سموئیل نبی کی زندگی اور خدا کی بلاہٹ
تعارف
سَیلا کا مقدِس ابھی اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہے۔ خدا کا چراغ بجھنے کو ہے، مگر ابھی بجھا نہیں۔ ایک لڑکا، جو شاید بارہ یا پندرہ برس کا ہے، عہد کے صندوق کے قریب سو رہا ہے۔ قوم کی حالت خراب ہے، کاہن کے بیٹے بدکار ہیں، اور نبوّت کی آواز برسوں سے خاموش ہے۔ ایسے وقت میں خدا کسی فوجی سردار کو نہیں، کسی عالم کو نہیں، بلکہ ایک نیند سے جاگتے بچے کو اُس کے نام سے پکارتا ہے۔
یہ سموئیل کی کہانی کا آغاز ہے، اور یہ اُس کی پوری زندگی کا نقشہ بھی ہے۔ اِس صفحے پر ہم سموئیل کی زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: اُس کی پیدائش سے پہلے کی دعا، سَیلا کی رات، مِصفاہ کی فتح، بادشاہت کا بحران، ساؤل کی نامنظوری، داؤد کا مسح، اور رامہ کی وہ قبر جس پر سارا اسرائیل رویا۔ ساتھ ہی ہم اُس کی کمزوریوں پر بھی ایمانداری سے بات کریں گے، اور دیکھیں گے کہ یہ ساری کہانی کس طرح خداوند یسوع مسیح تک پہنچتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے مضامین سموئیل کو "بادشاہ بنانے والا" کہہ کر بیان کرتے ہیں۔ ہم اُسے ایک اَور زاویے سے پڑھیں گے: سموئیل کی زندگی ایک مانگی ہوئی زندگی ہے، اور اُس کی بلاہٹ پہلے زبان کی نہیں بلکہ کان کی بلاہٹ ہے۔ وہ دعا سے پیدا ہوا، سننے کے لیے بلایا گیا، اور آخر تک دعا کرنا چھوڑنے سے انکار کرتا رہا۔ اُس کی عظمت اُس میں نہیں کہ اُس نے دو بادشاہوں کے سر پر تیل ڈالا، بلکہ اِس میں کہ اُس نے زندگی بھر خدا کے سامنے کان کھلے رکھے اور لوگوں کے لیے ہاتھ اُٹھائے رکھے۔ یہی زاویہ ہمیں اپنی زندگی کے سب سے ضروری سوال تک لے جاتا ہے: کیا میں سنتا ہوں؟
بائبل سموئیل نبی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
سموئیل کی کہانی اُس کی پیدائش سے نہیں، ایک بےاولاد عورت کے آنسوؤں سے شروع ہوتی ہے۔ حنّہ سَیلا میں آتی ہے، طعنے سہتی ہے، اور اپنا دل خداوند کے سامنے اُنڈیل دیتی ہے۔ جب بیٹا پیدا ہوتا ہے تو وہ اُس کا نام سموئیل رکھتی ہے اور دودھ چھڑانے کے بعد اُسے خداوند کے گھر لے آتی ہے اور کہتی ہے: "میں نے اِس لڑکے کے لیے دعا کی اور خداوند نے میری مراد جو میں نے اُس سے مانگی مجھے بخشی" (1 سموئیل 1:27)۔ یہ ایک جملہ سموئیل کی ساری شناخت طے کر دیتا ہے۔ وہ اتفاق سے پیدا ہونے والا بچہ نہیں؛ وہ دعا کا جواب ہے، اور دعا کے جواب کو حنّہ واپس خدا کو سونپ دیتی ہے۔
یہ بات سمجھنے کی ہے کہ جو بچہ مانگا گیا تھا، وہ اپنے پاس رکھا نہیں گیا۔ حنّہ کا گیت (1 سموئیل 2) اسرائیل کے سب سے پرانے اور گہرے گیتوں میں سے ایک ہے، جس میں وہ خدا کو اُس کے طور پر پہچانتی ہے جو زوروں کو خاک میں ملاتا ہے اور عاجزوں کو اُٹھاتا ہے۔ اُسی گیت کے آخر میں پہلی بار "خداوند کے مسیح" کا ذکر آتا ہے، حالانکہ ابھی اسرائیل میں کوئی بادشاہ نہیں۔ خدا اپنی کہانی کا خاکہ ایک ماں کے شکر گزار ہونٹوں سے کھینچوا رہا ہے۔
سَیلا میں ماحول تاریک تھا۔ عیلی کاہن بوڑھا اور نرم دل مگر بےبس تھا، اور اُس کے بیٹے حُفنی اور فینحاس قربانیوں میں بدعنوانی کرتے اور لوگوں کو ٹھکراتے تھے۔ اِسی گندگی کے بیچ ایک جملہ چمکتا ہے: "اور وہ لڑکا سموئیل بڑھتا اور خداوند اور آدمیوں کا پیارا ہوتا گیا" (1 سموئیل 2:26)۔ خدا کا کام کبھی بھی اچھے ماحول کا محتاج نہیں رہا۔
پھر وہ رات آتی ہے جس نے اسرائیل کی تاریخ بدل دی۔ کتاب خود ہمیں پس منظر دیتی ہے: "اور خداوند کا کلام اُن دنوں میں کمیاب تھا اور کوئی رویا ظاہر نہ ہوتی تھی" (1 سموئیل 3:1)۔ خدا تین بار لڑکے کو پکارتا ہے اور تین بار وہ عیلی کے پاس دوڑ جاتا ہے، کیونکہ اُسے ابھی خدا کی آواز پہچاننا نہیں آتی۔ آخرکار بوڑھا کاہن، جس کی اپنی زندگی ناکام ہو چکی ہے، اُسے سکھاتا ہے کہ جواب کیسے دینا ہے۔ اور تب: "تب خداوند آیا اور کھڑے ہو کر پہلے کی طرح پکارا سموئیل! سموئیل! سموئیل نے کہا فرما کہ تیرا بندہ سنتا ہے" (1 سموئیل 3:10)۔
ذرا غور کریں کہ یہ جواب کس قدر مختصر ہے۔ کوئی منصوبہ نہیں، کوئی شرط نہیں، کوئی سوال نہیں۔ صرف دو باتیں: تُو فرما، اور میں سنتا ہوں۔ خدا کی پہلی بلاہٹ ہمیشہ کان کے لیے ہوتی ہے۔ اور جو پہلا پیغام اُس کان کو ملا وہ خوشخبری نہیں بلکہ عیلی کے گھرانے پر عدالت کا اعلان تھا۔ سموئیل کی خدمت کا آغاز ایک ایسے سچ سے ہوا جو اُس کے محسن اور سرپرست کے خلاف تھا، اور اُس نے صبح اُسے چھپایا نہیں۔ یہی لمحہ طے کرتا ہے کہ وہ نبی بنے گا، کیونکہ نبی وہ نہیں جو خوب بولتا ہے بلکہ وہ جو سنا ہوا سچ بیان کرنے سے ڈرتا نہیں۔
اِس کے بعد صحیفہ گواہی دیتا ہے: "اور سموئیل بڑا ہوتا گیا اور خداوند اُس کے ساتھ تھا اور اُس نے اُس کی کسی بات کو خالی جانے نہ دیا" (1 سموئیل 3:19)۔ دان سے بیرسبع تک سارا اسرائیل جان گیا کہ خداوند نے رامہ کے ایک لڑکے کو اپنا نبی ٹھہرایا ہے۔
مگر اِس کے فوراً بعد ایک عجیب خلا ہے۔ جب فلستیوں نے اسرائیل کو ہرایا، عہد کا صندوق چھن گیا، عیلی اور اُس کے بیٹے مر گئے اور سَیلا کی شان خاک ہو گئی، تو سموئیل کا نام اِن بابوں میں بالکل نہیں آتا۔ تقریباً بیس برس کی خاموشی ہے۔ خدا کا بلایا ہوا شخص ہمیشہ اسٹیج پر نہیں ہوتا؛ کبھی وہ برسوں انتظار میں، تعلیم میں اور تنہائی میں پکتا ہے۔ جب سموئیل دوبارہ سامنے آتا ہے تو وہ لڑکا نہیں، ایک پکا ہوا راہنما ہے جو پوری قوم کو مِصفاہ میں جمع کر کے کہتا ہے کہ اجنبی معبودوں کو پھینک دو اور اپنے دل خداوند کی طرف لگاؤ۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
سموئیل عہدِ عتیق میں ایک دہلیز پر کھڑا ہے۔ وہ قاضیوں کے دور کا آخری قاضی ہے اور نبیوں کے سلسلے کا پہلا بڑا نبی؛ وہ کاہن کے گھر میں پلا مگر کاہن کی وراثت کا مالک نہ تھا؛ وہ بادشاہوں کا مسح کرتا ہے مگر خود تاج نہیں پہنتا۔ اُس کی ساری خدمت دوسروں کی طرف اشارہ کرتی ہے، اور یہی اُس کی بڑائی ہے۔
عہدِ عتیق اُسے بار بار یاد کرتا ہے۔ زبور 99:6 میں وہ موسیٰ اور ہارون کے ساتھ اُن لوگوں میں گِنا جاتا ہے جو خدا کا نام لیتے اور دعا میں اُس سے لپٹتے تھے۔ یرمیاہ 15:1 میں خداوند فرماتا ہے کہ اگر موسیٰ اور سموئیل بھی میرے سامنے کھڑے ہوتے تو بھی میرا دل اِس قوم کی طرف مائل نہ ہوتا۔ یعنی اسرائیل کی یادداشت میں سموئیل سب سے بڑے شفاعت کرنے والوں میں سے ایک تھا۔ ایک اَور دلچسپ تار 1 سموئیل 2:35 میں ہے، جہاں خدا عیلی کے ناکام گھرانے کی جگہ "ایک دیانتدار کاہن" برپا کرنے کا وعدہ کرتا ہے۔ سموئیل اُس وعدے کا ابتدائی عکس ہے، مگر اُس کا پورا جواب صرف خداوند یسوع مسیح ہے، وہ کاہن جو ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔
عہدِ جدید میں سموئیل تین جگہ نمایاں ہے۔ پطرس اُسے نبوّت کے سلسلے کا نقطۂ آغاز قرار دیتا ہے اور اعمال 3:24 میں کہتا ہے کہ سموئیل اور اُس کے بعد کے سب نبیوں نے اِن ہی دنوں کی خبر دی، یعنی مسیح کے آنے کی۔ پولوس اعمال 13:20 میں اسرائیل کی تاریخ سناتے ہوئے سموئیل کو قاضیوں کے دور کے آخر پر رکھتا ہے، جس کے بعد بادشاہت اور پھر داؤد آتا ہے، اور داؤد کی نسل سے نجات دہندہ۔ اور ایمان کے ابواب میں اُس کا نام سنہری حروف میں آتا ہے: "اور اب میں اور کیا کہوں؟ کیونکہ مجھے اِتنی فرصت نہیں کہ جدعون اور برق اور سمسون اور اِفتاح اور داؤد اور سموئیل اور اَور نبیوں کا بیان کروں" (عبرانیوں 11:32)۔
یہ آیت ہمیں ایک پیاری تسلی دیتی ہے۔ جس فہرست میں سموئیل رکھا گیا ہے، اُس میں ایسے لوگ بھی ہیں جنہوں نے بڑی غلطیاں کیں۔ عبرانیوں اُنہیں بےخطا ہونے کی وجہ سے نہیں بلکہ ایمان کی وجہ سے یاد کرتا ہے۔ سموئیل اِس باب میں اِس لیے ہے کہ اُس نے خدا کے کلام پر بھروسا کیا جب کلام کمیاب تھا، اور اُس نے خدا کی بات مانی جب ماننا اُس کی عزت کے خلاف جاتا تھا۔
اور سب سے خوبصورت تار حنّہ کے گیت سے مریم کے گیت تک جاتا ہے۔ حنّہ نے گایا تھا کہ خداوند زوروں کی کمان توڑتا ہے اور محتاجوں کو خاک سے اُٹھاتا ہے؛ لوقا 1 میں مریم تقریباً وہی الفاظ دہراتی ہے۔ ایک بےاولاد عورت کی دعا اور ایک کنواری کی گود، دونوں ایک ہی خدا کے کام کی گواہی ہیں۔ اور جس طرح لڑکا سموئیل "خداوند اور آدمیوں کا پیارا ہوتا گیا"، اُسی طرح لوقا 2:52 خداوند یسوع کے بارے میں لکھتا ہے کہ وہ "حکمت اور قد و قامت میں اور خدا کی اور انسان کی مقبولیت میں ترقی کرتا گیا"۔ سموئیل سایہ ہے؛ مسیح اصل ہے۔
اُن کی زندگی کا مرکز
پہلا لمحہ: مِصفاہ کا پتھر۔ بیس برس کی توبہ اور انتظار کے بعد سموئیل قوم کو اکٹھا کرتا ہے، اور جب فلستی چڑھ آتے ہیں تو وہ ہتھیار نہیں اُٹھاتا بلکہ ایک دودھ پیتا برّہ قربان کر کے خداوند سے فریاد کرتا ہے۔ خدا آسمان سے گرجتا ہے اور دشمن منتشر ہو جاتا ہے۔ پھر سموئیل ایک کام کرتا ہے جو اُسے باقی سب راہنماؤں سے الگ کرتا ہے: وہ اپنی فتح کا مجسمہ نہیں بناتا، ایک پتھر کھڑا کرتا ہے۔ "پھر سموئیل نے ایک پتھر لے کر مِصفاہ اور شین کے درمیان کھڑا کیا اور اُس کا نام ابن عزر رکھا اور کہا کہ یہاں تک خداوند نے ہماری مدد کی" (1 سموئیل 7:12)۔ یہ یادگار ماضی کی گواہی ہے اور مستقبل کی اُمید بھی: جہاں تک پہنچے ہیں، خدا نے پہنچایا ہے؛ اور جو سفر باقی ہے، وہی خدا ساتھ ہوگا۔ اِس پتھر پر سموئیل کا نام نہیں لکھا، خدا کی مدد لکھی ہے۔
دوسرا لمحہ: بادشاہ کی مانگ۔ سموئیل بوڑھا ہو گیا، اور یہاں صحیفہ ہمیں ایک تکلیف دہ سچ بتاتا ہے۔ اُس نے اپنے بیٹوں یوایل اور ابیاہ کو قاضی مقرر کیا، مگر وہ رشوت لیتے اور انصاف بگاڑتے تھے۔ جس عیلی کے گھرانے کے خلاف سموئیل نے پہلی نبوّت کی تھی، بڑھاپے میں اُس کے اپنے گھر میں وہی زخم کھل گیا۔ بائبل اپنے ہیروز کے چہرے پر میک اپ نہیں لگاتی۔ بزرگ آتے ہیں اور بادشاہ مانگتے ہیں تاکہ وہ "اَور سب قوموں کی مانند" ہوں۔ سموئیل کو یہ بات بُری لگتی ہے، اور وہ سیدھا دعا میں جاتا ہے؛ اور خدا اُسے تسلی دیتا ہے کہ اصل رد اُس کا نہیں، خدا کا ہوا ہے۔ یہی اُس کی عظمت ہے کہ وہ ناراض ہو کر چلا نہیں جاتا۔ وہ ساؤل کو ڈھونڈتا ہے، اُس کے سر پر تیل ڈالتا ہے، اُس کے لیے جگہ بناتا ہے، اور پھر اپنی الوداعی تقریر میں قوم سے پوچھتا ہے کہ کیا میں نے کسی کا بَیل یا گدھا لیا، کسی پر ظلم کیا، رشوت لی؟ اور قوم گواہی دیتی ہے کہ نہیں۔ اِس کے بعد وہ جملہ آتا ہے جو ہر پاسبان، والد اور دعا کرنے والے کے لیے میزان ہے: "اور مجھ سے تو یہ ہرگز نہ ہو کہ میں خداوند کا گنہگار ہوں اور تمہارے لیے دعا کرنا چھوڑ دوں بلکہ میں اچھی اور سیدھی راہ تم کو بتاؤں گا" (1 سموئیل 12:23)۔ جن لوگوں نے اُس کی نصیحت ٹھکرائی، اُن ہی کے لیے دعا چھوڑنا وہ گناہ سمجھتا ہے۔
تیسرا لمحہ: دو بادشاہ، ایک معیار۔ ساؤل بظاہر بہترین انتخاب تھا، لمبا، خوبصورت، بہادر۔ مگر جب وہ خدا کے حکم کو اپنی سہولت کے مطابق ڈھالنے لگا اور عمالیقیوں کی بہترین بھیڑ بکریاں بچا کر اُنہیں "قربانی" کا نام دیا، تو سموئیل نے وہ کہا جو پورے عہدِ عتیق کے دل کی بات ہے: "کیا خداوند سوختنی قربانیوں اور ذبیحوں سے بھی ایسا خوش ہوتا ہے جیسا خداوند کی بات ماننے سے؟ دیکھ فرمانبرداری قربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے" (1 سموئیل 15:22)۔ اور پھر، آنسوؤں کے ساتھ ساؤل کے لیے رات بھر فریاد کرنے کے بعد، خدا اُسے بیت لحم بھیجتا ہے۔ وہاں اُس کی آنکھ پھر سب سے لمبے بیٹے پر جاتی ہے، اور خدا اُسے روک دیتا ہے: "لیکن خداوند نے سموئیل سے کہا کہ اُس کے چہرہ اور اُس کے قد کی بلندی کو نہ دیکھ اِس لیے کہ میں نے اُسے ناپسند کیا ہے کیونکہ خداوند انسان کی مانند نظر نہیں کرتا۔ آدمی تو ظاہری صورت کو دیکھتا ہے پر خداوند دل پر نظر کرتا ہے" (1 سموئیل 16:7)۔ نبی کو بھی سیکھنا پڑا کہ سننا صرف کان کا نہیں، آنکھ کا بھی سبق ہے۔
سموئیل سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق: بلاہٹ سے پہلے سننا آتا ہے۔ ہم عموماً پوچھتے ہیں کہ خدا میری زندگی کے لیے کیا چاہتا ہے، اور ہمارا دل جواب سننے سے پہلے ہی منصوبے بنا رہا ہوتا ہے۔ سموئیل کا جواب آج بھی سب سے پختہ دعا ہے: "فرما کہ تیرا بندہ سنتا ہے" (1 سموئیل 3:10)۔ غور کریں کہ اُس نے یہ کہنا کسی خاص روحانی تجربے سے نہیں، بلکہ ایک بوڑھے ناکام کاہن کی تربیت سے سیکھا۔ خدا ہمیں بھی عموماً کلام کی روزمرہ تعلیم، کلیسیا اور اُن لوگوں کے ذریعے سننا سکھاتا ہے جو خود کمزور ہیں۔ آج خدا کی آواز پہچاننے کا بنیادی راستہ صحیفہ ہے، اور جو کان صحیفے سے مانوس ہو، وہ دھوکے کی آوازوں سے بچ جاتا ہے۔
دوسرا سبق: یادگار کے پتھر رکھنا سیکھیں۔ ہماری یادداشت ناشکری کی طرف جھکی ہوئی ہے۔ ہم ایک مشکل سے نکلتے ہیں اور اگلے ہفتے بھول جاتے ہیں کہ کس نے نکالا۔ سموئیل نے مِصفاہ میں پتھر رکھ کر کہا: یہاں تک خداوند نے ہماری مدد کی۔ اپنے گھر میں، اپنی ڈائری میں، اپنے بچوں کے سامنے ایسے پتھر رکھیں۔ وہ بیماری جس سے خدا نے باہر نکالا، وہ قرض جو چک گیا، وہ گناہ جس سے رہائی ملی، وہ دن جب نوکری نہ ہوتے ہوئے بھی روٹی ملی۔ شکر گزاری یاد رکھنے کا نظم ہے، موڈ نہیں۔
تیسرا سبق: ٹھکرائے جانے پر بھی دعا نہ چھوڑیں۔ سب سے مشکل سبق یہی ہے۔ سموئیل کی ساری عمر کی خدمت کو قوم نے ایک جملے میں رد کر دیا: ہمیں بادشاہ دو۔ ایسے لمحے میں دل کہتا ہے کہ بس، اب میں پیچھے ہٹ جاتا ہوں۔ مگر اُس نے کہا کہ دعا چھوڑنا میرے لیے خداوند کے خلاف گناہ ہوگا (1 سموئیل 12:23)۔ جو بیٹا آپ کی بات نہیں مانتا، جو شریکِ حیات آپ کے ایمان کا مذاق اُڑاتا ہے، جو رشتہ دار آپ کو کلیسیا کی وجہ سے الگ کر چکا ہے؛ سموئیل آپ سے کہتا ہے کہ ناراضی کا حق ہے مگر دعا چھوڑنے کا حق نہیں۔ اور یہی مسیح کی روح ہے، جو صلیب پر اپنے قاتلوں کے لیے دعا کرتا رہا اور آج بھی ہماری شفاعت کرتا ہے۔
آئینہ
آپ سے ایک سیدھا سوال۔ پچھلی بار آپ نے خدا سے یہ کہے بغیر، کہ "یہ میرے لیے کر دے"، کب کہا تھا: فرما، تیرا بندہ سنتا ہے؟
ہم شور کے عادی ہو چکے ہیں۔ فون صبح آنکھ کھلنے سے پہلے ہاتھ میں ہوتا ہے، اور رات اُس کی روشنی ہمیں سلاتی ہے۔ ہم دعا کو بھی ایک فہرست بنا لیتے ہیں جس میں بولنے کی جگہ بہت اور سننے کی جگہ بالکل نہیں۔ سموئیل اِس عادت پر انگلی رکھتا ہے۔ خدا کا کلام اُس زمانے میں بھی "کمیاب" تھا، مگر اصل مسئلہ خدا کی خاموشی نہیں، عیلی کے گھر کی بےپروائی تھی۔ خود سے پوچھیں: کیا میری زندگی میں کوئی ایسا وقت اور کوئی ایسی جگہ ہے جہاں میں خاموش ہو کر صحیفہ کھولتا ہوں اور سچ مچ جواب کا انتظار کرتا ہوں؟
دوسری چیز جو چُبھتی ہے وہ 1 سموئیل 15:22 ہے۔ ہم بھی قربانی کو فرمانبرداری کا متبادل بنانا جانتے ہیں۔ ہدیہ دیتے ہیں مگر حساب سیدھا نہیں کرتے۔ خدمت میں مصروف رہتے ہیں مگر گھر میں بیوی کے ساتھ بدزبانی باقی ہے۔ روزہ رکھتے ہیں مگر وہ معافی نہیں دیتے جو دینی ہے۔ خدا کو ہماری چربی نہیں، ہماری اطاعت چاہیے۔
اور تیسری بات، جو بہت لوگوں کو آزاد کرتی ہے: 1 سموئیل 16:7۔ آپ اپنی ظاہری صورت کے قیدی ہیں۔ آپ کا وزن، آپ کی تنخواہ، آپ کی ڈگری، آپ کے فالوورز، آپ کا نام کس محلے میں چلتا ہے۔ لوگوں نے آپ کو انہی پیمانوں سے ناپا اور کم نمبر دیے۔ مگر جو خدا آپ کا منصف ہے وہ دل پر نظر کرتا ہے، اور یہ بات دو طرح سے سچ ہے: وہ آپ کے چھپے گناہ کو بھی جانتا ہے، اور وہ آپ کے اُس خاموش ایمان کو بھی جانتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔ اگر آپ کا دل مسیح کے حوالے ہے، تو آپ کی قیمت کسی کے اندازے پر منحصر نہیں۔
آخر میں سب سے سخت سوال۔ کوئی ایک نام سوچیں جس کے لیے آپ نے دعا کرنا چھوڑ دی ہے کیونکہ وہ شخص بدلا نہیں، یا اُس نے آپ کو دُکھ دیا۔ سموئیل کی آواز آپ کے کان میں ہے: مجھ سے یہ ہرگز نہ ہو کہ میں دعا کرنا چھوڑ دوں۔ آج وہ نام پھر خدا کے سامنے رکھ دیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو سموئیل کی کہانی سنانا آسان ہے، کیونکہ وہ ایک بچے کی کہانی ہے۔ آپ یوں شروع کر سکتے ہیں: ایک امّی تھی جس کا دل بہت دُکھا ہوا تھا کیونکہ اُس کے گھر میں کوئی بچہ نہیں تھا۔ اُس نے خدا سے مانگا، اور خدا نے سن لیا، اور ایک بیٹا دیا جس کا نام سموئیل رکھا گیا۔ نام کا مطلب ہے: خدا نے سن لیا۔ پھر ایک رات، جب سموئیل خدا کے گھر میں سو رہا تھا، کسی نے اُس کا نام پکارا۔ اُسے پہلے پتا ہی نہیں چلا کہ یہ کون ہے، مگر جب اُسے سمجھ آئی تو اُس نے کہا: خداوند، بتائیے، میں سن رہا ہوں۔
اِس کے بعد دو سادہ باتیں بچوں کے دل میں ڈالیں۔ پہلی، خدا بچوں کی بات سنتا ہے اور بچوں سے بات بھی کرتا ہے؛ وہ ہمارے لیے "بڑے ہونے" کا انتظار نہیں کرتا۔ دوسری، سننا سیکھنا ہوتا ہے، اور ہم خدا کی آواز سب سے صاف کلام مقدس میں سنتے ہیں۔ آپ گھر میں مِصفاہ کے پتھر کی بات بھی کر سکتے ہیں: ایک چھوٹا پتھر لا کر اُس پر لکھ دیں کہ خدا نے ہماری مدد کی۔
چھوٹے بچوں کے لیے پیدائش اور بلاہٹ کی کہانی کافی ہے؛ بڑے بچوں کے لیے آپ ساؤل اور داؤد کا حصہ بھی جوڑ سکتے ہیں؛ اور نوجوانوں کے ساتھ "فرمانبرداری قربانی سے بہتر ہے" پر کھل کر گفتگو ہو سکتی ہے۔ ہماری سائٹ پر اِسی کہانی کی الگ الگ عمروں کے لیے وضاحتیں موجود ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے، سات سے بارہ سال کے لیے، اور بارہ سال سے اوپر کے نوجوانوں کے لیے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ کھولیں اور اُس کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سموئیل نبی کون تھے؟
سموئیل اسرائیل کے آخری قاضی اور نبیوں کے سلسلے کے پہلے بڑے نبی تھے، جو قاضیوں کے دور اور بادشاہت کے دور کے درمیان پُل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ اِفرائیم کے پہاڑی علاقے کے شہر رامہ سے تعلق رکھتے تھے، لاوی خاندان سے تھے، اور بچپن ہی سے سَیلا کے مقدِس میں عیلی کاہن کے زیرِ سایہ خداوند کی خدمت میں رکھے گئے۔ اُنہوں نے قوم کو توبہ کی طرف بلایا، فلستیوں سے نجات کے وقت شفاعت کی، ساؤل اور داؤد دونوں کا مسح کیا، اور ساری زندگی ایمانداری، دعا اور کلام کی سچی تعلیم کے لیے جانے گئے۔
سموئیل کے نام کا مطلب کیا ہے؟
عبرانی میں "شموئیل" کا مطلب عام طور پر "خدا نے سن لیا" یا "خدا سے مانگا گیا" سمجھا جاتا ہے، اور دونوں معنی اُن کی کہانی پر پورے اُترتے ہیں۔ حنّہ نے خود اِس نام کی وضاحت اپنی گواہی میں کی: "میں نے اِس لڑکے کے لیے دعا کی اور خداوند نے میری مراد جو میں نے اُس سے مانگی مجھے بخشی" (1 سموئیل 1:27)۔ یعنی یہ نام ہر بار پکارے جانے پر ایک ماں کی دعا اور ایک سننے والے خدا کی یاد دلاتا تھا۔ سموئیل کی ساری زندگی اِسی نام کی تفسیر بن گئی، کیونکہ جو مانگ کر ملا تھا، وہ خود سننے والا بندہ بن گیا۔
سموئیل کے والدین کون تھے؟
اُن کے باپ القانہ تھے، جو رامتائم صوفیم کے رہنے والے اور لاوی نسل سے تھے، اور ماں حنّہ تھیں۔ القانہ کی دو بیویاں تھیں، حنّہ اور فِنّہ، اور فِنّہ کے بچے تھے مگر حنّہ بےاولاد تھی، جس پر اُسے طعنے سہنے پڑتے تھے۔ حنّہ نے سَیلا میں خداوند سے منّت مانی کہ اگر بیٹا ملے تو وہ اُسے عمر بھر خداوند کے لیے وقف کر دے گی۔ دودھ چھڑانے کے بعد وہ اپنا وعدہ پورا کرنے لے آئی، اور ہر سال اپنے بیٹے کے لیے ایک چھوٹا کُرتا بنا کر لاتی رہی۔ بعد میں خدا نے اُسے مزید اولاد بھی عطا فرمائی۔
کیا سموئیل کاہن تھے، نبی تھے یا قاضی؟
تینوں کرداروں کے پہلو اُن کی زندگی میں ملتے ہیں، اور یہی اُنہیں منفرد بناتا ہے۔ وہ لاوی نسل سے تھے اور بچپن سے مقدِس میں کتان کا اِفود پہن کر خدمت کرتے رہے، اور بعد میں قربانی گزراننے اور قوم کے لیے شفاعت کرنے میں کاہنانہ کام کیا۔ وہ قاضی تھے، کیونکہ بیت ایل، جِلجال، مِصفاہ اور رامہ کے دورے کر کے اسرائیل کا انصاف کرتے رہے۔ اور وہ نبی تھے، کیونکہ خداوند اُن پر اپنا کلام ظاہر کرتا تھا اور اُن کی کوئی بات خالی نہ جاتی تھی۔ اِن تینوں خدمتوں کا کامل مجموعہ آگے چل کر صرف خداوند یسوع مسیح میں پورا ہوا۔
خدا نے سموئیل کو رات کے وقت کیوں پکارا؟
صحیفہ وجہ نہیں بتاتا، مگر منظر خود بولتا ہے۔ اُس دور میں "خداوند کا کلام کمیاب تھا" (1 سموئیل 3:1)، کاہن کا گھرانہ بدعنوان تھا، اور قوم روحانی اندھیرے میں تھی۔ خدا نے شور اور دن کی ہلچل میں نہیں بلکہ خاموشی میں، اور کسی بڑے عہدے دار سے نہیں بلکہ ایک لڑکے سے بات کی۔ تین بار پکارنے کے بعد جب سموئیل نے جواب دیا، "فرما کہ تیرا بندہ سنتا ہے" (1 سموئیل 3:10)، تو خدا نے اُسے ایک بھاری پیغام سونپا۔ سبق واضح ہے: خدا عہدوں کے بجائے سننے والے دلوں کے ذریعے کام کرتا ہے۔
اگر بادشاہ مانگنا غلط تھا تو سموئیل نے ساؤل کا مسح کیوں کیا؟
قوم کی مانگ کا انداز غلط تھا، کیونکہ وہ "اَور سب قوموں کی مانند" ہونا چاہتے تھے اور درحقیقت خدا کی بادشاہی کو رد کر رہے تھے۔ مگر خدا نے سموئیل کو حکم دیا کہ اُن کی بات مان لے، اور ساتھ ہی اُنہیں بادشاہت کی قیمت صاف بتا دے۔ سموئیل نے اطاعت کی، ساؤل کا مسح کیا، اور پھر اپنی الوداعی تقریر میں قوم کو نصیحت کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ وہ اُن کے لیے دعا کرنا نہیں چھوڑے گا (1 سموئیل 12:23)۔ خدا نے اسرائیل کی ضد کو بھی اپنے منصوبے میں پرویا اور آگے داؤد کے گھرانے سے مسیح کو بھیجا۔
"فرمانبرداری قربانی سے بہتر ہے" کا مطلب کیا ہے؟
ساؤل نے عمالیقیوں کے بہترین جانور بچا لیے اور دلیل دی کہ وہ اُنہیں خداوند کے لیے قربان کرے گا۔ سموئیل کا جواب تھا: "دیکھ فرمانبرداری قربانی سے اور بات ماننا مینڈھوں کی چربی سے بہتر ہے" (1 سموئیل 15:22)۔ مطلب یہ نہیں کہ قربانیاں بےکار تھیں، بلکہ یہ کہ مذہبی رسم کبھی نافرمانی کا کفارہ نہیں بن سکتی۔ خدا پہلے دل اور اطاعت چاہتا ہے، پھر ہدیہ۔ آج بھی یہ آیت ہر اُس روحانی مصروفیت پر سوال کرتی ہے جو واضح حکم کی خلاف ورزی کو ڈھانپنے کے لیے استعمال ہو۔
سموئیل کے بیٹے کیوں بگڑ گئے؟
بائبل کھل کر بتاتی ہے کہ سموئیل کے بیٹے یوایل اور ابیاہ اپنے باپ کی راہوں پر نہ چلے بلکہ ناجائز نفع کے پیچھے لگے، رشوت لی اور انصاف بگاڑا، اور یہی قوم کے بادشاہ مانگنے کا بہانہ بنا۔ صحیفہ وجہ نہیں بتاتا اور نہ سموئیل پر عیلی جیسی صریح ملامت کرتا ہے، مگر یہ تلخ حقیقت ہمیں دو باتیں سکھاتی ہے۔ پہلی، خدا کا سچا بندہ ہونا اِس کی ضمانت نہیں کہ اولاد خودبخود ایمان میں چلے گی۔ دوسری، ہر نسل کو خدا کی آواز خود سننی اور ماننی پڑتی ہے؛ وراثت میں ایمان نہیں ملتا۔
کیا عین دور کی جادوگرنی کے ذریعے واقعی سموئیل واپس آئے؟
1 سموئیل 28 میں متن یہی کہتا ہے کہ سموئیل ظاہر ہوئے اور ساؤل کو ایک سچا اور خوفناک پیغام سنایا۔ بہت سے وفادار مفسرین سمجھتے ہیں کہ یہ جادوگرنی کی طاقت نہیں بلکہ خدا کا ایک غیرمعمولی اور عدالتی عمل تھا، کیونکہ جادوگرنی خود حیران رہ گئی تھی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ واقعہ روح بلانے کی اجازت ہرگز نہیں دیتا؛ شریعت ایسے کاموں کو سخت منع کرتی ہے (استثنا 18:10-12)، اور ساؤل کی یہ آخری کوشش اُسی رات اُس کے انجام کی مہر بن گئی۔ ہمیں مُردوں سے نہیں، زندہ خدا کے کلام سے ہدایت لینی ہے۔
سموئیل کی وفات کب ہوئی اور اُنہیں کہاں دفن کیا گیا؟
1 سموئیل 25:1 بتاتا ہے کہ سموئیل کی وفات پر سارا اسرائیل جمع ہوا، اُس پر ماتم کیا، اور اُسے اُس کے اپنے شہر رامہ میں دفن کیا گیا۔ یہ داؤد کی جلاوطنی کے زمانے میں اور ساؤل کی موت سے کچھ پہلے کا واقعہ ہے۔ قوم کا اجتماعی سوگ خود ایک گواہی ہے: جس بوڑھے نبی کی نصیحت اُنہوں نے کئی بار ٹھکرائی تھی، اُس کی ایمانداری سے وہ سب واقف تھے۔ اُس نے نہ کسی کا مال لیا، نہ رشوت، اور ساری عمر قوم کے لیے دعا کرتا رہا۔
سموئیل اور خداوند یسوع مسیح میں کیا تعلق ہے؟
سموئیل مسیح کا سایہ ہے۔ وہ نبی تھا جس کے ذریعے خدا بولا، کاہن کی طرح قوم کے لیے شفاعت کرتا تھا، اور بادشاہ کا مسح کرنے والا تھا؛ خداوند یسوع ہی وہ کامل نبی، کاہن اور بادشاہ ہیں جن میں یہ تینوں خدمتیں پوری ہوئیں۔ حنّہ کا گیت مریم کے گیت کی پیشوائی کرتا ہے، اور سموئیل کے ہاتھوں داؤد کا مسح اُس نسل کی طرف اشارہ ہے جس سے مسیح آئے۔ پطرس اعمال 3:24 میں کہتا ہے کہ سموئیل اور اُس کے بعد کے نبیوں نے اِن ہی دنوں کی خبر دی، اور عبرانیوں 11:32 اُس کا نام ایمان کے گواہوں میں گِنتا ہے۔
آج ہم خدا کی آواز کیسے پہچان سکتے ہیں جیسے سموئیل نے پہچانی؟
سموئیل کو بھی پہلی بار پہچان نہ ہوئی؛ اُسے سکھایا گیا۔ آج ہمارے لیے خدا کی آواز کی سب سے یقینی جگہ کلام مقدس ہے، کیونکہ وہی روح جو نبیوں سے بولا، اُسی کلام کے ذریعے ہمارے دل میں کام کرتا ہے۔ عملی طور پر اِس کا مطلب ہے صحیفے کی باقاعدہ پڑھائی، خاموشی اور دعا کا وقت، مقامی کلیسیا میں صحیح تعلیم، اور پکے ایمانداروں کا مشورہ۔ ہر اندرونی خیال خدا کی آواز نہیں ہوتا؛ جو بات صحیفے کے خلاف ہو، وہ خدا کی طرف سے نہیں۔ دعا میں کہیں: فرما، تیرا بندہ سنتا ہے، اور پھر سننے کی عادت ڈالیں۔
اختتام میں
سموئیل کی پوری زندگی دو حرکتوں میں سمٹی ہوئی ہے: کان خدا کی طرف، اور ہاتھ لوگوں کے لیے اُٹھے ہوئے۔ وہ دعا سے ملا، سننے کے لیے بلایا گیا، اور آخر دم تک اُن کے لیے دعا کرتا رہا جنہوں نے اُسے رد کیا۔ اُس کے پاس تاج نہیں تھا، فوج نہیں تھی، اور اُس کا گھر بھی زخموں سے خالی نہ تھا؛ مگر خدا نے اُسی کے ذریعے ایک قوم کی تاریخ موڑ دی اور داؤد کے گھرانے کا راستہ کھولا، جس سے ہمارا نجات دہندہ آیا۔
اگر آپ اِس صفحے سے کوئی ایک چیز لے جانا چاہتے ہیں تو وہ مِصفاہ کا پتھر ہو: "یہاں تک خداوند نے ہماری مدد کی" (1 سموئیل 7:12)۔ اور اگر کوئی ایک دعا سیکھنی ہو تو وہ سَیلا کی رات کی دعا ہو: فرما، تیرا بندہ سنتا ہے۔
آگے پڑھنے کے لیے 1 سموئیل کے باب 1 سے 16 کو ترتیب سے، ایک ایک باب روزانہ پڑھیں اور ہر باب کے بعد صرف ایک سوال لکھیں: اِس باب میں خدا نے مجھ سے کیا کہا؟ ساتھ ہی حنّہ کے گیت کو لوقا 1 کے ساتھ ملا کر پڑھیں، اور عبرانیوں 11 میں سموئیل کے نام پر رُک کر خدا کا شکر کریں کہ وہ کمزور لوگوں کے ایمان کو بھی یاد رکھتا ہے۔
