نحمیاہ کی زندگی: دعا، قیادت اور دیوار کی تعمیر
تعارف
ایرانی سلطنت کے محل میں ایک آدمی بادشاہ کے سامنے پیالہ اٹھائے کھڑا ہے۔ اُس کے ہاتھ نہیں کانپتے، کیونکہ کانپتے ہاتھوں والا ساقی زیادہ دن زندہ نہیں رہتا۔ مگر اُس کا دل ٹوٹا ہوا ہے۔ ہزار میل دُور، اُس کے باپ دادا کا شہر ملبے کا ڈھیر ہے؛ پھاٹک جلے ہوئے، دیوار گری ہوئی، لوگ شرمندہ اور بےبس۔ اور یہ آدمی، جس کے پاس نہ فوج ہے نہ اختیار، نہ تلوار نہ اینٹیں، صرف ایک کام کر سکتا ہے: روزہ رکھ کر رو سکتا ہے اور آسمان کے خدا کے حضور دعا کر سکتا ہے۔
نحمیاہ کی کہانی وہیں سے شروع ہوتی ہے، شوشن کے محل کے ایک کمرے میں، آنسوؤں میں۔ اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ یہ دیوار کس طرح اینٹوں سے پہلے گھٹنوں پر بنی، کس طرح باون دن میں کھڑی ہو گئی، اور پھر یہ بھی کہ کتاب کا آخری باب اتنا اداس کیوں ہے۔ یہی اداسی ہمیں مسیح تک لے جاتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
یہ صفحہ نحمیاہ کو صرف "ایک کامیاب لیڈر" کے طور پر پیش نہیں کرتا۔ ہمارا زاویہ دو حصوں میں ہے: پہلا، کہ نحمیاہ کی ہر کامیابی ایک دعا سے جُڑی ہوئی ہے، اُس کی کتاب میں کم از کم نو بار وہ بیچ کام میں خدا سے بات کرتا ہے؛ اور دوسرا، کہ یہ کتاب جان بوجھ کر ایک ادھوری فتح پر ختم ہوتی ہے۔ نحمیاہ پتھر کی دیوار باون دن میں بنا لیتا ہے، مگر بارہ سال بعد واپس آ کر دیکھتا ہے کہ لوگوں کے دل پھر وہی ہیں۔ اِس سے ایک ہی نتیجہ نکلتا ہے: دیوار شہر کو بچا سکتی ہے، دل کو نہیں۔ اور یہی ہمیں اُس نئے عہد کی طرف دھکیلتا ہے جس میں خدا دل پر شریعت لکھتا ہے۔
بائبل نحمیاہ کی زندگی کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
نحمیاہ کی کتاب ایک خبر سے شروع ہوتی ہے۔ سال تھا تقریباً ۴۴۵ قبل مسیح، شہنشاہ ارتخششتا کی سلطنت کا بیسواں برس۔ ہیکل تو تقریباً ستر سال پہلے دوبارہ بن چکی تھی، عزرا بھی تیرہ سال پہلے یروشلیم پہنچ چکا تھا، مگر شہر کی حالت بُری تھی۔ نحمیاہ کا بھائی حنانی یہوداہ سے آیا اور اُس نے بتایا کہ "جو باقی رہ گئے ہیں وہ بڑی مصیبت اور رُسوائی میں ہیں۔" یہ خبر سُن کر نحمیاہ کا ردِعمل وہی ہے جو اِس پوری کتاب کا مزاج طے کر دیتا ہے: "جب میں نے یہ باتیں سنیں تو بیٹھ کر رونے لگا اور کئی دن ماتم کرتا اور روزہ رکھتا اور آسمان کے خدا کے آگے دعا کرتا رہا" (نحمیاہ 1:4)۔
اِس ایک آیت پر غور کیجیے۔ نحمیاہ نے پہلے منصوبہ نہیں بنایا، پہلے چندہ جمع نہیں کیا، پہلے بادشاہ سے ملاقات کا وقت نہیں مانگا۔ اُس نے بیٹھ کر رویا۔ وہ اُن لوگوں کے لیے رویا جن میں سے اکثر کو وہ ذاتی طور پر جانتا بھی نہ تھا۔ اور پھر اُس کی دعا میں وہ بات آتی ہے جو ہمیں چونکا دیتی ہے: وہ "اُن" کے گناہوں کی نہیں بلکہ "ہمارے" گناہوں کی معافی مانگتا ہے، اپنے آپ کو بھی شامل کر کے، حالانکہ وہ خود جلاوطنی کی اُس نسل کا حصہ تھا جو کبھی یروشلیم میں رہی بھی نہ تھی۔ یہ توبہ ہے جو دُوسروں پر الزام نہیں لگاتی۔
چار مہینے بعد، جب بادشاہ نے اُس کا اُترا ہوا چہرہ دیکھ کر پوچھا کہ وہ کیا چاہتا ہے، تو نحمیاہ نے جواب دینے سے پہلے ایک کام کیا: "پس میں نے آسمان کے خدا سے دعا کی" (نحمیاہ 2:4)۔ ایک لمبی دعا چار مہینے، ایک چھوٹی دعا ایک سانس۔ دونوں ایک ہی خدا سے۔
یروشلیم پہنچ کر نحمیاہ نے کسی کو کچھ نہیں بتایا۔ رات کے وقت چند آدمیوں کے ساتھ وہ ملبے کے گرد گھوما، وادی کے پھاٹک سے کوڑے کے پھاٹک تک، جہاں جانور بھی مشکل سے گزر سکتا تھا۔ اُس نے پہلے زخم کو اپنی آنکھوں سے دیکھا، پھر بولا۔ اور جب بولا تو یوں: "تم دیکھتے ہو کہ ہم کیسی خرابی میں ہیں کہ یروشلیم ویران پڑا ہے اور اُس کے پھاٹک جلے ہوئے ہیں۔ آؤ ہم یروشلیم کی دیوار کو بنائیں تاکہ آیندہ ہماری رُسوائی نہ ہو" (نحمیاہ 2:17)۔
یہاں وہ "تم" نہیں کہتا، "ہم" کہتا ہے۔ وہ شاہی دربار سے آیا ہوا افسر تھا، وہ آسانی سے ملبے سے فاصلہ رکھ سکتا تھا۔ مگر اُس نے خرابی کو اپنی خرابی کہا۔ سچی قیادت یہی ہے: اپنے لوگوں کی شرم میں شامل ہو جانا، اور پھر اُنہیں اُس شرم سے باہر بلانا۔
کام شروع ہوا تو مخالفت بھی شروع ہوئی۔ سنبلط، طوبیاہ اور جربی مسخرہ پن سے شروع ہوئے، پھر دھمکیوں تک پہنچے، اور آخر میں حملے کا منصوبہ بنایا۔ نحمیاہ کا جواب اُس کی پوری شخصیت کا خاکہ ہے: "لیکن ہم نے اپنے خدا سے دعا کی اور اُن کے سبب سے اُن کے مقابلہ میں دن رات پہرا بٹھایا" (نحمیاہ 4:9)۔ دعا اور پہرا، ایک ہی آیت میں، ایک ہی سانس میں۔ نہ وہ دعا کر کے بازو سمیٹ کر بیٹھ گیا، نہ ہتھیار اٹھا کر دعا چھوڑ دی۔
پھر ایک اور قسم کا حملہ آیا، دعوت کا۔ دشمنوں نے کہا، آؤ ہم میدان میں مل کر بات کریں۔ نحمیاہ نے جو جواب بھیجا وہ ہر مصروف ایماندار کے لیے سنہری اصول بن گیا: "میں ایک بڑے کام میں لگا ہوا ہوں، میں نیچے نہیں آ سکتا۔ کیا ضرور ہے کہ میں کام چھوڑ کر تمہارے پاس نیچے آؤں؟" (نحمیاہ 6:3)۔
اور باون دن میں دیوار کھڑی ہو گئی۔ مگر کتاب یہاں رکتی نہیں۔ آٹھواں باب ہمیں پانی کے پھاٹک کے چوک میں لے جاتا ہے، جہاں عزرا کاہن شریعت کی کتاب کھول کر پڑھتا ہے اور لاوی لوگ "صاف پڑھ کر مطلب بتاتے" ہیں۔ لوگ رونے لگتے ہیں، اور نحمیاہ اُن سے کہتا ہے: "غمگین نہ ہو کیونکہ خداوند کی خوشی تمہاری پناہ ہے" (نحمیاہ 8:10)۔ دیوار شہر کی پناہ تھی؛ خداوند کی خوشی لوگوں کی پناہ ہے۔ اور یہ ساری کہانی زبور 127:1 کے اُس فقرے کے نیچے کھڑی ہے: "اگر خداوند ہی گھر نہ بنائے تو بنانے والے بےفائدہ محنت کرتے ہیں۔ اگر خداوند ہی شہر کی حفاظت نہ کرے تو نگہبان کا جاگنا عبث ہے۔"
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
نحمیاہ کو سمجھنے کے لیے پیچھے دیکھنا پڑتا ہے۔ خدا نے ابرہام سے وعدہ کیا، اُس کی نسل کو ایک ملک دیا، داؤد کو ایک شہر دیا، سلیمان کے ہاتھوں ایک ہیکل بنوائی۔ مگر لوگوں نے عہد توڑا، نبیوں کو ٹھکرایا، اور ۵۸۶ قبل مسیح میں بابل کے بادشاہ نے یروشلیم کی دیوار گرا دی، ہیکل جلا دی، اور قوم کو جلاوطن کر دیا۔ یرمیاہ نبی نے ستر برس کی قید کی پیشین گوئی کی تھی، اور دانی ایل نے اُسی پیشین گوئی کو پڑھ کر دعا کی تھی۔
پھر خدا نے خورس فارسی کے دل میں ڈالا کہ وہ لوگوں کو واپس جانے دے۔ عزرا کی کتاب ہیکل کی تعمیر کی کہانی ہے، حجی اور زکریا نبی اُس کام میں حوصلہ دیتے ہیں۔ نحمیاہ کی کتاب اُس کہانی کا اگلا قدم ہے: دیوار اور قوم کی زندگی۔ اور ملاکی نبی، جو غالباً اِسی زمانے کا ہے، اُنہی مسئلوں کی بات کرتا ہے جن سے نحمیاہ لڑتا رہا: دہ یکی میں بےایمانی، ناجائز رشتے، کاہنوں کی سستی۔ یعنی عبرانی بائبل کی تاریخ یہیں آ کر رُک جاتی ہے، ایک بنی ہوئی دیوار اور ایک نہ بدلے ہوئے دل کے ساتھ۔
یہی ادھورا پن نئے عہدنامے کا دروازہ ہے۔ یرمیاہ 31:33 میں خدا وعدہ کرتا ہے کہ وہ اپنی شریعت لوگوں کے باطن میں رکھے گا اور اُن کے دل پر لکھے گا، اور حزقی ایل 36:26 میں فرماتا ہے کہ وہ نیا دل اور نئی روح بخشے گا۔ نحمیاہ یہ کام نہیں کر سکتا تھا۔ وہ پتھر جوڑ سکتا تھا، وہ لوگوں سے عہد کے کاغذ پر مہریں لگوا سکتا تھا، مگر وہ کسی کو نیا دل نہیں دے سکتا تھا۔
اور پھر، نحمیاہ کی بنائی ہوئی اُسی دیوار کے پھاٹکوں سے چار سو سال بعد ایک اور شخص گزرا۔ یسوع مسیح یروشلیم میں داخل ہوا، اُسی شہر کو دیکھ کر رویا جس کے لیے نحمیاہ رویا تھا، اور پھر شہر کے پھاٹک سے باہر نکل کر صلیب پر چڑھا۔ عبرانیوں 13:12 ہمیں یاد دلاتا ہے کہ وہ "پھاٹک کے باہر" دُکھ اٹھایا، تاکہ اپنے لوگوں کو پاک کرے۔ نحمیاہ نے دیوار بنا کر لوگوں کو باہر کے خطرے سے بچایا؛ مسیح نے خود باہر جا کر اُن کو اندر کی خرابی سے بچایا۔
افسیوں 2:14 کہتا ہے کہ مسیح نے "جدائی کی دیوار" کو ڈھا دیا۔ یہ عجیب بات ہے: پرانے عہد میں خدا کا بندہ دیوار بناتا ہے، نئے عہد میں خدا کا بیٹا دیوار گراتا ہے۔ مگر تضاد نہیں ہے۔ نحمیاہ کی دیوار ایک کمزور قوم کو مٹنے سے بچانے کے لیے تھی تاکہ اُس قوم میں سے مسیح آ سکے؛ مسیح کی گرائی ہوئی دیوار وہ تھی جو یہودیوں اور غیر قوموں کو ایک دوسرے سے الگ رکھتی تھی۔ ایک دیوار وعدے کی حفاظت کے لیے، دوسری دیوار کا گرنا وعدے کی تکمیل کے لیے۔ اور بائبل کے آخری صفحوں پر، مکاشفہ 21 میں، ہمیں پھر ایک شہر نظر آتا ہے جس کی دیوار ہے اور بارہ پھاٹک ہیں، مگر لکھا ہے کہ اُس کے پھاٹک دن کو بند نہ ہوں گے، کیونکہ وہاں رات ہی نہیں۔ نحمیاہ کے پھاٹک ہر شام بند ہوتے تھے؛ اُس شہر کے پھاٹک کبھی بند نہ ہوں گے۔
اُن کی زندگی کا مرکز
نحمیاہ کی پوری زندگی تین لمحوں کے گرد گھومتی ہے، اور تینوں اُس کے کردار کی ایک ایک تہہ کھولتے ہیں۔
پہلا لمحہ شوشن کے محل میں ہے۔ یہ لمحہ چار مہینے لمبا ہے: کسلیو کے مہینے میں خبر ملی، اور نیسان کے مہینے میں وہ بادشاہ سے بات کر سکا۔ اِن چار مہینوں میں وہ خاموشی سے روزہ رکھتا رہا، اقرارِ گناہ کرتا رہا، اور خدا کے وعدوں کو خدا کے سامنے دہراتا رہا۔ یہیں اُس نے وہ منصوبہ بھی سوچ لیا جو بعد میں بادشاہ کے سامنے اتنا واضح نکلا: کتنے دن کی چھٹی، کون سے صوبے داروں کو خطوط، اور آسف سے کتنی لکڑی۔ دعا نے اُس کی عقل کو سُست نہیں کیا، تیز کر دیا۔ دعا منصوبے کی دشمن نہیں، ماں ہے۔ اور جب موقع آیا تو اُس نے ایک ہی سانس میں آسمان کی طرف دیکھا اور پھر زمین کے بادشاہ سے بات کی۔
دوسرا لمحہ ملبے کے درمیان ہے۔ تیسرے باب میں نحمیاہ نام گن گن کر لکھتا ہے: کاہن، عطر ساز، سنار، سلوم کی بیٹیاں، تقوع کے لوگ۔ یہ کوئی پیشہ ور معمار نہیں تھے، یہ عام لوگ تھے جنہوں نے اپنے گھر کے سامنے والا حصہ بنایا۔ نحمیاہ کی قیادت کا راز یہی تھا کہ اُس نے بڑا کام چھوٹے ٹکڑوں میں بانٹ دیا اور ہر خاندان کو اُس کا اپنا حصہ دے دیا۔ پھر مخالفت آئی، اور یہاں ہم اُس کی مضبوطی دیکھتے ہیں: دعا کے ساتھ پہرا (نحمیاہ 4:9)، توجہ بٹانے والی دعوتوں سے انکار (نحمیاہ 6:3)، اور جھوٹے نبیوں کی پہچان۔ مگر پانچواں باب ہمیں ایک اور سچائی بھی دکھاتا ہے: سب سے خطرناک حملہ باہر سے نہیں، اندر سے آیا۔ امیر یہودی اپنے غریب بھائیوں سے سود لے رہے تھے، اُن کے بچے غلامی میں بیچے جا رہے تھے۔ نحمیاہ غصے میں آیا، اُس نے سرداروں کو ڈانٹا، اور پھر خود اپنی مثال رکھی: بارہ سال حاکم رہ کر بھی اُس نے حاکم کا وظیفہ نہیں لیا، بلکہ اپنے خرچ پر روز درجنوں لوگوں کو کھانا کھلایا۔ دیوار بنانے والا سب سے پہلے اپنی جیب پر دیوار نہیں بناتا۔
تیسرا لمحہ پانی کے پھاٹک کے چوک میں ہے۔ باون دن میں دیوار مکمل ہوئی، اور آس پاس کی قومیں سمجھ گئیں کہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا ہے۔ مگر نحمیاہ یہاں جشن منا کر رُک نہیں گیا۔ اُس نے عزرا سے کہا کہ کتاب کھولو۔ صبح سے دوپہر تک شریعت پڑھی گئی، سمجھائی گئی، اور لوگ سُن کر رو پڑے۔ اُسی رونے کے بیچ نحمیاہ نے اُنہیں کھانے، پینے اور بانٹنے کا حکم دیا، کیونکہ "خداوند کی خوشی تمہاری پناہ ہے" (نحمیاہ 8:10)۔
اور چوتھا، غیر متوقع لمحہ؟ وہ تیرہواں باب ہے۔ بارہ سال بعد واپس آ کر نحمیاہ دیکھتا ہے کہ طوبیاہ کو ہیکل میں کمرہ مل گیا ہے، لاویوں کے حصے بند ہو گئے ہیں، سبت کے دن بازار لگ رہا ہے، اور ناجائز رشتے پھر عام ہیں۔ وہ غصے سے کام لیتا ہے، لوگوں کو مارتا ہے، اُن کے بال نوچتا ہے، اور بار بار لکھتا ہے: "اے میرے خدا، میرے حق میں اِس بات کو یاد رکھ۔" یہ ایک تھکے ہوئے، جھنجھلائے ہوئے آدمی کی آواز ہے۔ کتاب ایک زبردست فتح پر نہیں، ایک ادھوری اصلاح پر بند ہوتی ہے۔ اور یہی ایمانداری اِس کتاب کو قیمتی بناتی ہے۔
نحمیاہ سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق: دعا اور محنت جڑواں بہنیں ہیں۔ ہم عموماً دو خانوں میں بٹے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ کہتے ہیں "دعا کرو اور چھوڑ دو"، اور کچھ کہتے ہیں "دعا تو ٹھیک ہے، مگر اصل کام محنت ہے"۔ نحمیاہ 4:9 دونوں کو غلط ثابت کرتا ہے: دعا کی، اور پہرا بھی بٹھایا۔ نحمیاہ کی کتاب میں دعائیں لمبی بھی ہیں اور ایک سانس کی بھی؛ کبھی وہ ماتم کرتا ہے، کبھی چلتے چلتے کہتا ہے "اے میرے خدا، میرے ہاتھوں کو مضبوط کر"۔ یہ وہ آدمی ہے جس کے ایک ہاتھ میں کرنی ہے اور دوسرے میں ہتھیار، اور دونوں ہاتھ گھٹنوں سے جُڑے ہوئے ہیں۔ زبور 127:1 ہمیں بیکار بیٹھنے کے لیے نہیں بلکہ بھروسے کے ساتھ کام کرنے کے لیے بلاتا ہے؛ بنانے والے بنائیں، مگر جانیں کون بنوا رہا ہے۔
دوسرا سبق: قیادت کی اصل قیمت قربانی ہے، رُعب نہیں۔ نحمیاہ کے پاس شاہی فرمان تھا، فوجی دستہ تھا، اور وظیفہ لینے کا پورا حق تھا۔ اُس نے تینوں کو لوگوں کے بوجھ میں بدلنے سے انکار کر دیا۔ جب غریبوں کے بچے گروی رکھے جا رہے تھے، تو اُس نے روحانی باتوں سے جان نہیں چھڑائی؛ اُس نے معاشی ناانصافی کو گناہ کہا اور اپنے مالی حق چھوڑ کر مثال قائم کی۔ جو رہنما اپنے لوگوں کے دُکھ سے فائدہ اٹھاتا ہے، وہ دیوار نہیں بنا سکتا، چاہے وہ کتنی ہی اینٹیں جمع کر لے۔
تیسرا سبق: دیوار کے بعد کلام، اور کلام کے بعد خوشی۔ اگر نحمیاہ کی کتاب چھٹے باب پر ختم ہو جاتی تو یہ ایک انتظامی کامیابی کی داستان ہوتی۔ مگر آٹھواں باب بتاتا ہے کہ دیوار کا مقصد ایک خالی قلعہ نہیں تھا بلکہ ایک ایسی جگہ تھی جہاں خدا کا کلام کھل کر پڑھا جا سکے۔ اور کلام سُن کر لوگوں کا پہلا ردِعمل آنسو تھا، کیونکہ کلام ہمیشہ پہلے ہمیں بےنقاب کرتا ہے۔ نحمیاہ نے اُن آنسوؤں کو روکا نہیں، اُن کو آگے بڑھایا: اب کھاؤ، پیو، اور جس کے پاس کچھ نہیں اُسے بھیجو۔ توبہ کی منزل اداسی نہیں، سخاوت بھری خوشی ہے۔ اور وہ خوشی ہمارے اچھے کاموں پر نہیں، خداوند پر ٹکی ہوئی ہے۔
اور ایک چوتھا، تلخ سبق: بہترین رہنما بھی دل نہیں بدل سکتا۔ تیرہواں باب ہمیں نحمیاہ سے مایوس نہیں کرتا، ہمیں نحمیاہ سے آگے دیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔
آئینہ
آپ نے کبھی اپنی زندگی کا وہ حصہ دیکھا ہے جو نحمیاہ کے یروشلیم جیسا ہے؟ وہ شادی جس کی دیوار سالوں پہلے گر گئی اور آپ نے ملبہ ہٹانا چھوڑ دیا۔ وہ بیٹا یا بیٹی جس سے بات کرتے ہوئے پھاٹک جلنے کی بو آتی ہے۔ وہ قرض، وہ عادت، وہ تنہائی جس کا نام آپ کسی کے سامنے نہیں لیتے۔ اکثر ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہوتا کہ ہم خرابی سے واقف نہیں؛ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہم نے اُسے معمول مان لیا ہے۔ نحمیاہ کا پہلا کام بیٹھ کر رونا تھا۔ آپ نے اپنی اُس خرابی پر آخری بار کب آنسو بہائے تھے؟
اور دوسری طرف، شاید آپ وہ شخص ہیں جو بہت کچھ بنا رہا ہے۔ آپ تھکے ہوئے ہیں، آپ کے ہاتھ میں کرنی ہے، اور چاروں طرف سے آوازیں آ رہی ہیں: نیچے آؤ، ذرا یہ دیکھو، ذرا اُس بحث میں کود پڑو، ذرا اُس فون کو پکڑو۔ نحمیاہ 6:3 آپ کو ایک جملہ سکھاتا ہے جو آپ کو آزاد کر سکتا ہے: میں ایک بڑے کام میں لگا ہوا ہوں، میں نیچے نہیں آ سکتا۔ ہر "نہیں" کسی بڑی "ہاں" کی حفاظت ہے۔ مگر خبردار، یہ آیت اپنی ضد کے لیے ڈھال نہیں؛ نحمیاہ نے اپنے آرام کے لیے نہیں، خدا کے کام کے لیے انکار کیا تھا۔
اور اگر آپ وہ شخص ہیں جو برسوں کوشش کرنے کے بعد اپنے اندر وہی پرانے گناہ دیکھ کر تھک چکا ہے، تو تیرہواں باب آپ کا باب ہے۔ نحمیاہ نے سب کچھ ٹھیک کیا، اور پھر سب کچھ بگڑ گیا۔ اِس کا مطلب یہ نہیں کہ اصلاح بےکار ہے؛ اِس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو کسی سے زیادہ چاہیے جو صرف اصول بتائے۔ آپ کو نیا دل چاہیے، اور یہ ایک ہی ہستی دے سکتی ہے۔ نحمیاہ نے لوگوں کو دیوار دی؛ خداوند یسوع مسیح اپنے آپ کو دیتا ہے۔ آج آپ اپنے آنسو، اپنا ملبہ اور اپنی تھکن اُسی کے پاس لے جائیے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کے ساتھ نحمیاہ کی کہانی سنانا آسان ہے، کیونکہ اِس میں وہ سب کچھ ہے جو بچوں کو پسند آتا ہے: ایک بادشاہ کا محل، ایک رات کا خفیہ سفر، ٹوٹی ہوئی دیوار، چڑانے والے دشمن، اور ایک بڑی جیت۔ چھوٹے بچوں کو بتائیے کہ نحمیاہ ایک ایسا آدمی تھا جو بہت دُور، ایک بڑے بادشاہ کے گھر میں کام کرتا تھا۔ ایک دن اُسے پتا چلا کہ خدا کے لوگوں کا شہر ٹوٹا پڑا ہے، اور وہ بہت رویا۔ پھر اُس نے خدا سے دعا کی، بادشاہ سے مدد مانگی، اور سب لوگوں کے ساتھ مل کر دیوار بنائی، حالانکہ لوگ اُس کا مذاق اُڑاتے تھے۔
بچوں کو اِس کہانی سے دو باتیں دینا سب سے اہم ہے: پہلی، کہ جب کوئی بات ہمیں اداس کرے تو ہم سب سے پہلے خدا سے بات کر سکتے ہیں، اور دوسری، کہ خدا بڑے کام کے لیے چھوٹے ہاتھ بھی استعمال کرتا ہے، کیونکہ دیوار ایک آدمی نے نہیں، بہت سے خاندانوں نے مل کر بنائی تھی۔ آپ گھر میں اینٹوں یا بلاکس سے چھوٹی دیوار بنا کر یہ بات بہت آسانی سے سمجھا سکتے ہیں۔
عمر کے لحاظ سے اِس کہانی کا رنگ بدلتا ہے۔ تین سے چھ سال کے بچوں کے لیے یہ ایک سادہ تصویر ہے: خدا نے نحمیاہ کی دعا سنی۔ سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے مخالفت اور ٹیم ورک کا پہلو دلچسپ ہوتا ہے۔ اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے یہ قیادت، دباؤ اور خدا کے ساتھ ذاتی تعلق کی کہانی بن جاتی ہے، جہاں تیرہویں باب کی ادھوری اصلاح پر بھی ایمانداری سے بات ہو سکتی ہے۔ ہماری ویب سائٹ پر اِن تینوں عمروں کے لیے الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں، تاکہ آپ اپنے بچے کی عمر کے مطابق کہانی سنا سکیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
نحمیاہ کون تھا اور وہ کس زمانے میں رہتا تھا؟
نحمیاہ حکلیاہ کا بیٹا تھا اور بابل کی جلاوطنی کے بعد پیدا ہونے والی اُس نسل سے تھا جو فارس کی سلطنت میں رہتی تھی۔ وہ شہنشاہ ارتخششتا اوّل کا ساقی تھا، یعنی دربار کا ایک معتبر اور قریبی افسر۔ تقریباً ۴۴۵ قبل مسیح میں، بادشاہ کی حکومت کے بیسویں سال، وہ یروشلیم آیا اور بارہ برس تک یہوداہ کا حاکم رہا۔ اُس کا زمانہ ہیکل کی دوبارہ تعمیر کے تقریباً ستر سال بعد اور عزرا کی آمد کے تیرہ سال بعد کا ہے، یعنی پرانے عہدنامے کی تاریخ کا آخری دور۔
نحمیاہ کی کتاب کس نے لکھی؟
کتاب کا بڑا حصہ پہلے شخص میں لکھا گیا ہے، یعنی "میں نے دعا کی"، "میں نے دیکھا"، جس سے صاف ظاہر ہے کہ اِس کی بنیاد نحمیاہ کی اپنی یادداشتیں ہیں۔ یہودی روایت میں عزرا اور نحمیاہ کی کتابیں اصل میں ایک ہی مجموعہ تھیں، اور بہت سے علما سمجھتے ہیں کہ کسی مرتب کرنے والے نے نحمیاہ کی یادداشتوں کو فہرستوں اور سرکاری دستاویزوں کے ساتھ جوڑ کر موجودہ شکل دی۔ کتاب کی اصل اہمیت مصنف کے نام میں نہیں بلکہ اِس میں ہے کہ یہ خدا کے کلام کا حصہ ہے اور خدا کی وفاداری کی گواہی دیتی ہے۔
یروشلیم کی دیوار کتنے دنوں میں بنی؟
نحمیاہ 6:15 کے مطابق دیوار الول کے مہینے کی پچیسویں تاریخ کو، باون دن میں مکمل ہوئی۔ یہ حیران کن رفتار تھی، خاص طور پر مسلسل دھمکیوں اور حملوں کے خطرے کے باوجود۔ دو باتوں نے یہ ممکن بنایا: ایک، نحمیاہ نے پورا کام حصوں میں بانٹ کر ہر خاندان کو اُس کے گھر کے قریب والا حصہ سونپا؛ دو، لوگوں کا دل کام میں لگا ہوا تھا۔ خود نحمیاہ لکھتا ہے کہ دشمنوں نے بھی مان لیا کہ یہ کام خدا کی طرف سے ہوا، کیونکہ اتنی جلدی اور اتنی یکجہتی کی کوئی انسانی وضاحت موجود نہ تھی۔
نحمیاہ اور عزرا کا ایک دوسرے سے کیا تعلق تھا؟
دونوں ایک ہی دور میں یروشلیم میں موجود تھے، مگر اُن کے کام مختلف تھے۔ عزرا کاہن اور شریعت کا عالم تھا، جو ۴۵۸ قبل مسیح کے قریب یروشلیم پہنچا اور لوگوں کو خدا کا کلام سکھانے میں لگا رہا۔ نحمیاہ سیاسی اور انتظامی رہنما تھا، جس نے شہر کی دیوار اور قوم کا ڈھانچہ بحال کیا۔ نحمیاہ کے آٹھویں باب میں دونوں ایک ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں: عزرا کتاب پڑھتا ہے، نحمیاہ لوگوں کو تسلی دیتا ہے۔ یہ تصویر بتاتی ہے کہ خدا کے کام میں کلام کی تعلیم اور عملی قیادت، دونوں کی ضرورت ہے۔
بادشاہ کا ساقی ہونے کا مطلب کیا تھا؟
ساقی کا کام بادشاہ کو پیالہ پیش کرنا تھا، اور چونکہ زہر دیے جانے کا خطرہ ہمیشہ رہتا تھا، یہ عہدہ صرف اُسی شخص کو ملتا تھا جس پر بادشاہ کو مکمل بھروسہ ہو۔ ساقی روز بادشاہ کے قریب رہتا، اُس کی باتیں سنتا اور اکثر اُس کے مشوروں میں شامل ہوتا تھا۔ اِس لیے نحمیاہ کا عہدہ محض خدمت گزاری نہیں بلکہ اثر و رسوخ کا مقام تھا۔ خدا نے اپنے لوگوں کی بحالی کے لیے ایک ایسے آدمی کو تیار کیا جو جلاوطنی میں پلا بڑھا، مگر بادشاہ کے کان تک پہنچ رکھتا تھا۔
نحمیاہ کی دعاؤں میں خاص بات کیا ہے؟
نحمیاہ کی کتاب میں دعا کسی الگ مذہبی رسم کی طرح نہیں بلکہ سانس کی طرح چلتی ہے۔ پہلے باب میں ہم ایک لمبی، ماتم بھری دعا پڑھتے ہیں جس میں وہ خدا کے وعدے یاد کرتا ہے اور قوم کے گناہوں میں اپنے آپ کو بھی شامل کرتا ہے؛ دوسرے باب میں بادشاہ کے سامنے ایک پل کی خاموش دعا؛ چوتھے باب میں خطرے کے وقت کی دعا؛ اور تیرہویں باب میں تھکن بھری دعا "اے میرے خدا، مجھے یاد رکھ"۔ یعنی وہ ہر حال میں اور ہر جگہ خدا سے بات کرتا ہے، اور ہر دعا کے بعد ہاتھ کام میں لگا دیتا ہے۔
سنبلط اور طوبیاہ کون تھے اور وہ مخالفت کیوں کرتے تھے؟
سنبلط سامریہ کا حاکم تھا اور طوبیاہ عمونی علاقے کا ایک بااثر شخص، جبکہ جربی عرب قبائل کا سردار تھا۔ یروشلیم کی کمزوری اُن کے سیاسی اور معاشی فائدے میں تھی، اِس لیے شہر کی بحالی اُن کے اقتدار کے لیے خطرہ تھی۔ اُن کی حکمت عملی تین مرحلوں میں بدلی: پہلے مذاق اور طنز، پھر حملے کی دھمکی، اور آخر میں بات چیت کی جھوٹی پیشکشیں، افواہیں اور نحمیاہ کو ڈرا کر ہیکل میں چھپنے پر مجبور کرنے کی کوشش۔ طوبیاہ کے یہودی سرداروں کے ساتھ رشتے بھی تھے، اِس لیے خطرہ اندر تک پہنچا ہوا تھا۔
"خداوند کی خوشی تمہاری پناہ ہے" کا اصل مطلب کیا ہے؟
نحمیاہ 8:10 اُس موقع پر کہا گیا جب لوگ خدا کا کلام سُن کر اپنے گناہوں پر رو رہے تھے۔ نحمیاہ نے اُن کے آنسوؤں کو جھٹلایا نہیں، مگر اُنہیں بتایا کہ اُس دن کا مقصد ماتم نہیں بلکہ خداوند میں شادمانی ہے۔ "خداوند کی خوشی" سے مراد یہ ہے کہ ہماری طاقت ہماری اپنی کارکردگی یا جذبات پر نہیں، بلکہ اُس خوشی پر ٹکی ہے جو خداوند اپنے لوگوں میں رکھتا ہے اور جو وہ اپنے لوگوں کو عطا کرتا ہے۔ اِسی لیے اگلا حکم بانٹنا تھا: جس کے پاس کچھ نہیں، اُسے بھیجو۔
کیا یہ سچ ہے کہ نحمیاہ نے لوگوں کو مارا اور اُن کے بال نوچے؟
جی، نحمیاہ 13:25 میں وہ خود لکھتا ہے کہ اُس نے عہد توڑنے والوں کو جھڑکا، اُن میں سے کچھ کو مارا اور اُن کے بال نوچے۔ بائبل اپنے کرداروں کی خوبیاں اور کمزوریاں، دونوں بیان کرتی ہے۔ نحمیاہ کا غصہ گناہ کے خلاف تھا اور اُس کے پیچھے ایک سچی فکر تھی کہ قوم پھر تباہی کی طرف نہ چلی جائے، مگر اُس کے طریقے ہمارے لیے نمونہ نہیں ہیں۔ خداوند یسوع مسیح نے ہمیں ایک مختلف راہ دکھائی، جہاں سچائی نرمی کے ساتھ اور محبت سے بولی جاتی ہے۔
نحمیاہ 6:3 کا اصول آج کیسے استعمال ہوتا ہے؟
نحمیاہ کا جواب "میں ایک بڑے کام میں لگا ہوا ہوں، میں نیچے نہیں آ سکتا" توجہ کی حفاظت کا اصول سکھاتا ہے۔ ہر دعوت، ہر بحث اور ہر مصروفیت کا جواب دینا ضروری نہیں، خاص طور پر جب وہ آپ کو خدا کے سونپے ہوئے کام سے ہٹانے کے لیے آئے۔ مگر یہ آیت سستی یا خودغرضی کا بہانہ نہیں بن سکتی۔ نحمیاہ نے اپنے آرام کی حفاظت نہیں کی تھی؛ وہ دن رات محنت کر رہا تھا، اپنے خرچ پر لوگوں کو کھلا رہا تھا، اور صرف اُن آوازوں کو ٹھکرا رہا تھا جو اُسے دیوار سے دُور لے جاتی تھیں۔
نحمیاہ کی کتاب ایسے مایوس کن باب پر کیوں ختم ہوتی ہے؟
کیونکہ یہ سچ بول رہی ہے۔ دیوار بن گئی، عہد پر مہریں لگ گئیں، شہر مخصوص کیا گیا، مگر بارہ سال بعد وہی گناہ لوٹ آئے: سبت کی بےحرمتی، لاویوں کی نظراندازی، ناجائز رشتے اور ہیکل میں طوبیاہ کا کمرہ۔ یہ انجام ہمیں ایک پیغام دیتا ہے: بہترین قیادت، بہترین قانون اور بہترین حالات بھی انسانی دل کو نہیں بدل سکتے۔ اِسی خالی جگہ میں یرمیاہ 31:33 اور حزقی ایل 36:26 کے وعدے گونجتے ہیں، اور وہاں سے مسیح اور نئے عہد کا راستہ کھلتا ہے۔
نحمیاہ کی کہانی مسیح کی طرف کیسے اشارہ کرتی ہے؟
کئی طرح سے۔ نحمیاہ نے آرام دہ محل چھوڑ کر ایک ٹوٹے ہوئے لوگوں کے درمیان آ کر اُن کا دُکھ اپنایا؛ مسیح نے آسمان کا جلال چھوڑ کر ہمارا جسم اور ہمارا غم اپنایا۔ نحمیاہ نے دیوار بنا کر قوم کو بچایا تاکہ وعدہ قائم رہے؛ مسیح نے اپنے بدن کو توڑ کر ہمیں بچایا۔ نحمیاہ نے لوگوں سے مالی قربانی مانگی نہیں بلکہ خود قربانی دی؛ مسیح نے خود کو دے دیا۔ اور جو کام نحمیاہ نہ کر سکا، یعنی دل کی تبدیلی، وہ مسیح اپنے روح کے ذریعے کرتا ہے۔
کیا میں نحمیاہ کی طرح "اپنی دیوار بنانے" کا اصول اپنی زندگی پر لاگو کر سکتا ہوں؟
ہاں، بشرطیکہ ہم کہانی کو ترتیب میں رکھیں۔ نحمیاہ کی دیوار کسی ذاتی کامیابی کا منصوبہ نہیں تھی بلکہ خدا کے لوگوں کی حفاظت اور خدا کے نام کی عزت کا کام تھا۔ اِس لیے اصول یہ ہے: پہلے ٹوٹی ہوئی چیز پر دل سے غم کھائیے، پھر خدا سے دعا کیجیے، پھر عقل سے منصوبہ بنائیے، دوسروں کو ساتھ لیجیے، مخالفت پر حیران نہ ہوں، اور کام کے بیچ خدا کے کلام کو مرکزی جگہ دیجیے۔ اور یہ سب زبور 127:1 کے سائے میں، یہ جان کر کہ اصل معمار خداوند ہے۔
اختتام میں
نحمیاہ کی کہانی اینٹوں، چونے اور باون دنوں کی کہانی ہے، مگر اِس کا دل کہیں اور ہے۔ ہر موڑ پر ایک آدمی خدا سے بات کرتا ہے: محل میں روتے ہوئے، بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے، دشمنوں کے درمیان پہرا بٹھاتے ہوئے، اور آخری باب میں تھک کر۔ یہی اِس کتاب کی اصل عمارت ہے۔ مگر اُتنی ہی اہم وہ خاموش گواہی ہے جو تیرہواں باب دیتا ہے: پتھر تو جُڑ گئے، دل نہیں جُڑے۔ اِس لیے کتاب جشن پر نہیں بلکہ ایک آہ پر ختم ہوتی ہے، اور وہ آہ خود ایک پیشین گوئی ہے۔ ادھوری اصلاح ایک بڑے نجات دہندہ کی طرف اشارہ ہے۔
اگر آپ آگے پڑھنا چاہیں تو نحمیاہ کے پہلے باب کی دعا اور نویں باب کی لمبی اقرارِ گناہ کی دعا ساتھ ساتھ پڑھیے، اور پھر یرمیاہ 31 اور حزقی ایل 36 کے وعدوں کی طرف بڑھیے۔ اُس کے بعد افسیوں 2 کھولیے، جہاں مسیح جدائی کی دیوار گرا کر ہمیں ایک ہی عمارت بنا دیتا ہے۔ آخر میں یہ دعا کیجیے جو نحمیاہ بھی کرتا تھا: اے خدا، میرے ہاتھوں کو مضبوط کر۔ اور پھر کام پر لگ جائیے۔
