پَیدایش 1:26
متن
تخلیق کے چھٹے دن، جانوروں کو بنانے کے بعد، اللہ کا کلام اچانک اپنا لہجہ بدل دیتا ہے۔ اب تک حکم باہر کی طرف جاتا تھا: "روشنی ہو جائے"، "زمین ہریاول پیدا کرے"۔ لیکن یہاں کلام گویا اپنے اندر کی طرف مڑتا ہے: ”آؤ اب ہم انسان کو اپنی صورت پر بنائیں، وہ ہم سے مشابہت رکھے۔“ اور فوراً اِس صورت کے ساتھ ایک ذمہ داری جوڑ دی جاتی ہے: یہ انسان سمندر کی مچھلیوں، ہَوا کے پرندوں، مویشیوں، جنگلی جانوروں اور رینگنے والے جانداروں پر حکومت کرے۔ یعنی آیت دو باتیں ایک ساتھ کہتی ہے: انسان کون ہے، اور انسان کو کیا کرنا ہے۔ شناخت اور مشن، ایک ہی سانس میں۔
مرکزی نکتہ
قدیم مشرقِ وسطیٰ میں "صورت" کوئی فلسفیانہ اصطلاح نہیں تھی۔ بادشاہ اپنی سلطنت کے دُور دراز صوبوں میں اپنا مجسمہ نصب کرتا تھا تاکہ لوگ دیکھیں کہ یہاں کس کی حکومت ہے۔ صورت نمائندگی تھی، موجودگی کا اعلان۔ پیدایش اِس شاہی زبان کو لے کر اُسے حیران کن طور پر عام کر دیتی ہے: ہر انسان، نہ کہ صرف فرعون یا شہنشاہ، زمین پر خدا کا نصب کردہ نشان ہے۔ اِسی لیے حکومت کرنے کا حکم لُوٹ کھسوٹ کا اجازت نامہ نہیں بلکہ ایک نمائندے کی پابندی ہے: تم ویسے ہی راج کرو گے جیسے وہ کرتا ہے جس کی تم صورت ہو۔ اور وہ چھ دن سے دے رہا ہے، چھین نہیں رہا۔ انسان کی عزت اُس کی قابلیت میں نہیں، بلکہ اِس میں ہے کہ خدا نے اُسے اپنے ساتھ جوڑ دیا۔
مشترکہ دھاگا
یہ آیت پوری بائبل میں ایک تناؤ کھول دیتی ہے جو صرف مسیح میں حل ہوتا ہے۔ انسان خدا کی صورت پر بنایا گیا، مگر اگلے ہی باب میں وہ صورت دھندلا جاتی ہے: جو نمائندہ تھا وہ باغی بن گیا، جو دیکھ بھال کے لیے مقرر ہوا تھا وہ قابیل بن کر خون بہاتا ہے۔ حکومت کا حکم باقی رہتا ہے، مگر حکومت کرنے والا ٹوٹ چکا ہے۔ نیا عہدنامہ اِسی خلا میں مسیح کو رکھتا ہے اور اُسے "اَن دیکھے خدا کی صورت" کہتا ہے (کلسیوں 1:15)۔ یعنی جو کچھ آدم کو ہونا تھا، وہ ہے: خدا کا سچا مجسمہ، زمین پر اُس کی موجودگی کا مکمل اعلان۔ اور وہ حکومت بھی اُسی طرح کرتا ہے جیسے پیدایش 1 کا خدا کرتا ہے، دیتے ہوئے، نہ کہ چھینتے ہوئے: بیماروں کو چھوتے ہوئے، طوفان کو خاموش کرتے ہوئے، اور آخرکار صلیب پر جان دیتے ہوئے۔ تخلیق کا چھٹا دن مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے، اور مسیح چھٹے دن کو پورا کرتا ہے۔
آئینہ
جس لمحے آپ یہ مانتے ہیں کہ آپ خدا کی صورت ہیں، آپ کی زندگی کے چھوٹے چھوٹے اختیار سوال بن جاتے ہیں۔ دفتر کا وہ ماتحت جس سے آپ ذرا تیز لہجے میں بات کرتے ہیں کیونکہ وہ جواب نہیں دے سکتا۔ گھر کی ملازمہ۔ وہ بچہ جس کی رائے آپ سنتے ہی نہیں کیونکہ آپ تھکے ہوئے ہیں۔ وہ بوڑھے والدین جن کا وقت آپ کے کیلنڈر میں سب سے آخر میں آتا ہے۔ پیدایش کہتی ہے کہ اختیار بذاتِ خود بُرا نہیں؛ خدا نے خود دیا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ آپ اُس کی نقل کر رہے ہیں یا اپنی خواہش کی۔ اور دوسری طرف وہ خوف بھی یہیں ٹوٹتا ہے کہ "میں کسی کام کا نہیں"۔ آپ کی قیمت آپ کی کارکردگی نے نہیں، خدا کے فیصلے نے طے کی ہے۔ آج ہی اُس ایک شخص کا نام کاغذ پر لکھیں جس پر آپ کا کوئی اختیار ہے، اور اُسے ایک مختصر پیغام بھیجیں جس میں آپ اُس کے کسی کام کا شکریہ ادا کریں۔
ایک باریک بات
”آؤ اب ہم انسان کو اپنی صورت پر بنائیں۔“ یہ جمع کا صیغہ آیت کا سب سے زیادہ بحث طلب لفظ ہے، اور متن خود اِسے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ کچھ لوگ اِسے آسمانی دربار سے خطاب سمجھتے ہیں، کچھ اِسے شاہی گفتگو کا انداز۔ مگر ایک بات صاف ہے: خدا اکیلا بول رہا ہے اور پھر بھی "ہم" کہتا ہے، گویا اُس کی ذات میں کوئی مشورہ، کوئی رشتہ، کوئی اندرونی گہرائی ہے۔ ساتویں آیت تک آتے آتے اگلی آیت فیصلہ سنا دیتی ہے: ”اُس نے اُنہیں مرد اور عورت بنایا۔“ یعنی خدا کی صورت تنہا فرد میں نہیں بلکہ رشتے میں جھلکتی ہے۔ جو خدا خود میں مشورہ کرتا ہے، وہ ایسی مخلوق بناتا ہے جو اکیلے مکمل نہیں ہوتی۔
مرکزی کردار
اِس آیت کا اصل کردار خدا ہی ہے، اور یہاں اُس کا پورٹریٹ بدل جاتا ہے۔ پہلے پچیس آیتوں میں وہ حکم دیتا ہے اور چیزیں وجود میں آ جاتی ہیں: ایک فاصلہ، ایک شاہی سکون۔ چھبیسویں آیت میں وہ رُکتا ہے۔ وہ مشورہ کرتا ہے۔ وہ کسی ایسی چیز کے بارے میں سوچتا ہے جو اُس سے "مشابہت" رکھے گی۔ یہ وہ خدا نہیں جو کائنات بنا کر پیچھے ہٹ جائے؛ یہ وہ خدا ہے جو اپنی تصویر دنیا میں رکھنا چاہتا ہے، جو اپنا اختیار بانٹنے سے نہیں ڈرتا، جو کمزور مخلوق کے ہاتھ میں سمندر اور آسمان کی دیکھ بھال سونپ دیتا ہے۔ یہ خطرہ مول لینا ہے، اور آخرکار اِسی خدا نے مجسم ہو کر خود وہ صورت پہن لی جو انسان نے خراب کی تھی۔
دیگر صحائف کی گونج
زبور 8 اِسی آیت کو حیرت میں بدل دیتا ہے: انسان کیا ہے کہ تُو اُسے یاد کرے، اور پھر بھی تُو نے سب کچھ اُس کے قدموں تلے کر دیا؟ مگر عبرانیوں 2 ایمانداری سے مانتا ہے کہ ہم ابھی سب چیزوں کو انسان کے تابع نہیں دیکھتے؛ ہم صرف ایک کو دیکھتے ہیں، یسوع کو، جسے موت سہنے کے سبب جلال کا تاج پہنایا گیا۔ یہی بائبل کا سچا جواب ہے: پیدایش 1 کا وعدہ آدم کی اولاد میں ٹوٹا، مگر ابنِ آدم میں پورا ہوا۔ اور جو اُس کے ہیں، اُن میں وہ صورت دوبارہ بحال کی جا رہی ہے، دن بہ دن، صبر کے ساتھ، اُسی خدا کے ہاتھوں جس نے پہلے دن اندھیرے میں کہا تھا کہ روشنی ہو جائے۔
غور و فکر کے سوالات
آپ کے پاس جو تھوڑا سا اختیار ہے، اُس میں آپ کس کی نقل کر رہے ہیں: پیدایش 1 کے دینے والے خدا کی، یا اُن حاکموں کی جن سے آپ خود تنگ آ چکے ہیں؟
اگر مسیح خدا کی سچی صورت ہے، تو اِس ہفتے آپ کے کسی ایک ٹھوس فیصلے میں اُس کی مشابہت کہاں نظر آنی چاہیے؟
Genesis 1:26 کے بارے میں اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اس بائبل کے حوالے کے بارے میں عام سوالات کے مختصر جوابات۔
پَیدایش 1:26 کا کیا مطلب ہے؟
پَیدایش 1:26 کس بارے میں ہے؟
پَیدایش 1:26 کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟
پَیدایش 1:26 ہمیں خدا کی ذات کے بارے میں کیا سکھاتا ہے؟
پَیدایش 1:26 آج بھی کیسے موزوں ہے؟
Genesis 1 میں آپ کے دل کو کیا چھوتا ہے؟
اِس حوالے پر ابھی تک کوئی بصیرت شیئر نہیں کی گئی۔ پہلے ہوں جو کچھ چھوڑے: بصیرت، دعا یا شکرگزاری۔
اس حوالے کو مختلف سطح پر دیکھیں
ابتدائی، عالمِ دین، یا مختلف طوالت؟ ترتیبات تبدیل کریں اور اپنا نسخہ بنائیں۔
مطالعے کے ٹول میں کھولیں