یوحنا کی انجیل کا تعارف اور پیغام
تعارف
ایک بوڑھا آدمی، شاید افسس کے کسی کمرے میں، قلم پکڑے بیٹھا ہے۔ اُس نے ساٹھ سال پہلے وہ ہاتھ دیکھے تھے جنہوں نے مٹی سے ایک اندھے کی آنکھیں کھولی تھیں۔ اُس نے وہ آواز سنی تھی جس نے قبر کے اندھیرے میں پکارا اور ایک مُردہ باہر نکل آیا۔ اب اُس کے گرد کلیسیا ہے جو ستائی جا رہی ہے، عبادت خانوں سے نکالی جا رہی ہے، اور کچھ لوگ کہنے لگے ہیں کہ مسیح شاید سچ مچ جسم میں آیا ہی نہیں تھا۔ وہ لکھنا شروع کرتا ہے، اور پہلا جملہ کسی کہانی کی طرح نہیں بلکہ کسی عدالت میں پہلی گواہی کی طرح گونجتا ہے: "ابتدا میں کلام تھا۔"
اِس صفحے پر آپ یوحنا کی انجیل کو ایک نئے زاویے سے دیکھیں گے: مصنف، تاریخ، ساخت، بنیادی موضوعات، اہم آیات، اور آخر میں ایک عملی رہنمائی جس سے آپ خود اِس کتاب کو پڑھ سکیں۔
اس رہنما کا زاویہ
یوحنا کی انجیل کوئی سوانح عمری نہیں، یہ ایک عدالت کی کارروائی ہے۔ اِس کتاب میں "گواہی" اور "گواہ" کے الفاظ بار بار آتے ہیں، گواہ ایک ایک کر کے کٹہرے میں کھڑے ہوتے ہیں، ثبوت کے طور پر نشان پیش کیے جاتے ہیں، الزامات لگتے ہیں، اور آخر میں فیصلہ سنایا جاتا ہے۔ مگر سب سے حیران کن بات یہ ہے کہ منصف خود ملزم کے کٹہرے میں آ کھڑا ہوتا ہے اور ہماری سزا اپنے اوپر لے لیتا ہے۔ اور اِس مقدمے میں جیوری کی کرسی خالی رکھی گئی ہے، وہ کرسی پڑھنے والے کے لیے ہے۔ یوحنا آپ کو معلومات نہیں دے رہا، وہ آپ سے فیصلہ مانگ رہا ہے۔
بائبل یوحنا کی انجیل کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
سب سے پہلے یہ سمجھ لیجیے کہ یوحنا نے خود اپنی کتاب کا مقصد بیان کر دیا ہے۔ بیس باب لکھنے کے بعد وہ رُکتا ہے اور کہتا ہے: "لیکن یہ اِس لیے لکھے گئے ہیں کہ تم ایمان لاؤ کہ یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی پاؤ" (یوحنا 20:31)۔ یہ جملہ پوری کتاب کی چابی ہے۔ یوحنا کوئی غیر جانبدار مؤرخ نہیں بننا چاہتا؛ وہ ایک گواہ ہے جو چاہتا ہے کہ عدالت میں بیٹھا شخص قائل ہو جائے۔ لفظ "لکھے گئے ہیں" سے پہلے وہ کہتا ہے کہ یسوع نے اور بھی بہت سے نشان دکھائے جو اِس کتاب میں نہیں لکھے گئے۔ یعنی جو کچھ لکھا گیا، وہ چُن کر لکھا گیا: یہ منتخب شہادت ہے، بے ترتیب یادداشت نہیں۔
اور شہادت کا آغاز کہاں سے ہوتا ہے؟ وقت کے شروع سے بھی پہلے۔ "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا" (یوحنا 1:1)۔ متی ابراہام سے شروع کرتا ہے، لوقا آدم تک جاتا ہے، مرقس یردن کے کنارے سے آغاز کرتا ہے، مگر یوحنا ازل میں جا کھڑا ہوتا ہے۔ "کلام" یعنی یونانی میں لوگوس، وہ لفظ جو یونانی فلسفے میں کائنات کی ترتیب دینے والی عقل کے لیے استعمال ہوتا تھا اور عبرانی سوچ میں خدا کا وہ کلام تھا جس سے آسمان بنے۔ یوحنا دونوں دنیاؤں کے سامنے ایک ہی دعویٰ رکھتا ہے: وہ کلام کوئی طاقت یا اصول نہیں، ایک شخص ہے، اور وہ شخص خدا ہے۔ پھر وہ چودھویں آیت میں ایسا جھٹکا دیتا ہے جس کے لیے کوئی تیار نہیں تھا: "اور کلام مجسم ہوا اور فضل اور سچائی سے معمور ہو کر ہمارے درمیان رہا اور ہم نے اُس کا ایسا جلال دیکھا جیسا باپ کے اکلوتے کا جلال" (یوحنا 1:14)۔
اِس عدالت میں محبت ہی وہ محرک ہے جس نے سب کچھ حرکت میں لایا۔ "کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے" (یوحنا 3:16)۔ غور کیجیے، یہ آیت نیکدیمس سے ہونے والی رات کی گفتگو کا حصہ ہے، اور اُس گفتگو کا موضوع نئے سرے سے پیدا ہونا ہے۔ خدا کی محبت ہمیں بہتر انسان بنانے نہیں آئی، وہ ہمیں نئی زندگی دینے آئی ہے۔
اور یہ زندگی کسی کم درجے کی زندگی نہیں۔ "چور نہیں آتا مگر چُرانے اور مار ڈالنے اور ہلاک کرنے کو۔ میں اِس لیے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں" (یوحنا 10:10)۔ یہاں مسیح اپنے آپ کو اُن جھوٹے رہنماؤں کے مقابل رکھتا ہے جو ریوڑ سے لیتے ہیں مگر دیتے کچھ نہیں۔ اُس کی گواہی صرف الفاظ کی نہیں، قربانی کی ہے: اچھا چرواہا بھیڑوں کے لیے اپنی جان دیتا ہے۔
یوحنا آپ کو قائل کرنا چاہتا ہے، محض مطلع کرنا نہیں۔
اِسی لیے یسوع کے دعوے اِس انجیل میں اِتنے دو ٹوک ہیں۔ "یسوع نے پھر اُن سے مخاطب ہو کر کہا کہ دنیا کا نور میں ہوں۔ جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا بلکہ زندگی کا نور پائے گا" (یوحنا 8:12)۔ اور جب توما پوچھتا ہے کہ ہم راستہ کیسے جانیں، تو جواب آتا ہے: "یسوع نے اُس سے کہا راہ اور حق اور زندگی میں ہوں۔ کوئی میرے وسیلہ کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا" (یوحنا 14:6)۔ یہ جملے کسی معلمِ اخلاق کے نہیں ہو سکتے۔ یا تو یہ سچ ہیں، یا سب سے بڑا دعویٰ جو کسی نے کیا۔ عدالت میں بیٹھے قاری کو درمیانی راستہ نہیں دیا گیا۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یوحنا کی پہلی دو لفظیں پرانے عہد نامے کی پہلی دو لفظوں کی گونج ہیں۔ پیدایش کہتی ہے کہ ابتدا میں خدا نے آسمان اور زمین کو پیدا کیا؛ یوحنا کہتا ہے کہ ابتدا میں کلام تھا۔ پہلی تخلیق میں خدا نے کہا کہ روشنی ہو جائے، اور یوحنا کے پہلے باب میں وہی روشنی اندھیرے میں چمکتی ہے۔ گویا یوحنا اعلان کر رہا ہے کہ مسیح میں نئی تخلیق شروع ہو چکی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اِس انجیل میں یسوع پہلے ہفتے کے پہلے دن قبر سے جی اُٹھتا ہے اور باغ میں ملتا ہے، ایک نئے عدن کے باغ میں۔
پھر خروج کی کتاب کا پورا سفر اِس انجیل کے صفحات پر دوبارہ چلتا ہے۔ یوحنا اصطباغی اُس کی طرف اشارہ کر کے کہتا ہے: "دیکھو یہ خدا کا برّہ ہے جو دنیا کا گناہ اُٹھا لے جاتا ہے" (یوحنا 1:29)، اور کتاب کے آخر میں مسیح عین اُس وقت صلیب پر ہوتا ہے جب فسح کے برّے ذبح کیے جا رہے ہوتے ہیں۔ بیابان میں لوگوں نے مَن کھایا تھا؛ یسوع کہتا ہے کہ زندگی کی روٹی وہ خود ہے۔ موسیٰ نے بیابان میں پیتل کا سانپ اونچے پر لٹکایا تھا؛ یسوع نیکدیمس سے کہتا ہے کہ اِسی طرح ابنِ آدم کا اونچے پر چڑھایا جانا ضرور ہے۔ عیدِ خیام پر ہیکل میں روشنی جلائی جاتی تھی اور آبِ رواں اُنڈیلا جاتا تھا، اور عین اُنہی دنوں میں یسوع کھڑے ہو کر کہتا ہے کہ زندہ پانی اور دنیا کا نور وہی ہے۔
سب سے گہری تار وہ ہے جو خروج 3 سے جُڑی ہے۔ جلتی جھاڑی میں سے خدا نے موسیٰ سے فرمایا تھا کہ میرا نام "میں جو ہوں سو میں ہوں" ہے۔ یوحنا کی انجیل میں یسوع سات مرتبہ "میں ہوں" کہہ کر اپنے بارے میں ایک تصویر دیتا ہے، اور کئی بار بغیر کسی اضافے کے صرف "میں ہوں" کہتا ہے، اور اُس کے سننے والے پتھر اُٹھا لیتے ہیں کیونکہ وہ سمجھ گئے کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔
اور انبیا؟ حزقی ایل نے اُن جھوٹے چرواہوں پر ماتم کیا تھا جو ریوڑ کو کھا جاتے ہیں اور وعدہ دیا تھا کہ خداوند خود اپنی بھیڑوں کا چرواہا ہو گا؛ یوحنا 10 میں وہ چرواہا نام لے کر بھیڑوں کو بلاتا ہے۔ یسعیاہ اور زبور میں اسرائیل کو خدا کا انگور کا باغ کہا گیا جس نے پھل نہ دیا؛ یسوع کہتا ہے کہ حقیقی انگور کا درخت وہ خود ہے۔ زکریاہ نے لکھا کہ وہ اُس پر نظر کریں گے جسے اُنہوں نے چھیدا؛ یوحنا صلیب کے نیچے کھڑا یہ آیت دہراتا ہے۔ اِسی لیے یسوع خود فرماتا ہے: "تم کتابِ مقدس میں ڈھونڈتے ہو کیونکہ سمجھتے ہو کہ اُس میں ہمیشہ کی زندگی تمہیں ملتی ہے اور یہ وہ ہے جو میری گواہی دیتی ہے" (یوحنا 5:39)۔ پرانا عہد نامہ اِس عدالت میں سب سے پرانا گواہ ہے، اور اُس کی ساری گواہی ایک ہی شخص کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
مصنف، تاریخ اور پس منظر
یہ انجیل اپنے مصنف کا نام کھل کر نہیں بتاتی۔ اِس کے بجائے وہ ایک عجیب لقب استعمال کرتی ہے: "وہ شاگرد جسے یسوع پیار کرتا تھا"۔ یہ شخص آخری کھانے پر یسوع کے سینے کے قریب ٹیک لگائے بیٹھا ہے، صلیب کے نیچے کھڑا ہے جہاں مسیح اپنی ماں کو اُس کے سپرد کرتا ہے، خالی قبر تک دوڑ کر جاتا ہے، اور جھیل کے کنارے سب سے پہلے پہچانتا ہے کہ یہ خداوند ہے۔ اکیسویں باب کے آخر میں کلیسیا کی آواز شامل ہو جاتی ہے: یہی وہ شاگرد ہے جو اِن باتوں کی گواہی دیتا ہے اور جس نے یہ لکھیں، اور ہم جانتے ہیں کہ اُس کی گواہی سچی ہے۔
ابتدائی کلیسیا نے تقریباً یک آواز ہو کر اِس شاگرد کو یوحنا بن زبدی، یعقوب کے بھائی، کے طور پر پہچانا۔ ایرینیئس، جو پولی کارپ کا شاگرد تھا اور پولی کارپ خود یوحنا کا سننے والا تھا، لکھتا ہے کہ یوحنا نے یہ انجیل افسس میں شائع کی۔ متن کے اندرونی شواہد بھی اِسی طرف اشارہ کرتے ہیں: مصنف یہودی رسوم، عیدوں، فسلطین کی جغرافیائی تفصیلات اور یروشلم کے حوضوں کے ناموں سے ایسی واقفیت رکھتا ہے جو کسی دور بیٹھے مصنف کے پاس نہیں ہو سکتی، اور وہ چھوٹی چھوٹی تفصیلات بتاتا ہے جو صرف عینی شاہد یاد رکھتا ہے: وقت کیا تھا، کتنے مٹکے تھے، مچھلیاں کتنی تھیں۔
تاریخ کے بارے میں عام رائے یہ ہے کہ یہ انجیل 85 سے 95 عیسوی کے درمیان لکھی گئی، یعنی باقی تین انجیلوں کے کافی بعد۔ کچھ علما اِس سے پہلے کی تاریخ کے حق میں دلیل دیتے ہیں، کیونکہ یوحنا 5:2 میں بیت حسدا کے حوض کا ذکر حالِ حاضر میں ہوتا ہے۔ جو بات یقینی ہے وہ یہ ہے کہ مصر میں ملنے والا رائلنڈز پیپائرس، جو دوسری صدی کے اوائل کا ہے اور جس پر یوحنا 18 کے چند جملے لکھے ہیں، ثابت کرتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد اور بہت دور تک پھیل چکی تھی۔
پس منظر سمجھ لیجیے تو کتاب کھل جاتی ہے۔ اُس وقت مسیح پر ایمان لانے والے یہودیوں کو عبادت خانوں سے خارج کیا جا رہا تھا، اور یوحنا تین بار اِس خوف کا ذکر کرتا ہے۔ ساتھ ہی کچھ حلقے یہ سکھانے لگے تھے کہ جسم گندا ہے اور خدا کا کلام سچ مچ گوشت پوست نہیں بن سکتا۔ اِسی لیے یوحنا اتنے زور سے لکھتا ہے کہ کلام مجسم ہوا، کہ یسوع تھک کر کنویں پر بیٹھا، کہ وہ لعزر کی قبر پر رویا، کہ صلیب پر اُس کے پہلو سے خون اور پانی بہا۔ یہ کتاب ایک ستائی ہوئی، الجھی ہوئی جماعت کے ہاتھ میں تھمائی گئی گواہی ہے تاکہ اُن کا ایمان قائم رہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
اگر آپ اِس انجیل کو ایک عدالتی مقدمہ سمجھ کر پڑھیں تو اِس کی ساخت خود بخود واضح ہو جاتی ہے۔ پہلے اٹھارہ آیتوں کا دیباچہ (یوحنا 1:1 تا 18) عدالت کے آغاز میں پڑھا جانے والا وہ بیان ہے جو بتاتا ہے کہ ملزم اصل میں کون ہے: ازلی کلام، خالق، نور، مجسم خدا۔ باقی پوری کتاب اِسی دیباچے کو ثابت کرتی ہے۔
اِس کے بعد نشانوں کی کتاب آتی ہے (یوحنا 1:19 تا 12:50)۔ یہاں شہادتیں پیش کی جاتی ہیں۔ گواہ ایک ایک کر کے سامنے آتے ہیں: یوحنا اصطباغی، پہلے شاگرد، سامری عورت، شفا پانے والے، خود باپ، مقدس نوشتے، اور سب سے بڑھ کر وہ کام جو یسوع کرتا ہے۔ یوحنا معجزوں کو "معجزہ" نہیں بلکہ "نشان" کہتا ہے، کیونکہ نشان اپنی جگہ کھڑا نہیں رہتا، وہ کسی اور طرف اشارہ کرتا ہے۔ قانا میں پانی سے مے، شاہی ملازم کے بیٹے کی شفا، بیت حسدا کے مفلوج کا کھڑا ہونا، پانچ ہزار کو کھلانا، جھیل پر چلنا، پیدائشی اندھے کی آنکھوں کا کھلنا، اور لعزر کا قبر سے نکلنا۔ سات نشان، اور ہر نشان کے بعد اکثر ایک لمبی گفتگو جو اُس نشان کا مطلب کھولتی ہے۔ روٹی کے بعد وہ کہتا ہے کہ زندگی کی روٹی میں ہوں؛ اندھے کی آنکھیں کھولنے سے پہلے وہ کہتا ہے کہ دنیا کا نور میں ہوں؛ لعزر کی قبر پر وہ کہتا ہے کہ قیامت اور زندگی میں ہوں۔
بارھویں باب کے آخر میں مقدمے کا پہلا حصہ بند ہو جاتا ہے اور ایک اداس فیصلہ سنایا جاتا ہے: اُس نے اُن کے سامنے اِتنے نشان دکھائے پھر بھی وہ اُس پر ایمان نہ لائے۔ اب پردہ گرتا ہے اور جلال کی کتاب شروع ہوتی ہے (یوحنا 13 تا 20)۔ یہاں یسوع صرف اپنوں کے ساتھ ہے۔ وہ پاؤں دھوتا ہے، نیا حکم دیتا ہے، انگور کے درخت کی تمثیل سناتا ہے، روح القدس کا وعدہ کرتا ہے، اور سترھویں باب میں وہ دعا کرتا ہے جسے کلیسیا نے ہمیشہ سے کاہنِ اعظم کی دعا کہا ہے۔ پھر مقدمہ اپنی سب سے حیران کن موڑ لیتا ہے: منصف ملزم بن جاتا ہے۔ پیلاطس کے سامنے کھڑا وہ شخص جو حق ہے، پوچھے جانے پر سنتا ہے کہ "حق کیا ہے؟" اور صلیب پر چڑھایا جاتا ہے۔ مگر یوحنا میں صلیب شکست نہیں، تخت نشینی ہے؛ وہ اُسے "اونچے پر اٹھایا جانا" کہتا ہے، اور آخری الفاظ ہار کے نہیں فتح کے ہیں: تمام ہوا۔
اکیسواں باب خاتمہ ہے، مگر ضمیمہ نہیں۔ جھیل کے کنارے پطرس کی بحالی ہوتی ہے، تین بار انکار کے بدلے تین بار محبت کا اقرار، اور ایک بار پھر وہی دعوت جو کتاب کے شروع میں تھی: میرے پیچھے ہو لے۔
بنیادی موضوعات اِسی ڈھانچے سے نکلتے ہیں: گواہی، نشان، ایمان، ہمیشہ کی زندگی، نور اور تاریکی، سچائی اور جھوٹ، اوپر سے پیدا ہونا، محبت، اور سب سے بڑھ کر مسیح کا جلال۔
اس کتاب کی اہم آیات
پہلی آیت جس پر پوری عمارت کھڑی ہے وہ یوحنا 1:1 ہے: "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔" اِس ایک جملے میں تین دعوے ہیں۔ کلام ازلی ہے، کیونکہ جب ابتدا ہوئی تو وہ پہلے سے موجود تھا۔ کلام الگ ہستی ہے، کیونکہ وہ خدا کے "ساتھ" تھا؛ محبت کسی خلا میں نہیں تھی، باپ اور بیٹے کے درمیان ازل سے رشتہ ہے۔ اور کلام خود خدا ہے، کوئی مخلوق یا نیم خدا نہیں۔ اِسی لیے جب کتاب کے آخر میں توما گھٹنے ٹیک کر کہتا ہے "اے میرے خداوند! اے میرے خدا!" تو دائرہ مکمل ہو جاتا ہے۔ جو دعویٰ پہلی آیت میں کیا گیا، وہ آخری باب میں ایک شکی آدمی کے منہ سے تسلیم ہو جاتا ہے۔
دوسری آیت وہ ہے جسے دنیا کی سب سے مشہور آیت کہا جاتا ہے: "کیونکہ خدا نے دنیا سے ایسی محبت رکھی کہ اُس نے اپنا اکلوتا بیٹا بخش دیا تاکہ جو کوئی اُس پر ایمان لائے ہلاک نہ ہو بلکہ ہمیشہ کی زندگی پائے" (یوحنا 3:16)۔ ہم اِسے اتنی بار سن چکے ہیں کہ اِس کی دھار کند ہو گئی ہے۔ ذرا رُک کر ہر لفظ چکھیے۔ "دنیا" یعنی وہ دنیا جو نور سے نفرت کرتی ہے، وہی محبت کا نشانہ ہے۔ "بخش دیا" یعنی یہ سودا نہیں، تحفہ ہے۔ "جو کوئی" یعنی کوئی نسل، ذات یا ماضی خارج نہیں۔ اور "ایمان لائے" کا مطلب کسی حقیقت کو تسلیم کرنا نہیں بلکہ اپنا سارا وزن اُس شخص پر ڈال دینا ہے۔ اِس مقدمے میں فضل استغاثہ کا نہیں، صفائی کا فیصلہ ہے، اور وہ فیصلہ ملزم نے اپنے خون سے خریدا ہے۔
تیسری آیت کتاب کا مقصد ہے: "لیکن یہ اِس لیے لکھے گئے ہیں کہ تم ایمان لاؤ کہ یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی پاؤ" (یوحنا 20:31)۔ یوحنا یہاں کھلے عام بتا دیتا ہے کہ وہ غیر جانبدار نہیں۔ اُس نے نشان چُنے، ترتیب دی، گفتگوئیں محفوظ کیں، سب اِس لیے کہ آپ کٹہرے میں کھڑے ہو کر فیصلہ دیں۔ اور غور کیجیے کہ منزل صرف عقیدہ نہیں بلکہ زندگی ہے۔ ایمان دروازہ ہے، زندگی کمرہ ہے۔
آئینہ
اب ذرا سیدھی بات۔ آپ اِس صفحے کو پڑھتے ہوئے شاید سوچ رہے ہیں کہ یہ سب معلومات دلچسپ ہیں۔ مگر یوحنا نے یہ کتاب معلومات کے لیے نہیں لکھی، اُس نے آپ کے لیے جیوری کی کرسی خالی رکھی ہے، اور آپ اُس پر بیٹھے ہیں چاہے آپ اِس سے انکار کریں۔ ہر روز آپ فیصلہ سناتے ہیں: اپنے وقت سے، اپنے پیسے سے، اپنی خاموشی سے۔
مجھے بتائیے، جب مہینے کے آخر میں رقم ختم ہونے لگتی ہے، تو اُس وقت آپ کے دل میں کون بولتا ہے؟ وہ آواز جو کہتی ہے کہ تم اکیلے ہو، سنبھال لو، جو ہاتھ آئے پکڑ لو؟ یا وہ چرواہا جس نے کہا کہ میں اِس لیے آیا کہ وہ زندگی پائیں اور کثرت سے پائیں؟ چور اب بھی آتا ہے، اور اکثر وہ کھلے دروازے سے نہیں بلکہ ہماری فکروں کے راستے آتا ہے۔
اور جب رات کو بتی بجھانے کے بعد آپ بستر پر لیٹتے ہیں اور وہ پرانی شرمندگی سر اٹھاتی ہے، وہ بات جو آپ نے کسی کو نہیں بتائی، وہ رشتہ جو آپ نے توڑ دیا، وہ عادت جس سے آپ نہیں چھوٹ پا رہے۔ اُس اندھیرے میں یوحنا 8:12 محض ایک خوبصورت آیت نہیں رہتی۔ "جو میری پیروی کرے گا وہ اندھیرے میں نہ چلے گا۔" یہ وعدہ اُس عورت کے سامنے کہا گیا تھا جسے گھسیٹ کر لایا گیا تھا اور جس کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا۔
نور آپ کو بے نقاب بھی کرتا ہے اور بحال بھی۔
شاید آپ تھکے ہوئے ہیں۔ کام پر آپ کو ناپا جاتا ہے، گھر میں آپ سے توقعات ہیں، جسم پہلے جیسا ساتھ نہیں دیتا، اور کبھی کبھی بھری محفل میں بھی آپ اکیلے ہوتے ہیں۔ یوحنا کی انجیل آپ کو یہ نہیں کہتی کہ زیادہ محنت کرو۔ وہ آپ کے سامنے ایک شخص کھڑا کرتی ہے جو کنویں پر تھک کر بیٹھا تھا، جو دوست کی قبر پر رویا، اور جس نے صلیب پر کہا: تمام ہوا۔ سوال یہ نہیں کہ آپ کتنا جانتے ہیں۔ سوال وہی ہے جو یسوع نے مرتھا سے پوچھا تھا: کیا تُو اِس پر ایمان رکھتی ہے؟
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو یوحنا کی انجیل سمجھانا مشکل نہیں، بس شروعات صحیح جگہ سے کرنی پڑتی ہے۔ بچوں کو کہانیاں اور تصویریں یاد رہتی ہیں، اِس لیے اُنہیں پہلے یہ بتائیے کہ یہ کتاب ایک ایسے دوست نے لکھی جو یسوع کے بالکل قریب رہتا تھا، جو اُس کے ساتھ کھانا کھاتا تھا اور جس نے اپنی آنکھوں سے سب دیکھا۔ پھر اُن سے کہیے کہ یسوع نے اپنے بارے میں سات خوبصورت باتیں کہیں: میں روٹی ہوں، میں روشنی ہوں، میں دروازہ ہوں، میں اچھا چرواہا ہوں، میں زندگی ہوں، میں راستہ ہوں، میں انگور کا درخت ہوں۔ ہر تصویر بچے کی کسی جانی پہچانی چیز سے جڑی ہے، اِسی لیے یہ باتیں چھوٹے دلوں میں آسانی سے اُتر جاتی ہیں۔
سب سے بہتر یہ ہے کہ اُنہیں یوحنا 3:16 زبانی یاد کرا دیا جائے، مگر صرف رٹنے کے لیے نہیں۔ اپنے بچے سے پوچھیے: اگر ابو یا امی تمہارے لیے اپنی سب سے قیمتی چیز دے دیں، تو تم کیا سمجھو گے؟ پھر بتائیے کہ خدا نے ہمیں اپنا بیٹا دیا، اِس لیے کہ وہ ہم سے واقعی محبت کرتا ہے۔ نشانوں کی کہانیاں بھی سنائیے، خاص طور پر قانا کی شادی، پانچ ہزار کو کھانا کھلانا، اور لعزر کا قبر سے باہر آنا؛ یہ تینوں بچوں کو حیران کر دیتی ہیں۔
عمر کے لحاظ سے انداز بدلنا پڑتا ہے، اِس لیے ہماری ویب سائٹ پر یوحنا کی انجیل کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ تصویری کہانیاں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے تفصیل اور سوالات کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے وہ گہرے سوالات جو اُن کے ذہن میں سچ مچ اٹھتے ہیں۔
عملی مطالعہ کی رہنمائی
یوحنا کی انجیل اکیس ابواب پر مشتمل ہے، اِس لیے سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ اکیس دن تک روزانہ ایک باب پڑھا جائے۔ مگر اگر آپ اِسے واقعی عدالت کی کارروائی سمجھ کر پڑھنا چاہتے ہیں تو ایک کاپی سامنے رکھیے اور ہر باب کے بعد تین سوال لکھیے۔ پہلا: اِس باب میں گواہ کون ہے اور وہ یسوع کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے؟ دوسرا: اِس باب میں کون سا نشان یا دعویٰ پیش ہوا ہے؟ تیسرا: اِس باب کے بعد میرا فیصلہ کیا ہے، یعنی مجھے کس بات پر ایمان لانا یا کس بات میں تبدیل ہونا ہے؟ ایک مہینے کے بعد آپ کے ہاتھ میں اپنی گواہی کی ایک نوٹ بک ہو گی۔
پہلا ہفتہ دیباچے اور ابتدائی نشانوں کے ساتھ گزاریے۔ پہلے باب کی اٹھارہ آیتیں کئی بار پڑھیے، شاید بلند آواز میں، کیونکہ یہ حصہ تقریباً ایک گیت کی طرح لکھا گیا ہے۔ دوسرے ہفتے میں پانچ سے دس ابواب پڑھتے ہوئے اُن جھگڑوں پر نظر رکھیے جو یسوع اور مذہبی رہنماؤں کے درمیان ہوتے ہیں؛ آپ دیکھیں گے کہ ہر جھگڑا اِسی سوال کے گرد گھومتا ہے کہ وہ کون ہے۔ تیسرے ہفتے میں تیرہ سے سترہ ابواب آہستہ پڑھیے، یہ آخری رات کی گفتگو ہے اور اِسے جلدی میں پڑھنا ایسا ہے جیسے کسی مرتے ہوئے باپ کی نصیحت سنتے ہوئے گھڑی دیکھی جائے۔ آخری ہفتے میں اٹھارہ سے اکیس ابواب پڑھیے اور کوشش کیجیے کہ کم از کم ایک بار یہ حصہ ایک ہی نشست میں پڑھ لیں۔
اگر آپ گروپ میں مطالعہ کر رہے ہیں تو ہر ملاقات میں ایک نشان اور ایک "میں ہوں" کا بیان لے لیجیے اور آپس میں پوچھیے کہ یہ نشان اُس دعوے کو کیسے سچ ثابت کرتا ہے۔ اور دعا کے ساتھ شروع کیجیے، کیونکہ یہ وہ کتاب ہے جو خود کہتی ہے کہ روح القدس ہی مسیح کی گواہی دیتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یوحنا کی انجیل کس نے لکھی؟
روایتی اور ابتدائی کلیسیائی گواہی کے مطابق یہ انجیل یوحنا بن زبدی نے لکھی، جو یعقوب کا بھائی اور اُن بارہ رسولوں میں سے ایک تھا۔ کتاب کے اندر مصنف اپنا نام نہیں لیتا بلکہ خود کو "وہ شاگرد جسے یسوع پیار کرتا تھا" کہتا ہے، اور آخری باب میں کلیسیا تصدیق کرتی ہے کہ یہی شاگرد اِن باتوں کا گواہ اور لکھنے والا ہے۔ ایرینیئس نے، جو یوحنا کے شاگرد پولی کارپ کا شاگرد تھا، صاف لکھا کہ یوحنا نے یہ انجیل افسس میں لکھی۔
یوحنا کی انجیل کب لکھی گئی؟
زیادہ تر علما اِسے 85 سے 95 عیسوی کے درمیان رکھتے ہیں، یعنی متی، مرقس اور لوقا کے کافی بعد، جب یوحنا بوڑھا ہو چکا تھا اور افسس میں خدمت کر رہا تھا۔ کچھ محققین پہلے کی تاریخ کے حق میں دلیل دیتے ہیں کیونکہ یوحنا 5:2 میں یروشلم کے حوض کا ذکر ایسے ہوتا ہے جیسے وہ ابھی موجود ہو۔ بہرحال، دوسری صدی کے شروع کا ایک قدیم پاپائرس ٹکڑا، جس پر یوحنا 18 کے چند جملے لکھے ہیں، مصر سے ملا ہے، جو ثابت کرتا ہے کہ یہ کتاب بہت جلد پھیل چکی تھی۔
یوحنا کی انجیل باقی تین انجیلوں سے مختلف کیوں ہے؟
متی، مرقس اور لوقا کو ہم آہنگ انجیلیں کہا جاتا ہے کیونکہ اُن کا مواد اور ترتیب کافی ملتی جلتی ہے، جبکہ یوحنا کا تقریباً نوے فیصد مواد منفرد ہے۔ اُس نے تمثیلوں کے بجائے لمبی گفتگوئیں محفوظ کیں، معجزوں کو نشان کہا، اور یسوع کی گلیل کی خدمت کے ساتھ ساتھ یروشلم کے دوروں پر زور دیا۔ فرق کی وجہ مقصد کا فرق ہے: یوحنا نے پہلے سے موجود انجیلوں کو دہرانے کے بجائے وہ گواہی پیش کی جس سے یسوع کی الوہیت اور شخصیت کھل کر سامنے آ جائے۔
یوحنا 1:1 میں "کلام" سے کیا مراد ہے؟
یونانی لفظ لوگوس کے دو پس منظر ہیں۔ یونانی فلسفے میں یہ اُس عقل یا اصول کے لیے استعمال ہوتا تھا جس سے کائنات میں ترتیب ہے، اور عبرانی سوچ میں خدا کا کلام وہ طاقتور کلام تھا جس سے آسمان و زمین بنے۔ یوحنا دونوں کو لیتا ہے اور ایک انقلابی بات کہتا ہے: یہ کلام کوئی خیال یا قوت نہیں، ایک شخص ہے، اور وہ خود خدا ہے۔ چودھویں آیت میں وہ بتاتا ہے کہ یہی کلام مجسم ہوا، یعنی یسوع مسیح میں خدا نے جسم پہن لیا۔
یوحنا 3:16 کا اصل مطلب کیا ہے؟
یہ آیت رات کے وقت نیکدیمس سے ہونے والی اُس گفتگو کا حصہ ہے جس میں یسوع نے نئے سرے سے پیدا ہونے کی بات کی۔ اِس کا مرکز خدا کی محبت ہے جو نااہل دنیا کی طرف بڑھی، اور اُس محبت کی قیمت اکلوتا بیٹا ہے۔ "جو کوئی" کے الفاظ ہر نسل اور ہر ماضی والے شخص کے لیے دروازہ کھول دیتے ہیں، اور "ایمان لائے" کا مطلب محض تسلیم کرنا نہیں بلکہ اپنا پورا بھروسا مسیح پر رکھ دینا ہے۔ نتیجہ دو طرفہ ہے: ہلاکت سے بچاؤ اور ہمیشہ کی زندگی کی بخشش۔
یوحنا کی انجیل میں "میں ہوں" کہنے کا کیا مطلب ہے؟
یہ الفاظ خروج 3 کی طرف اشارہ کرتے ہیں جہاں خدا نے موسیٰ پر اپنا نام "میں جو ہوں سو میں ہوں" ظاہر کیا۔ یوحنا میں یسوع سات بار "میں ہوں" کے ساتھ ایک تصویر جوڑتا ہے: زندگی کی روٹی، دنیا کا نور، دروازہ، اچھا چرواہا، قیامت اور زندگی، راہ اور حق اور زندگی، اور حقیقی انگور کا درخت۔ کئی بار وہ بغیر کسی اضافے کے صرف "میں ہوں" کہتا ہے، اور اُس کے سننے والے فوراً پتھر اٹھا لیتے ہیں، جو ثابت کرتا ہے کہ وہ اِسے الوہیت کا دعویٰ سمجھتے تھے۔
یوحنا کی انجیل میں کتنے نشان ہیں؟
عام طور پر سات نشان گنے جاتے ہیں: قانا میں پانی کا مے بن جانا، شاہی ملازم کے بیٹے کی شفا، بیت حسدا کے مفلوج کا چلنا، پانچ ہزار کو کھانا کھلانا، جھیل پر چلنا، پیدائشی اندھے کی آنکھوں کا کھلنا، اور لعزر کا قبر سے جی اٹھنا۔ بعض علما مسیح کے اپنے جی اٹھنے کو آٹھواں اور سب سے بڑا نشان شمار کرتے ہیں، اور کچھ جھیل کے کنارے مچھلیوں کے بھرے جال کو بھی شامل کرتے ہیں۔ ہر نشان اپنی جگہ نہیں رکتا بلکہ مسیح کی شخصیت کی طرف انگلی اٹھاتا ہے۔
کیا یہ سچ ہے کہ یوحنا کی انجیل یسوع کی الوہیت کا سب سے واضح بیان ہے؟
جی ہاں، اور یہ بات پہلی ہی آیت سے شروع ہو جاتی ہے جہاں کلام کو خدا کہا گیا ہے۔ اِس کے بعد "میں ہوں" کے بیانات، یسوع کا اپنے آپ کو باپ کے برابر ٹھہرانا، اور آخر میں توما کا اقرار "اے میرے خداوند! اے میرے خدا!" سب ایک ہی سمت اشارہ کرتے ہیں۔ ساتھ ہی یہی انجیل یسوع کی انسانیت پر بھی سب سے زیادہ زور دیتی ہے: وہ تھکتا ہے، پیاسا ہوتا ہے، روتا ہے، اور اُس کے پہلو سے خون بہتا ہے۔
"وہ شاگرد جسے یسوع پیار کرتا تھا" کون تھا؟
یہ لقب پانچ یا چھ بار آتا ہے اور تقریباً یقینی طور پر خود مصنف کا ہے، جو اپنا نام لینے کے بجائے اپنی پہچان مسیح کی محبت میں رکھتا ہے۔ ابتدائی کلیسیا نے اُسے یوحنا بن زبدی سمجھا۔ یہ شاگرد آخری کھانے پر یسوع کے قریب بیٹھا تھا، صلیب کے نیچے کھڑا رہا جہاں خداوند نے اپنی ماں اُس کے سپرد کی، خالی قبر تک دوڑا، اور جھیل کے کنارے سب سے پہلے پہچانا۔ اِس لقب میں غرور نہیں بلکہ حیرت ہے: بوڑھا رسول اپنی سب سے بڑی شناخت یہی سمجھتا تھا کہ وہ محبوب ہے۔
کیا زناکار عورت کا واقعہ اصل متن کا حصہ ہے؟
یوحنا 7:53 سے 8:11 تک کا حصہ قدیم ترین یونانی مسودوں میں موجود نہیں، اور بعض مسودوں میں یہ کہیں اور رکھا گیا ہے، اِسی لیے بہت سے ترجمے اِس پر نوٹ لگاتے ہیں۔ اِس کے باوجود بیشتر علما مانتے ہیں کہ یہ واقعہ ابتدائی اور غالباً حقیقی روایت ہے جو کلیسیا میں محفوظ رہی، کیونکہ اِس کا لہجہ اور فضل انجیلوں کے مزاج سے پوری طرح میل کھاتا ہے۔ عقیدے کی کوئی بنیادی تعلیم اِس پر منحصر نہیں، اور اِس کا پیغام باقی انجیل سے مطابقت رکھتا ہے۔
ہمیشہ کی زندگی کا مطلب کیا ہے، کیا یہ صرف مرنے کے بعد ملتی ہے؟
یوحنا کے نزدیک ہمیشہ کی زندگی صرف دورانیے کی بات نہیں بلکہ ایک قسم کی زندگی ہے، اور وہ آج ہی شروع ہو جاتی ہے۔ سترھویں باب میں یسوع خود اِس کی تعریف کرتا ہے کہ ہمیشہ کی زندگی یہ ہے کہ لوگ واحد سچے خدا کو اور یسوع مسیح کو جانیں، اور جاننے سے مراد جاننے والا رشتہ ہے۔ اِسی لیے یسوع کہتا ہے کہ جو ایمان لاتا ہے وہ ہمیشہ کی زندگی رکھتا ہے، حال کے صیغے میں۔ موت اِس زندگی کا خاتمہ نہیں، صرف ایک دروازہ ہے۔
یوحنا 14:6 کیا واقعی یہ کہتا ہے کہ نجات کا صرف ایک ہی راستہ ہے؟
جی، اور یہ بات خود یسوع کے منہ سے نکلی ہے، کسی بعد کی کلیسیائی تشریح سے نہیں۔ وہ یہ نہیں کہتا کہ میں ایک راستہ دکھاتا ہوں بلکہ کہتا ہے کہ راہ اور حق اور زندگی میں ہوں، اور کوئی اُس کے وسیلے کے بغیر باپ کے پاس نہیں آتا۔ یہ دعویٰ تنگ نظری نہیں بلکہ اُس حقیقت کا اعلان ہے کہ خدا تک پہنچنے کا واحد پُل خود خدا نے بنایا۔ ساتھ ہی یاد رکھیے کہ یہ الفاظ گھبرائے ہوئے شاگردوں کو تسلی دینے کے لیے کہے گئے تھے، دوسروں کو دھمکانے کے لیے نہیں۔
یوحنا کی انجیل پڑھنا کہاں سے شروع کروں؟
اگر آپ پہلی بار بائبل پڑھ رہے ہیں تو یوحنا کی انجیل ہی بہترین آغاز ہے، کیونکہ یہ سادہ زبان میں گہری باتیں کہتی ہے اور اپنا مقصد خود بتاتی ہے۔ پہلے باب کی ابتدائی اٹھارہ آیتیں آہستہ پڑھیے، پھر روزانہ ایک باب کے حساب سے اکیس دن میں پوری کتاب مکمل کیجیے۔ ہر باب کے بعد لکھیے کہ اِس حصے میں یسوع کے بارے میں کیا نئی بات معلوم ہوئی اور آپ کا جواب کیا ہے۔ آخر میں تیرہ سے سترہ ابواب دوبارہ پڑھیے، کیونکہ وہاں مسیح اپنے اپنوں سے دل کھول کر بات کرتا ہے۔
اختتام میں
یوحنا اپنی کتاب کسی مطمئن نتیجے پر ختم نہیں کرتا، وہ اُسے کھلا چھوڑ دیتا ہے۔ آخری الفاظ میں وہ کہتا ہے کہ اگر یسوع کے سب کام لکھے جاتے تو دنیا میں کتابیں نہ سماتیں، گویا گواہی ابھی جاری ہے۔ اور جاری کیوں ہے؟ کیونکہ ہر نئے قاری کے ساتھ مقدمہ دوبارہ کھلتا ہے۔ نشان پیش ہوتے ہیں، گواہ بولتے ہیں، ازلی کلام مجسم ہو کر ہمارے درمیان کھڑا ہوتا ہے، اور آخر میں سب چہرے آپ کی طرف مڑ جاتے ہیں۔
اِس عدالت کا سب سے بڑا انصاف یہ ہے کہ منصف نے سزا خود بھگت لی۔ صلیب پر جو "تمام ہوا" کہا گیا، وہ آپ کے بارے میں دیا گیا فیصلہ ہے: قرض ادا ہو چکا، دروازہ کھلا ہے۔ آپ کو اپنے حق میں کوئی دلیل پیش نہیں کرنی، صرف اُس گواہی کو قبول کرنا ہے جو محبت سے دی گئی۔
اِس رہنما کو پڑھ لینا کافی نہیں۔ آج ہی یوحنا کی انجیل کھولیے اور پہلا باب پڑھیے، پھر اگلے دن دوسرا۔ اپنے ساتھ ایک قلم رکھیے اور ہر باب کے بعد ایک جملہ لکھیے: "میں نے آج مسیح کے بارے میں یہ دیکھا۔" چالیس دن بعد آپ کے ہاتھ میں صرف نوٹ نہیں ہوں گے، بلکہ آپ کی اپنی گواہی ہو گی۔ اور یہی وہ چیز ہے جو یوحنا شروع سے چاہتا تھا۔
