بائبل کی کتاب

مرقس کی انجیل کا تعارف اور پیغام

تعارف

روم کے کسی تنگ محلے میں، رات کے پچھلے پہر، چند لوگ ایک چھوٹے سے کمرے میں جمع ہیں۔ شہر میں آگ لگی تھی اور الزام اُن پر آ پڑا ہے۔ کل جو بھائی اُن کے ساتھ روٹی توڑ رہا تھا، آج وہ قید میں ہے۔ اُن کے پاس نہ مندر ہے، نہ عزت، نہ تحفظ۔ کسی کے ہاتھ میں ایک چھوٹا سا طومار ہے، سب سے چھوٹی انجیل، جو بغیر کسی لمبی تمہید کے، بغیر نسب نامے کے، بغیر فرشتوں کے گیت کے، سیدھا یوں شروع ہوتی ہے: "یسوع مسیح ابنِ خُدا کی اِنجیل کا شروع۔"

یہ کتاب اُن لوگوں کے لیے لکھی گئی جو ڈرے ہوئے تھے اور جن کے پاس وقت کم تھا۔ اسی لیے یہ دوڑتی ہے۔ مگر جہاں یہ ٹھہرتی ہے، وہاں ٹھہر کر ساری کہانی کا بھید کھولتی ہے: ایک صلیب، ایک رومی سپاہی، اور ایک اعتراف۔

اس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ مرقس کی انجیل کس نے، کب اور کیوں لکھی؛ یہ کس ڈھانچے پر کھڑی ہے؛ اس کے بنیادی موضوعات کیا ہیں؛ اور سب سے بڑھ کر، یہ آپ سے ذاتی طور پر کیا سوال پوچھتی ہے۔

اس رہنما کا زاویہ

اکثر لوگ مرقس کو "سب سے مختصر انجیل" کہہ کر گزر جاتے ہیں، گویا یہ متی کا خلاصہ ہو۔ ہم اسے دوسرے زاویے سے پڑھیں گے۔ مرقس دراصل ایک ہی سوال کے گرد لکھی گئی کتاب ہے: "یہ کون ہے؟" اور مرقس اس سوال کا پورا جواب نہ معجزوں میں دیتا ہے، نہ تعلیم میں، بلکہ صلیب کے نیچے، ایک غیر قوم کے سپاہی کے منہ سے۔ یعنی مرقس کے نزدیک آپ یسوع مسیح کو جان ہی نہیں سکتے جب تک آپ اُنہیں مصلوب ہوتے ہوئے نہ دیکھ لیں۔

مرقس کا سوال یہی ہے: یہ کون ہے؟

یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ یہ ہمارے زمانے کے اُس مسیح کو توڑ دیتا ہے جسے ہم صرف اپنی ضرورتیں پوری کرنے والا سمجھ بیٹھے ہیں۔

بائبل مرقس کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

کتابِ مقدّس خود اس انجیل کے مصنف کا نام کہیں نہیں لکھتی، جیسا کہ چاروں انجیلوں کا معاملہ ہے۔ مگر ابتدائی کلیسیا کی گواہی حیرت انگیز حد تک متفق ہے: یہ یوحنا مرقس کا لکھا ہوا بیان ہے، وہی نوجوان جس کی ماں مریم کے گھر یروشلیم میں ایمان دار دعا کے لیے جمع ہوا کرتے تھے جب پطرس قید میں تھا (اعمال 12:12)۔ یہی مرقس برنباس اور پولس کے ساتھ پہلے سفر پر نکلا، پھر بیچ راستے سے لوٹ آیا (اعمال 13:13)، اور یہی وہ شخص ہے جس کے بارے میں پولس نے برسوں بعد قید سے لکھا کہ اُسے ساتھ لے آنا کیونکہ وہ خدمت کے لیے مفید ہے (2 تیمتھیس 4:11)۔ پطرس رسول اُسے محبت سے "میرا بیٹا مرقس" کہتے ہیں اور اُس وقت وہ دونوں "بابل" یعنی غالباً روم میں ہیں (1 پطرس 5:13)۔

دوسری صدی کے ابتدائی گواہ پاپیاس کہتے ہیں کہ مرقس پطرس کا ترجمان تھا اور اُس نے وہ سب کچھ احتیاط سے لکھ لیا جو پطرس یسوع مسیح کے بارے میں سناتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس انجیل میں آنکھوں دیکھے حال کی سی جزئیات ملتی ہیں: کشتی میں گدّی، گھاس کا سبز ہونا، یسوع مسیح کا غصّہ، اُن کا تھک کر سو جانا، اور پطرس کی اپنی شرمندگی جو کہیں چھپائی نہیں گئی۔ جو اپنی عزت بچانا چاہتا ہے، وہ اپنے انکار کی کہانی اتنی تفصیل سے نہیں لکھواتا۔

تحریر کا زمانہ غالباً پچاس کی دہائی کے آخر سے ستر کے عشرے کے شروع تک کا ہے، اور بیشتر علما اسے نیرو کے ظلم کے دنوں، یعنی چونسٹھ سے اڑسٹھ عیسوی کے آس پاس، روم سے جوڑتے ہیں۔ متن خود اس کی تائید کرتا ہے۔ مرقس یہودی رسموں کی وضاحت کرتا ہے، ارامی الفاظ کا ترجمہ کر کے بتاتا ہے، لاطینی سکّوں اور فوجی اصطلاحات استعمال کرتا ہے۔ یہ سب اُس قاری کے لیے ہے جو یہودی نہیں، جو روم میں رہتا ہے، اور جس کے لیے "بادشاہی" کا لفظ قیصر کے سائے میں خطرناک ہے۔

اسی لیے پہلی ہی آیت ایک اعلان ہے، تمہید نہیں: "یسوع مسیح ابنِ خُدا کی اِنجیل کا شروع۔" یونانی دنیا میں "انجیل" یعنی خوشخبری قیصر کی فتح یا اُس کی سالگرہ کے لیے بولی جاتی تھی۔ مرقس اسی لفظ کو اُٹھا کر ایک گلیلی بڑھئی پر چسپاں کر دیتا ہے اور اُسے "ابنِ خُدا" کہتا ہے۔ یہ محض مذہبی جملہ نہیں، یہ ایک متبادل سلطنت کا اعلان ہے۔

اور وہ سلطنت کیسے آتی ہے؟ یسوع مسیح کے اپنے پہلے الفاظ میں: "اور کہا کہ وقت پورا ہو گیا ہے اور خُدا کی بادشاہی نزدیک آ گئی ہے۔ توبہ کرو اور اِنجیل پر ایمان لاؤ" (مرقس 1:15)۔ غور کیجیے کہ یہاں کوئی شرط نامہ نہیں، کوئی سیڑھی نہیں جس پر چڑھ کر خدا تک پہنچا جائے۔ خدا خود آ گیا ہے۔ "وقت پورا ہو گیا" کا مطلب ہے کہ انتظار ختم ہوا؛ صدیوں کے وعدے اب جسم پہن کر چل رہے ہیں۔ توبہ یہاں سزا سے بچنے کی کوشش نہیں بلکہ رُخ بدلنا ہے، کیونکہ بادشاہ آ چکا ہے اور اب پرانی سمت میں چلتے رہنا بے معنی ہے۔ فضل پہلے آتا ہے، تقاضا بعد میں؛ پہلے "بادشاہی نزدیک آ گئی ہے"، پھر "توبہ کرو"۔

مرقس کی انجیل اسی دو ٹوک انداز میں آگے بڑھتی ہے۔ اس میں لمبے وعظ کم ہیں اور عمل زیادہ۔ لفظ "فوراً" چالیس سے زائد بار آتا ہے۔ یسوع مسیح بیمار کو چھوتے ہیں، بدروحوں کو نکالتے ہیں، گناہ معاف کرتے ہیں، سبت کے مالک ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، اور ہر قدم پر مخالفت بڑھتی جاتی ہے۔ یہ کتاب آپ کو سوچنے کا موقع کم دیتی ہے اور فیصلہ کرنے پر مجبور زیادہ کرتی ہے۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

مرقس خالی زمین پر عمارت نہیں کھڑی کرتا۔ پہلی ہی آیتوں میں وہ پرانے عہد نامے کا حوالہ دیتا ہے: بیابان میں پکارنے والی آواز اور خداوند کی راہ درست کرنے کا حکم، جو یسعیاہ 40:3 اور ملاکی 3:1 سے لیا گیا ہے۔ یہ محض ایک نبوّت کا پورا ہونا نہیں؛ یسعیاہ کا وہ باب اسرائیل کی جلاوطنی کے خاتمے اور خدا کے اپنی قوم کے پاس واپس آنے کا اعلان ہے۔ مرقس گویا کہہ رہا ہے: جلاوطنی ختم ہو رہی ہے، مگر اس بار قیدخانہ بابل نہیں، گناہ اور موت ہے۔

پھر پانی سے نکلتے ہی آسمان "پھٹ" جاتا ہے اور آواز آتی ہے: "تُو میرا پیارا بیٹا ہے، تُجھ سے مَیں خُوش ہوں" (مرقس 1:11)۔ یہ جملہ زبور 2 کے بادشاہ اور یسعیاہ 42 کے اُس خادم کو ایک شخص میں جوڑ دیتا ہے جس پر خدا کی روح ٹھہرتی ہے۔ مرقس کی پوری انجیل اسی دہرے تار پر بُنی گئی ہے: ایک طرف دانی ایل 7 کا "ابنِ آدم" جسے سلطنت اور اختیار دیا جاتا ہے، دوسری طرف یسعیاہ 53 کا دُکھ اُٹھانے والا خادم جو "بہتوں" کے گناہوں کا بوجھ اُٹھاتا ہے۔ انسانی سوچ ان دونوں کو ملا نہیں سکتی تھی۔ یسوع مسیح نے اپنی ذات میں دونوں کو ملا دیا۔

یہی سلسلہ خروج کی کہانی سے بھی جُڑتا ہے۔ جیسے خدا نے بحرِ قلزم کو ڈانٹ کر اپنی قوم کے لیے راستہ بنایا، ویسے ہی گلیل کی جھیل پر "اُس نے اُٹھ کر ہوا کو ڈانٹا اور پانی سے کہا خاموش رہ! تھم جا! پس ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہو گیا" (مرقس 4:39)۔ پرانے عہد نامے کا ہر یہودی قاری فوراً سمجھ جاتا کہ سمندر کو حکم دینا کس کا کام ہے: زبور 107 کے مطابق یہ صرف خداوند کرتا ہے۔ اسی لیے شاگردوں کا اگلا سوال خوف سے بھرا ہوا ہے کہ یہ کون ہے کہ ہوا اور پانی بھی اس کا حکم مانتے ہیں۔ مرقس چاہتا ہے کہ وہی سوال آپ کے دل میں بھی اُترے۔

صلیب پر یہ سارے دھاگے اکٹھے ہوتے ہیں۔ یسوع مسیح زبور 22 کے الفاظ میں پکارتے ہیں، اندھیرا چھا جاتا ہے جیسے عاموس نبی نے کہا تھا، اور مقدِس کا پردہ پھٹ جاتا ہے۔ مرقس نے وہی فعل استعمال کیا ہے جو اُس نے بپتسمے کے وقت آسمان کے "پھٹنے" کے لیے لکھا تھا۔ یعنی جو آسمان مسیح کے آغاز پر کھلا، وہ اُن کے انجام پر ہمارے لیے کھل گیا۔ خدا اب پردے کے پیچھے بند نہیں۔

نئے عہد نامے میں یہ سلسلہ آگے بڑھتا ہے۔ مرقس کی انجیل کا خاتمہ حکم پر ہوتا ہے: "اور اُس نے اُن سے کہا تُم تمام دُنیا میں جا کر ساری خلقت کے سامنے اِنجیل کی منادی کرو" (مرقس 16:15)۔ اعمال کی کتاب اسی حکم کی تعمیل کی تاریخ ہے، اور خود مرقس اُس تاریخ کا ایک کردار ہے: وہ نوجوان جو ایک بار ہمت ہار کر لوٹ آیا تھا، آخرکار پطرس اور پولس دونوں کا ساتھی بنا اور اُس نے وہ کتاب لکھی جس سے دو ہزار سال سے دنیا مسیح کو پہچان رہی ہے۔ ناکام ہو جانے والوں کے لیے اس سے بڑی تسلی کیا ہو گی۔

ساخت اور بنیادی موضوعات

مرقس کی انجیل سولہ ابواب پر مشتمل ہے، مگر اس کی عمارت دو منزلوں پر کھڑی ہے اور ان دونوں کے درمیان ایک دروازہ ہے: قیصریہ فلپی کا واقعہ۔

پہلی منزل، یعنی باب ایک سے آٹھ کے وسط تک، ایک ہی سوال اُٹھاتی رہتی ہے: یہ شخص کون ہے؟ یسوع مسیح گلیل میں بدروحیں نکالتے ہیں، کوڑھی کو چھوتے ہیں، مفلوج کے گناہ معاف کرتے ہیں، سبت کے قانون پر اختیار جتاتے ہیں، طوفان کو خاموش کرتے ہیں، مُردی لڑکی کو جِلاتے ہیں، ہزاروں کو کھانا کھلاتے ہیں۔ ہر معجزے کے بعد لوگ حیران ہوتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ یہ نئی تعلیم کیا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس حصے میں یسوع مسیح کو سب سے صاف طور پر بدروحیں پہچانتی ہیں، اور اُنہیں یسوع بار بار خاموش رہنے کا حکم دیتے ہیں۔ علما اسے "مسیحائی راز" کہتے ہیں۔ وجہ سادہ ہے: اگر لوگ صلیب سے پہلے اُنہیں مسیح کہہ کر تاج پہنا دیتے، تو وہ اُنہیں ایک سیاسی نجات دہندہ بنا دیتے اور اصل نجات رہ جاتی۔

دروازہ یہاں ہے: "اُس نے اُن سے پوچھا لیکن تُم مجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں اُس سے کہا تُو مسیح ہے" (مرقس 8:29)۔ یہ انجیل کا مرکزی موڑ ہے۔ پطرس کا جواب درست ہے، مگر ادھورا۔ اسی لیے مرقس نے بڑی مہارت سے اس سے ٹھیک پہلے بیت صیدا کے اُس اندھے کا واقعہ رکھا ہے جو دو مرحلوں میں بینا ہوا: پہلے اُسے لوگ درختوں کی طرح چلتے دکھائی دیے، پھر صاف نظر آنے لگا۔ شاگرد بھی اسی حالت میں ہیں۔ اُنہیں کچھ نظر آ گیا ہے، مگر دھندلا۔

دوسری منزل، یعنی باب آٹھ کے آخر سے دس کے آخر تک، "راستے" کا حصہ ہے۔ یسوع مسیح یروشلیم کی طرف چل پڑتے ہیں اور تین بار اپنی موت اور جی اُٹھنے کی پیشین گوئی فرماتے ہیں۔ ہر بار شاگرد غلط سمجھتے ہیں: ایک بار پطرس اُنہیں ملامت کرتا ہے، ایک بار وہ آپس میں بڑائی کا جھگڑا کرتے ہیں، اور ایک بار یعقوب اور یوحنا دائیں بائیں کرسیاں مانگتے ہیں۔ اور ہر بار یسوع مسیح وہی جواب دیتے ہیں: میرے پیچھے آنے کا مطلب اپنی صلیب اُٹھانا ہے۔ یہ پورا حصہ ایک اور اندھے، برتمائی، پر ختم ہوتا ہے جو بینا ہو کر "راہ میں اُس کے پیچھے ہو لیا"۔ اندھے دیکھ لیتے ہیں، شاگرد اٹکتے رہتے ہیں۔ مرقس کا پیغام واضح ہے: شاگردی کوئی ہنر نہیں، یہ فضل ہے۔

تیسری حرکت باب گیارہ سے سولہ تک ہے: یروشلیم میں داخلہ، ہیکل کی صفائی، ہیکل کے خاتمے کی پیشین گوئی، آخری فسح، گتسمنی، مقدمہ، صلیب، اور خالی قبر۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اس مختصر کتاب کا تقریباً ایک تہائی حصہ یسوع مسیح کی زندگی کے آخری ہفتے پر صرف ہوا ہے۔ یہ اتفاق نہیں؛ یہی مرقس کا اصل موضوع ہے۔

بنیادی موضوعات انہی خطوط پر چلتے ہیں۔ اختیار: یسوع مسیح کا کلام بیماری، فطرت، بدروحوں اور موت پر حکم چلاتا ہے۔ خدمت: اختیار کا استعمال اپنے لیے نہیں، دوسروں کے لیے ہے۔ خوف اور ایمان: مرقس میں خوف ہر جگہ ہے، طوفان میں، معجزوں کے بعد، قبر پر۔ غیر اقوام کی شمولیت: گدرینی مجنون، سورو فینیکی عورت، دکپلس کا بہرا، ہیکل کا "سب قوموں کے لیے دعا کا گھر" ہونا، اور آخر میں رومی صوبہ دار کا اعتراف۔ اور سب سے بڑھ کر، صلیب، جو مرقس کے نزدیک مسیح کی شناخت کا واحد مکمل آئینہ ہے۔

اس کتاب کی اہم آیات

"اُس نے اُن سے پوچھا لیکن تُم مجھے کیا کہتے ہو؟ پطرس نے جواب میں اُس سے کہا تُو مسیح ہے" (مرقس 8:29)۔ یہ آیت پوری انجیل کی ریڑھ کی ہڈی ہے۔ غور کیجیے کہ یسوع مسیح نے پہلے پوچھا کہ لوگ کیا کہتے ہیں، اور جوابات کافی عزت والے تھے: یوحنا بپتسمہ دینے والا، ایلیاہ، نبیوں میں سے کوئی۔ مگر اُنہوں نے دوسرا سوال داغ دیا جس سے بچنا ممکن نہیں۔ ایمان کسی خاندانی روایت یا عام رائے کا نام نہیں۔ یہ اُس لمحے کا نام ہے جب آپ کو خود جواب دینا پڑتا ہے۔ پطرس کا جواب سچ تھا، مگر اگلی ہی آیتوں میں وہ صلیب کا ذکر سن کر مسیح کو روکنے لگا۔ درست عقیدہ اور غلط توقع ایک ہی دل میں رہ سکتے ہیں۔

"کیونکہ اِبنِ آدم بھی اِس لِئے نہیں آیا کہ خدمت لے بلکہ اِس لِئے کہ خدمت کرے اور اپنی جان بُہتیروں کے بدلے فدیہ میں دے" (مرقس 10:45)۔ اگر مرقس کی انجیل کی کوئی ایک آیت پوری کتاب کا خلاصہ ہے تو یہی ہے۔ "فدیہ" وہ قیمت تھی جو غلام کو آزاد کرانے یا قیدی کو چھڑانے کے لیے ادا کی جاتی تھی۔ یعنی مسیح کی موت کوئی بدقسمت حادثہ نہیں تھی، نہ محض ایک نیک آدمی کی شہادت۔ یہ ایک مقصد کے ساتھ ادا کی گئی قیمت تھی۔ اور لفظ "بدلے" بتاتا ہے کہ وہ ہماری جگہ کھڑے ہوئے۔ یہ آیت اُس وقت بولی گئی جب شاگرد عہدوں کے لیے لڑ رہے تھے۔ خدمت کا سبق سب سے زیادہ وہاں ضروری ہوتا ہے جہاں لوگ دینداری کے نام پر برتری چاہتے ہیں۔

"جو صوبہ دار اُس کے سامنے کھڑا تھا جب اُس نے دیکھا کہ وہ اِس طرح دم دے کر مَر گیا تو اُس نے کہا بیشک یہ آدمی خُدا کا بیٹا تھا" (مرقس 15:39)۔ یہ آیت مرقس کا ادبی اور روحانی عروج ہے۔ پہلی آیت میں مرقس نے خود کہا تھا کہ یہ "ابنِ خُدا" ہے؛ بپتسمے پر باپ نے یہی فرمایا؛ بدروحوں نے یہی چیخ کر کہا۔ مگر کسی انسان کے منہ سے یہ اعتراف پوری کتاب میں پہلی بار یہاں نکلتا ہے، اور وہ بھی ایک یہودی شاگرد سے نہیں بلکہ اُس رومی افسر سے جس نے ابھی ابھی مصلوب کیا تھا۔ اُس نے کوئی معجزہ نہیں دیکھا۔ اُس نے صرف یہ دیکھا کہ یہ آدمی کس طرح مرا۔

صلیب کے بغیر مسیح کی شناخت ادھوری رہتی ہے۔

آئینہ

آپ نے شاید بچپن سے سن رکھا ہے کہ یسوع مسیح کون ہیں۔ مگر مرقس آپ سے وہ سوال نہیں پوچھ رہا جو آپ نے سن رکھا ہے۔ وہ پوچھ رہا ہے: "تُم مجھے کیا کہتے ہو؟" اور اس سوال کا جواب آپ کی زبان سے نہیں، آپ کی زندگی کے فیصلوں سے نکلتا ہے۔

ذرا سوچیے۔ جب دفتر میں آپ کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اور آپ کے اندر سے آواز اُٹھتی ہے کہ اب تو حساب برابر کرنا ہی پڑے گا، اُس وقت آپ کس مسیح کے پیچھے چل رہے ہیں؟ جب گھر میں آپ عزت کے بھوکے ہیں اور چاہتے ہیں کہ بیوی، شوہر، بچے، بہو، سب آپ کی خدمت کریں، تو مرقس 10:45 آپ کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ وہ جو کائنات کا مالک تھا، خدمت کرانے نہیں بلکہ خدمت کرنے آیا۔ اور ہم ایک چھوٹے سے گھر میں تخت لگائے بیٹھے ہیں۔

پیسے کے معاملے میں یہ انجیل اور بھی بے رحم ہے۔ وہ دولت مند جوان جو اُداس ہو کر چلا گیا، کوئی بُرا آدمی نہیں تھا۔ وہ شریعت پر عمل کرتا تھا، مؤدب تھا، سنجیدہ تھا۔ بس اُس کے ہاتھ کسی اور چیز سے بھرے ہوئے تھے۔ آپ کے ہاتھ کس چیز سے بھرے ہیں؟

اور اگر آپ ناکامی کے احساس تلے دبے ہوئے ہیں، تو مرقس خاص طور پر آپ کے لیے لکھی گئی ہے۔ اس انجیل کے شاگرد مسلسل ناکام ہوتے ہیں۔ وہ سمجھتے نہیں، ڈرتے ہیں، سو جاتے ہیں، بھاگ جاتے ہیں، انکار کرتے ہیں۔ عورتیں قبر سے کانپتی ہوئی لوٹتی ہیں۔ اور پھر بھی جی اُٹھنے کا پیغام یہی ہے کہ وہ تم سے پہلے گلیل پہنچ رہا ہے۔ وہ اُنہی ناکاموں سے دوبارہ ملنے جا رہے ہیں جہاں سے سب شروع ہوا تھا۔

شاید آپ تنہا ہیں، شاید آپ کا جسم بیمار ہے، شاید آپ کا وقت دوسروں کی ضرورتوں میں ختم ہو رہا ہے اور کوئی شکریہ تک نہیں کہتا۔ مرقس آپ کو یہ نہیں کہتا کہ طوفان آئے گا ہی نہیں۔ وہ یہ کہتا ہے کہ کشتی میں وہ آپ کے ساتھ ہیں، چاہے سوئے ہوئے معلوم ہوں۔ اور اُن کا ایک لفظ کافی ہے۔

ایمان ڈر کا نہ ہونا نہیں، ڈر کے باوجود مسیح سے چمٹے رہنا ہے۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو مرقس کی انجیل سنانا آسان ہے، کیونکہ یہ کتاب خود بچوں کی طرح تیز، سادہ اور تصویری ہے۔ آپ اسے یوں شروع کر سکتے ہیں: "ایک دن ایک آدمی آیا جس کے بولنے سے طوفان رُک گیا، بیمار اچھے ہو گئے اور اُداس لوگ ہنسنے لگے۔ سب پوچھتے تھے کہ یہ کون ہے؟ اور جانتے ہو، اُس کا سب سے بڑا کام تب ہوا جب وہ سب سے کمزور نظر آ رہا تھا، صلیب پر۔"

چھوٹے بچوں کے لیے طوفان کو خاموش کرنے کا واقعہ سب سے موزوں ہے، کیونکہ ہر بچہ کسی نہ کسی چیز سے ڈرتا ہے: اندھیرے سے، تنہائی سے، سکول سے۔ اُنہیں بتائیے کہ یسوع مسیح کشتی میں تھے اور شاگرد پھر بھی ڈر گئے، مگر یسوع نے اُنہیں ڈانٹا نہیں چھوڑا بلکہ طوفان کو ڈانٹا۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ مرقس 10:45 پر بات کر سکتے ہیں: بڑا بننے کا راستہ دوسروں کی خدمت ہے، نہ کہ سب سے آگے کھڑا ہونا۔ یہ سبق سکول کے میدان میں بہت کام آتا ہے۔

ایک بات کا خیال رکھیے: بچوں سے صلیب کو چھپائیے مت، بس اُسے اُن کی عمر کے مطابق بیان کیجیے۔ ورنہ وہ ایک ایسے یسوع کے ساتھ بڑے ہوں گے جو صرف معجزے کرتا ہے اور دکھ سے ناواقف ہے، اور جوانی کے پہلے دکھ میں ہی وہ تصویر ٹوٹ جائے گی۔

ہمارے ہاں اس موضوع پر عمر کے لحاظ سے الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین تا چھ سال)، سکول جانے والے بچوں کے لیے (سات تا بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ کھولیے اور اُن کے ساتھ مل کر یہ سفر شروع کیجیے۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

مرقس کی انجیل کس نے لکھی؟

کتاب میں مصنف کا نام درج نہیں، مگر ابتدائی کلیسیا کی متفقہ گواہی یوحنا مرقس کی طرف اشارہ کرتی ہے، وہی نوجوان جس کا ذکر اعمال 12:12 میں یروشلیم کے گھر کے حوالے سے آیا ہے۔ دوسری صدی کے گواہ پاپیاس کے مطابق مرقس پطرس رسول کا ترجمان تھا اور اُس نے پطرس کی گواہی کو احتیاط سے قلمبند کیا۔ یہی بات اس انجیل کی آنکھوں دیکھی جزئیات اور پطرس کی کمزوریوں کے بے لاگ بیان سے مطابقت رکھتی ہے۔

مرقس کی انجیل کب لکھی گئی؟

عام رائے یہ ہے کہ یہ پچاس کی دہائی کے آخر اور ستر عیسوی کے درمیان لکھی گئی، اور بیشتر علما اسے چونسٹھ سے اڑسٹھ عیسوی کے قریب رکھتے ہیں، یعنی نیرو کے ظلم کے دنوں میں جب روم کے مسیحیوں پر سخت دباؤ تھا۔ کتاب کا لہجہ، دکھ اُٹھانے پر زور، اور شاگردی کی قیمت کا موضوع اسی ماحول سے مطابقت رکھتا ہے۔ بعض قدیم روایتیں اسے پطرس کی شہادت کے بعد کا لکھا ہوا بتاتی ہیں۔

کیا مرقس کی انجیل سب سے پہلے لکھی گئی تھی؟

زیادہ تر علما یہی سمجھتے ہیں کہ مرقس پہلی لکھی جانے والی انجیل ہے اور متی اور لوقا نے اپنے بیانات مرتب کرتے وقت اس سے استفادہ کیا۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ مرقس کا تقریباً نوے فیصد مواد متی میں اور بڑا حصہ لوقا میں موجود ہے، اور عموماً مرقس کا انداز زیادہ سادہ اور کچا ہے۔ یہ رائے ایمان کا مسئلہ نہیں بلکہ تحقیق کا نتیجہ ہے، اور کسی بھی انجیل کے الہامی ہونے پر اثر انداز نہیں ہوتی۔

مرقس کی انجیل کس کے لیے لکھی گئی تھی؟

اندرونی شواہد بتاتے ہیں کہ اصل قارئین غیر یہودی مسیحی تھے، غالباً روم میں۔ مرقس یہودی رسموں کی وضاحت کرتا ہے، ارامی الفاظ کا ترجمہ بتاتا ہے، لاطینی سکّوں اور فوجی اصطلاحات استعمال کرتا ہے، اور شمعون کرینی کے بیٹوں رفس اور اسکندر کا نام ایسے لیتا ہے جیسے قارئین اُنہیں جانتے ہوں۔ یہ سب ایک ایسی جماعت کی طرف اشارہ کرتا ہے جو یہودی پس منظر سے ناواقف تھی اور ستائی جا رہی تھی۔

مرقس 16:9 سے 20 تک کی آیات کے بارے میں کیا کہا جاتا ہے؟

قدیم ترین اور معتبر ترین یونانی نسخوں میں مرقس 16:8 کے بعد کا حصہ موجود نہیں، اسی لیے بہت سے ترجموں میں ان آیتوں پر حاشیہ لگا ہوتا ہے۔ یہ بات ایمان کے لیے خطرہ نہیں، کیونکہ ان آیتوں میں بیان کردہ ہر بنیادی سچائی، یعنی جی اُٹھنا، ظاہر ہونا اور عالمگیر منادی کا حکم، دوسری انجیلوں اور اعمال میں بھی موجود ہے۔ کلیسیا نے صدیوں سے مرقس 16:15 کے پیغام کو مسیح کا حکم سمجھ کر قبول کیا ہے۔

"مسیحائی راز" کا کیا مطلب ہے؟

مرقس میں یسوع مسیح بار بار شفا پانے والوں اور بدروحوں کو حکم دیتے ہیں کہ اُن کی شناخت ظاہر نہ کریں۔ اس کی وجہ یہ نہیں کہ وہ خود کو چھپانا چاہتے تھے، بلکہ یہ کہ لوگ "مسیح" کا مطلب ایک سیاسی اور فوجی نجات دہندہ سمجھتے تھے۔ جب تک صلیب سامنے نہ آ جائے، یہ لقب غلط فہمی پیدا کرتا۔ اسی لیے پہلا مکمل اور صحیح انسانی اعتراف صلیب کے نیچے صوبہ دار کے منہ سے نکلتا ہے (مرقس 15:39)۔

مرقس کی انجیل میں یسوع مسیح کی پیدائش کا ذکر کیوں نہیں؟

مرقس ایک مخصوص مقصد کے ساتھ لکھ رہا ہے: وہ ستائے ہوئے ایمان داروں کو دکھانا چاہتا ہے کہ اُن کا خداوند کون ہے اور وہ کس راہ پر چلے۔ اس لیے وہ سیدھا عوامی خدمت سے شروع کرتا ہے۔ یہ ہرگز اس بات کا انکار نہیں کہ یسوع مسیح کنواری سے پیدا ہوئے؛ متی اور لوقا وہ بیان تفصیل سے دیتے ہیں۔ چاروں انجیلیں ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں، نقل نہیں۔

مرقس کی انجیل میں "ابنِ آدم" کا کیا مطلب ہے؟

یہ یسوع مسیح کا اپنے لیے سب سے پسندیدہ لقب ہے۔ بظاہر یہ عاجزی کا اظہار لگتا ہے، مگر اس کی جڑ دانی ایل 7 میں ہے جہاں "ابنِ آدم" کو ابدی سلطنت اور اختیار دیا جاتا ہے۔ یوں یہ لقب بیک وقت اُن کی حقیقی انسانیت اور اُن کے الٰہی اختیار کو ظاہر کرتا ہے۔ مرقس 10:45 میں یہی ابنِ آدم خدمت کرنے اور اپنی جان فدیہ میں دینے آتا ہے، یعنی تخت کا راستہ صلیب سے ہو کر گزرتا ہے۔

مرقس کی انجیل اور متی کی انجیل میں بنیادی فرق کیا ہے؟

متی بنیادی طور پر یہودی قارئین کے لیے لکھتا ہے، پرانے عہد نامے کے حوالے کثرت سے دیتا ہے اور یسوع مسیح کو نئے موسیٰ اور داؤد کے بیٹے کے طور پر پیش کرتا ہے، اس لیے اُس میں لمبی تعلیمات ہیں۔ مرقس غیر یہودی، ستائے ہوئے قارئین کے لیے لکھتا ہے، واقعات پر زور دیتا ہے، مختصر اور تیز رفتار ہے، اور خدمت اور دکھ کو مرکز بناتا ہے۔ دونوں ایک ہی مسیح کو پیش کرتے ہیں، مگر مختلف ضرورتوں کے جواب میں۔

مرقس کی انجیل کی کلیدی آیت کون سی ہے؟

عام طور پر مرقس 10:45 کو پوری کتاب کی کلید مانا جاتا ہے، کیونکہ وہ ایک ہی جملے میں مسیح کی آمد کا مقصد بیان کر دیتی ہے: خدمت کرنا اور اپنی جان فدیہ میں دینا۔ اس کے ساتھ مرقس 8:29 کتاب کا مرکزی موڑ ہے اور مرقس 15:39 اس کا عروج۔ ان تینوں آیتوں کو ساتھ رکھ کر پڑھیے تو مرقس کی پوری عمارت ایک نظر میں سمجھ آ جاتی ہے۔

کیا مرقس وہی شخص ہے جو پولس کے ساتھ سفر پر گیا تھا؟

جی ہاں، ابتدائی کلیسیا اُسی یوحنا مرقس کو اس انجیل کا مصنف مانتی ہے جو پہلے سفر پر برنباس اور پولس کے ساتھ نکلا اور پرگہ سے واپس لوٹ آیا (اعمال 13:13)۔ اسی بات پر بعد میں برنباس اور پولس کے درمیان اختلاف ہوا۔ مگر کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی: برسوں بعد پولس نے خود لکھا کہ مرقس خدمت کے لیے مفید ہے (2 تیمتھیس 4:11)۔ یہ بحالی کی ایک خوبصورت مثال ہے۔

مرقس کی انجیل پڑھنے میں کتنا وقت لگتا ہے؟

پوری کتاب ایک نشست میں، تقریباً ڈیڑھ گھنٹے میں، بلند آواز سے پڑھی جا سکتی ہے، اور دراصل یہی اس کے پڑھے جانے کا اصل طریقہ تھا۔ پہلی صدی کے ایمان دار اسے جماعت میں سنتے تھے، آیت آیت نہیں بلکہ ایک مکمل کہانی کے طور پر۔ اگر آپ کبھی ایسا کر سکیں تو ضرور کیجیے؛ اس کی رفتار، اس کا دباؤ اور صلیب پر اس کا ٹھہراؤ یکدم محسوس ہونے لگتا ہے۔

اس انجیل کو پڑھنے کا عملی رہنما

اگر آپ مرقس کی انجیل کا سنجیدہ مطالعہ کرنا چاہتے ہیں تو چار ہفتوں کا یہ سادہ منصوبہ آزمائیے۔

پہلے ہفتے میں باب ایک سے چار تک پڑھیے اور ہر دن ایک ہی سوال ساتھ رکھیے: یسوع مسیح یہاں کس چیز پر اختیار ظاہر کر رہے ہیں؟ بیماری، بدروحوں، گناہ، شریعت، فطرت۔ مرقس 1:15 کو ذہن میں رکھیے اور دیکھیے کہ بادشاہی کا آنا عملی طور پر کیسا دکھائی دیتا ہے۔ ہفتے کے آخر میں مرقس 4:39 پر ٹھہریے اور اپنی زندگی کے اُس طوفان کا نام لے کر دعا کیجیے جس پر آپ کو اُن کے حکم کی ضرورت ہے۔

دوسرے ہفتے میں باب پانچ سے آٹھ تک پڑھیے، اور خاص طور پر شاگردوں پر نظر رکھیے۔ وہ کہاں نہیں سمجھتے؟ کہاں ڈرتے ہیں؟ آٹھویں باب کے آخر میں آ کر رُکیے اور مرقس 8:29 کا سوال اپنے لیے لکھ کر رکھیے۔ ایک کاغذ پر اپنے الفاظ میں جواب لکھیے، بغیر رٹے ہوئے مذہبی جملوں کے۔

تیسرے ہفتے میں باب نو سے تیرہ تک پڑھیے۔ یہاں تین پیشین گوئیاں اور تین غلط فہمیاں تلاش کیجیے، اور دیکھیے کہ ہر بار یسوع مسیح شاگردی کے بارے میں کیا فرماتے ہیں۔ مرقس 10:45 کو زبانی یاد کر لیجیے۔ اس ہفتے روزانہ ایک ایسا چھوٹا کام کیجیے جس کا کوئی بدلہ نہ ملے اور کسی کو خبر بھی نہ ہو۔

چوتھے ہفتے میں باب چودہ سے سولہ تک آہستہ پڑھیے، شاید دن میں صرف بیس آیتیں۔ جلدی مت کیجیے۔ گتسمنی میں رُکیے، پطرس کے انکار پر رُکیے، اور صلیب کے نیچے کھڑے ہو کر مرقس 15:39 کے صوبہ دار کے ساتھ اپنی زبان سے وہی اعتراف کیجیے۔ آخر میں مرقس 16:15 پڑھ کر دعا میں خدا سے پوچھیے کہ آپ کی "تمام دنیا" کہاں سے شروع ہوتی ہے: آپ کا گھر، آپ کا محلہ، آپ کا دفتر۔ اور اگر ممکن ہو تو پورے مہینے کے اختتام پر پوری کتاب ایک ہی نشست میں بلند آواز سے پڑھ لیجیے۔

اختتام میں

مرقس کی انجیل کو "مختصر" کہنا آسان ہے، مگر یہ مختصر اس لیے ہے کہ یہ ضروری نہیں سمجھتی کہ آپ کو متاثر کرے؛ اسے صرف یہ ضروری لگتا ہے کہ آپ فیصلہ کریں۔ وہ آپ کو دوڑاتی ہوئی گلیل کی سڑکوں سے لے جاتی ہے، معجزے دکھاتی ہے، ہجوم دکھاتی ہے، اور پھر اچانک آپ کو قیصریہ فلپی کی گرد میں کھڑا کر کے پوچھتی ہے کہ تم مجھے کیا کہتے ہو۔ اور جب آپ جواب دینے لگتے ہیں، وہ آپ کا ہاتھ پکڑ کر یروشلیم کی طرف چل پڑتی ہے، جہاں جواب کی قیمت دکھائی دیتی ہے۔

اسی لیے مرقس کا مسیح کبھی سستا نہیں لگتا۔ وہ ایک ایسا بادشاہ ہے جو تاج کے بجائے کانٹے پہنتا ہے، اور ایک ایسا خداوند جو خدمت لینے نہیں بلکہ کرنے آیا۔ اور اُس کی قبر خالی ہے۔

اب آپ کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک یہ کہ آپ اس صفحے کو بند کر دیں اور معلومات کے ساتھ آگے بڑھ جائیں۔ دوسرا یہ کہ آپ آج ہی مرقس کا پہلا باب کھولیں اور اُس آواز کو سننے لگیں جو دو ہزار سال سے ایک ہی بات کہہ رہی ہے: آؤ، میرے پیچھے ہو لو۔ انتخاب آپ کا ہے، مگر یاد رکھیے، مرقس کے ہاں کوئی غیر جانبدار قاری نہیں ہوتا۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 5.946 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.418
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
اِس ہفتے پہلے ہی 173 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو میکاہ 4:2

میکاہ 3 کے آخر میں صیون کھیت کی طرح ہل چلائی جاتی ہے، اور فوراً بعد وہی اُجڑی پہاڑی قوموں…

دعا ادارتی کو حزقی ایل 47:21

اے خدا، تُو ہی ہے جو اپنے لوگوں کو جگہ اور حصہ دیتا ہے۔ جب مجھے لگتا ہے کہ میرا…

بصیرت ادارتی کو اعمال 20:17

پولس یروشلم پہنچنے کی جلدی میں تھا، اِفسس سے گزرنا اُس کا وقت کھا جاتا۔ پھر بھی وہ رُک گیا:…

شکرگزاری ادارتی کو اِفسِیوں 4:23

خداوند، شکر ہے کہ تُو میری سوچ کو وہیں نہیں چھوڑتا جہاں وہ تھی۔ تیرا کلام کہتا ہے کہ میری…

بصیرت ادارتی کو ملاکی 2:2

کاہن قربانیاں چڑھاتے رہے، دعائیں پڑھتے رہے، سب کچھ ترتیب سے تھا۔ پھر بھی رب فرماتا ہے، ”کیونکہ تم دل…

دعا ادارتی کو ۲-سموئیل 2:11

اے خدا، داؤد کو حبرون میں سالوں تک انتظار کرنا پڑا، اس سے پہلے کہ تیرا وعدہ پورا ہوتا۔ میں…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟