پرانے اور نئے عہد نامہ میں کیا فرق ہے؟
تعارف
ایک نوجوان ایمان دار نے چرچ کے بعد مجھ سے پوچھا: "پادری صاحب، میں نے خروج اور احبار پڑھنا شروع کیا تھا، مگر چھوڑ دیا۔ وہاں کا خدا مجھے ڈراؤنا لگتا ہے، قربانیاں، آگ، سخت احکام۔ پھر میں انجیل کھولتا ہوں تو وہاں یسوع بچوں کو گود میں اُٹھاتے ہیں۔ کیا یہ ایک ہی خدا ہیں؟"
یہ سوال اُس اکیلے نوجوان کا نہیں۔ یہ ہم میں سے بہتوں کے دل میں چپکے سے بیٹھا ہوا ہے۔ ہم بائبل کے دو حصے دیکھتے ہیں اور اُنہیں دو دنیاؤں کی طرح پڑھ لیتے ہیں: ایک شریعت کی، دوسری فضل کی؛ ایک غضب کی، دوسری محبت کی۔
اس صفحے پر ہم یہ دیکھیں گے کہ بائبل خود اس فرق کو کیسے بیان کرتی ہے۔ آپ جانیں گے کہ "عہد" اور "عہد نامہ" میں کیا فرق ہے، شریعت آخر کیوں دی گئی، اور وہ ایک ہی دھاگا کون سا ہے جو پیدایش سے مکاشفہ تک چلتا ہے اور مسیح کی صلیب پر آ کر گرہ لگاتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ صفحہ یہ نہیں کہے گا کہ "پرانا عہد نامہ شریعت ہے اور نیا عہد نامہ فضل"۔ یہ تقسیم مشہور ضرور ہے، مگر بائبل کے مطابق غلط ہے۔ ہمارا زاویہ ایک اور ہے: اصل فرق مضمون کا نہیں، مقام کا ہے۔ وہی خدا، وہی تقدس، وہی محبت، وہی وعدہ؛ مگر پہلے وہ پتھر کی لوحوں پر لکھا گیا تھا، اور اب وہ گوشت کے دلوں پر لکھا جاتا ہے۔ پرانے عہد میں خدا کی مرضی ہمارے باہر کھڑی تھی اور ہم پر انگلی اُٹھاتی تھی؛ نئے عہد میں وہی مرضی روح القدس کے ذریعے ہمارے اندر آ بستی ہے۔ پتھر سے دل تک کا یہ سفر پوری بائبل کی کہانی ہے۔
بائبل پرانے اور نئے عہد کے فرق کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
سب سے پہلے ایک لفظی اُلجھن سلجھا لیں۔ اردو میں ہم کتاب کے دو حصوں کو "پرانا عہد نامہ" اور "نیا عہد نامہ" کہتے ہیں۔ مگر بائبل خود جس چیز کی بات کرتی ہے وہ "عہد نامہ" یعنی کاغذ نہیں، بلکہ "عہد" یعنی وہ رشتہ اور معاہدہ ہے جو خدا اپنے لوگوں کے ساتھ باندھتے ہیں۔ عہد نامہ وہ دستاویز ہے، عہد وہ رشتہ۔ یہ فرق اس لیے اہم ہے کہ اگر آپ سمجھیں کہ مسئلہ دو کتابوں کا ہے تو آپ ایک کو اُٹھا کر دوسری کو رکھ دیں گے؛ لیکن اگر آپ سمجھ لیں کہ یہ ایک ہی خدا کے دو مرحلے ہیں، تو آپ دونوں کو گھٹنوں کے بل پڑھیں گے۔
اس فرق کا سب سے بڑا اعلان مسیح کی آمد سے تقریباً چھ سو برس پہلے ہوا، جب یروشلیم کی دیواریں گرنے کو تھیں اور قوم جلاوطنی کے کنارے کھڑی تھی۔ یرمیاہ 31:31 میں خداوند فرماتے ہیں: "خداوند فرماتا ہے دیکھ وہ دن آتے ہیں کہ میں اسرائیل کے گھرانے اور یہوداہ کے گھرانے کے ساتھ نیا عہد باندھوں گا۔" غور کیجیے کہ "نیا عہد" کی اصطلاح نئے عہد نامہ کی ایجاد نہیں؛ وہ پرانے عہد نامہ کے ایک نبی کے منہ سے نکلی ہے۔ اور اگلی آیتوں میں خدا بتاتے ہیں کہ یہ نیا پن کس بات میں ہو گا: وہ اپنی شریعت اُن کے باطن میں رکھیں گے اور اُن کے دل پر لکھیں گے۔ شریعت بدلنے کا وعدہ نہیں ہے، شریعت کی جگہ بدلنے کا وعدہ ہے۔
پھر خود خداوند یسوع مسیح نے اس سوال کو ہمیشہ کے لیے صاف کر دیا۔ متی 5:17 میں آپ فرماتے ہیں: "یہ نہ سمجھو کہ میں توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے آیا ہوں۔ منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آیا ہوں۔" مسیح نے پرانے عہد نامہ کو ردی کی ٹوکری میں نہیں ڈالا۔ اُنہوں نے اُسے اُس کی منزل تک پہنچایا۔ جیسے کوئی تیر کمان سے نکل کر نشانے پر لگتا ہے، ویسے ہی توریت اور نبی مسیح پر آ کر لگتے ہیں۔
اور وہ گھڑی کون سی تھی جب نیا عہد باقاعدہ باندھا گیا؟ عید فصح کی اُس رات، بالاخانے میں۔ لوقا 22:20 کہتا ہے: "اور اسی طرح کھانے کے بعد پیالہ یہ کہہ کر دیا کہ یہ پیالہ میرے اُس خون میں نیا عہد ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔" عہد ہمیشہ خون سے باندھا جاتا تھا۔ سینا پہاڑ پر موسیٰ نے بیلوں کا خون قربان گاہ اور لوگوں پر چھڑکا تھا۔ یہاں خداوند اپنا ہی خون پیش کرتے ہیں۔ یرمیاہ کا وعدہ ایک پیالے میں، ایک میز پر، بارہ حیران شاگردوں کے سامنے پورا ہونے لگا۔
پولس رسول اسی فرق کو ایک جملے میں کھول دیتے ہیں۔ 2 کرنتھیوں 3:6 میں وہ لکھتے ہیں: "جس نے ہمیں نئے عہد کے خادم ہونے کے لائق بھی کیا۔ لفظوں کے خادم نہیں بلکہ روح کے۔ کیونکہ لفظ مار ڈالتا ہے مگر روح زندہ کرتا ہے۔" یہ آیت اکثر غلط سمجھی جاتی ہے، گویا پولس کہہ رہے ہوں کہ بائبل کے الفاظ خطرناک ہیں۔ نہیں۔ "لفظ" سے مراد پتھر پر کندہ وہ حکم ہے جو مجھے میرا فرض تو بتا دیتا ہے مگر اُسے پورا کرنے کی طاقت نہیں دیتا۔ ایک ڈاکٹر کی تشخیص آپ کی بیماری کا نام بتا سکتی ہے، مگر تشخیص خود دوا نہیں ہوتی۔ شریعت تشخیص تھی؛ روح القدس شفا ہیں۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یہ سلسلہ پیدایش کے تیسرے باب سے شروع ہوتا ہے، جب خدا نے باغ میں گرے ہوئے جوڑے سے عورت کی نسل کا وعدہ کیا اور اُنہیں چمڑے کے پوشاک پہنائے۔ وہیں پہلی بار یہ اصول ظاہر ہوا کہ کسی اور کی جان کی قیمت پر گناہ گار ڈھانپا جاتا ہے۔ اس کے بعد خدا نے نوح کے ساتھ عہد باندھا کہ زمین دوبارہ سیلاب سے ہلاک نہ ہو گی۔ پھر ابرہام کے ساتھ، جس میں برکت کا دائرہ ایک خاندان سے نکل کر "زمین کے سب قبیلے" تک پھیل گیا۔ یہ وعدہ شریعت سے چار سو تیس برس پہلے کا ہے، اور پولس اسی بنیاد پر دلیل دیتے ہیں کہ ایمان سے راستبازی خدا کا پرانا راستہ ہے، کوئی نیا انتظام نہیں۔
پھر سینا آتا ہے۔ موسیٰ کی معرفت شریعت دی گئی، خیمۂ اجتماع کھڑا ہوا، کاہن مقرر ہوئے، قربانیوں کا نظام قائم ہوا۔ یہ سب خدا کی مہربانی تھی، سزا نہیں۔ ایک غلام قوم کو یہ سکھایا جا رہا تھا کہ پاک خدا کے ساتھ رہنا کیسا ہوتا ہے۔ مگر اس نظام میں ایک پردہ تھا، ایک فاصلہ تھا، ایک سال بہ سال دہرائی جانے والی قربانی تھی جو کبھی ختم نہ ہوتی تھی۔
داؤد کے ساتھ عہد میں ایک ابدی بادشاہ کا وعدہ آیا۔ نبیوں کے دور میں قوم بار بار عہد توڑتی رہی، اور اسی ٹوٹ پھوٹ کے بیچ سے خدا نے یرمیاہ اور حزقی ایل کے ذریعے وہ اعلان کیا جو ہمارے زاویے کا دل ہے: مسئلہ قانون میں نہیں، دل میں ہے۔ اس لیے حزقی ایل 36 میں خدا نے پتھر کا دل نکال کر گوشت کا دل دینے اور اپنی روح باطن میں ڈالنے کا وعدہ فرمایا۔
پتھر کی لوح سے گوشت کے دل تک، یہی پوری بائبل کا سفر ہے۔
نئے عہد نامہ میں یہ وعدہ جسم اختیار کر لیتا ہے۔ مسیح کامل کاہن بھی ہیں اور کامل قربانی بھی۔ گلتیوں 3:24 اس پورے انتظام کا مقصد بیان کرتا ہے: "پس شریعت مسیح تک پہنچانے کو ہمارا اُستاد بنی تاکہ ہم ایمان کے سبب سے راستباز ٹھہریں۔" یونانی معاشرے میں یہ "اُستاد" وہ خادم ہوتا تھا جو بچے کو ہاتھ پکڑ کر مکتب تک پہنچاتا تھا۔ اُس کا کام منزل بننا نہیں، منزل تک لے جانا تھا۔ اسی لیے رومیوں 10:4 کہتا ہے: "کیونکہ ہر ایک ایمان لانے والے کی راستبازی کے لئے مسیح شریعت کا انجام ہے۔" یہاں "انجام" کا مطلب صرف "خاتمہ" نہیں بلکہ "مقصد، نقطۂ کمال" بھی ہے۔ شریعت مسیح پر آ کر رُکتی نہیں، مسیح میں آ کر پوری ہوتی ہے۔
اور عبرانیوں کا مصنف نتیجہ نکالتا ہے۔ عبرانیوں 8:13 میں لکھا ہے: "نیا عہد کہنے سے اُس نے پہلے عہد کو پرانا ٹھہرایا اور جو چیز پرانی اور مدت دراز کی ہو جاتی ہے وہ مٹنے کے قریب ہوتی ہے۔" یہ جملہ کسی ردّ کا اعلان نہیں بلکہ ایک بڑھتی ہوئی فصل کے کٹنے کا اعلان ہے۔ مکاشفہ کے آخری ابواب میں یہ سلسلہ اپنی منزل پر پہنچتا ہے: نیا یروشلیم، اور وہ آواز کہ خدا کا خیمہ آدمیوں کے درمیان ہے۔ جو سینا پر فاصلے سے شروع ہوا تھا، وہ ہمیشہ کی رفاقت پر ختم ہوتا ہے۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: پرانے عہد نامہ کا خدا غضب والا ہے اور نئے عہد نامہ کا خدا محبت والا۔ یہ سب سے پرانی اور سب سے نقصان دہ غلطی ہے۔ دوسری صدی میں مرقیون نامی ایک شخص نے یہی سکھایا اور کلیسیا نے اُسے صاف طور پر غلط ٹھہرایا۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کی رحمت کا سب سے مشہور بیان خروج 34 میں ہے، جہاں خداوند اپنے آپ کو رحیم، مہربان، قہر کرنے میں دھیما اور شفقت میں غنی فرماتے ہیں۔ اور خدا کے غضب کی سب سے سخت تصویریں خود خداوند یسوع کے ہونٹوں سے نکلیں، جنہوں نے جہنم کے بارے میں کسی بھی نبی سے زیادہ کہا۔ محبت اور تقدس دونوں عہدوں میں ایک ساتھ ہیں؛ فرق یہ ہے کہ صلیب پر وہ دونوں ایک ہی جگہ آ ملے۔
دوسری غلط فہمی: پرانے عہد نامہ میں لوگ اعمال سے بچائے جاتے تھے۔ بائبل یہ کہیں نہیں کہتی۔ پیدایش 15:6 ابرہام کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ خداوند پر ایمان لایا اور یہ اُس کے لیے راستبازی گنا گیا، اور یہ شریعت کے وجود میں آنے سے صدیوں پہلے کی بات ہے۔ قربانیاں بذاتِ خود گناہ نہیں اُٹھاتی تھیں؛ عبرانیوں 10:4 واضح کہتا ہے کہ بیلوں اور بکروں کا خون گناہوں کو دور نہیں کر سکتا۔ وہ ایک اُدھار کی رسید تھیں، جس کی ادائیگی گلگتا پر ہوئی۔ ہر زمانے میں نجات ایک ہی راستے سے ملی ہے: فضل سے، ایمان کے وسیلے، مسیح کے کام کی بنیاد پر۔
تیسری غلط فہمی: اب شریعت کا کوئی فائدہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو مسیح متی 5:17 میں یہ نہ کہتے کہ وہ پورا کرنے آئے ہیں۔ شریعت ہمیں اب نجات نہیں دلاتی، مگر وہ ہمیں آج بھی خدا کا دل دکھاتی ہے، ہمارے گناہ کو بے نقاب کرتی ہے، اور ہمیں مسیح کی طرف دھکیلتی ہے۔ جو آئینہ آپ کو بتاتا ہے کہ چہرہ میلا ہے، وہ بے کار نہیں؛ بس آئینے سے منہ نہیں دھویا جاتا۔ پولس نے رومیوں 7 میں شریعت کو پاک، راست اور اچھا کہا ہے۔
چوتھی غلط فہمی: نئے عہد میں خدا نے اپنا معیار گھٹا دیا۔ بالکل اُلٹا ہوا ہے۔ پہاڑی وعظ میں مسیح قتل سے بڑھ کر غصے تک، اور زنا سے بڑھ کر بری نگاہ تک بات لے گئے۔ نیا عہد آسان نہیں، گہرا ہے۔ فرق یہ ہے کہ اب حکم کے ساتھ طاقت بھی دی گئی ہے۔ 2 کرنتھیوں 3:6 کے مطابق ہم لفظوں کے نہیں بلکہ روح کے خادم ہیں، اور روح زندہ کرتا ہے۔ پتھر پر لکھا حکم کھڑا ہو کر دیکھتا رہتا ہے؛ دل پر لکھا حکم ساتھ چلتا ہے۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
یہ کوئی نظریاتی بحث نہیں۔ اس فرق کو سمجھنا آپ کے پیر کے نیچے کی زمین بدل دیتا ہے۔
فرض کیجیے آپ کے دل میں ہفتوں سے ایک بوجھ ہے، کوئی ایسا گناہ جسے آپ نے بار بار دہرایا۔ اگر آپ پرانے عہد کی ذہنیت میں جیتے ہیں تو آپ کوشش کریں گے کہ کچھ نیکی کر کے، کچھ روزے رکھ کے، زیادہ چندہ دے کے، خدا کا منہ اپنی طرف کریں۔ نئے عہد میں آپ کو معلوم ہے کہ پیالہ پہلے ہی بہہ چکا ہے۔ لوقا 22:20 میں خداوند نے فرمایا کہ یہ نیا عہد میرے خون میں ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔ "تمہارے واسطے"؛ یہی وہ لفظ ہے جسے آپ کو اپنے نام کے ساتھ پڑھنا سیکھنا ہے۔
بائبل پڑھنے میں بھی یہ فرق نظر آتا ہے۔ اب آپ احبار یا گنتی کو چھوڑ کر نہیں بھاگتے۔ آپ خیمے کے پردے، قربان گاہ اور سردار کاہن کے لباس کو دیکھ کر پوچھتے ہیں: یہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتا ہے؟ گلتیوں 3:24 کے مطابق شریعت کا کام ہاتھ پکڑ کر مسیح تک پہنچانا ہے، اور جب آپ یہ ذہن میں رکھ کر پڑھیں گے تو پرانا عہد نامہ بورنگ نہیں رہے گا، وہ ایک طویل انتظار کی ڈائری بن جائے گا جس کے آخری صفحے پر آپ کے نجات دہندہ کا نام لکھا ہے۔
کام اور پیسے میں بھی یہ اثر ڈالتا ہے۔ جو شخص سمجھتا ہے کہ خدا کی منظوری اُس کی کارکردگی پر ٹکی ہے، وہ دفتر میں بھی ویسا ہی جیتا ہے: ہر ناکامی کو اپنی قیمت کا پیمانہ بنا لیتا ہے۔ مگر رومیوں 10:4 کہتا ہے کہ ایمان لانے والے کی راستبازی کے لیے مسیح شریعت کا انجام ہیں۔ آپ کی راستبازی کسی تنخواہ، کسی ترقی، کسی کامیاب اولاد پر منحصر نہیں۔
اور اطاعت کا انداز بدل جاتا ہے۔ پرانے طرز میں آپ پوچھتے ہیں: "کم سے کم کتنا کرنا لازم ہے؟" نئے عہد میں سوال بنتا ہے: "میرے خداوند، میں آج آپ کو کیسے خوش کروں؟" دونوں سوال اطاعت کے بارے میں ہیں، مگر پہلا غلام کا ہے اور دوسرا بیٹے کا۔ یرمیاہ 31:31 کا وعدہ اسی لیے دیا گیا تھا، تاکہ خدا کے احکام آپ کے باہر دیوار پر نہیں بلکہ آپ کے اندر دل پر لکھے جائیں۔
آئینہ
اب ذرا رُکیے اور اپنے آپ سے ایمانداری سے بات کیجیے۔ آپ کس عہد کے تحت جی رہے ہیں؟ میں آپ کے عقیدے کے بارے میں نہیں پوچھ رہا؛ میں آپ کے اندرونی لہجے کے بارے میں پوچھ رہا ہوں۔ جب آپ رات کو بستر پر لیٹتے ہیں اور دن کا حساب کرتے ہیں، تو کون سی آواز بولتی ہے؟ "آج بھی کچھ نہ ہوا، آج بھی تُو ناکام رہا"؟ بہت سے ایمان دار زبان سے فضل کی گواہی دیتے ہیں اور دل میں سینا پہاڑ کے دامن میں کانپتے رہتے ہیں۔
شاید آپ ماں ہیں اور ہر شام یہ سوچ کر روتی ہیں کہ آپ نے بچوں پر پھر آواز اُونچی کی۔ شاید آپ وہ آدمی ہیں جو اتوار کو عبادت میں ہاتھ اُٹھاتا ہے اور پیر کو اپنے موبائل کی تنہائی میں ہار جاتا ہے۔ شاید آپ بیمار ہیں اور آپ کے دل میں چپکے سے یہ خیال آیا ہے کہ یہ بیماری خدا کی سزا ہے۔ شاید آپ کے بٹوے میں ہمیشہ تنگی رہتی ہے اور کوئی آپ سے کہہ گیا ہے کہ اگر ایمان پورا ہوتا تو برکت بھی پوری ہوتی۔
سنیے، اگر آپ کی نجات آپ کی کارکردگی پر ہوتی تو مسیح کو پیالہ اُٹھا کر یہ کہنے کی کیا ضرورت تھی کہ یہ میرے خون میں نیا عہد ہے؟ خون اُس وقت بہایا جاتا ہے جب کوئی ادائیگی کرنی ہو جو آپ کر ہی نہیں سکتے۔
فضل آپ کی کوشش کی تکمیل نہیں، اُس کا خاتمہ ہے۔
اور یہی وہ جگہ ہے جہاں یہ سچائی چبھتی بھی ہے۔ کیونکہ اگر خدا کی شریعت اب آپ کے دل پر لکھی جا رہی ہے، تو آپ یہ نہیں کہہ سکتے کہ "میں تو فضل کے نیچے ہوں، اب جیسے مرضی جیوں"۔ دل پر لکھا ہوا حکم ہر وقت آپ کے ساتھ ہے۔ آپ اُس سے بھاگ کر کہیں نہیں جا سکتے، نہ دفتر میں، نہ موبائل پر، نہ تنہائی میں۔ نیا عہد آپ کو ڈھیلا نہیں کرتا، آپ کو اندر سے بدلتا ہے۔ اور یہی خدا کی سب سے بڑی مہربانی ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یہ فرق سمجھانے کے لیے کسی علمِ کلام کی ضرورت نہیں، ایک سادہ تصویر کافی ہے۔ آپ اُن سے کہہ سکتے ہیں کہ بائبل ایک ہی لمبی کہانی ہے، دو مختلف کتابیں نہیں۔ پہلے حصے میں خدا بار بار وعدہ کرتے ہیں کہ "میں ایک نجات دہندہ بھیجوں گا"، اور لوگ انتظار کرتے ہیں، انتظار کرتے ہیں۔ دوسرے حصے میں وہ نجات دہندہ آ جاتے ہیں، اور اُن کا نام یسوع مسیح ہے۔
ایک اور مثال جو بچوں کے دل میں بیٹھ جاتی ہے: فرض کرو امی فرج پر ایک کاغذ لگا دیں جس پر گھر کے اصول لکھے ہوں۔ کاغذ بتا تو دیتا ہے کہ کیا ٹھیک ہے، مگر وہ تمہیں اچھا بننے میں مدد نہیں کر سکتا۔ خدا نے وعدہ کیا کہ ایک دن وہ اپنے اصول کاغذ پر نہیں بلکہ ہمارے دل کے اندر لکھیں گے، اور اپنی روح ہمیں دیں گے تاکہ ہم اُن سے محبت کرنا سیکھیں۔ یہی نیا عہد ہے۔
بڑے بچوں کے ساتھ آپ عشائے ربانی کی روٹی اور پیالے کی طرف اشارہ کر سکتے ہیں اور بتا سکتے ہیں کہ خداوند یسوع نے اُسی رات یہ کہا تھا کہ یہ پیالہ میرے خون میں نیا عہد ہے۔
ہر عمر کے بچے کو الگ انداز چاہیے۔ فیتھ نیٹ ورک پر اس موضوع کی عمر کے مطابق وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے تصویری اور کہانی والی وضاحت، سکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے سوال و جواب کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے وہ گہری گفتگو جو شریعت، فضل اور دل کی تبدیلی کے سوالات کا سامنا کرتی ہے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ منتخب کیجیے اور یہ بات چیت گھر کے دسترخوان پر شروع کیجیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پرانے اور نئے عہد نامہ میں بنیادی فرق کیا ہے؟
بنیادی فرق خدا کا نہیں بلکہ مرحلے کا ہے۔ پرانا عہد نامہ اُس دور کو درج کرتا ہے جب خدا نے وعدہ کیا، شریعت دی، اور ایک قوم کو مسیح کی آمد کے لیے تیار کیا؛ نیا عہد نامہ اُس دور کو درج کرتا ہے جب وہ وعدہ خداوند یسوع مسیح میں پورا ہوا۔ پرانے میں خدا کی مرضی پتھر کی لوحوں پر لکھی گئی تھی، نئے میں وہی مرضی روح القدس کے ذریعے ایمان دار کے دل پر لکھی جاتی ہے۔ موضوع وہی ہے، منزل بدل گئی ہے۔
کیا پرانے عہد نامہ کا خدا اور نئے عہد نامہ کا خدا الگ الگ ہیں؟
ہرگز نہیں۔ یہ وہی ایک خدا ہیں جو خروج 34 میں اپنے آپ کو رحیم، مہربان اور قہر کرنے میں دھیما فرماتے ہیں، اور وہی خدا ہیں جو صلیب پر گناہ کے خلاف اپنا انصاف پورا کرتے ہیں۔ پرانے عہد نامہ میں رحم کے بے شمار مناظر ہیں، اور نئے عہد نامہ میں خدا کے غضب کی سب سے واضح تعلیم خود خداوند یسوع نے دی۔ دو مختلف خداؤں کا خیال دوسری صدی کی ایک بدعت تھی جسے کلیسیا نے کھلے الفاظ میں رد کیا۔
کیا مسیحیوں کو آج بھی پرانا عہد نامہ پڑھنے کی ضرورت ہے؟
بالکل، اور اسے چھوڑ دینا اپنی ہی وراثت سے محروم ہونا ہے۔ خداوند یسوع اور رسولوں کی بائبل یہی تھی؛ جب نیا عہد نامہ کہتا ہے کہ "کتابِ مقدس" خدا کے الہام سے ہے تو اس کا اشارہ سب سے پہلے پرانے عہد نامہ کی طرف ہے۔ قربانی، کفارہ، بادشاہی، گناہ اور نجات کی زبان ہمیں وہیں سے ملتی ہے۔ مسیح کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم وہ کہانی جانیں جس کے جواب کے طور پر وہ آئے۔
"عہد" اور "عہد نامہ" میں کیا فرق ہے؟
"عہد" کا مطلب ہے وہ معاہدہ یا رشتہ جو خدا اپنے لوگوں کے ساتھ باندھتے ہیں، اور "عہد نامہ" اُس معاہدے کی تحریری دستاویز یعنی کتابوں کا مجموعہ ہے۔ جب یرمیاہ 31:31 میں خدا "نیا عہد" باندھنے کا وعدہ کرتے ہیں تو وہ کسی کتاب کی نہیں، ایک نئے رشتے کی بات کر رہے ہیں۔ بعد میں کلیسیا نے اس عہد کی گواہی دینے والی کتابوں کو "نیا عہد نامہ" کہا۔ اس فرق کو یاد رکھیں تو کئی اُلجھنیں خود بخود سلجھ جاتی ہیں۔
اگر مسیح شریعت کا انجام ہیں تو کیا شریعت اب بے کار ہو گئی؟
نہیں۔ رومیوں 10:4 میں جس لفظ کا ترجمہ "انجام" کیا گیا ہے، اُس میں خاتمے کے ساتھ ساتھ "مقصد اور نقطۂ کمال" کا مفہوم بھی ہے۔ شریعت نجات دلانے کے ذریعے کے طور پر ختم ہو چکی ہے، مگر خدا کے کردار کو ظاہر کرنے اور ہمارے گناہ کو بے نقاب کرنے میں آج بھی زندہ ہے۔ پولس نے شریعت کو پاک، راست اور اچھا کہا۔ وہ آئینہ ہے جو میل دکھاتا ہے، اور اسی لیے وہ مجھے مسیح تک پہنچاتا ہے۔
کیا دس احکام آج بھی مسیحیوں پر لاگو ہوتے ہیں؟
دس احکام میں سے نو کو نیا عہد نامہ کسی نہ کسی صورت میں دہراتا ہے، کیونکہ وہ خدا کے مستقل اخلاقی کردار کو ظاہر کرتے ہیں۔ فرق یہ ہے کہ ایمان دار اُنہیں نجات کمانے کے لیے نہیں بلکہ نجات پانے کے بعد شکرگزاری میں مانتا ہے۔ خداوند یسوع نے پوری شریعت کو دو حکموں میں سمیٹا: خدا سے محبت اور پڑوسی سے محبت۔ احکام کا مقصد کبھی خوف پیدا کرنا نہیں تھا بلکہ ایک وفادار رشتے کی حدود بیان کرنا تھا۔
پرانے عہد نامہ کے لوگ کیسے نجات پاتے تھے؟
اُسی طرح جیسے آج ہم پاتے ہیں: خدا کے فضل سے، ایمان کے وسیلے، مسیح کے کام کی بنیاد پر۔ ابرہام کے بارے میں پیدایش 15:6 کہتا ہے کہ اُس کا ایمان اُس کے لیے راستبازی گنا گیا، اور یہ شریعت کے دیے جانے سے صدیوں پہلے تھا۔ وہ لوگ آگے دیکھ کر وعدے پر بھروسا کرتے تھے، ہم پیچھے دیکھ کر صلیب پر۔ قربانیاں خود گناہ نہیں اُٹھاتی تھیں؛ عبرانیوں 10:4 کے مطابق بیلوں اور بکروں کا خون یہ کام نہیں کر سکتا تھا، وہ صرف اصل قربانی کی طرف اشارہ تھیں۔
عبرانیوں 8:13 کا کیا مطلب ہے کہ پہلا عہد "مٹنے کے قریب" ہے؟
اس کا مطلب یہ ہے کہ سینا پر دیا گیا انتظام ہمیشہ کے لیے نہیں بلکہ ایک وقت کے لیے تھا، اور جب مسیح آئے تو اُس کا مقصد پورا ہو گیا۔ خیمہ، قربانیاں اور کاہنوں کا سلسلہ ایک سایہ تھے؛ جب اصل جسم آ گیا تو سایے کی ضرورت باقی نہ رہی۔ یہ پرانے عہد نامہ کی مذمت نہیں بلکہ اُس کی کامیابی کا اعلان ہے۔ جو چیز اپنا کام پورا کر چکی ہو، اُسے ہٹایا جانا اُس کی ناکامی نہیں ہوتی۔
کیا ہمیں آج بھی پرانے عہد نامہ کے خوراک اور پاکیزگی کے قوانین ماننے چاہئیں؟
اعمال 10 میں پطرس کو دی گئی رویا اور مرقس 7 میں خداوند یسوع کی تعلیم کے بعد کلیسیا نے سمجھ لیا کہ یہ قوانین اسرائیل کو قوموں سے الگ رکھنے کے لیے عارضی طور پر دیے گئے تھے۔ مسیح میں وہ دیوار گر چکی ہے، اور اب یہودی اور غیر قوم ایک ہی میز پر بیٹھتے ہیں۔ ان قوانین کا روحانی سبق باقی ہے، یعنی خدا کے لوگ پاک ہوں؛ مگر پاکیزگی اب کھانے کی فہرست سے نہیں، دل کی تبدیلی سے ناپی جاتی ہے۔
کیا نیا عہد نامہ پرانے عہد نامہ کی جگہ لے لیتا ہے؟
جگہ نہیں لیتا بلکہ اُسے پورا کرتا ہے۔ متی 5:17 میں خداوند یسوع نے صاف فرمایا کہ وہ توریت یا نبیوں کی کتابوں کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آئے ہیں۔ نئے عہد نامہ کے صفحات پرانے عہد نامہ کے حوالوں سے بھرے ہوئے ہیں؛ اُسے نکال دیجیے تو انجیل کی زبان ہی سمجھ نہ آئے۔ یوں سمجھیے کہ پرانا عہد نامہ ایک عمارت کی بنیاد ہے اور نیا عہد نامہ اُس پر کھڑا گھر؛ بنیاد ہٹا دیں تو گھر گر جائے گا۔
یرمیاہ 31:31 کا نیا عہد کب شروع ہوا؟
وہ عید فصح کی اُس رات شروع ہوا جب خداوند یسوع نے بالاخانے میں پیالہ اُٹھایا۔ لوقا 22:20 میں آپ فرماتے ہیں کہ یہ پیالہ میرے اُس خون میں نیا عہد ہے جو تمہارے واسطے بہایا جاتا ہے۔ اگلے دن وہ خون صلیب پر بہا، اور پنتِکُست کے دن روح القدس کے نزول سے وہ وعدہ بھی پورا ہونے لگا کہ خدا اپنی شریعت لوگوں کے دل پر لکھیں گے۔ اعلان یرمیاہ کے ذریعے ہوا، دستخط گلگتا پر ہوئے۔
2 کرنتھیوں 3:6 میں "لفظ مار ڈالتا ہے" سے کیا مراد ہے؟
پولس یہ نہیں کہہ رہے کہ بائبل کے الفاظ خطرناک ہیں یا کہ ہمیں تحریر کے بجائے احساسات کی پیروی کرنی چاہیے۔ "لفظ" سے مراد پتھر پر کندہ وہ حکم ہے جو مطالبہ تو کرتا ہے مگر پورا کرنے کی طاقت نہیں دیتا، اور اسی لیے گناہ گار کو مجرم ٹھہرا کر موت کی طرف لے جاتا ہے۔ "روح" سے مراد روح القدس ہیں، جو نئے عہد میں ہمارے اندر آ کر زندگی بخشتے اور اطاعت کی خواہش پیدا کرتے ہیں۔ حکم کے ساتھ اب قوت بھی دی گئی ہے۔
پہلی بار پرانا عہد نامہ پڑھنے کے لیے کہاں سے شروع کروں؟
پیدایش سے شروع کیجیے، کیونکہ وہاں پوری کہانی کی بنیاد رکھی جاتی ہے، پھر خروج کے پہلے بیس ابواب پڑھیے تاکہ عہد کا مفہوم واضح ہو۔ اس کے بعد زبور کی کتاب میں سے روزانہ ایک مزمور، اور یسعیاہ کے باب 40 سے 55 تک کا حصہ، جہاں خدا کے خادم کی تصویر اتنی صاف ہے کہ آپ کے آنسو نکل آئیں گے۔ شریعت کی تفصیلی کتابوں کو تب کھولیے جب آپ یہ سوال ساتھ لے کر چلیں: یہ مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتی ہے؟
اختتام میں
ہم نے یہ سفر ایک سادہ مگر گہرے زاویے سے کیا ہے: پرانے اور نئے عہد کا فرق دو خداؤں، دو مزاجوں یا دو مختلف راستوں کا نہیں؛ یہ ایک ہی خدا کے ایک ہی وعدے کا سفر ہے، پتھر کی لوح سے انسانی دل تک۔ سینا پر خدا کی مرضی ہمارے باہر لکھی گئی تھی اور ہم پر الزام لگاتی تھی؛ گلگتا پر وہ مرضی پوری ہوئی، اور پنتِکُست سے وہ ہمارے اندر لکھی جانے لگی۔ شریعت نے ہمیں ہاتھ پکڑ کر مسیح تک پہنچایا، اور مسیح نے ہمیں گلے لگا لیا۔
اگر آپ اس صفحے سے صرف ایک بات لے جائیں تو یہ لے جائیے: آپ کسی ایسے خدا کے سامنے نہیں کھڑے جس کا مزاج انجیل کے صفحات پر آ کر بدل گیا ہو۔ آپ اُسی وفادار خدا کے سامنے ہیں جس نے یرمیاہ کے ذریعے ایک نئے عہد کا وعدہ کیا اور اپنے بیٹے کے خون سے اُس پر مہر لگا دی۔
اب اگلا قدم آپ کا ہے۔ اس ہفتے یرمیاہ 31 کا پورا باب کھول کر پڑھیے، پھر عبرانیوں کے آٹھویں اور نویں باب کو ساتھ رکھ کر دیکھیے کہ وعدہ کیسے پورا ہوا۔ اور جب اگلی بار عشائے ربانی کا پیالہ آپ کے ہاتھ میں آئے، تو ایک لمحے کو رُک کر یاد کیجیے کہ آپ کسی رسم کو نہیں چھو رہے، آپ اُس عہد میں شریک ہو رہے ہیں جو آپ کے لیے باندھا گیا۔
