رومیوں کے خط کا تعارف اور پیغام
تعارف
کرنتھس شہر کی ایک سردیوں کی رات۔ ایک ادھیڑ عمر آدمی کمرے میں ٹہل رہا ہے اور بول رہا ہے، اور ایک اور آدمی، ترتیُس، قلم ہاتھ میں لیے لکھتا جا رہا ہے۔ بولنے والے کے ذہن میں ایک نقشہ ہے: یروشلیم، جہاں اسے چندہ پہنچانا ہے؛ روم، جہاں وہ کبھی نہیں گیا؛ اور اسپین، جو اُس زمانے کی دنیا کا آخری کنارہ سمجھا جاتا تھا۔ اُس کے پاس وقت کم ہے، جسم تھکا ہوا ہے، اور دل میں ایک خواہش ہے کہ روم کی کلیسیا اُس کے اگلے سفر میں شریک ہو۔ یہ خط کسی مدرسے کی ڈیسک پر لکھا گیا مقالہ نہیں، یہ ایک سفر پر نکلے ہوئے خادم کا خط ہے، جسے فیبے نامی ایک بہن اپنے تھیلے میں رکھ کر سمندر پار لے گئی۔
اس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ رومیوں کا خط کیوں لکھا گیا، کس ترتیب سے بُنا گیا ہے، اس کی بڑی آیات کا اصل مطلب کیا ہے، اور یہ خط آج آپ کی میز، آپ کے گھر اور آپ کی کلیسیا کو کس طرح بدلنا چاہتا ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
زیادہ تر لوگ رومیوں کے خط کو "مسیحی عقیدے کی درسی کتاب" کے طور پر پڑھتے ہیں۔ ہم اسے اُس طرح پڑھیں گے جس طرح یہ لکھا گیا تھا: ایک مشنری خط، جس کے ساتھ سفر کا نقشہ اور ٹکٹ لگا ہوا تھا۔ پولس راستبازی کی تعلیم اس لیے نہیں دے رہا کہ بحث جیتے، بلکہ اس لیے کہ روم کی کلیسیا میں یہودی اور غیر یہودی ایمان دار ایک ہی میز پر بیٹھ سکیں، اور وہ متحد کلیسیا اُسے اسپین تک بھیج سکے۔ اس زاویے سے پڑھنے پر نویں سے گیارھویں باب اور چودھویں باب "مشکل ضمیمے" نہیں رہتے، وہ خط کا دل بن جاتے ہیں۔
انجیل کوئی نظریہ نہیں، ایک سفر ہے۔
بائبل رومیوں کے خط کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
خط اپنی پہلی ہی سطر میں اپنا لکھنے والا بتا دیتا ہے: "پولس کی طرف سے جو یسوع مسیح کا بندہ ہے اور رسول ہونے کے لئے بلایا گیا" (رومیوں 1:1)۔ کلیسیا کی تاریخ میں اس پر کبھی سنجیدہ اختلاف نہیں رہا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ خط لکھا پولس نے، مگر ہاتھ کسی اور کا تھا؛ سولھویں باب میں وہ کاتب خود بول اٹھتا ہے: "مجھ ترتیُس کا جو یہ خط لکھتا ہوں تم کو خداوند میں سلام" (رومیوں 16:22)۔ تاریخ دانوں کے مطابق یہ خط تقریباً ۵۶ سے ۵۸ عیسوی کے درمیان کرنتھس (یا اُس کے قریب کنخریہ) سے لکھا گیا، پولس کے تیسرے مشنری سفر کے اختتام پر، جب وہ یونان میں تین مہینے ٹھہرا (اعمال 20:2-3)۔ سولھویں باب میں گیُس کے مہمان ہونے کا ذکر اور فیبے کا تعارف اسی شہر کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔
روم کی کلیسیا کو کسی رسول نے قائم نہیں کیا تھا۔ غالباً پنتِکُست کے دن یروشلیم میں موجود "روم کے مسافر" (اعمال 2:10) اپنے ساتھ خوشخبری لے گئے، اور سلطنت کی راجدھانی میں گھریلو جماعتیں بننے لگیں۔ پھر ایک بڑا واقعہ ہوا: شہنشاہ کلودیُس نے یہودیوں کو روم سے نکال دیا (اعمال 18:2)۔ کئی سال تک روم کی کلیسیا تقریباً پوری طرح غیر یہودی رہی۔ کلودیُس کی موت کے بعد جب یہودی ایمان دار واپس آئے تو انہوں نے دیکھا کہ کلیسیا کی زبان، رسم و رواج اور قیادت بدل چکی ہے۔ کون کس کو قبول کرے؟ کس کا کھانا صحیح ہے؟ کون سا دن مقدّس ہے؟ چودھواں باب ہوا میں لکھا گیا فلسفہ نہیں، یہ اُسی زخم پر رکھا ہوا مرہم ہے۔
اسی پس منظر میں پولس اپنے خط کا مرکزی اعلان کرتا ہے: "کیونکہ میں انجیل سے شرماتا نہیں۔ اِس لئے کہ وہ ہر ایک ایمان لانے والے کے واسطے نجات کے لئے خدا کی قدرت ہے۔ پہلے یہودی کے لئے پھر یونانی کے لئے" (رومیوں 1:16)۔ غور کیجیے، اس ایک آیت میں دونوں باتیں ہیں: نجات کی قدرت اور دونوں گروہوں کی ترتیب۔ انجیل صرف فرد کو بچاتی نہیں، وہ دیوار بھی گراتی ہے۔ اگلی آیت اس کی بنیاد رکھتی ہے: "کیونکہ اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے اور ایمان کے لئے ظاہر ہوتی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے کہ راستباز ایمان سے جیتا رہے گا" (رومیوں 1:17)۔
پھر پولس ایک لمبی اور بے رحم تشخیص کرتا ہے: بت پرست قومیں، پارسا اخلاقی لوگ، اور شریعت رکھنے والے یہودی، سب ایک ہی عدالت میں کھڑے ہیں۔ اس کا نتیجہ ایک جملے میں نکلتا ہے: "اِس لئے کہ سب نے گناہ کیا اور خدا کے جلال سے محروم ہیں" (رومیوں 3:23)۔ یہ آیت کسی کو ذلیل کرنے کے لیے نہیں لکھی گئی، بلکہ میز برابر کرنے کے لیے: اگر سب محروم ہیں تو کوئی دوسرے سے اوپر بیٹھ کر فضل نہیں بانٹ سکتا۔
اسی کھائی پر خدا کی محبت کا پل باندھا جاتا ہے: "لیکن خدا اپنی محبت کی خوبی ہم پر یوں ظاہر کرتا ہے کہ جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا" (رومیوں 5:8)۔ اور اس کے ساتھ وہ مشہور توازن: "کیونکہ گناہ کی مزدوری موت ہے مگر خدا کی بخشش ہمارے خداوند مسیح یسوع میں ہمیشہ کی زندگی ہے" (رومیوں 6:23)۔ مزدوری کمائی جاتی ہے، بخشش قبول کی جاتی ہے؛ یہی پورے خط کا دھڑکتا ہوا دل ہے۔
اور یہ سب کسی دور کی تعلیم نہیں رہتا، کیونکہ دسویں باب میں پولس نجات کو اتنا قریب لے آتا ہے جتنا آپ کا اپنا منہ اور آپ کا اپنا دل: "کہ اگر تو اپنی زبان سے یسوع کے خداوند ہونے کا اقرار کرے اور اپنے دل سے ایمان لائے کہ خدا نے اُسے مُردوں میں سے جِلایا تو نجات پائے گا" (رومیوں 10:9)۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
رومیوں کا خط پرانے عہد نامے کے بغیر پڑھا ہی نہیں جا سکتا۔ پولس تقریباً ساٹھ بار پرانے عہد نامے کا حوالہ دیتا ہے، اور اُس کی دلیل کا ڈھانچہ اسرائیل کی کہانی پر کھڑا ہے۔ وہ آدم سے شروع کرتا ہے: ایک آدمی کی نافرمانی سے گناہ اور موت دنیا میں داخل ہوئے (رومیوں 5:12)، اور ایک آدمی کی فرماں برداری سے بہتوں کو راستبازی ملی۔ یوں پیدایش کے تیسرے باب کا زخم اور گلگتا کی صلیب ایک ہی کہانی کے دو سرے بن جاتے ہیں۔
پھر وہ ابرہام کو گواہ کے طور پر بلاتا ہے۔ ابرہام کے پاس نہ شریعت تھی، نہ ختنہ، جب خدا نے اُس کے بارے میں یہ لکھوایا: "اور وہ خداوند پر ایمان لایا اور اُس نے اِسے اُس کے لئے راستبازی شمار کیا" (پیدایش 15:6)۔ پولس کے لیے یہ آیت فیصلہ کن ہے، کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایمان سے راستباز ٹھہرنا کوئی نئی ایجاد نہیں؛ یہ وہی پرانا راستہ ہے جس پر قوموں کا باپ چلا تھا۔ اسی طرح داؤد کی زبان سے وہ معافی کی برکت سناتا ہے (زبور 32:1-2)، اور حبقوق نبی سے اپنا کلیدی فقرہ لیتا ہے کہ "راستباز اپنے ایمان سے جیتا رہے گا" (حبقوق 2:4)۔
قربانی کا پورا نظام بھی یہاں پورا ہوتا ہے۔ جب پولس کہتا ہے کہ خدا نے مسیح یسوع کو "اُس کے خون کے باعث ایمان لانے سے کفّارہ ٹھہرایا" (رومیوں 3:25)، تو اُس کے ذہن میں عہد کے صندوق کا سرپوش ہے، وہ جگہ جہاں کفّارہ کے دن خون چھڑکا جاتا تھا۔ جو کچھ لاویوں کی کتاب میں سایہ تھا، وہ صلیب پر جسم بن کر سامنے آ گیا۔ اسی طرح آٹھویں باب میں غلامی سے آزادی، بیابان میں روح کی راہنمائی، لے پالک بیٹوں کی حیثیت اور میراث کی اُمید، یہ سب خروج کی کہانی کی بازگشت ہیں، مگر اب ایک بڑے خروج کی صورت میں۔
اور پھر نویں سے گیارھویں باب آتے ہیں، جہاں پولس سب سے کڑوا سوال اٹھاتا ہے: اگر انجیل سچی ہے تو خدا کی اپنی قوم کا کیا بنا؟ کیا خدا کا کلام بے اثر ہو گیا؟ اُس کا جواب زیتون کے درخت کی تصویر ہے، جس میں جنگلی شاخیں پیوند کی گئیں اور ٹوٹی ہوئی شاخیں پھر جوڑی جا سکتی ہیں۔ یہ بحث اُس کے مشنری مقصد سے جڑی ہوئی ہے: جو کلیسیا اسرائیل پر فخر کرنے لگے، وہ دنیا کو انجیل نہیں پہنچا سکتی۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہ حصہ عبادت پر ختم کرتا ہے: "واہ! خدا کی دولت اور حکمت اور علم کیا ہی عمیق ہے!" (رومیوں 11:33)۔
کینن کے اندر رومیوں کا خط اعمال کے فوراً بعد آتا ہے، اور یہ ترتیب بامعنی ہے۔ اعمال میں ہم انجیل کو یروشلیم سے روم تک سفر کرتے دیکھتے ہیں؛ رومیوں میں ہم اُس انجیل کے اندر جھانکتے ہیں جو یہ سفر کر رہی تھی۔ یہ خط انجیلوں اور باقی رسولی خطوط کے درمیان ایک پُل ہے: وہ یسوع کی موت اور قیامت کا مطلب کھولتا ہے، اور پھر اُس مطلب کو ایک جیتی جاگتی جماعت کی روزمرہ زندگی میں اتار دیتا ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
خط کی عمارت سات منزلوں میں کھڑی ہوتی ہے، اور ہر منزل اگلی کو سہارا دیتی ہے۔ پہلا حصہ (رومیوں 1:1-17) تعارف اور مرکزی مقالہ ہے: پولس اپنا تعارف "انجیل کے لئے مخصوص" خادم کے طور پر کراتا ہے، روم آنے کی اپنی دیرینہ آرزو بیان کرتا ہے، اور پھر وہ دو آیتیں رکھتا ہے جن پر باقی سارا خط ٹکا ہوا ہے: انجیل خدا کی قدرت ہے، اور اُس میں خدا کی راستبازی ایمان سے ظاہر ہوتی ہے۔
دوسرا حصہ (رومیوں 1:18 سے 3:20) تشخیص ہے۔ پولس پہلے قوموں کی بت پرستی اور بگاڑ کا نقشہ کھینچتا ہے، پھر اچانک انگلی اُس قاری کی طرف موڑ دیتا ہے جو سر ہلا کر یہ سب سن رہا تھا: "پس اے عیب لگانے والے! تو جو کوئی ہو لاجواب ہے" (رومیوں 2:1)۔ آخر میں شریعت رکھنے والے بھی اُسی عدالت میں آ جاتے ہیں، اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ شریعت کے کاموں سے کوئی بشر راستباز نہیں ٹھہرے گا؛ شریعت کا کام گناہ کی پہچان کرانا ہے۔
تیسرا حصہ (رومیوں 3:21 سے 5:21) علاج ہے: راستبازی جو خدا کی طرف سے مفت دی جاتی ہے، مسیح کے خون کے وسیلے سے، ایمان کے ذریعے۔ ابرہام کی مثال، صلح، رسائی، اُمید، اور آدم و مسیح کا موازنہ، سب اسی حصے میں ہیں۔ راستبازی کمائی نہیں جاتی، پہنائی جاتی ہے۔
چوتھا حصہ (رومیوں 6 سے 8) اُس اعتراض کا جواب ہے جو فضل کی منادی کے بعد ہمیشہ اٹھتا ہے: "تو کیا ہم گناہ کرتے رہیں تاکہ فضل زیادہ ہو؟" پولس بپتسمہ، غلامی اور آزادی، شادی کی مثال، شریعت کے ساتھ کشمکش، اور پھر روح کی زندگی کے ذریعے دکھاتا ہے کہ ایمان دار گناہ کے لیے مُردہ اور خدا کے لیے زندہ ہے۔ آٹھواں باب پورے خط کی چوٹی ہے: کوئی سزا کا حکم نہیں، روح کی گواہی، تمام خلقت کا کراہنا، اور وہ محبت جس سے ہمیں کوئی چیز جدا نہیں کر سکتی۔
پانچواں حصہ (رومیوں 9 سے 11) اسرائیل اور خدا کی وفاداری کا مسئلہ ہے۔ بہت سے قارئین اسے چھلانگ لگا کر چھوڑ جاتے ہیں، مگر اس خط کے مقصد کو سامنے رکھیں تو یہ حصہ لازمی ہے: پولس ایک ملی جلی کلیسیا کو سکھا رہا ہے کہ خدا نے اپنے وعدے نہیں توڑے، اور غیر یہودی ایمان داروں کے پاس فخر کرنے کی کوئی وجہ نہیں۔
چھٹا حصہ (رومیوں 12:1 سے 15:13) عمل ہے۔ "پس" کے لفظ سے شروع ہو کر وہ بدن کو زندہ قربانی کے طور پر پیش کرنے، جسم کے اعضا کی طرح مل جل کر خدمت کرنے، بے ریا محبت، دشمنوں سے سلوک، حکومت کے ساتھ رویہ، اور کمزور اور مضبوط ایمان والوں کے باہمی قبول پر بات کرتا ہے۔ یہاں خط کا زاویہ کھل کر سامنے آتا ہے: ساری دینیات اس عملی نتیجے کی طرف دوڑ رہی تھی کہ "تم بھی ایک دوسرے کو اپنے ساتھ شامل کرو" (رومیوں 15:7)۔
ساتواں حصہ (رومیوں 15:14 سے 16:27) سفر کا پروگرام اور سلام ہیں: یروشلیم کے لیے چندہ، اسپین کا ارادہ، فیبے کی سفارش، اور چھبیس سے زیادہ ناموں کی وہ فہرست جس میں مرد اور عورتیں، غلام اور آزاد، یہودی اور یونانی سب شامل ہیں۔ یہ فہرست ثبوت ہے کہ خط کا موضوع محض نظریہ نہیں تھا؛ یہ وہ لوگ تھے جنہیں ایک ساتھ بیٹھنا سیکھنا تھا۔
اس کتاب کی اہم آیات
رومیوں 1:16 کو ہم اکثر ایک جرأت مندانہ نعرے کے طور پر پڑھتے ہیں، مگر اس کا اصل وزن اُس ماحول میں کھلتا ہے جہاں پولس لکھ رہا تھا۔ روم کی شان دار سلطنت میں ایک مصلوب یہودی کے بارے میں بات کرنا شرم کی بات تھی؛ صلیب غلاموں کی سزا تھی۔ پولس کہتا ہے کہ وہ اس پیغام سے شرماتا نہیں، کیونکہ یہ "ہر ایک ایمان لانے والے کے واسطے نجات کے لئے خدا کی قدرت ہے"۔ یعنی انجیل صرف نجات کی خبر نہیں، وہ خود نجات کرنے والی قوت ہے؛ جب یہ پیغام سنایا جاتا ہے تو خدا کام کرتا ہے۔ اور "پہلے یہودی کے لئے پھر یونانی کے لئے" یہ بتاتا ہے کہ یہ قدرت کسی ایک قوم کی جاگیر نہیں۔
رومیوں 5:8 انجیل کا وقت بتاتی ہے۔ خدا نے ہمیں سدھرنے کا موقع دے کر انتظار نہیں کیا: "جب ہم گنہگار ہی تھے تو مسیح ہماری خاطر مؤا"۔ دنیا کی ہر محبت کسی نہ کسی خوبی کے جواب میں جاگتی ہے، مگر یہاں محبت وہاں پہنچی جہاں خوبی کا نام و نشان نہ تھا۔ یہی وجہ ہے کہ مسیحی یقین کسی اچھے دن یا بُرے دن پر نہیں، بلکہ ایک مکمل ہو چکے واقعے پر کھڑا ہے۔ اسی آیت سے سمجھ آتا ہے کہ رومیوں 8:28 کوئی سطحی تسلی نہیں: "اور ہم کو معلوم ہے کہ سب باتیں مل کر خدا سے محبت رکھنے والوں کے لئے بھلائی پیدا کرتی ہیں یعنی اُن کے لئے جو اُس کے ارادہ کے موافق بلائے گئے"۔ یہ آیت یہ نہیں کہتی کہ ہر چیز اچھی ہے، بلکہ یہ کہ جس باپ نے اپنے بیٹے کو ہمارے لیے دے دیا، وہ ہمارے دکھوں کو بھی بے مقصد نہیں رہنے دیتا، اور اگلی آیات بتاتی ہیں کہ وہ "بھلائی" کیا ہے: اپنے بیٹے کے ہم شکل ہونا۔
رومیوں 12:1 خط کا رخ موڑ دیتی ہے: "پس اے بھائیو! میں خدا کی رحمتیں یاد دِلا کر تم سے التماس کرتا ہوں کہ اپنے بدن ایسی قربانی ہونے کے لئے نذر کرو جو زندہ اور پاک اور خدا کو پسندیدہ ہو۔ یہی تمہاری معقول عبادت ہے"۔ غور کیجیے کہ بنیاد حکم نہیں بلکہ "خدا کی رحمتیں" ہیں؛ گیارہ ابواب کے فضل کے بعد ہی یہ التماس ممکن ہے۔ اور قربانی "بدن" کی ہے، یعنی وقت، ہاتھ، زبان، جنسی زندگی، نیند، کام کی جگہ۔ عبادت مندر کے دروازے پر ختم نہیں ہوتی، وہ وہاں سے شروع ہوتی ہے۔
پڑھنے کا عملی منصوبہ
رومیوں کے خط کو ٹکڑوں میں چکھنے کے بجائے ایک نشست میں سننے سے شروع کیجیے۔ اسے پڑھنے میں تقریباً ایک گھنٹہ لگتا ہے، اور جب آپ اسے مسلسل سنیں گے تو دلیل کی روانی خود سمجھ آنے لگے گی، بالکل اُسی طرح جیسے روم کی گھریلو جماعتوں نے پہلی بار سنا تھا۔
اس کے بعد چار ہفتوں کا سفر مفید رہتا ہے۔ پہلے ہفتے میں پہلے سے چار ابواب پڑھیے اور ایک ہی سوال ذہن میں رکھیے: میرا مسئلہ کیا ہے اور خدا کا حل کیا ہے۔ دوسرے ہفتے میں پانچ سے آٹھ ابواب، جہاں آپ صلح، آزادی اور روح کی زندگی سے ملیں گے؛ آٹھویں باب کو دو یا تین بار پڑھیے، ہو سکے تو بلند آواز میں۔ تیسرے ہفتے میں نو سے گیارہ ابواب، آہستہ اور عاجزی کے ساتھ، اور ہر مشکل جملے کو دعا میں بدل دیجیے؛ یاد رکھیے کہ پولس خود بھی یہ حصہ عبادت پر ختم کرتا ہے، بحث پر نہیں۔ چوتھے ہفتے میں بارہ سے سولہ ابواب، اور ہر دن ایک عملی سوال: آج میرے بدن کی کون سی چیز خدا کے حوالے ہونی ہے۔
ساتھ میں ایک کاپی رکھیے اور دو خانے بنائیے: ایک میں وہ آیتیں جو آپ کو تسلی دیتی ہیں، دوسرے میں وہ جو آپ کو بے چین کرتی ہیں۔ ہفتے کے آخر میں دونوں خانوں پر دعا کیجیے۔ اور اگر ممکن ہو تو یہ خط کسی ایک ساتھی کے ساتھ پڑھیے، کیونکہ یہ خط لکھا ہی اس لیے گیا تھا کہ لوگ اسے مل بیٹھ کر سنیں۔
آئینہ
اب ایک لمحے کے لیے آیتوں سے نظر ہٹا کر اپنے دل کی طرف دیکھیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ فضل سے بچائے گئے ہیں؛ یہ آپ گواہی میں بھی بتاتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ آپ کی میز پر کون بیٹھتا ہے؟ کلیسیا میں وہ شخص جس کا طور طریقہ آپ کو دیہاتی لگتا ہے، وہ خاندان جو آپ سے کم پڑھا لکھا ہے، وہ بہن جو آپ کی برادری سے نہیں، وہ بھائی جو عبادت میں ہاتھ نہیں اٹھاتا یا بہت زیادہ اٹھاتا ہے، کیا وہ آپ کے گھر کا کھانا کھا چکا ہے؟ پولس گیارہ باب تک راستبازی سمجھاتا ہے اور پھر سیدھا کھانے کے جھگڑے پر آ جاتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ عقیدہ کہاں ٹوٹتا ہے۔ فضل جو میز نہیں بدلتا، وہ فضل نہیں۔
اور اپنے کام کے بارے میں سوچیے۔ "اپنے بدن نذر کرو" کا مطلب ہے کہ دفتر میں آپ کا جھوٹ، موبائل پر آپ کی تنہائی میں کی گئی حرکتیں، گھر میں آپ کی چڑچڑاہٹ اور بیوی یا شوہر کے ساتھ آپ کا لہجہ، یہ سب عبادت کے دائرے میں ہیں۔ رومیوں کا خط آپ کو یہ آسانی نہیں دیتا کہ آپ اتوار کو روحانی اور پیر کو عملی انسان بن جائیں۔
مگر یہی خط آپ کو آزاد بھی کرتا ہے۔ اگر آپ برسوں سے اس احساس کے ساتھ جی رہے ہیں کہ خدا آپ سے ناراض ہے، کہ آپ کا ماضی آپ کا پیچھا نہیں چھوڑے گا، کہ آپ کافی اچھے نہیں، تو آٹھویں باب کی پہلی آیت آپ کے لیے لکھی گئی ہے: "پس اب جو مسیح یسوع میں ہیں اُن پر سزا کا حکم نہیں" (رومیوں 8:1)۔ آپ کی قبولیت آپ کی کارکردگی پر نہیں، مسیح کے کام پر کھڑی ہے۔ اور جو شخص اپنی قبولیت کے لیے لڑنا چھوڑ دیتا ہے، وہی دوسروں کو دل کھول کر قبول کرنا سیکھتا ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو رومیوں کا خط سمجھانے کا آسان راستہ یہ ہے کہ اسے ایک خط ہی رہنے دیا جائے۔ انہیں بتائیے کہ پولس چاچا بہت دور کے شہر روم میں رہنے والے اپنے دوستوں کو خط لکھ رہے ہیں، جن سے وہ کبھی ملے نہیں، اور ایک بہن فیبے وہ خط اپنے تھیلے میں رکھ کر جہاز میں لے جاتی ہیں۔ پھر خط کا پیغام تین سادہ جملوں میں رکھیے: ہم سب سے غلطیاں ہوتی ہیں اور کوئی بھی اپنے آپ کو صاف نہیں کر سکتا؛ خداوند یسوع نے ہماری جگہ لے کر ہمیں صاف کیا، اور یہ تحفہ ہے، کمائی نہیں؛ اب ہم خوشی سے خدا کی سنتے ہیں اور ایک دوسرے سے پیار کرتے ہیں، چاہے ہم ایک جیسے نہ ہوں۔
ایک اچھی تصویر یہ ہے: گندے ہاتھوں سے کھانا کھانے کی اجازت نہیں ہوتی، مگر یسوع ہمارے ہاتھ خود دھو دیتے ہیں تاکہ ہم اُن کی میز پر بیٹھ سکیں۔ چھوٹے بچوں کے لیے اتنا ہی کافی ہے؛ ان پر "راستبازی" اور "کفّارہ" جیسے الفاظ کا بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں، وہ بعد میں آئیں گے۔
عمر کے مطابق بات کرنا ضروری ہے۔ تین سے چھ سال کے بچوں کو کہانی اور تصویر چاہیے، سات سے بارہ سال کے بچے سوال پوچھنا شروع کر دیتے ہیں اور انہیں مثالوں کے ساتھ وضاحت چاہیے، جبکہ بارہ سال سے اوپر کے نوجوان انصاف، گناہ، آزادی اور شناخت جیسے سوالات پر سنجیدہ گفتگو کے لیے تیار ہوتے ہیں۔ ہماری ویب سائٹ پر ان تینوں عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں، تاکہ آپ اپنے بچے کی عمر کے مطابق درست الفاظ چن سکیں اور گھر کی عبادت میں یہ خط ایک بوجھ نہیں، ایک خوشخبری بن کر آئے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
رومیوں کا خط کس نے لکھا؟
یہ خط پولس رسول نے لکھوایا، جیسا کہ پہلی ہی آیت میں درج ہے، اور کلیسیا کی تاریخ میں اس پر کبھی سنجیدہ اختلاف نہیں ہوا۔ البتہ لکھنے والا ہاتھ ترتیُس کا تھا، جو ایک پیشہ ور کاتب معلوم ہوتا ہے اور جو خود سولھویں باب میں قارئین کو سلام بھیجتا ہے: "مجھ ترتیُس کا جو یہ خط لکھتا ہوں تم کو خداوند میں سلام" (رومیوں 16:22)۔ اُس زمانے میں بولا ہوا خط لکھوانا عام رواج تھا، اس لیے خط کا اسلوب پولس کا ہے، اگرچہ قلم کسی اور کا تھا۔
رومیوں کا خط کب اور کہاں لکھا گیا؟
عام رائے یہ ہے کہ یہ خط تقریباً ۵۶ سے ۵۸ عیسوی کے درمیان یونان کے شہر کرنتھس سے لکھا گیا، پولس کے تیسرے مشنری سفر کے آخری حصے میں، جب وہ یروشلیم کے غریب ایمان داروں کے لیے جمع کیا ہوا چندہ لے جانے کو تیار تھا۔ اس نتیجے کی بنیاد خط کے اندرونی شواہد ہیں: گیُس کے مہمان ہونے کا ذکر، کنخریہ کی کلیسیا کی خادمہ فیبے کی سفارش، اور یروشلیم، روم اور اسپین کے سفر کا بیان کردہ پروگرام، جو اعمال 20:1-3 کی روداد سے میل کھاتا ہے۔
رومیوں کے خط کا مرکزی پیغام کیا ہے؟
مرکزی پیغام یہ ہے کہ خدا نے مسیح یسوع میں اپنی راستبازی ظاہر کی ہے، اور یہ راستبازی ہر ایمان لانے والے کو مفت ملتی ہے، خواہ وہ یہودی ہو یا غیر یہودی۔ پولس پہلے ثابت کرتا ہے کہ سب گناہ کے نیچے ہیں، پھر دکھاتا ہے کہ مسیح کی موت اور قیامت کے وسیلے سے گنہگار راستباز ٹھہرایا جاتا ہے، پھر سمجھاتا ہے کہ روح القدس اُسے نئی زندگی میں چلاتا ہے، اور آخر میں اس سب کا عملی نتیجہ نکالتا ہے: ایک دوسرے کو قبول کرنا اور خدا کے حوالے زندگی گزارنا۔
کیا پولس رسول کبھی روم پہنچا؟
ہاں، مگر اُس طرح نہیں جیسا اُس نے سوچا تھا۔ جب یہ خط لکھا گیا تو وہ ایک آزاد مسافر کے طور پر روم جانا چاہتا تھا تاکہ وہاں سے اسپین کے لیے روانہ ہو۔ اعمال کی کتاب بتاتی ہے کہ وہ یروشلیم میں گرفتار ہوا، قیصر کے سامنے اپیل کی، سمندری طوفان اور جہاز کی تباہی سے گزرا، اور آخرکار ایک قیدی کی حیثیت سے روم پہنچا، جہاں وہ دو سال تک کرائے کے مکان میں رہ کر خدا کی بادشاہی کی منادی کرتا رہا۔
"راستباز ٹھہرایا جانا" کا کیا مطلب ہے؟
یہ عدالت کی زبان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا، جو منصف ہے، گنہگار کے حق میں فیصلہ سناتا ہے اور اُسے راستباز قرار دیتا ہے، اس بنیاد پر نہیں کہ اُس نے اچھے کام کیے، بلکہ اس بنیاد پر کہ مسیح نے اُس کی جگہ لی۔ پولس اسے "بخشش" کہتا ہے، کیونکہ یہ کمائی ہوئی مزدوری نہیں۔ راستباز ٹھہرائے جانے کا نتیجہ خدا کے ساتھ صلح، اُس کے فضل تک رسائی، اور جلال کی اُمید ہے، جیسا کہ پانچویں باب کی ابتدا میں بیان ہوا ہے۔
رومیوں 8:28 کا مطلب کیا ہے کہ سب باتیں بھلائی پیدا کرتی ہیں؟
اس آیت کا مطلب یہ نہیں کہ ہر واقعہ بذاتِ خود اچھا ہے؛ بیماری بیماری ہی رہتی ہے اور ظلم ظلم۔ پولس یہ کہہ رہا ہے کہ خدا اپنی حاکمیت میں ان تمام باتوں کو ملا کر اپنے بچوں کے لیے بھلائی پیدا کرتا ہے، اور اگلی آیت واضح کرتی ہے کہ وہ بھلائی کیا ہے: اپنے بیٹے کے ہم شکل بننا۔ یہ آیت تکلیف کا انکار نہیں کرتی بلکہ تکلیف کے اوپر ایک باپ کا ہاتھ دکھاتی ہے، اسی لیے یہ وعدہ خاص طور پر "خدا سے محبت رکھنے والوں" سے کیا گیا ہے۔
رومیوں 9 سے 11 باب اتنے مشکل کیوں لگتے ہیں؟
کیونکہ وہ ہمارے سب سے بڑے سوالات چھیڑتے ہیں: خدا کی برگزیدگی، انسان کی ذمہ داری، اور اسرائیل کا مستقبل۔ مگر یہ ابواب فلسفیانہ بحث کے لیے نہیں لکھے گئے؛ ان کی شروعات پولس کے آنسوؤں سے ہوتی ہے اور انجام عبادت پر۔ اگر انہیں اس خط کے مقصد کے ساتھ پڑھا جائے، یعنی یہودی اور غیر یہودی ایمان داروں کا باہمی قبول، تو ان کا پیغام صاف ہے: خدا نے اپنے وعدے نہیں توڑے، اور کسی کو دوسرے پر فخر کرنے کا حق نہیں۔
کیا رومیوں اور یعقوب کا خط ایک دوسرے کے خلاف ہیں؟
نہیں۔ پولس اُن لوگوں سے بات کر رہا ہے جو اپنے کاموں سے خدا کے سامنے قبول ہونا چاہتے ہیں، اور وہ کہتا ہے کہ یہ ناممکن ہے؛ یعقوب اُن لوگوں سے بات کر رہا ہے جو زبانی ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر اُن کی زندگی میں کوئی تبدیلی نہیں، اور وہ کہتا ہے کہ ایسا ایمان مُردہ ہے۔ دونوں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں: انسان صرف ایمان سے راستباز ٹھہرتا ہے، مگر جو ایمان راستباز ٹھہراتا ہے وہ کبھی اکیلا نہیں رہتا، وہ محبت اور فرماں برداری پیدا کرتا ہے۔
"روم کی راہ" یا رومن روڈ کیا ہے؟
یہ رومیوں کے خط سے چُنی ہوئی چند آیتوں کا سلسلہ ہے جو انجیل سنانے کے لیے استعمال ہوتا ہے: رومیوں 3:23 سے انسان کی حالت، رومیوں 6:23 سے گناہ کا انجام اور خدا کی بخشش، رومیوں 5:8 سے مسیح کی قربانی، اور رومیوں 10:9 سے ایمان اور اقرار کا جواب۔ یہ ترتیب مفید ہے اور بہت سے لوگ اسی راستے سے مسیح تک پہنچے ہیں، مگر یاد رکھیے کہ خود پولس ان آیتوں کو ایک بڑی کہانی کے اندر رکھتا ہے، اس لیے پورا خط پڑھنا اس فہرست کی جگہ نہیں لے سکتا۔
کیا رومیوں 13 کے مطابق ہر حکومت کی ہر بات ماننی چاہیے؟
رومیوں 13 سکھاتا ہے کہ حکومتی اختیار خدا کی طرف سے ایک انتظام ہے اور ایمان دار کو اچھا شہری ہونا چاہیے: ٹیکس دینا، امن سے رہنا، قانون کا احترام کرنا۔ مگر یہ بے شرط اطاعت کا حکم نہیں۔ جب حکومت وہ مانگے جو صرف خدا کا حق ہے، تو رسولوں کا اصول لاگو ہوتا ہے کہ انسانوں کی نسبت خدا کا حکم ماننا زیادہ واجب ہے۔ اس باب کا سیاق محبت ہے، اور محبت ظلم کے سامنے خاموشی نہیں سکھاتی۔
رومیوں 10:9 کے مطابق کیا صرف زبانی اقرار کافی ہے؟
آیت میں دو باتیں ساتھ ساتھ ہیں: زبان کا اقرار اور دل کا ایمان۔ پولس کسی جادوئی جملے کی بات نہیں کر رہا بلکہ ایک ایسے اقرار کی جو اُس زمانے میں جان لیوا ہو سکتا تھا، کیونکہ "یسوع خداوند ہے" کہنے کا مطلب تھا کہ قیصر خداوند نہیں۔ اقرار اُس ایمان کا پھل ہے جو دل میں پہلے سے موجود ہو، اور سچا ایمان خاموش نہیں رہتا۔ اسی لیے اس آیت کو زندگی بھر کی فرماں برداری سے الگ کر کے نہیں پڑھنا چاہیے۔
رومیوں کے خط میں شریعت کا کیا کام بتایا گیا ہے؟
پولس شریعت کو "پاک اور راست اور اچھا" کہتا ہے، مگر وہ یہ بھی کہتا ہے کہ شریعت کسی کو بچا نہیں سکتی۔ اُس کا کام آئینے جیسا ہے: وہ گناہ کی پہچان کراتی ہے، انسان کا منہ بند کر دیتی ہے اور اُسے مسیح کے پاس لے آتی ہے۔ ایمان دار شریعت کے ذریعے قبولیت حاصل نہیں کرتا، مگر وہ روح کی قدرت سے وہ راستبازی جیتا ہے جس کی طرف شریعت اشارہ کرتی تھی۔ یوں فضل شریعت کو منسوخ نہیں کرتا، اُسے پورا کرتا ہے۔
رومیوں کا خط پڑھنے کے لیے کون سا باب سب سے پہلے پڑھوں؟
اگر آپ پہلی بار یہ خط کھول رہے ہیں تو آٹھویں باب سے شروع کرنا حوصلہ دیتا ہے، کیونکہ وہاں سزا سے آزادی، روح القدس کی موجودگی اور خدا کی اٹوٹ محبت ایک ساتھ ملتی ہیں۔ پھر پہلے باب پر واپس جا کر پوری دلیل ترتیب سے پڑھیے، ورنہ آٹھویں باب کی خوشی کا سبب سمجھ نہیں آئے گا۔ بارہواں باب اُن لوگوں کے لیے اچھا آغاز ہے جو عملی رہنمائی ڈھونڈ رہے ہیں، بشرطیکہ وہ یاد رکھیں کہ یہ حصہ گیارہ ابواب کے فضل پر کھڑا ہے۔
اختتام میں
رومیوں کا خط پڑھ کر عقیدے کی ترتیب سیکھنا آسان ہے، مگر اس خط کا اصل مقصد اس سے بڑا تھا۔ یہ ایک ایسے شخص کا خط ہے جس کا سامان بندھا ہوا تھا، جس کی نظر اسپین پر تھی، اور جو جانتا تھا کہ انجیل صرف دلوں میں نہیں، میزوں پر بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اسی لیے وہ گناہ کی گہرائی، صلیب کی قیمت، روح کی قدرت اور خدا کی وفاداری بیان کرنے کے بعد سیدھا اس پر آ جاتا ہے کہ ایک دوسرے کو قبول کرو اور اپنے بدن زندہ قربانی کے طور پر پیش کرو۔
اگر آپ اس خط کے ساتھ وقت گزارنا چاہتے ہیں تو اوپر دیا گیا چار ہفتوں کا منصوبہ اٹھائیے، اور ہر باب کے بعد ایک ہی سوال پوچھیے: یہ سچائی میرے گھر، میرے کام اور میری کلیسیا میں کیا بدلنا چاہتی ہے۔ آٹھواں باب یاد کرنے کے لیے بہترین ہے، بارہواں باب جینے کے لیے، اور نویں سے گیارھویں باب گھٹنوں پر۔ اور جب اس خط کی بڑی آیتیں آپ کے دل میں بیٹھ جائیں تو انہیں اپنے تک محدود مت رکھیے؛ یہ خط اسی لیے لکھا گیا تھا کہ ایک جماعت متحد ہو اور خوشخبری اگلے شہر تک پہنچے۔
