تثلیث کیا ہے؟ ایک خدا، تین اقانیم کی بائبلی وضاحت
تعارف
ایک نوجوان بہن نے کلیسیا کے بعد مجھ سے پوچھا: "میرے دفتر میں ایک ساتھی نے کہا کہ تم مسیحی تین خداؤں کو مانتے ہو۔ میں نے کچھ جواب دینے کی کوشش کی، پھر خاموش ہو گئی۔ سچ بتاؤں، مجھے خود پوری بات سمجھ نہیں آتی۔" اُس کی آنکھوں میں شرمندگی نہیں، بلکہ پیاس تھی۔ وہ جیتنا نہیں چاہتی تھی؛ وہ جاننا چاہتی تھی کہ جس خدا کے آگے وہ ہر رات سر جھکاتی ہے، وہ کون ہے۔
یہ سوال دنیا کے ہر اُردو بولنے والے مسیحی کے دل میں کبھی نہ کبھی آتا ہے۔ اور یہ کوئی معمولی سوال نہیں؛ یہ بنیاد کا سوال ہے۔ اِس صفحے پر آپ دیکھیں گے کہ تثلیث کوئی ریاضی کی گرہ نہیں جسے حل کرنا ہے، بلکہ ایک ایسا گھر ہے جس میں خدا نے آپ کو بلایا ہے۔ ہم پیدائش سے مکاشفہ تک اِس سلسلے کا پیچھا کریں گے، عام غلط فہمیوں کا سامنا کریں گے، اور آخر میں دیکھیں گے کہ یہ سچائی آپ کی روزمرہ زندگی میں کیسے سانس لیتی ہے۔
اس رہنما کا زاویہ
زیادہ تر تحریریں تثلیث کو ایک عقلی معمّہ بنا کر پیش کرتی ہیں: ایک جمع ایک جمع ایک کیسے ایک کے برابر ہوا؟ ہم یہاں مختلف راستہ لیتے ہیں۔ بائبل تثلیث کو کسی فلسفیانہ گتھی کے طور پر نہیں، بلکہ ایک زندہ رشتے کے طور پر کھولتی ہے: باپ، بیٹا اور روح القدس ازل سے ایک دوسرے میں محبت کے ساتھ بستے ہیں، اور انجیل کا سارا پیغام یہی ہے کہ خدا اُس محبت کے حلقے میں ہمیں شامل کرتا ہے۔ اِس لیے ہم تثلیث کو "سمجھانے" سے پہلے "بسنے" کی چیز کہیں گے۔ گھر کی چھت ناپنے سے زیادہ ضروری ہے اُس کے نیچے سو جانا۔
بائبل تثلیث کے بارے میں کیا کہتی ہے؟
سب سے پہلے ایک سیدھی سی وضاحت: تثلیث کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا ذات میں ایک ہے، اور اُس ایک ذات میں تین اقانیم ہیں، باپ، بیٹا اور روح القدس۔ تینوں مکمل طور پر خدا ہیں، تینوں ازلی ہیں، تینوں ایک دوسرے سے الگ قابلِ شناخت ہیں، مگر تین خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا۔ نہ وہ ایک خدا کے تین چہرے یا نقاب ہیں، نہ ایک خدا کے تین حصے۔ خدا ایک ہے، اور وہ اکیلا نہیں۔
بائبل کی بنیاد ہمیشہ توحید سے شروع ہوتی ہے۔ استثنا 6:4 اسرائیل کا سب سے پہلا سبق ہے: "سن اے اسرائیل! خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔" یہ آیت ہر یہودی بچہ صبح شام دہراتا تھا، اور خداوند یسوع مسیح نے خود اِسے سب سے بڑا حکم کہا۔ تثلیث کا عقیدہ اِس آیت کو کاٹتا نہیں؛ یہ اِسی آیت کے اندر رہتا ہے۔ جو کوئی تثلیث کی وضاحت کرتے ہوئے تین خداؤں تک پہنچ جائے، وہ راستہ بھٹک گیا ہے۔
مگر اِسی توحید کے اندر بائبل کے پہلے صفحے پر ایک حیرت انگیز آواز سنائی دیتی ہے۔ پیدائش 1:26 میں لکھا ہے: "پھر خدا نے کہا کہ ہم انسان کو اپنی صورت پر اپنی شبیہ کی مانند بنائیں۔" خدا "میں" نہیں کہتا، "ہم" کہتا ہے۔ کچھ لوگ اِسے شاہانہ انداز کہتے ہیں، کچھ فرشتوں سے خطاب سمجھتے ہیں، مگر فرشتے کبھی انسان کے خالق نہیں بنے اور نہ انسان اُن کی شبیہ پر بنایا گیا۔ یہ آیت اکیلی تثلیث کو ثابت نہیں کرتی، مگر یہ وہ دراڑ ہے جس سے روشنی اندر آتی ہے: وہی خدا جو ایک ہے، اپنے اندر مشورہ کرتا ہے، اپنے اندر بولتا ہے، اپنے اندر محبت رکھتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ انسان اُسی "ہم" کی شبیہ پر مرد اور عورت، یعنی رشتے میں جینے والی مخلوق کے طور پر بنایا گیا۔
نئے عہدنامے میں یہ دراڑ پورا دروازہ بن جاتی ہے۔ یوحنا 1:1 اعلان کرتا ہے: "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔" غور کیجیے کہ یوحنا دونوں باتیں ایک ہی سانس میں کہتا ہے۔ کلام خدا کے "ساتھ" تھا، یعنی وہ باپ سے الگ پہچانا جاتا ہے؛ اور کلام خدا "تھا"، یعنی وہ خدا سے کم نہیں۔ اگر صرف پہلی بات ہوتی تو ہمارے پاس دو خدا ہوتے؛ اگر صرف دوسری ہوتی تو کوئی فرق نہ ہوتا۔ یوحنا دونوں لکھتا ہے، اور یہی تثلیث کی دھڑکن ہے۔
پھر دریائے یردن پر تینوں اقانیم ایک ہی منظر میں دکھائی دیتے ہیں۔ متی 3:16 بیان کرتا ہے: "اور یسوع بپتسمہ لے کر فوراً پانی سے اوپر آیا اور دیکھو اُس کے لیے آسمان کھل گیا اور اُس نے خدا کے روح کو کبوتر کی مانند اُترتے اور اپنے اوپر آتے دیکھا۔" بیٹا پانی میں کھڑا ہے، روح اُس پر اُترتا ہے، اور اگلی آیت میں باپ آسمان سے بولتا ہے۔ یہ تین نقاب نہیں جو ایک ہی اداکار باری باری پہنتا ہے؛ تینوں ایک ہی لمحے میں موجود ہیں اور ایک دوسرے سے مخاطب ہیں۔
اور آخر میں، خداوند یسوع مسیح اپنے شاگردوں کو جو حکم دیتے ہیں وہ تثلیث کی مہر ہے۔ متی 28:19 میں فرمایا: "پس تم جا کر سب قوموں کو شاگرد بناؤ اور اُن کو باپ اور بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دو۔" "ناموں" نہیں، "نام" سے۔ ایک نام، تین اقانیم۔ کلیسیا نے یہ عقیدہ کسی کونسل میں ایجاد نہیں کیا؛ کلیسیا نے یہ عقیدہ اُس پانی میں پایا جس میں وہ اپنے بچوں کو بپتسمہ دیتی آئی ہے۔
بائبل میں چلنے والا سلسلہ
پرانے عہدنامے میں تثلیث چھپی ہوئی نہیں، بس ابھی پردے کے پیچھے ہے۔ خدا کا روح پیدائش 1:2 میں پانیوں پر جنبش کرتا ہے۔ یسعیاہ 6:8 میں خداوند پوچھتا ہے: "میں کس کو بھیجوں اور کون ہماری طرف سے جائے؟" پھر ایک ہی آیت میں واحد اور جمع دونوں۔ یسعیاہ 48:16 میں بولنے والا کہتا ہے کہ خداوند خدا اور اُس کے روح نے مجھے بھیجا ہے۔ زبور 2 اور زبور 110 میں خداوند اپنے خداوند سے بات کرتا ہے اور ایک بیٹے کا ذکر ہے۔ امثال 8 میں حکمت ازل سے خدا کے ساتھ خوش ہوتی ہے۔ ابراہام کے سامنے ممرے کے بلوطوں میں تین مہمان آتے ہیں اور کلام اُنہیں خداوند کہتا ہے۔ اِن سب میں ایک ہی بات دہرائی جاتی ہے: اسرائیل کا خدا ایک تنہا، خاموش، بند ذات نہیں۔ خدا ازل سے بولنے والا خدا ہے۔
انجیلوں میں پردہ ہٹ جاتا ہے۔ لوقا 1:35 میں فرشتہ مریم سے کہتا ہے کہ روح القدس تجھ پر آئے گا اور خدا کا بیٹا کہلائے گا۔ خداوند یسوع مسیح اپنے آپ کو باپ سے الگ بھی کہتے ہیں اور باپ کے برابر بھی: یوحنا 10:30 میں "میں اور باپ ایک ہیں۔" وہ گناہ معاف کرتے ہیں، سبت کے مالک کہلاتے ہیں، اور یوحنا 8:58 میں ابراہام سے پہلے "میں ہوں" کہہ کر وہی نام اپنے لیے استعمال کرتے ہیں جو جلتی جھاڑی سے موسیٰ کو سنایا گیا تھا۔ توما گھٹنوں پر گر کر یوحنا 20:28 میں کہتا ہے: "اے میرے خداوند! اے میرے خدا!" اور خداوند اُسے نہیں ٹوکتے۔
پھر بالاخانے میں وہ تیسری اقنوم کا تعارف کراتے ہیں۔ یوحنا 14:26 میں فرماتے ہیں: "لیکن مددگار یعنی روح القدس جس کو باپ میرے نام سے بھیجے گا وہ تم کو سب باتیں سکھائے گا اور جو کچھ میں نے تم سے کہا ہے وہ سب تمہیں یاد دلائے گا۔" غور کیجیے: روح کو باپ بھیجتا ہے، بیٹے کے نام سے، اور روح سکھاتا اور یاد دلاتا ہے۔ سکھانا اور یاد دلانا کسی بےجان طاقت کے کام نہیں؛ یہ ایک اقنوم کے کام ہیں۔ بجلی محبت نہیں کرتی، ہوا تسلی نہیں دیتی۔ روح القدس "وہ" ہے، "وہ کچھ" نہیں۔
اعمال کی کتاب میں یہی سلسلہ کلیسیا کی پیدائش بن جاتا ہے: پنتیکوست پر باپ کے وعدے کے مطابق، جی اُٹھے بیٹے کے ہاتھ سے، روح القدس نازل ہوتا ہے۔ پولس رسول کے خطوں میں یہ ترتیب خودبخود نکلتی ہے۔ افسیوں 1 میں باپ چنتا ہے، بیٹا خریدتا ہے، روح مہر لگاتا ہے۔ افسیوں 2:18 میں لکھا ہے کہ اُسی کے وسیلے سے ہم دونوں کی ایک ہی روح میں باپ کے پاس رسائی ہوتی ہے۔ گلتیوں 4:6 میں بیٹے کا روح ہمارے دلوں میں "ابا" پکارتا ہے۔ اور 2 کرنتھیوں 13:14 میں پولس رسول کلیسیا کو یہ دعا دیتا ہے: "خداوند یسوع مسیح کا فضل اور خدا کی محبت اور روح القدس کی شراکت تم سب کے ساتھ ہو۔" یہ تثلیث پر لیکچر نہیں، یہ برکت ہے۔ پولس ایسے لکھتا ہے جیسے یہ بات ہر گلی کی کلیسیا کے لیے روٹی اور پانی جتنی عام ہو۔
اور کلام کے آخری صفحے پر؟ مکاشفہ 1:4-5 میں یوحنا اُس سے سلام بھیجتا ہے جو ہے اور جو تھا اور جو آنے والا ہے، اور روح سے، اور یسوع مسیح سے جو وفادار گواہ ہے۔ اور مکاشفہ 22:17 میں دعوت دینے والے کون ہیں؟ "روح اور دلہن کہتی ہیں کہ آ۔" کہانی اُسی محبت کے حلقے پر ختم ہوتی ہے جہاں سے شروع ہوئی تھی، صرف اب اُس حلقے میں بچائی ہوئی قوم بھی شامل ہے۔ یہی ہمارے زاویے کا مرکز ہے: تثلیث معلومات نہیں، مہمان نوازی ہے۔
عام غلط فہمیاں
پہلی غلط فہمی: مسیحی تین خداؤں کو مانتے ہیں۔ یہ اعتراض سب سے عام ہے اور سب سے آسانی سے دور ہونے والا۔ کلامِ مقدس کی گواہی میں کوئی لچک نہیں: استثنا 6:4 کہتی ہے کہ خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے، اور 1 کرنتھیوں 8:6 میں پولس رسول اِسی توحید کو دہراتا ہے۔ کلیسیا نے کبھی تین الگ الگ خداؤں کی پرستش نہیں کی۔ ہم ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں جو باپ، بیٹے اور روح القدس کے طور پر اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے۔ فرق اقانیم میں ہے، ذات میں نہیں۔ جس طرح متی 28:19 میں "نام" واحد ہے، اسی طرح ہمارا خدا ایک ہے۔
دوسری غلط فہمی: یہ ایک ہی خدا کے تین روپ یا نقاب ہیں، جیسے ایک آدمی باپ بھی ہو، بیٹا بھی اور ملازم بھی۔ یہ سننے میں سادہ لگتا ہے مگر یردن کے کنارے یہ ٹوٹ جاتا ہے۔ متی 3:16 میں بیٹا پانی میں ہے، روح کبوتر کی مانند اُتر رہا ہے، اور باپ آسمان سے بول رہا ہے۔ اگر یہ ایک ہی اقنوم کے تین روپ ہوتے تو یسوع مسیح گتسمنی میں کس سے دعا کر رہے تھے؟ یوحنا 17 میں وہ باپ سے کہتے ہیں کہ تُو نے بنائے عالم سے پہلے مجھ سے محبت رکھی۔ نقاب اپنے آپ سے محبت نہیں کرتا۔ ازلی محبت کے لیے ازلی رشتہ لازم ہے۔
تیسری غلط فہمی: بیٹا ایک اعلیٰ مخلوق ہے، خدا سے کم۔ یوحنا 1:1 اِس دروازے کو بند کر دیتا ہے: "ابتدا میں کلام تھا اور کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا۔" مخلوق کی ابتدا ہوتی ہے؛ کلام ابتدا میں پہلے سے موجود تھا۔ کلسیوں 1:16 کہتا ہے کہ سب چیزیں اُسی میں پیدا کی گئیں، اور عبرانیوں 1 میں بیٹا خدا کی ذات کا نقش کہلاتا ہے۔ جو سب چیزوں کا خالق ہے وہ خود چیزوں میں شمار نہیں ہو سکتا۔ اور یاد رکھیے، اگر مسیح خدا نہیں تو صلیب پر خدا کی محبت نہیں بلکہ کسی تیسرے فریق کی قربانی ہے، اور انجیل کا دل نکل جاتا ہے۔
چوتھی غلط فہمی: روح القدس خدا کی ایک قوت یا اثر ہے، کوئی شخص نہیں۔ یوحنا 14:26 اِس کے خلاف گواہی دیتا ہے: روح سکھاتا ہے اور یاد دلاتا ہے۔ افسیوں 4:30 کہتا ہے کہ اُسے غمگین نہ کرو، اور اعمال 5 میں حننیاہ روح القدس سے جھوٹ بولتا ہے اور پطرس کہتا ہے کہ تُو نے آدمیوں سے نہیں بلکہ خدا سے جھوٹ بولا۔ قوتیں غمگین نہیں ہوتیں اور بجلی سے کوئی جھوٹ نہیں بولتا۔ 2 کرنتھیوں 13:14 میں "روح القدس کی شراکت" کا مطلب ہی یہ ہے کہ اُس کے ساتھ رفاقت رکھی جا سکتی ہے۔ اور یہیں پر ہمارا زاویہ پھر روشن ہوتا ہے: اگر روح محض بجلی ہو تو ہمیں طاقت ملتی ہے؛ اگر روح ایک اقنوم ہے تو ہمیں ساتھ ملتا ہے۔ اور تنہا دلوں کو طاقت سے زیادہ ساتھ کی ضرورت ہے۔
اِن چاروں کے پیچھے ایک پانچویں غلطی چھپی ہوتی ہے: یہ خیال کہ جب تک میں تثلیث کو مکمل طور پر ناپ نہ لوں، اُس پر ایمان نہیں رکھ سکتا۔ مگر ایک محدود عقل لامحدود خدا کو ناپ لے، یہ سوچ ہی خود پرستی ہے۔ ہم اِس لیے مانتے ہیں کہ خدا نے اپنے آپ کو ایسے ظاہر کیا، نہ اِس لیے کہ ہم نے حساب پورا کر لیا۔
آج اسے اپنی زندگی میں اپنانا
تثلیث آپ کی دعا کو بدل دیتی ہے۔ بہت سے مسیحی دعا کو ایک لمبی لائن میں کھڑے ہونے کی طرح محسوس کرتے ہیں، جہاں امید ہے کہ آج شاید نمبر آ جائے۔ مگر رومیوں 8 کے مطابق روح ہمارے اندر شفاعت کرتا ہے، بیٹا ہمارے لیے باپ کے دہنے ہاتھ شفاعت کرتا ہے، اور باپ سنتا ہے۔ یعنی جب آپ رات کو بستر پر ٹوٹی پھوٹی زبان میں دعا کرتے ہیں تو تینوں اقانیم اُس ایک دعا میں مصروف ہیں۔ آپ دروازے پر دستک نہیں دے رہے؛ آپ گھر کے اندر بول رہے ہیں۔
یہ سچائی تنہائی پر بھی اثر ڈالتی ہے۔ جو شخص بیرونِ ملک کمانے گیا ہے اور ہر شام اکیلا کھانا پکاتا ہے، جو بیوہ خالی گھر میں روشنی جلاتی ہے، جو بچہ ہاسٹل میں کمبل کے نیچے روتا ہے، اُن کے لیے یہ خبر ہے کہ کائنات کی جڑ میں تنہائی نہیں بلکہ رفاقت ہے، اور مسیح میں وہ رفاقت اُن کے کمرے تک آ گئی ہے۔ 2 کرنتھیوں 13:14 کی برکت اتفاقی نہیں کہ روح کے بارے میں "شراکت" کا لفظ استعمال کرتی ہے۔ خدا کی ذات میں ساتھ ہے، اِس لیے خدا اپنے لوگوں کو ساتھ دیتا ہے۔
یہ عقیدہ آپ کے گھر کو بھی چھوتا ہے۔ پیدائش 1:26 میں "ہم" کہنے والے خدا نے انسان کو رشتے کے لیے بنایا۔ اِس لیے شادی میں برابری اور محبت، بچوں کے ساتھ صبر، اور والدین کے ساتھ عزت محض اخلاقی اصول نہیں؛ یہ اُس خدا کی شبیہ کی جھلک ہے جس میں کوئی اقنوم دوسری کو دباتا نہیں اور کوئی اپنے لیے جلال نہیں مانگتا۔ باپ بیٹے کو جلال دیتا ہے، بیٹا باپ کو، روح بیٹے کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جہاں گھر میں ہر کوئی اپنی عزت کی جنگ لڑ رہا ہو، وہاں تثلیث ایک خاموش ملامت ہے اور ایک نرم نمونہ بھی۔
کام اور پیسے میں بھی فرق پڑتا ہے۔ اگر خدا اپنے اندر پورا اور خوش ہے، تو اُس نے آپ کو کسی کمی کو پورا کرنے کے لیے نہیں بنایا بلکہ محبت کی فراوانی سے بنایا۔ آپ کی قیمت آپ کی تنخواہ، عہدے یا کارکردگی سے نہیں آتی۔ آپ ضرورت سے نہیں، محبت سے پیدا ہوئے ہیں۔ اور جب کلیسیا میں اختلاف ہو، تو یاد رکھیے کہ یوحنا 17 میں خداوند نے ہماری یکجہتی کی دعا اِسی نمونے پر کی تھی، "جیسے تُو مجھ میں اور میں تجھ میں۔" چرچ کی سیاست تثلیث کی روشنی میں بہت چھوٹی لگنے لگتی ہے۔
آئینہ
آئیے سیدھی بات کریں۔ آپ نے شاید سالوں سے تثلیث کا عقیدہ زبانی دہرایا ہے، مگر جیتے ہوئے آپ کسی اور خدا پر بھروسا کرتے ہیں۔ آپ کا عملی خدا ایک دور بیٹھا مالک ہے جس کا موڈ آپ کی کارکردگی سے بدلتا ہے۔ اِس لیے آپ دعا سے پہلے اپنے دل کا حساب کرتے ہیں: کیا میں اِس ہفتے اِس قابل ہوں؟ اور اگر جواب نہیں میں ہو تو آپ خاموش رہتے ہیں۔
اگر خدا واقعی باپ، بیٹا اور روح القدس ہے، تو آپ کی خاموشی بےسبب ہے۔ آپ کے گناہ کا حساب بیٹے نے چکایا، آپ کی سفارش روح کرتا ہے، اور باپ نے پہلے سے آپ کو چن لیا۔ آپ اُس کمرے میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں جس کا دروازہ آپ کے آنے سے پہلے کھولا جا چکا تھا۔
دوسری طرف، یہ سچائی آپ کو کھرچتی بھی ہے۔ جس خدا کے اندر ازل سے ایک دوسرے کو ترجیح دینے کی محبت ہے، اُس کے بچے ہو کر آپ رشتوں میں کیوں جیتنا چاہتے ہیں؟ آپ نے اُس بھائی کو کتنے مہینے معاف نہیں کیا؟ گھر میں آپ کی آواز سب سے اونچی کیوں ہے؟ آپ نے اپنی ماں کو کب سے فون نہیں کیا؟ آپ کے دفتر میں وہ شخص جسے سب نظرانداز کرتے ہیں، آپ بھی کرتے ہیں۔ تثلیث کا خدا خودغرضی کے بغیر محبت کرتا ہے؛ اور آپ اُسی خدا کا نام لے کر پرستش کرتے ہیں۔
اور ایک بات جو زیادہ گہری چبھتی ہے: آپ خدا کے بارے میں پڑھنا پسند کرتے ہیں مگر خدا کے ساتھ بیٹھنا نہیں۔ معلومات محفوظ ہیں، رفاقت خطرناک ہے، کیونکہ رفاقت میں ہمیں بدلنا پڑتا ہے۔ اگر آپ اِس صفحے کو پڑھ کر صرف بحث جیتنے کے لیے تیار ہو گئے مگر اُس ایک خدا کے سامنے گھٹنے نہ ٹیکے، تو آپ نے مکان کی چھت ناپ لی اور باہر سردی میں کھڑے رہ گئے۔ اندر آ جائیں۔ دروازہ کھلا ہے۔
بچوں کے لیے وضاحت
بچوں کو تثلیث سمجھانے میں سب سے بڑی غلطی یہ ہے کہ ہم مثالوں سے شروع کرتے ہیں: پانی، بھاپ اور برف؛ یا تین پتوں والا پھول؛ یا سورج، روشنی اور گرمی۔ یہ مثالیں دلکش ہیں مگر ہر ایک آخر میں کہیں نہ کہیں غلط راستے پر لے جاتی ہے، اور بچہ بڑا ہو کر وہی غلط تصویر یاد رکھتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ بچوں کو کہانی سنائی جائے۔
سب سے آسان راستہ یردن کا منظر ہے۔ بچے سے کہیے: "ایک دن یسوع پانی میں کھڑے تھے۔ آسمان کھل گیا اور خدا کا روح کبوتر کی طرح اُن پر اُترا، اور آسمان سے باپ کی آواز آئی کہ یہ میرا پیارا بیٹا ہے۔ اُس دن تینوں وہاں تھے: باپ، بیٹا اور روح القدس۔ اور پھر بھی خدا ایک ہی ہے۔" اِس کے بعد یہ جملہ سکھائیے: "خدا ایک ہے، اور خدا اکیلا نہیں۔ خدا کے اندر ہمیشہ محبت رہی ہے۔" بچوں کو یہ سمجھ آ جاتا ہے، کیونکہ وہ محبت کو منطق سے پہلے جانتے ہیں۔
اور بچوں کے سوالوں سے مت گھبرائیے۔ اگر آپ کہہ دیں کہ "بیٹا، یہ اتنی بڑی بات ہے کہ امی ابو بھی پوری طرح نہیں سمجھتے، مگر ہم اِس پر بھروسا کرتے ہیں،" تو یہ ایمان کی شکست نہیں، بلکہ ایک بہت صحت مند سبق ہے کہ خدا ہم سے بڑا ہے۔
فیتھ نیٹ ورک پر اِس موضوع کی عمر کے مطابق الگ الگ وضاحتیں موجود ہیں: چھوٹے بچوں (تین سے چھ سال) کے لیے سادہ تصویری زبان میں، اسکول جانے والے بچوں (سات سے بارہ سال) کے لیے بائبل کے مناظر اور سوال جواب کے ساتھ، اور نوجوانوں (بارہ سال سے اوپر) کے لیے اُن اعتراضات کے جواب جو اُنہیں اسکول، کالج اور دوستوں سے سننے کو ملتے ہیں۔ اپنی خاندانی عبادت میں اِن میں سے مناسب وضاحت چن لیجیے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
تثلیث کا مطلب کیا ہے آسان لفظوں میں؟
تثلیث کا مطلب ہے کہ خدا ذات میں ایک ہے مگر اُس ایک ذات میں تین اقانیم ہیں: باپ، بیٹا اور روح القدس۔ تینوں پورے طور پر خدا ہیں، تینوں ازلی ہیں، اور تینوں ایک دوسرے سے الگ پہچانے جاتے ہیں، مگر وہ تین خدا نہیں بلکہ ایک ہی خدا ہیں۔ سب سے مختصر جملہ یہ ہے: خدا ایک ہے، اور خدا اکیلا نہیں۔ استثنا 6:4 توحید کی گواہی دیتی ہے اور متی 28:19 ایک ہی نام میں تینوں اقانیم کو ظاہر کرتی ہے۔
کیا لفظ "تثلیث" بائبل میں موجود ہے؟
نہیں، یہ لفظ بائبل میں نہیں ملتا، مگر یہ جس حقیقت کو بیان کرتا ہے وہ بائبل کے ہر حصے میں موجود ہے۔ کلیسیا نے یہ اصطلاح اِس لیے بنائی کہ کلامِ مقدس کی گواہی کو ایک مختصر لفظ میں محفوظ کیا جا سکے، جیسے ہم "انجیل کا پیغام" یا "نجات کی راہ" جیسے جملے استعمال کرتے ہیں۔ متی 28:19 اور 2 کرنتھیوں 13:14 جیسی آیتیں تینوں اقانیم کو ساتھ رکھتی ہیں، اور اُسی گواہی کا نام تثلیث ہے۔
کیا مسیحی تین خداؤں کی پرستش کرتے ہیں؟
ہرگز نہیں۔ مسیحی ایمان کی بنیاد ہی توحید ہے، اور استثنا 6:4 ہماری سب سے پرانی دعا ہے: خداوند ہمارا خدا ایک ہی خداوند ہے۔ ہم ایک خدا کی پرستش کرتے ہیں جس نے اپنے آپ کو باپ، بیٹے اور روح القدس کے طور پر ظاہر فرمایا ہے۔ اگر کوئی وضاحت تین الگ الگ خداؤں تک پہنچے تو وہ بائبلی نہیں۔ تین اقانیم ہیں، ایک ہی خدائی ذات؛ فرق رشتوں میں ہے، ذات میں نہیں۔
اگر خدا ایک ہے تو یسوع مسیح باپ سے دعا کیوں کرتے تھے؟
کیونکہ بیٹا باپ سے الگ اقنوم ہے، اگرچہ وہ اُسی ایک خدا میں شامل ہے۔ دعا کسی کمتری کا ثبوت نہیں بلکہ اُس ازلی رشتے کا اظہار ہے جو باپ اور بیٹے کے درمیان ہمیشہ رہا ہے۔ اِس کے علاوہ خداوند یسوع مسیح سچا انسان بھی بنے، اور بطور انسان اُنہوں نے ہمارے لیے کامل فرمانبرداری اور دعا کی زندگی گزاری۔ یوحنا 17 میں اُن کی دعا سن کر ہم اُس محبت میں جھانکتے ہیں جو بنائے عالم سے پہلے موجود تھی۔
پرانے عہدنامے میں تثلیث کا ذکر کہاں ملتا ہے؟
پرانا عہدنامہ تثلیث کو کھول کر بیان نہیں کرتا مگر اُس کے اشارے واضح ہیں۔ پیدائش 1:26 میں خدا "ہم" کہہ کر انسان کو بنانے کا فیصلہ کرتا ہے؛ پیدائش 1:2 میں خدا کا روح پانیوں پر جنبش کرتا ہے؛ یسعیاہ 6:8 میں خداوند "ہماری طرف سے" کون جائے گا پوچھتا ہے؛ زبور 110 میں خداوند اپنے خداوند سے بات کرتا ہے۔ یہ آیتیں اکیلی عقیدہ نہیں بناتیں، مگر نئے عہدنامے کی روشنی میں ان کا مطلب صاف ہو جاتا ہے۔
روح القدس کوئی شخص ہے یا صرف خدا کی طاقت؟
روح القدس ایک اقنوم ہے، محض ایک قوت نہیں۔ یوحنا 14:26 کے مطابق وہ سکھاتا ہے اور یاد دلاتا ہے، اور یہ کام کسی بےجان طاقت کے نہیں۔ افسیوں 4:30 ہمیں منع کرتا ہے کہ اُسے غمگین نہ کریں، اعمال 5 میں حننیاہ اُس سے جھوٹ بولتا ہے اور پطرس اُسے خدا سے جھوٹ بولنا کہتا ہے، اور 2 کرنتھیوں 13:14 اُس کے ساتھ شراکت کی بات کرتا ہے۔ روح کو "وہ" کہنا درست ہے، "وہ چیز" کہنا غلط۔
باپ، بیٹے اور روح القدس میں کیا فرق ہے؟
فرق ذات میں نہیں بلکہ رشتوں اور کاموں میں ہے۔ باپ بھیجتا ہے اور مقصد رکھتا ہے؛ بیٹا مجسم ہوا، صلیب پر مرا، جی اُٹھا اور ہمارے لیے شفاعت کرتا ہے؛ روح القدس دلوں میں نئی زندگی دیتا ہے، سکھاتا ہے، پاک کرتا ہے اور مسیح کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ افسیوں 1 میں یہ تینوں کام ایک ساتھ نظر آتے ہیں۔ مگر تینوں ہر کام میں شریک ہوتے ہیں، کیونکہ وہ ایک ہی خدا ہیں۔
کیا یسوع مسیح خدا ہیں یا خدا کے بیٹے؟
دونوں، اور اِن میں کوئی تضاد نہیں۔ یوحنا 1:1 کہتا ہے کہ کلام خدا کے ساتھ تھا اور کلام خدا تھا، اور یوحنا 1:14 کے مطابق وہی کلام مجسم ہو کر ہمارے درمیان رہا۔ "خدا کا بیٹا" کوئی مخلوق ہونے کا خطاب نہیں بلکہ باپ کے ساتھ ازلی اور یکساں فطرت کے رشتے کا اظہار ہے۔ اِسی لیے توما نے یوحنا 20:28 میں اُنہیں "میرے خداوند اور میرے خدا" کہا اور خداوند نے اُس کا ایمان قبول فرمایا۔
تثلیث کا عقیدہ کب اور کیسے بنا؟
یہ عقیدہ بنایا نہیں گیا، بیان کیا گیا۔ پہلی صدی سے کلیسیا متی 28:19 کے مطابق باپ، بیٹے اور روح القدس کے نام سے بپتسمہ دیتی رہی اور 2 کرنتھیوں 13:14 جیسی برکتیں پڑھتی رہی۔ جب چوتھی صدی میں کچھ لوگوں نے کہنا شروع کیا کہ بیٹا مخلوق ہے، تو کلیسیا نے نیقیہ (325 عیسوی) اور قُسطنطنیہ (381 عیسوی) میں اُس ایمان کو صاف الفاظ میں لکھ دیا جو وہ پہلے سے مانتی اور جیتی آ رہی تھی۔ اصطلاح نئی تھی، سچائی نئی نہیں۔
تثلیث کی مثالیں جیسے پانی، سورج یا تین پتوں والا پھول کیا صحیح ہیں؟
یہ مثالیں سکھانے میں مددگار لگتی ہیں مگر ہر ایک کسی نہ کسی مقام پر غلط تصویر دے دیتی ہے۔ پانی، بھاپ اور برف ایک ہی مادّے کی تین حالتیں ہیں، جو تینوں اقانیم کے ہمیشہ ساتھ موجود ہونے کو رد کرتی ہیں؛ تین پتے تین حصوں کا تاثر دیتے ہیں، حالانکہ خدا حصوں میں بٹا ہوا نہیں۔ زیادہ محفوظ راستہ یہ ہے کہ ہم مثالوں کے بجائے بائبل کے مناظر سنائیں، خاص طور پر متی 3:16 کا یردن کا منظر۔
کیا تثلیث پر ایمان رکھنا نجات کے لیے ضروری ہے؟
نجات خداوند یسوع مسیح پر ایمان کے وسیلے سے فضل سے ملتی ہے، نہ کہ کسی امتحان میں پاس ہونے سے۔ بہت سے مومن پوری وضاحت نہیں کر سکتے، پھر بھی وہ بچائے گئے ہیں۔ مگر یہ بھی سچ ہے کہ جو جان بوجھ کر مسیح کی خدائی یا روح القدس کی اقنومیت کا انکار کرتا ہے، وہ انجیل کی بنیاد ہی کھوکھلی کر دیتا ہے، کیونکہ پھر صلیب پر خدا کی اپنی محبت باقی نہیں رہتی۔ سمجھ ادھوری ہو سکتی ہے، انکار نقصان دہ ہے۔
مجھے دعا کس سے کرنی چاہیے، باپ سے، یسوع سے یا روح القدس سے؟
بائبل کا عام نمونہ یہ ہے کہ ہم روح القدس میں، بیٹے کے وسیلے سے، باپ سے دعا کرتے ہیں، جیسا افسیوں 2:18 بیان کرتا ہے۔ خداوند یسوع مسیح نے ہمیں سکھایا کہ "اے ہمارے باپ" کہہ کر پکاریں۔ مگر مسیح سے براہِ راست بات کرنا بھی غلط نہیں، جیسے ستفنس نے مرتے وقت کیا، اور روح القدس سے مدد مانگنا بھی درست ہے۔ آپ جس اقنوم سے مخاطب ہوں، آپ اُسی ایک خدا سے بات کر رہے ہیں۔
اختتام میں
جو بہن کلیسیا کے بعد شرمندہ سی کھڑی تھی، اُسے آخر میں میں نے یہی کہا تھا: اپنے ساتھی کو پہلے یہ بتائیے کہ ہم ایک ہی خدا کو مانتے ہیں، اور پھر یہ کہ وہ ایک خدا اکیلا نہیں۔ اِس سے آگے بحث جیتنے کی کوشش نہ کیجیے؛ اُس گھر کی طرف اشارہ کیجیے جس میں آپ رہتی ہیں۔ کیونکہ یہی تثلیث کی خوشخبری ہے: ازل سے باپ، بیٹا اور روح القدس ایک دوسرے کی محبت میں تھے، اور جب وقت پورا ہوا تو اُس محبت نے دروازہ کھول دیا اور ہمیں اندر بلا لیا۔ پیدائش 1:26 کا "ہم" اور 2 کرنتھیوں 13:14 کی برکت ایک ہی کہانی کے دو سرے ہیں۔
اگر آپ اِس موضوع پر مزید بڑھنا چاہتے ہیں، تو یوحنا کی انجیل کے باب تیرہ سے سترہ کو آرام سے، تھوڑا تھوڑا پڑھیے، اور ہر روز یہ سوال ساتھ رکھیے: یہاں باپ، بیٹے اور روح القدس کا ایک دوسرے سے کیا رشتہ دکھایا گیا ہے؟ اور اپنی دعا کو 2 کرنتھیوں 13:14 کی برکت سے ختم کیجیے۔ پھر آپ محسوس کریں گے کہ یہ عقیدہ کتاب کے حاشیے کی بات نہیں، بلکہ اُس چھت کا نام ہے جس کے نیچے آپ ہر رات سوتے ہیں۔
