موضوع

دس احکام کیا ہیں اور آج ان کی اہمیت

تعارف

کسی پرانے گھر کی بیٹھک میں دیوار پر لکھا ہوا ایک فریم اکثر نظر آتا ہے: خوش خطی میں دس سطریں، "تُو یہ نہ کرنا، تُو وہ نہ کرنا۔" برسوں وہ فریم وہیں لٹکا رہتا ہے، گرد اُس پر جمتی رہتی ہے، اور گھر کا کوئی فرد رُک کر اُسے پڑھتا نہیں۔ ہم اُسے سجاوٹ سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں اور زندگی کے لیے بوجھ سمجھ کر چھوڑ دیتے ہیں۔

مگر سوچیے، اگر وہ دس سطریں قاعدوں کی فہرست نہ ہوں بلکہ ایک آزادی کے اعلان نامے کی شرائط ہوں؟ اگر اُن کے اوپر، پہلی سطر سے بھی پہلے، ایک ایسی گواہی لکھی ہو جو سب کچھ بدل دیتی ہے؟

اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ دس احکام کہاں سے آئے، اُن کا ایک ایک لفظ کیا معنی رکھتا ہے، وہ پیدایش سے مکاشفہ تک کس طرح پوری بائبل میں بُنے ہوئے ہیں، لوگ اُن کے بارے میں کہاں غلطی کھاتے ہیں، اور آج آپ کے دفتر، گھر، بٹوے اور موبائل فون میں اُن کا عمل کیا شکل اختیار کرتا ہے۔

اس رہنما کا زاویٰہ

یہ صفحہ دس احکام کو "خدا کے قاعدے" کے طور پر نہیں بلکہ آزاد کیے گئے غلاموں کے گھر کے دستور کے طور پر پڑھتا ہے۔ سینا پہاڑ پر خدا نے پہلے حکم نہیں دیا، پہلے اپنا تعارف کرایا: میں وہ ہوں جو تجھے غلامی کے گھر سے نکال لایا۔ یعنی فضل پہلے آیا، شریعت بعد میں۔ احکام وہ سیڑھی نہیں جس پر چڑھ کر ہم خدا تک پہنچیں؛ وہ اُس گھر کا نقشہ ہیں جس میں خدا ہمیں اپنے ہاتھوں سے لا چکا ہے۔ یہ فرق معمولی نہیں۔ اِسی فرق سے طے ہوتا ہے کہ آپ خدا کی خدمت ڈرے ہوئے مزدور کی طرح کریں گے یا بچائے ہوئے فرزند کی طرح۔

بائبل دس احکام کے بارے میں کیا کہتی ہے؟

دس احکام بائبل میں دو جگہ پورے لکھے ہوئے ملتے ہیں: خروج 20 میں، جب اسرائیل سینا پہاڑ کے دامن میں کھڑا تھا، اور استثنا 5 میں، چالیس سال بعد، جب ایک نئی نسل وعدے کے ملک میں داخل ہونے والی تھی۔ عبرانی زبان میں اِنہیں "دس باتیں" کہا جاتا ہے، اور بائبل بتاتی ہے کہ یہ باتیں خدا نے اپنی اُنگلی سے دو پتھر کی تختیوں پر لکھیں (خروج 31:18)۔ پوری بائبل میں یہ واحد حصہ ہے جو براہِ راست خدا کی آواز میں ایک پوری قوم کے سامنے بولا گیا اور پھر خدا ہی کے ہاتھ سے لکھا گیا۔

اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ اِن کی ابتدا حکم سے نہیں، نجات کی گواہی سے ہوتی ہے۔ استثنا 5:6 میں خداوند فرماتے ہیں: "خداوند تیرا خدا جو تجھ کو ملکِ مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں۔" یہی بات خروج 20:2 میں بھی ہے۔ غور کریں، مخاطب وہ لوگ ہیں جو پہلے ہی رہا ہو چکے ہیں۔ یہ شرطیں نہیں ہیں جن کو پورا کرنے پر رہائی ملے گی؛ یہ اُس رہائی کا طریقِ زندگی ہے جو مل چکی ہے۔

پہلے نجات، پھر احکام؛ یہی بائبل کی ترتیب ہے۔

اِس تعارف کے بعد پہلا حکم آتا ہے۔ خروج 20:3 کہتی ہے: "میرے حضور تُو غیر معبودوں کو نہ ماننا۔" عبرانی محاورہ کا مفہوم یہ ہے کہ "میرے منہ کے سامنے" کوئی اور خدا نہ ہو۔ یعنی یہ معاملہ محض عقیدے کا نہیں بلکہ وفاداری کا ہے، جیسے شادی میں تیسرے شخص کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی۔ جس خدا نے غلامی سے نکالا ہے، اُس کے ساتھ دل بانٹنا احسان فراموشی ہے۔ دوسرا حکم تراشی ہوئی مورتوں سے منع کرتا ہے، کیونکہ خدا اپنی تصویر خود مقرر کرتا ہے؛ ہم اُسے اپنی پسند کے سانچے میں نہیں ڈھال سکتے۔ تیسرا حکم خدا کے نام کو بے فائدہ لینے سے روکتا ہے، یعنی اُس کے نام کو جھوٹی قسم، کھوکھلی مذہبیت یا اپنے مفاد کے لیے استعمال نہ کرنا۔ چوتھا حکم سبت کا ہے: ہفتے کا ایک دن کام سے رُک کر خدا کے حضور سانس لینا۔ یہ حکم خاص طور پر دل کو کھول دیتا ہے، کیونکہ غلام کو چھٹی نہیں ملتی؛ آرام آزادی کی نشانی ہے۔

پانچواں حکم ایک پُل ہے جو خدا کی طرف سے انسانوں کی طرف لے جاتا ہے۔ خروج 20:12 فرماتی ہے: "تُو اپنے باپ اور اپنی ماں کی عزّت کرنا تاکہ تیری عمر اُس ملک میں جو خداوند تیرا خدا تجھے دیتا ہے دراز ہو۔" یہ پہلا حکم ہے جس کے ساتھ وعدہ جُڑا ہے۔ جس گھر میں بڑوں کا ادب ہے، وہاں ایمان ایک نسل سے دوسری نسل تک پہنچتا ہے؛ جہاں یہ رشتہ ٹوٹ جائے، وہاں قوم کی یاد داشت بھی ٹوٹ جاتی ہے۔ اِس کے بعد چھٹا حکم جان کی حفاظت کرتا ہے، ساتواں نکاح کی، آٹھواں دوسرے کے مال کی، نواں اُس کی عزت اور نام کی، اور دسواں حکم آخر میں دل کے اندر جا کر لالچ کو ہاتھ ڈالتا ہے۔ یہی دسواں حکم ثابت کرتا ہے کہ شریعت صرف ہاتھ پاؤں کی نہیں، باطن کی بات کرتی ہے۔

اِسی لیے زبور 19:7 میں داؤد گاتے ہیں: "خداوند کی شریعت کامل ہے۔ وہ جان کو بحال کرتی ہے۔ خداوند کی شہادت برحق ہے۔ وہ نادان کو دانا بنا دیتی ہے۔" یہاں شریعت کو زنجیر نہیں، شفا کہا گیا ہے۔ "جان کو بحال کرتی ہے" یعنی تھکے ہوئے وجود میں جان ڈال دیتی ہے۔ جو شخص خدا کے احکام کو صرف پابندی سمجھتا ہے، وہ یہ زبور گا نہیں سکتا۔ جو اُنہیں اپنے محبت کرنے والے باپ کی آواز سمجھتا ہے، وہی کہہ سکتا ہے کہ یہ باتیں شہد سے زیادہ میٹھی ہیں۔

بائبل میں چلنے والا سلسلہ

یہ سلسلہ سینا سے شروع نہیں ہوتا، باغِ عدن سے شروع ہوتا ہے۔ وہاں بھی خدا نے پہلے سب کچھ عطا کیا اور پھر ایک حد مقرر کی۔ آدم کے لیے وہ ایک درخت تھا؛ بات وہی تھی کہ خالق کو خالق مانا جائے۔ گناہ کا آغاز حکم توڑنے سے نہیں بلکہ خدا کی بھلائی پر شک کرنے سے ہوا، اور ہر حکم شکنی کی جڑ آج بھی یہی ہے۔ پیدایش کی باقی کتاب میں ہم دیکھتے ہیں کہ یہ دس باتیں تختیوں پر لکھی جانے سے پہلے ہی زندگیوں میں کام کر رہی تھیں: قائن نے خون کیا، نوح کے زمانے میں زمین ظلم سے بھر گئی، یوسف نے زنا سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ میں خدا کا گناہ کیوں کروں۔ یعنی شریعت انسان کے ضمیر میں پہلے سے گونج رہی تھی؛ سینا پر خدا نے اُسے لفظوں میں صاف کر دیا۔

سینا کے بعد یہ دس باتیں اسرائیل کے عہد کی بنیاد بن گئیں۔ تختیاں عہد کے صندوق میں رکھی گئیں، یعنی قومی زندگی کے عین مرکز میں، اور وہیں اُن کے اوپر رحم کی کرسی تھی جس پر کفارے کا خون چھڑکایا جاتا تھا۔ یہ منظر خود ایک خوش خبری ہے: خدا کی شریعت کے اوپر خدا کا رحم۔ انبیا بعد میں اسرائیل کو اِسی عہد کی روشنی میں جھنجھوڑتے ہیں؛ ہوسیع، عامس اور یرمیاہ کی شکایتیں بت پرستی، جھوٹ، خون اور لالچ ہی کی ہیں۔ مگر یرمیاہ اِسی مقام پر ایک نیا وعدہ سناتا ہے: خدا اپنی شریعت لوگوں کے باطن میں رکھے گا اور اُن کے دل پر لکھے گا (یرمیاہ 31:33)، اور حزقی ایل مزید کہتا ہے کہ خدا نیا دل اور نئی روح بخشے گا (حزقی ایل 36:26)۔ پتھر کی تختی سے گوشت کے دل تک؛ یہی سفر عہدِ عتیق کی تمنا ہے۔

اور یہ تمنا مسیح میں پوری ہوتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ وہ توریت کو منسوخ کرنے نہیں بلکہ پورا کرنے آئے ہیں (متی 5:17)۔ پہاڑی وعظ میں اُنہوں نے چھٹے اور ساتویں حکم کو کھول کر دکھایا کہ غصہ خون کی جڑ ہے اور بدنظری زنا کی۔ جب ایک فقیہ نے سب سے بڑے حکم کے بارے میں پوچھا تو متی 22:37 میں آپ نے فرمایا: "خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ۔" اور دوسرا حکم اِس کے مانند یہ ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنے برابر محبت رکھ۔ یہ دو احکام دس احکام کی جگہ نہیں لیتے؛ یہ اُن کی روح ہیں۔ پہلی چار باتیں خدا کی محبت کی تفصیل ہیں، باقی چھ پڑوسی کی محبت کی۔

پولس رسول اِسی بات کو آگے بڑھاتے ہیں۔ رومیوں 13:9 میں وہ لکھتے ہیں: "کیونکہ یہ کہ زنا نہ کر، خون نہ کر، چوری نہ کر، لالچ نہ کر اور اِن کے علاوہ جو کوئی اَور حکم ہو اُن سب کا خلاصہ اِس بات میں پایا جاتا ہے کہ اپنے پڑوسی سے اپنی مانند محبت رکھ۔" یعنی محبت احکام کو مٹاتی نہیں، اُنہیں پورا کرتی ہے۔ ساتھ ہی پولس یہ بھی کہتے ہیں کہ شریعت ہمیں مسیح تک پہنچانے والا اُستاد بنی (گلتیوں 3:24) اور شریعت سے گناہ کی پہچان ہوتی ہے (رومیوں 3:20)۔ یعقوب اِس شریعت کو "آزادی کی شریعت" کہتے ہیں، اور یوحنا لکھتے ہیں کہ خدا کے حکم سخت نہیں (1 یوحنا 5:3)۔ بائبل کا آخری حصہ بھی یہی راگ گاتا ہے: مکاشفہ 14:12 میں مقدسوں کی پہچان یہ بتائی گئی ہے کہ وہ خدا کے حکموں پر عمل کرتے اور یسوع پر ایمان رکھتے ہیں۔ احکام اور ایمان دو مخالف نہیں؛ دونوں ایک ہی دل میں رہتے ہیں۔

عام غلط فہمیاں

پہلی غلط فہمی یہ ہے کہ دس احکام پر عمل کر کے آدمی نجات کما سکتا ہے۔ یہ خیال سینا کے منظر کو اُلٹا کر دیتا ہے۔ استثنا 5:6 کی ترتیب ہی اِس کا جواب ہے: رہائی پہلے ہوئی، احکام بعد میں آئے۔ اسرائیل نے بحرِ قُلزم پار کرنے سے پہلے کوئی شرط پوری نہیں کی تھی، صرف خون سے نشان لگے دروازوں کے پیچھے خدا کے فضل پر بھروسا کیا تھا۔ رومیوں 3:20 صاف کہتی ہے کہ شریعت کے اعمال سے کوئی بشر راستباز نہ ٹھہرے گا، اور یہی بات یعقوب 2:10 میں اور تیز ہو جاتی ہے: "کیونکہ جو کوئی ساری شریعت پر عمل کرے مگر ایک ہی بات میں خطا کرے وہ سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا۔" شریعت ایک زنجیر کی مانند ہے؛ ایک کڑی ٹوٹی تو پوری زنجیر ٹوٹ گئی۔ اگر نجات کا راستہ یہی ہوتا تو ہم میں سے کوئی ایک شام بھی زندہ نہ بچتا۔

دوسری غلط فہمی اِس کے بالکل برعکس ہے: کہ مسیح کے آنے کے بعد احکام بے کار ہو گئے، فضل ملا تو اب جیسا چاہو جیو۔ مگر خداوند یسوع مسیح نے فرمایا کہ وہ شریعت کو پورا کرنے آئے ہیں، منسوخ کرنے نہیں (متی 5:17)، اور یوحنا 14:15 میں آپ کے الفاظ ہیں: "اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔" فضل پانے والا دل احکام سے بھاگتا نہیں، اُن کی طرف دوڑتا ہے، کیونکہ اب وہ اُنہیں مالک کے ڈنڈے کے طور پر نہیں بلکہ باپ کی خواہش کے طور پر سنتا ہے۔ آزاد کیے ہوئے غلام گھر کے قاعدے توڑ کر اپنی آزادی ثابت نہیں کرتے؛ وہ شکرگزاری سے اُس گھر کو سنوارتے ہیں۔

تیسری غلط فہمی یہ ہے کہ یہ احکام صرف ظاہری اعمال کے بارے میں ہیں۔ دسواں حکم خود اِس خیال کو توڑ دیتا ہے، کیونکہ لالچ کسی عدالت میں پکڑا نہیں جا سکتا؛ وہ دل کے کمرے میں ہوتا ہے۔ یسوع نے پہاڑی وعظ میں یہی بات ہر حکم پر لاگو کی۔ کوئی شخص کہہ سکتا ہے کہ میں نے زندگی میں کسی کا خون نہیں کیا، مگر وہ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے دل میں کبھی کسی کے لیے نفرت نہیں اُٹھی۔ احکام ہمیں آئینہ دکھاتے ہیں تاکہ ہم اپنی پاکیزگی پر فخر نہ کریں بلکہ اپنے نجات دہندہ کی طرف دیکھیں۔

چوتھی غلط فہمی یہ ہے کہ شریعت خدا کی سختی کا ثبوت ہے اور محبت کے خلاف ہے۔ رومیوں 13:9 اِس کا جواب ہے: تمام احکام کا خلاصہ پڑوسی سے محبت ہے۔ جو حکم چوری سے منع کرتا ہے، وہ غریب کی روٹی کی حفاظت کرتا ہے؛ جو جھوٹی گواہی سے روکتا ہے، وہ بے قصور کی عزت بچاتا ہے؛ جو زنا سے منع کرتا ہے، وہ بچوں کو ٹوٹے گھر سے بچاتا ہے۔ زبور 19:7 کے مطابق یہ شریعت جان کو بحال کرتی ہے۔ ایسی سختی نہیں جو زخم دے، بلکہ وہ باڑ جو کھیت کو جانوروں سے محفوظ رکھتی ہے۔

آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا

پہلے حکم کو آج جانچنے کا آسان پیمانہ یہ ہے: جب سب کچھ ہاتھ سے نکل جائے تو آپ کا دل کس چیز کے کھو جانے پر سب سے زیادہ تڑپتا ہے؟ خروج 20:3 کسی قدیم بت خانے کی بات نہیں کر رہی، آپ کے دل کے تخت کی بات کر رہی ہے۔ نوکری، عزت، اولاد، بینک بیلنس اور لوگوں کی رائے؛ یہ سب اچھی چیزیں ہیں جو خدا کی جگہ لینے کی کوشش کرتی ہیں۔ بت پرستی کا جدید روپ مورت نہیں، اضطراب ہے۔ جس چیز کے بغیر آپ سمجھتے ہیں کہ زندگی بے معنی ہو جائے گی، وہی آپ کا اصل خدا ہے۔

سبت کا حکم اُس شخص کے لیے ایک انقلابی دعوت ہے جو دو نوکریاں کرتا ہے اور موبائل فون رات کو بھی تکیے کے نیچے رکھتا ہے۔ ہفتے میں ایک دن کام سے رُکنا عملی طور پر یہ اعلان ہے کہ دنیا میرے کندھوں پر نہیں چل رہی۔ اِسے اپنانے کا طریقہ یہ نہیں کہ آپ قاعدوں کی ایک نئی فہرست بنا لیں، بلکہ یہ کہ آپ ایک دن مقرر کریں جس میں عبادت، آرام، خاندان اور شکرگزاری کی جگہ ہو، اور کمائی کی فکر کو چند گھنٹوں کے لیے خدا کے ہاتھ میں چھوڑ دیں۔

خروج 20:12 کا حکم آج کے دور میں خاص طور پر بھاری محسوس ہوتا ہے۔ جب والدین بوڑھے ہو جاتے ہیں، جب اُن کی باتیں ہماری سوچ سے میل نہیں کھاتیں، جب وہ بیمار ہوں اور وقت مانگیں، تب عزت ایک جذبہ نہیں بلکہ فیصلہ بن جاتی ہے: فون کرنا، خرچ اُٹھانا، صبر سے سننا، اُن کے سامنے اپنی اولاد کو اُن کی توہین کرتے نہ دیکھنا۔ یاد رکھیں، اِس حکم کے ساتھ ایک وعدہ جُڑا ہے؛ جس معاشرے میں بزرگ بوجھ سمجھے جاتے ہیں، وہاں زندگی دراز نہیں ہوتی، صرف تنہا ہوتی ہے۔

آٹھواں اور نواں حکم آج کام کی جگہ پر سب سے زیادہ آزمائے جاتے ہیں۔ دفتر کا وقت ضائع کرنا، ٹھیکے میں ہیرا پھیری، اپنے کام کا کریڈٹ بڑھا کر بتانا اور کسی ساتھی کے بارے میں آدھا سچ آگے بڑھانا؛ یہ سب چھوٹی باتیں لگتی ہیں، مگر رومیوں 13:9 کے مطابق یہ سب محبت کے خلاف ہیں۔ اور نواں حکم آج ایک نئی زمین پر لڑا جاتا ہے: موبائل کی سکرین۔ کسی کے بارے میں بغیر تصدیق کوئی پیغام آگے بھیجنا جھوٹی گواہی ہے، چاہے آپ نے اُسے لکھا نہ ہو۔

آخری حکم آپ کو تب پکڑتا ہے جب آپ خوش ہوتے ہیں۔ کسی کی نئی گاڑی، کسی کی ترقی، کسی کے خوش گوار نکاح کو دیکھ کر دل میں جو چُبھن اُٹھتی ہے، وہی لالچ ہے۔ اِس کا علاج زیادہ کوشش نہیں بلکہ شکرگزاری ہے؛ گِن کر یاد کرنا کہ خداوند نے آپ کو کہاں سے نکالا ہے۔

آئینہ

ایک لمحہ رُکیے اور اِن دس باتوں کو فہرست کی طرح نہ، آئینے کی طرح دیکھیے۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ قاتل نہیں ہیں، مگر کیا آپ کو یاد ہے پچھلے ہفتے آپ نے دل میں کس کے لیے کہا تھا کہ کاش یہ شخص میری زندگی سے نکل جائے؟ آپ نے چوری نہیں کی، مگر وہ رقم جو آپ نے اپنے ہی گھر والوں سے چھپائی، وہ کس خانے میں آتی ہے؟ آپ نے بت کے سامنے سجدہ نہیں کیا، مگر مہینے کی آخری تاریخوں میں آپ کی نیند جس چیز کے لیے اُڑتی ہے، اُس کا نام کیا ہے؟

یہ آئینہ تکلیف دیتا ہے، اور دینا بھی چاہیے۔ یعقوب 2:10 ہمیں اپنی کامیابیوں پر بیٹھنے نہیں دیتی: ایک بات میں خطا کرنے والا سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا۔ اگر آپ یہ سوچ کر یہاں آئے تھے کہ دس میں سے سات پر میں پورا اُترتا ہوں، تو یہ آیت آپ کے حساب کو توڑ دیتی ہے۔ مگر یہی وہ جگہ ہے جہاں خوش خبری سانس لینے کی جگہ دیتی ہے۔ جو تختیاں آپ پر الزام لگاتی ہیں، وہ صندوق کے اندر رکھی گئی تھیں اور اُن کے اوپر رحم کی کرسی تھی جہاں خون چھڑکایا جاتا تھا۔ آپ کا قصور خداوند یسوع مسیح کے خون کے نیچے ہے، اُس کے اوپر نہیں۔

آپ کا الزام اب مسیح کے خون کے نیچے دفن ہے۔

تو پھر اِن احکام کا آپ کے لیے کیا کام ہے؟ یہی کہ آپ آج شام گھر پہنچ کر ایک کام کریں جو آپ ٹالتے رہے ہیں۔ کسی سے معافی مانگنا، کسی کو واپس کچھ دینا، کوئی ایسا رشتہ ٹھیک کرنا جس میں آپ نے زبان سے کسی کی عزت کاٹی ہے، یا اپنے والدین کو وہ فون کرنا جو آپ ہفتوں سے نہیں کر رہے۔ آزادی خالی کمرہ نہیں ہوتی؛ آزادی ایک نیا گھر ہے جس میں رہنے کا طریقہ بھی سیکھنا پڑتا ہے۔ دس احکام اُسی گھر کا دستور ہیں، اور آپ اُس گھر کے مہمان نہیں، فرزند ہیں۔

بچوں کے لیے وضاحت

بچوں کو دس احکام سمجھانے کا سب سے مؤثر طریقہ یہ ہے کہ آپ کہانی کو حکم سے پہلے رکھیں، بالکل جیسے خدا نے سینا پر کیا۔ پہلے بتائیں کہ خدا کے لوگ مصر میں غلام تھے، اُنہیں مارا پیٹا جاتا تھا، اور خدا نے اُنہیں بچایا اور سمندر میں سے گزار کر آزاد کیا۔ پھر کہیں کہ جب وہ آزاد ہو گئے تو خدا نے اُنہیں دس باتیں دیں، اِس لیے نہیں کہ وہ اچھے بن کر خدا کے بچے بنیں، بلکہ اِس لیے کہ وہ پہلے ہی خدا کے بچے بن چکے تھے اور اب خوش رہنے کا طریقہ سیکھنا تھا۔

چھوٹے بچوں کے لیے خاندان کا مقابلہ کام آتا ہے: ہمارے گھر میں بھی قاعدے ہیں، مثلاً سڑک پار کرتے وقت ہاتھ پکڑنا۔ یہ قاعدہ امی ابو کی محبت کا ثبوت ہے، سزا نہیں۔ بڑے بچوں کے ساتھ آپ پہلی چار باتوں اور بعد کی چھ باتوں کا فرق سمجھا سکتے ہیں: پہلی باتیں خدا سے محبت کے بارے میں ہیں اور باقی لوگوں سے محبت کے بارے میں، جیسا کہ خداوند یسوع مسیح نے متی 22:37 میں خود واضح فرمایا۔

بچوں سے یہ سوال پوچھنا مفید ہوتا ہے کہ اگر ہم میں سے کوئی بھی یہ سب باتیں پوری نہیں کر سکتا تو خدا نے کیا بندوبست کیا؟ یہیں سے صلیب تک راستہ کھلتا ہے، اور بچہ شریعت کو خوف کے بجائے فضل کی روشنی میں دیکھنا سیکھتا ہے۔

ہماری ویب سائٹ پر اِسی موضوع کی عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین تا چھ سال) کے لیے آسان کہانی کی شکل میں، سکول جانے والے بچوں (سات تا بارہ سال) کے لیے سوال جواب اور مثالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن سوالات کے ساتھ جو وہ واقعی پوچھتے ہیں، جیسے دوستوں کا دباؤ، سچ بولنا اور سکرین کی دنیا۔

اکثر پوچھے جانے والے سوالات

دس احکام بائبل میں کہاں لکھے ہوئے ہیں؟

دس احکام پوری تفصیل کے ساتھ دو جگہ ملتے ہیں: خروج 20 کی پہلی سترہ آیات میں، جب خدا نے سینا پہاڑ پر اسرائیل کی پوری جماعت سے خود کلام کیا، اور استثنا 5 میں، جہاں موسیٰ نے چالیس سال بعد نئی نسل کے سامنے اُنہیں دہرایا۔ اِن کے علاوہ بائبل میں کئی مقامات اِن احکام کا حوالہ دیتے ہیں، جیسے متی 19، مرقس 10 اور رومیوں 13، جہاں خداوند یسوع مسیح اور پولس رسول اِن میں سے کئی احکام کا نام لے کر ذکر کرتے ہیں۔

دس احکام کی ترتیب مختلف کلیسیاؤں میں مختلف کیوں ہے؟

بائبل خود ہر حکم پر نمبر نہیں لگاتی، اِس لیے کلیسیائی روایات نے "دس باتوں" کو تھوڑا مختلف انداز سے تقسیم کیا۔ کئی پروٹسٹنٹ اور آرتھوڈکس روایات غیر معبودوں اور تراشی ہوئی مورتوں کو دو الگ احکام گنتی ہیں، جبکہ کیتھولک اور لوتھری روایت اُنہیں ایک حکم مانتی ہے اور آخری حکم کو دو حصوں میں، یعنی پڑوسی کی بیوی اور پڑوسی کے مال کے لالچ میں، تقسیم کرتی ہے۔ مضمون اور مطالبات دونوں صورتوں میں بالکل وہی رہتے ہیں؛ فرق صرف گنتی کا ہے، ایمان کا نہیں۔

کیا مسیحیوں کو آج بھی دس احکام پر عمل کرنا ضروری ہے؟

ہاں، مگر صحیح وجہ کے ساتھ۔ مسیحی اِن احکام پر اِس لیے عمل نہیں کرتا کہ اُنہیں مان کر نجات حاصل کرے، بلکہ اِس لیے کہ وہ نجات پا چکا ہے اور اب خدا کی مرضی اُس کی خوشی بن گئی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے یوحنا 14:15 میں فرمایا کہ اگر تم مجھ سے محبت رکھتے ہو تو میرے حکموں پر عمل کرو گے۔ رومیوں 13:9 بتاتی ہے کہ اِن احکام کا خلاصہ محبت ہے، اور محبت کبھی منسوخ نہیں ہوتی۔ یوں اطاعت شکرگزاری کا پھل ہے، نجات کی قیمت نہیں۔

خروج 20 اور استثنا 5 کے الفاظ میں معمولی فرق کیوں ہے؟

استثنا 5 ایک دہرائی ہوئی تقریر ہے، اِس لیے موسیٰ نے چند جگہ وضاحت بڑھا دی۔ سب سے نمایاں فرق سبت کے حکم میں ہے: خروج میں وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ خدا نے چھ دن میں تخلیق کی اور ساتویں دن آرام کیا، جبکہ استثنا میں وجہ یہ ہے کہ تم مصر میں غلام تھے اور خداوند تمہیں وہاں سے نکال لایا۔ دونوں وجہیں ایک دوسرے کی مخالف نہیں بلکہ تکمیل ہیں؛ آرام تخلیق کی نشانی بھی ہے اور رہائی کی یاد گار بھی۔

کیا سبت اب اتوار ہے یا ہفتے کے دن ہی ماننا چاہیے؟

عہدِ جدید کی کلیسیا نے ابتدا ہی سے "خداوند کے دن" یعنی اتوار کو جمع ہونا شروع کیا، کیونکہ اُسی دن خداوند یسوع مسیح مُردوں میں سے جی اُٹھے۔ اِس بارے میں ایمان دار بھائیوں میں مخلص اختلاف موجود ہے، مگر قدرِ مشترک یہ ہے کہ سبت کا اصل مقصد ایک مقرر دن کو کام سے رُک کر خدا کے حضور عبادت اور آرام کرنا ہے۔ پولس رسول رومیوں 14 میں دنوں کے معاملے میں ایک دوسرے پر حکم نہ لگانے کی تاکید کرتے ہیں، اِس لیے یہ دن محبت توڑنے کا بہانہ نہیں بننا چاہیے۔

"تراشی ہوئی مورت نہ بنانا" کا مطلب کیا ہے، کیا ہر تصویر گناہ ہے؟

اِس حکم کا نشانہ وہ شکلیں ہیں جو عبادت کے لیے بنائی جائیں یا جن کے ذریعے خدا کو ایک محدود سانچے میں قید کیا جائے۔ مقصد یہ ہے کہ خدا اپنی ذات کا تعارف خود کرائے، ہم اُسے اپنی تصوراتی شکل نہ دیں۔ فن، نقشے، تصویریں یا کتابوں کے خاکے بذاتِ خود منع نہیں؛ خدا نے خود خیمۂ اجتماع میں کروبی بنانے کا حکم دیا تھا۔ اصل سوال یہ ہے کہ آپ کا دل کس چیز سے لگا ہوا ہے اور آپ کی عبادت کس کی طرف جا رہی ہے۔

اگر نجات صرف فضل سے ہے تو احکام کا فائدہ کیا ہے؟

احکام کے تین بڑے فائدے ہیں۔ پہلا، وہ آئینہ بن کر ہمیں ہماری ضرورت دکھاتے ہیں؛ رومیوں 3:20 کے مطابق شریعت سے گناہ کی پہچان ہوتی ہے۔ دوسرا، وہ معاشرے کو ظلم سے بچانے والی باڑ ہیں، کیونکہ جہاں خون، چوری اور جھوٹ پر کوئی روک نہ ہو وہاں کمزور ہی پِستا ہے۔ تیسرا، وہ ایمان دار کے لیے راستہ دکھانے والا چراغ ہیں تاکہ وہ جان سکے کہ شکرگزاری کی زندگی عملاً کیسی دکھتی ہے۔ زبور 19:7 اِسی لیے شریعت کو جان بحال کرنے والی کہتی ہے۔

کیا ایک حکم توڑنے سے واقعی سارے احکام ٹوٹ جاتے ہیں؟

یعقوب 2:10 یہی کہتی ہے: "کیونکہ جو کوئی ساری شریعت پر عمل کرے مگر ایک ہی بات میں خطا کرے وہ سب باتوں میں قصوروار ٹھہرا۔" اِس کا مطلب یہ نہیں کہ سب گناہوں کے نتائج دنیا میں برابر ہوتے ہیں، بلکہ یہ کہ شریعت ایک قانون نامہ ہے جو ایک ہی خدا کی طرف سے آیا ہے؛ جہاں اُس کی ایک بات کو ٹھکرایا جائے وہاں اُس کے اختیار ہی کو ٹھکرایا جاتا ہے۔ یہ آیت ہمیں اپنی نیکی کے حساب سے نکال کر مسیح کے فضل کے پاس لے آتی ہے۔

خدا کا نام بے فائدہ لینے کا کیا مطلب ہے؟

اِس میں جھوٹی قسم کھانا، خدا کے نام کو گالی یا تکیۂ کلام کی طرح استعمال کرنا، اور سب سے زیادہ یہ شامل ہے کہ کوئی شخص خدا کے نام کی چادر اوڑھ کر اپنا مفاد پورا کرے۔ جب ہم کہتے ہیں "خدا نے مجھ سے کہا" حالانکہ خدا نے نہیں کہا، یا جب ہم اپنی بے ایمانی کو مذہبی زبان میں لپیٹ دیتے ہیں، تو ہم خدا کے نام کو کھوکھلا کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ حکم ہم سے خدا کے نام کی دھاک، سچائی اور ادب مانگتا ہے۔

کیا خداوند یسوع مسیح نے دس احکام کی جگہ دو احکام دے دیے؟

نہیں، آپ نے دس کا خلاصہ دو میں بیان فرمایا۔ متی 22:37 میں آپ نے فرمایا کہ خداوند اپنے خدا سے اپنے سارے دل اور اپنی ساری جان اور اپنی ساری عقل سے محبت رکھ، اور دوسرا حکم پڑوسی کی محبت ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ اِن ہی دو حکموں پر تمام توریت اور انبیا کے صحیفوں کا مدار ہے۔ یعنی یہ دو احکام اُس درخت کی جڑ ہیں جس کی شاخیں دس احکام ہیں؛ جڑ کے ہوتے ہوئے شاخیں کاٹی نہیں جاتیں۔

والدین کی عزت کا حکم اُس صورت میں کیا ہے جب والدین نے نقصان پہنچایا ہو؟

خروج 20:12 عزت کا حکم دیتی ہے، اندھی فرماں برداری یا بدسلوکی کو جائز ماننے کا نہیں۔ اگر والدین گناہ کی طرف بلائیں تو پہلا حکم غالب رہتا ہے، کیونکہ خدا کی اطاعت ہر انسانی رشتے سے اوپر ہے۔ ایسے حالات میں عزت کی شکل بدل جاتی ہے: حفاظت کی حد مقرر کرنا، تلخی سے زبان کو روکنا، ضرورت میں مدد کرنا اور معافی کی طرف قدم بڑھانا۔ یہ راستہ آسان نہیں اور اِس میں کلیسیا کی دعا اور دانا مشورے کی ضرورت پڑتی ہے۔

دسواں حکم صرف دل کی بات کیوں کرتا ہے؟

کیونکہ باقی نو احکام کی جڑ یہی ہے۔ چوری اُس وقت ہوتی ہے جب دل پہلے کسی کی چیز کا خواہش مند ہو چکا ہو، اور زنا اُس وقت جب نظر پہلے گھر سے باہر جا چکی ہو۔ دسواں حکم ہمیں بتاتا ہے کہ خدا ہمارے ہاتھوں سے بھی زیادہ ہمارے دل کو دیکھتا ہے، اور یہی حکم ہے جس نے پولس رسول کو رومیوں 7 میں اپنی بے بسی کا احساس دلایا۔ اِس کا علاج شکرگزاری اور قناعت ہے، یعنی اِس اطمینان میں جینا کہ خدا نے مجھے جو دیا ہے وہ کافی ہے۔

دس احکام یاد رکھنے کا کوئی آسان طریقہ ہے؟

سب سے مفید طریقہ دو حصوں میں سوچنا ہے: پہلی چار باتیں خدا کے ساتھ آپ کے رشتے کی ہیں، یعنی اُس کے سوا کوئی معبود نہ ہو، کوئی مورت نہ ہو، اُس کا نام بے فائدہ نہ لیا جائے اور اُس کا دن مقدس رکھا جائے؛ باقی چھ لوگوں کے ساتھ آپ کے رشتے کی ہیں، یعنی والدین کی عزت، جان، نکاح، مال، نام اور دل کی حفاظت۔ خاندان کے ساتھ ہفتے میں ایک حکم پڑھ کر اُس پر بات کرنا اِن باتوں کو زبانی یاد کرنے سے زیادہ گہرائی میں بٹھا دیتا ہے۔

اختتام میں

دس احکام پر گرد پڑی ہوئی وہ تختی نہیں ہیں جو دیوار پر سجائی جائے اور بھلا دی جائے۔ وہ اُس خدا کی آواز ہیں جو پہلے بچاتا ہے اور پھر راستہ دکھاتا ہے۔ استثنا 5:6 کے الفاظ ہر حکم کے اوپر کُندہ ہیں: جو تجھ کو غلامی کے گھر سے نکال لایا میں ہوں۔ جب آپ اِس ترتیب کو پکڑ لیتے ہیں تو شریعت کا چہرہ بدل جاتا ہے؛ وہ آپ پر چیخنے والا منصف نہیں رہتی بلکہ آپ کے باپ کی وہ ہدایت بن جاتی ہے جو آزاد زندگی کو ٹوٹنے سے بچاتی ہے۔

شریعت آپ کو خریدتی نہیں، خریدے ہوئے کی رہنمائی کرتی ہے۔

اور جہاں آپ اُس پر پورا نہیں اُترتے، وہاں پتھر کی تختیوں کے اوپر رکھی ہوئی رحم کی کرسی یاد رکھیں، اور اُس سے بڑھ کر وہ صلیب جہاں خداوند یسوع مسیح نے ہمارے قصور کا پورا بوجھ اُٹھا لیا۔ احکام ہمیں مسیح تک لے جاتے ہیں، اور مسیح ہمیں احکام کے ساتھ جینے کی طاقت دیتے ہیں۔

آگے کے مطالعے کے لیے خروج 20 اور استثنا 5 کو ساتھ ساتھ پڑھیں، پھر زبور 19 اور زبور 119 کے چند حصے دعا کے ساتھ پڑھیں، اور آخر میں متی 5 سے 7 تک پہاڑی وعظ۔ ممکن ہے آپ پڑھتے پڑھتے وہی بات کہنے لگیں جو داؤد نے کہی تھی، کہ خداوند کی شریعت کامل ہے اور وہ جان کو بحال کرتی ہے۔

یہ صفحہ شیئر کریں

خوشخبری پھیلانے میں مدد کریں۔ یہ وضاحت کسی ایسے شخص کو بھیجیں جسے اس سے حوصلہ مل سکے۔

WhatsApp Email Facebook X / Twitter
روزانہ کی آیت

ہر صبح آپ کے ان باکس میں ایک اقتباس اور غور و فکر

ہر صبح آپ کو بائبل کا ایک اقتباس مختصر غور و فکر کے ساتھ موصول ہوگا تاکہ آپ کا دن اچھا شروع ہو۔ پہلے سے ہی 6.026 لوگ ساتھ پڑھ رہے ہیں۔

پہلے آپ کو تصدیقی ای میل موصول ہوگی۔ آپ کسی بھی وقت ایک کلک سے رکنیت ختم کر سکتے ہیں۔

6.591
مل کر کھولے گئے بائبل کے اقتباسات
آج پہلے ہی 22 نئے مطالعے

بصیرتوں کی دیوار

کلامِ مقدس میں آپ کو کیا چھو گیا؟ ہم کس بات کے لیے دعا کر سکتے ہیں؟ کس بات پر خدا کا شکر ادا کر سکتے ہیں؟

بصیرت ادارتی کو اِفسِیوں 1:17

پولس کی دعا عجیب ہے۔ وہ یہ نہیں مانگتا کہ اُن کے حالات بدل جائیں، بلکہ یہ کہ خدا اُنہیں…

شکرگزاری ادارتی کو پَیدایش 31:5

خداوند، شکر ہے کہ جب لابن کا چہرہ یعقوب کے لئے بدل گیا تب بھی تُو اُس کے ساتھ رہا۔…

بصیرت ادارتی کو مکاشفہ 19:14

آسمان کے لشکر سفید گھوڑوں پر سوار اُس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔ وہ سفید اور پاک کتان سے…

دعا ادارتی کو پَیدایش 9:7

اے خدا، تُو نے طوفان کے بعد زندگی کو دوبارہ شروع ہونے کا حکم دیا۔ میری ٹوٹی ہوئی جگہوں میں…

بصیرت ادارتی کو زبور 99:6

موسیٰ، ہارون اور سموایل کو یہاں اُن کے معجزوں یا عہدوں کی وجہ سے یاد نہیں کیا جا رہا۔ لکھا…

بصیرت ادارتی کو امثال 16:18

تباہی سے پہلے غرور اور گرنے سے پہلے تکبر آتا ہے۔" غور کریں کہ ترتیب کیا ہے۔ گرنا پہلے نہیں…

اعلانِ لاتعلقی: Faith.network بائبل کے مطالعے اور غور و فکر کی تیاری کے لیے خودکار لسانی ماڈلز کا استعمال کرتا ہے۔ تمام مواد بائبل کے متن سے تیار کیا جاتا ہے اور روزانہ ایک آزاد، خودکار معیاری جانچ کے ذریعے پرکھا جاتا ہے: ہر زبان کی سائٹ سے بے ترتیب نمونوں کو کلامِ مقدس کی وفاداری، بائبل کے حرف بحرف اقتباس، زبان اور وضاحت پر پرکھا جاتا ہے، اور نتائج بغیر ترمیم شائع کیے جاتے ہیں۔ اس کے باوجود، کوئی بھی تشریح بےخطا نہیں اور غلطیاں ممکن ہیں۔ اس پلیٹ فارم پر کوئی بھی چیز پیشہ ورانہ مشورہ نہیں ہے، اور اس کے مواد سے کوئی حقوق اخذ نہیں کیے جا سکتے۔ جو کچھ آپ پڑھتے ہیں اسے ہمیشہ خود بائبل کے ذریعے پرکھیں، اور Faith.network کو اپنے ذاتی بائبل مطالعے، دعا اور مقامی کلیسیائی زندگی کے متبادل کے طور پر نہیں بلکہ اضافے کے طور پر استعمال کریں۔ ہماری مکمل دستبرداری اور شرائطِ استعمال لاگو ہوتی ہیں۔ ہماری روزانہ معیاری جانچ ملاحظہ کریں

© 2026 Faith.Network. جملہ حقوق محفوظ ہیں۔

Faith.network ایک خدمت ہے Faith.network · KvK 84972599 · connect@faith.network

ہمارے شراکت داروں کے تعاون سے
کمپنی؟