یسوع مسیح کا جی اٹھنا اور اس کی اہمیت
تعارف
اتوار کی صبح ابھی اندھیرا تھا۔ چند عورتیں خوشبودار مسالے اٹھائے قبر کی طرف جا رہی تھیں، اور راستے میں اُن کی سب سے بڑی فکر یہ تھی کہ قبر کے منہ پر رکھا وہ بھاری پتھر کون ہٹائے گا۔ غور کیجیے: وہ کسی معجزے کی توقع لے کر نہیں نکلی تھیں۔ وہ ایک لاش کی خدمت کرنے جا رہی تھیں۔ اُن کے دل میں امید نہیں، صرف محبت اور ماتم تھا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے ذریعے دنیا نے پہلی بار وہ خبر سنی جس نے تاریخ کا رخ بدل دیا۔
اِس صفحے پر ہم اُس صبح کے معنی کھولیں گے۔ آپ دیکھیں گے کہ خداوند یسوع مسیح کا جی اٹھنا صرف ایک حیرت انگیز واقعہ نہیں جو دو ہزار سال پہلے ہوا، بلکہ وہ بنیاد ہے جس پر آپ کی نجات، آپ کی روزمرہ زندگی، آپ کے جسم، آپ کے کام اور آپ کی آخری امید کھڑی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے لوگ جی اٹھنے کو کہانی کا خوش کن اختتام سمجھتے ہیں: صلیب پر غم، اور پھر آخر میں ایک اچھی خبر۔ یہ صفحہ ایک اور زاویے سے لکھا گیا ہے۔ بائبل کے مطابق خالی قبر کہانی کا اختتام نہیں، بلکہ ایک نئی دنیا کا پہلا دن ہے۔ متی، مرقس، لوقا اور یوحنا چاروں یہ بتانا نہیں بھولتے کہ یہ "ہفتے کا پہلا دن" تھا، جیسے پیدائش کی کتاب کے پہلے باب کی گونج۔ اِس لیے ہم خالی قبر کو صرف ایک ثبوت کے طور پر نہیں بلکہ ایک کھلے دروازے کے طور پر دیکھیں گے، جس میں سے ہوکر نئی مخلوق کی روشنی اِس پرانی دنیا میں داخل ہو چکی ہے۔
بائبل یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل جی اٹھنے کی تعریف یوں کرتی ہے: خداوند یسوع مسیح، جو حقیقی معنوں میں مر گئے اور دفن ہوئے، تیسرے دن خدا کی قدرت سے جسمانی طور پر زندہ ہوئے، اور اب کبھی نہ مریں گے۔ یہ نہ کوئی خواب تھا، نہ کوئی علامتی بات، نہ شاگردوں کی خوش گمانی۔ یہ ایک ایسا واقعہ ہے جو وقت اور جگہ میں پیش آیا، اور جس کے گواہ موجود تھے۔
فرشتے کا پہلا اعلان اِس کا خلاصہ ہے۔ متی 28:6 میں لکھا ہے: "وہ یہاں نہیں کیونکہ جی اُٹھا جَیسا اُس نے کہا تھا۔ آؤ وہ جگہ دیکھو جہاں خُداوند پڑا تھا۔" دو باتوں پر دھیان دیجیے۔ پہلی، "وہ یہاں نہیں": قبر خالی ہے۔ دوسری، "جیسا اُس نے کہا تھا": یہ حادثہ نہیں، وعدے کی تکمیل ہے۔ لوقا 24:6 اِسی بات کو ایک نرم سرزنش کے ساتھ کہتا ہے: "وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے۔ یاد کرو کہ اُس نے گلِیل میں ہوتے وقت تُم سے کیا کہا تھا؟" فرشتہ اُن عورتوں کو کوئی نئی معلومات نہیں دے رہا؛ وہ اُنہیں یاد دلا رہا ہے۔ ایمان کا بڑا حصہ یاد رکھنا ہے۔
خود خداوند یسوع نے اپنی موت سے پہلے یہ دعویٰ کیا تھا کہ زندگی اُن کی ذات میں ہے۔ یوحنا 11:25 میں مرتھا سے فرمایا: "قِیامت اور زِندگی مَیں ہُوں۔ جو مُجھ پر اِیمان لاتا ہے گو وہ مَر جائے تو بھی زِندہ رہے گا۔" یہ فقرہ حیران کن ہے۔ مرتھا آخری دن کی قیامت پر ایمان رکھتی تھی، مگر یسوع نے قیامت کو ایک تاریخ سے نکال کر اپنی ذات میں رکھ دیا۔ قیامت کوئی نظام نہیں، ایک شخص ہے۔
پھر پنتِکُست کے دن پطرس نے کھلے میدان میں گواہی دی۔ اعمال 2:32 کہتا ہے: "اِسی یسوع کو خُدا نے جِلایا جِس کے ہم سب گواہ ہیں۔" ابتدائی کلیسیا کی منادی کا مرکز کوئی اخلاقی نصیحت نہیں تھی بلکہ ایک خبر تھی: جسے تم نے مصلوب کیا، خدا نے اُسے زندہ کیا، اور ہم نے اُسے دیکھا ہے۔ اِسی خطبے میں پطرس نے زبور 16:10 کا حوالہ دیا: "کیونکہ تُو میری جان کو پاتال میں نہ چھوڑے گا، نہ اپنے مُقدّس کو سڑنے دے گا۔" داؤد نے یہ الفاظ لکھے، مگر داؤد کی قبر یروشلیم میں موجود تھی اور اُس کا جسم سڑ چکا تھا۔ پطرس نے دلیل دی کہ داؤد نبی کے طور پر اپنی اولاد میں سے آنے والے اُس مسیح کے بارے میں بول رہا تھا جس کا بدن قبر میں بگڑے گا نہیں۔ یعنی جی اٹھنا پرانے عہد نامے میں ہی لکھا ہوا وعدہ تھا۔
پولس رسول اِس سے آگے بڑھ کر ایک ناقابلِ فراموش بات کہتا ہے۔ ۱ کرنتھیوں 15:14 میں لکھا ہے: "اور اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائِدہ ہے اور تُمہارا اِیمان بھی بے فائِدہ۔" مسیحیت کوئی ایسا فلسفہ نہیں جسے آپ تاریخ سے الگ کر کے بھی "روحانی طور پر مفید" کہہ سکیں۔ اگر قبر خالی نہیں ہے تو ہمارے پاس کچھ نہیں: نہ گناہوں کی معافی، نہ مُردوں کے لیے امید، نہ خدا کے بارے میں کوئی نئی خبر۔ پولس ایمان کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کرتا؛ وہ سب کچھ ایک خالی قبر پر داؤ پر لگا دیتا ہے۔
اور پھر پطرس ہمیں بتاتا ہے کہ اِس واقعے کا اثر ہمارے اندر کیا ہے۔ ۱ پطرس 1:3 کہتا ہے: "ہمارے خُداوند یسوع مسیح کے خُدا اور باپ کی حمد ہو جِس نے اپنی بڑی رحمت کے مُطابق یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعِث نئے سِرے سے ہمیں پَیدا کِیا تاکہ ایک زِندہ اُمّید پَیدا ہو۔" غور کریں: "نئے سرے سے پیدا کیا"۔ جی اٹھنا صرف مسیح کے ساتھ نہیں ہوا، اُس کے ذریعے ہمارے ساتھ بھی کچھ ہوا۔ نئی پیدائش نئی تخلیق کی پہلی لہر ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پہلا اشارہ باغ میں ملتا ہے۔ پیدائش 3:15 میں خدا سانپ سے فرماتے ہیں کہ عورت کی نسل "تیرے سر کو کُچلے گا اور تُو اُس کی ایڑی کو کاٹے گا"۔ ایڑی کا زخم مہلک لگتا ہے، مگر سر کچلا جانا فیصلہ کن ہے۔ صلیب اور خالی قبر اِس ایک جملے کی تفسیر ہیں۔
ابرہام کی زندگی میں یہ سلسلہ گہرا ہوتا ہے۔ جب وہ اسحاق کو قربان کرنے چلا تو عبرانیوں 11:19 ہمیں بتاتا ہے کہ "وہ سمجھا کہ خُدا مُردوں کو جِلانے پر بھی قادِر ہے"۔ ایمان کے باپ کا ایمان جی اٹھنے کے خدا پر تھا۔ ایوب، اپنے دکھ کی گہرائی میں، پکار اٹھا: "مَیں تو جانتا ہُوں کہ میرا مخلصی دینے والا زِندہ ہے" (ایوب 19:25)۔ یونس نبی مچھلی کے پیٹ میں تین دن رہا، اور خداوند یسوع نے خود متی 12:40 میں اِسے اپنی موت اور جی اٹھنے کا نشان قرار دیا۔ حزقی ایل 37 میں نبی ایک وادی دیکھتا ہے جو سوکھی ہڈیوں سے بھری ہے، اور خدا کے کلام پر وہ ہڈیاں جی اٹھتی ہیں: اسرائیل کی جلاوطنی سے واپسی کی تصویر، مگر ساتھ ہی ایک بڑی حقیقت کا سایہ۔ یسعیاہ 53 میں وہ خدمت گزار اپنی جان گناہ کی قربانی کے لیے دیتا ہے اور پھر "اپنی اولاد کو دیکھے گا" اور "اپنی جان محنت کا پھل دیکھ کر آسودہ ہو گا"۔ مرا ہوا کوئی پھل نہیں دیکھ سکتا۔ دانی ایل 12:2 صاف کہتا ہے کہ خاک میں سونے والوں میں سے بہت سے جاگ اٹھیں گے۔ اور یسعیاہ 25:8 کا وعدہ ہے کہ خدا "موت کو ابد تک نِگل جائے گا"۔
پرانا عہد نامہ ایک بند قبر کے سامنے کھڑا ہوکر امید سے بولتا ہے۔
نئے عہد نامے میں یہ سب ایک شخص میں سمٹ آتا ہے۔ چاروں انجیلوں کا اختتام خالی قبر پر ہوتا ہے، اور یوحنا خاص طور پر اپنی زبان سے اشارہ کرتا ہے: یوحنا 19:41 کے مطابق جس جگہ خداوند مصلوب ہوئے وہاں ایک باغ تھا، اور یوحنا 20 میں مریم مگدلینی جی اٹھے ہوئے خداوند کو "باغ کا رکھوالا" سمجھ بیٹھتی ہے۔ پہلی مخلوق ایک باغ میں شروع ہوئی تھی اور ایک باغ میں ٹوٹی تھی؛ نئی مخلوق ایک باغ میں، ہفتے کے پہلے دن، شروع ہوتی ہے۔ اِسی باب میں خداوند شاگردوں پر پھونکتے ہیں اور فرماتے ہیں "روحُ القدس لو"، بالکل جیسے پیدائش 2:7 میں خدا نے مٹی کے پتلے میں زندگی کا دم پھونکا تھا۔
پولس اِسی خیال کو اصطلاح دیتا ہے۔ ۱ کرنتھیوں 15:20 کہتا ہے: "لیکن فی الحقیقت مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھا ہے اور جو سو گئے ہیں اُن میں پہلا پھل ہُؤا۔" پہلا پھل فصل کا اختتام نہیں، فصل کا آغاز ہوتا ہے۔ رومیوں 4:25 بتاتا ہے کہ وہ "ہماری راستبازی کے لِئے جِلایا گیا"۔ اور مکاشفہ میں کہانی مکمل ہوتی ہے: مکاشفہ 1:18 میں جی اٹھا ہوا خداوند فرماتا ہے کہ "مَیں مَر گیا تھا اور دیکھ اَبدُالآباد زِندہ رہُوں گا اور موت اور عالمِ ارواح کی کُنجِیاں میرے پاس ہیں"، اور مکاشفہ 21 میں نیا آسمان اور نئی زمین اترتی ہے جہاں موت باقی نہیں رہتی۔ پیدائش سے مکاشفہ تک ایک ہی سلسلہ ہے: خدا اپنی مخلوق کو موت کے حوالے کرنے پر راضی نہیں۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ جی اٹھنا صرف روحانی یا علامتی بات ہے، یعنی "یسوع کی تعلیم شاگردوں کے دلوں میں زندہ ہو گئی"۔ کلام اِس کی گنجائش نہیں دیتا۔ لوقا 24:39 میں خداوند خود فرماتے ہیں: "میرے ہاتھ پاؤں دیکھو کہ مَیں ہی ہُوں اور مُجھے چُھو کر دیکھو کیونکہ رُوح کے گوشت اور ہڈّی نہیں ہوتی جَیسا مُجھ میں دیکھتے ہو۔" اُنہوں نے شاگردوں کے سامنے بھنی ہوئی مچھلی کھائی، تھوما کو اپنے زخم دکھائے، اور ساحل پر ناشتہ تیار کیا۔ اگر جی اٹھنا صرف ایک اندرونی احساس ہوتا تو ۱ کرنتھیوں 15:14 کی وہ سخت بات بے معنی ہو جاتی جو ہم نے پڑھی۔ ہمارا ایمان ایک خیال پر نہیں، ایک خبر پر ٹکا ہے۔
دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ جی اٹھنا محض روح کی بقا ہے، یعنی مرنے کے بعد آدمی کی روح زندہ رہتی ہے اور بس۔ یہ بات کئی مذاہب اور فلسفوں میں پائی جاتی ہے، مگر بائبل اِس سے بہت بڑی بات کہتی ہے۔ فلپیوں 3:21 کے مطابق خداوند "ہماری پست حالت کے بدن کی شکل بدل کر اپنے جلال کے بدن کی صورت پر بنائے گا"۔ خدا کا مقصد جسم سے چھٹکارا نہیں، جسم کی بحالی ہے۔ اِسی لیے ہم اِس رہنما میں خالی قبر کو نئی مخلوق کا پہلا دن کہتے ہیں: خدا مادّے سے بھاگ نہیں رہا، وہ اُسے نیا بنا رہا ہے۔
تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ شاگردوں نے یہ کہانی خود گھڑ لی۔ مگر جھوٹ گھڑنے والے ایسا جھوٹ نہیں گھڑتے۔ اُس زمانے کے قانونی ماحول میں عورتوں کی گواہی کمزور سمجھی جاتی تھی، اور چاروں انجیلیں کہتی ہیں کہ پہلی گواہ عورتیں تھیں۔ اپنی ساکھ بچانے والے لوگ اپنی بزدلی، اپنے شک اور اپنے انکار کو یوں کھلے عام درج نہیں کرتے، جیسے پطرس کا انکار درج ہے۔ اور جو خود جانتے ہیں کہ بات جھوٹ ہے، وہ اُس کے لیے کوڑے، قید اور موت قبول نہیں کرتے۔ اعمال 2:32 کا وہ فقرہ "جِس کے ہم سب گواہ ہیں" یروشلیم میں، اُسی شہر میں، اُنہی لوگوں کے سامنے کہا گیا جو قبر تک جا کر بات جانچ سکتے تھے۔
چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ جی اٹھنا صرف مستقبل کا معاملہ ہے، ایک ایسی امید جو موت کے بعد کام آئے گی اور آج کی زندگی سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ ۱ پطرس 1:3 اِسے "زندہ امید" کہتا ہے، نہ کہ سوئی ہوئی امید۔ رومیوں 6:4 کہتا ہے کہ جس طرح مسیح جِلایا گیا "اُسی طرح ہم بھی نئی زِندگی میں چلیں"۔ چلنا آج کا فعل ہے۔ جی اٹھنے کی طاقت آپ کے قبر میں جانے کا انتظار نہیں کر رہی؛ وہ آج آپ کے غصے، آپ کی لت، آپ کی معافی نہ دینے کی ضد اور آپ کی مایوسی کے دروازے پر کھڑی ہے۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
اگر خالی قبر نئی مخلوق کا پہلا دن ہے، تو اِس کا مطلب ہے کہ آپ کی زندگی کے چھوٹے، مٹی سے بھرے حصے بھی اِس نئی صبح کی روشنی میں آتے ہیں۔
اپنے جسم سے شروع کیجیے۔ بہت سے لوگ اپنے جسم سے شرمندہ یا مایوس ہیں: بیماری، معذوری، بڑھتی عمر، آئینے میں نظر آنے والا وہ چہرہ جو پسند نہیں۔ جی اٹھنے کا پیغام یہ ہے کہ خدا نے آپ کے جسم کو کوڑا نہیں سمجھا۔ خداوند یسوع اب بھی جسم رکھتے ہیں، زخموں کے نشان کے ساتھ۔ اِس لیے اپنے بدن کی دیکھ بھال، آرام، نیند اور علاج کو "غیر روحانی" نہ جانیے۔ اور جو بیماری اِس جہان میں ٹھیک نہیں ہوگی، اُس پر بھی حرفِ آخر موت نہیں لکھے گی۔
پھر اپنے کام کو دیکھیے۔ ۱ کرنتھیوں 15، جو جی اٹھنے کا سب سے بڑا باب ہے، اِس نصیحت پر ختم ہوتا ہے کہ خداوند میں تمہاری محنت بے فائدہ نہیں ہے۔ جو ماں اپنے بچوں کو صبح صبح تیار کرتی ہے، جو مزدور دن بھر پسینہ بہاتا ہے، جو استاد بار بار ایک ہی سبق دہراتا ہے: اِن میں سے کوئی محنت ضائع نہیں ہوگی، کیونکہ اِس دنیا کا انجام راکھ نہیں بلکہ نئی زمین ہے۔
اپنے ماتم میں یہ سچائی رکھیے۔ ۱ تھسلنیکیوں 4:13 کہتا ہے کہ ہم غم کرتے ہیں، مگر اُن کی طرح نہیں جن کو امید نہیں۔ ایمان آنسو منع نہیں کرتا؛ وہ آنسوؤں کو ایک انجام دیتا ہے۔ قبرستان مسیحی کے لیے آخری پتہ نہیں، عارضی قیام گاہ ہے۔
اپنے گناہ اور شرم میں بھی۔ وہ پطرس، جس نے تین بار انکار کیا، جی اٹھے ہوئے خداوند سے ساحل پر ملا اور تین بار محبت کا اعتراف کرکے بحال ہوا۔ جی اٹھنا صرف موت کو نہیں، آپ کی ناکامی کو بھی حرفِ آخر بننے سے روکتا ہے۔ اگر آپ کو لگتا ہے کہ آپ کا ماضی آپ کے مستقبل کا فیصلہ کر چکا ہے، تو خالی قبر آپ سے اختلاف کرتی ہے۔
اور اپنے خوف میں۔ جو کچھ آپ کو ڈراتا ہے، اُس کی آخری طاقت موت ہی ہے: ملازمت جانے کا ڈر، لوگوں کی رائے، بیماری کی رپورٹ۔ مگر جس کے پاس موت کی کنجیاں ہیں وہ آپ کا خداوند ہے۔ جس نے موت کو ہرا دیا، اُس سے آپ کی رپورٹ چھوٹی ہے۔
آئینہ
اب ایک لمحے کے لیے یہ صفحہ ایک آئینہ بن جاتا ہے۔ آپ نے یہ سب پڑھا، مگر سچ بتائیں: آپ کی زندگی کسی زندہ خداوند کے ماتحت جیتی ہوئی لگتی ہے، یا کسی خوبصورت عقیدے کے ساتھ؟ اگر مسیح مُردوں میں سے جی اٹھا ہے تو یہ صرف اتوار کی ایک سچائی نہیں رہ سکتی۔ یہ آپ کے پیسے کے استعمال کو بدلتی ہے، کیونکہ آپ اپنی ساری سلامتی بینک کے ہندسوں میں نہیں رکھ سکتے جب آپ کی وراثت آسمان پر محفوظ ہے۔ یہ آپ کے وقت کو بدلتی ہے، کیونکہ آپ کے پاس ابدیت ہے، مگر آج کا دن دوبارہ نہیں آئے گا۔
سوچیے: وہ ناراضگی جو آپ برسوں سے اپنے بھائی، بہن، یا والدین کے خلاف سینے میں دبا رکھی ہے، کیا آپ اُسے قبر میں بھی ساتھ لے جائیں گے؟ جی اٹھا ہوا خداوند اپنے انکار کرنے والے شاگرد کے پاس بدلہ لینے نہیں، ناشتہ لے کر گیا۔ کیا آپ کے دل میں کسی کے لیے اُس جیسی گنجائش ہے؟
اور وہ تنہائی جو رات کو آپ کے کمرے میں بیٹھ جاتی ہے، وہ خالی بستر، وہ فون جو نہیں بجتا۔ وہ عورتیں بھی خالی ہاتھ، بھاری دل اور بند دروازوں کے ساتھ نکلی تھیں۔ اُنہیں راستے میں یہ خیال بھی نہ آیا تھا کہ خدا اُس وقت پہلے ہی کام کر چکا ہے، اندھیرے میں، اُن سے پہلے، اُن کی خبر کے بغیر۔ ہو سکتا ہے آپ کے حالات میں بھی پتھر پہلے ہی سرک چکا ہو اور آپ کو خبر نہ ہو۔
آخری سوال، اور یہ سب سے نازک ہے۔ اگر آپ آج مر جائیں تو آپ کی امید کس چیز پر کھڑی ہے؟ اپنی نیکی پر، اپنی کلیسیائی حاضری پر، یا اُس شخص پر جس نے فرمایا "قیامت اور زندگی مَیں ہوں"؟ یہ فرق کوئی علمی نکتہ نہیں۔ یہ ہر چیز ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یہ سچائی سمجھانا اُتنا مشکل نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں، کیونکہ بچے کہانی کی زبان بہت جلد پکڑ لیتے ہیں۔ سب سے سادہ راستہ یہ ہے کہ اُنہیں تین دن کی ترتیب بتائیے: خداوند یسوع نے ہمارے لیے اپنی جان دی، اُنہیں ایک قبر میں رکھا گیا جس پر بڑا پتھر تھا، اور تیسرے دن صبح خدا نے اُنہیں زندہ کر دیا اور قبر خالی مل گئی۔ فرشتے کے وہی الفاظ دہرائیے جو متی 28:6 میں ہیں: "وہ یہاں نہیں کیونکہ جی اُٹھا۔"
چھوٹے بچوں کے لیے تصویری زبان مددگار ہے: بیج زمین میں دفن ہوتا ہے اور پھر پودا نکلتا ہے، یا سردی کے بعد بہار آتی ہے۔ ساتھ ہی یہ صاف کہنا ضروری ہے کہ خداوند یسوع کہانی کے کردار نہیں، حقیقی شخص ہیں جو واقعی زندہ ہیں۔ بڑے بچوں سے آپ ثبوت اور گواہوں کی بات کر سکتے ہیں، کیونکہ اُس عمر میں سوال اٹھنے لگتے ہیں اور سوال کو دبانا نہیں چاہیے۔
بچوں کے دل میں اِس سے جو سب سے پیارا اثر پیدا ہوتا ہے وہ خوف کی کمی ہے۔ جب کوئی اپنا رشتہ دار وفات پا جائے، تو یہی سچائی اُن کے آنسو پونچھنے کا ذریعہ بنتی ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ کہانی کی صورت میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے سوال و جواب اور آیات کے ساتھ، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے اُن اعتراضات اور شکوں کے جواب کے ساتھ جن کا سامنا اُنہیں اسکول، کالج اور انٹرنیٹ پر ہوتا ہے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ چنیں اور مل کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یسوع کا جی اٹھنا کیا ہے اور اِس کا کیا مطلب ہے؟
جی اٹھنے کا مطلب ہے کہ خداوند یسوع مسیح، جو صلیب پر واقعی مر گئے اور دفن ہوئے، تیسرے دن خدا کی قدرت سے جسمانی طور پر زندہ ہو گئے اور اب ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ یہ صرف کسی مریض کی صحت یابی جیسی واپسی نہیں، بلکہ ایک نئی، جلالی اور فانی نہ ہونے والی زندگی میں داخلہ ہے۔ متی 28:6 اِسے یوں بیان کرتا ہے: "وہ یہاں نہیں کیونکہ جی اُٹھا جَیسا اُس نے کہا تھا۔" اِس کا مطلب یہ ہے کہ گناہ کی قیمت پوری ادا ہو گئی اور موت کا اقتدار توڑ دیا گیا۔
یسوع کس دن جی اٹھے، اور "تیسرے دن" سے کیا مراد ہے؟
انجیلوں کے مطابق خداوند جمعے کے دن مصلوب ہوئے، سبت کے دن اُن کا بدن قبر میں رہا، اور ہفتے کے پہلے دن یعنی اتوار کی صبح وہ جی اٹھے۔ یہودی حساب میں دن کا کوئی بھی حصہ پورا دن گنا جاتا تھا، اِس لیے جمعہ، سبت اور اتوار مل کر "تین دن" بنتے ہیں۔ چاروں انجیلیں خاص طور پر "ہفتے کے پہلے دن" کا ذکر کرتی ہیں، جو پیدائش کے پہلے دن کی گونج ہے: پرانی مخلوق کے بیچ نئی مخلوق کا آغاز۔
کیا یسوع کا جی اٹھنا جسمانی تھا یا صرف روحانی؟
یہ مکمل طور پر جسمانی تھا۔ لوقا 24:39 میں خداوند نے خود فرمایا کہ روح کے گوشت اور ہڈی نہیں ہوتی، اور شاگردوں کو اپنے ہاتھ پاؤں چھونے کی دعوت دی۔ اُنہوں نے اُن کے سامنے کھانا کھایا اور تھوما کو اپنے زخم دکھائے۔ ساتھ ہی یہ بدن بدلا ہوا تھا: وہ بند دروازوں کے باوجود اندر آئے اور بعض اوقات پہچانے نہ گئے۔ یعنی وہی جسم، مگر نئی، ابدی حالت میں۔ مسیحی امید جسم سے آزادی نہیں، جسم کی بحالی ہے۔
جی اٹھنے کے گواہ کون کون تھے؟
پہلی گواہ وہ عورتیں تھیں جو قبر پر گئیں، خاص طور پر مریم مگدلینی۔ اِس کے بعد پطرس، دو شاگرد جو عماؤس کے راستے پر تھے، گیارہ رسول، اور ایک موقع پر پانچ سو سے زیادہ بھائی، جن کا ذکر ۱ کرنتھیوں 15 میں ہے۔ خداوند کا بھائی یعقوب اور آخر میں پولس رسول بھی گواہوں میں شامل ہوئے۔ اعمال 2:32 میں پطرس نے یروشلیم میں کھلے عام کہا: "اِسی یسوع کو خُدا نے جِلایا جِس کے ہم سب گواہ ہیں۔"
اگر مسیح جی نہ اٹھتے تو کیا فرق پڑتا؟
پولس رسول اِس سوال کا جواب بے رعایت دیتا ہے۔ ۱ کرنتھیوں 15:14 کہتا ہے: "اور اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو ہماری منادی بھی بے فائِدہ ہے اور تُمہارا اِیمان بھی بے فائِدہ۔" اُسی باب میں وہ آگے کہتا ہے کہ تب ہم اپنے گناہوں میں ہی ہوتے، جو ایمان میں سو گئے وہ ہلاک ہوتے، اور مسیحی سب آدمیوں سے زیادہ قابلِ رحم ہوتے۔ یعنی مسیحیت کو ایک تاریخی واقعے سے الگ کرکے محض ایک اچھی اخلاقی تعلیم کے طور پر بچایا نہیں جا سکتا۔
یسوع کے جی اٹھنے اور لعزر کے جی اٹھنے میں کیا فرق ہے؟
لعزر کو خداوند یسوع نے قبر سے بلایا اور وہ زندہ ہوا، مگر وہ اُسی فانی جسم میں لوٹا اور آگے چل کر دوبارہ مرا۔ خداوند یسوع کا جی اٹھنا اِس سے مختلف ہے: وہ ایک نئی، فانی نہ ہونے والی زندگی میں اٹھے اور دوبارہ کبھی نہیں مریں گے۔ اِسی لیے ۱ کرنتھیوں 15:20 اُنہیں "پہلا پھل" کہتا ہے، یعنی وہ اُس فصل کا آغاز ہیں جس میں سب ایمان دار شامل ہوں گے۔ اِسی سیاق میں یوحنا 11:25 کا دعویٰ سمجھ آتا ہے: "قِیامت اور زِندگی مَیں ہُوں۔"
زبور 16:10 کا یسوع کے جی اٹھنے سے کیا تعلق ہے؟
زبور 16:10 کہتا ہے: "کیونکہ تُو میری جان کو پاتال میں نہ چھوڑے گا، نہ اپنے مُقدّس کو سڑنے دے گا۔" یہ الفاظ داؤد نے لکھے، مگر پنتِکُست کے دن پطرس نے دلیل دی کہ داؤد اپنے بارے میں یہ نہیں کہہ سکتا تھا، کیونکہ اُس کی قبر اُس وقت بھی یروشلیم میں موجود تھی اور اُس کا جسم بگڑ چکا تھا۔ چنانچہ داؤد نبی کے طور پر اپنی نسل سے آنے والے مسیح کے بارے میں بول رہا تھا، جس کے بدن کو قبر میں سڑنا نہ تھا۔ جی اٹھنا کوئی بعد کی سوچ نہیں، پہلے سے لکھا وعدہ ہے۔
کیا انجیلوں کے بیانات ایک دوسرے سے متصادم ہیں؟
انجیلیں مختلف زاویوں سے لکھی گئی ہیں، اِس لیے ایک انجیل ایک فرشتے کا ذکر کرتی ہے اور دوسری دو کا، ایک عورت کا نام لیتی ہے اور دوسری کئی عورتوں کا۔ یہ فرق چار سچے گواہوں کی طرح کے ہیں، نہ کہ ایک نقل شدہ بیان کی طرح۔ بنیادی نکات پر چاروں مکمل اتفاق رکھتی ہیں: خداوند مصلوب ہوئے، دفن ہوئے، ہفتے کے پہلے دن قبر خالی ملی، عورتیں پہلی گواہ تھیں، اور جی اٹھے ہوئے خداوند نے شاگردوں پر ظاہر ہوکر اُنہیں بھیجا۔
میں کیسے یقین کر سکتا ہوں کہ یسوع واقعی جی اٹھا؟
سب سے ٹھوس بات یہ ہے کہ خالی قبر یروشلیم میں تھی، اُس شہر میں جہاں اِس دعوے کو جھوٹا ثابت کرنا آسان ہوتا اگر بدن موجود ہوتا۔ اِس کے ساتھ اُن ڈرے ہوئے شاگردوں کی حیرت انگیز تبدیلی ہے جو کچھ ہفتوں بعد موت کے خوف کے بغیر گواہی دینے لگے، اور اُن سینکڑوں چشم دید گواہوں کا وجود جن کا ذکر پولس رسول کرتا ہے۔ مگر آخر میں ایمان صرف دلائل سے نہیں آتا؛ روحُ القدس کلام کے ذریعے دل کھولتا ہے۔ لوقا 24:6 کے وہی الفاظ آج بھی دل میں کام کرتے ہیں: "وہ یہاں نہیں بلکہ جی اُٹھا ہے۔"
مسیحی اتوار کے دن عبادت کیوں کرتے ہیں؟
کیونکہ خداوند یسوع مسیح ہفتے کے پہلے دن جی اٹھے۔ ابتدائی ایمان دار اُسی دن کو "خداوند کا دن" کہنے لگے اور اُسی دن جمع ہوکر روٹی توڑتے اور کلام سنتے تھے، جیسا اعمال اور مکاشفہ میں اشارہ ملتا ہے۔ اِس دن کی عبادت ہر ہفتے ایک اعلان ہے کہ قبر خالی ہے اور نئی مخلوق شروع ہو چکی ہے۔ یہ کوئی خالی رسم نہیں بلکہ ایک ہفتہ وار یادگار ہے، تاکہ ہم بھولنے والے لوگ بار بار یاد کریں۔
کیا ایمان دار بھی جی اٹھیں گے اور اُن کا جسم کیسا ہوگا؟
جی ہاں۔ ۱ کرنتھیوں 15 کے مطابق جو مسیح میں سو گئے ہیں وہ اُس کے آنے پر جی اٹھیں گے۔ اُن کا بدن وہی ہوگا مگر بدلا ہوا: خرابی کے بجائے بے خرابی، کمزوری کے بجائے قوت، اور فنا کے بجائے بقا۔ فلپیوں 3:21 کہتا ہے کہ خداوند ہماری پست حالت کے بدن کو اپنے جلال کے بدن کی صورت پر بنائے گا۔ اِسی لیے ۱ پطرس 1:3 اِس امید کو "زندہ امید" کہتا ہے: وہ کسی خواہش پر نہیں، ایک ہو چکے واقعے پر کھڑی ہے۔
جی اٹھنے کا میری روزمرہ زندگی سے کیا تعلق ہے؟
بہت گہرا تعلق ہے۔ رومیوں 6:4 کہتا ہے کہ جیسے مسیح جِلایا گیا "اُسی طرح ہم بھی نئی زِندگی میں چلیں"۔ اِس کا مطلب ہے کہ آپ کے گناہ کی عادتیں، آپ کا خوف اور آپ کی مایوسی حرفِ آخر نہیں ہیں، کیونکہ جو طاقت قبر میں کام کر چکی ہے وہی روحُ القدس کے ذریعے آپ میں کام کرتی ہے۔ اِس کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کی محنت، آپ کی خدمت اور آپ کے جسم کی دیکھ بھال بے معنی نہیں، کیونکہ اِس دنیا کا انجام راکھ نہیں بلکہ نئی زمین ہے۔
عید پاک یا ایسٹر کیوں منائی جاتی ہے؟
عید پاک خداوند یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اٹھنے کی خوشی میں منائی جاتی ہے۔ یہ مسیحی کیلنڈر کا سب سے پرانا اور سب سے مرکزی تہوار ہے، کیونکہ اِسی واقعے پر نجات کی پوری خبر کھڑی ہے۔ روایتی طور پر جمعۃ الصلیب پر خداوند کی موت کو یاد کیا جاتا ہے اور اتوار کی صبح جی اٹھنے کی خوشی منائی جاتی ہے۔ انڈے اور دیگر مقامی رسمیں ثانوی ہیں؛ اصل بات وہ اعلان ہے جو فرشتے نے کیا: قبر خالی ہے، خداوند زندہ ہے۔
اختتام میں
اگر آپ کو اِس پورے صفحے سے صرف ایک بات یاد رہے تو یہ رہے: خالی قبر کوئی خوش کن اختتام نہیں، ایک کھلا دروازہ ہے۔ اُس اتوار کی صبح خدا نے تاریخ کے بیچ اپنی نئی مخلوق کا پہلا دن رکھ دیا، اور اُس دن کی روشنی اب پیچھے سے آنے والے ہر دن پر پڑتی ہے۔ اِسی لیے ۱ پطرس 1:3 اِسے "زندہ امید" کہتا ہے: ایسی امید جو دم توڑتی نہیں، کیونکہ وہ کسی خواہش پر نہیں بلکہ ایک ہو چکے واقعے پر کھڑی ہے۔
قبر خالی ہے، اِس لیے کوئی بھی دن بند نہیں۔
آگے کے لیے دو تجویزیں۔ پہلی، ۱ کرنتھیوں کا پندرہواں باب پورا، آرام سے، ایک ہی نشست میں پڑھیے، اور ہر بار جہاں "جی اٹھا" آئے وہاں تھم جائیے۔ دوسری، یوحنا 20 اور 21 پڑھیے اور دیکھیے کہ جی اٹھا ہوا خداوند ٹوٹے ہوئے لوگوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتا ہے: مریم کو نام سے بلاتا ہے، تھوما کے شک کو جگہ دیتا ہے، پطرس کو ناشتہ کھلاتا ہے۔ وہی خداوند آج بھی زندہ ہے۔ اُس سے بات کریں۔ وہ سنتا ہے، کیونکہ وہ مرا ہوا نہیں۔