امثال کی کتاب کا تعارف اور حکمت
تعارف
رات کے ساڑھے گیارہ بجے ہیں۔ موبائل کی روشنی چہرے پر پڑ رہی ہے۔ ایک پیغام آدھا لکھا جا چکا ہے، وہ جواب جو دل میں کئی گھنٹوں سے اُبل رہا تھا۔ انگلی "بھیجیں" کے بٹن پر ٹھہری ہوئی ہے۔ اُسی لمحے، اُسی سناٹے میں، فیصلہ ہونا ہے کہ کل صبح رشتہ زندہ ہو گا یا زخمی۔ بائبل کی ایک کتاب ٹھیک اِسی لمحے کے لیے لکھی گئی ہے۔ وہ آپ کو مندر کے صحن میں نہیں لے جاتی، وہ آپ کے ساتھ کچن میں، دفتر میں، بازار میں اور موبائل کی اُس روشنی میں کھڑی ہو جاتی ہے، اور کہتی ہے: ٹھہرو، ایک بہتر راستہ ہے۔
اِس صفحے پر آپ امثال کی کتاب کو نئے سرے سے دیکھیں گے: کس نے لکھی، کب اور کن حالات میں، کیسے ترتیب دی گئی، اُس کے بڑے موضوعات کیا ہیں، اُس کی کلیدی آیتیں کیا کہتی ہیں، وہ پوری بائبل میں کہاں فٹ ہوتی ہے، اور آپ اِسے عملی طور پر کیسے پڑھ سکتے ہیں تاکہ یہ صرف معلومات نہ رہے بلکہ آپ کے قدموں کی رفتار بدل دے۔
اس رہنما کا زاویہ
اکثر امثال کو "اچھی نصیحتوں کا مجموعہ" سمجھ کر پڑھا جاتا ہے، جیسے کوئی اخلاقی کیلنڈر۔ اِس صفحے کا زاویہ مختلف ہے: امثال ایک دعوت نامہ ہے۔ کتاب کے شروع میں حکمت ایک بےجان اصول نہیں بلکہ ایک آواز ہے جو گلی کے چوک میں کھڑی پکارتی ہے، اور کتاب کے نویں باب میں دو دستر خوان سجے ہیں، حکمت کا اور حماقت کا، اور ہر انسان کو کسی ایک پر بیٹھنا ہے۔ اِس لیے امثال خود اعتمادی یا کامیابی کا فارمولا نہیں سکھاتی؛ وہ ایک آواز کے پیچھے چلنا سکھاتی ہے۔ اور وہ آواز آخرکار مسیح میں جسم بن کر ہمارے درمیان آ بسی۔ یہی زاویہ پوری تحریر میں ساتھ ساتھ چلے گا۔
بائبل امثال کی کتاب کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
امثال اپنی تعریف خود کرتی ہے۔ پہلی سات آیتیں اِس کتاب کا سرورق ہیں: یہ "سلیمان بن داؤد، اسرائیل کے بادشاہ کی امثال" ہیں، اور اِن کا مقصد یہ ہے کہ سادہ لوح ہوشیاری سیکھے، جوان تمیز پائے، اور دانشمند مزید بڑھتا جائے۔ یعنی یہ کتاب کسی ایک عمر یا طبقے کے لیے نہیں؛ یہ نوجوان کے لیے تربیت ہے اور بوڑھے کے لیے تازگی۔ پھر ساتویں آیت میں وہ بنیاد رکھی جاتی ہے جس پر باقی تیس باب کھڑے ہیں:
"خُداوند کا خوف علم کا شروع ہے لیکن احمق حکمت اور تربیت کی حقارت کرتے ہیں۔" (امثال 1:7)
غور کیجیے کہ کتاب کا آغاز عقل سے نہیں، خدا سے ہوتا ہے۔ حکمت کا دروازہ لائبریری میں نہیں، عبادت میں کھلتا ہے۔ "خوف" کا مطلب یہاں گھبراہٹ یا خدا سے دوری نہیں، بلکہ وہ گہری، محبت بھری عزت ہے جس میں انسان مان لیتا ہے: میں خدا نہیں ہوں، اور میری زندگی کا ناپ میرے ہاتھ میں نہیں۔ جہاں یہ ایک بات مان لی جائے، وہاں باقی سب باتیں ترتیب میں آنے لگتی ہیں۔ اور یہی جملہ نویں باب میں دوبارہ، ذرا مختلف صورت میں، آتا ہے:
"خُداوند کا خوف حکمت کا شروع ہے اور قُدُّوس کی پہچان فہم ہے۔" (امثال 9:10)
پہلی بار "علم کا شروع"، دوسری بار "حکمت کا شروع"۔ اور ساتھ ہی ایک اضافہ: "قدوس کی پہچان"۔ یہ محض معلومات نہیں، تعلق ہے۔ امثال میں حکمت کا سرچشمہ کوئی نظام نہیں بلکہ ایک شخص ہے جسے جانا جا سکتا ہے۔ اِسی لیے یہ کتاب مذہبی رسموں پر بہت کم اور روزمرہ کے رویّوں پر بہت زیادہ بات کرتی ہے: زبان، پیسہ، محنت، نیند، غصہ، دوستی، شادی، پڑوسی، ترازو کے باٹ۔ خدا کا خوف رکھنے والا دل مندر سے نکل کر منڈی تک اپنی خوشبو ساتھ لے جاتا ہے۔
حکمت معلومات نہیں، جینے کا ہنر ہے۔
اِس ہنر کا پہلا اصول یہ ہے کہ انسان اپنے فہم کے تخت سے اُتر آئے:
"سارے دل سے خُداوند پر توکل کر اور اپنے فہم پر تکیہ نہ کر۔" (امثال 3:5)
یہ آیت امثال کے دل کی دھڑکن ہے۔ کتاب عقل کی مخالف نہیں، وہ تو ہمیں سوچنے، تولنے، مشورہ لینے اور مشاہدہ کرنے کی تربیت دیتی ہے۔ لیکن وہ عقل کو تخت پر بیٹھنے نہیں دیتی۔ اپنے فہم پر "تکیہ" کرنا یعنی اُس پر پورا وزن ڈال دینا؛ اور امثال کہتی ہے کہ انسانی فہم اتنا وزن سہار نہیں سکتا۔ اگلی آیت میں وعدہ آتا ہے کہ اپنی سب راہوں میں اُس کو پہچان، اور وہ تیری راہنمائی کرے گا۔ یعنی توکل بےعملی نہیں؛ یہ ہر راہ میں خدا کو ساتھ رکھنے کا فیصلہ ہے۔
پھر امثال ایک اور بات پر اصرار کرتی ہے: حکمت آواز سے شروع ہوتی ہے مگر دل میں بستی ہے۔ "اپنے دل کی خوب حفاظت کر کیونکہ زندگی کا سرچشمہ وہی ہے" (امثال 4:23)۔ باہر کے اعمال اندر کے چشمے سے نکلتے ہیں۔ اِسی لیے یہ کتاب صرف "یہ کرو، وہ نہ کرو" نہیں کہتی؛ وہ ہماری خواہشوں، ہمارے جھکاؤ، ہماری بھوک کو نئی تربیت دینا چاہتی ہے۔ اور یہ سب ایک دعوت کی صورت میں ہوتا ہے، ایک باپ اپنے بیٹے سے بات کر رہا ہے، ایک آواز چوک میں پکار رہی ہے، ایک میز سج چکی ہے۔ امثال کا خدا حکم دیتا ہے، مگر پہلے وہ بلاتا ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
حکمت کا یہ سلسلہ امثال سے شروع نہیں ہوتا۔ پیدائش کے تیسرے باب میں پہلا آزمائشی سوال یہی تھا: زندگی کی حکمت خدا کی آواز سے ملے گی یا اُس سے آزاد ہو کر؟ آدم اور حوا نے "دانا بننے" کا وہ راستہ چنا جو خدا کے کلام کو کاٹ کر گزرتا تھا، اور نتیجہ موت نکلا۔ امثال اِسی زخم پر مرہم رکھتی ہے: "ایسی راہ بھی ہے جو انسان کو سیدھی معلوم ہوتی ہے پر اُس کی انتہا میں موت کی راہیں ہیں" (امثال 14:12)۔ باغ سے چوک تک، سوال ایک ہی ہے: کس آواز پر بھروسا کرو گے؟
تورات میں حکمت کا مطلب یہ تھا کہ اسرائیل خدا کی شریعت پر چل کر قوموں کے درمیان ایک دانشمند قوم کہلائے۔ سلیمان کے دور میں یہ حکمت ایک ادبی خزانہ بن گئی؛ اُس نے سینکڑوں مثلیں کہیں اور دور دراز سے لوگ سننے آتے تھے۔ ایوب کی کتاب اُس حکمت کے کناروں کو آزماتی ہے جہاں دُکھ کا حساب نہیں بنتا، اور واعظ (کلیسیا کی کتاب) اُس حکمت کی حدیں دکھاتی ہے جہاں سب کچھ بھاپ کی طرح ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ زبور اُسی خوفِ خدا کو گیت بنا دیتا ہے۔ یہ چاروں مل کر ایک ہی سچائی کے چار رخ ہیں۔
مگر امثال کا سب سے حیرت انگیز حصہ آٹھواں باب ہے، جہاں حکمت پہلی شخص میں بولتی ہے اور بتاتی ہے کہ وہ خلقت سے پہلے خدا کے پاس تھی، اُس کے ساتھ خوش ہوتی تھی، اور جب زمین کی بنیادیں رکھی گئیں تو وہ حاضر تھی۔ یہ ابھی مسیح کا مکمل انکشاف نہیں ہے، مگر یہ ایک کھڑکی ہے۔ جب نئے عہد نامے کا پردہ اٹھتا ہے تو وہی آواز جسم بن کر گلیوں میں چلتی ہے۔ یسوع خود فرماتے ہیں کہ "سلیمان سے بڑا یہاں موجود ہے" (متی 12:42)۔ پولوس رسول لکھتا ہے کہ مسیح "خدا کی قدرت اور خدا کی حکمت" ہے (1 کرنتھیوں 1:24)، اور اُس میں "حکمت اور معرفت کے سب خزانے پوشیدہ ہیں" (کلسیوں 2:3)۔
یہاں ہمارا زاویہ پھر روشن ہوتا ہے۔ امثال کے نویں باب میں حکمت اپنا گھر بناتی ہے، دستر خوان سجاتی ہے اور نادانوں کو بلاتی ہے: آؤ، میری روٹی کھاؤ۔ ساتھ ہی حماقت بھی بلاتی ہے، مگر اُس کے مہمان موت کی گود میں جا بیٹھتے ہیں۔ دو دستر خوان، دو انجام۔ اور جب یسوع مسیح روٹی توڑ کر فرماتے ہیں کہ یہ میرا بدن ہے، تو حکمت کی وہ میز پوری ہو جاتی ہے۔ جو دعوت امثال میں چوک سے سنائی دیتی تھی، وہ صلیب پر قیمت ادا کر کے ہمارے لیے کھول دی گئی۔ اِسی لیے مسیحی کے لیے امثال قانون کی کتاب نہیں، فضل کی تربیت ہے۔ اور جب حکمت کم پڑے تو رستہ بند نہیں: "اگر تم میں سے کسی میں حکمت کی کمی ہو تو خدا سے مانگے جو بغیر ملامت کیے سب کو فیاضی سے دیتا ہے" (یعقوب 1:5)۔ یعقوب کا خط، جو کئی لوگوں کے نزدیک نئے عہد نامے کی امثال ہے، اِس کتاب کی روح کو کلیسیا تک لے آتا ہے۔
ساخت اور بنیادی موضوعات
امثال ایک ہی نشست میں لکھی گئی کتاب نہیں؛ یہ کئی مجموعوں کی خوبصورت لائبریری ہے، اور کتاب خود اپنے مجموعوں کے عنوان دیتی ہے۔ پہلی آیت سلیمان کا نام دیتی ہے، جو تقریباً ایک ہزار قبل مسیح میں اسرائیل کا بادشاہ تھا اور جس کے بارے میں 1 سلاطین 4:32 بتاتا ہے کہ اُس نے تین ہزار مثلیں کہیں۔ باب 10:1 پر دوبارہ "سلیمان کی امثال" کا عنوان آتا ہے۔ 22:17 سے "دانشمندوں کی باتیں" شروع ہوتی ہیں۔ 25:1 ہمیں ایک نہایت دلچسپ بات بتاتا ہے: یہ امثال سلیمان کی ہیں، جنہیں حزقیاہ بادشاہ کے لوگوں نے نقل کیا۔ یعنی سلیمان کے تقریباً تین سو سال بعد، ایک اصلاح پسند بادشاہ کے دربار میں کاتبوں نے پرانی حکمت کو دوبارہ جمع اور مرتب کیا۔ پھر تیسواں باب اجور بن یاقہ کے نام سے ہے اور اکتیسویں باب کا پہلا حصہ لموایل بادشاہ کی اُن باتوں کا جو اُس کی ماں نے اُسے سکھائیں۔ اِس طرح کتاب کی تکمیل صدیوں پر پھیلی ہوئی ہے، مگر اُس کا مرکزی سُر ایک ہی رہتا ہے: خداوند کا خوف۔
ساخت کے لحاظ سے کتاب کے دو بڑے حصے صاف نظر آتے ہیں، اور یہیں ہمارا زاویہ سب سے زیادہ کام آتا ہے۔ پہلا حصہ، باب ایک سے نو، دعوت نامہ ہے۔ یہاں لمبی لمبی نصیحتیں ہیں، ایک باپ کی آواز ہے، "اے میرے بیٹے" کی بار بار پکار ہے، اور دو عورتوں کی تصویریں ہیں: حکمت جو چوک میں پکارتی ہے، اور بیوقوفی یا اجنبی عورت جو رات کے اندھیرے میں راہ چلتوں کو بلاتی ہے۔ یہ حصہ آپ کو کوئی فہرست نہیں دیتا، یہ آپ کے دل کا رخ بدلنا چاہتا ہے۔ دوسرا حصہ، باب دس سے اکتیس، تربیت گاہ ہے۔ یہاں سینکڑوں مختصر، دو سطری امثال ہیں جو زیادہ تر تضاد کی صورت میں چلتی ہیں: راستباز اور شریر، دانشمند اور احمق، محنتی اور کاہل، سچی زبان اور جھوٹی زبان۔ پہلا حصہ دل کو جھکاتا ہے، دوسرا حصہ ہاتھوں کو تربیت دیتا ہے۔ اگر آپ نویں باب کی دعوت قبول کر چکے ہیں تو دسویں باب سے آگے کی امثال آپ کے لیے بوجھ نہیں، اوزار ہیں۔
کتاب کا اختتام بھی حکمت کے مطابق ہے۔ اکتیسویں باب کا آخری حصہ ایک نظم ہے جس کے مصرعے عبرانی حروف تہجی کی ترتیب سے شروع ہوتے ہیں، ایک مکمل، سلیقے سے بُنی ہوئی تعریف۔ جو حکمت باب ایک میں چوک میں پکارتی تھی، وہ یہاں ایک گھر میں، ایک زندہ زندگی میں، ہاتھ پیر رکھتی نظر آتی ہے۔ آواز سے شروع، کردار پر ختم۔
بنیادی موضوعات چند دائروں میں سمٹ آتے ہیں۔ سب سے پہلے خداوند کا خوف اور اُس کی حاکمیت: "انسان اپنے دل میں اپنی راہ کی تدبیر کرتا ہے پر خداوند اُس کی رفتار کو قائم کرتا ہے" (امثال 16:9)۔ پھر زبان، جس پر امثال کسی بھی دوسری بائبلی کتاب سے زیادہ بات کرتی ہے: الفاظ زخم بھی دیتے ہیں اور شفا بھی۔ پھر محنت اور کاہلی، پیسے کی ایمانداری اور دیانت دار ترازو، غریب کے حق کی حفاظت، جنسی وفاداری اور شادی کی حفاظت، دوستی اور مشورہ، غصے پر قابو، فخر کے مقابل انکساری، اور والدین کی تربیت۔ ان سب میں ایک مشترک نکتہ ہے: امثال آپ کو ایک نئی مذہبی سرگرمی نہیں دیتی، وہ آپ کی پہلے سے موجود زندگی کو خدا کے نور میں دوبارہ سکھاتی ہے۔
اس کتاب کی اہم آیات
کتاب کی تین آیتیں خاص طور پر مسیحی گھروں میں لکھی، پڑھی اور دہرائی جاتی ہیں، اور تینوں کو ذرا آہستہ سمجھنا ضروری ہے۔
پہلی: "نرم جواب قہر کو دور کر دیتا ہے پر درشت باتیں غصہ پیدا کرتی ہیں" (امثال 15:1)۔ یہ آیت اُس آدھے لکھے پیغام کے بارے میں ہے جس سے ہم نے بات شروع کی تھی۔ امثال یہ نہیں کہتی کہ نرم جواب دینے والا کمزور ہے؛ وہ کہتی ہے کہ نرم جواب طاقت کا کام ہے، کیونکہ اُس کے لیے آپ کو اپنی عزت کا دفاع خدا کے ہاتھ میں چھوڑنا پڑتا ہے۔ لفظ "درشت" صرف گالی کو نہیں کہتا؛ وہ اُس ٹھنڈے، تیز، طنزیہ لہجے کو بھی شامل کرتا ہے جس میں ہم بہت مہارت رکھتے ہیں۔ یہ آیت گھر، دفتر اور کلیسیا میں سب سے زیادہ آزمائی جانے والی حکمت ہے، اور اِسی میں مسیح کی خوشبو ہے، کیونکہ اُس نے گالی سُن کر گالی نہیں دی۔
دوسری: "لڑکے کی اُس راہ میں تربیت کر جس پر اُسے جانا ہے۔ وہ بوڑھا ہو کر بھی اُس سے نہیں مُڑے گا" (امثال 22:6)۔ اِس آیت نے کئی والدین کو تسلی دی ہے اور کئی کو ناحق مجرم بھی بنایا ہے۔ امثال ایک وعدہ نامہ نہیں، حکمت کی کتاب ہے: وہ عام طور پر یہ بتاتی ہے کہ زندگی کیسے چلتی ہے، نہ یہ کہ ہر صورت میں لازماً کیا ہو گا۔ بچپن کی تربیت گہری جڑ رکھتی ہے، مگر ہر بچہ ایک آزاد روح بھی ہے، اور یعقوب کے گھر سے لے کر داؤد کے گھر تک بائبل خود اِس کی گواہی دیتی ہے۔ اِس آیت کا اصل زور یہ ہے: بچے کو اُس کی راہ میں، یعنی اُس کے مزاج اور خدا کی مقرر کردہ راہ کے مطابق سکھاؤ، صرف اپنی سہولت کے مطابق نہیں۔ اور جب دل ٹوٹے تو یاد رکھیں: تربیت کا انجام ہمارے ہاتھ میں نہیں، خدا کے فضل میں ہے۔
تیسری: "نیک عورت کس کو ملتی ہے؟ کیونکہ اُس کی قدر لعلوں سے بھی بہت زیادہ ہے" (امثال 31:10)۔ اکثر اِسے خواتین کے سر پر ایک ناقابلِ حاصل معیار کی طرح رکھ دیا جاتا ہے۔ مگر یہ نظم پہلے دن سے ایک تعریفی گیت ہے، فہرستِ فرائض نہیں۔ اِس میں ایک عورت خریدتی، بیچتی، بُنتی، کھیت مول لیتی، غریب کی مدد کرتی اور حکمت سے بولتی ہے، اور نظم کے آخر میں وجہ بتائی جاتی ہے: وہ خداوند سے ڈرتی ہے۔ یعنی کتاب کی پہلی آیت کا خوفِ خدا آخری باب میں گوشت پوست پہن لیتا ہے۔ اِسی لیے یہ باب صرف بیویوں کے لیے نہیں؛ یہ ہر ایماندار کے لیے تصویر ہے کہ حکمت جب عملی ہو تو کیسی دکھتی ہے۔
امثال پڑھنے کا عملی رہنما
پہلی بار امثال پڑھنے والوں کے لیے سب سے مفید طریقہ یہ نہیں کہ روز ایک باب نگل لیا جائے، بلکہ یہ کہ کتاب کو اُس کی اپنی ساخت کے مطابق پڑھا جائے۔ شروع میں باب ایک سے نو تک، بغیر جلدی، ایک ہفتے یا دو ہفتوں میں پڑھیں۔ یہاں مقصد نوٹس بنانا نہیں، دعوت سننا ہے۔ خود سے پوچھیں: میری زندگی میں حکمت کی آواز کہاں سے آ رہی ہے، اور حماقت کی آواز کس دروازے سے اندر آتی ہے؟ نویں باب کے دو دستر خوانوں پر رُک کر دیانت داری سے سوچیں کہ اِس وقت میں کس میز پر بیٹھا ہوں۔
اِس کے بعد باب دس سے اکتیس تک پہنچیں، مگر انداز بدل دیں۔ یہاں دس آیات کافی ہیں۔ ایک قلم لیں اور موضوع کے مطابق چنیں: ایک ہفتہ زبان پر، ایک ہفتہ پیسے پر، ایک ہفتہ کاہلی اور محنت پر، ایک ہفتہ غصے پر، ایک ہفتہ غریب اور انصاف پر۔ ہر مثل پر دو سوال رکھیں: یہ آیت کس عام انسانی تجربے کو بیان کر رہی ہے، اور آج میرے دن میں اِس کا ایک ٹھوس اطلاق کیا ہو گا؟ حکمت اُس وقت اترتی ہے جب آیت سے ایک چھوٹا سا فیصلہ نکلے، مثلاً آج کسی کو نرم جواب دینا، یا وہ ادائیگی کر دینا جسے میں ٹال رہا تھا۔
مہینے کے حساب سے پڑھنا بھی مفید ہے، اکتیس باب اور اکثر مہینوں کے اکتیس دن، مگر اِس طریقے کو سال میں ایک آدھ بار استعمال کریں، ورنہ آیتیں مانوس ہو کر بےاثر لگنے لگتی ہیں۔ ساتھ ساتھ زبور یا ایوب پڑھیں تاکہ توازن رہے، کیونکہ امثال زندگی کے عام قاعدے بتاتی ہے اور ایوب اُن استثناؤں پر روتا ہے جہاں قاعدہ ٹوٹتا دکھائی دیتا ہے۔ اور آخر میں، ہر پڑھائی کو یعقوب 1:5 کی دعا میں لپیٹ دیں: خدا سے حکمت مانگیں، کیونکہ یہ کتاب آپ کو ہوشیار بنانے نہیں، خدا کے قریب لانے کے لیے دی گئی ہے۔
آئینہ
اب ذرا کتاب کو نیچے رکھیں اور اپنے آپ کو دیکھیں۔ آپ جانتے ہیں کہ آپ کے پاس علم کی کمی نہیں ہے۔ آپ نے وعظ سنے ہیں، آیتیں حفظ کی ہیں، شاید دوسروں کو مشورہ بھی دیا ہے۔ سوال یہ نہیں کہ آپ صحیح بات جانتے ہیں یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ رات کے ساڑھے گیارہ بجے، جب انگلی بھیجنے والے بٹن پر ہوتی ہے، آپ کس آواز کے پیچھے جاتے ہیں۔
امثال آپ کے دن کے سب سے غیر روحانی حصوں پر ہاتھ رکھتی ہے۔ وہ آپ کے کیش، آپ کی بینک ایپ، آپ کے ادھار اور اُس رقم پر ہاتھ رکھتی ہے جو آپ نے کسی مزدور کی جیب سے دیر تک روک رکھی ہے۔ وہ آپ کے موبائل پر ہاتھ رکھتی ہے، اُن راتوں پر جہاں آپ خود سے وعدہ کر کے پھر وہی دروازہ کھول لیتے ہیں۔ وہ آپ کی نیند پر، آپ کی سستی پر، اُن کاموں پر ہاتھ رکھتی ہے جو آپ ہفتوں سے "کل" کے حوالے کر رہے ہیں۔ وہ آپ کے لہجے پر ہاتھ رکھتی ہے، اُس مخصوص جملے پر جس سے آپ اپنے شریکِ حیات کو خاموش کر دیتے ہیں، اور اُس چپ پر جو آپ سزا کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اور وہ آپ کی تنہائی پر بھی ہاتھ رکھتی ہے۔ کیونکہ حماقت کا سب سے بڑا ہتھیار یہ نہیں کہ وہ آپ کو بہکاتی ہے، بلکہ یہ کہ وہ آپ کو تنہا کر دیتی ہے، وہاں جہاں کوئی سوال نہیں پوچھتا، کوئی مشورہ نہیں دیتا، کوئی محبت سے آپ کو ٹوکتا نہیں۔ امثال کہتی ہے: باہر نکلو، چوک میں آؤ، آواز سنو، مشورہ لو، ایک دوست بناؤ جو تمہیں سچ بتا سکے۔
یہ صفحہ آپ کو شرمندہ کرنے کے لیے نہیں ہے۔ اگر آپ نے حماقت کے دستر خوان پر بہت وقت گزارا ہے تو یاد رکھیں کہ حکمت کی میز آج بھی سجی ہے، اور اُس کی روٹی مسیح کے بدن کی قیمت پر آپ کے لیے کھلی ہے۔ دروازہ اب بھی کھلا ہے، آج ہی۔ آپ کو حکمت مند بن کر آنے کی ضرورت نہیں؛ آپ کو صرف آنے کی ضرورت ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کے ساتھ امثال بہت خوشی سے پڑھی جانے والی کتاب ہے، کیونکہ اِس کی زبان تصویریں بناتی ہے: چیونٹی، شہد، آنکھ، زبان، دو راستے، ایک کھلا دروازہ۔ سب سے سادہ خاکہ یہ ہے کہ بچوں کو بتائیں: خدا نے ہمیں ایک کتاب دی ہے جو سکھاتی ہے کہ اچھے فیصلے کیسے کیے جاتے ہیں۔ جیسے سائیکل چلانا سیکھنے کے لیے کوئی ہمارا ہاتھ پکڑتا ہے، ویسے ہی خدا امثال کے ذریعے ہماری زندگی میں ہمارا ہاتھ پکڑتا ہے۔ ہر دن ہمارے سامنے دو راستے ہوتے ہیں، ایک جو خدا کی سنتا ہے اور ایک جو صرف اپنی مرضی کرتا ہے، اور امثال ہمیں پہلا راستہ چننا سکھاتی ہے۔
چھوٹے بچوں کے لیے ایک ہی آیت پر کئی دن رہنا سب سے مؤثر ہوتا ہے، مثلاً امثال 15:1 کو "میٹھی بات اور کڑوی بات" کا کھیل بنا کر۔ ذرا بڑے بچوں کے ساتھ آپ زبان، سچائی، محنت اور دوستی پر مثالیں چن کر روزمرہ کی کہانیوں سے جوڑ سکتے ہیں۔ نوجوانوں کے ساتھ امثال کے پہلے نو باب بہت طاقتور ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ وہ عمر ہی دو آوازوں کے درمیان کھڑی ہوتی ہے، اور وہاں دوستوں کے دباؤ، تنہائی، جنسی خواہش اور شناخت جیسے سوالوں پر دیانت دار بات ہو سکتی ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر امثال کی کتاب کے لیے عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں دستیاب ہیں: چھوٹے بچوں کے لیے (تین تا چھ سال)، اسکول جانے والے بچوں کے لیے (سات تا بارہ سال)، اور نوجوانوں کے لیے (بارہ سال سے اوپر)۔ اپنے بچے کی عمر کے مطابق وہ صفحہ چنیں اور اِس کتاب کی حکمت کو اپنے گھر کے دستر خوان تک لے آئیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
امثال کی کتاب کس نے لکھی؟
کتاب کا سب سے بڑا حصہ سلیمان بادشاہ سے منسوب ہے، جیسا کہ امثال 1:1 اور امثال 10:1 میں لکھا ہے، اور 1 سلاطین 4:32 بتاتا ہے کہ اُس نے تین ہزار مثلیں کہیں۔ مگر کتاب خود دوسرے مصنفین کے نام بھی دیتی ہے: "دانشمندوں کی باتیں" (امثال 22:17)، اجور بن یاقہ (امثال 30:1) اور لموایل بادشاہ کی وہ باتیں جو اُس کی ماں نے سکھائیں (امثال 31:1)۔ اِس کے علاوہ امثال 25:1 صاف کہتا ہے کہ حزقیاہ بادشاہ کے آدمیوں نے کچھ امثال نقل کیں۔ یعنی یہ ایک الٰہی راہنمائی میں مرتب ہوا مجموعہ ہے، کئی ہاتھوں سے، ایک ہی روح کے تحت۔
امثال کی کتاب کب لکھی گئی؟
سلیمان کا دور تقریباً ایک ہزار قبل مسیح کا ہے، اِس لیے کتاب کے قدیم ترین حصے دسویں صدی قبل مسیح تک جاتے ہیں۔ حزقیاہ بادشاہ کے کاتبوں کا ذکر ہمیں تقریباً ساتویں صدی قبل مسیح میں لے جاتا ہے، جب یہوداہ میں روحانی اصلاح کے دوران پرانی حکمت کو نئے سرے سے جمع اور محفوظ کیا گیا۔ بہت سے علما کے مطابق کتاب کی حتمی ترتیب اِسی زمانے میں یا اِس کے کچھ بعد مکمل ہوئی۔ اہم بات یہ ہے کہ صدیوں کے اِس سفر میں کتاب کا مرکزی پیغام، خداوند کا خوف، بدلا نہیں۔
"خداوند کا خوف" کا اصل مطلب کیا ہے؟
امثال 1:7 اور امثال 9:10 دونوں میں یہ فقرہ کتاب کی بنیاد کے طور پر آتا ہے، اور اِس کا مطلب سزا کا ڈر یا خدا سے دوری نہیں۔ یہ وہ گہری، محبت آمیز عزت ہے جس میں انسان مان لیتا ہے کہ خدا خدا ہے اور میں مخلوق ہوں، اُس کی مرضی میری مرضی سے بڑی ہے، اور اُس کا کلام میرے فہم پر حاکم ہے۔ اِسی لیے امثال 9:10 اِس خوف کو "قدوس کی پہچان" سے جوڑتا ہے: یہ تعلق کی بات ہے، معلومات کی نہیں۔ جہاں یہ خوف ہے، وہاں انسان کھلے دل سے سیکھتا ہے، اور جہاں نہیں، وہاں تربیت کی حقارت ہوتی ہے۔
کیا امثال کے وعدے ہر حالت میں پورے ہوتے ہیں؟
امثال قانون کی کتاب نہیں بلکہ حکمت کی کتاب ہے؛ وہ زندگی کے عام قاعدے بیان کرتی ہے، مکینیکل ضمانتیں نہیں دیتی۔ جب امثال 22:6 کہتا ہے کہ بچہ بوڑھا ہو کر بھی اپنی تربیت سے نہیں مڑے گا، تو یہ تربیت کی گہری طاقت کا بیان ہے، نہ یہ کہ ہر والدین کے ہر بچے کے ساتھ ہر صورت میں ایسا ہی ہو گا۔ بائبل خود ایوب کی کتاب اور واعظ کے ذریعے ہمیں ان استثناؤں سے واقف کراتی ہے جہاں راستباز دُکھ اٹھاتا ہے۔ اِس لیے امثال کو اُمید کے ساتھ پڑھیں، مگر خدا کی حاکمیت کو فارمولا نہ بنائیں۔
امثال اور واعظ (کلیسیا کی کتاب) میں کیا فرق ہے؟
دونوں حکمت کی کتابیں ہیں، مگر ان کا زور مختلف ہے۔ امثال بتاتی ہے کہ عام حالات میں زندگی کیسے کام کرتی ہے: محنت برکت لاتی ہے، جھوٹ تباہی، نرم جواب امن۔ واعظ اُس مقام پر کھڑا ہے جہاں یہ سب کچھ ہاتھ سے پھسلتا محسوس ہوتا ہے، جہاں دانشمند اور احمق دونوں مرتے ہیں اور محنت کا پھل کوئی اور کھاتا ہے۔ امثال ہمیں تربیت دیتی ہے، واعظ ہماری تربیت کو عاجز بناتا ہے۔ دونوں مل کر ایک متوازن ایمان پیدا کرتے ہیں: دیانت داری سے جیو، مگر بھروسا اپنے حساب پر نہیں، خدا پر رکھو۔
کیا امثال کے آٹھویں باب کی "حکمت" یسوع مسیح ہیں؟
آٹھواں باب حکمت کو ایک شخصیت کے طور پر پیش کرتا ہے جو خلقت سے پہلے خدا کے پاس تھی۔ یہ ایک شاعرانہ تصویر ہے، اِس لیے اِسے سیدھا "یہ ابن اللہ ہے" کہنا محتاط تفسیر نہیں ہو گا۔ مگر نئے عہد نامے میں یہ سُر واضح طور پر مسیح میں پورا ہوتا ہے: پولوس رسول لکھتا ہے کہ مسیح "خدا کی قدرت اور خدا کی حکمت" ہے (1 کرنتھیوں 1:24) اور اُس میں "حکمت اور معرفت کے سب خزانے پوشیدہ ہیں" (کلسیوں 2:3)۔ اِس لیے مسیحی امثال کے آٹھویں باب کو ایک کھڑکی کے طور پر پڑھتے ہیں جس سے مسیح کی روشنی چھنتی ہے۔
امثال 31 کی نیک عورت ہر خاتون کے لیے معیار ہے؟
امثال 31:10 سے شروع ہونے والی نظم ایک تعریفی گیت ہے، کوئی فہرستِ فرائض نہیں جسے پورا کر کے خدا کی منظوری کمانی ہو۔ عبرانی میں اِس کے مصرعے حروف تہجی کی ترتیب سے چلتے ہیں، جیسے ایک مکمل، خوبصورت گیت۔ اِس میں دکھایا گیا ہے کہ خوفِ خدا جب زندگی میں اترے تو کاروبار، گھر، سخاوت، محنت اور زبان، سب کچھ بدل جاتا ہے۔ نظم کا اپنا خاتمہ بتاتا ہے کہ اِس عورت کی اصل خوبی حسن یا کارکردگی نہیں بلکہ خداوند کا خوف ہے۔ اِس لیے یہ باب ہر ایماندار، مرد اور عورت، کے لیے تصویر ہے۔
امثال میں "احمق" کہنے سے کیا مراد ہے؟
بائبلی حکمت میں احمق کا مطلب کم ذہین یا ان پڑھ نہیں۔ امثال 1:7 کے مطابق احمق وہ ہے جو حکمت اور تربیت کی حقارت کرتا ہے، یعنی جو سیکھنے سے انکار کرتا ہے اور اصلاح کو توہین سمجھتا ہے۔ ایسا شخص یونیورسٹی کی ڈگری بھی رکھ سکتا ہے۔ اِس کے مقابل "سادہ لوح" وہ ہے جو ابھی کسی طرف نہیں جھکا اور جسے تربیت مل سکتی ہے۔ اِسی لیے امثال کا بنیادی سوال قابلیت کا نہیں، تعلیم پانے کی رضامندی کا ہے: کیا میں سچ سننے کے لیے تیار ہوں؟
امثال پیسے اور کامیابی کے بارے میں کیا سکھاتی ہے؟
امثال محنت کی تعریف کرتی ہے، کاہلی سے خبردار کرتی ہے، دیانت دار ترازو پر اصرار کرتی ہے، ادھار کی بےاحتیاطی سے روکتی ہے اور غریب کے حق کی حفاظت کا حکم دیتی ہے۔ مگر یہ کہیں نہیں کہتی کہ دولت خدا کی خوشی کا پیمانہ ہے۔ بلکہ وہ بار بار دولت پر بھروسا کرنے سے ڈراتی ہے اور بےایمانی سے کمائی ہوئی فراخی کے مقابلے میں راستبازی کے ساتھ تھوڑی روزی کو بہتر بتاتی ہے۔ اِس کتاب کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ برکت رشتوں، عزت اور ضمیر کی سلامتی میں دکھائی دیتی ہے، محض بینک بیلنس میں نہیں۔
امثال 13:24 جیسی آیات میں "لاٹھی" سے کیا مراد ہے، کیا یہ بچوں کو مارنے کا حکم ہے؟
قدیم عبرانی محاورے میں "لاٹھی" چرواہے کے اُس عصا کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے جو ریوڑ کو راہ پر رکھتا ہے، اِس لیے اِن آیتوں کا مرکزی نکتہ محبت بھری، پُر عزم اصلاح ہے، نہ کہ غصے میں کی گئی سختی۔ امثال والدین کو اُس نرمی سے خبردار کرتی ہے جو بچے کو بےتربیت چھوڑ دے، مگر وہی کتاب غصے، بےقابو زبان اور ظلم کی بھی سخت مذمت کرتی ہے۔ اِس لیے اِنہیں امثال 22:6 اور نئے عہد نامے کی اُس تعلیم کے ساتھ پڑھنا ضروری ہے جو والدین کو منع کرتی ہے کہ اپنے بچوں کو غصہ نہ دلائیں۔
امثال بائبل میں کہاں آتی ہے اور اِس کا نئے عہد نامے سے کیا تعلق ہے؟
امثال پرانے عہد نامے کے شاعرانہ اور حکمت پر مبنی حصے میں آتی ہے، ایوب، زبور، واعظ اور غزلُ الغزلات کے ساتھ۔ عبرانی بائبل کی ترتیب میں یہ "کتب" کہلانے والے حصے میں شامل ہے۔ نئے عہد نامے میں اِس کی روح خاص طور پر یعقوب کے خط میں سنائی دیتی ہے، جہاں حکمت، زبان اور عمل پر ویسی ہی عملی زور دار تعلیم ملتی ہے، اور جہاں یعقوب 1:5 ہمیں حکمت کے لیے دعا کرنا سکھاتا ہے۔ خود یسوع مسیح کی مثلیں اور پہاڑی وعظ اِس حکمتی روایت کو مکمل کرتے ہیں۔
امثال کو پڑھنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے؟
سب سے مفید طریقہ یہ ہے کہ پہلے باب ایک سے نو تک تسلی سے پڑھیں تاکہ حکمت کی دعوت اور اُس کے مقابل حماقت کی دعوت آپ کے دل میں واضح ہو جائے، اور اُس کے بعد باب دس سے اکتیس کو موضوع کے حساب سے تھوڑا تھوڑا پڑھیں، مثلاً ایک ہفتہ زبان پر اور ایک ہفتہ پیسے پر۔ روز ایک باب پڑھنے کا مہینے بھر کا منصوبہ بھی اچھا ہے، مگر ہر آیت سے ایک چھوٹا، ٹھوس فیصلہ نکالنا اِس سے بھی زیادہ ضروری ہے۔ ساتھ ہی امثال 3:5 کی روح میں دعا کرتے رہیں۔
اختتام میں
امثال کی کتاب آپ کو ایک ذہین انسان بنانے کے لیے نہیں لکھی گئی۔ وہ آپ کو ایک آواز کے پیچھے چلنے والا شخص بنانے کے لیے لکھی گئی ہے۔ اُس آواز نے پہلے چوک میں پکارا، پھر ایک دستر خوان سجایا، اور آخرکار جسم بن کر ہمارے درمیان آ بسی۔ اِسی لیے مسیحی کے لیے اِس کتاب کا مطالعہ خود اصلاحی محنت نہیں بلکہ فضل کا اسکول ہے: خداوند کا خوف دروازہ ہے، مسیح خود حکمت ہے، اور روزمرہ کی زبان، پیسہ، محنت، رشتے اور وقت وہ کلاس روم ہیں جہاں یہ حکمت ہمارے ہاتھوں تک اترتی ہے۔
اگلا قدم بہت سادہ ہے۔ آج امثال کا پہلا باب کھولیں، اور ساتویں آیت پر رُک جائیں۔ اُسے دو تین بار آہستہ پڑھیں اور خدا سے کہیں کہ وہ آپ کے دل میں اپنا خوف اور اپنی محبت ساتھ ساتھ رکھے۔ پھر پندرہویں باب کی پہلی آیت کو دن بھر جیب میں رکھیں اور دیکھیں کہ آپ کا لہجہ کہاں بدلتا ہے۔ اِس کے بعد نویں باب کے دو دستر خوانوں پر بیٹھ کر دیانت داری سے فیصلہ کریں کہ آپ کس میز کے مہمان بننا چاہتے ہیں۔ حکمت آج بھی بلا رہی ہے، اور دعوت کھلی ہے۔
