہ کی وجہ سے اپنے گھر کو چھوڑ سکتے ہیں اور اپنی رحمت کی وجہ سے جلاوطنوں کے درمیان آ سکتے ہیں۔ اور جب وہ بحال کرتے ہیں تو سطحی مرمت نہیں کرتے بلکہ نیا دل اور نئی روح دیتے ہیں۔ کتاب کا آخری لفظ اِسی کا خلاصہ ہے: اُس شہر کا نام "خداوند وہاں ہے"۔

حزقی ایل باب 1 کی رویا کا کیا مطلب ہے؟

پہلے باب میں نبی چار جاندار، گھومتے ہوئے پہیے، آنکھوں سے بھرے حلقے، بلور جیسا فرش اور اُس پر ایک تخت دیکھتا ہے۔ تفصیل کا ہر ٹکڑا "مانند" یا "نمونہ" کے الفاظ سے جڑا ہے، یعنی نبی تسلیم کرتا ہے کہ انسانی زبان اِس منظر سے چھوٹی پڑ رہی ہے۔ بنیادی پیغام یہ ہے کہ خدا کا تخت کسی ایک جگہ سے بندھا نہیں، وہ ہر سمت میں چل سکتا ہے، اور وہ بابل کی غیر قوم سرزمین پر بھی حاکم ہیں۔ جلاوطنوں کے لیے یہ شکست کے بیچ خودمختاری کا اعلان تھا۔

خدا حزقی ایل کو بار بار "آدم زاد" کیوں کہتے ہیں؟

یہ خطاب کتاب میں تقریباً ترانوے مرتبہ آتا ہے اور اِس کا سیدھا مطلب "انسان" یا "مٹی کا بیٹا" ہے۔ جب ایک شخص بار بار خدا کے جلال کی رویتیں دیکھے تو اُسے یاد دہانی کی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ وہ خود بھی فانی ہے۔ یہ لفظ نبی کو عاجز رکھتا ہے اور قاری کو یہ بتاتا ہے کہ پیغام کی عظمت پیغامبر سے نہیں، بھیجنے والے سے ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خداوند یسوع مسیح نے اپنے لیے "ابن آدم" کا لقب اپنایا، مگر دانی ایل 7 کی روشنی میں اُس کے معنی کہیں زیادہ بلند ہیں۔

سوکھی ہڈیوں کی وادی کس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے؟

خود خدا اِس رویا کی تشریح کرتے ہیں: وہ ہڈیاں اسرائیل کا پورا گھرانا ہیں جو کہہ رہا تھا کہ ہماری ہڈیاں سوکھ گئیں اور ہماری اُمید جاتی رہی۔ یعنی یہ بنیادی طور پر جلاوطنی سے قومی بحالی کی تصویر ہے۔ مگر اُس بحالی کا طریقہ عام نہیں؛ خدا کلام اور روح کے ذریعے مُردوں کو زندہ کرتے ہیں، اِس لیے یہ رویا نئی پیدائش اور آخری قیامت دونوں کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ ہر وہ شخص جو اپنے اندر روحانی سوکھا پن محسوس کرتا ہے، اِس باب میں اپنا پتا پا لیتا ہے۔

کیا حزقی ایل 18 کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنے والدین کے گناہ کا کوئی اثر نہیں بھگتتے؟

حزقی ایل 18 یہ نہیں کہتا کہ گناہ کے نتائج نسلوں تک نہیں پہنچتے؛ تجربہ اور کلام دونوں بتاتے ہیں کہ پہنچتے ہیں۔ یہ باب اِس بہانے کو ختم کرتا ہے کہ میں اپنی روحانی حالت کا ذمہ دار نہیں کیونکہ میرے باپ دادا نے گناہ کیا۔ خدا فرماتے ہیں کہ ہر جان میری ہے اور ہر شخص اپنے اپنے عمل کا جوابدہ ہے۔ باب کا نچوڑ سزا نہیں بلکہ دعوت ہے، کیونکہ اختتام اِن الفاظ پر ہوتا ہے کہ خدا مرنے والے کی موت سے خوش نہیں، پس باز آؤ اور زندہ رہو۔

حزقی ایل 38 اور 39 میں جوج اور ماجوج کون ہیں؟

جوج ماجوج کی سرزمین کا ایک حکمران ہے جو شمال سے ایک بڑی فوج لے کر بحال شدہ قوم پر حملہ کرتا ہے اور خدا کے ہاتھوں مکمل شکست کھاتا ہے۔ مسیحیوں میں اِس کی تعبیر پر اختلاف رہا ہے؛ کچھ اِسے تاریخ کے کسی مخصوص حملے سے جوڑتے ہیں، کچھ اِسے ہر دور کی خدا مخالف طاقتوں کی علامت سمجھتے ہیں، اور کچھ اِسے آخری زمانے کی ایک حتمی جنگ مانتے ہیں، خاص کر اِس لیے کہ مکاشفہ 20 میں یہی نام دوبارہ آتا ہے۔ تینوں تعبیروں کا مشترکہ نتیجہ ایک ہی ہے: خدا کے لوگوں کے خلاف اُٹھنے والی ہر طاقت کا انجام شکست ہے۔

حزقی ایل 40 سے 48 کی ہیکل کیا واقعی دوبارہ تعمیر ہوگی؟

اِس سوال پر مخلص ایمان دار مختلف رائے رکھتے ہیں۔ کچھ اِسے ایک مستقبل کی حقیقی عمارت سمجھتے ہیں، کچھ اِسے بابل سے لوٹنے والوں کے لیے ایک مثالی نقشہ مانتے ہیں جسے اُنہوں نے پوری طرح پورا نہیں کیا، اور بہت سے مسیحی اِسے کلیسیا اور آخرکار نئے یروشلیم کی علامتی تصویر پڑھتے ہیں، کیونکہ مکاشفہ 21 اور 22 اِنہی ابواب کی زبان دہراتے ہیں اور وہاں شہر میں کوئی ہیکل نہیں کیونکہ خدا اور برّہ خود اُس کی ہیکل ہیں۔ جو بات سب مانتے ہیں وہ یہ ہے کہ اِن ابواب کا دل خدا کی واپس آنے والی حضوری ہے۔

حزقی ایل اور یرمیاہ میں کیا فرق ہے؟

دونوں ایک ہی بحران کے نبی تھے مگر دو مختلف محاذوں پر۔ یرمیاہ یروشلیم میں رہا اور شہر کے گرنے سے پہلے اور بعد میں وہیں سے پکارتا رہا؛ حزقی ایل سینکڑوں میل دور بابل میں جلاوطنوں کے درمیان خدمت کرتا رہا۔ یرمیاہ کا انداز زیادہ آنسوؤں اور ذاتی نوحے کا ہے، جبکہ حزقی ایل کا انداز رویاؤں، علامتی اشاروں اور کاہنانہ زبان کا ہے۔ دونوں نئے عہد کا وعدہ دیتے ہیں: یرمیاہ شریعت کے دلوں پر لکھے جانے کی بات کرتا ہے اور حزقی ایل پتھر کے دل کے بدلے گوشت کے دل کی۔

حزقی ایل کی کتاب پڑھنا اتنا مشکل کیوں لگتا ہے؟

تین وجوہات ہیں۔ پہلی، اِس میں ایسی رویائی زبان ہے جو ہمارے روزمرہ تجربے سے بہت دور ہے۔ دوسری، اِس میں طویل عدالتی نبوتیں اور تفصیلی پیمائشیں ہیں جو پہلی نظر میں خشک لگتی ہیں۔ تیسری، کچھ ابواب، خاص کر 16 اور 23، جان بوجھ کر ایسی صدمہ انگیز تصویریں استعمال کرتے ہیں جو ہمیں بے چین کرتی ہیں۔ حل یہ ہے کہ کتاب کو چار حصوں میں بانٹ کر پڑھیں، ہر حصے کا مقصد ذہن میں رکھیں، اور ہر تفصیل کی وضاحت تلاش کرنے کے بجائے مرکزی تصویر دیکھیں۔

"نیا دل" کیسے ملتا ہے؟

حزقی ایل 36:26 میں تمام افعال خدا کے ہیں، یعنی نیا دل کمایا نہیں جاتا، بخشا جاتا ہے۔ نئے عہدنامے میں یہ وعدہ خداوند یسوع مسیح کے کفارہ بخش کام اور روح القدس کی سکونت کے ذریعے پورا ہوتا ہے؛ خداوند یسوع مسیح نے نیکدیمس سے کہا کہ نئے سرے سے پیدا ہونا ضروری ہے۔ ہمارا حصہ کوشش نہیں بلکہ توبہ اور ایمان ہے: اپنے پتھر پن کو تسلیم کرنا اور اُسے خدا کے سامنے رکھ دینا۔ جو دل یہ دعا کر سکتا ہے، وہ پہلے ہی نرم ہونا شروع ہو چکا ہے۔

"تب وہ جانیں گے کہ میں خداوند ہوں" کا کیا مطلب ہے؟

یہ فقرہ کتاب میں تقریباً ستر بار آتا ہے اور عدالت کے بیانات کے ساتھ بھی اور بحالی کے وعدوں کے ساتھ بھی۔ یہاں "جاننا" محض معلومات رکھنا نہیں بلکہ تجربے سے پہچاننا ہے۔ خدا جو کچھ کرتے ہیں، اُس کا حتمی مقصد یہ ہے کہ اُن کے لوگ اور قومیں دونوں اُن کی سچی شناخت تک پہنچیں۔ یہی وجہ ہے کہ حزقی ایل کو محض تاریخ یا پیشگوئی کی کتاب کہنا ناکافی ہے؛ یہ خدا کے اپنے جلال کے انکشاف کی کتاب ہے، اور ہر باب اُسی ایک انجام کی طرف بڑھتا ہے۔

اختتام میں

حزقی ایل کی کتاب اُس آدمی کی کتاب ہے جس نے اپنا سب کچھ کھو دیا تھا، اور جسے عین اُسی خالی جگہ پر آسمان کھلتا نظر آیا۔ شروع میں ایک جلاوطن نہر کے کنارے بیٹھا ہے؛ آخر میں ایک شہر ہے جس کا نام ہی "خداوند وہاں ہے" ہے۔ درمیان میں جلال ہیکل چھوڑتا ہے، قیدیوں کے بیچ آتا ہے، ہڈیوں کو زندہ کرتا ہے، بھیڑوں کو ڈھونڈتا ہے، پتھر کے دل نکال کر گوشت کے دل رکھتا ہے، اور پھر ایک نئے گھر میں لوٹ آتا ہے۔

جہاں خداوند ہیں، وہی جگہ وطن ہے۔

اگر آپ اِس کتاب کو مزید گہرائی میں پڑھنا چاہتے ہیں تو اوپر دیے گئے چار ہفتوں کے منصوبے سے شروع کیجیے، اور ساتھ ساتھ یوحنا 10، رومیوں 8 اور مکاشفہ 21 اور 22 کھلے رکھیے؛ آپ دیکھیں گے کہ حزقی ایل کے ہر بڑے وعدے کا چہرہ خداوند یسوع مسیح ہے۔ اور جب آپ پڑھیں تو صرف سمجھنے کے لیے نہ پڑھیے۔ اِس کتاب کا خدا آج بھی وہی سوال پوچھتا ہے جو اُس نے وادی میں پوچھا تھا، اور وہی دعوت دیتا ہے جو اُس نے باب اٹھارہ میں دی تھی: باز آؤ اور زندہ رہو۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.060 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.699
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 10 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو یونس 2:11

پھر رب نے مچھلی سے بات کی، اور اُس نے یونس کو خشک زمین پر اُگل دیا۔" غور کر، مچھلی…

دعا ادارتی کو ۱-تیمُتھیُس 4:16

اے خدا، میری نظر اپنے دل پر بھی رہے اور اُس سچائی پر بھی جو میں دوسروں تک پہنچاتا ہوں۔…

شکرگزاری ادارتی کو یسعیاہ 61:10

خداوند، شکر ہے کہ تُو نے مجھے نجات کا لباس پہنایا اور راستی کی چادر میں لپیٹا ہے۔ میری اپنی…

بصیرت ادارتی کو قُضاۃ 2:18

اسرائیل بار بار پھر گیا، بُت پھر پوجے، وعدے پھر توڑے۔ پھر بھی لکھا ہے کہ "رب کو اُن پر…

بصیرت ادارتی کو متی 26:6

عیسیٰ بیت عنیاہ میں کوڑھی شمعون کے گھر میں تھا۔“ غور کریں کہ صلیب سے چند دن پہلے مسیح نے…

دعا ادارتی کو واعظ 10:16

اے خدا، ہمارے ملک کے حاکموں کو سمجھ اور سنجیدگی عطا کر، تاکہ وہ اپنی ذات کے آرام میں کھو…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟