دعا کیسے کریں؟ بائبلی رہنمائی
تعارف
رات کے دو بجے ہیں۔ ہسپتال کے راہداری میں پلاسٹک کی کرسی ٹھنڈی ہے، اور اندر کمرے میں کوئی ایسا شخص لیٹا ہے جسے آپ جان سے زیادہ چاہتے ہیں۔ آپ آنکھیں بند کرتے ہیں اور کہنا چاہتے ہیں: "اے خدا…" اور پھر لفظ ختم ہو جاتے ہیں۔ زبان بھاری ہو جاتی ہے۔ دل میں ایک آواز اٹھتی ہے: "مجھے تو دعا کرنی بھی نہیں آتی۔"
اگر آپ کبھی اس جگہ پر کھڑے ہوئے ہیں تو آپ اکیلے نہیں۔ خداوند یسوع مسیح کے اپنے شاگرد بھی وہیں کھڑے تھے۔ برسوں تک اُن کے ساتھ چلنے کے بعد بھی اُن میں سے ایک نے یہ کہنے کی جرأت کی: "اے خداوند ہمیں دعا کرنا سکھا۔"
اس صفحے پر ہم دعا کو ایک ہنر یا فارمولے کے طور پر نہیں، بلکہ ایک زبان کے طور پر دیکھیں گے جو سیکھی جاتی ہے۔ آپ جانیں گے کہ بائبل دعا کے بارے میں کیا فرماتی ہے، یہ سلسلہ پیدائش سے مکاشفہ تک کیسے چلتا ہے، کون سی غلط فہمیاں ہمیں خاموش کر دیتی ہیں، اور کل صبح آپ عملی طور پر کہاں سے شروع کر سکتے ہیں۔
اس رہنما کا زاویہ
بہت سے مضامین دعا کو ایک "طریقۂ کار" کی طرح پیش کرتے ہیں: چار قدم، پانچ اصول، اور جواب کی ضمانت۔ ہم یہاں دوسری راہ لیں گے۔ دعا نئے گھرانے کی مادری زبان ہے، اور ہر زبان کی طرح یہ توتلی زبان سے شروع ہوتی ہے۔ بائبل کے مطابق دعا کا آغاز مہارت سے نہیں بلکہ اِس اعتراف سے ہوتا ہے کہ "مجھے دعا کرنا نہیں آتی" (لوقا 11:1 اور رومیوں 8:26)۔ یہ زاویہ کیوں اہم ہے؟ کیونکہ جو دعا کو امتحان سمجھتا ہے وہ ہار کے ڈر سے چپ ہو جاتا ہے؛ اور جو اُسے اپنے باپ کے گھر کی زبان سمجھتا ہے، وہ ٹوٹے پھوٹے لفظوں کے ساتھ بھی بولنے لگتا ہے۔ فضل یہی ہے کہ استاد خود گھر کا مالک ہے۔
بائبل دعا کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل کہیں بھی دعا کی باقاعدہ تعریف پیش نہیں کرتی؛ وہ اس سے بہتر کچھ کرتی ہے۔ وہ ہمیں سینکڑوں لوگوں کو دعا کرتے ہوئے دکھاتی ہے: چرواہے، بادشاہ، بیوہ عورتیں، قیدی، اور خود مجسم ہونے والا کلمہ۔ ان سب کی مشترک بات یہ ہے کہ دعا خدا کے حضور دل کھول دینا ہے۔ زبور 62:8 اسے نہایت سادگی سے کہتا ہے: "اے لوگو! ہر وقت اُس پر بھروسا رکھو۔ اُس کے حضور اپنے دل کا حال کھول دو۔ خدا ہماری پناہ ہے۔" دعا وہ لفظ ہے جو بھروسے سے پیدا ہوتا ہے۔
اس زبان کا پہلا سبق لوقا 11:1 میں ملتا ہے: "اور ایسا ہوا کہ وہ کسی جگہ دعا کر رہا تھا۔ جب دعا کر چکا تو اُس کے شاگردوں میں سے ایک نے اُس سے کہا اے خداوند ہمیں دعا کرنا سکھا جیسے یوحنا نے اپنے شاگردوں کو سکھایا۔" غور کیجیے کہ سوال کب اٹھا: جب اُنہوں نے خداوند کو دعا کرتے دیکھا۔ اُن کی بھوک کسی نئی تکنیک کے لیے نہیں تھی بلکہ اُس رشتے کے لیے تھی جو اُنہوں نے اُن کے چہرے پر دیکھا۔ اور خداوند یسوع مسیح نے اُن کی درخواست کو حقارت سے نہیں دیکھا۔ اُنہوں نے اُنہیں الفاظ دیے۔
وہ الفاظ متی 6:9 میں یوں شروع ہوتے ہیں: "پس تم اِس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔" یہ ایک آیت پوری الٰہیات سموئے ہوئے ہے۔ "ہمارے" کہتی ہے کہ دعا کرنے والا تنہا فرد نہیں، ایک خاندان کا رکن ہے۔ "باپ" کہتی ہے کہ ہم کسی اجنبی حاکم کے دربار میں درخواست جمع نہیں کروا رہے۔ "تُو جو آسمان پر ہے" ہمیں یاد دلاتی ہے کہ یہ باپ ہماری خواہشوں کا خدمت گار نہیں، بلکہ آسمان و زمین کا مالک ہے۔ اور "تیرا نام پاک مانا جائے" دعا کی ترتیب طے کر دیتی ہے: پہلے اُس کی عظمت، پھر ہماری روٹی۔ زبان سیکھنے والا بچہ پہلے "ابّا" کہتا ہے، پھر "مجھے بھوک لگی ہے"۔
اسی سے یہ سوال جڑا ہے کہ ہم مانگ کیوں سکتے ہیں۔ متی 7:7 میں خداوند فرماتے ہیں: "مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو تم پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔" یہ کوئی جادوئی مشین نہیں جس میں سکہ ڈال کر مرضی کی چیز نکلتی ہو۔ سیاق و سباق میں خداوند فوراً باپ کی مثال دیتے ہیں: کوئی باپ اپنے بیٹے کو روٹی کے بدلے پتھر نہیں دیتا۔ یعنی مانگنے کی دلیری اِس یقین سے پیدا ہوتی ہے کہ دینے والا اچھا ہے۔
مگر مانگنے کی حد کیا ہے؟ یوحنا 15:7 جواب دیتی ہے: "اگر تم مجھ میں قائم رہو اور میری باتیں تم میں قائم رہیں تو جو چاہو مانگو۔ وہ تمہارے لیے ہو جائے گا۔" یہاں شرط دو بار آتی ہے۔ ہم اُس میں قائم رہیں، اور اُس کا کلام ہم میں قائم رہے۔ جو دل مسیح کے کلام سے بھرتا جاتا ہے، اُس کی خواہشیں بھی آہستہ آہستہ بدلنے لگتی ہیں۔ انگور کی شاخ بیل سے جڑی رہ کر ہی وہ مانگتی ہے جو بیل دینا چاہتی ہے۔
فلپیوں 4:6 اس زبان کا روزمرہ محاورہ سکھاتی ہے: "کسی بات کی فکر نہ کرو بلکہ ہر بات میں تمہاری درخواستیں دعا اور منت کے وسیلہ سے شکرگذاری کے ساتھ خدا کے سامنے پیش کی جائیں۔" پولوس رسول یہ قید خانے سے لکھ رہے ہیں۔ "ہر بات" کا مطلب واقعی ہر بات ہے: کرایہ، بیٹی کے امتحان، وہ رپورٹ جس کا نتیجہ آنے والا ہے۔ اور "شکرگذاری کے ساتھ" اُس زہر کا تریاق ہے جو فکر ہمارے دل میں گھولتی ہے۔
اور یہ زبان بولنے کا وقت کب ہے؟ 1 تھسلنیکیوں 5:17 صرف تین لفظوں میں کہتی ہے: "بے ناغہ دعا کرو۔" اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ چوبیس گھنٹے گھٹنوں پر رہیں، بلکہ یہ کہ دعا کا سلسلہ کبھی ٹوٹے نہیں۔ جیسے دو محبت کرنے والوں کے درمیان گفتگو دن بھر رُک رُک کر چلتی رہتی ہے مگر رشتہ کبھی بند نہیں ہوتا۔
آخر میں یعقوب 5:16 دعا کو تنہائی سے نکال کر جماعت کے بیچ لے آتی ہے: "پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے گناہوں کا اقرار کرو اور ایک دوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ۔ راستباز کی دعا کے اثر سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔" زبان کبھی تنہائی میں پوری طرح نہیں سیکھی جاتی۔ ایمانداروں کی صحبت میں کھلے دل سے کی گئی دعا شفا کا وسیلہ بنتی ہے۔
دعا مہارت کا مقابلہ نہیں، بھروسے کی زبان ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
کلامِ مقدس کی کہانی گفتگو سے شروع ہوتی ہے۔ باغ میں خدا انسان سے بات کرتے ہیں اور انسان جواب دیتا ہے۔ گناہ کے بعد پہلی تبدیلی یہی آئی کہ انسان چھپ گیا اور بولنا بند کر دیا۔ اسی لیے پیدائش 4:26 کا یہ چھوٹا جملہ بہت بڑا ہے: "تب سے لوگ خداوند کا نام لینے لگے۔" ٹوٹے ہوئے رشتے میں دوبارہ آواز اٹھنے لگی۔ یہی بائبل کی دعا کی تاریخ کا آغاز ہے، ایک بھولی ہوئی زبان کا پھر سے سیکھا جانا۔
ابرہام سدوم کے لیے اصرار کرتے ہیں اور خدا اُن سے بحث کرنے کی گنجائش دیتے ہیں۔ موسیٰ خدا کے حضور اپنی قوم کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، اور خروج کی کتاب بتاتی ہے کہ خداوند اُن سے روبرو باتیں کرتے تھے جیسے کوئی اپنے دوست سے باتیں کرتا ہے۔ حنّہ اپنی بانجھ گود کا دکھ سیلا میں یوں روتی ہیں کہ کاہن اُنہیں نشے میں سمجھ بیٹھتا ہے۔ داؤد زبور لکھتے ہیں، اور یہ کتاب اسرائیل کی دعا کی درسی کتاب بن جاتی ہے: شکایت، اعتراف، حیرت، غصہ، توبہ، حمد۔ زبور 51 میں داؤد اپنے بھیانک گناہ کے بعد بھی خدا سے منہ نہیں چھپاتے بلکہ اُسی کے پاس آتے ہیں۔
سلیمان کی ہیکل کی مخصوصیت پر خدا وہ وعدہ فرماتے ہیں جو 2 تواریخ 7:14 میں لکھا ہے، کہ اگر اُن کی امت خاکسار بن کر دعا کرے اور اپنی بری راہوں سے باز آئے تو وہ آسمان پر سے سن کر معاف فرمائیں گے۔ ایلیاہ کرمل پہاڑ پر ایک مختصر سی دعا کرتے ہیں اور آسمان سے آگ گرتی ہے۔ دانی ایل بابل میں شیروں کے خطرے کے باوجود دن میں تین بار کھڑکی کھول کر یروشلیم کی طرف رُخ کیے دعا کرتے رہتے ہیں۔ نحمیاہ بادشاہ کے سامنے کھڑے کھڑے دل میں ایک لمحے کی دعا کرتے ہیں۔ پرانا عہدنامہ ہمیں دکھاتا ہے کہ خدا نے اپنی قوم کو صدیوں تک اپنے ساتھ بولنا سکھایا۔
پھر وہ آتے ہیں جو خود بولتا ہوا کلمہ ہے۔ انجیلوں میں خداوند یسوع مسیح مسلسل دعا میں پائے جاتے ہیں: صبح منہ اندھیرے ویرانے میں، رات بھر پہاڑ پر، بپتسمے کے وقت، شاگردوں کے چناؤ سے پہلے، لعزر کی قبر پر، صلیب پر۔ لوقا 18:1 میں وہ ایک تمثیل کے ذریعے سکھاتے ہیں کہ ہمیشہ دعا کرنی اور ہمت نہ ہارنی چاہیے۔ گتسمنی میں اُن کی دعا اُس مقام تک پہنچتی ہے جہاں سے ہماری نجات کا راستہ کھلتا ہے: "اے باپ! اگر تُو چاہے تو یہ پیالہ مجھ سے ہٹا لے۔ تو بھی میری مرضی نہیں بلکہ تیری ہی مرضی پوری ہو۔" یہاں دعا کی زبان اپنے کمال کو پہنچتی ہے، اور یہی وہ لہجہ ہے جو ہم اُن سے سیکھتے ہیں۔
صلیب پر پردہ چاک ہوا اور دعا کی جگہ بدل گئی۔ اب عبرانیوں 4:16 ہمیں دعوت دیتی ہے: "پس آؤ ہم فضل کے تخت کے پاس دلیری سے چلیں تاکہ ہم پر رحم ہو اور وہ فضل حاصل کریں جو ضرورت کے وقت ہماری مدد کرے۔" مسیح خود ہمیشہ زندہ ہیں کہ ہماری شفاعت کریں، اور روح القدس ہمارے اندر سے "ابّا، اے باپ" کہنا سکھاتے ہیں۔ اسی لیے رومیوں 8:26 ہماری ناکامی کو دعا کا خاتمہ نہیں بناتی: "اسی طرح روح بھی ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے کیونکہ جس طور سے ہمیں دعا کرنا چاہیے ہم نہیں جانتے مگر روح خود ناگفتہ آہیں بھر کر ہماری شفاعت کرتا ہے۔" ابتدائی کلیسیا اسی سہارے پر جیتی تھی؛ اعمال کی کتاب دعا کے کمروں، جیلوں اور ساحلوں سے بھری ہے۔
اور یہ سلسلہ کہاں ختم ہوتا ہے؟ مکاشفہ 8 میں یوحنا آسمان پر ایک فرشتے کو دیکھتے ہیں جسے بخور دیا جاتا ہے تاکہ سب مقدسوں کی دعاؤں کے ساتھ تخت کے سامنے کی سونے کی قربان گاہ پر چڑھائے۔ آپ کی رات دو بجے کی وہ ادھوری، ٹوٹی پھوٹی دعا ضائع نہیں ہوئی؛ وہ محفوظ ہے۔ اور کتاب کے آخری صفحے پر کلیسیا کا آخری جملہ خود ایک دعا ہے: "آمین۔ اے خداوند یسوع آ۔" جو زبان باغ میں ٹوٹی تھی، وہ نئے یروشلیم میں کامل ہو کر گائی جائے گی۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: دعا کے لیے صحیح الفاظ اور خوبصورت جملے ضروری ہیں۔ یہ سوچ ہزاروں ایمانداروں کو خاموش کر چکی ہے۔ لوگ جماعت میں بلند آواز سے دعا کرنے سے ڈرتے ہیں کیونکہ "فلاں بھائی تو کتنی اچھی دعا کرتے ہیں"۔ مگر خداوند یسوع مسیح نے متی 6 میں صاف فرمایا کہ دعا کرتے وقت غیر قوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو، کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ اُن کے بہت بولنے کے سبب سے اُن کی سنی جائے گی؛ اور یہ کہ تمہارا باپ اِس سے پہلے کہ تم اُس سے مانگو جانتا ہے کہ تمہاری کیا کیا حاجتیں ہیں۔ خدا لفظوں کی گنتی نہیں کرتے۔ باپ اپنے بچے کی توتلی زبان کو محبت سے سنتا ہے، اور ہماری زبان کے استاد بھی وہی ہیں۔
دوسری غلط فہمی: دعا خدا کو راضی کرنے یا اُس کا فیصلہ بدلنے کا دباؤ ہے۔ بہت لوگ اندر سے یوں دعا کرتے ہیں جیسے کسی بے دل افسر سے سفارش کروا رہے ہوں: زیادہ روزے، زیادہ آنسو، زیادہ منتیں، تاکہ خدا مان جائے۔ لیکن دعا سودا نہیں۔ 1 یوحنا 5:14 ہمیں بنیاد دیتی ہے: "اور ہمیں اُس کے سامنے جو دلیری حاصل ہے وہ یہ ہے کہ اگر اُس کی مرضی کے موافق کچھ مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے۔" دعا خدا کی مرضی کو ہماری مرضی کے تابع کرنا نہیں، بلکہ ہماری مرضی کو اُس کی مرضی کے قریب لانا ہے۔ اور یہ رشتہ فضل پر قائم ہے، ہماری کارکردگی پر نہیں۔
تیسری غلط فہمی: اگر جواب نہ ملے تو یقیناً میرے ایمان میں کمی ہے۔ یہ بات دکھی لوگوں پر ایک اضافی بوجھ ڈال دیتی ہے۔ ہاں، یعقوب 4:3 خبردار کرتی ہے کہ "تم مانگتے ہو اور پاتے نہیں اِس لیے کہ بری نیت سے مانگتے ہو تاکہ اپنی عیش و عشرت میں خرچ کرو"، اور دل کی جانچ ضروری ہے۔ مگر پولوس رسول نے تین بار اپنے کانٹے کے لیے دعا کی اور جواب یہ ملا کہ فضل کافی ہے۔ گتسمنی میں خود خداوند کی درخواست اُس شکل میں پوری نہیں ہوئی جس شکل میں مانگی گئی تھی۔ خدا کا "نہیں" یا "ابھی نہیں" کبھی بےرحمی نہیں ہوتا؛ وہ اُس باپ کا فیصلہ ہے جو ہمارے کل کو جانتا ہے۔
چوتھی غلط فہمی: دعا صرف مانگنے کا نام ہے۔ اگر دعا محض فرمائشوں کی فہرست ہو تو مشکل حل ہونے کے بعد وہ ختم ہو جاتی ہے۔ لیکن زبور کھول کر دیکھیے: وہاں حمد ہے، اعتراف ہے، شکایت ہے، خاموشی ہے، خدا کے کاموں کا بیان ہے۔ کلسیوں 4:2 کہتی ہے: "دعا میں مشغول اور شکرگذاری کے ساتھ اُس میں بیدار رہو۔" یعقوب 5:16 گناہ کے اقرار کو بھی دعا کے دائرے میں لاتی ہے۔ اور دعا میں سب سے زیادہ نظرانداز ہونے والا حصہ سننا ہے: کلام پڑھ کر خاموش بیٹھنا تاکہ خدا بولیں۔ ایک زبان میں صرف بولنا آنا کافی نہیں؛ سننا سیکھنا بھی زبان کا حصہ ہے۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
زبان کتابیں پڑھ کر نہیں، روز بولنے سے آتی ہے۔ اسی لیے دعا کا آغاز کسی روحانی بلندی سے نہیں بلکہ ایک وقت اور ایک جگہ کے فیصلے سے ہوتا ہے۔ متی 6 میں خداوند فرماتے ہیں کہ اپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ سے جو پوشیدگی میں ہے دعا کر۔ آپ کی "کوٹھری" کوئی خانقاہ نہیں؛ وہ صبح چائے سے پہلے کے دس منٹ ہو سکتے ہیں، بس کا سفر، یا رات کو برتن دھونے کا وقت۔ مصنوعی روحانیت کی کوشش چھوڑ دیں اور جو وقت واقعی آپ کے پاس ہے وہ خدا کے سامنے رکھ دیں۔
الفاظ کہاں سے لائیں؟ وہیں سے جہاں سے شاگردوں نے لیے تھے۔ متی 6:9 کی دعا کو لفظ بہ لفظ پڑھیں، اور پھر ہر جملے پر رُک کر اپنی زندگی اُس میں ڈالیں۔ "تیرا نام پاک مانا جائے" پر رک کر کہیے کہ آپ کے دفتر میں، آپ کے واٹس ایپ گروپ میں اُس کا نام کیسے پاک مانا جائے۔ "ہماری روزانہ کی روٹی آج ہمیں دے" پر اپنے مہینے کے بجٹ کا نام لیں۔ زبور کو اپنی لغت بنائیے: جس دن الفاظ نہ ملیں، زبور 23 یا زبور 51 بلند آواز سے پڑھ لیں اور اُسے اپنی دعا بنا لیں۔
فکر کے لمحوں کے لیے فلپیوں 4:6 کو ایک عملی عادت میں بدلیں۔ جس گھڑی پیٹ میں گرہ پڑنے لگے، وہیں اُس بات کا نام لے کر خدا کے سامنے رکھ دیں، اور ساتھ ایک شکر بھی شامل کریں، خواہ چھوٹا ہی ہو۔ یہی 1 تھسلنیکیوں 5:17 کی "بے ناغہ" دعا ہے: دن بھر میں بکھرے ہوئے چھوٹے چھوٹے جملے جو ایک لمبی گفتگو بناتے ہیں۔ گاڑی میں، لفٹ میں، مریض کے بستر کے پاس، بچے کے اسکول کے گیٹ پر۔
اور تنہا نہ رہیے۔ یعقوب 5:16 کے مطابق کسی ایک بھروسے کے ایماندار کو ڈھونڈیں جس کے سامنے آپ ایمانداری سے اپنی کمزوری کہہ سکیں اور جو آپ کے لیے دعا کرے۔ اگر جماعت میں دعائیہ اجلاس ہے تو وہاں جائیں، چاہے آپ خاموش بیٹھیں۔ اگر گھر میں ممکن ہو تو ہفتے میں ایک بار سب مل کر پانچ منٹ دعا کریں؛ بچے آپ کی دعا سن کر دعا سیکھیں گے، جیسے شاگردوں نے خداوند کو دیکھ کر سیکھا۔
جب دل خشک ہو تو ہمت نہ ہاریں۔ متی 7:7 کا مانگنا، ڈھونڈنا اور کھٹکھٹانا مسلسل عمل ہیں، ایک بار کی کوشش نہیں۔ اور یوحنا 15:7 کے مطابق قائم رہنے کا مطلب یہ ہے کہ کلام آپ میں بسا رہے، اِس لیے دعا سے پہلے دو آیتیں پڑھنے کی عادت ڈالیں۔ بیل سے جڑی شاخ ہی صحیح چیز مانگتی ہے۔
آئینہ
آئیے سیدھی بات کریں۔ آپ کا موبائل آپ کی گواہی دیتا ہے۔ آپ نے آج جتنے منٹ خبروں، ریلز اور دوسروں کی زندگی دیکھنے میں لگائے، اُن کے مقابلے میں خدا کے حضور کتنے منٹ گزارے؟ سوال شرمندہ کرنے کے لیے نہیں، جگانے کے لیے ہے۔ کیونکہ اکثر ہماری بے دعائی کی جڑ وقت کی کمی نہیں ہوتی، بلکہ یہ خفیہ یقین ہوتا ہے کہ ہم اپنے معاملات خود سنبھال سکتے ہیں۔ ہم دعا کرنا اُسی وقت شروع کرتے ہیں جب ہماری تدبیریں ختم ہوتی ہیں، اور یہ دعا نہیں، آخری چارہ ہے۔
آپ کے پیسوں کی فکر آپ کو رات کو جگاتی ہے، مگر آپ نے اپنا بجٹ کبھی خدا کے سامنے کھول کر نہیں رکھا۔ آپ کے شریکِ حیات سے آپ کی گفتگو ٹھنڈی ہو چکی ہے، مگر آپ نے اُن کا نام لے کر دعا کرنا چھوڑ دیا ہے اور اُن کی شکایت لوگوں کے سامنے کرنا شروع کر دیا ہے۔ آپ کا جسم تھکا ہوا ہے، ٹیسٹ کی رپورٹ ڈرا رہی ہے، اور آپ خدا سے ناراض ہیں؛ مگر ناراضی بھی خدا کے حضور کہی جا سکتی ہے، زبور لکھنے والوں نے یہی کیا۔ آپ اکیلے پن سے مر رہے ہیں اور یہ سوچ کر چپ ہیں کہ خدا کو آپ کی تنہائی سے کوئی دلچسپی نہیں۔
اور شاید سب سے بڑی چوٹ یہ ہے: آپ سمجھتے ہیں کہ آپ دعا کے لائق نہیں۔ وہ گناہ، وہ عادت، وہ بات جسے آپ نے کسی کو نہیں بتایا، آپ کے منہ پر تالا لگا دیتی ہے۔ سنیے، دعا لائق لوگوں کا حق نہیں، معاف کیے گئے لوگوں کی سانس ہے۔ فضل کا تخت اُن کے لیے ہے جنہیں رحم کی ضرورت ہے۔ آپ کو صاف ہو کر آنے کی دعوت نہیں دی گئی؛ آپ کو آنے کی دعوت دی گئی ہے تاکہ صاف کیے جائیں۔
تو یہ صفحہ بند کرنے سے پہلے، ایک جملہ کہہ دیں۔ کوئی خوبصورت جملہ نہیں۔ صرف یہ: "اے خداوند، مجھے دعا کرنا سکھا۔" وہ سوال کبھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو دعا سمجھانے کے لیے بڑی الٰہیات کی ضرورت نہیں، ایک سچی تصویر کی ضرورت ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں: "دعا خدا سے باتیں کرنا ہے، جیسے تم مجھ سے باتیں کرتے ہو۔ تمہیں فون کی ضرورت نہیں، آنکھیں بند کرنا بھی لازمی نہیں، اور مشکل لفظ بھی نہیں چاہیے۔ خدا ہمارا آسمانی باپ ہے، اور وہ تمہاری آواز سننا پسند کرتے ہیں۔ خداوند یسوع نے ہمیں سکھایا کہ ہم اُسے 'اے ہمارے باپ' کہ کر پکاریں۔"
بچے سب سے زیادہ اُس دعا سے سیکھتے ہیں جو وہ سنتے ہیں۔ اِس لیے کھانے سے پہلے، سونے سے پہلے، یا کسی کے بیمار ہونے پر اُن کے سامنے اپنے سادہ لفظوں میں دعا کریں، اور اُنہیں بھی ایک جملہ بولنے کا موقع دیں۔ اُنہیں سکھائیں کہ دعا میں شکر بھی ہوتا ہے، معافی مانگنا بھی، اور دوسروں کے لیے مانگنا بھی۔ بچوں کے سوالوں سے نہ گھبرائیں، خاص طور پر اُس سوال سے کہ "خدا نے میری دعا کیوں نہیں سنی"؛ سچائی سے کہیں کہ خدا ہر دعا سنتے ہیں، مگر وہ اچھے باپ کی طرح ہمیشہ وہی نہیں دیتے جو ہم مانگتے ہیں، بلکہ وہ دیتے ہیں جو واقعی بہتر ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر مختلف عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین سے چھ سال) نہایت سادہ اور تصویری انداز میں، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات سے بارہ سال) کہانیوں اور سوالوں کے ساتھ، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر) اُن کے حقیقی شکوک اور دباؤ کو سامنے رکھ کر۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق صفحہ چنیں اور اُسے ساتھ بیٹھ کر پڑھیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
دعا کرنے کا صحیح طریقہ کیا ہے؟
بائبل کوئی مقرر شدہ رسم نہیں دیتی بلکہ ایک نمونہ دیتی ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے متی 6:9 میں فرمایا: "پس تم اِس طرح دعا کرو کہ اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہے۔ تیرا نام پاک مانا جائے۔" یعنی خدا کو باپ کے طور پر مخاطب کریں، پہلے اُس کی عظمت اور مرضی کو جگہ دیں، پھر اپنی ضرورتیں، معافی اور حفاظت کی درخواست کریں۔ سادہ، سچے اور اپنے لفظوں میں بولیں۔ صحیح طریقہ وہ ہے جو دل سے نکلے اور مسیح کے ذریعے باپ تک پہنچے۔
کیا دعا کے لیے کوئی خاص الفاظ یا رٹی ہوئی دعائیں ضروری ہیں؟
نہیں۔ خداوند نے متی 6 میں خبردار فرمایا کہ دعا میں بےمقصد بک بک نہ کریں، کیونکہ باپ ہمارے مانگنے سے پہلے ہماری حاجتیں جانتے ہیں۔ لکھی ہوئی دعائیں اور زبور بہت مددگار ہیں، خاص طور پر جب دل خشک ہو یا الفاظ نہ ملیں، مگر وہ لازمی شرط نہیں۔ خدا آپ کی زبان، لہجے اور تعلیم کے معیار کو نہیں دیکھتے؛ وہ دل دیکھتے ہیں۔ ٹوٹی پھوٹی، ادھوری اور آنسوؤں میں ڈوبی ہوئی دعا بھی پوری طرح سنی جاتی ہے۔
"بے ناغہ دعا کرو" کا کیا مطلب ہے؟
1 تھسلنیکیوں 5:17 میں لکھا ہے: "بے ناغہ دعا کرو۔" اِس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ سارا دن آنکھیں بند کر کے گھٹنوں پر بیٹھے رہیں، بلکہ یہ کہ خدا کے ساتھ آپ کی گفتگو کبھی مکمل طور پر بند نہ ہو۔ دن بھر مختصر جملے، ایک آہ، ایک شکر، ایک سوال، ایک مدد کی پکار: یہ سب مل کر ایک مسلسل رشتہ بناتے ہیں۔ مقرر وقت کی دعا اور دن بھر کی یہ چلتی پھرتی دعا ایک دوسرے کی جگہ نہیں لیتیں بلکہ ایک دوسرے کو قائم رکھتی ہیں۔
دن میں کتنی بار دعا کرنی چاہیے؟
بائبل کوئی گنتی مقرر نہیں کرتی۔ دانی ایل دن میں تین بار دعا کرتے تھے، زبور نویس صبح، دوپہر اور شام کا ذکر کرتے ہیں، اور خداوند یسوع مسیح صبح سویرے اور رات کو دعا میں پائے جاتے ہیں۔ اصول یہ ہے کہ ایک مقرر وقت آپ کی روحانی زندگی کو ڈھانچہ دیتا ہے اور بےترتیب دعا اُس ڈھانچے میں جان ڈالتی ہے۔ اگر آپ نئے ہیں تو دن میں ایک مختصر مقرر وقت سے شروع کریں؛ جو عادت آپ نبھا سکیں، وہ اُس منصوبے سے بہتر ہے جو تین دن میں ٹوٹ جائے۔
خدا میری دعا کیوں نہیں سنتا؟
بائبل کے مطابق خدا اپنے بچوں کی ہر دعا سنتے ہیں، مگر ہر دعا اُس شکل میں پوری نہیں ہوتی جس شکل میں مانگی گئی تھی۔ 1 یوحنا 5:14 بتاتی ہے کہ اگر ہم اُس کی مرضی کے موافق مانگتے ہیں تو وہ ہماری سنتا ہے، اور یعقوب 4:3 خودغرض نیت کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ کبھی جواب دیر سے آتا ہے تاکہ ہمارا بھروسا پکا ہو، کبھی جواب بدل کر آتا ہے کیونکہ ہماری درخواست ہمارے لیے نقصان دہ تھی۔ خاموشی کا مطلب لاتعلقی نہیں؛ گتسمنی اِس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔
کیا گناہ میری دعا کے جواب میں رکاوٹ بن سکتا ہے؟
ہاں، مسلسل اور بےتوبہ گناہ رشتے میں دراڑ ڈالتا ہے، اور یسعیاہ نبی نے بھی یہی کہا کہ گناہ خدا اور انسان کے درمیان جدائی ڈالتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، حل چپ ہو جانا نہیں بلکہ اقرار کرنا ہے۔ یعقوب 5:16 فرماتی ہے: "پس تم آپس میں ایک دوسرے سے اپنے گناہوں کا اقرار کرو اور ایک دوسرے کے لیے دعا کرو تاکہ شفا پاؤ۔" مسیح کے خون کے سبب سے آپ آج بھی فضل کے تخت تک آ سکتے ہیں۔ گنہگار کی توبہ کی دعا خدا کو سب سے زیادہ عزیز ہے۔
یسوع کے نام سے دعا کرنے کا کیا مطلب ہے؟
یہ کوئی جادوئی فارمولہ نہیں جو دعا کے آخر میں لگا دیا جائے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی نیکی کے بھروسے پر نہیں بلکہ خداوند یسوع مسیح کی صلیبی قربانی اور اُن کی شفاعت کے بھروسے پر باپ کے حضور آتے ہیں۔ عبرانیوں کی کتاب بتاتی ہے کہ وہ ہمیشہ زندہ ہیں کہ ہماری شفاعت کریں۔ اُن کے نام میں مانگنا یہ بھی مانتا ہے کہ ہم وہی مانگیں گے جو اُن کی مرضی اور اُن کے جلال کے مطابق ہو، جیسا یوحنا 15:7 میں قائم رہنے کی شرط بتاتی ہے۔
کیا میں براہِ راست خداوند یسوع مسیح یا روح القدس سے دعا کر سکتا ہوں؟
بائبل کا عام نمونہ یہ ہے کہ ہم بیٹے کے وسیلے سے، روح میں، باپ سے دعا کرتے ہیں، جیسا متی 6:9 میں سکھایا گیا۔ مگر کلامِ مقدس میں براہِ راست خداوند یسوع سے پکارنے کی مثالیں بھی موجود ہیں؛ ستفنس نے شہادت کے وقت اُنہی کو پکارا، اور مکاشفہ کی آخری دعا "اے خداوند یسوع آ" اُنہی سے مخاطب ہے۔ روح القدس ہماری دعا کے کارکن ہیں اور ہماری کمزوری میں مدد کرتے ہیں۔ تینوں ایک ہی خدا ہیں، اِس لیے آپ کی دعا غلط پتے پر نہیں جاتی۔
دعا کے دوران خیالات بھٹکتے ہیں اور دل نہیں لگتا، کیا کروں؟
یہ ہر ایماندار کا تجربہ ہے اور اِس پر شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ عملی طور پر تین باتیں مدد کرتی ہیں: بلند آواز میں دعا کریں تاکہ ذہن جڑا رہے، کھلی بائبل سے دعا کریں، مثلاً ایک زبور پڑھ کر اُسی کے جملوں کو اپنی دعا بنا لیں، اور کاغذ پر اپنی درخواستیں لکھ لیں۔ رومیوں 8:26 یاد رکھیے کہ روح ہماری کمزوری میں مدد کرتا ہے؛ آپ کی توجہ کی کمی خدا کے کان بند نہیں کرتی۔ دس سچے منٹ ایک گھنٹے کے خالی رسمی وقت سے بہتر ہیں۔
روزے اور دعا کا کیا تعلق ہے؟
بائبل میں روزہ اکثر گہری دعا کے ساتھ جڑا نظر آتا ہے: نحمیاہ، دانی ایل، انطاکیہ کی کلیسیا اور خود خداوند یسوع مسیح بیابان میں۔ روزے کا مقصد خدا پر دباؤ ڈالنا یا نیکی کمانا نہیں بلکہ جسم کی ایک جائز خواہش کو رضاکارانہ طور پر چھوڑ کر دل کو خدا پر مرکوز کرنا ہے۔ خداوند نے متی 6 میں دکھاوے کے روزے سے منع فرمایا اور اُسے پوشیدہ رکھنے کی تعلیم دی۔ اگر آپ صحت مند ہیں تو ایک وقت کے کھانے کی جگہ دعا میں گزارنا ایک بہت مفید تربیت ہے۔
تنہائی کی دعا اور مل کر کی جانے والی دعا میں کیا فرق ہے؟
دونوں ضروری ہیں اور دونوں مختلف کام کرتی ہیں۔ کوٹھری کی پوشیدہ دعا آپ کے دل کی سچائی کی جگہ ہے، جہاں کوئی سننے والا نہیں اِس لیے دکھاوے کی گنجائش بھی نہیں۔ اجتماعی دعا میں مسیح کا بدن مل کر بولتا ہے؛ ابتدائی کلیسیا اسی طرح ایک دل ہو کر دعا میں مشغول رہتی تھی اور یعقوب 5:16 ایک دوسرے کے لیے دعا کو شفا کا وسیلہ کہتی ہے۔ جو صرف اکیلے دعا کرتا ہے وہ حوصلہ کھو دیتا ہے، اور جو صرف جماعت میں دعا کرتا ہے اُس کی جڑ گہری نہیں ہوتی۔
متی 7:7 میں "مانگو تو تم کو دیا جائے گا" کا مطلب کیا ہر خواہش پوری ہونا ہے؟
نہیں۔ متی 7:7 فرماتی ہے: "مانگو تو تم کو دیا جائے گا۔ ڈھونڈو تو تم پاؤ گے۔ دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا۔" اِس کے فوراً بعد خداوند باپ کی مثال دیتے ہیں جو اپنے بچوں کو اچھی چیزیں دیتا ہے، یعنی وعدہ خدا کی بھلائی سے جڑا ہے، ہماری فہرست سے نہیں۔ یوحنا 15:7 اِس میں یہ شرط جوڑتی ہے کہ ہم اُس میں اور اُس کا کلام ہم میں قائم رہے۔ یہ خواہشوں کی مشین نہیں، بھروسے کی دعوت ہے۔
اختتام میں
اگر آپ نے اِس صفحے سے صرف ایک بات لینی ہو تو یہ لیجیے: دعا اُن کا امتحان نہیں جو روحانی طور پر مضبوط ہیں، بلکہ اُن کی زبان ہے جنہیں فضل سے خدا کے گھرانے میں گود لیا گیا ہے۔ اسی لیے اِس کا آغاز کسی کامیابی سے نہیں، ایک اعتراف سے ہوتا ہے: "اے خداوند ہمیں دعا کرنا سکھا۔" جو یہ کہہ دیتا ہے، وہ دعا پہلے ہی شروع کر چکا ہوتا ہے۔
یاد رکھیے کہ آپ اکیلے نہیں سیکھ رہے۔ آپ کا استاد وہی ہیں جنہوں نے متی 6:9 میں الفاظ دیے، آپ کا شفیع وہی ہیں جو باپ کے دہنے ہاتھ زندہ ہیں، اور آپ کا مددگار وہ روح ہیں جو آپ کی ناگفتہ آہوں کو بھی ترجمہ کر کے تخت تک پہنچاتے ہیں۔ اِس لیے فلپیوں 4:6 کے مطابق ہر بات شکرگذاری کے ساتھ اُس کے سامنے رکھیے، 1 تھسلنیکیوں 5:17 کے مطابق سلسلہ ٹوٹنے نہ دیجیے، اور یعقوب 5:16 کے مطابق کسی کو اپنا ہمدم بنا لیجیے تاکہ آپ دونوں ایک دوسرے کے لیے دعا کریں۔
آگے کے مطالعے کے لیے زبور کی کتاب کھولیں اور تیس دن روزانہ ایک زبور کو اپنی دعا بنائیں، اور ساتھ ہی متی 6 اور یوحنا 15 کو دھیان سے پڑھیں۔ آپ کی ادھوری دعا آسمان پر محفوظ ہے۔
