پطرس رسول کی زندگی اور بحالی
تعارف
ایک سرد رات، یروشلیم کے صحن میں کوئلوں کی آگ سلگ رہی ہے۔ اُس آگ کے گرد چند نوکر اور سپاہی ہاتھ سینکتے ہیں، اور اُن کے درمیان ایک مچھیرا کھڑا ہے جس کے ہاتھ ابھی چند گھنٹے پہلے تلوار پکڑنے کی جسارت کر چکے تھے۔ اُسی آگ کی روشنی میں ایک نوکرانی اُس کا چہرہ پہچان لیتی ہے، اور وہ آدمی تین بار کہتا ہے: میں اُس شخص کو نہیں جانتا۔
چند ہفتے بعد وہی آدمی یروشلیم کی بھری گلیوں میں بلند آواز سے مسیح کی منادی کر رہا ہے، اور ہزاروں لوگ توبہ کر رہے ہیں۔ درمیان میں کیا ہوا؟ اِس صفحے پر ہم پطرس رسول کی پوری زندگی کو ترتیب سے دیکھیں گے: اُن کی بلاہٹ، اُن کا ایمان، اُن کی گراوٹ، اور سب سے بڑھ کر وہ طریقہ جس سے خداوند یسوع مسیح نے اُنہیں دوبارہ کھڑا کیا۔
اس رہنما کا زاویہ
پطرس رسول کی کہانی دو آگوں کے درمیان لکھی گئی ہے۔ ایک آگ صحن میں، جہاں اُنہوں نے خداوند کا انکار کیا (یوحنا 18:18)، اور دوسری آگ گلیل کی جھیل کے کنارے، جہاں جی اُٹھے مسیح نے اُن کے لیے ناشتہ تیار کیا (یوحنا 21:9)۔ یونانی زبان میں "کوئلوں کی آگ" کا وہ خاص لفظ پوری انجیل میں صرف اِن دو جگہوں پر آتا ہے۔ یہ اتفاق نہیں۔ فضل ہمارے زخم کے گرد چکر نہیں کاٹتا، وہ ٹھیک اُسی جگہ لوٹ آتا ہے جہاں ہم گرے تھے، اور وہاں سے ہمیں دوبارہ بھیجتا ہے۔ اِسی زاویے سے ہم پطرس کی ساری زندگی پڑھیں گے۔
بائبل پطرس رسول کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
بائبل ہمیں پطرس کے بارے میں کسی اور رسول سے زیادہ بتاتی ہے۔ اُن کا اصل نام شمعون تھا، بیت صیدا کے ایک مچھیرے یونا کا بیٹا، اور اُن کا گھر کفرنحوم میں تھا جہاں اُن کی ساس بھی رہتی تھیں (مرقس 1:29-31)۔ یعنی وہ شادی شدہ تھے، محنت مزدوری کرنے والے، جھیل کی ہوا سے پکے ہوئے ایک عام آدمی۔ سب سے پہلے اُن کا بھائی اندریاس اُنہیں یسوع کے پاس لایا، اور خداوند نے پہلی ہی ملاقات میں اُن کا نام بدل دیا: "تُو کیفا کہلائے گا" (یوحنا 1:42)۔ کیفا آرامی میں پتھر، یونانی میں پطرس۔ غور کریں کہ یہ نام اُن کے مضبوط ہونے کے بعد نہیں، بلکہ اُن کے مضبوط ہونے سے پہلے دیا گیا۔ خدا ہمیں اُس نام سے پکارتا ہے جو ہم اُس کے فضل سے بنیں گے۔
پھر جھیل کے کنارے وہ فیصلہ کن بلاہٹ آئی۔ متی 4:19 میں لکھا ہے: "اُس نے اُن سے کہا میرے پیچھے چلے آؤ۔ تو میں تم کو آدم گیر بناؤں گا۔" یہاں دو باتیں ہیں: ایک حکم اور ایک وعدہ۔ حکم یہ کہ اپنے پیچھے آنے دو، وعدہ یہ کہ میں تمہیں بناؤں گا۔ پطرس کی ساری زندگی اِسی وعدے کی تفسیر ہے۔ وہ خود کو نہیں بنا سکے، مسیح نے اُنہیں بنایا، اور اُن کے ٹوٹنے کے ذریعے بنایا۔
پطرس رسولوں کی ہر فہرست میں پہلے آتے ہیں اور اکثر پورے گروہ کی طرف سے بولتے ہیں۔ قیصریہ فلپی کے قریب، جب یسوع نے پوچھا کہ تم مجھے کیا کہتے ہو، تو متی 16:16 میں لکھا ہے: "شمعون پطرس نے جواب میں کہا تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔" یہ نئے عہدنامے کا سب سے بڑا اعتراف ہے، اور خداوند نے فوراً واضح کیا کہ یہ بصیرت گوشت اور خون سے نہیں بلکہ آسمانی باپ سے آئی۔ یعنی پطرس کی سب سے بڑی خوبی بھی اُن کی اپنی پیداوار نہیں تھی، وہ بھی مکاشفہ تھا، تحفہ تھا۔
اور پھر وہی زبان جس نے اعتراف کیا، اُسی زبان نے انکار کیا۔ متی 26:75 کہتی ہے: "اور پطرس کو یسوع کی وہ بات یاد آئی جو اُس نے کہی تھی کہ مُرغ کے بانگ دینے سے پہلے تُو تین بار میرا انکار کرے گا۔ اور وہ باہر جا کر زار زار رویا۔" بائبل اپنے ہیروز کو کبھی نہیں سنوارتی۔ وہ اُن کے آنسو بھی درج کرتی ہے۔
مگر کہانی وہاں نہیں رکتی۔ جھیل کے کنارے، کوئلوں کی دوسری آگ پر، یوحنا 21:15 میں ہم پڑھتے ہیں: "پھر جب وہ کھانا کھا چکے تو یسوع نے شمعون پطرس سے کہا اَے شمعون یوحنا کے بیٹے کیا تُو مجھ سے اِن سے زیادہ محبت رکھتا ہے؟ اُس نے اُس سے کہا ہاں خداوند تُو تو جانتا ہے کہ میں تجھے عزیز رکھتا ہوں۔ اُس نے اُس سے کہا میرے برّوں کو چرا۔" تین انکاروں کے بدلے تین سوال، اور ہر جواب کے بعد ایک نئی ذمہ داری۔ بحالی صرف معافی نہیں تھی، وہ دوبارہ بھیجنا بھی تھی۔
اعمال کی کتاب میں یہی آدمی پنتیکُست کے دن اُٹھ کھڑا ہوتا ہے: "مگر پطرس اُن گیارہ کے ساتھ کھڑا ہو کر بلند آواز سے اُن سے کہنے لگا اَے یہودیو اور اَے یروشلیم کے سب رہنے والو یہ جان لو اور کان لگا کر میری باتیں سنو" (اعمال 2:14)۔ جس شہر میں وہ سرگوشی میں انکار کر چکے تھے، اُسی شہر میں اب بلند آواز سے اعلان کر رہے ہیں۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پطرس اچانک کہیں سے نہیں آتے۔ پرانے عہدنامے میں خدا کے کام کرنے کا ایک پرانا طریقہ ہے: وہ ناموں کو بدلتا ہے اور ٹوٹے ہوئے لوگوں کو دوبارہ بھیجتا ہے۔ ابرام سے ابرہام، یعقوب سے اسرائیل، اور اب شمعون سے پطرس۔ یعقوب کا نام اُسی رات بدلا گیا جب وہ لنگڑا ہوا۔ پطرس کا نام بھی اُس سفر کے آغاز میں دیا گیا جو اُنہیں اپنی طاقت کے آخری سرے تک لے جانے والا تھا۔
موسیٰ نے مصری کو مار کر اپنے طریقے سے قوم بچانے کی کوشش کی، اور چالیس سال بیابان میں گزارے، پھر بھیجے گئے۔ داؤد نے سنگین گناہ کیا، ٹوٹے دل سے زبور 51 لکھا، اور پھر بھی خدا کا خادم رہا۔ یہ ایک لمبی زنجیر ہے جس کی ہر کڑی یہ کہتی ہے کہ خدا مکمل لوگوں کو استعمال نہیں کرتا، وہ توبہ کرنے والوں کو استعمال کرتا ہے۔ پطرس اِس زنجیر کی سب سے چمکدار کڑی ہیں۔
خداوند نے اُنہیں دو بار "شمعون یونا کے بیٹے" کہہ کر پکارا (متی 16:17 اور یوحنا 21:15)، اور یہ لفظ اتفاقی نہیں لگتا۔ یونا نبی وہ آدمی تھا جو غیر قوموں کے پاس جانے سے بھاگا، جسے مچھلی کے پیٹ سے نکال کر دوبارہ بھیجا گیا۔ پطرس کے ساتھ بھی بالکل یہی ہوا۔ اعمال 10 میں خدا اُنہیں یافا کی چھت پر ایک رویا دکھاتا ہے اور کرنیلیس کے گھر بھیجتا ہے، اور وہاں اُن کے منہ سے وہ جملہ نکلتا ہے جو کلیسیا کی تاریخ کا رخ موڑ دیتا ہے: "پھر پطرس نے زبان کھول کر کہا کہ اب مجھے پورا یقین ہوا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں" (اعمال 10:34)۔ ایک نئے یونا کو دوبارہ بھیجا گیا، اور اِس بار وہ بھاگا نہیں۔
پھر پتھر کی تصویر لیجیے۔ پرانے عہدنامے میں یسعیاہ 28:16 اور زبور 118:22 ایک کونے کے سِرے کے پتھر کی بات کرتے ہیں جسے معماروں نے رد کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جس آدمی کا نام "پتھر" رکھا گیا، اُسی نے سب سے زور سے یہ سکھایا کہ اصل پتھر مسیح ہے، اور ہم سب زندہ پتھر ہیں جو اُس پر بنائے جاتے ہیں (1 پطرس 2:4-8)۔ پطرس نے کبھی اپنے آپ کو بنیاد نہیں بنایا۔
اور چرواہے کا سلسلہ؟ حزقی ایل 34 میں خدا اسرائیل کے بُرے چرواہوں کو ملامت کرتا ہے اور وعدہ کرتا ہے کہ وہ خود اپنے گلّے کی گلّہ بانی کرے گا۔ زبور 23 میں خداوند ہمارا چرواہا ہے۔ یوحنا 10 میں یسوع فرماتے ہیں کہ اچھا چرواہا میں ہوں۔ اور جھیل کے کنارے وہی اچھا چرواہا ایک ناکام مچھیرے کو کہتا ہے: میرے برّوں کو چرا۔ سب کچھ مسیح میں جمع ہو کر پھر مسیح سے باہر بہتا ہے۔ پطرس چرواہا بنے کیونکہ اُنہیں پہلے چرایا گیا تھا۔
ان کی زندگی کا مرکز
پطرس کی زندگی کے تین لمحے ایسے ہیں جن کے بغیر باقی سب کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔
پہلا لمحہ اعتراف کا ہے۔ قیصریہ فلپی کے دیہات میں، بت پرستی کے مندروں کے سائے میں، خداوند اپنے شاگردوں سے پوچھتے ہیں کہ تم مجھے کیا سمجھتے ہو، اور متی 16:16 میں پطرس بول اُٹھتے ہیں: "تُو زندہ خدا کا بیٹا مسیح ہے۔" مگر یہی باب ہمیں یہ بھی بتاتا ہے کہ چند آیتوں کے بعد، جب یسوع نے اپنی صلیب اور موت کا ذکر کیا، تو اُسی پطرس نے اُنہیں روکنے کی کوشش کی اور سخت سرزنش سنی۔ یہ اُن کی شخصیت کا نقشہ ہے: بلند ترین بصیرت اور گہری غلط فہمی، ایک ہی سانس میں۔ وہ مسیح کو پہچانتے تھے مگر صلیب کو نہیں۔
دوسرا لمحہ انکار کا ہے۔ آخری رات پطرس نے قسم کھائی کہ سب چھوڑ دیں تو بھی میں نہیں چھوڑوں گا۔ گتسمنی میں وہ سو گئے۔ گرفتاری کے وقت اُنہوں نے تلوار چلائی، یعنی بہادری اُن میں تھی، مگر وہ غلط قسم کی بہادری تھی۔ اور پھر صحن کی اُس کوئلوں کی آگ کے پاس، جہاں گرمی تھی مگر گواہی کا حوصلہ نہیں، وہ ٹوٹ گئے۔ متی 26:75: "اور وہ باہر جا کر زار زار رویا۔" یہ آنسو معمولی نہیں تھے۔ یہ اُس آدمی کے آنسو ہیں جس کے اپنے بارے میں سارے اندازے ایک رات میں راکھ ہو گئے۔ خداوند نے پہلے ہی فرما دیا تھا: "لیکن میں نے تیرے لیے دعا کی کہ تیرا ایمان جاتا نہ رہے اور جب تُو رجوع کرے تو اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا" (لوقا 22:32)۔ گراوٹ حیرت نہیں تھی، اور دعا اُس سے پہلے ہو چکی تھی۔
تیسرا لمحہ بحالی کا ہے، اور یہی سب سے حیران کن ہے۔ جی اُٹھنے کے بعد فرشتے کا پیغام خاص طور پر یہ تھا کہ شاگردوں اور پطرس کو بتاؤ (مرقس 16:7)۔ پھر گلیل کی جھیل پر، ناکام ماہی گیری کی ایک اور رات کے بعد، مسیح کنارے پر کوئلوں کی آگ جلا کر کھڑے ہیں۔ اُنہوں نے پطرس کو کلیسیا کے سامنے شرمندہ نہیں کیا، اُنہوں نے اُنہیں ناشتہ کھلایا۔ اور پھر تین سوال، ٹھیک تین انکاروں کے مقابل، اور ہر بار وہی جواب: میرے برّوں کو چرا، میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر۔ فضل نے پطرس کو ماضی سے چھلانگ لگا کر گزرنے نہیں دیا، وہ اُنہیں واپس اُسی آگ کے پاس لایا اور وہاں شفا دی۔
پطرس سے ہم کیا سیکھتے ہیں
پہلا سبق یہ ہے کہ فضل ہمارے زخم کی جگہ پر لوٹ آتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ خدا ہمارے ماضی پر مٹی ڈال دے اور بات ختم ہو۔ خداوند اُس سے بہتر کام کرتے ہیں: وہ ہمیں اُس جگہ لے جاتے ہیں جہاں ہم گرے تھے اور اُسے گواہی کی جگہ بنا دیتے ہیں۔ پطرس نے تین بار "میں نہیں جانتا" کہا تھا، اور اب اُنہیں تین بار "تُو تو جانتا ہے" کہنے کا موقع ملا۔ جو یاد اُنہیں توڑنے والی تھی، وہی یاد اُن کی خدمت کی جڑ بن گئی۔ مسیح آپ کے زخم سے شرمندہ نہیں ہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ محبت کا ثبوت جذبات نہیں بلکہ گلّہ بانی ہے۔ یوحنا 21:15 میں خداوند نے پطرس سے یہ نہیں پوچھا کہ کیا تم اب زیادہ محتاط ہو، یا کیا تم آئندہ کے لیے وعدہ کرتے ہو۔ اُنہوں نے صرف محبت کے بارے میں پوچھا، اور جواب ملنے پر اُس محبت کو ایک ٹھوس کام کے ساتھ جوڑ دیا: چرا، گلّہ بانی کر، کھلا۔ گھر میں، کام کی جگہ پر، کلیسیا میں، مسیح کی محبت اُس وقت سچی ثابت ہوتی ہے جب وہ کسی بھوکے، تھکے یا اکیلے آدمی تک روٹی پہنچاتی ہے۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ توبہ کیے ہوئے آدمی کے ہاتھ سب سے نرم ہوتے ہیں۔ لوقا 22:32 میں خداوند نے فرمایا کہ رجوع کے بعد اپنے بھائیوں کو مضبوط کرنا۔ اِسی لیے پطرس کا خط اِن الفاظ سے شروع ہوتا ہے: "ہمارے خداوند یسوع مسیح کے خدا اور باپ کی حمد ہو جس نے اپنی بڑی رحمت کے مطابق یسوع مسیح کے مُردوں میں سے جی اُٹھنے کے باعث زندہ اُمید کے لیے ہمیں نئے سِرے سے پیدا کیا" (1 پطرس 1:3)۔ غور کریں کہ وہ "بڑی رحمت" اور "زندہ اُمید" کی بات کر رہے ہیں۔ یہ الفاظ ایک ایسے آدمی کے ہیں جو خود رحمت پر جیا اور جس کی اُمید ایک قبر کے خالی ہونے کے بعد دوبارہ زندہ ہوئی۔ جو لوگ گِر کر اُٹھائے گئے ہیں، وہ دوسروں کے ساتھ سختی کرنا بھول جاتے ہیں۔
آئینہ
آپ کی زندگی میں بھی ایک صحن ہے اور ایک آگ ہے۔ ممکن ہے وہ دفتر کی چائے کا وقفہ ہو جہاں سب مسیحیوں کا مذاق اُڑا رہے تھے اور آپ ہنس دیے۔ ممکن ہے وہ خاندان کی کوئی محفل ہو جہاں آپ سے پوچھا گیا کہ آپ کا ایمان کیا ہے، اور آپ نے بات بدل دی۔ ممکن ہے وہ آپ کے موبائل کی کوئی خاموش رات ہو، یا وہ رقم ہو جو آپ نے حساب سے چھپا لی، یا وہ سخت جملہ ہو جو آپ نے اپنے بچے سے کہا اور آج تک معافی نہیں مانگی۔ ہم سب کے پاس ایسی آگ ہے جس کی روشنی میں ہم اپنے آپ کو پہچاننا نہیں چاہتے۔
اور یہی وجہ ہے کہ پطرس کی کہانی آپ کے لیے لکھی گئی ہے۔ آپ سوچتے ہیں کہ خدا نے آپ کو ایک درجہ نیچے کر دیا ہے: پہلے آپ آگے کی صف میں تھے، اب آپ صرف بیٹھ کر سن سکتے ہیں۔ آپ خدمت کے قابل نہیں، دعا میں زبان لڑکھڑاتی ہے، اور دل میں یہ خیال چلتا ہے کہ اب سب کچھ ٹھیک ہو جائے تو واپس آؤں گا۔ مگر خداوند نے پطرس سے یہ نہیں کہا کہ پہلے خود کو ثابت کرو، پھر بات کریں گے۔ اُنہوں نے ناشتہ تیار کیا اور کہا: آؤ، کھانا کھاؤ۔
پوچھیے اپنے آپ سے: کیا میں مسیح سے چھپ رہا ہوں یا اُس کے سامنے آ رہا ہوں؟ کیونکہ یہوداہ اور پطرس دونوں گِرے، فرق صرف یہ تھا کہ ایک باہر جا کر روتا رہا اور واپس آیا، اور دوسرا اپنے پچھتاوے کے ساتھ اکیلا رہ گیا۔ آنسو خود نجات نہیں دیتے، مگر جو آنسو مسیح کی طرف بہتے ہیں وہ کبھی ضائع نہیں ہوتے۔ آج، اپنی اُسی جگہ پر، اُسی زخم کے ساتھ، اُس کے پاس آئیے۔ وہ آپ کے سوال کا جواب نہیں مانگ رہے، وہ صرف یہ پوچھ رہے ہیں: کیا تُو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو پطرس بہت جلد پسند آ جاتے ہیں، کیونکہ وہ اُن جیسے ہیں: بہت جوش، بہت جلدی، اور کبھی کبھی بہت بڑی غلطی۔ چھوٹے بچوں سے آپ اِس طرح بات کر سکتے ہیں کہ پطرس ایک مچھیرا تھا جو مچھلیاں پکڑتا تھا، اور ایک دن یسوع نے اُسے کہا کہ میرے ساتھ آ جاؤ، میں تمہیں لوگوں کا مچھیرا بناؤں گا۔ پطرس نے یسوع سے بہت محبت کی، مگر ایک رات وہ ڈر گیا اور تین بار کہا کہ میں یسوع کو نہیں جانتا۔ پھر وہ بہت رویا۔ لیکن یسوع نے اُسے چھوڑ نہیں دیا۔ جی اُٹھنے کے بعد یسوع نے اُسے ناشتہ کھلایا اور کہا: میری بھیڑوں کی دیکھ بھال کرو۔
یہ آخری حصہ ضرور دہرائیے، کیونکہ بچوں کو یہ سیکھنے کی ضرورت ہے کہ غلطی کے بعد بھی محبت ختم نہیں ہوتی۔ ایک سوال جو ہر عمر کے بچے کے دل کو کھول دیتا ہے یہ ہے: تمہیں کبھی ایسا لگا کہ تم نے کوئی ایسی بات کر دی جس کے بعد کوئی تم سے پیار نہیں کرے گا؟ پھر اُنہیں بتائیے کہ یسوع نے پطرس کو ڈانٹا نہیں، بلکہ کھانا کھلایا۔
فیتھ نیٹ ورک پر اِس موضوع کی الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: تین سے چھ سال کے چھوٹے بچوں کے لیے سادہ کہانی کی صورت میں، سات سے بارہ سال کے بچوں کے لیے تھوڑی تفصیل اور سوالوں کے ساتھ، اور بارہ سال سے بڑے نوجوانوں کے لیے ایسے انداز میں جو دوستوں کے دباؤ، شرمندگی اور شناخت کے حقیقی سوالوں کو چھوتا ہے۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہی وضاحت چنیں اور اُس سے بات شروع کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
پطرس رسول کون تھے؟
پطرس رسول گلیل کی جھیل کے کنارے بیت صیدا کے ایک مچھیرے تھے جن کا اصل نام شمعون تھا اور جو خداوند یسوع مسیح کے بارہ شاگردوں میں سب سے نمایاں تھے۔ اُن کا بھائی اندریاس اُنہیں یسوع کے پاس لایا، اور آگے چل کر وہ ابتدائی کلیسیا کے سب سے مؤثر رہنماؤں میں سے ایک بنے۔ پنتیکُست کے دن اُنہوں نے پہلا عوامی وعظ دیا، اُنہوں نے کرنیلیس کے گھر غیر قوموں کے لیے انجیل کا دروازہ کھلتے دیکھا، اور نئے عہدنامے میں اُن کے دو خط شامل ہیں۔
پطرس کا اصلی نام کیا تھا اور "کیفا" کا مطلب کیا ہے؟
اُن کا پیدائشی نام شمعون تھا، اور یسوع نے پہلی ملاقات پر ہی اُنہیں کیفا کہا (یوحنا 1:42)۔ کیفا آرامی زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب پتھر یا چٹان ہے، اور یونانی میں اِس کا ترجمہ پطرس ہے۔ پولس رسول اپنے خطوں میں اُنہیں اکثر کیفا ہی کہتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ یہ نام اُنہیں اُن کی مضبوطی کے صلے میں نہیں دیا گیا، بلکہ اُس سے پہلے دیا گیا جو مسیح اُن میں کرنے والے تھے۔
کیا پطرس شادی شدہ تھے؟
جی ہاں۔ انجیل صاف بتاتی ہے کہ یسوع نے پطرس کی ساس کو بخار سے شفا دی (مرقس 1:29-31 اور متی 8:14-15)، جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ شادی شدہ تھے۔ پولس رسول 1 کرنتھیوں 9:5 میں یہ بھی اشارہ دیتے ہیں کہ کیفا اپنی بیوی کو ساتھ لے کر سفر کرتے تھے۔ یعنی پطرس ایک شادی شدہ، خاندان دار، محنت کرنے والا آدمی تھے، اور خدا نے اُن کے عام سے گھریلو حالات کے درمیان اُنہیں بلایا۔
متی 16:18 میں "اِس پتھر پر" سے کیا مراد ہے؟
اِس آیت کی تین بڑی تفسیریں رہی ہیں: پتھر خود پطرس ہیں، یا پطرس کا اعتراف ایمان ہے، یا مسیح خود ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پطرس نے خود اپنے خط میں لکھا کہ اصل زندہ پتھر مسیح ہے اور ہم سب اُس پر بنائے جاتے ہیں (1 پطرس 2:4-8)۔ آیت کا سیاق و سباق اعتراف پر ہے، یعنی وہ گواہی جو رسولوں کے ذریعے دی گئی۔ کلیسیا رسولوں کی بنیاد پر بنی ہے، مگر اُس کا کونے کا سِرا مسیح ہی ہے (افسیوں 2:20)۔
پطرس نے یسوع کا انکار کیوں کیا؟
اِس کی جڑ خوف تھی، مگر اُس خوف سے پہلے خود اعتمادی تھی۔ پطرس نے بڑے دعوے کیے کہ چاہے سب چھوڑ دیں، میں نہیں چھوڑوں گا، اور خداوند نے اُنہیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ مُرغ کے بانگ سے پہلے تُو تین بار انکار کرے گا۔ گتسمنی میں وہ دعا کے وقت سو گئے، اور بغیر دعا کے وہ اُس رات میں داخل ہوئے۔ متی 26:75 میں اُن کے آنسو یہ بتاتے ہیں کہ اُن کی محبت جھوٹی نہیں تھی، اُن کی طاقت ناکافی تھی۔
یسوع نے یوحنا 21 میں تین بار کیوں پوچھا؟
کیونکہ انکار تین بار ہوا تھا۔ خداوند نے پطرس کے زخم کا علاج اُسی گہرائی تک کیا جہاں تک زخم گیا تھا۔ ہر سوال کے ساتھ ایک نئی ذمہ داری بھی آئی: میرے برّوں کو چرا، میری بھیڑوں کی گلّہ بانی کر۔ یہ عدالت نہیں تھی، بحالی تھی، اور اُس بحالی میں شرمندہ کرنا نہیں بلکہ دوبارہ بھیجنا مقصود تھا۔ یہ سب اُسی کوئلوں کی آگ کے پاس ہوا، جو اُس رات کی آگ کی یاد تازہ کرتی تھی۔
کیا پطرس پہلا پوپ تھے؟
نئے عہدنامے میں پطرس کو ایک ممتاز رسول کی حیثیت ملتی ہے، مگر ایسا کوئی عہدہ یا سلسلہ بیان نہیں ہوتا جس کے ذریعے اُن کا اختیار آگے منتقل ہوتا۔ یروشلیم کی مجلس میں فیصلہ کن اعلان یعقوب نے کیا (اعمال 15)، اور گلتیوں 2:11 میں پولس نے پطرس کو رو در رو ملامت کی، جو ایک بے سوال اعلیٰ اختیار کے تصور سے میل نہیں کھاتا۔ خود پطرس نے اپنے خط میں اپنے آپ کو "بزرگوں کا ہم پیشہ" کہا (1 پطرس 5:1)۔
پطرس اور پولس میں اختلاف کیوں ہوا؟
انطاکیہ میں پطرس پہلے غیر قوم ایمانداروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے، مگر جب یروشلیم سے کچھ لوگ آئے تو وہ ڈر کر الگ ہو گئے۔ پولس نے اِسے انجیل کی سچائی کے خلاف ایک عمل قرار دیا اور اُنہیں سب کے سامنے ٹوکا (گلتیوں 2:11-14)۔ یہ واقعہ ہمیں دو باتیں سکھاتا ہے: پہلی یہ کہ لوگوں کا خوف پطرس کی پرانی کمزوری تھی جو دوبارہ سر اُٹھا سکتی تھی، اور دوسری یہ کہ سچی اصلاح محبت میں کھلے عام بھی ہو سکتی ہے۔
پطرس کی موت کیسے ہوئی؟
بائبل اُن کی موت کا واقعہ بیان نہیں کرتی، مگر یوحنا 21:18-19 میں خداوند نے واضح اشارہ دیا کہ پطرس بڑھاپے میں اپنے ہاتھ پھیلائیں گے اور اپنی موت سے خدا کا جلال ظاہر کریں گے، اور یوحنا لکھتے ہیں کہ یہ اُن کی موت کے بارے میں کہا گیا تھا۔ ابتدائی کلیسیا کی روایت کہتی ہے کہ اُنہیں روم میں نیرو کے دور میں صلیب دی گئی، اور ایک قدیم روایت کے مطابق اپنی خواہش پر اُلٹا۔ یہ روایت بائبل سے باہر ہے، مگر پرانی اور مستحکم ہے۔
پطرس نے کون سی کتابیں لکھیں؟
نئے عہدنامے میں اُن کے نام سے دو خط ہیں: 1 پطرس اور 2 پطرس۔ پہلا خط بکھرے ہوئے، ستائے ہوئے ایمانداروں کو زندہ اُمید اور صبر کی تعلیم دیتا ہے، اور اُس کا آغاز ہی رحمت اور نئی پیدائش کی حمد سے ہوتا ہے (1 پطرس 1:3)۔ دوسرا خط جھوٹے اُستادوں کے خلاف خبردار کرتا ہے اور خداوند کی آمد کی یقین دہانی کراتا ہے۔ ابتدائی کلیسیا کی گواہی یہ بھی ہے کہ مرقس کی انجیل کا بڑا حصہ پطرس کی گواہی پر مبنی ہے۔
اعمال 10 کا واقعہ اتنا اہم کیوں ہے؟
کیونکہ وہاں انجیل کی سرحد ٹوٹی۔ ایک یہودی رسول ایک رومی افسر کے گھر میں داخل ہوا اور اُس کے منہ سے نکلا: "اب مجھے پورا یقین ہوا کہ خدا کسی کا طرفدار نہیں" (اعمال 10:34)۔ اُس گھر پر روح القدس نازل ہوا اور غیر قوموں کو بھی وہی نعمت ملی۔ اِس ایک واقعے نے یہ ثابت کر دیا کہ مسیح کا فضل نسل، زبان یا مرتبے کا محتاج نہیں، اور یہی بنیاد بنی جس پر آگے چل کر ساری دنیا میں کلیسیا پھیلی۔
اگر میں نے مسیح کا انکار کیا ہو تو کیا میں بحال ہو سکتا ہوں؟
پطرس کی کہانی کا سارا مقصد یہی جواب دینا ہے: جی ہاں۔ اُن کا انکار زبانی، تین بار، اور قسموں کے ساتھ تھا، اور پھر بھی خداوند نے اُنہیں سب سے پہلے وعظ کرنے والا بنایا۔ لوقا 22:32 میں یسوع نے فرمایا کہ اُنہوں نے پطرس کے لیے دعا کی تھی کہ اُن کا ایمان جاتا نہ رہے۔ آپ کی بحالی آپ کی مضبوطی پر نہیں، مسیح کی شفاعت اور اُس کے فضل پر ٹکی ہے۔ اُس کے پاس آئیں، صفائی کے انتظار میں دور نہ رہیں۔
پطرس اور یہوداہ اسکریوتی میں کیا فرق تھا؟
دونوں نے خداوند کو ناکام کیا، اور دونوں کو اپنی حرکت پر پچھتاوا ہوا۔ فرق منزل کا تھا۔ یہوداہ اپنے پچھتاوے کے ساتھ مذہبی رہنماؤں کے پاس گیا اور پھر تنہائی میں ہلاک ہوا؛ پطرس اپنے آنسوؤں کے ساتھ اُسی مسیح کی طرف لوٹے جسے وہ چھوڑ چکے تھے۔ افسوس اور توبہ ایک چیز نہیں۔ توبہ ہمیشہ ایک رخ رکھتی ہے، اور وہ رخ خداوند کی طرف ہے، جہاں کوئلوں کی آگ پر ناشتہ تیار ہوتا ہے۔
اختتام میں
پطرس رسول کی زندگی دو آگوں کے درمیان کھلی ہے، اور ہم سب اُن دونوں آگوں کو جانتے ہیں۔ ایک وہ آگ ہے جہاں ہم خاموش رہ جاتے ہیں، جہاں ہماری زبان ہمیں دھوکا دیتی ہے اور ہمارے سارے وعدے راکھ بن جاتے ہیں۔ دوسری وہ آگ ہے جو خداوند نے خود جلائی، جس پر روٹی اور مچھلی رکھی، جہاں پہلا سوال ملامت نہیں بلکہ محبت کا سوال ہے۔ انجیل کی خوشخبری یہ ہے کہ دوسری آگ آخری ہے۔
اِس کہانی کو یہیں ختم نہ کریں۔ متی 16 اور متی 26 کو ایک ساتھ آرام سے پڑھیں، پھر یوحنا 21 پورا پڑھیں، اور آخر میں 1 پطرس کا پہلا باب۔ آپ دیکھیں گے کہ وہی آدمی جو ایک نوکرانی کے سوال سے ڈر گیا تھا، اب ستائے ہوئے ایمانداروں کو صبر اور اُمید کی تعلیم دے رہا ہے، اور اُس کی سب سے پیاری اصطلاح "بڑی رحمت" ہے۔
اگر آپ آج کسی گراوٹ کے بعد اُٹھنے کی ہمت نہیں پا رہے، تو یاد رکھیے کہ آپ کے لیے دعا پہلے ہی ہو چکی ہے۔ خداوند آپ کا نام جانتا ہے، آپ کی ناکامی سے واقف ہے، اور اب بھی وہی ایک سوال پوچھ رہا ہے: کیا تُو مجھ سے محبت رکھتا ہے؟
