یسوع مسیح کے معجزے اور اُن کا مطلب
تعارف
قانایِ گلیل کی اُس شادی میں کسی نے شور نہیں مچایا۔ نہ کوئی اعلان ہوا، نہ کوئی تماشا۔ صرف چند خادم تھے جنہوں نے پتھر کے مٹکے پانی سے بھرے، اور جب اُنہوں نے وہی پانی نکال کر میرِ مجلس کے آگے رکھا تو وہ مے بن چکا تھا۔ میرِ مجلس کو معلوم ہی نہ ہوا کہ یہ کہاں سے آئی۔ مگر خادم جانتے تھے۔ اور شاگرد جانتے تھے۔
یہی یسوع کے معجزوں کی عجیب خاموشی ہے۔ وہ آسمان پھاڑ کر نہیں آتے، وہ روزمرہ زندگی کے بیچوں بیچ، ایک شادی میں، ایک کشتی میں، ایک قبر کے منہ پر، ایک بھوکی بھیڑ کے سامنے ظاہر ہوتے ہیں۔ اور ہر بار وہ کسی ایک ضرورت کو پورا کرنے سے کہیں بڑھ کر کچھ کرتے ہیں۔
اس صفحے پر ہم دیکھیں گے کہ یسوع کے معجزے دراصل کیا ہیں، وہ پوری بائبل کی کہانی میں کہاں فٹ بیٹھتے ہیں، لوگ اُن کے بارے میں کہاں غلطی کھاتے ہیں، اور آپ کی اپنی زندگی میں اُن کا کیا مطلب ہے، خاص کر جب آپ کی دعا کا جواب ابھی تک نہیں آیا۔
اس رہنما کا زاویہ
ہم یسوع کے معجزوں کو "قدرت کے قانون کی خلاف ورزی" کے طور پر نہیں دیکھیں گے، نہ محض اُن کی قدرت کے ثبوت کے طور پر۔ ہمارا زاویہ یہ ہے: یسوع کے معجزے آنے والی نئی دنیا کے نمونے ہیں، وہ ٹوٹی ہوئی سرشت کی بحالی کی پہلی جھلکیاں جو وقت سے پہلے ہمارے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔ جس طرح باغبان پھل کے پکنے سے پہلے پہلا گچھا توڑ کر دکھاتا ہے کہ "پوری فصل ایسی ہی ہو گی"، اسی طرح ہر شفا، ہر روٹی، ہر تھمی ہوئی آندھی اُس دن کا بیعانہ ہے جب خدا سب کچھ نیا بنا دے گا۔ یہ زاویہ اہم ہے، کیونکہ یہ بتاتا ہے کہ معجزے کیوں ہوتے ہیں اور کیوں ہر بار نہیں ہوتے۔
بائبل یسوع کے معجزوں کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
انجیلوں میں یسوع کے تقریباً پینتیس معجزے تفصیل سے درج ہیں، مگر انجیل نویس خود مانتے ہیں کہ یہ فہرست ادھوری ہے۔ یوحنا اپنی کتاب کے آخر میں صاف لکھتا ہے: "یسوع نے اَور بھی بہت سے معجزے شاگردوں کے سامنے دکھائے جو اِس کتاب میں لکھے نہیں گئے" (یوحنا 20:30)۔ یہ جملہ ہمیں ایک بنیادی بات سکھاتا ہے: انجیلیں معجزوں کا رجسٹر نہیں ہیں۔ وہ چُنے ہوئے واقعات ہیں، ایک مقصد کے ساتھ چُنے گئے، اور اگلی ہی آیت میں وہ مقصد بتایا گیا ہے کہ ہم ایمان لائیں کہ یسوع ہی خدا کا بیٹا مسیح ہے اور ایمان لا کر اُس کے نام سے زندگی پائیں۔
یوحنا معجزے کے لیے جو لفظ بار بار استعمال کرتا ہے، وہ "نشان" ہے۔ نشان ایک ایسی چیز ہے جو خود پر نہیں رکتی، بلکہ آگے کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ قانایِ گلیل کے بعد لکھا ہے: "یہ پہلا معجزہ یسوع نے قانایِ گلیل میں دکھا کر اپنا جلال ظاہر کیا اور اُس کے شاگرد اُس پر ایمان لائے" (یوحنا 2:11)۔ غور کیجیے، مقصد صرف شادی کی شرمندگی بچانا نہیں تھا۔ مقصد جلال کا ظاہر ہونا تھا۔ پانی کے وہ مٹکے یہودی طہارت کی رسم کے لیے رکھے تھے؛ یسوع نے رسم کے پانی کو بادشاہی کی ضیافت کی مے میں بدل دیا۔ پرانا نظام ختم نہیں ہوا، وہ اپنی منزل تک پہنچ گیا۔
نشان خود پر نہیں، مسیح پر انگلی رکھتا ہے۔
کفرنحوم میں جب چار دوستوں نے چھت کھود کر ایک مفلوج کو نیچے اُتارا، تو یسوع نے پہلے اُس کے گناہ معاف کیے۔ علمِ دین کے ماہرین دل میں کُڑھنے لگے کہ خدا کے سوا گناہ کون معاف کر سکتا ہے۔ تب خداوند نے کہا: "میں تجھ سے کہتا ہوں اُٹھ اپنی چارپائی اُٹھا کر اپنے گھر چلا جا" (مرقس 2:11)۔ یہ معجزہ ایک دلیل تھا۔ جسم کی شفا باطن کی معافی کا نظر آنے والا ثبوت بنی۔ جو شخص چارپائی پر آیا تھا، وہ چارپائی کندھے پر اُٹھا کر گیا۔ ٹوٹے ہوئے انسان کی مکمل بحالی، اندر سے باہر تک۔
گلیل کی جھیل پر آندھی کے بیچ یسوع سوئے ہوئے تھے۔ گھبرائے ہوئے شاگردوں نے اُنہیں جگایا۔ "اُس نے اُٹھ کر ہوا کو ڈانٹا اور پانی سے کہا خاموش رہ! تھم جا! پس ہوا بند ہو گئی اور بڑا امن ہو گیا" (مرقس 4:39)۔ پرانے عہدنامے میں سمندر کو ڈانٹنا اور طوفان کو تھمانا صرف خدا کا کام تھا۔ اسی لیے شاگردوں کا سوال عقیدت کا نہیں، خوف کا تھا: یہ کون ہے کہ ہوا اور پانی بھی اِس کا حکم مانتے ہیں؟
بھوکی بھیڑ کے سامنے یسوع نے کیا کیا؟ "اور اُس نے لوگوں کو گھاس پر بیٹھنے کا حکم دیا۔ پھر اُس نے وہ پانچ روٹیاں اور دو مچھلیاں لیں اور آسمان کی طرف دیکھ کر برکت دی اور روٹیاں توڑ کر شاگردوں کو دیں اور شاگردوں نے لوگوں کو" (متی 14:19)۔ یہ الفاظ آخری فسح کی رات دوبارہ سنائی دیں گے: لینا، برکت دینا، توڑنا، دینا۔ پانچ ہزار کی وہ خوراک شامِ ربانی کا پیش خیمہ تھی، اور شامِ ربانی خود اُس آخری ضیافت کا پیش خیمہ ہے جس کا وعدہ مکاشفہ میں ہے۔
اور بیت عنیاہ کی قبر پر، چار دن کے مُردہ دوست کے سامنے، خداوند رو پڑے اور پھر "یہ کہہ کر اُس نے بڑی آواز سے پکارا کہ اَے لعزر نکل آ" (یوحنا 11:43)۔ یہاں وہ آواز سنائی دیتی ہے جو ایک دن ہر قبرستان میں گونجے گی۔ لعزر پھر مرا، مگر اُس کا نکل آنا ایک اعلان تھا کہ موت کے پاس آخری لفظ نہیں رہا۔
پینتیکُست کے دن پطرس نے اِن سب کا خلاصہ یوں کیا: "اَے اسرائیلیو! یہ باتیں سنو کہ یسوع ناصری ایک شخص تھا جس کا خدا کی طرف سے ہونا تم پر اُن معجزوں اور عجیب کاموں اور نشانوں سے ثابت ہوا جو خدا نے اُس کی معرفت تم میں دکھائے۔ چنانچہ تم آپ ہی جانتے ہو" (اعمال 2:22)۔ معجزے خفیہ نہیں تھے۔ وہ عوامی گواہی تھے، اور پطرس اپنے سننے والوں کو یاد دلاتا ہے کہ وہ خود اِن کے گواہ ہیں۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
یسوع کے معجزے آسمان سے اچانک نہیں ٹپکے۔ وہ ایک لمبی کہانی کے آخری باب ہیں جو پیدایش کے پہلے صفحے سے شروع ہوتی ہے۔ وہاں خدا کلام سے روشنی پیدا کرتے ہیں، پانیوں کو حد بندی میں رکھتے ہیں، مٹی سے زندگی بناتے ہیں۔ پھر گناہ آتا ہے، اور اُس کے پیچھے بیماری، بھوک، طوفان، اور قبر۔ دنیا ٹوٹ جاتی ہے، مگر خدا اُسے چھوڑتے نہیں۔
خروج میں خدا سمندر کو چیرتے ہیں اور اپنے لوگوں کو غلامی سے نکالتے ہیں؛ بیابان میں آسمان سے من برساتے ہیں؛ چٹان سے پانی نکالتے ہیں۔ ایلیاہ کے ہاتھوں بیوہ کے گھر کا آٹا اور تیل ختم نہیں ہوتا، اور اُس کا بیٹا زندہ کیا جاتا ہے۔ الیشع تھوڑی سی روٹیوں سے سو آدمیوں کو کھلاتا ہے اور کچھ بچ بھی جاتا ہے۔ نعمان سردار کوڑھ سے پاک ہوتا ہے۔ انبیا کے ذریعے کیے گئے یہ کام ایک ہی سمت میں اشارہ کرتے ہیں: خدا اپنی خراب شدہ دنیا کو واپس لینا چاہتے ہیں۔
پھر نبیوں کی زبان آنے والے دن کی تصویر کھینچنے لگتی ہے۔ یسعیاہ ایک ایسے وقت کا ذکر کرتا ہے جب اندھوں کی آنکھیں کھولی جائیں گی، بہروں کے کان وا ہوں گے، لنگڑا ہرن کی مانند چوکڑیاں بھرے گا اور گونگے کی زبان گائے گی۔ بیابان میں پانی پھوٹیں گے اور ویرانہ گلاب کی طرح شگفتہ ہو گا۔ یہ شاعری نہیں، وعدہ ہے۔
اب یوحنا اصطباغی کے سوال پر غور کیجیے۔ قید خانے سے اُس نے پوچھا کہ کیا آپ ہی آنے والے ہیں؟ یسوع نے کوئی نظریاتی جواب نہیں دیا۔ اُنہوں نے کہا: "کہ اندھے دیکھتے اور لنگڑے چلتے پھرتے ہیں۔ کوڑھی پاک صاف کئے جاتے ہیں اور بہرے سنتے ہیں اور مُردے زندہ کئے جاتے ہیں اور غریبوں کو خوشخبری سنائی جاتی ہے" (متی 11:5)۔ گویا اُنہوں نے یسعیاہ کی فہرست پڑھ کر کہا، یہ سب ہو رہا ہے، آنکھیں کھول کر دیکھو۔ معجزے اُن کا شناختی کارڈ تھے۔
اسی لیے یسوع نے فرمایا: "لیکن اگر میں خدا کی اُنگلی سے بدروحوں کو نکالتا ہوں تو خدا کی بادشاہی تمہارے پاس آ پہنچی" (لوقا 11:20)۔ بادشاہی آ پہنچی، مگر ابھی پوری طرح نہیں آئی۔ یہی وہ درمیانی وقت ہے جس میں ہم جی رہے ہیں۔
اور کہانی کہاں ختم ہوتی ہے؟ مکاشفہ 21:4 میں: "اور وہ اُن کی آنکھوں کے سب آنسو پونچھ دے گا۔ اِس کے بعد نہ موت رہے گی اور نہ ماتم رہے گا۔ نہ آہ و نالہ نہ درد۔ پہلی چیزیں جاتی رہیں۔" دیکھیے، یہ وہی چیزیں ہیں جن پر یسوع نے گلیل میں ہاتھ رکھا تھا: آنسو، ماتم، موت، درد۔ گویا ہر معجزہ اُس آخری باب میں سے ایک جملہ تھا جو وقت سے پہلے پڑھ دیا گیا۔ قانا کی مے اُس شادی کی ضیافت کا پہلا جام تھی جو برّے کی شادی میں پیش ہو گی۔ لعزر کا باہر آنا قیامت کی صبح کا پہلا قدم تھا۔ پانچ ہزار کی خوراک اُس میز کی پہلی پلیٹ تھی جہاں کوئی بھوکا نہیں رہے گا۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ معجزہ "قدرت کے قانون کی خلاف ورزی" ہے۔ یہ تعریف بائبل سے نہیں، جدید فلسفے سے آئی ہے، اور یہ خدا کو ایک مداخلت کرنے والے اجنبی کے طور پر پیش کرتی ہے جو اپنی ہی بنائی ہوئی مشینری توڑ رہا ہو۔ مگر انجیل کی تصویر مختلف ہے۔ جو ہاتھ کوڑھی کو چھوتا ہے، وہی ہاتھ ہے جس نے جلد بنائی تھی۔ جو آواز آندھی کو ڈانٹتی ہے، وہی آواز ہے جس نے ہوا کو پیدا کیا۔ بیماری، سڑاند اور موت اصل میں "قدرتی" نہیں، یہ ٹوٹی ہوئی دنیا کی علامتیں ہیں۔ معجزہ خلاف ورزی نہیں، بحالی ہے۔ یہ خدا کا اپنے گھر میں مرمت کا کام شروع کرنا ہے۔
دوسری غلط فہمی: "اگر تمہارا ایمان کافی مضبوط ہو تو شفا یقینی ہے۔" یہ بات بہت سے مخلص لوگوں کے دل توڑ چکی ہے۔ ہاں، یسوع نے کئی بار ایمان کی تعریف کی، مگر اُنہوں نے کبھی بیمار کو اُس کی بیماری کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا۔ پولس رسول نے تین بار دعا کی کہ اُس کے جسم کا کانٹا دور ہو جائے، اور جواب ملا: "میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے" (2 کرنتھیوں 12:9)۔ اُسی پولس نے ترفمس کو ملیتس میں بیمار چھوڑا اور تیمتھیس کو معدے کی تکلیف کے لیے مشورہ دیا۔ اگر ایمان شفا کی ضمانت ہوتا تو رسولی کلیسیا میں کوئی بیمار نہ ہوتا۔ ہمارے زاویے سے بات صاف ہو جاتی ہے: ہمارے پاس ابھی نمونہ ہے، پوری فصل نہیں۔ کامل شفا کی تاریخ مقرر ہے، مگر وہ تاریخ آج نہیں۔
تیسری غلط فہمی: "اگر لوگ معجزہ دیکھ لیں تو ایمان لے آئیں گے۔" انجیل اِس کی تردید کرتی ہے۔ جن لوگوں نے پانچ ہزار کی خوراک کھائی، اگلے دن یسوع نے اُن سے کہا: "میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ تم مجھے اِس لئے نہیں ڈھونڈتے کہ معجزے دیکھے بلکہ اِس لئے کہ تم روٹیاں کھا کر سیر ہوئے" (یوحنا 6:26)۔ جنہوں نے لعزر کو قبر سے نکلتے دیکھا، اُن میں سے کچھ نے جا کر یسوع کے خلاف سازش کی اور لعزر کو بھی قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔ معجزہ دل نہیں بدلتا؛ وہ دروازہ کھولتا ہے، مگر اندر جانا ایمان کا کام ہے۔ یسوع نے نشان مانگنے والی نسل کو "بُری اور زناکار" کہا اور یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان دینے سے انکار کیا، یعنی اپنی موت اور قیامت۔
چوتھی غلط فہمی: "یہ سب محض علامتی کہانیاں ہیں۔" بعض لوگ کہتے ہیں کہ پانچ ہزار کو کھلانے کا مطلب یہ ہے کہ لوگوں نے اپنا چھپایا ہوا کھانا بانٹ دیا، یا لعزر کا جی اُٹھنا امید کا استعارہ ہے۔ مگر پطرس کی تقریر ایسی تاویل کی گنجائش نہیں چھوڑتی۔ اُس نے یروشلیم کے بیچوں بیچ، اُنہی لوگوں کے سامنے جو موجود تھے، کہا کہ "تم آپ ہی جانتے ہو" (اعمال 2:22)۔ ایک استعارے کی بنیاد پر کوئی اپنی جان نہیں دیتا۔ رسولوں نے دی۔ اگر معجزے واقعی نہیں ہوئے تو مسیحی ایمان ایک خوبصورت افسانہ ہے؛ اگر ہوئے، تو دنیا کی بنیاد ہل چکی ہے۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
اگر معجزے نئی دنیا کے نمونے ہیں، تو اِس کا آپ کے سوموار کی صبح سے کیا تعلق ہے؟ بہت گہرا تعلق ہے۔
جب آپ ہسپتال کے بستر کے پاس کھڑے ہوں اور دعا کریں، تو آپ کسی اندھے اتفاق سے التجا نہیں کر رہے۔ آپ اُسی خداوند سے مانگ رہے ہیں جس نے مفلوج سے کہا تھا اُٹھ اور چل۔ مانگیے، دلیری سے مانگیے، شرمندہ ہوئے بغیر مانگیے۔ مگر اپنی دعا کے ساتھ یہ جملہ بھی جوڑیے جو خود خداوند نے گتسمنی میں کہا تھا کہ میری مرضی نہیں بلکہ تیری۔ یہ ایمان کی کمزوری نہیں، ایمان کی پختگی ہے۔ آپ جانتے ہیں کہ شفا آج ہو یا نہ ہو، قیامت کی صبح یقینی ہے۔
جب پیسے کم پڑ جائیں اور مہینے کے آخری دن سانس رُکنے لگے، تو متی 14:19 کو یاد کیجیے۔ یسوع نے روٹی آسمان سے نہیں منگوائی؛ اُنہوں نے وہی لیا جو ایک لڑکے کے پاس تھا، تھوڑا سا، ناکافی، مذاق کے قابل۔ اُنہوں نے اُسے برکت دی، توڑا، اور بانٹ دیا۔ آپ کے ہاتھ میں جو تھوڑا سا ہے، اُسے چھپائیے مت، اُسے خداوند کے ہاتھ میں رکھیے۔
آج کا لقمہ، کل کی ضیافت کا بیعانہ ہے۔
جب خاندان میں رشتہ ٹوٹ جائے اور آپ کو لگے کہ اب کچھ نہیں بچا، تو یاد رکھیے کہ خداوند چار دن پرانی قبر کے سامنے بھی کھڑے ہوئے تھے۔ مارتھا نے کہا تھا کہ اب تو بدبو آتی ہو گی۔ ہم اکثر یہی کہتے ہیں کہ اب بہت دیر ہو چکی، اب تعلق میں بدبو آ گئی ہے۔ مگر لعزر کے باہر آنے کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے لیے "بہت دیر" نام کی کوئی چیز نہیں۔
جب آپ کی زندگی میں طوفان آئے اور آسمان خاموش لگے، تو مرقس 4:39 پر رُکیے۔ شاگردوں کی سب سے بڑی تکلیف طوفان نہیں تھی، یہ احساس تھا کہ "اُسے پروا نہیں"۔ وہ سوئے ہوئے تھے کیونکہ وہ تھکے ہوئے تھے، لاپروا نہیں۔ جب خدا خاموش ہوں تو اِس کا مطلب غیر حاضری نہیں۔
اور آخر میں، اپنی زندگی کو خود ایک چھوٹا سا نشان بنائیے۔ جب آپ اپنے دشمن کو معاف کرتے ہیں، جب آپ خاموشی سے کسی ضرورت مند کا بل ادا کرتے ہیں، جب آپ تنہا بوڑھے پڑوسی کے ساتھ وقت گزارتے ہیں، تو آپ آنے والی دنیا کا ایک چھوٹا سا نمونہ اِس دنیا میں رکھ دیتے ہیں۔ یہی وہ کام ہے جو یسوع نے اپنے پیروکاروں کے سپرد کیا۔
آئینہ
آپ سے ایک سیدھا سوال۔ آپ یسوع سے کیا چاہتے ہیں: اُنہیں، یا اُن کی روٹی؟
ہم میں سے اکثر کا ایمان ایک سودے کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہم عبادت میں آتے ہیں تاکہ ہفتہ اچھا گزرے۔ ہم دیتے ہیں تاکہ ملے۔ ہم دعا کرتے ہیں تاکہ رپورٹ صاف آئے، نوکری بچ جائے، بیٹا راہ پر آ جائے۔ اور جب یہ نہیں ملتا تو ہمارے اندر کا کوئی کونہ خدا سے ناراض ہو جاتا ہے، چاہے ہم زبان سے یہ بات کبھی نہ کہیں۔ گلیل کی بھیڑ بھی یہی کر رہی تھی۔ وہ اگلی روٹی کے لیے جھیل کے دوسرے کنارے تک گئی، اور یسوع نے اُن کے دل کو بے نقاب کر دیا۔
اب دوسری طرف دیکھیے۔ شاید آپ وہ شخص ہیں جس نے مانگنا ہی چھوڑ دیا۔ آپ نے سالوں دعا کی، کچھ نہیں ہوا، اور اب آپ نے اپنی توقعات اتنی چھوٹی کر لی ہیں کہ مایوسی کی چوٹ نہ لگے۔ آپ خدا کو محفوظ فاصلے پر رکھتے ہیں، جیسے کوئی پرانا دوست جس سے اب امید نہیں رکھی جاتی۔ یہ عاجزی نہیں ہے، یہ ایک زخم ہے جسے آپ نے عقیدت کا لباس پہنا دیا ہے۔
قانا کے خادموں پر غور کیجیے۔ اُنہیں معلوم نہیں تھا کہ کیا ہونے والا ہے۔ اُنہیں بس ایک حکم ملا: مٹکے پانی سے بھر دو۔ بظاہر فضول کام، کیونکہ ضرورت مے کی تھی، پانی کی نہیں۔ اُنہوں نے کنارے تک بھر دیے، اور معجزہ اُن کے ہاتھوں میں ہوا۔ اُنہوں نے سمجھنے سے پہلے اطاعت کی۔
آپ کے پاس آج کون سا "پانی کا مٹکا" ہے؟ وہ معافی جو آپ ٹالتے آئے ہیں؟ وہ معذرت جو آپ کو کرنی ہے؟ وہ عادت جو آپ چھپاتے ہیں؟ وہ گفتگو جس سے آپ بھاگ رہے ہیں؟ خداوند آپ سے معجزے کی توقع نہیں مانگ رہے؛ وہ آپ سے اطاعت کا ایک قدم مانگ رہے ہیں۔ اور یہ حیرت انگیز حقیقت ہے کہ وہ اب بھی عام لوگوں کے عام کاموں کے ذریعے اپنا جلال ظاہر کرنا پسند کرتے ہیں۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو معجزوں کی کہانیاں بہت پسند آتی ہیں، اور یہی خطرہ بھی ہے۔ اگر ہم احتیاط نہ کریں تو یسوع اُن کے ذہن میں ایک جادوگر بن جاتے ہیں جو اپنی طاقت دکھاتا ہے۔ اِس لیے گھر میں بات کرتے وقت ہمیشہ دو سوال پوچھیے: یسوع نے یہ کیوں کیا، اور اِس سے ہمیں اُن کے بارے میں کیا پتا چلتا ہے؟
سادہ زبان میں یوں سمجھایا جا سکتا ہے: جب خدا نے دنیا بنائی تو سب کچھ خوبصورت اور ٹھیک تھا۔ کوئی بیمار نہیں ہوتا تھا، کوئی بھوکا نہیں رہتا تھا، کوئی ڈرتا نہیں تھا۔ پھر گناہ آیا اور دنیا ٹوٹ گئی، جیسے کوئی پیاری چیز گر کر ٹوٹ جائے۔ یسوع اُس ٹوٹی ہوئی دنیا کو ٹھیک کرنے آئے۔ جب اُنہوں نے کسی اندھے کو دیکھنے کی طاقت دی، تو گویا اُنہوں نے کہا، "ایک دن میں سب کچھ ایسا ہی ٹھیک کر دوں گا۔" معجزہ ایک چھوٹی سی جھلک ہے کہ آسمان کیسا ہو گا۔
بچوں کے ساتھ لعزر کی کہانی پڑھتے ہوئے یہ ضرور بتائیے کہ یسوع قبر پر رو پڑے۔ بچوں کو یہ جاننے کی ضرورت ہے کہ خداوند اُن کے دکھ پر روتے ہیں، صرف طاقت نہیں دکھاتے۔
فیتھ نیٹ ورک پر اِسی موضوع کی عمر کے لحاظ سے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال) تصویری اور کہانی کی شکل میں، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) سوال جواب اور سرگرمیوں کے ساتھ، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر) اُن کے اصل سوالات کے ساتھ، مثلاً کیا سائنس معجزوں کو جھٹلاتی ہے اور آج کیوں ایسا نہیں ہوتا۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چُنیے اور اُس کے ساتھ بیٹھ کر پڑھیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
یسوع نے کل کتنے معجزے کیے؟
انجیلوں میں تقریباً پینتیس معجزے تفصیل کے ساتھ درج ہیں، جن میں شفا، بدروحوں کا نکالنا، قدرت پر اختیار اور مُردوں کا جی اُٹھنا شامل ہیں۔ مگر یہ کل تعداد نہیں ہے۔ یوحنا 20:30 صاف کہتا ہے کہ یسوع نے اَور بھی بہت سے معجزے شاگردوں کے سامنے دکھائے جو اُس کتاب میں لکھے نہیں گئے، اور انجیلوں میں کئی جگہ خلاصے کے طور پر بتایا گیا ہے کہ اُنہوں نے "سب بیماروں کو" شفا دی۔ گنتی کرنا مقصد نہیں تھا؛ گواہی دینا مقصد تھا۔
یسوع کا پہلا معجزہ کون سا تھا؟
یوحنا کی انجیل کے مطابق پہلا معجزہ قانایِ گلیل کی شادی میں پانی کو مے میں بدلنا تھا۔ یوحنا 2:11 میں لکھا ہے کہ یہ پہلا معجزہ یسوع نے قانایِ گلیل میں دکھا کر اپنا جلال ظاہر کیا اور اُس کے شاگرد اُس پر ایمان لائے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ معجزہ کسی جان بچانے کے لیے نہیں تھا، بلکہ ایک خوشی کی تقریب کو مکمل کرنے کے لیے۔ یہ شروع ہی سے بتا دیتا ہے کہ خدا کی بادشاہی ایک ماتم نہیں، ایک ضیافت ہے۔
یوحنا کی انجیل میں "نشان" کہنے کا کیا مطلب ہے؟
یوحنا معجزے کے لیے وہ لفظ استعمال کرتا ہے جس کا مطلب "اشارہ" یا "نشانِ راہ" ہے۔ سڑک کے کنارے لگا بورڈ اپنی طرف توجہ نہیں کھینچتا، وہ منزل کی طرف انگلی اُٹھاتا ہے۔ اسی طرح ہر معجزہ یسوع کی شخصیت اور مشن کی طرف اشارہ کرتا ہے: روٹی کا نشان بتاتا ہے کہ وہ زندگی کی روٹی ہیں، اندھے کی آنکھیں کھلنا بتاتا ہے کہ وہ دنیا کا نور ہیں، اور لعزر کا جی اُٹھنا بتاتا ہے کہ وہ خود قیامت اور زندگی ہیں۔
کیا یسوع نے ہر بیمار شخص کو شفا دی؟
نہیں۔ بیت حسدا کے حوض پر بہت سے بیمار پڑے تھے، مگر انجیل بتاتی ہے کہ یسوع نے وہاں ایک شخص کو چنا۔ اپنے آبائی شہر ناصرۃ میں اُنہوں نے لوگوں کی بے اعتقادی کی وجہ سے بہت کم معجزے کیے۔ وہ کبھی بھیڑ کی مانگ پر نہیں بلکہ باپ کی مرضی کے مطابق کام کرتے تھے۔ اِس سے ایک اہم اصول نکلتا ہے: شفا یسوع کا فرض نہیں، اُن کا عطیہ ہے، اور اُسے دینے کا وقت اور طریقہ وہی مقرر کرتے ہیں۔
یسوع نے کئی بار لوگوں کو معجزے کے بارے میں خاموش رہنے کو کیوں کہا؟
مرقس کی انجیل میں یہ بار بار ہوتا ہے۔ اِس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ لوگ "معجزہ کرنے والے" کو غلط سمجھ رہے تھے۔ بہت سے لوگ ایک ایسے مسیح کی توقع کر رہے تھے جو رومی حکومت کا تختہ الٹ دے گا۔ اگر یسوع صرف شفا دینے والے کے طور پر مشہور ہو جاتے تو صلیب کا پیغام دب جاتا۔ وہ چاہتے تھے کہ لوگ اُنہیں معجزوں سے نہیں بلکہ اُن کی موت اور قیامت سے پہچانیں، کیونکہ اصل نجات وہیں سے آنی تھی۔
کیا آج بھی معجزے ہوتے ہیں؟
ہاں، بائبل کہیں نہیں کہتی کہ خدا نے کام کرنا بند کر دیا۔ عبرانیوں کا مصنف لکھتا ہے کہ خدا اپنی مرضی کے موافق نشانوں اور عجیب کاموں اور طرح طرح کے معجزوں کے ذریعے گواہی دیتا رہا، اور یہ فقرہ "اپنی مرضی کے موافق" بہت اہم ہے۔ دنیا بھر سے آج بھی ایسی رپورٹیں آتی ہیں جن کی کوئی طبی وضاحت نہیں۔ مگر معجزہ خدا کے قابو میں ہے، ہمارے فارمولے کے قابو میں نہیں، اور کلیسیا کی بنیاد معجزوں پر نہیں بلکہ مسیح کے کلام پر ہے۔
اگر میں دعا کروں اور شفا نہ ملے تو کیا میرا ایمان کمزور ہے؟
نہیں، اور یہ بات بہت زور دے کر کہنے کی ضرورت ہے۔ پولس رسول کے ایمان پر کون شک کر سکتا ہے، مگر اُس کا کانٹا دور نہیں ہوا اور خداوند نے فرمایا کہ میرا فضل تیرے لئے کافی ہے کیونکہ میری قدرت کمزوری میں پوری ہوتی ہے۔ جواب نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے کافی یقین نہیں کیا۔ ہم اُس درمیانی وقت میں جی رہے ہیں جہاں بادشاہی آ چکی ہے مگر ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ کامل شفا آ رہی ہے، مگر اُس کا دن خدا نے مقرر کیا ہے۔
یسوع کے معجزوں اور موسیٰ یا ایلیاہ کے معجزوں میں کیا فرق ہے؟
سب سے بڑا فرق اختیار کا ہے۔ موسیٰ اور ایلیاہ نے خدا سے دعا کی اور خدا نے اُن کے ذریعے کام کیا؛ وہ نالی تھے، سرچشمہ نہیں۔ یسوع نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔ اُنہوں نے کہا "خاموش رہ! تھم جا!" اور طوفان تھم گیا؛ اُنہوں نے کہا "اَے لعزر نکل آ" اور مُردہ نکل آیا۔ اسی لیے شاگرد ڈر گئے اور پوچھنے لگے کہ یہ کون ہے۔ معجزہ کرنے والا نبی حیرت پیدا کرتا ہے؛ اپنے ہی اختیار سے حکم دینے والا سوال پیدا کرتا ہے کہ یہ شخص کون ہے۔
یسوع کا سب سے بڑا معجزہ کون سا تھا؟
اُن کی اپنی قیامت۔ باقی تمام معجزے عارضی تھے: لعزر دوبارہ مرا، شفا پانے والے آخرکار بوڑھے ہوئے اور فوت ہوئے، کھلائی گئی بھیڑ اگلے دن پھر بھوکی ہوئی۔ مگر مسیح کا جی اُٹھنا ناقابلِ واپسی ہے۔ اعمال 2:22 میں پطرس معجزوں کا ذکر صرف تمہید کے طور پر کرتا ہے؛ اُس کی تقریر کا اصل مرکز یہ اعلان ہے کہ خدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا۔ قیامت وہ معجزہ ہے جس پر باقی سب کا وزن ٹکا ہوا ہے۔
کیا یسوع نے کبھی معجزہ کرنے سے انکار کیا؟
جی ہاں، کئی بار۔ بیابان میں ابلیس نے کہا کہ پتھروں کو روٹی بنا دو، مگر خداوند نے انکار کیا۔ فریسیوں نے آسمان سے نشان مانگا تو اُنہوں نے کہا کہ یوناہ نبی کے نشان کے سوا کوئی نشان نہ دیا جائے گا۔ ہیرودیس اُن کی ملاقات کا منتظر تھا کہ شاید کوئی تماشا دیکھنے کو ملے، مگر یسوع نے اُسے ایک لفظ کا جواب بھی نہ دیا۔ معجزہ کبھی تجسس مٹانے یا خود کو ثابت کرنے کے لیے نہیں کیا گیا۔
کیا معجزے سائنس کے خلاف ہیں؟
نہیں۔ سائنس یہ بیان کرتی ہے کہ عام حالات میں چیزیں کیسے کام کرتی ہیں؛ وہ یہ ثابت نہیں کر سکتی کہ خالق اپنی تخلیق میں کچھ نیا نہیں کر سکتا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ معجزہ صرف اُسی صورت میں معجزہ کہلاتا ہے جب ہمیں عام قاعدہ معلوم ہو۔ یوسف جانتا تھا کہ کنواری سے بچہ پیدا نہیں ہوتا، اسی لیے وہ پریشان ہوا۔ شاگرد جانتے تھے کہ مُردے قبر سے نہیں نکلتے، اسی لیے وہ دنگ رہ گئے۔ ایمان حقیقت سے انکار نہیں کرتا، وہ حقیقت کے اوپر ایک بڑی حقیقت کو جانتا ہے۔
یسوع نے کتنے لوگوں کو مُردوں میں سے زندہ کیا؟
انجیلوں میں تین واقعات تفصیل سے بیان ہوئے ہیں: یائیر کی بیٹی، جسے اُنہوں نے اُسی دن زندہ کیا جب وہ ابھی بستر پر تھی؛ نائن شہر کی بیوہ کا اکلوتا بیٹا، جسے جنازے کے راستے میں روک کر جِلایا گیا؛ اور لعزر، جو چار دن سے قبر میں تھا۔ یوحنا 11:43 اِن میں سب سے زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، کیونکہ وہ سب سے ناممکن تھا۔ تینوں واقعات ایک ہی بڑھتی ہوئی سیڑھی بناتے ہیں جس کی آخری سیڑھی خود مسیح کی قبر ہے۔
اختتام میں
یسوع کے معجزے کبھی اپنی طرف توجہ نہیں مانگتے۔ وہ ایک کھلی کھڑکی کی طرح ہیں جس میں سے آپ ایک لمحے کے لیے اُس دنیا کو دیکھ لیتے ہیں جو آ رہی ہے: جہاں کوئی مٹکا خالی نہیں رہے گا، کوئی چارپائی ضرورت کی نہ ہو گی، کوئی طوفان نہ ڈرائے گا، کوئی ٹوکری کم نہ پڑے گی، اور کوئی قبر بند نہ رہے گی۔
اسی لیے معجزہ ہمیں تماشا دیکھنے کو نہیں، بلکہ ایک فیصلے کی طرف بلاتا ہے۔ وہی سوال جو کشتی میں شاگردوں کے ہونٹوں پر آیا تھا، آج بھی ہر پڑھنے والے کے سامنے کھڑا ہے: یہ کون ہے؟
اگر آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں تو یوحنا کی انجیل کو شروع سے آخر تک پڑھیے اور ہر نشان کے بعد رُک کر یہ سوال لکھ لیجیے کہ یہ معجزہ یسوع کے بارے میں کیا کہہ رہا ہے۔ یا مرقس کی انجیل کے پہلے پانچ ابواب پر غور کیجیے، جہاں اختیار کے پے در پے مظاہرے ایک ہی بات کی طرف لے جاتے ہیں۔ اور جب آپ پڑھیں تو صرف معلومات جمع نہ کیجیے۔ دعا میں خداوند سے کہیے کہ وہ آپ کو وہ نظر دیں جو نشان کے پیچھے کھڑے شخص کو پہچان لے۔ کیونکہ آخرکار ہمیں معجزے کی نہیں، معجزہ کرنے والے کی ضرورت ہے۔
